*سوال کیا تعزیا داری حرام ہیں علمائے کرام سے گزارش ہیں کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مہر بانی ہوگی فقط والسلام*
🌹 *قاری لئیق الرحمٰن قادری* 🌹
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
🖍 *الجواب بعون الملک الوہاب*
*سراج الھند حضرت شاہ* *عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ* *الرحمہ تحریر فرماتے ہیں تعزیہ داری عشرہ محرم وساختن ضرائح وصورت وغیرہ درست نیست پھر چند سطر بعد تحریر* *فرماتے ہیں تعزیہ داری ہمچوں مبتدعاں می کنندبدعت ست وہمچنین ضرائح وصورت قبوروعلم وغیرہ ایں ہم بدعت ست وظاھر ست کہ بدعت سیئہ* *است اورتحریرفرماتےہیں ایں چوبہا کہ ساختئہ اوست قابل زیارت نیستند بلکہ قابل ازالہ اند چنانچہ درحدیث آمدہ*
📚 *من رای منکم منکرافلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانه فان لم یستطع فبقلبه وذلک اضعف الایمان رواہ مسلم*
*یعنی عشرہ محرم میں تعزیہ داری اورقبروصورت بناناجائز نہیں تعزیہ داری جیساکہ* *بدمزہب کرتےہیں بدعت ہے اورایسے ہی تابوت قبروں کی صورت اورعلم وغیرہ یہ بھی بدعت ہے ظاھر ہے کہ بدعت* *سیئہ ہے اوریہ تعزیہ جوبنایاجاتاہے زیارت کے قابل نہیں بلکہ اس قابل ہے کی اسے نست ونابودکیاجائے جیساکی* *حدیث شریف میں آیاہے کہ تم میں سے جوشخص کوئ بات خلاف شرع دیکھے تواسے اپنے ہاتھ سے ختم کردے اورہاتھ سے* *ختم کرنے کی قدرت نہ ہوتو زبان سے منع کرے اوراگرزبان سے منع کرنے کی قدرت نہ ہوتودل میں براجانے اوریہ سب سے کمزور ایمان ہے*
📗 *فتاوی عزیزیہ جلد اول صفحہ 7576 حضرت عبدالعزیز شاہ محدث دہلوی کی مذکورہ بالا* *عبارتوں سے بلکل واضح ہوگیا کی ہندوستان کی مروجہ تعزیہ داری بدعت سیئہ وناجائز ہے*
*اوراعلی حضرت امام احمدرضا بریلوی علیہ الرحمہ نے* *ہندوستان کی مروجہ تعزیہ داری کوناجائز وحرام ومایئہ بدعات قراردیا ہے تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ جلدنہم نصف اول صفحہ 35 ملاحظہ ہواوراعلی حضرت* *تحریرفرماتےہیں تعزیہ ممنوع ہے شرع میں کچھ اصل نہیں اورجوکچھ بدعات ان کےساتھ* *کی جاتی ہیں سخت ناجائز ہیں فتاوی رضویہ جلدنہم نصف اول صفحہ189 اورتحریر فرماتے ہیں* *تعزیہ کی تعظیم بدعت ہے فتاوی رضویہ جلدسوم صفحہ 258 اورتحریرفرماتے ہیں تعزیہ* *بناناناجائز ہے فتاوی رضویہ جلدششم صفحہ 186 اورتحریر فرماتے ہیں یہ جوباجے تاشے* *ماتم براق پری کی تصویر یں تعزئے سے مرادیں مانگنا اس کی منتیں ماننا اسے جھک جھک* *کرسلام کرنا سجدہ کرنا وغیرہ وغیرہ بدعات کثیرہ اس میں ہوگئ ہیں اوراب اسی کا نام* *تعزیہ داری ہے یہ ضرور حرام ہے*
📚 *فتاوی رضویہ جلدنہم نصف آخر صفحہ* *194*
*عوام جواپنے ہاتھوں چوک بناتے* *اوراس پرتعزیہ رکھتے ہیں پھراسی چوک پراشیاء خوردنی رکھ کرنیاز کرتے اورکراتے ہیں جسے تعزیہ کاچڑھاواکہتےہیں یہ ناجائز ہے اعلی حضرت امام* *احمدرضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں تعزیہ کاچڑھاواناجائز وبدعت وگناہ ہے فتاوی رضویہ جلدنہم 📚نصف آخر صفحہ ُ* *194*
📖 *فتاوی فقیہ ملت جلداول صفحہ* *53*
*واللہ اعلم بالصواب*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🖊 *ازقلم غیـــــــــــــــــاث الدین قــــــــــادری دارالعلـــــــــــوم شھیــــــــــداعظــــــــم دولہـــــاپور انٹیـــــــــاتھوک گونڈہ*
📲 *8887740180*
🌹 *قاری لئیق الرحمٰن قادری* 🌹
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
🖍 *الجواب بعون الملک الوہاب*
*سراج الھند حضرت شاہ* *عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ* *الرحمہ تحریر فرماتے ہیں تعزیہ داری عشرہ محرم وساختن ضرائح وصورت وغیرہ درست نیست پھر چند سطر بعد تحریر* *فرماتے ہیں تعزیہ داری ہمچوں مبتدعاں می کنندبدعت ست وہمچنین ضرائح وصورت قبوروعلم وغیرہ ایں ہم بدعت ست وظاھر ست کہ بدعت سیئہ* *است اورتحریرفرماتےہیں ایں چوبہا کہ ساختئہ اوست قابل زیارت نیستند بلکہ قابل ازالہ اند چنانچہ درحدیث آمدہ*
📚 *من رای منکم منکرافلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانه فان لم یستطع فبقلبه وذلک اضعف الایمان رواہ مسلم*
*یعنی عشرہ محرم میں تعزیہ داری اورقبروصورت بناناجائز نہیں تعزیہ داری جیساکہ* *بدمزہب کرتےہیں بدعت ہے اورایسے ہی تابوت قبروں کی صورت اورعلم وغیرہ یہ بھی بدعت ہے ظاھر ہے کہ بدعت* *سیئہ ہے اوریہ تعزیہ جوبنایاجاتاہے زیارت کے قابل نہیں بلکہ اس قابل ہے کی اسے نست ونابودکیاجائے جیساکی* *حدیث شریف میں آیاہے کہ تم میں سے جوشخص کوئ بات خلاف شرع دیکھے تواسے اپنے ہاتھ سے ختم کردے اورہاتھ سے* *ختم کرنے کی قدرت نہ ہوتو زبان سے منع کرے اوراگرزبان سے منع کرنے کی قدرت نہ ہوتودل میں براجانے اوریہ سب سے کمزور ایمان ہے*
📗 *فتاوی عزیزیہ جلد اول صفحہ 7576 حضرت عبدالعزیز شاہ محدث دہلوی کی مذکورہ بالا* *عبارتوں سے بلکل واضح ہوگیا کی ہندوستان کی مروجہ تعزیہ داری بدعت سیئہ وناجائز ہے*
*اوراعلی حضرت امام احمدرضا بریلوی علیہ الرحمہ نے* *ہندوستان کی مروجہ تعزیہ داری کوناجائز وحرام ومایئہ بدعات قراردیا ہے تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ جلدنہم نصف اول صفحہ 35 ملاحظہ ہواوراعلی حضرت* *تحریرفرماتےہیں تعزیہ ممنوع ہے شرع میں کچھ اصل نہیں اورجوکچھ بدعات ان کےساتھ* *کی جاتی ہیں سخت ناجائز ہیں فتاوی رضویہ جلدنہم نصف اول صفحہ189 اورتحریر فرماتے ہیں* *تعزیہ کی تعظیم بدعت ہے فتاوی رضویہ جلدسوم صفحہ 258 اورتحریرفرماتے ہیں تعزیہ* *بناناناجائز ہے فتاوی رضویہ جلدششم صفحہ 186 اورتحریر فرماتے ہیں یہ جوباجے تاشے* *ماتم براق پری کی تصویر یں تعزئے سے مرادیں مانگنا اس کی منتیں ماننا اسے جھک جھک* *کرسلام کرنا سجدہ کرنا وغیرہ وغیرہ بدعات کثیرہ اس میں ہوگئ ہیں اوراب اسی کا نام* *تعزیہ داری ہے یہ ضرور حرام ہے*
