Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-09-1443 ᴴ | 10-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-09-1443 ᴴ | 10-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی شاہ رکن عالم ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
نام: رکن الدین ۔
کنیت: ابوالفتح ۔
لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
ابوالفتح شیخ رکن الدین ، بن عارفِ کامل شیخ صدرالدین عارف، بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک 9 / رمضان المبارک 649ھ ، بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لےکر تکمیل تک ، اور پھر تعلیم کے ساتھ تربیت ، آپکے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) کی زیرِ نگرانی ہوئی۔
بیعت وخلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِنا متناہی ، ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ،لولوئے دریائے غیب ، زبدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین، سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابوالفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔
"خاندانِ غوثیہ" کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور اس نو مولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربا اور مساکین کے دامن زر و جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں ، اور روزانہ قرآن ِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں ، اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے۔ رات کو بی بی صاحبہ جب تہجد کے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے۔ جب قطب الاقطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلےجو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ "اللہ جل جلالہ" کا اسم گرامی تھا۔ سات سال کی عمر سے نماز اور روزہ کے پابند ہو گئے تھے۔ رمضان کے علاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے۔ ذکر خفی و جلی و مراقبہ محاسبہ آپ کے معمولات میں سے تھے۔ریاضت، عبادت اور مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔ کشف ِقلوب، طے ارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمر سے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتا خالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتے تھے۔ اس واسطے لوگوں میں آپ "قبلۂ حاجات" مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے۔ علم ، تواضع ، شفقت ، حلم و عفو، حیاء و وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، بردباری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ آپ نے مکاشفہ ومحاسبہ میں اتنے مدارج طے کر لیئے تھے کہ آپ کو " ابوالفتح " کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ علماء، فضلاء اور درویشوں کا بہت خیال کرتےتھے۔ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تھے۔ کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں بیٹھتے تو آپ کے دونوں ہاتھ اکثر باہر نکلے ہوئے ہوتے، اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائے اور میں بھی بخشا جاؤں۔
وصال:
16 / رجب المرجب 735ھ ، بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار شریف:
مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
نام ونسب:
نام: رکن الدین ۔
کنیت: ابوالفتح ۔
لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
ابوالفتح شیخ رکن الدین ، بن عارفِ کامل شیخ صدرالدین عارف، بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک 9 / رمضان المبارک 649ھ ، بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لےکر تکمیل تک ، اور پھر تعلیم کے ساتھ تربیت ، آپکے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) کی زیرِ نگرانی ہوئی۔
بیعت وخلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِنا متناہی ، ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ،لولوئے دریائے غیب ، زبدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین، سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابوالفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔
