🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-09-1443 ᴴ | 10-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-09-1443 ᴴ | 10-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-09-1443 ᴴ | 10-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی شاہ رکن عالم ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
نام: رکن الدین ۔
کنیت: ابوالفتح ۔
لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
ابوالفتح شیخ رکن الدین ، بن عارفِ کامل شیخ صدرالدین عارف، بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک 9 / رمضان المبارک 649ھ ، بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لےکر تکمیل تک ، اور پھر تعلیم کے ساتھ تربیت ، آپکے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) کی زیرِ نگرانی ہوئی۔
بیعت وخلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِنا متناہی ، ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ،لولوئے دریائے غیب ، زبدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین، سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابوالفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔
"خاندانِ غوثیہ" کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور اس نو مولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربا اور مساکین کے دامن زر و جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں ، اور روزانہ قرآن ِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں ، اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے۔ رات کو بی بی صاحبہ جب تہجد کے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے۔ جب قطب الاقطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلےجو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ "اللہ جل جلالہ" کا اسم گرامی تھا۔ سات سال کی عمر سے نماز اور روزہ کے پابند ہو گئے تھے۔ رمضان کے علاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے۔ ذکر خفی و جلی و مراقبہ محاسبہ آپ کے معمولات میں سے تھے۔ریاضت، عبادت اور مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔ کشف ِقلوب، طے ارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمر سے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتا خالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتے تھے۔ اس واسطے لوگوں میں آپ "قبلۂ حاجات" مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے۔ علم ، تواضع ، شفقت ، حلم و عفو، حیاء و وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، بردباری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ آپ نے مکاشفہ ومحاسبہ میں اتنے مدارج طے کر لیئے تھے کہ آپ کو " ابوالفتح " کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ علماء، فضلاء اور درویشوں کا بہت خیال کرتےتھے۔ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تھے۔ کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں بیٹھتے تو آپ کے دونوں ہاتھ اکثر باہر نکلے ہوئے ہوتے، اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائے اور میں بھی بخشا جاؤں۔
وصال:
16 / رجب المرجب 735ھ ، بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار شریف:
مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
نام ونسب:
نام: رکن الدین ۔
کنیت: ابوالفتح ۔
لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
ابوالفتح شیخ رکن الدین ، بن عارفِ کامل شیخ صدرالدین عارف، بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک 9 / رمضان المبارک 649ھ ، بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لےکر تکمیل تک ، اور پھر تعلیم کے ساتھ تربیت ، آپکے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ) کی زیرِ نگرانی ہوئی۔
بیعت وخلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِنا متناہی ، ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ،لولوئے دریائے غیب ، زبدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین، سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابوالفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔
"خاندانِ غوثیہ" کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اور اس نو مولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربا اور مساکین کے دامن زر و جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں ، اور روزانہ قرآن ِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں ، اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے۔ رات کو بی بی صاحبہ جب تہجد کے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے۔ جب قطب الاقطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلےجو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ "اللہ جل جلالہ" کا اسم گرامی تھا۔ سات سال کی عمر سے نماز اور روزہ کے پابند ہو گئے تھے۔ رمضان کے علاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے۔ ذکر خفی و جلی و مراقبہ محاسبہ آپ کے معمولات میں سے تھے۔ریاضت، عبادت اور مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔ کشف ِقلوب، طے ارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمر سے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتا خالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتے تھے۔ اس واسطے لوگوں میں آپ "قبلۂ حاجات" مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے۔ علم ، تواضع ، شفقت ، حلم و عفو، حیاء و وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، بردباری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ آپ نے مکاشفہ ومحاسبہ میں اتنے مدارج طے کر لیئے تھے کہ آپ کو " ابوالفتح " کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ علماء، فضلاء اور درویشوں کا بہت خیال کرتےتھے۔ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تھے۔ کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ جب پالکی میں بیٹھتے تو آپ کے دونوں ہاتھ اکثر باہر نکلے ہوئے ہوتے، اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ شاید کسی بخشے ہوئے کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائے اور میں بھی بخشا جاؤں۔
وصال:
16 / رجب المرجب 735ھ ، بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔
مزار شریف:
مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1