📚 *فتاوی رضویہ جلدنہم نصف آخر صفحہ* *194*
*عوام جواپنے ہاتھوں چوک بناتے* *اوراس پرتعزیہ رکھتے ہیں پھراسی چوک پراشیاء خوردنی رکھ کرنیاز کرتے اورکراتے ہیں جسے تعزیہ کاچڑھاواکہتےہیں یہ ناجائز ہے اعلی حضرت امام* *احمدرضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں تعزیہ کاچڑھاواناجائز وبدعت وگناہ ہے فتاوی رضویہ جلدنہم 📚نصف آخر صفحہ ُ* *194*
📖 *فتاوی فقیہ ملت جلداول صفحہ* *53*
*واللہ اعلم بالصواب*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🖊 *ازقلم غیـــــــــــــــــاث الدین قــــــــــادری دارالعلـــــــــــوم شھیــــــــــداعظــــــــم دولہـــــاپور انٹیـــــــــاتھوک گونڈہ*
📲 *8887740180*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*مروجہ تعزیہ داری اور کچھ نفس پرست مفتی*
_______________
حسن نوری گونڈوی
خادم نورانی مسجد اجین
_______________
قارئین کرام '' موجودہ دور میں تخریب کاری کا نام تحقیق اور تحقیق کا نام فتنہ و فساد رکھ دیا گیا ہے
کچھ شر پسند عناصر مراسم اہلسنت کی شبیہ بگاڑنے میں ہمہ تن مصروف ہیں
اکابرین اہلسنت سے اپنا بَونا قد ملانے کے لئے آجکل وہ مفتی بھی میدان تحقیق میں اترچکے ہیں جو ماضی میں مدرسوں سے بھگائیے گیے تھے
مختصر یہ کہ
1)ایک ہے تعزیہ داری
2) دوسری چیز ہے مروجہ تعزیہ داری
ہر پڑھا لکھا انسان سمجھ سکتا ہے کہ مروجہ تعزیہ داری ناجائز ہے کیونکہ سینکڑوں مفتیان کرام جن پر دنیا اعتماد کرتی ہے ان کا یہی فرمان ہے اور وجہ ظاہر بھی
مگر نابالغ مفتیان کرام اب اکابرین کی عظمت عوام کے دلوں سے نکالنے کے لیے کہتے ہیں کہ
*'' جن لوگوں نے تعزیہ داری کے خلاف فتوی دیا ہے در اصل انہیں اہل بیت سے دشمنی ہے''*
کبھی کہتے ہیں کہ
*`'' یاد امام حسین رضی اللہ عنہ مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اسی لیے تعزیہ داری کے خلاف فتوی دیا ''*
*قارئین کرام '' اب آپ فیصلہ کریں*
کیا ہمارے گھروں میں گنبد خضراء کی تصویر نہیں؟
کیا مساجد و مدارس میں کعبہ شریف کی تصویر فریم کی ہوئی موجود نہیں؟
کیا مسلمانان اہلسنت بغداد شریف و اجمیر معلی و گنبد رضا اپنے دکان و مکان میں نہیں لگاتے؟
جب یہ ساری چیزیں کوئی منع نہیں کرتا بلکہ باعث برکت و رحمت سمجھتا ہے
*تو آخر کیوں تعزیہ رکھنے اور زیارت کرنے کو غلط کہتے ہیں؟*
*اب آپ ہی فیصلہ کریں*
اگر کوئی شخص کعبہ شریف یا مدینہ منورہ و بغداد معلی کی خیالی تصویر بنائے اور اسے کہے کہ یہ کعبہ شریف یا مدینہ شریف ہے تو کیا آپ اسے تسلیم کریں گے نہیں نہیں ہرگز نہیں
*کیوں آخر کیوں؟*
اس لیے کہ خیالی تصویر کو گنبد خضراء کہنا در اصل یہ گنبد خضراء کی توہین اور اس کی شبیہ کو بگاڑنا ہے
*عزیرو کسی بھی عالم و مفتی و مفکر نے اصل تعزیہ داری کے خلاف کوئی بھی فتوی نہیں دیاہے اور نہ ہی دے سکتے ہیں کیونکہ اگر کوئی شخص روضہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شبیہ بنائے اپنے گھر میں لگائے اور زیارت کرے بلاشبہ یہ جائز بلکہ باعث برکت و رحمت ہے*
ہوا یہ کہ لوگوں نے خیالی ڈھانچے بنائے
اس میں روضہ امام حسین رضی اللہ عنہ بنایا
گلی گلی گھومایا وقت مکمل ہونے پر پیروں سے روند کر زمین میں دفن کیا
*سنیوں کان کھول سنو*
اور نابالغ مفتیوں خدارا قوم کے جذبات سے کھیل کر اپنے جہنم (شکم) کی آگ نہ بجھاو بلکہ اصل مسئلہ بتاو
اگر یہ روضہ امام حسین رضی اللہ عنہ مانتے ہو تو بتاو کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ شریف کی یہ بے حرمتی نہیں؟
کیا اس روضہ شریف میں موجود قبر امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین نہیں؟
کیا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے روضہ شریف کو پیروں سے روندنے کے لئے بنایا جاتا ہے؟
*شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس*
*بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے*
ناشر:':: صدائے حق و نوری نیٹ ورک اجین
06/09/2018
_______________
حسن نوری گونڈوی
خادم نورانی مسجد اجین
_______________
قارئین کرام '' موجودہ دور میں تخریب کاری کا نام تحقیق اور تحقیق کا نام فتنہ و فساد رکھ دیا گیا ہے
کچھ شر پسند عناصر مراسم اہلسنت کی شبیہ بگاڑنے میں ہمہ تن مصروف ہیں
اکابرین اہلسنت سے اپنا بَونا قد ملانے کے لئے آجکل وہ مفتی بھی میدان تحقیق میں اترچکے ہیں جو ماضی میں مدرسوں سے بھگائیے گیے تھے
مختصر یہ کہ
1)ایک ہے تعزیہ داری
2) دوسری چیز ہے مروجہ تعزیہ داری
ہر پڑھا لکھا انسان سمجھ سکتا ہے کہ مروجہ تعزیہ داری ناجائز ہے کیونکہ سینکڑوں مفتیان کرام جن پر دنیا اعتماد کرتی ہے ان کا یہی فرمان ہے اور وجہ ظاہر بھی
مگر نابالغ مفتیان کرام اب اکابرین کی عظمت عوام کے دلوں سے نکالنے کے لیے کہتے ہیں کہ
*'' جن لوگوں نے تعزیہ داری کے خلاف فتوی دیا ہے در اصل انہیں اہل بیت سے دشمنی ہے''*
کبھی کہتے ہیں کہ
*`'' یاد امام حسین رضی اللہ عنہ مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اسی لیے تعزیہ داری کے خلاف فتوی دیا ''*
*قارئین کرام '' اب آپ فیصلہ کریں*
کیا ہمارے گھروں میں گنبد خضراء کی تصویر نہیں؟
کیا مساجد و مدارس میں کعبہ شریف کی تصویر فریم کی ہوئی موجود نہیں؟
کیا مسلمانان اہلسنت بغداد شریف و اجمیر معلی و گنبد رضا اپنے دکان و مکان میں نہیں لگاتے؟
جب یہ ساری چیزیں کوئی منع نہیں کرتا بلکہ باعث برکت و رحمت سمجھتا ہے
*تو آخر کیوں تعزیہ رکھنے اور زیارت کرنے کو غلط کہتے ہیں؟*
*اب آپ ہی فیصلہ کریں*
اگر کوئی شخص کعبہ شریف یا مدینہ منورہ و بغداد معلی کی خیالی تصویر بنائے اور اسے کہے کہ یہ کعبہ شریف یا مدینہ شریف ہے تو کیا آپ اسے تسلیم کریں گے نہیں نہیں ہرگز نہیں
