🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-09-1443 ᴴ | 08-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت داؤد علیہ السلام
مولانا بدر الدین قادری
فرمانِ حافظِ ملت: چندہ کرنے سے
عزت گھٹتی نہیں بلکہ بڑھتی ہے!!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت داؤد علیہ السلام
مولانا بدر الدین قادری
فرمانِ حافظِ ملت: چندہ کرنے سے
عزت گھٹتی نہیں بلکہ بڑھتی ہے!!
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت سیدنا داؤد علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام
حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک سو سال عمر پائی، آپ موسیٰ علیہ السلام سے پانچ سو ننانوے (۵۹۹) سال بعد تشریف لائے۔ (اس کے دیگر اقوال بھی منقول ہیں) حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے ہیں آپ نے انسٹھ سال عمر پائی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سات سو سال پہلے تشریف لائے۔ (التخبیر للسیوطی، حاشیہ جلالین، ص۲۷۵)
وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاؤدَ ذَالْاَیْدِ اِنَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص ۱۷) اور ہمارے بندے داؤد، نعمتوں والے کو یاد کرو بے شک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے۔
ذا الاید: کا معنیٰ نعمتوں والا بھی ہے اور طاقت و قوت والا بھی ہے۔
یعنی آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عبادات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کی طاقت کی تعریف فرمائی تو اس سے وہی مراد ہو سکتی ہے، جو قابل تعریف ہو اور قابل تعریف وہی طاقت ہے جس کی وجہ سے انسان عبادات پر عمل کر سکے اور گناہوں سے بچ سکے۔
حضرت داؤد علیہ السلام اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
داؤد علیہ السلام کی عبادت:
آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، یہ دراصل آپ علیہ السلام کا نفس کے خلاف جہاد تھا؛ کیونکہ انسان کا ’’نفس‘‘ بچے کی طرح ہوتا ہے۔ بچے کو ایک دن دودھ پلایا جائے اور دوسرے دن نہ پلایا جائے یہ بہت مشکل ہے، اسی طرح داؤد علیہ السلام نے اپنے نفس سے ایسا جہاد کیا جو عام آدمی کے لیے بہت مشکل تھا؛ کیونکہ ایک دن نفس کو خواہشات سے روکنا اور دوسرے دن خواہشات کی اجازت دینا عظیم کام تھا۔
آپ علیہ السلام نصف رات اللہ تعالیٰ کے حضور قیام فرماتے، یعنی نوافل ادا کرتے، پھر رات کا تہائی حصہ سوتے، پھر رات کا چھٹا حصہ جاگ کر عبادت میں مشغول رہتے۔
داؤد علیہ السلام اور سلیمان
علیہ السلام کی نبوت کا ذکر:
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ (پ۱۹ سورۃ نمل ۱۵)
اور بے شک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہم السلام) کو بڑا علم عطا کیا تھا، اور دونوں نے کہا؛ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی۔
علم سے مراد لوگوں کے درمیان قضاء (فیصلہ) کا علم، پرندوں کی بولیاں جاننے کا علم وغیرہ ’’ہمیں فضیلت دی‘‘ اس سے مراد نبوت اور جنوں شیطانوں کو آپ کے تابع بنانا ہے۔ ’’علم‘‘ سے انسان کو فضیلت حاصل ہوتی ہے، انسان کو چاہیے کہ نعمتوں کے حاصل ہونے پر ان کا شکریہ ادا کرے، کسی نعمت کا اظہار بطور تکبر ناجائز ہے، بطور شکر ذکر کرنا مستحب ہے۔ سنت انبیائے کرام ہے ۔ (از روح البیان، جلالین شریف)
داؤد علیہ السلام کی بادشاہت کا ذکر:
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ (پ۲۳ سورۃ ص۲۶)
اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا، تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکا دےگی، بے شک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ عذاب کے دن کو بھول بیٹھے۔ ’’فقد جمع لداؤد بین النبوۃ والسلطنۃ‘‘ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوت اور بادشاہت دونوں حاصل تھیں۔ ’’ولا تتبع الھوی المقصود من نھیہ اعلام امتہ لانہ معصوم ولتتبعہ فیما امر بہ لانہ اذا کان ھذا الخطاب للمعصوم فغیرہ اولی“ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
آپ علیہ السلام کو رب نے جو فرمایا:
’’خواہش کے پیچھے نہ جانا‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خواہش کے پیچھے چلنے سے امت کی تعلیم کے لیے روکا گیا ہے، کہ وہ غور و فکر کریں۔ اور آپ علیہ السلام کو جو حکم دیے گئے ہیں وہ ان کی تابعداری کریں۔ جب یہ خطاب معصوم کو ہو سکتا ہے تو دوسروں کو تو یقیناً یہ حکم ہونا ہی ہے۔
روایت کیا گیا ہے کہ بنی مروان میں سے کسی خلیفہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ کہا کہ کیا تم نے سنا ہے؟ جو ہمیں خبر دی گئی ہے کہ خلیفہ پر کوئی قلم نہیں چلے گی اور اس پر کوئی معصیت نہیں لکھی جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین خلفاء افضل ہیں یا انبیاء علیہم السلام؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تعلیم امت کے لیے خواہشات کے پیچھے چلنے سے منع کیا ہے تو خلیفہ کیا چیز ہو سکتا ہے؟ (از تفسیر کبیر)
حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک سو سال عمر پائی، آپ موسیٰ علیہ السلام سے پانچ سو ننانوے (۵۹۹) سال بعد تشریف لائے۔ (اس کے دیگر اقوال بھی منقول ہیں) حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے ہیں آپ نے انسٹھ سال عمر پائی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سات سو سال پہلے تشریف لائے۔ (التخبیر للسیوطی، حاشیہ جلالین، ص۲۷۵)
وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاؤدَ ذَالْاَیْدِ اِنَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص ۱۷) اور ہمارے بندے داؤد، نعمتوں والے کو یاد کرو بے شک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے۔
ذا الاید: کا معنیٰ نعمتوں والا بھی ہے اور طاقت و قوت والا بھی ہے۔
یعنی آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عبادات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کی طاقت کی تعریف فرمائی تو اس سے وہی مراد ہو سکتی ہے، جو قابل تعریف ہو اور قابل تعریف وہی طاقت ہے جس کی وجہ سے انسان عبادات پر عمل کر سکے اور گناہوں سے بچ سکے۔
حضرت داؤد علیہ السلام اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
داؤد علیہ السلام کی عبادت:
آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، یہ دراصل آپ علیہ السلام کا نفس کے خلاف جہاد تھا؛ کیونکہ انسان کا ’’نفس‘‘ بچے کی طرح ہوتا ہے۔ بچے کو ایک دن دودھ پلایا جائے اور دوسرے دن نہ پلایا جائے یہ بہت مشکل ہے، اسی طرح داؤد علیہ السلام نے اپنے نفس سے ایسا جہاد کیا جو عام آدمی کے لیے بہت مشکل تھا؛ کیونکہ ایک دن نفس کو خواہشات سے روکنا اور دوسرے دن خواہشات کی اجازت دینا عظیم کام تھا۔
آپ علیہ السلام نصف رات اللہ تعالیٰ کے حضور قیام فرماتے، یعنی نوافل ادا کرتے، پھر رات کا تہائی حصہ سوتے، پھر رات کا چھٹا حصہ جاگ کر عبادت میں مشغول رہتے۔