"خاندانِ غوثیہ" کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور اس نو مولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربا اور مساکین کے دامن زر و جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں ، اور روزانہ قرآن ِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں ، اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے۔ رات کو بی بی صاحبہ جب تہجد کے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے۔ جب قطب الاقطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلےجو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ "اللہ جل جلالہ" کا اسم گرامی تھا۔ سات سال کی عمر سے نماز اور روزہ کے پابند ہو گئے تھے۔ رمضان کے علاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے۔ ذکر خفی و جلی و مراقبہ محاسبہ آپ کے معمولات میں سے تھے۔ریاضت، عبادت اور مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔ کشف ِقلوب، طے ارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمر سے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتا خالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتے تھے۔ اس واسطے لوگوں میں آپ "قبلۂ حاجات" مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے۔ علم ، تواضع ، شفقت ، حلم و عفو، حیاء و وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، بردباری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ آپ نے مکاشفہ ومحاسبہ میں اتنے مدارج طے کر لیئے تھے کہ آپ کو " ابوالفتح " کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ علماء، فضلاء اور درویشوں کا بہت خیال کرتےتھے۔ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تھے۔ کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں بیٹھتے تو آپ کے دونوں ہاتھ اکثر باہر نکلے ہوئے ہوتے، اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائے اور میں بھی بخشا جاؤں۔
وصال:
16 / رجب المرجب 735ھ ، بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار شریف:
مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯قاضی حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* محمد۔
*لقب:* قاضی حمید الدین۔
اسی لقب سے مشہور ہوئے۔
*والد کا اسم گرامی:* عطاءاللہ محمود۔
بخاراکے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ سلطان معزالدین کے زمانے میں بخارا سے دہلی آئے۔
(علیہما الرحمہ)
*تاریخِ ولادت:* آٖپ کی ولادت باسعادت 463ھ/مطابق 1071ء کو "بخارا" (ازبکستان) میں ہوئی۔ اپنے والد کے ہمراہ دہلی تشریف لائے۔
*تحصیلِ علم:* آپ نے بخارا ، بغداد، اور مدینہ منورہ کے علماء و مشائخِ سے علوم حاصل کیے۔ آپ تمام علوم کے جامع تھے۔بالخصوص فقہ میں درجہ اجتہاد پر فائز تھے۔ جب ہندوستان تشریف لائے تو آپ تبحرِ علمی کی وجہ سے "ناگُور" کے قاضی مقرر کیے گئے۔
*بیعت و خلافت:* آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں حضرت شیخ الشیوخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے، اور انہوں نے خلافت سے بھی نوازا تھا۔ اس لئے سماع کا ذوق تھا۔
*سیرت و خصائص:* مقرب احدیت، مقدس صمدیت ، قطبِ زمانہ، شیخ ِیگانہ، حضرت خواجہ قاضی حمید الدین ناگوری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کا شمار ہندوستان کے مقتدر مشائخِ کرام میں ہوتا ہے۔ علوم ظاہری و باطنی میں مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپ اگر چہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمۃ کے ساتھی تھے۔ مگر نسبت کے لحاظ سے آپ خاندان سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور بعض مورخین کہتے ہیں کہ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوبات میں اس بارے میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں قاضی حمید الدین ناگوری بھی میرے خلیفہ مجاز ہیں۔ آپ ریاضت و مجاہدہ میں بے مثال تھے۔ آپ صاحبِ جمال و کمال و صاحب کرامت بزرگ تھے آپ کو سماع سے بہت دلچسپی تھی آپ علوم شریعت و طریقت کے حقائق پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں ظرافت اور خوشی طبعی کا ذوق بھی تھا جس کی وجہ سے گاہے بگاہے اپنے مصاحبین سے خوش طبعی کیا کرتے تھے۔
