تو ارشاد فرمایا ، فقیر نے بچپن سے اپنے اساتذہ کی نگرانی میں قلم کی تیز رفتاری سیکھی، سوائے حوائج ضروریہ اور مقاصد اصلیہ کے قلم چلتا ہی رہتا، سفر وحضر اور تنہائی و جلوت کی کوئی قید نہیں، بسوں، گاڑیوں، جہازوں کی سواری فقیر کے قلم کو نہیں روکتی صحت و عافیت کے ساتھ اولاد صالحہ سے نوازہ گیا ہوں، انہوں نے مجھے ہر کام سے فارغ البال رکھا ہوا ہے اسی لیے شب روز مشغلہ اپنے جوش و جوبن میں رہتا ہے۔
(علم کے موتی ، صفحہ 12)
آپ کی کتب صرف چھوٹے رسائل ہی نہیں بلکہ بعض ضخیم اور کئی کئی مجلدات پر مشتمل ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
1۔ فیض القرآن فی ترجمۃ القرآن
2۔ فیوض الرحمن۔
علامہ اسماعیل حقی کی روح البیان کا ترجمہ،مطبوعہ ہے اور صفحات کی تعداد تقریبا دس ہزار ہے یہ ترجمہ آپ نے تقریبا 31 سال میں کیا جبکہ اس دوران بہت سی کتب و رسائل بھی تحریر کیئے
3۔ تفسیر اویسی، 15 مجلدات
4۔ فضل المنان فی تفسیر القرآن، 10 مجلدات
قرآن مجید کی یہ مکمل تفسیر عربی زبان میں ہے اس کے مختلف اجزاء مختلف جگہوں سے شائع ہوئے ہیں اور یہ بھی سننے میں آیا کہ اب یہ مکمل تفسیر بیروتی طرز پر دبئی سے طبع ہونے جا رہی ہے اللہ کرے یہ خبر درست ہو
5۔ فیض الرسول فی اسباب النزول، 10 مجلدات
6۔ الھلالین ترجمہ و شرح جلالین، 5 مجلدات
7۔ تفیسر بالرائے 3 مجلدات
8۔ احسن البیان فی اصول تفسیر القرآن ، 3 مجلدات
9۔ فیض القدیر فی اصول تفسیر
10۔ فیض القرآن فی تفسیر آیات القرآن
11۔ تاریخ تفسیر القرآن
12۔ الفیض الجاری شرح بخاری، مبطوعہ 10 مجلدات
13۔ انوار المغنی شرح سنن دار قطنی 10 مجلدات
14۔ شرح سنن دارمی، 8 مجلدات
15۔ شرح صحیح مسلم، 10 مجلدات
16۔ شرح جامع ترمذی، 5 مجلدات
17۔ الاحادیث السنیہ فی الفتاوی الرضویہ، 10 مجلدات
18۔ الاحادیث الموضوعۃ، 5 مجلدات
19۔ اللمعات شرح مشکوۃ، 4 مجلدات
20۔ تعلیقات علی المشکوۃ
21۔ شرح اربعین نووی
22۔ اصطلاحات علم الحدیث
23۔ اقسام الحدیث
24۔ فتاوی اویسیہ، 12 مجلدات
25۔ حاشیہ قدوری
26۔ شرح ہدایہ
27۔ شرح وقایہ
28۔ شرح اصول الشاشی
29۔ اصول فقہ
30۔ زینۃ القرطاس بالاجماع و القیاس
31۔ حقیقۃ الیاقوت شرح مسلم الثبوت
32۔ المیقاس فی ابحاث القیاس
33۔ سر المکتوم ترجمہ و شرح سلم العلوم
34۔ قواعد منطق
35۔ تعلیم المنطق
36۔ علم المناظرہ
37۔ شرح مناظرہ رشیدیہ
38۔ النجاح شرح مراح الارواح
39۔ نعم الحامی شرح شرح جامی
40۔ شرح کافیہ
41۔ فضائل میلاد النبی
42۔ تصانیف المیلاد
43۔ القول السداد فی بیان المیلاد
44۔ بارہ ربیع الاول کے جلوس کا ثبوت
45۔ انطاق المفہوم فی ترجمہ احیاء العلوم، 4 مجلدات
46۔ ترجمہ کیمائے سعادت
47۔ شرح حدائق بخشش، 25 مجلدات
48۔ ترجمہ و حاشیہ حلیۃ الاولیاء
49۔ احادیث تصوف
50۔ انوار مصطفی فی کرامات الاولیاء
51۔ تصوف اور اسلام
52۔ تصوف کی شرعی حثیت
53۔ بیعت کا جواز
54۔ تعارف سلاسل طریقت
55۔ صوفیاء کرام اور اشاعت اسلام
56۔ اصطلاحات تصوف
57۔ سلوک العارفین
58۔ القواعد الاویسیہ شرح عقائد نسفیہ
59۔ عقائد اسلامی
60۔ کشف الغمہ فی عقائد اہلسنہ
61۔ عنایۃ اللہ فی عقائد شاہ ولی اللہ
62۔ فیض اللغات
63۔ لغات القرآن
64۔ سائنس اور اسلام
65۔ قرآن اور سائنس
66۔ خاندانی منصوبہ بندی
67۔ گستاخ صحابہ کا انجام
68۔ کرامات صحابہ
69۔ صحابہ کرام اور علم غیب رسول ﷺ
70۔ فضائل نکاح
71۔ مناقب امام اعظم
72۔ امام اعظم اور علم الحدیث
73۔ امام احمد رضا اور علم الحدیث
74۔ مرزا قادیانی کے عقائد و اخلاق
75۔ آئینہ مرزا نما
76۔ امی، رد مودودی
77۔ اسلام اور عیسائیت کا موازنہ
78۔ ہمارے نبی ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں
79۔ تقابل ادیان
80۔ رد کیمونسٹ
