🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_امام_حسن
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
ولادت ۱۵ رمضان المبارک ۳؁ھ
شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۰۵؁ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔍 منقبت در شان امام حسن ❸
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_امام_حسن
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
ولادت ۱۵ رمضان المبارک ۳؁ھ
شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۰۵؁ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
15 رمـضـان الـمـبـارک یـومِ وصـال

حـضـور مـفـسـر اعـظـم پـاکستـان مـصـنـف کـتـب کثـیـرہ شـارح حـدائـق بـخـشـش فیـض مِـلـّت حـضـرت عـلامہ ف‍ـیـض احـمـد اویـسـی رضـوی مـحـدث بـہـاولـپـوری

مفسر قرآن علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی بن نور احمد کی ولادت 1351ھ/1932ء کو قصبہ حامد آباد ضلع رحیم یار خان میں ہوئی
(فیوض الرحمن، جلد 1، صفحہ 4)

سلسلہ نسب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک منتہی ہوتا ہے
(مظلوم مصنف، صفحہ 9)

آپ مفسر ، محدث ، مفتی ، مناظر ، مصنف کتب کثیرہ ، عابد و زاہد ، صاحب تقوی اور بڑی شان والے بزرگ تھے پاکستان کے چاروں صوبوں میں مسلسل پچاس سال تک فی سبیل اللہ دورہ تفسیر قرآن کرواتے رہے، اپنے اوقات کے بڑے پابند تھے ، زیادہ عوامی جلسوں میں جانا پسند نہیں کرتے تھے، تن تنہا پانچ ہزار سے زائد کتب و رسائل لکھ کر عالمی ریکارڈ قائم کیا، جن موضوعات پر آپ نے لٹریچر فراہم کیا ہے اگر ان کو جدید طریقہ تحقیق و تخریج، تحشیہ و تسہیل کے ساتھ شائع کیا جائے تو اہلسنت کو آئندہ پچاس سالوں تک کفایت کر جائے گا، رواں صدی میں پاکستان کے اندر آپ ہی کی ذات ہے جس پر مصنف اعظم کا لقب صادق آتا ہے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اس کے بعد جن اساتذہ سے اکتساب فیض کیا ان میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں
محدث اعظم مولانا سردار احمد چشتی
حضرت مولانا سید احمد سعید کاظمی
حضرت مولانا سراج احمد مکھن بیلوی
حضرت مولانا حکیم اللہ بخش
حضرت مولانا عبد الکریم فیضی
(یادگار فیض ملت، صفحہ 24)
پاک و ہند کے جید اہل علم کے علاوہ عرب کے بھی کئی شیوخ سے سند حدیث کی اجازات حاصل کیں۔

دوران تعلیم آپ کا حافظہ بڑا قوی تھا، فارسی میں ترکیب پر بڑی مہارت رکھتے تھے فارسی اشعار اس طرح یاد تھے جیسے حافظ قرآن کو سورہ فاتحہ یاد ہوتی ہے۔
(علامہ فیض احمد اویسی کی مذہبی اور تصنیفی خدمات ، صفحہ 17)

فراغت کے بعد اپنے آبائی گاوں حامد آباد میں جامعہ اویسیہ رضویہ منبع الفیوض کی بنیاد رکھی اور 1959ء میں بہاولپور تشریف لے آئے جہاں جامعہ اویسیہ رضویہ قائم کیا اور آخر تک یہیں تدریس کرتے رہے ۔
(فیض ملت ایک مثالی معلم ، صفحہ 4)

آپ کا انداز تدریس بڑا دلنشین، سادہ عام فہم اور علمی ہوتا، طلباء کے فطری رجحانات کو مدنظر رکھتے اور ان سے ہمیشہ شفقت اور نرمی کا مظاہرہ کرتے اور نصف صدی سے زائد عرصہ مسند تدریس کو زینت بخشی۔
(ایضا، صفحہ 9)
مسلسل کئی سال تک دورہ حدیث شریف میں مکمل صحاح ستہ اکلیے پڑھاتے رہے
(ایضا، صفحہ 6 )
آپ اپنے طلباء کو با عمل دیکھنا چاہتے تھے اس لیے ان کی تربیت پر بھرپور توجہ دیتے، انہیں رات کو جلد سونے کا مشورہ دیتے، صبح تہجد کے لیے خود بیدار کرتے، نوافل پڑھواتے اور اسباق کا مطالعہ کرنے کا حکم دیتے۔
(فیض ملت بحثیت طبیب، صفحہ 4)