*آپ کے خط پر خواجہ گنج شکر کا وجد:*
ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے سماع سننے کی خواہش ظاہر کی تاکہ کوئی قوالی یا نعت سنیں،لیکن اتفاق سے اس وقت کوئی نعت خواں اور قوال نہ ملا تو حضرت نے شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے جو میری طرف خط لکھا وہ اٹھا لاؤ۔
چنانچہ حضرت بدر الدین اسحاق اس جگہ سے اٹھے ایک حجرے میں گئے۔ اور وہ بیگ اٹھا کر بابا صاحب کے پاس لے آئے جس میں بہت سے خطوط تھے۔ اور حضرت کے سامنے رکھ کر اس میں ہاتھ ڈالا۔ تو سب سے اولاً ان کے ہاتھ میں قاضی حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ کا خط آیا۔ چنانچہ حضرت بدر الدین علیہ الرحمۃ نے وہ خط بابا صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں پیش کردیا۔حضرت صاحب علیہ الرحمۃ نے حضرت شیخ بدرالدین سے فرمایا کہ اسے کھڑے ہوکر پڑھو چنانچہ شیخ بدر الدین اسحاق علیہ الرحمۃ نے کھڑے ہو کر وہ خط پڑھنا شروع کردیا اس میں یہ لکھا تھا کہ "فقیر و حقیر کمزور و ناتواں محمد بن عطاء درویشوں کا خادم و غلام ہے،اور ان کی قدموں کی خاک کو اپنے سر اور آنکھوں پر بطور تبرک ملتا ہے"۔
حضرت شیخ بدر الدین نے ابھی خط کا اتنا ہی مضمون پڑھا تھا۔کہ شیخ فرید الدین علیہ الرحمۃ پر حال و جد کیفیت طاری ہوگئی۔ پھر خط کی یہ رباعی بھی پڑھی گئی۔
آں عقل کجا کہ درکمال تو رَسد
آں روح کجا کہ درجلال تورسد
گیرم کہ تو پردہ برگرفتی زجمال
آں دیدۂ کجاکہ درجمال تورسد
*ترجمہ:* میں وہ عقل کہاں سے لاؤں جو تیرے کمال کی گہرائیوں تک پہنچ سکے اور وہ روح کہاں سے لاؤں جو تیرے جلال کی کہنہ اور حقیقت کو پاسکے۔ میں خوب سمجھتا ہوں۔کہ تو نے اپنے جمال سے پردہ اٹھالیاہے۔ لیکن وہ آنکھیں کہاں سے لاؤں جو تیرے جمال کو دیکھ سکیں۔
ایک دن قاضی حمید الدین کعبے کا طواف کر رہے تھے انہوں نے ایک بزرگ کو دیکھا کہ وہ بھی طواف کر رہے ہیں۔ آپ اُن کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنے لگے، اس بزرگ نے منہ پھیر کر کہا، حمیدالدین ظاہری اتباع تو بڑی آسان بات ہے لیکن باطنی اتباع بڑی مشکل ہے۔ عرض کی حضور باطنی اتباع بھی ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا کہ میں طواف کرتے ہوئے ہر قدم پر قرآن پاک ختم کرتا ہوں،اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو ایسا کرو۔ حضرت قاضی دل میں بڑے حیران ہوئے۔ پھر انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ بزرگ قرآن کے معنی دل میں لاتے ہیں اور اُس کو ختمِ قرآن کا نام دیتے ہیں۔ اُس بزرگ نے آپ کے دل کی اس بات کو پالیا اور فرمایا نہیں نہیں میں حرفاً حرفاً اور لفظاً لفظاً اعراب کی درستگی کے ساتھ اول سے آخر تک (بطورِ کرامت)قرآن پڑھتا ہوں۔
-----------------------------------------------------------
*🕯قاضی حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* محمد۔
*لقب:* قاضی حمید الدین۔
اسی لقب سے مشہور ہوئے۔
*والد کا اسم گرامی:* عطاءاللہ محمود۔
بخاراکے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ سلطان معزالدین کے زمانے میں بخارا سے دہلی آئے۔
(علیہما الرحمہ)
*تاریخِ ولادت:* آٖپ کی ولادت باسعادت 463ھ/مطابق 1071ء کو "بخارا" (ازبکستان) میں ہوئی۔ اپنے والد کے ہمراہ دہلی تشریف لائے۔
*تحصیلِ علم:* آپ نے بخارا ، بغداد، اور مدینہ منورہ کے علماء و مشائخِ سے علوم حاصل کیے۔ آپ تمام علوم کے جامع تھے۔بالخصوص فقہ میں درجہ اجتہاد پر فائز تھے۔ جب ہندوستان تشریف لائے تو آپ تبحرِ علمی کی وجہ سے "ناگُور" کے قاضی مقرر کیے گئے۔
*بیعت و خلافت:* آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں حضرت شیخ الشیوخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے، اور انہوں نے خلافت سے بھی نوازا تھا۔ اس لئے سماع کا ذوق تھا۔