*کیوں آخر کیوں؟*
اس لیے کہ خیالی تصویر کو گنبد خضراء کہنا در اصل یہ گنبد خضراء کی توہین اور اس کی شبیہ کو بگاڑنا ہے
*عزیرو کسی بھی عالم و مفتی و مفکر نے اصل تعزیہ داری کے خلاف کوئی بھی فتوی نہیں دیاہے اور نہ ہی دے سکتے ہیں کیونکہ اگر کوئی شخص روضہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شبیہ بنائے اپنے گھر میں لگائے اور زیارت کرے بلاشبہ یہ جائز بلکہ باعث برکت و رحمت ہے*
ہوا یہ کہ لوگوں نے خیالی ڈھانچے بنائے
اس میں روضہ امام حسین رضی اللہ عنہ بنایا
گلی گلی گھومایا وقت مکمل ہونے پر پیروں سے روند کر زمین میں دفن کیا
*سنیوں کان کھول سنو*
اور نابالغ مفتیوں خدارا قوم کے جذبات سے کھیل کر اپنے جہنم (شکم) کی آگ نہ بجھاو بلکہ اصل مسئلہ بتاو
اگر یہ روضہ امام حسین رضی اللہ عنہ مانتے ہو تو بتاو کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ شریف کی یہ بے حرمتی نہیں؟
کیا اس روضہ شریف میں موجود قبر امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین نہیں؟
کیا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے روضہ شریف کو پیروں سے روندنے کے لئے بنایا جاتا ہے؟
*شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس*
*بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے*
ناشر:':: صدائے حق و نوری نیٹ ورک اجین
06/09/2018
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
محرم، صفر، ربیع الاول۔ یہ تین اسلامی مہینے ایسے ہیں جس میں لوگوں کو مرچی لگا کرتی ہے
کیسے اور کن لوگوں کو ؟؟؟
بتاتی ہوں۔
اول محرم:
محرم شریف کا مہینہ آتا ہے تو رافضیوں(شیعوں) کو مرچی لگتی ہے اور وہ صحابہ کرام خصوصاً امیر معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعن طعن کر کے خود کو مستحق نار کرتے ہیں۔
کچھ خارجیوں کو درد اٹھتا ہے یزید پلید کی محبت کا اور اہل بیت سے بغض کا ۔ اہل بیت سےمحبت کے لیے تو سند سند کی چیخ لگاتے ہیں اور یزید سے محبت کےلیے سند اور ضعیف سب بھول جاتا ہے۔ خیر۔ ایسوں کواللہ یزید کے ساتھ ہی حشر عطا فرمائے۔ آمین۔
دوم صفر:
یہ مہینہ اہل سنت وجماعت میں امام اہل سنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اس مہینے میں اس زمانے کے میر جعفروں کو مرچی لگ جایا کرتی ہے۔
اور اس مرچی کے لگنے کے بعد وہ تلملا کر امام اہل سنت پر ، ان کے نام سے منسوب مسلک یعنی مسلک اعلیٰ حضرت پر اور امام کے نام سے ملی پہچان پر تنقید کرنے میں شدت اختیار کر نے لگتےہیں۔
مثلاً : مبین اشرف، ناصر رامپوری مصباحی، عباس ازہری، نوشاد عالم چشتی و ان کے معاونین و مددگار جو ان کی پوسٹ پر کمنٹس میں موجود ہوتے ہیں اور کھسیانی بلی بن کر کھمبا نوچنے کی مشق کر رہے ہوتے ہیں۔
کیوں کہ ان موجودہ زمانے کے میر جعفروں کی اتنی حیثیت تو ہے نہیں کہ علم اعلیٰ حضرت یا تصنیف اعلیٰ حضرت پر تنقید کرنے کی جرات کریں اس لیے خاندان اعلیٰ حضرت پر انگلی اٹھا کرحسرت پوری کیا کرتے ہیں۔ اور خاندانی اختلافات کو بھی یوں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے اس فن میں پی ایچ ڈی ہوں۔
ارے ہاں۔
یہ لوگ اس زمانے کے مستند عالم یعنی میرے شیخ سے سب سے زیادہ جلتے ہیں۔ پتہ ہے کیوں؟؟؟
کیوں کہ ان کی دال نہیں گلتی۔ مقبولیت نہیں مل پا رہی ۔ ہر طرف تاج الشریعہ کی چھاپ دیکھ دیکھ کر دل میں درد تو اٹھے گا ہی نا۔ایسے فتنہ بازوں کو من مانی کرنے نہیں ملتی شریعت میں ناں۔ جہاں اپنی مرضی کا قانون نکالا شریعت میں ،جھٹ سے بریلی شریف سے گرفت کر دی جاتی ہے۔ اور اس گرفت کی وجہ سے ان کے گلے میں ایسا پھندہ لگتا ہے کہ تلملا تلملا کر کاغذ کو سیاہ کرتےرہتے ہیں ۔
ویسے میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ امام اعظم جیسے فقیہہ کو جیل کیوں جانا پڑا تھا، امام احمد بن حنبل جیسے مجتہد کو کوڑے کیوں لگائے گئے تھے، امام بخاری جیسے محدث کو غریب الوطن کیوں ہونا پڑا تھا۔ وہ کون لو گ تھے جن کی سازش کی وجہ سے ایسے علمائے کرام بھی اپنے وقت میں مشکلیں برداشت کرتے رہے۔
تو آج کا زمانہ دیکھ کر اور ان فتنہ بازوں کوعلمائے حق کے پیچھے پڑا دیکھ کر او ر سازشیں کرتا دیکھ کر جواب مل جاتا ہے کہ ان کے آباء واجدا د ہی تھے وہ لوگ جو ہر زمانے میں علمائے حق کے پیچھے اسی طرح سازشیں کرتے اور بدزبانی کرتے پائے گئے ہیں۔اسی طرح لوگوں کو بھڑکاتے تھے۔اسی طرح علمائے کرام کے خلاف زہر اگلتے تھے جیسے آج یہ لوگ اگلتے ہیں۔
ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ کبھی کسی علمی گرفت کو پیش کرتے نہیں پائے گئے۔ کیوں کہ اوقات ہی نہیں ہے۔ اس لیے ذاتیات پر ہی طنز کرتے رہے ۔ اورنام کے ساتھ القابات تو دیکھو۔ نعیمی، مصباحی، ازہری، چشتی وغیرہ وغیرہ۔ لوگ پڑھ کر سوچیں بندہ علم والا ہوگا۔ مگر یہ تو ماہر ذاتیات نکلے۔(خیر)
سوم ربیع الاول:
اس مہینے میں مرچی لگتی ہے شرک کی تسبیح پڑھنے والوں کو۔
یعنی اولاد ابلیس کو۔
نہیں سمجھے؟؟؟
اففففف
وہابی، دیوبندی، اہل خبیث، نجدیوں کو بھئی۔
ان سارے اہل مرچ یعنی مرچی زدہ افراد کو اگر جلن ہوتی ہے تو ہم کیا کریں بھئ۔
اب ان کی وجہ سے ہم چرچا کرنا اور جشن منانا تو نہیں چھوڑیں گے ناں۔
بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ اور مرچی لگے۔ اس لیے اور شدت سے چرچا کرتے ہیں اور جشن مناتے ہیں۔
جلنے والوں جلو، جل جل کر مرو اور مر کر مٹی ہو جاؤ۔
مگر ہم تو حشر تک ایسے ہی دھومیں مچانے والے ہیں ۔
کیا خوب دعا کی اعلیٰ حضرت نے۔
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!!
کردو عدو کو تباہ، حاسدوں کو رو بہ راہ
اہل وِلا کا بھلا تم پہ کروڑوں درود
نوٹ :
بدتمیزی نہیں کرنا کوئی، خبردار !
