🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
رشتہ طلب کیا اور انہوں نے وہ رشتہ آپ کو دے دیا۔ لیکن یہ ساری باتیں قیاس آرائیوں کے بغیر اور کچھ نہیں۔ (اگر واقعہ اس صورت مذکورہ میں پیش کیا جائے تو آپ کی طرف گناہ صغیرہ کی نسبت لازم آئے گی، جس سے انبیائے کرام پاک ہیں۔) ان تمام توجیہات کے بعد علامہ رازی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ آیات میں مذکورہ  اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا جائے کہ نہ گناہ کبیرہ کی نسبت آپ کی طرف ثابت ہو نہ گناہ صغیرہ کی بلکہ آپ  کی مدح و ثناء کا پہلو نکلے۔ بنی اسرائیل میں ایک گروہ آپ کا مخالف ہوگیا تھا اور انہوں نے آپ کو قتل کرنے کی تدبیریں سوچنا شروع کردی تھی، آپ ہر تیسرے دن خلوت نشین ہوکر اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادت میں مشغول ہو جایا کرتے تھے، انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور دیوار پھاند کر اندر آگئے، تاکہ تنہائی میں آپ کا کام تمام کردیں اور پہرے داروں کو بھی اس کا پتہ نہ چلے۔ جب وہ آپ کے حجرے میں پہنچے تو وہاں بہت سے آدمی موجود تھے، جن کی وجہ سے وہ اپنے منصوبہ کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ اور اپنے آنے کی ایک جھوٹی اور من گھڑت وجہ بیان کردی کہ: ’’ہم آپ سے ایک مقدمہ کا فیصلہ کرانے کے لیے آئے، دروازہ بند پایا، پہرہ داروں نے اندر آنے کی اجازت نہ دی اس لیے مجبوراً ہم دیوار پھاند کر اندر آگئے، آپ ان کی بدنیتی پر آگاہ ہوگئے، پہلے تو آپ کو بڑا غصہ آیا اور ان سے انتقام لینے کا ارادہ فرمایا، لیکن بعد میں عفوو درگزر سے کام لیتے ہوئے انہیں معاف کردیا۔ اور استغفار اس لیے مانگی کہ ان کے دل میں اپنی ذات کے متعلق انتقام لینے کا خیال ہی کیوں پیدا ہوا۔ علامہ رازی آخر میں فرماتے ہیں: ’’وکان قولنا اولی وھذا ما عندنا فی ھذا الباب واللہ اعلم باسرار کلہ‘‘ (تفسیر کبیر) یعنی ہماری یہ توجیہ سب اقوال سے بہتر ہے اور اس ضمن میں ہماری یہی تحقیق ہے اللہ تعالیی اپنی کتاب کے اسرار و رموز کو بہتر جانتا ہے۔ علامہ ابو حیان اندلسی نے اپنی تفسیر البحر المحیط میں اپنی تحقیق کا خلاصہ تحریر فرمایا ہے اس کا ترجمہ بھی ہدیہ ناظرین ہے: ’’ہماری تحقیق یہ ہے کہ دیوار پھاند کر محراب میں آنے والے انسان تھے، وہ ایسے راستے سے داخل ہوئے تھے جو داخل ہونے کا راستہ نہ تھا، اور ایسے وقت آئے تھے جو آپ کی عدالت کا وقت نہ تھا، آپ علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے قتل نہ کردیں، (کیونکہ ایک گروہ آپ کا مخالف تھا) لیکن جب واضح ہوگیا کہ یہ دونوں تو کسی مقدمہ کا فیصلہ کرانے کے لیے آئے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے تو حضرت داؤد علیہ السلام کو پتہ چل گیا کہ یہ سارا واقعہ (یعنی ان لوگوں کا بے وقت آدھمکنا اور غیر معروف راہ سے آنا اور آپ کا ان کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ قتل کے ارادے سے آئے ہیں اور اس و جہ سے آپ کا گھبرا جانا) آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے آزمانا چاہیے اور ان کے بارے میں سوء ظن کرنا آپ کی شان نبوت سے فروتر ہے، (بہت کم ہے) اس لیے آپ  مغفرت طلب کرنے لگے۔ آخر میں علامہ مذکور لکھتے ہیں: ’’ونعلم قطعا ان الانبیاء علیھم السلام معصومون من الخطایا لا یمکن وقوعھم فی شیء منھا ضرورۃ ان لو جوزنا علیھم شیئا من ذالک بطلت الشرائع ولم یوثق بشیء مما یذکرون انہ وحی من اللہ فما حکی اللہ ی کتابہ یمر علی ما ارادہ اللہ وما حکی القصاص مما فیہ نقص لمنصب الرسالۃ طرحناہ ونحن نقول کما قال الشاعر: ونوثر حکم العقل فی کل شبھۃ   اذ اثر الاخبار جلاس قصاص‘‘ یعنی ہمارا پختہ یقین ہے کہ انبیائے کرام گناہ اور خطاء سے معصوم ہوتے ہیں۔ ان سے ایسے امور قطعاً سرزد نہیں ہوسکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو شرعی احکام پر اعتماد باقی نہیں رہتا اور انبیائے کرام کے فرمودات (ارشادات) سے اعتبار اٹھ جاتا، قصہ گو (قصے کہانیاں بیان کرنے والے) لوگوں نے منصب نبوت کے منافی جو کہانیاں گھڑ لی ہیں ہم ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا کرتے ہیں۔ ہمارا مسلک تو وہ ہے جو شاعر نے اس شعر میں بیان کیا ہے۔ کہتا ہے: ’’جس بارے میں شک و شبہ ہو وہاں ہم عقل کا فیصلہ مانتے ہیں جبکہ قصہ گوؤں کے ہمنشین حکایتوں اور کہانیوں کو ترجیح دیتےہیں‘‘۔ شیخ اکبر حضرت ابن عربی رحمہ اللہ نے یہاں خوب لکھا ہے: ’’واعظوں کو چاہیے کہ وہ اپنے وعظوں میں غلط قصے اور جھوٹی کہانیاں بیان نہ کیا کریں، حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بندہ جب جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو سے فرشتے اس سے تیس میل دور بھاگ جاتے ہیں اور اس آدمی کو بہت برا جانتے ہیں، جب واعظ یہ جانتا ہے کہ فرشتے مجلس وعظ میں حاضر ہوتے ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ سچ بولنے کی پوری کوشش کرے۔ پھر فرماتے ہیں: ’’ولا یتعرض لما ذکرہ المؤرخون عن الیھود من زلات من اثنی اللہ علیھم واجتباھم ویجعل ذالک تفسیرا لکتاب اللہ‘‘ (فتوحات مکیہ جلد دوم ص۲۵۶ مطبوعہ مصر) واعظ پر فرض ہے کہ ایسی باتوں سے کلیتاً اجتناب کرے جو مؤرخین نے بلا تحقیق یہودیوں سے نقل کی ہیں، جن میں ان مقدس ہستیوں کی لغزش کا بیان ہوتا ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے
1👍1
ثناء و توصیف فرمائی ہے اور انہیں دوسرے لوگوں سے چن لیا ہے۔ اور پھر ان لغویات کے بارے  میں کہے کہ: وہ قرآن مجید کی تفسیر بیان کر رہا ہے۔ (تفسیر ضیاء القرآن) نتیجہ واضح ہوا: مفکر اسلام  مفسر قرآن حضرت پیر محمد کرم شاہ صاب قدس سرہ کی اس ایمان افروز تفسیر ...... جو  تفسیر کبیر اور البحر المحیط اور فتوحات مکیہ کے حوالہ جات سے مزین ہے ..... سے واضح ہوگیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے والی کہانیاں کہ ’’آپ نے (معاذاللہ) ایک عورت سے برائی کا ارتکاب کیا اور پھر اس کے خاوند کو قتل کرادیا، یا آپ نے کسی کی منگنی تڑوا کر خود منگنی کرلی، یا  اپنے دوست کی بیوی پر عاشق ہوکر اسے طلاق دینےپرمجبور کردیا۔ یہ تمام بیہودہ باطل افسانے ہیں۔ یہود کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نبی شان کے لائق ہرگز ہرگز ایسے واقعات نہیں ہوسکتے۔ صحیح واقعہ وہی ہے جو صاحب تفسیر کبیر نے یا البحر المحیط نے تحریر کیا ہے اور اسی کو صحیح سمجھنے کی تاکید شیخ اکبر نے فرمائی ہے۔ داؤد علیہ السلام کی خلافت اور عدل و انصاف کا حکم: یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِO وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا بَاطِلًا ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِO اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِO کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ  (پ۲۳ سورت ص ۲۶، ۲۹) اے داؤد ہم نے مقرر کیا ہے آپ کو (اپنا) نائب زمین میں پس فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اور نہ پیروی کیا کرو ہوائے نفس کی وہ بہادے گی تمہیں راہ خدا سے بیشک جو لوگ بھٹک جاتے ہیں راہ خدا سے ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے بھلادیا تھا یوم حساب کو اور  نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بے فائدہ یہ تو کفار کا گمان ہے۔ پس بربادی ہے کفار کے لیے آگ (کے عذاب) سے، کیا ہم بنادیں گے انہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں ان لوگوں کی مانند جو فساد برپا کرتے ہیں زمین میں یا ہم بنادیں گے پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح۔ یہ کتاب ہے جو  ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف بڑی بابرکت تاکہ تدبر کریں اس کی آیتوں میں اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقلمند۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو بتایا جا رہا ہے کہ تم کسی شاہی خاندان کے فرد نہیں ہو کہ تمہیں یہ حکومت اور تخت ورثہ میں ملا ہو۔ تم ایک غیر معروف چرواہے تھے، ہم نے اپنے فضل و کرم سے آپ کے لیے یہ راہ ہمورا کی اور اپنی مہربانی سے بنی اسرائیل کا تاجدار بنایا۔ اور وسیع و عریض سلطنت مرحمت فرمادی، اور مسند خلافت پر متمکن کردیا۔ اس احسان کا شکر ادا کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ ہر فیصلہ عدل و انساف کے مطابق کرو، اور اپنی پسند و ناپسند کو کسی طرح اثر انداز نہ ہونے دو۔ اگر تم  نے اپنی خواہش نفس پر انصاف کو قربان کیا تو یاد رکھنا اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہک جاؤ گے۔ اس کی توفیق کا دامن تمہارے ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔ اور جو شخص راہِ حق سے بہک جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ نے اس آیت کے ضمن میں منہیہ تحریر فرمایا ہے، جو پیش خدمت ہے: ’’ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرات طلحہ، زبیر، کعب اور سلمان رضی اللہ عنہم سے پوچھا، ما الخلیفۃ من الملک؟ یعنی خلیفہ اور بادشاہ میں کیا فرق ہے۔ حضرات طلحہ اور زبیر نے کہا ہم نہیں جانتے۔ حضرت سلیمان نے عرض کیا: ’’الخلیفۃ الذی یعدل فی الرعیۃ ویقیم بینھم بالسویۃ ویشفق علیھم شفقۃ الرجل  علی اھلہ ویقضی بکتاب اللہ‘‘ یعنی خلیفہ  وہ ہے جو رعیت میں عدل کرتا ہے ان میں مال مساوی طور پر تقسیم کرتا ہے اور وہ اپنی رعایا پر یوں مہربان اور شفیق ہوتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر شفیق ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ سلیمان بن عوجا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز حضرت فاروق اعطم رضی اللہ عنہ نے حاضرین سے کہا: ’’ما ادری اخلیفۃ انا ام ملک‘‘؟ مجھے معلوم نہیں کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ۔ ایک شخص کہنے لگا اے امیرالمومنین دونوں میں بڑا فرق ہے۔ آپ نے فرمایا کہ فرق کیا ہے؟ ’’قال الخلیفۃ لا یأخذ الاحقا ولا یضعہ الا فی حق انت بحمد اللہ کذالک ولا ملک یعسف الناس فیاخذ من ھذا یعطی ھذا فسکت عمر‘‘ اس نے کہا ہے خلیفہ وہ ہے جو لیتا ہے تو حق و انصاف سے اور خرچ کرتا  ہے تو صحیح جگہ پر اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ایسا ہی کیا کرتے ہیں اور بادشاہ وہ
1👍1
ہوتا ہے جو لوگوں پر جور و ستم کرتا ہے اس سے لیتا ہے اُس کو دیتا ہے۔یہ سن کر حضرت عمر خاموش ہوگئے۔ (حاشیہ تفسیر مظہری) سربراہِ مملکت کے لیے اسلام نے ’’بادشاہ، سلطان، چیئرمین‘‘ وغیرہ کلمات پسند نہیں کیے کیونکہ ان میں خودسری اور انانیت کی بو آتی ہے، بلکہ ’’خلیفہ‘‘ کا لفظ تجویز کیا ہے۔ جس کا معنی خود سر اور مختار کا  نہیں بلکہ نائب اور قائم مقام ہے۔ یہ لفظ ہی بتا رہا ہے کہ مملکت اسلامیہ کا سربراہ اپنے رب کا نائب ہوتا ہے اور نائب کا کام اپنے آقا کے احکام کی تعمیل کرنا ہے اور اس کے ارشادات کے مطابق اس کے دیے ہوئے اختیارات کو استعمال کرنا ہے۔ یہ وہ فرق ہے جو دنیا کے دوسروں نظاموں اور اسلام کے نظام سیاست میں بنیادی اہمیت کا مالک ہے قرآن پاک نے یہاں خلیفہ کی ذمہ داریوں کو بڑے مؤثر انداز اور پیرائے میں بیان کردیا کہ اس کا فرض اولین یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پرا کرے، فیصلہ کرتے وقت خارجی چیز، سفارش، کوئی طمع کوئی خوف، حتی کہ اپنے ذاتی مفاد کو بھی اس پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ جو حاکم ایسا نہیں کرتا گویا  اس نے روز جزاء کو فراموش کردیا۔ قیامت کے دن پر اس کا ایمان نہ رہا۔ زبان سے وہ ہزار دعوے کرے کہ وہ وقوع قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اگر وہ فیصلہ کرتے وقت میزانِ عدل کو برابر نہیں رکھ سکتا تو اس کو یہ دعوی کرنے کا قطعا کوئی حق نہیں۔ اور جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے اسے فراموش کردیتے  ہیں ان کے لیے عذاب شدید ہے۔ ’’اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ اَنْ نَضِلَّ عَنْ سَبِیْلِکَ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْحَشْرِ وَعَذَابِ النَّارِ‘‘ کفار اور ملحد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بس یہی دنیوی زندگی ہے، اس میں خوب عیش و عشرت کرلو، خوب مزے اڑاؤ، دولت کماؤ، جتنی کماسکتے ہو۔ حلال و حرام کے چکر میں نہ پڑو، یہ تو ملاؤں کی من گھڑت باتیں ہیں۔ جاہ و منصب حاصل کرنے کے لیے کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو ہونے دو،مکر و فریب کی ضرورت پڑے تو ہرگز نہ گھبراؤ۔ قیامت کس نے دیکھی ہے۔ ہزارہا سال سے یہ صوفی لوگ قیامت کی دھمکیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کی باتوں میں آکر اپنی زندگی کا لطف برباد نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس مغالطے کا رد فرماے ہیں کہ اگر تمہاری باتیں درست ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین و آمسان کا یہ سارا نظام عبث اور بے مقصد ہے۔ ایک نیک کار مومن اور ایک مفسد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ متقی اور پرہیزگار اور فاسق و فاجر سب یکساں ہیں۔ سن لو! اس کائنات کے خالق ہم ہیں اور ہم نے کوئی چیز بھی عبث اور بے مقصد پیدا نہیں کی۔ ہم علیم بھی ہیں حکیم بھی، ہمارا کوئی  کام حکمت سے خالی نہیں۔ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی۔ اس روز متقی اور پرہیزگار ہمارے انعامات سے مالا مال ہوں گے اور فاسق و فاجر ذلیل ہوں گے۔ حق کا بول بالا ہوگا اور ہر قسم کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی۔ (ضیاء القرآن) حضرت داؤد علیہ السلام کے ’’جالوت‘‘ کو قتل کرنے کا واقعہ حضرت ’’طالوت‘‘ کے واقعہ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کیا جائے گا۔

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/holy-prophet-hazrat-dawood
Copyright © Zia-e-Taiba
👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
تذکرہ حضرت داؤد علیہ السلام
https://t.me/islaamic_Knowledge/29680
[ تذکرۃ الانبیاء ص²⁸²تا²⁹⁹ ]
علامہ عبد الرزاق بھترالوی
2👍1
تذکرۂ حضرت داؤد علیہ السلام
https://t.me/islaamic_Knowledge/29685
[ سیرت الانبیاء ص⁶⁶⁹تا⁷³⁷]
مفتی قاسم قادری عطاری
1👍1
تذکرۂ_حضرت_داؤد_علیہ_السلام_سیرت_الانبیاء_ص⁶.pdf
4.8 MB
Tazkira Hazrat Daaud
ᴶᵒⁱⁿ اسلامی معلومات عامہ
Paighambar علیہ السلام
👍1
7 رمضان المبارک ........... یوم
حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام
چینل🆔 اسلامی معلومات عامہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تذکرہ حضرت داؤد علیہ السلام
https://t.me/islaamic_Knowledge/29680
[ تذکرۃ الانبیاء ص²⁸²تا²⁹⁹ ]
علامہ عبد الرزاق بھترالوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تذکرۂ حضرت داؤد علیہ السلام
https://t.me/islaamic_Knowledge/29685
[ سیرت الانبیاء ص⁶⁶⁹تا⁷³⁷]
مفتی قاسم قادری عطاری

#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-09-1443 ᴴ | 10-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1