*سیرت و خصائص:* مقرب احدیت، مقدس صمدیت ، قطبِ زمانہ، شیخ ِیگانہ، حضرت خواجہ قاضی حمید الدین ناگوری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کا شمار ہندوستان کے مقتدر مشائخِ کرام میں ہوتا ہے۔ علوم ظاہری و باطنی میں مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپ اگر چہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمۃ کے ساتھی تھے۔ مگر نسبت کے لحاظ سے آپ خاندان سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور بعض مورخین کہتے ہیں کہ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوبات میں اس بارے میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں قاضی حمید الدین ناگوری بھی میرے خلیفہ مجاز ہیں۔ آپ ریاضت و مجاہدہ میں بے مثال تھے۔ آپ صاحبِ جمال و کمال و صاحب کرامت بزرگ تھے آپ کو سماع سے بہت دلچسپی تھی آپ علوم شریعت و طریقت کے حقائق پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں ظرافت اور خوشی طبعی کا ذوق بھی تھا جس کی وجہ سے گاہے بگاہے اپنے مصاحبین سے خوش طبعی کیا کرتے تھے۔
*آپ کے خط پر خواجہ گنج شکر کا وجد:*
ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے سماع سننے کی خواہش ظاہر کی تاکہ کوئی قوالی یا نعت سنیں،لیکن اتفاق سے اس وقت کوئی نعت خواں اور قوال نہ ملا تو حضرت نے شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے جو میری طرف خط لکھا وہ اٹھا لاؤ۔
چنانچہ حضرت بدر الدین اسحاق اس جگہ سے اٹھے ایک حجرے میں گئے۔ اور وہ بیگ اٹھا کر بابا صاحب کے پاس لے آئے جس میں بہت سے خطوط تھے۔ اور حضرت کے سامنے رکھ کر اس میں ہاتھ ڈالا۔ تو سب سے اولاً ان کے ہاتھ میں قاضی حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ کا خط آیا۔ چنانچہ حضرت بدر الدین علیہ الرحمۃ نے وہ خط بابا صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں پیش کردیا۔حضرت صاحب علیہ الرحمۃ نے حضرت شیخ بدرالدین سے فرمایا کہ اسے کھڑے ہوکر پڑھو چنانچہ شیخ بدر الدین اسحاق علیہ الرحمۃ نے کھڑے ہو کر وہ خط پڑھنا شروع کردیا اس میں یہ لکھا تھا کہ "فقیر و حقیر کمزور و ناتواں محمد بن عطاء درویشوں کا خادم و غلام ہے،اور ان کی قدموں کی خاک کو اپنے سر اور آنکھوں پر بطور تبرک ملتا ہے"۔
حضرت شیخ بدر الدین نے ابھی خط کا اتنا ہی مضمون پڑھا تھا۔کہ شیخ فرید الدین علیہ الرحمۃ پر حال و جد کیفیت طاری ہوگئی۔ پھر خط کی یہ رباعی بھی پڑھی گئی۔
آں عقل کجا کہ درکمال تو رَسد
آں روح کجا کہ درجلال تورسد
گیرم کہ تو پردہ برگرفتی زجمال
آں دیدۂ کجاکہ درجمال تورسد
*ترجمہ:* میں وہ عقل کہاں سے لاؤں جو تیرے کمال کی گہرائیوں تک پہنچ سکے اور وہ روح کہاں سے لاؤں جو تیرے جلال کی کہنہ اور حقیقت کو پاسکے۔ میں خوب سمجھتا ہوں۔کہ تو نے اپنے جمال سے پردہ اٹھالیاہے۔ لیکن وہ آنکھیں کہاں سے لاؤں جو تیرے جمال کو دیکھ سکیں۔
ایک دن قاضی حمید الدین کعبے کا طواف کر رہے تھے انہوں نے ایک بزرگ کو دیکھا کہ وہ بھی طواف کر رہے ہیں۔ آپ اُن کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنے لگے، اس بزرگ نے منہ پھیر کر کہا، حمیدالدین ظاہری اتباع تو بڑی آسان بات ہے لیکن باطنی اتباع بڑی مشکل ہے۔ عرض کی حضور باطنی اتباع بھی ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا کہ میں طواف کرتے ہوئے ہر قدم پر قرآن پاک ختم کرتا ہوں،اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو ایسا کرو۔ حضرت قاضی دل میں بڑے حیران ہوئے۔ پھر انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ بزرگ قرآن کے معنی دل میں لاتے ہیں اور اُس کو ختمِ قرآن کا نام دیتے ہیں۔ اُس بزرگ نے آپ کے دل کی اس بات کو پالیا اور فرمایا نہیں نہیں میں حرفاً حرفاً اور لفظاً لفظاً اعراب کی درستگی کے ساتھ اول سے آخر تک (بطورِ کرامت)قرآن پڑھتا ہوں۔
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