(اہل مرچ کے مددگاروں کو کہا ہے)۔
ورنہ دفع کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاؤں گی۔
یہ تحریر ان اہل مرچ حضرات کو
پہنچا سکتاہے کوئی تو پہنچا دیں، شکریہ :
✍ : #عروہ_فاطمہ_قادریہ_رضویہ_غفرلها
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
کیسے اور کن لوگوں کو ؟؟؟
بتاتی ہوں۔
اول محرم:
محرم شریف کا مہینہ آتا ہے تو رافضیوں(شیعوں) کو مرچی لگتی ہے اور وہ صحابہ کرام خصوصاً امیر معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعن طعن کر کے خود کو مستحق نار کرتے ہیں۔
کچھ خارجیوں کو درد اٹھتا ہے یزید پلید کی محبت کا اور اہل بیت سے بغض کا ۔ اہل بیت سےمحبت کے لیے تو سند سند کی چیخ لگاتے ہیں اور یزید سے محبت کےلیے سند اور ضعیف سب بھول جاتا ہے۔ خیر۔ ایسوں کواللہ یزید کے ساتھ ہی حشر عطا فرمائے۔ آمین۔
دوم صفر:
یہ مہینہ اہل سنت وجماعت میں امام اہل سنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اس مہینے میں اس زمانے کے میر جعفروں کو مرچی لگ جایا کرتی ہے۔
اور اس مرچی کے لگنے کے بعد وہ تلملا کر امام اہل سنت پر ، ان کے نام سے منسوب مسلک یعنی مسلک اعلیٰ حضرت پر اور امام کے نام سے ملی پہچان پر تنقید کرنے میں شدت اختیار کر نے لگتےہیں۔
مثلاً : مبین اشرف، ناصر رامپوری مصباحی، عباس ازہری، نوشاد عالم چشتی و ان کے معاونین و مددگار جو ان کی پوسٹ پر کمنٹس میں موجود ہوتے ہیں اور کھسیانی بلی بن کر کھمبا نوچنے کی مشق کر رہے ہوتے ہیں۔
کیوں کہ ان موجودہ زمانے کے میر جعفروں کی اتنی حیثیت تو ہے نہیں کہ علم اعلیٰ حضرت یا تصنیف اعلیٰ حضرت پر تنقید کرنے کی جرات کریں اس لیے خاندان اعلیٰ حضرت پر انگلی اٹھا کرحسرت پوری کیا کرتے ہیں۔ اور خاندانی اختلافات کو بھی یوں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے اس فن میں پی ایچ ڈی ہوں۔
ارے ہاں۔
یہ لوگ اس زمانے کے مستند عالم یعنی میرے شیخ سے سب سے زیادہ جلتے ہیں۔ پتہ ہے کیوں؟؟؟
کیوں کہ ان کی دال نہیں گلتی۔ مقبولیت نہیں مل پا رہی ۔ ہر طرف تاج الشریعہ کی چھاپ دیکھ دیکھ کر دل میں درد تو اٹھے گا ہی نا۔ایسے فتنہ بازوں کو من مانی کرنے نہیں ملتی شریعت میں ناں۔ جہاں اپنی مرضی کا قانون نکالا شریعت میں ،جھٹ سے بریلی شریف سے گرفت کر دی جاتی ہے۔ اور اس گرفت کی وجہ سے ان کے گلے میں ایسا پھندہ لگتا ہے کہ تلملا تلملا کر کاغذ کو سیاہ کرتےرہتے ہیں ۔
ویسے میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ امام اعظم جیسے فقیہہ کو جیل کیوں جانا پڑا تھا، امام احمد بن حنبل جیسے مجتہد کو کوڑے کیوں لگائے گئے تھے، امام بخاری جیسے محدث کو غریب الوطن کیوں ہونا پڑا تھا۔ وہ کون لو گ تھے جن کی سازش کی وجہ سے ایسے علمائے کرام بھی اپنے وقت میں مشکلیں برداشت کرتے رہے۔
تو آج کا زمانہ دیکھ کر اور ان فتنہ بازوں کوعلمائے حق کے پیچھے پڑا دیکھ کر او ر سازشیں کرتا دیکھ کر جواب مل جاتا ہے کہ ان کے آباء واجدا د ہی تھے وہ لوگ جو ہر زمانے میں علمائے حق کے پیچھے اسی طرح سازشیں کرتے اور بدزبانی کرتے پائے گئے ہیں۔اسی طرح لوگوں کو بھڑکاتے تھے۔اسی طرح علمائے کرام کے خلاف زہر اگلتے تھے جیسے آج یہ لوگ اگلتے ہیں۔
ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ کبھی کسی علمی گرفت کو پیش کرتے نہیں پائے گئے۔ کیوں کہ اوقات ہی نہیں ہے۔ اس لیے ذاتیات پر ہی طنز کرتے رہے ۔ اورنام کے ساتھ القابات تو دیکھو۔ نعیمی، مصباحی، ازہری، چشتی وغیرہ وغیرہ۔ لوگ پڑھ کر سوچیں بندہ علم والا ہوگا۔ مگر یہ تو ماہر ذاتیات نکلے۔(خیر)
سوم ربیع الاول:
اس مہینے میں مرچی لگتی ہے شرک کی تسبیح پڑھنے والوں کو۔
یعنی اولاد ابلیس کو۔
نہیں سمجھے؟؟؟
اففففف
وہابی، دیوبندی، اہل خبیث، نجدیوں کو بھئی۔
ان سارے اہل مرچ یعنی مرچی زدہ افراد کو اگر جلن ہوتی ہے تو ہم کیا کریں بھئ۔
اب ان کی وجہ سے ہم چرچا کرنا اور جشن منانا تو نہیں چھوڑیں گے ناں۔
بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ اور مرچی لگے۔ اس لیے اور شدت سے چرچا کرتے ہیں اور جشن مناتے ہیں۔
جلنے والوں جلو، جل جل کر مرو اور مر کر مٹی ہو جاؤ۔
مگر ہم تو حشر تک ایسے ہی دھومیں مچانے والے ہیں ۔
کیا خوب دعا کی اعلیٰ حضرت نے۔
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!!
کردو عدو کو تباہ، حاسدوں کو رو بہ راہ
اہل وِلا کا بھلا تم پہ کروڑوں درود
نوٹ :
بدتمیزی نہیں کرنا کوئی، خبردار !
(اہل مرچ کے مددگاروں کو کہا ہے)۔
ورنہ دفع کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاؤں گی۔
یہ تحریر ان اہل مرچ حضرات کو
پہنچا سکتاہے کوئی تو پہنچا دیں، شکریہ :
✍ : #عروہ_فاطمہ_قادریہ_رضویہ_غفرلها
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Jᴏɪɴ : @islaamic_Knowledge
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ڈهول تاشے سے محرم کو منانے والے
غم سے شہداء کی بڑی دهوم مچانے والے
ढोल ताशे से मुहर्रम को मनाने वाले
गम से शुहदा की बड़ी धूम मचाने वाले
تعزیہ اور سواری کے اٹهانے والے
باگھ اور شیر کو نچانے والے
ताज़िया और सवारी के उठाने वाले
बाघ और शेर को नचाने वाले
چاند جب ماہ محرم کا نظر آتا ہے
کیا تیرے جسم میں شیطان اتر آتا ہے
चाँद जब माहे मुहर्रम का नज़र आता है
क्या तेरे जिस्म में शैतान उतर आता है
غم جنهیں ہوتا ہے وہ ڈهول بجاتے ہیں کہیں
دوسروں کی طرح تہوار مناتے ہیں کہیں
गम जिन्हें होता हे वह ढोल बजाते हैं कहीं
दूसरो की तरह तहवार मनाते हैं कहीं
وہ خرافات کا بازار لگاتے ہیں کہیں
ڈهول باجے سے بهی میت کو اٹهاتے ہیں کہیں
वो खुराफात का बाजार लगाते हैं कहीं
ढोल बाजे से भी मय्यत को उठाते हैं कहीं
کیا شریعت میں تمهارے اسے غم کہتے ہیں
غم یہی ہے تو خوشی اور کسے کہتے ہیں
क्या शरीअत में तुम्हारी इसे गम कहते हैं
गम यही हे तो ख़ुशी और किसे कहते हैं
تعزیہ داری کو تیمور نے ایجاد کیا
لایا ایران سے اور ہند میں آباد کیا
ताज़िया दारी को तैमूर ने ईजाद किया
लाया ईरान से और हिन्द में आबाद किया
غم منانے کا عجب ڈهنگ یہ ایجار کیا
روح اسلام کو تیمور نے برباد کیا
गम मनाने का अजब ढंग ये ईजाद किया
रूह ए इस्लाम को तैमूर ने बर्बाद किया
فعل تیمور ہے یہ قول پیمبر تو نہیں
غم کا یہ رنگ شریعت کے برابر تو نہیں
फाल तैमूर हे यह कौल ए पयम्बर तो नहीं
गम का यह रंग शरीअत के बराबर तो नही
خوب ہے ابن علی سے یہ محبت تیری
ساری دنیا سے نرالی ہے عقیدت تیری
खूब हे इब्न ए अली से यह मुहब्बत तेरी
सारी दुन्या से निराली है अक़ीदत तेरी
تعزیہ اور سواری ہے عبادت تیری
عشق بازی کی محرم میں ہے عادت تیری
ताज़िया और सवारी हे इबादत तेरी
इश्क़ बाज़ी की मुहर्रम में हे आदत तेरी
غم تجهے ہے تو ذرا اتنا ہی کر کے بتلا
ڈهول تاشے سے ذرا باپ کی میت کو اٹها
गम तुझे है तो ज़रा इतना ही कर के बतला
ढोल ताशे से ज़रा बाप की मय्यत को उठा!
