🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-09-1443 ᴴ | 13-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-09-1443 ᴴ | 14-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-09-1443 ᴴ | 14-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-09-1443 ᴴ | 14-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
🌹 علم کا دار و مدار چھوٹے بڑے ہونے پر نہیں 🌹

عجیب زمانہ آگیا ہے!
آج کل کے جہلا تو جہلا۔۔۔ علماء بھی سامنے والے کو کچھ نہیں سمجھتے۔ اگر آپ دلائل و براہین سے اختلاف کریں تو سامنے سے کہہ دیا جاتا ہے کہ کیا تم فلاں عالم سے بڑے عالم ہو؟ تمہاری علمی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ ہمارے اسلاف کا یہ طریقۂ کار نہیں تھا۔ اگر ان کے سامنے شاگرد بھی اختلاف کرتے تو دل و جان سے اسے قبول کرتے کیوں کہ بات علم کی ہورہی ہوتی تھی نہ کہ اپنی انا کی۔ لیکن افسوس آج کل کسی سے اختلاف کرلو تو اپنے علمی گھمنڈ کا اظہار ختم نہیں ہوتا۔

"امام مالک کے شاگرد امام عبد الله بن وہب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص امام مالک کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا داڑھی میں خلال کرنا سنت ہے؟ تو امام مالک نے فرمایا: ایسی کوئی چیز نہیں۔ جب وہ شخص چلا گیا تو امام عبد الله بن وہب نے امام مالک سے کہا کہ داڑھی میں خلال کرنا سنت ہے اور پھر اپنی سند سے حدیث بیان کی، تو جب اگلی دفعہ امام مالک سے کسی نے یہی سوال پوچھا تو فرمایا ہاں داڑھی میں خلال کرنا سنت ہے۔"

تو معلوم ہوا ہمارے اسلاف علم حاصل کرنے میں بخل اور تکبر سے کام نہیں لیتے تھے اور نہ اُس دور کے شاگرد یا پیروکار یہ کہتے نظر آتے کہ کیا تم ہمارے شیخ یا فلاں عالم سے بڑے علم والے ہو!

یاد رکھیں! حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا ہے:
علم کا دار و مدار (عمر کے لحاظ سے) چھوٹے بڑے ہونے پر نہیں ہے۔
(جامع معمر بن راشد ٤٤٠/١١)

✍🏻فیضان خان
۱۲ رمضان المبارك ٣٤٤١؁ه‍
١٤ اپریل ۲۲۰۲؁ء
3👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
سلف صالحین کا ایک کتاب کو متعدد بار پڑھنا!

مطالعہ ایک دفعہ کر لینا اچھی بات ہے لیکن تثبت اور پختگی کے لیے کسی کتاب کا بار بار مطالعہ کرنا علما کا طریقہ رہا ہے.
اور بُہت بار مطالعہ کرنا خواص کا طریقہ رہا ہے.

امام نووی رحمہ اللہ نے کتاب الوسیط کا 400 مرتبہ مطالعہ کیا.

شیخ المالکیۃ ابوبکر ابھری متوفی 289 ھ
فرماتے ہیں میں نے مختصر ابن عبد الحکم کا 500 مرتبہ، کتاب الاسدیہ کا 70 مرتبہ، موطا امام مالک کا 45 مرتبہ اور مختصر البرقی کا 70 مرتبہ مطالعہ کیا.

سید جمال الدین المحدث اپنے استاد سید اصیل الدین سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بخاری شریف کا 120 مرتبہ مطالعہ کیا.

حافظ برہان الدین حلبی نے صحیح بخاری کا 60 مرتبہ اور صحیح مسلم کا 20 مرتبہ مطالعہ کیا.
محدث فیروزآبادی نے بخاری شریف کا 50 سے زیادہ مرتبہ مطالعہ کیا.

ملتقطا قیمۃ الزمن صفحہ 175 تا 181

ہمیں بھی چاہیے ضروری ( عقائد، مسائل،اعمال صالحہ اور احادیث پر مبنی) کتب کا بار بار مطالعہ کریں تاکہ ان پر عمل ہمارا اوڑھنا بچھونا بن جائے...

اگر کوئی کسی غیر مخلقہ نومولود محقق کو مجدد مان کر سلف صالحین کو مامے بابے جیسے الفاظ سے یاد کرنے کا شوقین ہو تو مذکورہ تعداد مرتبہ اپنے محققین کے گریبان میں جھانکے تاکہ ان کی اوقات اور اصلیت جان کر سلف صالحین کی بے ادبی سے محفوظ رہ سکے.

نیز ہمارے وہ طلبہ جو چار لفظ پڑھ کر اکابر پر تبصرے کرتے نہیں تھکتے ان کو بھی اپنے حال پر رحم کھانا چاہیے..

خاص کر فیس بک کے حنفی شافعی کلین شیوی عربی عبارت گھسٹ گھسٹ کر پڑھنے والے محدثین جو آجکل سلف صالحین پر تبرہ کرنے کو عبادت سمجھے بیٹھے ہیں ان کو اپنی اوقات یاد رکھنی چاہیے.

فرحان رفیق قادری عفی عنہ
13/4/2022
3👍1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا ذوقِ مطالعہ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضور شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں کہ حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی قدس سرہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے شامی اور عالمگیری کا پانچ بار مطالعہ کیا ہے اور کنز کی شروح البحر الرائق، النھر الفائق، تبیین الحقائق کا دو بار اور ہدایہ اور اس کی تمام شروح بشمول بنایہ ایک بار اور ان کے علاوہ پچاس کتبِ فقہ کا بالاستیعاب بغور مطالعہ کیا ہے۔ یہ کتابیں مختصر سی نہیں بلکہ ان میں صرف مبسوطِ امام سرخسی کی تیس جلدیں ہیں۔
[مقالات شارح بخاری ج: ۳، ص: ۴۲۵، دائرۃ البرکات گھوسی، مئو۔]

بشکریہ : شفاء المصطفی مصباحی
5👍2