علم کے موتی نامی کتاب میں آپ کی کتب کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے دے دی گئی ہے جہاں تفصیل دیکھی جا سکتی ہے آپ کی کتب کی اشاعت کے لیے کئی ادارے کام کر رہے ہیں جن کے تحت تقریبا پچیس سو سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں اس کے باوجود بھی ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جہاں پر آپ کی تمام چھوٹی بڑی کتب موجود ہوں اور اس کے تحت قلمی کتب کی بہرین انداز میں اشاعت ہو اور مطبوعہ کتب کو جدید طریقہ تحقیق کے مطابق دوبارہ شائع کیا جائے نیز ایک ایسی ویب سائٹ کو بھی لانچ کیا جائے جہاں نہ صرف آپ کی تمام مطبوعہ کتب موجود ہوں بلکہ آپ کی شخصیت پر لکھی گئی کتب، رسائل و مقالات بھی دستیاب ہوں۔
علامہ فیض احمد اویسی نے خدمات اسلام سے پر زندگی گزارنے کے بعد 15 رمضان المبارک 1431ھ/ 26 اگست 2010ء کو انتقال فرمایا، مزار مبارک دارلعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں مرجع خلائق ہے۔
(فیض ملت ایک مثالی معلم، صفحہ9)
از قلم:-
ابو الابدال محمد رضوان طاہر فریدی
(فاضل جامعة المدینہ,فیضان مدینہ اوکاڑہ)
(علم کے موتی ، صفحہ 12)
آپ کی کتب صرف چھوٹے رسائل ہی نہیں بلکہ بعض ضخیم اور کئی کئی مجلدات پر مشتمل ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
1۔ فیض القرآن فی ترجمۃ القرآن
2۔ فیوض الرحمن۔
علامہ اسماعیل حقی کی روح البیان کا ترجمہ،مطبوعہ ہے اور صفحات کی تعداد تقریبا دس ہزار ہے یہ ترجمہ آپ نے تقریبا 31 سال میں کیا جبکہ اس دوران بہت سی کتب و رسائل بھی تحریر کیئے
3۔ تفسیر اویسی، 15 مجلدات
4۔ فضل المنان فی تفسیر القرآن، 10 مجلدات
قرآن مجید کی یہ مکمل تفسیر عربی زبان میں ہے اس کے مختلف اجزاء مختلف جگہوں سے شائع ہوئے ہیں اور یہ بھی سننے میں آیا کہ اب یہ مکمل تفسیر بیروتی طرز پر دبئی سے طبع ہونے جا رہی ہے اللہ کرے یہ خبر درست ہو
5۔ فیض الرسول فی اسباب النزول، 10 مجلدات
6۔ الھلالین ترجمہ و شرح جلالین، 5 مجلدات
7۔ تفیسر بالرائے 3 مجلدات
8۔ احسن البیان فی اصول تفسیر القرآن ، 3 مجلدات
9۔ فیض القدیر فی اصول تفسیر
10۔ فیض القرآن فی تفسیر آیات القرآن
11۔ تاریخ تفسیر القرآن
12۔ الفیض الجاری شرح بخاری، مبطوعہ 10 مجلدات
13۔ انوار المغنی شرح سنن دار قطنی 10 مجلدات
14۔ شرح سنن دارمی، 8 مجلدات
15۔ شرح صحیح مسلم، 10 مجلدات
16۔ شرح جامع ترمذی، 5 مجلدات
17۔ الاحادیث السنیہ فی الفتاوی الرضویہ، 10 مجلدات
18۔ الاحادیث الموضوعۃ، 5 مجلدات
19۔ اللمعات شرح مشکوۃ، 4 مجلدات
20۔ تعلیقات علی المشکوۃ
21۔ شرح اربعین نووی
22۔ اصطلاحات علم الحدیث
23۔ اقسام الحدیث
24۔ فتاوی اویسیہ، 12 مجلدات
25۔ حاشیہ قدوری
26۔ شرح ہدایہ
27۔ شرح وقایہ
28۔ شرح اصول الشاشی
29۔ اصول فقہ
30۔ زینۃ القرطاس بالاجماع و القیاس
31۔ حقیقۃ الیاقوت شرح مسلم الثبوت
32۔ المیقاس فی ابحاث القیاس
33۔ سر المکتوم ترجمہ و شرح سلم العلوم
34۔ قواعد منطق
35۔ تعلیم المنطق
36۔ علم المناظرہ
37۔ شرح مناظرہ رشیدیہ
38۔ النجاح شرح مراح الارواح
39۔ نعم الحامی شرح شرح جامی
40۔ شرح کافیہ
41۔ فضائل میلاد النبی
42۔ تصانیف المیلاد
43۔ القول السداد فی بیان المیلاد
44۔ بارہ ربیع الاول کے جلوس کا ثبوت
45۔ انطاق المفہوم فی ترجمہ احیاء العلوم، 4 مجلدات
46۔ ترجمہ کیمائے سعادت
47۔ شرح حدائق بخشش، 25 مجلدات
48۔ ترجمہ و حاشیہ حلیۃ الاولیاء
49۔ احادیث تصوف
50۔ انوار مصطفی فی کرامات الاولیاء
51۔ تصوف اور اسلام
52۔ تصوف کی شرعی حثیت
53۔ بیعت کا جواز
54۔ تعارف سلاسل طریقت
55۔ صوفیاء کرام اور اشاعت اسلام
56۔ اصطلاحات تصوف
57۔ سلوک العارفین
58۔ القواعد الاویسیہ شرح عقائد نسفیہ
59۔ عقائد اسلامی
60۔ کشف الغمہ فی عقائد اہلسنہ
61۔ عنایۃ اللہ فی عقائد شاہ ولی اللہ
62۔ فیض اللغات
63۔ لغات القرآن
64۔ سائنس اور اسلام
65۔ قرآن اور سائنس
66۔ خاندانی منصوبہ بندی
67۔ گستاخ صحابہ کا انجام