غم سے شہداء کی بڑی دهوم مچانے والے
ढोल ताशे से मुहर्रम को मनाने वाले
गम से शुहदा की बड़ी धूम मचाने वाले
تعزیہ اور سواری کے اٹهانے والے
باگھ اور شیر کو نچانے والے
ताज़िया और सवारी के उठाने वाले
बाघ और शेर को नचाने वाले
چاند جب ماہ محرم کا نظر آتا ہے
کیا تیرے جسم میں شیطان اتر آتا ہے
चाँद जब माहे मुहर्रम का नज़र आता है
क्या तेरे जिस्म में शैतान उतर आता है
غم جنهیں ہوتا ہے وہ ڈهول بجاتے ہیں کہیں
دوسروں کی طرح تہوار مناتے ہیں کہیں
गम जिन्हें होता हे वह ढोल बजाते हैं कहीं
दूसरो की तरह तहवार मनाते हैं कहीं
وہ خرافات کا بازار لگاتے ہیں کہیں
ڈهول باجے سے بهی میت کو اٹهاتے ہیں کہیں
वो खुराफात का बाजार लगाते हैं कहीं
ढोल बाजे से भी मय्यत को उठाते हैं कहीं
کیا شریعت میں تمهارے اسے غم کہتے ہیں
غم یہی ہے تو خوشی اور کسے کہتے ہیں
क्या शरीअत में तुम्हारी इसे गम कहते हैं
गम यही हे तो ख़ुशी और किसे कहते हैं
تعزیہ داری کو تیمور نے ایجاد کیا
لایا ایران سے اور ہند میں آباد کیا
ताज़िया दारी को तैमूर ने ईजाद किया
लाया ईरान से और हिन्द में आबाद किया
غم منانے کا عجب ڈهنگ یہ ایجار کیا
روح اسلام کو تیمور نے برباد کیا
गम मनाने का अजब ढंग ये ईजाद किया
रूह ए इस्लाम को तैमूर ने बर्बाद किया
فعل تیمور ہے یہ قول پیمبر تو نہیں
غم کا یہ رنگ شریعت کے برابر تو نہیں
फाल तैमूर हे यह कौल ए पयम्बर तो नहीं
गम का यह रंग शरीअत के बराबर तो नही
خوب ہے ابن علی سے یہ محبت تیری
ساری دنیا سے نرالی ہے عقیدت تیری
खूब हे इब्न ए अली से यह मुहब्बत तेरी
सारी दुन्या से निराली है अक़ीदत तेरी
تعزیہ اور سواری ہے عبادت تیری
عشق بازی کی محرم میں ہے عادت تیری
ताज़िया और सवारी हे इबादत तेरी
इश्क़ बाज़ी की मुहर्रम में हे आदत तेरी
غم تجهے ہے تو ذرا اتنا ہی کر کے بتلا
ڈهول تاشے سے ذرا باپ کی میت کو اٹها
गम तुझे है तो ज़रा इतना ही कर के बतला
ढोल ताशे से ज़रा बाप की मय्यत को उठा!
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات*
-----------قسط اول--------
*حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی*
📞+918485880123
------------------------------------
عزیزان ملت ماہ محرم الحرام عنقریب آنے والا یے جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اس مہینہ سے بہت سی اسلامی یادیں وابستہ ہیں
اس کی بھی ہر تاریخ میں کوئی نہ کوئی موتی ضرور موجود یے اس ماہ مقدس میں سید الشہداء سید شباب اھل الجنۃ نواسہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی یاد تمامی اہلسنت نہ صرف مناتے ہیں بلکہ آپ کے پیغامات و مشن پر زندگی گزارنے کا عزم بھی کرتے ہیں
جہاں اس ماہ میں بہت سی نیکیاں کی جاتی ہیں وہیں من گھڑت کتاب و واقعات بھی خوب پھیلائی جاتی ہیں
*کتاب نمبر 1*
شہید ابن شہید مصنف صائم چشتی فیصل آبادی
قارئین کرام :: محرم الحرام آتے ہی اس کتاب کی ضرورت خطبا و طلبا محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس میں لفاظی بہت ہے
خیال رہے مصنف اہل سنت سے نہیں تھے بلکہ یہ پکا تفضیلی تھے ان کی دیگر کتابیں بھی گستاخ صحابہ سے بھری ہیں موصوف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں اسی طرح مولا علی رضی اللہ کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں اسی طرح ان کے درجنوں معاملات ہیں لہذا موصوف کی تمام کتابوں سے احتراز کریں
*ابھی جاری ہے*
-------9/09/2017------------
〰〰〰〰〰〰〰〰〰
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات حاصل کرنے کے لیے ٹیلی گرام پر اس چینل کو جوائن کرئے⬇️
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اور اس بلاگ کو ضرور وژٹ کرئے⬇️
https://tahreek-e-islaheaqaid.blogspot.in/?m=0
-----------قسط اول--------
*حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی*
📞+918485880123
------------------------------------
عزیزان ملت ماہ محرم الحرام عنقریب آنے والا یے جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اس مہینہ سے بہت سی اسلامی یادیں وابستہ ہیں
اس کی بھی ہر تاریخ میں کوئی نہ کوئی موتی ضرور موجود یے اس ماہ مقدس میں سید الشہداء سید شباب اھل الجنۃ نواسہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی یاد تمامی اہلسنت نہ صرف مناتے ہیں بلکہ آپ کے پیغامات و مشن پر زندگی گزارنے کا عزم بھی کرتے ہیں
جہاں اس ماہ میں بہت سی نیکیاں کی جاتی ہیں وہیں من گھڑت کتاب و واقعات بھی خوب پھیلائی جاتی ہیں
*کتاب نمبر 1*
شہید ابن شہید مصنف صائم چشتی فیصل آبادی
قارئین کرام :: محرم الحرام آتے ہی اس کتاب کی ضرورت خطبا و طلبا محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس میں لفاظی بہت ہے
خیال رہے مصنف اہل سنت سے نہیں تھے بلکہ یہ پکا تفضیلی تھے ان کی دیگر کتابیں بھی گستاخ صحابہ سے بھری ہیں موصوف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کرتے ہیں اسی طرح مولا علی رضی اللہ کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں اسی طرح ان کے درجنوں معاملات ہیں لہذا موصوف کی تمام کتابوں سے احتراز کریں
*ابھی جاری ہے*
-------9/09/2017------------
〰〰〰〰〰〰〰〰〰
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات حاصل کرنے کے لیے ٹیلی گرام پر اس چینل کو جوائن کرئے⬇️
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اور اس بلاگ کو ضرور وژٹ کرئے⬇️
https://tahreek-e-islaheaqaid.blogspot.in/?m=0
Telegram
چینل تحریک اصلاح عقائد
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات*
-------قسط دوم------------
📝 *حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی*
+918485880123
--------------------------------------
قارئین کرام '' سید الشہداء امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ کہ انہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کاندھوں پہ بٹھایا ہے
مگر مقررین آپ کی ذات پاک سے بہت سے واقعات منسوب کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ بعض وضع جہال و روافض ہیں
*من گھڑت واقعہ*
ایک صاحب بیان کر رہے تھے کہ
ایک بار امام حسن مجتبی اور امام عالی مقام گیند کھیل رہے تھے کہ آپ کا گیند مسجد نبوی کے ایک طاق پر چلا گیا چونکہ یہ صاحبزادے ابھی چھوٹے تھے اس لیے اسے اتارنے کے لیے رحل کو ہاتھ میں لیا اور قرآن پر اپنا پیر رکھا اور گیند اتار لیا
ایک صحابی نے بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم میں شکایت کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم امام حسین رضی اللہ عنہ نے آج قرآن پر اپنا پیر رکھا یے
رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے حسنین کریمین کو بلایا اور فرمایا میرے حسین نے قرآن پر اپنا پیر رکھا تو کیا برا کیا
حسین تو سراپا قرآن ہیں سر سے پیر تک قرآن ہیں ایک صاحب نے بیان کیا کہ حضور کپڑا حسنین کا اتروایا تو صحابی دیکھ کر حیران ہو گیے کہ پورے بدن پر قرآن لکھا ہوا یے
معاذ اللہ صد بار معاذ اللہ
نقل کفر کفر نہ باشد
اس من گھڑت اور باطل واقعہ میں ایک نہیں کئی ایک جھوٹ بولا گیا
نمبر 1 حسنین کریمین نے گیند کھیلا
نمبر 2 ' معاذ اللہ علیہ حسنین نے قرآن پر اپنا پیر رکھا
نمبر 3'' صحابی نے بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم میں شکایت کی
نمبر4'' سرکار نے فرمایا کہ' ' یہ تو سراپا قرآن ہیں