داؤد علیہ السلام اور سلیمان
علیہ السلام کی نبوت کا ذکر:
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ (پ۱۹ سورۃ نمل ۱۵)
اور بے شک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہم السلام) کو بڑا علم عطا کیا تھا، اور دونوں نے کہا؛ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی۔
علم سے مراد لوگوں کے درمیان قضاء (فیصلہ) کا علم، پرندوں کی بولیاں جاننے کا علم وغیرہ ’’ہمیں فضیلت دی‘‘ اس سے مراد نبوت اور جنوں شیطانوں کو آپ کے تابع بنانا ہے۔ ’’علم‘‘ سے انسان کو فضیلت حاصل ہوتی ہے، انسان کو چاہیے کہ نعمتوں کے حاصل ہونے پر ان کا شکریہ ادا کرے، کسی نعمت کا اظہار بطور تکبر ناجائز ہے، بطور شکر ذکر کرنا مستحب ہے۔ سنت انبیائے کرام ہے ۔ (از روح البیان، جلالین شریف)
داؤد علیہ السلام کی بادشاہت کا ذکر:
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ (پ۲۳ سورۃ ص۲۶)
اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا، تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکا دےگی، بے شک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ عذاب کے دن کو بھول بیٹھے۔ ’’فقد جمع لداؤد بین النبوۃ والسلطنۃ‘‘ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوت اور بادشاہت دونوں حاصل تھیں۔ ’’ولا تتبع الھوی المقصود من نھیہ اعلام امتہ لانہ معصوم ولتتبعہ فیما امر بہ لانہ اذا کان ھذا الخطاب للمعصوم فغیرہ اولی“ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
آپ علیہ السلام کو رب نے جو فرمایا:
’’خواہش کے پیچھے نہ جانا‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خواہش کے پیچھے چلنے سے امت کی تعلیم کے لیے روکا گیا ہے، کہ وہ غور و فکر کریں۔ اور آپ علیہ السلام کو جو حکم دیے گئے ہیں وہ ان کی تابعداری کریں۔ جب یہ خطاب معصوم کو ہو سکتا ہے تو دوسروں کو تو یقیناً یہ حکم ہونا ہی ہے۔
روایت کیا گیا ہے کہ بنی مروان میں سے کسی خلیفہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ کہا کہ کیا تم نے سنا ہے؟ جو ہمیں خبر دی گئی ہے کہ خلیفہ پر کوئی قلم نہیں چلے گی اور اس پر کوئی معصیت نہیں لکھی جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین خلفاء افضل ہیں یا انبیاء علیہم السلام؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تعلیم امت کے لیے خواہشات کے پیچھے چلنے سے منع کیا ہے تو خلیفہ کیا چیز ہو سکتا ہے؟ (از تفسیر کبیر)
❤1👍1
فائدہ:
ایک انسان دنیامیں زندگی گزارنے کی جمیع ضروریات پر عمل نہیں کر سکتا، کوئی کھیتی باڑی کرتا ہے کوئی دانے پیستا ہے، کوئی روٹی پکاتا ہے، کوئی کپڑا بنتا ہے اور کوئی سلاتی کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے۔ تمام کام مل کر تمام کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ جب سب لوگوں نے ایک ہی علاقہ ایک ہی سر زمین میں مجتمع ہو کر رہنا ہے اور مختلف کام سر انجام دینے ہیں تو ان میں اختلافات، جھگڑے ہونا بھی قدرتی امر ہے۔ اس لیے ان میں کوئی ایک ایسا شخص بھی ہونا چاہیے جسے طاقت اور دبدبہ حاصل ہو جو ان کے اختلافات دور کرا سکے، ان کے جھگڑوں میں فیصلہ کرا سکے، یہ وہ بادشاہ ہی ہو سکتا ہے جس کا حکم کل پر نافذ ہوتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مخلوق کی مصلحت کے لیے بادشاہ، سیاستدان کا ہونا ضروری ہے۔