68۔ کرامات صحابہ
69۔ صحابہ کرام اور علم غیب رسول ﷺ
70۔ فضائل نکاح
71۔ مناقب امام اعظم
72۔ امام اعظم اور علم الحدیث
73۔ امام احمد رضا اور علم الحدیث
74۔ مرزا قادیانی کے عقائد و اخلاق
75۔ آئینہ مرزا نما
76۔ امی، رد مودودی
77۔ اسلام اور عیسائیت کا موازنہ
78۔ ہمارے نبی ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں
79۔ تقابل ادیان
80۔ رد کیمونسٹ
علم کے موتی نامی کتاب میں آپ کی کتب کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے دے دی گئی ہے جہاں تفصیل دیکھی جا سکتی ہے آپ کی کتب کی اشاعت کے لیے کئی ادارے کام کر رہے ہیں جن کے تحت تقریبا پچیس سو سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں اس کے باوجود بھی ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جہاں پر آپ کی تمام چھوٹی بڑی کتب موجود ہوں اور اس کے تحت قلمی کتب کی بہرین انداز میں اشاعت ہو اور مطبوعہ کتب کو جدید طریقہ تحقیق کے مطابق دوبارہ شائع کیا جائے نیز ایک ایسی ویب سائٹ کو بھی لانچ کیا جائے جہاں نہ صرف آپ کی تمام مطبوعہ کتب موجود ہوں بلکہ آپ کی شخصیت پر لکھی گئی کتب، رسائل و مقالات بھی دستیاب ہوں۔
علامہ فیض احمد اویسی نے خدمات اسلام سے پر زندگی گزارنے کے بعد 15 رمضان المبارک 1431ھ/ 26 اگست 2010ء کو انتقال فرمایا، مزار مبارک دارلعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں مرجع خلائق ہے۔
(فیض ملت ایک مثالی معلم، صفحہ9)
از قلم:-
ابو الابدال محمد رضوان طاہر فریدی
(فاضل جامعة المدینہ,فیضان مدینہ اوکاڑہ)
❤1👍1
فیضِ ملّت حضرت علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
https://t.me/Faize_Millat_Library
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ کنیت: ابو الصالح۔ لقب: فیضِ ملت، محدث بہاولپوری، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی بن مولانا نور احمد بن مولانا محمد حامد بن محمد کمال علیہم الرحمۃ والرحمٰن۔
آپ کا تعلّق قوم ’’لاڑ‘‘ سے ہے۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضور ﷺ کے چچا محترم سیّدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے، اس لیے نسبتاً ’’عباسی‘‘ ہیں۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت: ص40؛ مظلوم مصنّف، ص12)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت 1351ھ مطابق 1932ء کو گاؤں ’’حامد آباد‘‘ تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب پاکستان میں ہوئی۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت:40)
تحصیلِ علم:
والدِ گرامی دینی علوم سے بہرہ ور تھے، ابتدائی دینی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر اپنے قریبی قصبہ ترنڈہ میر خان میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخل ہوئے اور پانچ جماعت تک اسکول کی تعلیم حاصل کی اور 1942ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ والدِ گرامی کی خواہش کے مطابق حفظِ قرآن مجید کے لیے حافظ جان محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ان سے آٹھ پارے حفظ کیے، اور پھر مولانا حافظ سراج احمد علیہ الرحمہ سے اٹھارہ پارے حفظ کیے، اور خیر پور ٹامیوالی میں مولانا حافظ غلام یٰسین علیہ الرحمہ سے1947ء میں مکمّل قرآنِ مجید حفظ کیا۔