*یہ ایسے بڑے جھوٹ ہیں کو روز روشن کی طرح عیاں ہیں*
اس کے قائل پر توبہ اور تجدید ایمان ہے حکم یے
📚فتاوی شارح بخاری
*ابھی جاری ہے*
---------------9/9/2017-----------
〰〰〰〰〰〰〰〰〰
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات حاصل کرنے کے لیے ٹیلی گرام پر اس چینل کو جوائن کرئے⬇️
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اور اس بلاگ کو ضرور وژٹ کرئے⬇️
https://tahreek-e-islaheaqaid.blogspot.in/?m=0
-------قسط دوم------------
📝 *حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی*
+918485880123
--------------------------------------
قارئین کرام '' سید الشہداء امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ کہ انہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کاندھوں پہ بٹھایا ہے
مگر مقررین آپ کی ذات پاک سے بہت سے واقعات منسوب کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ بعض وضع جہال و روافض ہیں
*من گھڑت واقعہ*
ایک صاحب بیان کر رہے تھے کہ
ایک بار امام حسن مجتبی اور امام عالی مقام گیند کھیل رہے تھے کہ آپ کا گیند مسجد نبوی کے ایک طاق پر چلا گیا چونکہ یہ صاحبزادے ابھی چھوٹے تھے اس لیے اسے اتارنے کے لیے رحل کو ہاتھ میں لیا اور قرآن پر اپنا پیر رکھا اور گیند اتار لیا
ایک صحابی نے بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم میں شکایت کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم امام حسین رضی اللہ عنہ نے آج قرآن پر اپنا پیر رکھا یے
رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے حسنین کریمین کو بلایا اور فرمایا میرے حسین نے قرآن پر اپنا پیر رکھا تو کیا برا کیا
حسین تو سراپا قرآن ہیں سر سے پیر تک قرآن ہیں ایک صاحب نے بیان کیا کہ حضور کپڑا حسنین کا اتروایا تو صحابی دیکھ کر حیران ہو گیے کہ پورے بدن پر قرآن لکھا ہوا یے
معاذ اللہ صد بار معاذ اللہ
نقل کفر کفر نہ باشد
اس من گھڑت اور باطل واقعہ میں ایک نہیں کئی ایک جھوٹ بولا گیا
نمبر 1 حسنین کریمین نے گیند کھیلا
نمبر 2 ' معاذ اللہ علیہ حسنین نے قرآن پر اپنا پیر رکھا
نمبر 3'' صحابی نے بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم میں شکایت کی
نمبر4'' سرکار نے فرمایا کہ' ' یہ تو سراپا قرآن ہیں
*یہ ایسے بڑے جھوٹ ہیں کو روز روشن کی طرح عیاں ہیں*
اس کے قائل پر توبہ اور تجدید ایمان ہے حکم یے
📚فتاوی شارح بخاری
*ابھی جاری ہے*
---------------9/9/2017-----------
〰〰〰〰〰〰〰〰〰
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات حاصل کرنے کے لیے ٹیلی گرام پر اس چینل کو جوائن کرئے⬇️
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اور اس بلاگ کو ضرور وژٹ کرئے⬇️
https://tahreek-e-islaheaqaid.blogspot.in/?m=0
Telegram
چینل تحریک اصلاح عقائد
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات*
------------قسط سوم-----------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی
+918485880123
----------------------------
*یہ تاریخی جھوٹ ہے*
ایک مقرر صاحب اپنے پر جوش خطاب میں یزید لعنتی کی مذمت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ
ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو اپنے کاندھے پہ بٹھا کر کہیں لے جا رہے تھے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھ کر ارشاد فرمایا یہ دیکھو جنتی باپ کے پشت پر(کاندھے) پر جہنمی بیٹا ہے
جبکہ ایسا جھوٹ ہے کہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا وصال مبارک 11 ھ میں ہوا
اور یزید کی پیدائش 25ھ ہجری میں ہوئی
اب یہ کیسے ممکن یے کہ ایسا واقعہ ہو؟
لہذا مقررین و واعظین خدارا قوم کو جہل کے غار عمیق میں ڈالنے کے بجائے علم و عمل کی بات کریں کسی کو رونے اور رلانے کے لیے حق بات ہی کافی یے
*ابھی جاری ہے*
-------------10/9/2017--------
جوائن صدائے حق
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
------------قسط سوم-----------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی
+918485880123
----------------------------
*یہ تاریخی جھوٹ ہے*
ایک مقرر صاحب اپنے پر جوش خطاب میں یزید لعنتی کی مذمت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ
ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو اپنے کاندھے پہ بٹھا کر کہیں لے جا رہے تھے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھ کر ارشاد فرمایا یہ دیکھو جنتی باپ کے پشت پر(کاندھے) پر جہنمی بیٹا ہے
جبکہ ایسا جھوٹ ہے کہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا وصال مبارک 11 ھ میں ہوا
اور یزید کی پیدائش 25ھ ہجری میں ہوئی
اب یہ کیسے ممکن یے کہ ایسا واقعہ ہو؟
لہذا مقررین و واعظین خدارا قوم کو جہل کے غار عمیق میں ڈالنے کے بجائے علم و عمل کی بات کریں کسی کو رونے اور رلانے کے لیے حق بات ہی کافی یے
*ابھی جاری ہے*
-------------10/9/2017--------
جوائن صدائے حق
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
Telegram
چینل صدائے حق
اسلام نے خواتین کو جو عزت دی ہے وہ آج تک کوئی قوم نہ کوئی مذہب دے سکا
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*محرم الحرام اور غیر شرعی رسومات*
فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں
------قسط چہارم - - - - - - - -
*تعزیہ داروں کا تعزیہ داری پر دلیل اور امام اہلسنت کا جواب*
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بنا برشوکت ودبدبہ اسلام تعزیہ بنانا اور نکالنا وعَلَم وبیرق اور مہندی وغیرہ نکالنا جائزہے یانہیں؟
امام اہلسنت فرماتے ہیں کہ
الجواب : *عَلَم، تعزیہ، بیرق، مہندی جس طرح رائج ہیں بدعت ہیں اور بدعت سے شوکت اسلام نہیں ہوتی*
*کیا ایسا ہوتا ہے؟*
نیز تعزیہ کوحاجت رونا سمجھنا یایہ کہنا کہ تعزیہ ہماری منت کاہے اگربندکریں نہ بنائیں توہمارا نقصان اولادومال ہوگا، کیسا ہے؟
*امام اہلسنت کا جواب ملاحظہ فرمائیں*
تعزیہ کو حاجت روا یعنی ذریعہ حاجت رواسمجھنا جہالت پرجہالت ہے اور اسے منت جاننا اور حماقت، اور نہ کرنے کو باعث نقصان خیال کرنا زنانہ وہم ہے مسلمان کو ایسی حرکات وخیال سے باز آناچاہئے
*تیسرا سوال*
_تعزیہ دار یا تعزیہ پرست کے ہاتھ کاذبیحہ کھانا درست ہے یانہیں؟_
*اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ*
بایں ہمہ تعزیہ دار مسلمان ہے اور اس کے ہاتھ کاذبیحہ ضرورحلال ہے کوئی جاہل ساجاہل مسلمان بھی تعزیہ کو معبود نہیں جانتا، تعزیہ پرست کالفظ وہابیہ شرک پرست کی زیادتی ہے جس طرح تعظیم وتکریم مزارات طیبہ پرمسلمانوں کوقبرپرست کالقب دیتے ہیں، یہ سب اُن کاجہل وظلم ہے۔ وﷲ تعالٰی اعلم
📚 فتاوی رضویہ شریف
*ابھی جاری ھے*
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
-------25/09/2017----------
〰〰〰〰〰〰〰〰〰
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات حاصل کرنے کے لیے ٹیلی گرام پر اس چینل کو جوائن کرئے⬇️
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اور اس بلاگ کو ضرور وژٹ کرئے⬇️
https://tahreek-e-islaheaqaid.blogspot.in/?m=0
فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں
------قسط چہارم - - - - - - - -
*تعزیہ داروں کا تعزیہ داری پر دلیل اور امام اہلسنت کا جواب*
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بنا برشوکت ودبدبہ اسلام تعزیہ بنانا اور نکالنا وعَلَم وبیرق اور مہندی وغیرہ نکالنا جائزہے یانہیں؟