قاضی صاحب ساری زندگی حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہے،اس لئے بعض حضرات آپ کو مشائخِ چشتیہ میں شمار کرتے ہیں۔ آپ ظاہری وباطنی علوم کے ماہرتھے،اس لئے آپ بہت لطیف نکتے بیان کرتے تھے۔ آپ کے کلام سے عوام وخواص بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔ آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔ بہت کتب تصنیف فرمائیں، لیکن ان میں سے زیادہ مشہور "طوالع۔ لوائح۔ راحت الارواح۔اور مجموعہ رسائل ہیں"۔
*وصال:* آپ کا وصال 9 رمضان المبارک 643، کو ہوا۔(اخبارالاخیار فارسی،ص:40 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ )
مزار شریف دہلی مہرولی انڈیا میں حضرت خواجہ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف کے پاؤں کی سمت آج بھی مرجع و خاص و عام ہے۔
*ماخذ و مراجع:* خزینۃ الاصفیاء۔ یاگارِ سہروردیہ۔اخبارالاخیار۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وصال:* آپ کا وصال 9 رمضان المبارک 643، کو ہوا۔(اخبارالاخیار فارسی،ص:40 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ )
مزار شریف دہلی مہرولی انڈیا میں حضرت خواجہ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف کے پاؤں کی سمت آج بھی مرجع و خاص و عام ہے۔
*ماخذ و مراجع:* خزینۃ الاصفیاء۔ یاگارِ سہروردیہ۔اخبارالاخیار۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
ڈاڑھی منڈے کو اسٹیج پر عزت دینے کا شرعی حکم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
● داڑھی منڈانا اور کاٹ کر ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے۔ ایسا ہی فتح القدیر، در مختار، ردالمحتار، بحر اور طحطاوی میں ہے ۔
واللفظ للطحطاوی "ﻭاﻷﺧﺬ ﻣﻦ اﻟﻠﺤﻴﺔ ﻭﻫﻮ ﺩﻭﻥ ﺫﻟﻚ ﻛﻤﺎ ﻳﻔﻌﻠﻪ ﺑﻌﺾ اﻟﻤﻐﺎﺭﺑﺔ ﻭﻣﺨﻨﺜﺔ اﻟﺮﺟﺎﻝ ﻟﻢ ﻳﺒﺤﻪ ﺃﺣﺪ ﻭﺃﺧﺬ ﻛﻠﻬﺎ ﻓﻌﻞ ﻳﻬﻮﺩ اﻟﻬﻨﺪ ﻭﻣﺠﻮﺱ الاﻋﺎﺟﻢ" (ج١،ص٦٨١،ش)
یعنی : داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرلینا؛ جیسا کہ بعض یورپین اور ہجڑے مرد کرتے ہیں ۔ اس کی کسی نے بھی اجازت نہیں دی ہے ۔ اور پوری کی پوری ڈاڑھی صاف کرلینا؛ یہ ہندوستانی یہودیوں کا طریقہ ہے ۔ اور عجمی آتش پرستوں کا طریقہ ہے ۔
● ہدایہ میں ہے:
"لأن حلق الشعر في حقها مثلة کحلق اللحیة في حق الرجال".
یعنی عورت کے سر کا بال منڈانا مثلہ ہے جس طرح مرد کا داڑھی منڈانا مثلہ ہے۔
(ہدایہ ١ / ۲۳۵ باب الاحرام، کتاب الحج) (ہکذا فی الجوہرۃ النیرۃ ج۱ ص١ /١٦٧، کتاب الحج)
● تفسیر روح البیان میں ہے :
"حلق اللحیة قبیح بل مثلة و حرام و کما أن حلق شعر الرأس في حق المرأة مثلة منهي عنه و تفویت للزینة کذلك حلق اللحیة مثلة في حق الرجال و تشبه بالنساء منهي عنه و تفویت للزینة، قال الفقهاء: اللحیة في وقتها جمال، وفي حلقها تفویت للزینة علی الکمال، ومن تسبیح الملائکة: سبحان من زین الرجال باللحی وزین النساء بالذوائب".
یعنی: داڑھی منڈانا قبیح ہے۔ بلکہ مثلہ اور حرام ہے، جس طرح عورت اگر اپنے سر کے بال منڈوائے تو یہ مثلہ ہے جو ممنوع ہے اور اس سے عورت کی زینت ختم ہوجاتی ہے ، اسی طرح مرد اگر داڑھی منڈا دے تو یہ بھی مثلہ ہے اور اس سے مردانہ شان ختم ہوجاتی ہے ۔ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ داڑھی اپنے وقت میں جمال ہے اور اس کو منڈا دینا زینت کو ختم کرنا ہے اور ملائکہ کی تسبیح ہے ، سبحان … پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی اور عورتوں کو لٹوں سے اور چوٹیوں سے (روح البیان ص ۲۲۲ تحت الآیۃ واذا بتلیٰ ابراھیم ربہ‘ بکلمات فاتمھن)
● فتاوی رضویہ میں ہے:
"داڑھی کرانا و منڈانا حرام ہے" (ج٧، ص١٩٣)
● بہار شریعت میں ہے :
"داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے۔ مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے۔ ہاں ایک مشت سے زائد ہو جائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹوا سکتے ہیں۔" (ح١٦، ص٥٨٥)۔
فاسق معلن کو اسٹیج پر عزت دینا
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
فاسق معلن کو منبر پر بیٹھانا شرعا مکروہ تحریمی، گناہ ہے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم ہے۔ فرمایا صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے: إذا مدح الفاسق غضب الرب عزوجل واھتز العرش.