آپ فرماتے ہیں: میں نے1947ء کے سال پہلی مرتبہ تراویح کی صورت میں قرآن مجید سنایا، اور 27؍ویں شب ختم قرآن کی تقریب بھی تھی اور قیام پاکستان کی خوشی بھی۔ حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کا آغاز کیا، فارسی کی ابتدائی کتب مولانا اللہ بخش علیہ الرحمہ سے پڑھیں، اور صرف و نحو، ہدایہ، مختصر المعانی، شرحِ جامی وغیرہ ، امام الواعظین، واعظِ شیریں بیاں، عاشقِ رسول ﷺ، حضرت علامہ مولانا خورشید احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں، بقیہ کتب علامہ مولانا عبد الکریم علیہ الرحمہ سے پڑھیں، 1952ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت شیخ الحدیث مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے دورۂ حدیث مکمّل کیا اور اُن کے مبارک ہاتھوں سے دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغ حاصل فرمائی۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص 40)
بیعت و خلافت:
دورانِ تعلیم سلسلۂ عالیہ اُویسیہ میں حضرت محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سجادہ نشیں، حضرت مولانا خواجہ محمد الدین سیرانی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت علامہ مولانا حسن علی رضوی کے توسّط سے شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند نے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔
سیرت و خصائص:
فیضِ ملّت، مفسرِ اعظم پاکستان، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، شیخ التفسیر والحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ حضرت قبلہ فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جیّد عالم ِ دین، عظیم مصنّف، مایۂ ناز مدرّس، اور بے مثال محقق تھے۔ ساری زندگی اشاعت ِ دینِ مصطفیٰ ﷺ میں بسر فرمائی؛ پاکستان میں مختلف مقامات پر، دُروسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ شروع فرمایا، جو آخری دم تک بر قرار رہا۔ بہاولپور کے دور دراز اور پسماندہ علاقے میں دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی جس کا نام ’’مدرسۂ منبع الفیوض‘‘ رکھا، جس میں حفظِ قرآن، اور دینی کتب کی تعلیم فی سبیل اللہ دی جاتی؛ دور دراز علاقوں سے طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس مدرسے میں آنے لگے، دیہات کے ماحول میں ان کا انتظام بہت مشکل تھا، لیکن اس ویران مقام میں علما و حفّاظ و قراء کی جماعت تیار فرمائی جو آج پوری دنیا میں خدمتِ دینِ متین اور ترویج و اشاعتِ مسلکِ حق میں مصروف ہیں۔ 1963ء میں حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ نے بہاولپور میں جامعہ اویسیہ رضویہ اور جامع مسجد سیرانی کی بنیاد رکھی، جو الحمد للہ اس وقت اہلِ سنّت کی عظیم دینی درس گاہ ہے، جہاں تمام مروّجہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اِن کے علاوہ مختلف مقامات پر درجنوں مدارس آپ کی زیرِ نگرانی چلتے رہے اور اب آپ کی اولاد و تلامذہ ان کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ تصنیف و تالیف اور تدریس کے علاوہ، حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ ملکی سیاست سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے، چنانچہ آپ مملکت ِخدا داد پاکستان میں نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ و تحفّظِ مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر قائدِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد نورانی صدّیقی علیہ الرحمہ کی قیادت میں مصروفِ عمل اور جمعیت سے منسلک رہے۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص40)
https://t.me/Faize_Millat_Library
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ کنیت: ابو الصالح۔ لقب: فیضِ ملت، محدث بہاولپوری، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی بن مولانا نور احمد بن مولانا محمد حامد بن محمد کمال علیہم الرحمۃ والرحمٰن۔
آپ کا تعلّق قوم ’’لاڑ‘‘ سے ہے۔
آپ کا سلسلۂ نسب حضور ﷺ کے چچا محترم سیّدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے، اس لیے نسبتاً ’’عباسی‘‘ ہیں۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت: ص40؛ مظلوم مصنّف، ص12)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت 1351ھ مطابق 1932ء کو گاؤں ’’حامد آباد‘‘ تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب پاکستان میں ہوئی۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت:40)