امام اہلسنت فرماتے ہیں کہ
الجواب : *عَلَم، تعزیہ، بیرق، مہندی جس طرح رائج ہیں بدعت ہیں اور بدعت سے شوکت اسلام نہیں ہوتی*
*کیا ایسا ہوتا ہے؟*
نیز تعزیہ کوحاجت رونا سمجھنا یایہ کہنا کہ تعزیہ ہماری منت کاہے اگربندکریں نہ بنائیں توہمارا نقصان اولادومال ہوگا، کیسا ہے؟
*امام اہلسنت کا جواب ملاحظہ فرمائیں*
تعزیہ کو حاجت روا یعنی ذریعہ حاجت رواسمجھنا جہالت پرجہالت ہے اور اسے منت جاننا اور حماقت، اور نہ کرنے کو باعث نقصان خیال کرنا زنانہ وہم ہے مسلمان کو ایسی حرکات وخیال سے باز آناچاہئے
*تیسرا سوال*
_تعزیہ دار یا تعزیہ پرست کے ہاتھ کاذبیحہ کھانا درست ہے یانہیں؟_
*اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ*
بایں ہمہ تعزیہ دار مسلمان ہے اور اس کے ہاتھ کاذبیحہ ضرورحلال ہے کوئی جاہل ساجاہل مسلمان بھی تعزیہ کو معبود نہیں جانتا، تعزیہ پرست کالفظ وہابیہ شرک پرست کی زیادتی ہے جس طرح تعظیم وتکریم مزارات طیبہ پرمسلمانوں کوقبرپرست کالقب دیتے ہیں، یہ سب اُن کاجہل وظلم ہے۔ وﷲ تعالٰی اعلم
📚 فتاوی رضویہ شریف
*ابھی جاری ھے*
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
-------25/09/2017----------
〰〰〰〰〰〰〰〰〰
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات حاصل کرنے کے لیے ٹیلی گرام پر اس چینل کو جوائن کرئے⬇️
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اور اس بلاگ کو ضرور وژٹ کرئے⬇️
https://tahreek-e-islaheaqaid.blogspot.in/?m=0
Telegram
چینل تحریک اصلاح عقائد
باطل فرقوں اور بدمذہبوں کا رد اور ان کے اعتراضات کےمنہ توڑ جوابات
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
https://telegram.me/ISLAHEAQAAID
اس بوٹ کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 👇👇
@BarayeRaabtabot
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات*
-----قسط پنجم - - - - - - - -
📝حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
------------------------------------
قارئین کرام ': ایک مقرر صاحب اپنازور بیان دکھاتے ہوئے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ
شب عاشورہ میں سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کے تمام رفقاء قرآن عظیم کی تلاوت کرنے لگے میرے امام نے اپنی بچی سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا بیٹا تیمم کرلو پانی تو تھا نہیں اس لئے چھوٹی بچی نے تیمم کیا امام نے سیدہ سکینہ کو تعوذ پڑھایا اور رونے لگے بیٹی نے پوچھا ابو کیا معاملہ ہے آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا بیٹا قرآن تو میں نے شروع کروا دیا ہے اب ختم کون کرائے گا
یہ واقعہ دوسرے الفاظ کے ساتھ بھی بیان کیا جاتا ہے عبد الوحید ربانی پاکستانی نامی ایک مقرر نے اسے خوب بیان کیا ہے
*تحقیق یہ ہے کہ*
یہ واقعہ کسی بھی رو سے درست نہیں بلکہ من گھڑت ہے
سیدہ سکینہ کی عمر بعض کتب تاریخ میں اس وقت سات یا آٹھ سال بتائی جاتی ہے
قارئین جس گھر سے اسلام کی شمع پوری کائنات میں روشن ہوئی اس گھر کی سات یا آٹھ سال کی بچی کو قرآن پڑھتے نہیں آئے گا؟
2) مقرر کہتا ہے کہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تیمم کرنا پڑا کیا امام عالی مقام کو شرعی مسئلہ نہ معلوم تھا کہ نابالغ بچوں پر وضو کا حکم ہے یا نہیں؟
3) امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں فقط تعوذ تسمیہ ہی پڑھایا کہ رونے لگے اس بات سے بھی واضح ہے کہ فقط تعوذ و تسمیہ کے لیے بغیر چھوئے ہوئے وضو کا کہاں حکم یے؟
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے اس واقعہ بیان کرنے والے کو جعل ساز دجال قرار دیا یے
📚 فتاوی شارح بخاری دوم
---------16/09/2017-------------
-----قسط پنجم - - - - - - - -
📝حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
------------------------------------
قارئین کرام ': ایک مقرر صاحب اپنازور بیان دکھاتے ہوئے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ
شب عاشورہ میں سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کے تمام رفقاء قرآن عظیم کی تلاوت کرنے لگے میرے امام نے اپنی بچی سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا بیٹا تیمم کرلو پانی تو تھا نہیں اس لئے چھوٹی بچی نے تیمم کیا امام نے سیدہ سکینہ کو تعوذ پڑھایا اور رونے لگے بیٹی نے پوچھا ابو کیا معاملہ ہے آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا بیٹا قرآن تو میں نے شروع کروا دیا ہے اب ختم کون کرائے گا
یہ واقعہ دوسرے الفاظ کے ساتھ بھی بیان کیا جاتا ہے عبد الوحید ربانی پاکستانی نامی ایک مقرر نے اسے خوب بیان کیا ہے
*تحقیق یہ ہے کہ*
یہ واقعہ کسی بھی رو سے درست نہیں بلکہ من گھڑت ہے
سیدہ سکینہ کی عمر بعض کتب تاریخ میں اس وقت سات یا آٹھ سال بتائی جاتی ہے
قارئین جس گھر سے اسلام کی شمع پوری کائنات میں روشن ہوئی اس گھر کی سات یا آٹھ سال کی بچی کو قرآن پڑھتے نہیں آئے گا؟
2) مقرر کہتا ہے کہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تیمم کرنا پڑا کیا امام عالی مقام کو شرعی مسئلہ نہ معلوم تھا کہ نابالغ بچوں پر وضو کا حکم ہے یا نہیں؟
3) امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں فقط تعوذ تسمیہ ہی پڑھایا کہ رونے لگے اس بات سے بھی واضح ہے کہ فقط تعوذ و تسمیہ کے لیے بغیر چھوئے ہوئے وضو کا کہاں حکم یے؟
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے اس واقعہ بیان کرنے والے کو جعل ساز دجال قرار دیا یے
📚 فتاوی شارح بخاری دوم
---------16/09/2017-------------
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات*
-----قسط ششم-------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
---------------------------------
قارئین آپ نے سیدنا امام مسلم رضی اللہ عنہ کے پیارے بچے محمد و ابراہیم کے بارے میں اکثر تقاریر میں اور کچھ کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ وہ سیدنا امام مسلم کے ساتھ کوفہ تشریف لے گیے قاضی شریح کے یہاں تھے بعد شہادت امام مسلم ان بچوں کو قاضی شریح نے ایک قافلے کے ساتھ کر دیا مگر شومئی قسمت وہ بچے قافلے سے نہ مل سکے آخر کار بے پناہ مصائب برداشت کرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے کچھ لوگوں نے مشکور نامی داروغہ کے حوالے کیا اور پھر وہ محب اہلبیت تھا اس نے خاطر تواضع کرنے کے بعد ایک انگوٹھی بطور نشانی دے کر آگے بھیجا مگر حارث نامی شخص کے گھر آپ پہنچے ایک لمبی تفصیل پھر حارث نے ان دونوں بچوں بڑی بے دردی سے شہید کیا اور ان کی لاشوں کو نہر فرات میں پھینک دیا آل نبی اس پانی کو کیسے پیتے جس میں ان کے گھر کا خون شامل ہو
*مختصر یہ کہ یہ واقعہ انتہائی دردناک انداز میں چند کتابوں میں موجود بھی یے اور مقررین خوب بڑھا چڑھا کر رونے اور رلانے کے لیے بیان بھی کرتے ہیں*
*اس واقعہ کی حقیقت کیا یے؟*
1)تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں اس واقعہ کا نام و نشان نہیں
2) پہلے مورخین میں سب سے پہلے عاصم کوفی نے اس کا ذکر وہ بھی بغیر نام لیے کیا مگر شہادت کا اس میں بھی کوئی ذکر نہیں
3) شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد گرفتار شدہ اہلبیت میں امام مسلم کے صاحبزادے بھی تھے