آپ کے شاگردوں میں نامور فضلاء شامل ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں

حضرت مولانا مفتی غلام سرور قادری
حضرت مولانا مفتی رضاء المصطفی نقشبندی
حضرت مولانا مفتی عبد الستار چشتی
حضرت مولانا قاری طیب نقشبندی مانچسٹر
ض
آپ ؒ کے تین ممتاز شاگردوں کے نام یہ ہیں:

▪️محسن اہلسنت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمه الله

▪️مفتی محمد ارشد القادری الباکستانی حفظہ الله

▪️مبلغ اسلام علامہ رضا ثاقب مصطفائی حفظہ الله

آپ کو مدارس سے بڑی محبت تھی بغرض تبلیغ پاکستان کے جس علاقہ میں جاتے وہاں اہلسنت کے مدرسہ کا معلوم فرماتے اور مدرسہ میں جا کرمنتظمین مدرسین کو زبردست خراج عقیدت پیش فرماتے اور ان کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے آپ کی کاوشوں سے بہاولپور اور ملک کے دیگر علاقوں میں بہت سے مدارس قائم ہوئے۔
(علامہ فیض احمد اویسی کی مذہبی اور تصنیفی خدمات ، صفحہ 64)

آپ بڑے اچھے مناظر بھی تھے اور متعدد مناظروں میں مد مقابل کو شکست فاش دی ہے، 15 سال کی عمر میں تحریک پاکستان میں حصہ لیا ، 1953ء اور 1974ء کی تحاریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سیاسی لحاظ سے امام شاہ احمد نورانی کو سپورٹ کرتے تھے۔

آپ نے دوران تعلیم الحاج خواجہ محمد الدین سیرانی کے دست اقدس پر بعیت کی اور ان کی وفات کے بعد مفتی اعظم ہند مولانا مصفطی رضا خان سے بعیت ہو کر اجازات و خلافت حاصل کی۔
(فیوض الرحمن۔ صفحہ 5)

#خلفائے حضور فیض ملت:-

حضرت مولانا پیر سید مسرت حسین شاہ
حضرت مولانا سید شوکت حسین شاہ
امیر اہلسنّت حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری
حضرت مولانا احمد رضا بن مولانا محمد الیاس قادری
حضرت مولانا صاحبزادہ محمد فیاض احمد اویسی
حضرت مولانا عبدالجلیل العطامی، شام وغیرہ شامل ہیں
1👍1
علامہ اویسی نے تدریس و تصنیف کے ساتھ عبادت کا بھی وافر ذوق پایا تھا اوارد و وظائف کے ساتھ تلاوت قرآن اور نماز تہجد پابندی سے ادا کرتے چار مرتبہ حج بیت اللہ اور کثیر تعداد میں عمرہ کی سعادت حاصل کی آپ کی شب گزاری کے حوالہ سے علامہ زاہد حسین نعیمی نے اپنا مشاھدہ اس طرح بیان کیا ہے کہ میں نے جب بھی دیکھا رات کو علامہ اویسی علیہ الرحمہ کے حجرہ کا بلب جلتا رہتا، میں جب تک جاگتا رہتا یہ منظر دیکھتا رہتا پھر سو جاتا، رات پچھلے پہر مجھے بھی اٹھنے کی عادت تھی لیکن میں جب بھی وضو کرکے سیرانی مسجد کے صحن میں پہنچتا تو میں نے علامہ اویسی علیہ الرحمہ کو تہجد پڑھتے دیکھا میں نے بہت کوشش کی کہ کبھی ان سے پہلے اٹھ جاوں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا کہ وہ مسجد میں موجود نہ پائے جائیں یہی ایک بات آج تک میں سمجھنے سے قاصر رہا کہ آخر حضرت کب سوتے تھے اور پھر تہجد کے لیے اٹھ جاتے تھے اور دن کے تمام معمولات میں کوئی فرق نہیں آتا تھا یہ تو کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔
(علامہ فیض احمد اویسی کی مذہبی اور تصنیفی خدمات ، صفحہ 28)