تحصیلِ علم:
والدِ گرامی دینی علوم سے بہرہ ور تھے، ابتدائی دینی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر اپنے قریبی قصبہ ترنڈہ میر خان میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخل ہوئے اور پانچ جماعت تک اسکول کی تعلیم حاصل کی اور 1942ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ والدِ گرامی کی خواہش کے مطابق حفظِ قرآن مجید کے لیے حافظ جان محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ان سے آٹھ پارے حفظ کیے، اور پھر مولانا حافظ سراج احمد علیہ الرحمہ سے اٹھارہ پارے حفظ کیے، اور خیر پور ٹامیوالی میں مولانا حافظ غلام یٰسین علیہ الرحمہ سے1947ء میں مکمّل قرآنِ مجید حفظ کیا۔
آپ فرماتے ہیں: میں نے1947ء کے سال پہلی مرتبہ تراویح کی صورت میں قرآن مجید سنایا، اور 27؍ویں شب ختم قرآن کی تقریب بھی تھی اور قیام پاکستان کی خوشی بھی۔ حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کا آغاز کیا، فارسی کی ابتدائی کتب مولانا اللہ بخش علیہ الرحمہ سے پڑھیں، اور صرف و نحو، ہدایہ، مختصر المعانی، شرحِ جامی وغیرہ ، امام الواعظین، واعظِ شیریں بیاں، عاشقِ رسول ﷺ، حضرت علامہ مولانا خورشید احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں، بقیہ کتب علامہ مولانا عبد الکریم علیہ الرحمہ سے پڑھیں، 1952ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت شیخ الحدیث مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے دورۂ حدیث مکمّل کیا اور اُن کے مبارک ہاتھوں سے دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغ حاصل فرمائی۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص 40)
بیعت و خلافت:
دورانِ تعلیم سلسلۂ عالیہ اُویسیہ میں حضرت محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سجادہ نشیں، حضرت مولانا خواجہ محمد الدین سیرانی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت علامہ مولانا حسن علی رضوی کے توسّط سے شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند نے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔
سیرت و خصائص:
فیضِ ملّت، مفسرِ اعظم پاکستان، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، شیخ التفسیر والحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ حضرت قبلہ فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جیّد عالم ِ دین، عظیم مصنّف، مایۂ ناز مدرّس، اور بے مثال محقق تھے۔ ساری زندگی اشاعت ِ دینِ مصطفیٰ ﷺ میں بسر فرمائی؛ پاکستان میں مختلف مقامات پر، دُروسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ شروع فرمایا، جو آخری دم تک بر قرار رہا۔ بہاولپور کے دور دراز اور پسماندہ علاقے میں دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی جس کا نام ’’مدرسۂ منبع الفیوض‘‘ رکھا، جس میں حفظِ قرآن، اور دینی کتب کی تعلیم فی سبیل اللہ دی جاتی؛ دور دراز علاقوں سے طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس مدرسے میں آنے لگے، دیہات کے ماحول میں ان کا انتظام بہت مشکل تھا، لیکن اس ویران مقام میں علما و حفّاظ و قراء کی جماعت تیار فرمائی جو آج پوری دنیا میں خدمتِ دینِ متین اور ترویج و اشاعتِ مسلکِ حق میں مصروف ہیں۔ 