4) روضۃ الشہداء ملا معین کاشفی اور اس کی اتباع میں حبیب السیر نے اس واقعہ کو لکھا
5) واقعہ شہادت کو صاحب روضۃ الشہداء نے پہلے لکھا مگر اس کا انداز نوحہ خوانی کا نہ تھا بعد میں حبیب السیر نامی کتاب میں اسے مزید افسانوی رنگ دیا گیا
6) امام مسلم رضی اللہ عنہ کی جو وصیتیں کتب تاریخ میں ملتی ہیں ان میں بھی اس واقعہ کا نام و نشان نہیں
ناسخ التاریخ '' الکامل فی التاریخ ''
البدایہ والنہایہ وغیرہ حتی کہ کتب شیعہ میں بھی اس کا پتہ نہیں
📚 ماخوذ '' میزان الکتب محقق اہلسنت علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ
-----17/09/2017--------------
-----قسط ششم-------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
---------------------------------
قارئین آپ نے سیدنا امام مسلم رضی اللہ عنہ کے پیارے بچے محمد و ابراہیم کے بارے میں اکثر تقاریر میں اور کچھ کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ وہ سیدنا امام مسلم کے ساتھ کوفہ تشریف لے گیے قاضی شریح کے یہاں تھے بعد شہادت امام مسلم ان بچوں کو قاضی شریح نے ایک قافلے کے ساتھ کر دیا مگر شومئی قسمت وہ بچے قافلے سے نہ مل سکے آخر کار بے پناہ مصائب برداشت کرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے کچھ لوگوں نے مشکور نامی داروغہ کے حوالے کیا اور پھر وہ محب اہلبیت تھا اس نے خاطر تواضع کرنے کے بعد ایک انگوٹھی بطور نشانی دے کر آگے بھیجا مگر حارث نامی شخص کے گھر آپ پہنچے ایک لمبی تفصیل پھر حارث نے ان دونوں بچوں بڑی بے دردی سے شہید کیا اور ان کی لاشوں کو نہر فرات میں پھینک دیا آل نبی اس پانی کو کیسے پیتے جس میں ان کے گھر کا خون شامل ہو
*مختصر یہ کہ یہ واقعہ انتہائی دردناک انداز میں چند کتابوں میں موجود بھی یے اور مقررین خوب بڑھا چڑھا کر رونے اور رلانے کے لیے بیان بھی کرتے ہیں*
*اس واقعہ کی حقیقت کیا یے؟*
1)تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں اس واقعہ کا نام و نشان نہیں
2) پہلے مورخین میں سب سے پہلے عاصم کوفی نے اس کا ذکر وہ بھی بغیر نام لیے کیا مگر شہادت کا اس میں بھی کوئی ذکر نہیں
3) شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد گرفتار شدہ اہلبیت میں امام مسلم کے صاحبزادے بھی تھے
4) روضۃ الشہداء ملا معین کاشفی اور اس کی اتباع میں حبیب السیر نے اس واقعہ کو لکھا
5) واقعہ شہادت کو صاحب روضۃ الشہداء نے پہلے لکھا مگر اس کا انداز نوحہ خوانی کا نہ تھا بعد میں حبیب السیر نامی کتاب میں اسے مزید افسانوی رنگ دیا گیا
6) امام مسلم رضی اللہ عنہ کی جو وصیتیں کتب تاریخ میں ملتی ہیں ان میں بھی اس واقعہ کا نام و نشان نہیں
ناسخ التاریخ '' الکامل فی التاریخ ''
البدایہ والنہایہ وغیرہ حتی کہ کتب شیعہ میں بھی اس کا پتہ نہیں
📚 ماخوذ '' میزان الکتب محقق اہلسنت علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ
-----17/09/2017--------------
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات*
---------قسط ہفتم---------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
---------------------------------
قارئین کرام'' اول تا ششم قسط انا ہی تھا کہ مخالفت شروع خیر ہمارے جن بھائیوں نے خیر خواہی کی بنا پر اعتراض کیا ان سے ہم بہت ہی خوش ہیں
یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ عوام الناس کو بعض علماء یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن کی طرح ہر کتاب خواہ تاریخ پر ہو یا فقہ پر اصول پر ہو یا فروع پر آنکھ بند نص سمجھتے ہوئے آمنا و صدقنا کہنا چاہیے
اگر کسی معتبر عالم دین کی کسی معتبر کتاب میں کوئی غیر معتبر بات موجود یے تو واعظین زور بیان صرف کرتے ہوئے اسے بھی معتبر قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے
*قارئین یہ اصول ذہن نشین رکھیں*
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مصنف تو معتبر ہوتا ہے مگر اس کی بعض تصانیف یا ہر بات معتبر نہیں ہوتیں
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
کسی فن میں اس کی ہر بات معتبر ہوتی یے مگر اس کا مصنف معتبر نہیں ہوتا
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
مصنف بھی معتبر کتاب بھی معتبر مگر اس میں موجود بعض باتیں معتبر نہیں ہوتیں
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
کوئی عالم کسی فن معتبر مانا جاتا یے مگر دوسرے فن میں اس کی باتیں قبول نہیں کیں جاتیں
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
مصنف معتبر تصنیف معتبر مگر بسا اوقات مذکور معتبر نہیں ہوتا
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
بعض کہ باتیں قواعد میں معتبر مگر عقائد میں غیر معتبر ہوتیں ہیں
*کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ*
نہ مصنف معتبر نہ اس کی تصانیف معتبر مگر اس کی بعض باتیں معتبر ہوتیں ہیں
*ان سب پر دلائل ان شاء اللہ پیش کروں گا*
پیشہ ور مقررین و واعظین یا پھر من گھڑت بے اصل واقعات تراشنے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ اپنے بچاؤ کے لیے جن بے بنیاد باتوں کا سہارا لیتے ہیں ان شاء اللہ اس کا رد بلیغ کیا جائے گا
حسن نوری گونڈوی
-------------18/9/2017----------
---------قسط ہفتم---------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
---------------------------------
قارئین کرام'' اول تا ششم قسط انا ہی تھا کہ مخالفت شروع خیر ہمارے جن بھائیوں نے خیر خواہی کی بنا پر اعتراض کیا ان سے ہم بہت ہی خوش ہیں
یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ عوام الناس کو بعض علماء یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن کی طرح ہر کتاب خواہ تاریخ پر ہو یا فقہ پر اصول پر ہو یا فروع پر آنکھ بند نص سمجھتے ہوئے آمنا و صدقنا کہنا چاہیے
اگر کسی معتبر عالم دین کی کسی معتبر کتاب میں کوئی غیر معتبر بات موجود یے تو واعظین زور بیان صرف کرتے ہوئے اسے بھی معتبر قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے
*قارئین یہ اصول ذہن نشین رکھیں*
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مصنف تو معتبر ہوتا ہے مگر اس کی بعض تصانیف یا ہر بات معتبر نہیں ہوتیں
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
کسی فن میں اس کی ہر بات معتبر ہوتی یے مگر اس کا مصنف معتبر نہیں ہوتا
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
مصنف بھی معتبر کتاب بھی معتبر مگر اس میں موجود بعض باتیں معتبر نہیں ہوتیں
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
کوئی عالم کسی فن معتبر مانا جاتا یے مگر دوسرے فن میں اس کی باتیں قبول نہیں کیں جاتیں
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
مصنف معتبر تصنیف معتبر مگر بسا اوقات مذکور معتبر نہیں ہوتا
*کبھی ایسا ہوتا ہے کہ*
بعض کہ باتیں قواعد میں معتبر مگر عقائد میں غیر معتبر ہوتیں ہیں
*کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ*
نہ مصنف معتبر نہ اس کی تصانیف معتبر مگر اس کی بعض باتیں معتبر ہوتیں ہیں
*ان سب پر دلائل ان شاء اللہ پیش کروں گا*
پیشہ ور مقررین و واعظین یا پھر من گھڑت بے اصل واقعات تراشنے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ اپنے بچاؤ کے لیے جن بے بنیاد باتوں کا سہارا لیتے ہیں ان شاء اللہ اس کا رد بلیغ کیا جائے گا
حسن نوری گونڈوی
-------------18/9/2017----------
❤2