آپ نماز با جامعت کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے حتی کہ آخری عمر میں جب بہت زیادہ ضعیف ہوگے تو اس حالت میں بھی خدام ویل چیر پرمسجد میں لاتے تاکہ آپ باجماعت نماز ادا کر سکیں۔
سفر ہو یا حضر کسی بھی صورت نماز قضاء کرنا گوارہ نہیں تھا آپ نے اپنی تالیف نماز کے نقد فوائد میں ایسے کئی وقعات لکھے ہیں جب بظاہر نماز پڑھنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی تھی مگر آپ نے ہمت کرکے نماز پڑھنے کا اہتمام کر ہی لیا ان میں سے ایک واقعہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں

ایک دفعہ کوٹ مٹھن شریف میں تقریر کے لیے آپ کو جانا تھا راستہ میں جانجنی کے مقام پر نماز عصر کا آخری وقت ہونے لگا آپ نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لیے کہا کہ میرا وضو ہے صرف دو رکعت پڑھوں گا، زیادہ وقت ضائع نہیں ہوگا مگر ڈرائیور نے ایک نہ سنی، تو آپ نے کہا بس روک دو ورنہ میں چلتی بس سے چھلانگ لگا دوں گا اس کے بعد جو کچھ ہو گا خدا کو سپرد۔ ڈرائیور نے آپ کی دھمکی کی وجہ سے بس روک کر آپ کو نیچے اتار دیا اور خود چلتا بنا ، آپ نے اطمینان سے نماز پڑھی اور باقی سفر کچھ پیدل تو کچھ دوسری بس کے ذریعہ پورا کرکے مقررہ وقت پر کوٹ مٹھن شریف تقریر کے لیے پہنچ گے۔

علامہ اویسی جب بہاولپور تشریف لائے تو یہاں بد مذہبیت اپنے عروج پر تھی ہر بات کو شرک و بدعت کہا جاتا اگر کوئی دوکان دار اپنی دوکان پر یارسول اللہ ﷺ لکھواتا تو مخالفین اس پر شرک کا فتوی لگا کر اس کی دوکان بند کروادیتے آپ کے بہاولپور آتے ہی یہاں کی فضاء تبدیل ہونا شروع ہو گئی اور لوگوں کے دل الفت و محبت رسول ﷺ سے منور ہونا شروع ہو گے جس پر مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگے اور آپ کو پریشان کرنا شروع کر دیا، آپ کے خلاف عدالتی مقدمات قائم کیے گے قاتلانہ حملوں کی سازشیں ہوئیں ، کبھی مسجد سے ملحقہ حجرہ کی تاریں کاٹ کر پریشان کیا جاتا اور کبھی اہل محلہ کو آپ سے متنفر کرنے کے لیے تمام اخلاقی حدیں عبور کرجاتے اس ساری صورت حال کی وجہ سے آپ کو بہاولپور کی کئی مساجد کی طرف ہجرت کرنا پڑی مگر آپ کے پائے استقامت میں ذرہ بھر لغزش نہ واقع ہوئی اور انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھا یہاں تک کہ دشمنان اہلسنت ناکام و نامراد ہوئے، جب آپ نے اس شہر میں قدم رکھا تھا تو اہلسنت کی چند مساجد تھیں جبکہ اب ڈیڑھ سو سے زائد مساجد سے الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔

علامہ اویسی دیگر علوم کی طرح فقہ میں بھی کامل تھے فقہی مسائل پر آپ کی گرفت بہت اچھی تھی مسائل کا استحضار و استنباط، قرآن و حدیث سے استدلال اور اقوال فقہا کی تطبیق و توضیح کا پورا پورا ملکہ حاصل تھا بعض اوقات کسی سوال کے جواب میں پورا رسالہ تصنیف فرما دیتے اور فتوی ہمیشہ امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان کی تحقیقات کی روشنی میں دیتے تھے۔

پرواہ نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے عظمت مصطفی ﷺ میں ان کی ذات کیا حقیقت رکھتی ہے جو لوگ اہانت رسول ﷺ سے باز نہیں آتے ان سے وہ کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں تھے۔
(علامہ فیض احمد اویسی کی مذہبی اور تصنیفی خدمات ، صفحہ 27)

علامہ اویسی کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تصانیف و تالیفات ہیں تدریس کے بعد یہی آپ کا محبوب مشغلہ تھا عالم دنیا میں ہم کسی دوسرے مصنف کو نہیں جانتے جس نے گوناں گو موضوعات پر پانچ ہزار سے زائد کتب کا ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہو، آپ نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ان کی تعداد چالیس سے زائد ہے
آپ سے جب سوال ہوا کہ اس قدر تیز رفتار علمی کام کا راز کیا ہے؟
1👍1