🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_خدیجۃ_الکبری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهَا ❼
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_خدیجۃ_الکبری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡهَا❽
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
فضائل و مناقب ام المومنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/327416069494439/
محترم قارئینِ کرام : ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں ۔ انہیں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی پہلی زوجہ محترمہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ ان کے والد کا نام خویلد بن اسد تھا جوکہ قریش کے بہت مالدار سردار تھے ۔ ان کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی ۔ انہوں نے اپنا کاروبار تجارت اور مال اپنی وفات سے پہلے اپنی اس ذہین اور معاملہ فہم بیٹی کے سپرد کردیا تھا ۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے گھر بیٹھے اپنی ذہانت و قابلیت اور معاملہ فہمی کی بدولت اپنی تجارت کو چار چاند لگا دیئے ۔ کبھی کبھار وہ قسمت و مقدر کے بارے میں سوچا کرتیں کہ پتا نہیں اللہ کو کیا منظور ہے ۔ ایک طرف اللہ نے انہیں بھائیوں سے محروم کردیا تو دوسری طرف انہیں ازدواجی زندگی میں پے در پے صدمات برداشت کرنا پڑے ۔ ان کے پہلے خاوند ابو ہالہ بن زرارہ تھے جو شادی کے کچھ ہی عرصے بعد فوت ہوگئے ۔ ان سے ان کے دو بیٹے تھے ۔ ان کی دوسری شادی بنو مخزوم کے بہت خوش خلق نوجوان عتیق بن عابد سے ہوئی لیکن وہ بھی نہایت مختصر عرصے بعد داغ مفارقت دے گئے ۔ ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جو صحابیہ بھی ہیں اور ان کانام ہند رضی اللہ عنہا بیان کیا گیا ہے ۔

نسب شریف

ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ خویلد بن اسدبن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔ آپ کا نسب حضور پر نور شافعِ یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے نسب شریف سے قصی میں مل جاتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام ہند ہے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن العصم قبیلہ بنی عامر بن لوی سے تھیں ۔ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم در ذکر ازواج مطہرات وی، ج۲،ص۴۶۴،چشتی)

نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو اللہ تعالیٰ نے کل سات بچے عطا فرمائے تھے ۔ ان میں حضرت سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے ۔ باقی سب بچے حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے ۔ یہ بھی کمال ہے کہ اللہ کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو بیٹے اور چار بیٹیاں اس عظیم خاتون سے مرحمت ہوئیں لیکن دونوں بیٹے قاسم اور عبداللہ بچپن ہی میں اللہ نے واپس لے لئے جبکہ بیٹیاں حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہن جوانی کی عمر کو پہنچیں ۔

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : خير نسائها خديجة بنت خويلد و خير نسائها مريم بنت عمران ۔
ترجمہ : (اپنے زمانہ کی عورتوں میں) سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد ہیں ، اور (اپنے زمانہ کی عورتوں میں) سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں ۔ (ترمذی، الجامع الصحيح ، 5: 702،رقم: 3877،چشتی)

اسی طرح ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے جتنا رشک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر ہوا اتنا نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی کسی دوسری زوجہ پر نہیں ہوا ۔ حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں پایا ۔ اس رشک کی وجہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا انہیں کثرت سے یاد کرنا ہے ۔ اگر نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم بکری ذبح کرتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر گوشت کا ہدیہ بھیجتے ۔ (ترمذی الجامع الصحیح، رقم الحدیث:3876)

نکاح کے بعد پچیس برس نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے نکاح میں رہیں اور نبوت کے دسویں سال پینسٹھ برس کی عمر میں انتقال فرمایا ۔ ان کے انتقال پر نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے خود قبر مبارک میں اتر کر ان کو دفن فرمایا تھا۔

حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوطالب کا انتقال ہوگیا تو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے باہر جانا بہت کم کردیا اور گھر میں ہی قیام فرمارہے تھے ۔ ادھر قریش کو ایذا رسانی کا وہ موقعہ ہاتھ آگیا جو انہیں کبھی میسر نہیں ہوا تھا اور نہ ہی وہ اس کی امید کرسکتے تھے ۔ (الوفاء، امام عبدالرحمن ابن جوزی، ص258)

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بارگاہِ رسالت میں جبرائیل علیہ السلام نے حاضرہوکرعرض کیا: اے اللہ عزوجل کے رسول! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ کے پاس حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دستر خوان لارہی ہیں جس میں کھانا پانی ہے جب وہ لائیں ان سے ان کے رب کا سلام فرمانا ۔ (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل خدیجۃ ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنھا الحدیث ۲۴۳۲،ص۱۳۲۲)
2👍1