1963ء میں حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ نے بہاولپور میں جامعہ اویسیہ رضویہ اور جامع مسجد سیرانی کی بنیاد رکھی، جو الحمد للہ اس وقت اہلِ سنّت کی عظیم دینی درس گاہ ہے، جہاں تمام مروّجہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اِن کے علاوہ مختلف مقامات پر درجنوں مدارس آپ کی زیرِ نگرانی چلتے رہے اور اب آپ کی اولاد و تلامذہ ان کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ تصنیف و تالیف اور تدریس کے علاوہ، حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ ملکی سیاست سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے، چنانچہ آپ مملکت ِخدا داد پاکستان میں نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ و تحفّظِ مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر قائدِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد نورانی صدّیقی علیہ الرحمہ کی قیادت میں مصروفِ عمل اور جمعیت سے منسلک رہے۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص40)
❤1👍1
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک مایۂ ناز مدرّس تھے؛ آپ کو تمام کتب اور تمام علوم و فنون میں یک ساں مہارتِ تامّہ حاصل تھی۔ کوئی بھی کتاب اُن کے سامنے مشکل نہ تھی، آپ کی تدریس کا انداز ایسا سہل اور دل نشیں تھا کہ غبی و مبتدی طلبہ بھی بآسانی سمجھ لیتے تھے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت اور طلبہ کی ذہن سازی بھی فرماتے تھے، طلبہ میں دینِ متین کی خدمت کا جذبہ اور تصلّب فی الدین، مسلکِ حق کی خدمت فی سبیل اللہ کرنے کا جذبہ اور علماء و طلبہ میں خود داری، تقویٰ و خلوص کوٹ کوٹ کر بھر دیتے تھے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے، بلکہ فنا فی الرسول ﷺ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال ماہِ رمضان دیارِ مصطفیٰ ﷺ میں گزارتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف، یا مدینۂ منوّرہ کی یادیں تازہ ہوتیں تو آنکھوں سے موتیوں کی برسات شروع ہو جاتی، اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور یادِ مدینہ میں ایسے بے قرار رہتے تھے، جیسے ماہیِ بـے آب، اور حقیقتاً یہی زندگی اور یہی بندگی ہے۔ جب اپنا نام تحریر کرتے تو اس طرح تحریر کرتے: ’’مدینے کابھکاری، فقیر فیض احمد اویسی غُفِرَلَہٗ‘‘۔ ایسا بڑا مصنّف، جن کے ہزاروں شاگرد و مریدین ہوں، لیکن سادگی ایسی تھی کہ اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ فی زمانہ تمام دینی شعبہ جات میں بقول ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ القاب کی بہتات ہے، اِلَّا مَاشَآءَ اللہ؛ مگر حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کے ہاں ایسے القاب کی کوئی رو رعایت نہیں تھی۔ دنیاوی آلائشوں سے دامن بچا کر آپ مقصدِ حیات میں کامیاب رہے۔
تدریس کے ساتھ ساتھ، وعظ و نصیحت، مختلف مقامات پر مُناظروں کے چیلنج قبول کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے مناظرہ کرنا، اور اپنا وقت بچا کر تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا، یہ اس پر فتن اور نفسا نفسی کے عالم میں علماء کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ واقعی فیضِ ملّت تھے۔ کون سا ایسا موضوع اور کون سا ایسا فن ہے جس میں حضرت نے قلم کشائی نہ فرمائی ہو۔ تمام مروّجہ علوم و فنون، عربی و فارسی زبان میں کتب کا اردو ترجمہ، اور قدیم و جدید موضوعات پر تقریباً پانچ ہزار کتب تصنیف فرمائی ہیں؛ بلکہ موجودہ وقت میں یہ آپ کا عالمی ریکارڈ بھی ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کی زندگی آج کے نوجوان علماء و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ خلوص و لِلّٰہِیَتۡ سے دین کی خدمت، تدریس، تصنیف، کے ساتھ دینی مدارس کا قیام اہل سنّت کے بقا و عروج کے لیے لازم ہے۔ اگر تمام علماء مقدور بھر کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالیٰ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آئیں گی۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصالِ باکمال 15؍رمضان المبارک 1431ھ مطابق 26؍ اگست 2010ء ،بروز جمعرات، بوقت 6:15 صبح جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں ہوا۔ جامعہ ہی میں ابدی آرام فرماہیں۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنّت؛ مظلوم مصنّف۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-faiz-ahmed-owaisi-rizvi