(إتحاف الخیرۃ للبوصیری، م: ٥٣٩٧؛ مجموعة رسائل ابن أبي الدنيا، ١٥٦/٥؛)
جب فاسق کی مدحت کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی ہل جاتا ہے)۔ والله تعالی اعلم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
● داڑھی منڈانا اور کاٹ کر ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے۔ ایسا ہی فتح القدیر، در مختار، ردالمحتار، بحر اور طحطاوی میں ہے ۔
واللفظ للطحطاوی "ﻭاﻷﺧﺬ ﻣﻦ اﻟﻠﺤﻴﺔ ﻭﻫﻮ ﺩﻭﻥ ﺫﻟﻚ ﻛﻤﺎ ﻳﻔﻌﻠﻪ ﺑﻌﺾ اﻟﻤﻐﺎﺭﺑﺔ ﻭﻣﺨﻨﺜﺔ اﻟﺮﺟﺎﻝ ﻟﻢ ﻳﺒﺤﻪ ﺃﺣﺪ ﻭﺃﺧﺬ ﻛﻠﻬﺎ ﻓﻌﻞ ﻳﻬﻮﺩ اﻟﻬﻨﺪ ﻭﻣﺠﻮﺱ الاﻋﺎﺟﻢ" (ج١،ص٦٨١،ش)
یعنی : داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرلینا؛ جیسا کہ بعض یورپین اور ہجڑے مرد کرتے ہیں ۔ اس کی کسی نے بھی اجازت نہیں دی ہے ۔ اور پوری کی پوری ڈاڑھی صاف کرلینا؛ یہ ہندوستانی یہودیوں کا طریقہ ہے ۔ اور عجمی آتش پرستوں کا طریقہ ہے ۔
● ہدایہ میں ہے:
"لأن حلق الشعر في حقها مثلة کحلق اللحیة في حق الرجال".
یعنی عورت کے سر کا بال منڈانا مثلہ ہے جس طرح مرد کا داڑھی منڈانا مثلہ ہے۔
(ہدایہ ١ / ۲۳۵ باب الاحرام، کتاب الحج) (ہکذا فی الجوہرۃ النیرۃ ج۱ ص١ /١٦٧، کتاب الحج)
● تفسیر روح البیان میں ہے :
"حلق اللحیة قبیح بل مثلة و حرام و کما أن حلق شعر الرأس في حق المرأة مثلة منهي عنه و تفویت للزینة کذلك حلق اللحیة مثلة في حق الرجال و تشبه بالنساء منهي عنه و تفویت للزینة، قال الفقهاء: اللحیة في وقتها جمال، وفي حلقها تفویت للزینة علی الکمال، ومن تسبیح الملائکة: سبحان من زین الرجال باللحی وزین النساء بالذوائب".
یعنی: داڑھی منڈانا قبیح ہے۔ بلکہ مثلہ اور حرام ہے، جس طرح عورت اگر اپنے سر کے بال منڈوائے تو یہ مثلہ ہے جو ممنوع ہے اور اس سے عورت کی زینت ختم ہوجاتی ہے ، اسی طرح مرد اگر داڑھی منڈا دے تو یہ بھی مثلہ ہے اور اس سے مردانہ شان ختم ہوجاتی ہے ۔ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ داڑھی اپنے وقت میں جمال ہے اور اس کو منڈا دینا زینت کو ختم کرنا ہے اور ملائکہ کی تسبیح ہے ، سبحان … پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی اور عورتوں کو لٹوں سے اور چوٹیوں سے (روح البیان ص ۲۲۲ تحت الآیۃ واذا بتلیٰ ابراھیم ربہ‘ بکلمات فاتمھن)
● فتاوی رضویہ میں ہے:
"داڑھی کرانا و منڈانا حرام ہے" (ج٧، ص١٩٣)
● بہار شریعت میں ہے :
"داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے۔ مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے۔ ہاں ایک مشت سے زائد ہو جائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹوا سکتے ہیں۔" (ح١٦، ص٥٨٥)۔
فاسق معلن کو اسٹیج پر عزت دینا
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
فاسق معلن کو منبر پر بیٹھانا شرعا مکروہ تحریمی، گناہ ہے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم ہے۔ فرمایا صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے: إذا مدح الفاسق غضب الرب عزوجل واھتز العرش.
(إتحاف الخیرۃ للبوصیری، م: ٥٣٩٧؛ مجموعة رسائل ابن أبي الدنيا، ١٥٦/٥؛)
جب فاسق کی مدحت کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی ہل جاتا ہے)۔ والله تعالی اعلم
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-09-1443 ᴴ | 10-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-09-1443 ᴴ | 11-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1