Copyright © Zia-e-Taiba
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے، بلکہ فنا فی الرسول ﷺ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال ماہِ رمضان دیارِ مصطفیٰ ﷺ میں گزارتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف، یا مدینۂ منوّرہ کی یادیں تازہ ہوتیں تو آنکھوں سے موتیوں کی برسات شروع ہو جاتی، اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور یادِ مدینہ میں ایسے بے قرار رہتے تھے، جیسے ماہیِ بـے آب، اور حقیقتاً یہی زندگی اور یہی بندگی ہے۔ جب اپنا نام تحریر کرتے تو اس طرح تحریر کرتے: ’’مدینے کابھکاری، فقیر فیض احمد اویسی غُفِرَلَہٗ‘‘۔ ایسا بڑا مصنّف، جن کے ہزاروں شاگرد و مریدین ہوں، لیکن سادگی ایسی تھی کہ اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ فی زمانہ تمام دینی شعبہ جات میں بقول ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ القاب کی بہتات ہے، اِلَّا مَاشَآءَ اللہ؛ مگر حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کے ہاں ایسے القاب کی کوئی رو رعایت نہیں تھی۔ دنیاوی آلائشوں سے دامن بچا کر آپ مقصدِ حیات میں کامیاب رہے۔
تدریس کے ساتھ ساتھ، وعظ و نصیحت، مختلف مقامات پر مُناظروں کے چیلنج قبول کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے مناظرہ کرنا، اور اپنا وقت بچا کر تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا، یہ اس پر فتن اور نفسا نفسی کے عالم میں علماء کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ واقعی فیضِ ملّت تھے۔ کون سا ایسا موضوع اور کون سا ایسا فن ہے جس میں حضرت نے قلم کشائی نہ فرمائی ہو۔ تمام مروّجہ علوم و فنون، عربی و فارسی زبان میں کتب کا اردو ترجمہ، اور قدیم و جدید موضوعات پر تقریباً پانچ ہزار کتب تصنیف فرمائی ہیں؛ بلکہ موجودہ وقت میں یہ آپ کا عالمی ریکارڈ بھی ہے۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمہ کی زندگی آج کے نوجوان علماء و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ خلوص و لِلّٰہِیَتۡ سے دین کی خدمت، تدریس، تصنیف، کے ساتھ دینی مدارس کا قیام اہل سنّت کے بقا و عروج کے لیے لازم ہے۔ اگر تمام علماء مقدور بھر کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالیٰ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آئیں گی۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصالِ باکمال 15؍رمضان المبارک 1431ھ مطابق 26؍ اگست 2010ء ،بروز جمعرات، بوقت 6:15 صبح جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں ہوا۔ جامعہ ہی میں ابدی آرام فرماہیں۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنّت؛ مظلوم مصنّف۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-faiz-ahmed-owaisi-rizvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
#فیضان_حضور_فیض_ملت ❶
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
#فیضان_حضور_فیض_ملت ❷
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍#علامہ_فیض_احمد_اویسی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Faize_Millat_Library
تاریخ ولادت : ۱۵۳۱ھ ۲۳۹۱ء 🌹
وصال: ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1