پھر اگر بادشاہ اپنی خواہش کے مطابق احکام نافذ کرے، اپنے دنیاوی منافع حاصل کرے مخلوق کو عظیم ضرر پہنچائے، رعیت کو اپنی ذات پر قربان کر دے، یعنی اپنی بادشاہت کو بچانے کے لیے رعیت کی تباہی کا لحاظ نہ کرے، رعیت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے تو دنیا تباہی و بربادی پر پہنچ جاتی ہے، مخلوق میں قتل و غارت کا وقوع عام ہوتا ہے، آخر کار اس بادشاہ کی تباہی کا وقت بھی آجاتا ہے اس طرح بادشاہ کے مظالم سے ملک کی بربادی کے ساتھ بادشاہ کی اپنی بربادی بھی ہو جاتی ہے۔ اگر بادشاہ شرعی احکام کے مطابق فیصلے کرے تو نظامِ عالَم درست ہو جاتا ہے، بھلائی کے دروازے اچھے طریقے سے کھل جاتے ہیں،
ان مقاصد کے پیش نظر قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کو یہ حکم دیا۔
پہاڑ اور پرندے حضرت
داؤد علیہ السلام کے تابع:
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً کُلٌّ لَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص۱۸، ۱۹)
بے شک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ کو مسخر کر دیے کہ تسبیح کرتے شام کو اور سورج چمکتے اور پرندے جمع کیے ہوتے، اور سب اس کے فرماں بردار تھے۔
اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو آپ کے ساتھ مسخر کر دیا، یعنی پہاڑ آپ کے تابع تھے، آپ جہاں چلتے پہاڑ آپ کے ساتھ چلتے یا آپ جس جگہ پہاڑوں کے لے جانے کا ارادہ فرماتے پہاڑ وہاں چلے جاتے۔
آپ علیہ السلام کا یہ معجزہ اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت و قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی آواز بہت حسین تھی، آواز میں رعب اور دبدبہ بھی تھا۔ جب آپ خوش الحانی سے ’’زبور شریف‘‘ پڑھا کرتے تو پہاڑوں سے بھی تسبیحات کی حسین و جمیل گنگناہٹ سنائی دیتی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کئی کارنامے موجود ہیں، یعنی پہاڑوں کے جسم میں زندگی پیدا فرماتا ہے، پھر انہیں شعور عطا فرماتا ہے، پھر انہیں قدرت نوازتا ہے پھر انہیں بولنے کی طاقت دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیحات پڑھتے ہیں، اس کی مثال قرآن پاک میں ایک اور بھی ہے۔ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبَّہٗ لِلْجَبَلِ جب اس (موسیٰ) کے رب نے اپنی تجلیات کا ظہور پہاڑ پر فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہاڑ میں عقل و فہم پیدا کیے، پھر اسے اپنے صفاتی نور کو دیکھنے کے لیے دیکھنے کی طاقت و سمجھ عطا کیے، دیکھنے پر وہ پہاڑ برداشت نہ کر سکا۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے خوش آوازی سے زبور پڑھنے اور تسبیحات پڑھنے کے ساتھ ساتھ پرندے بھی تسبیحات پڑھتے تھے، آپ علیہ السلام کے قریب آ کر کان لگا کر سنتے تھے، اتنے قریب ہو جاتے تھے کہ آپ پرندوں کو گردن سے پکڑ کر ان سے پیار کرتے۔ (تفسیر کبیر)
بلکہ بعض حضرات نے بیان کیا ہے کہ آپ علیہ السلام کی آواز میں رب نے ایسا عجیب اثر رکھا تھا کہ آپ جب زبور پڑھتے تو چلتا پانی رُک جاتا، درختوں پر یہ اثر ہوتا کہ گویا وہ بھی زبان حال سے آپ کے ساتھ تسبیحات پڑھ رہے ہیں، اور ان کے پتے جھڑنے شروع ہوجاتے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
فائدہ:
علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب یہ پتہ چلا کہ پہاڑ آپ کے ساتھ چلتے اور تسبیحات پڑھتے اور پرندے آپ کے پاس جمع ہو جاتے تھے۔ ’’واجتمعاعھا الیہ ھو حشرھا فیکون علی ھذا التقدیر حاشرھا ھو اللہ‘‘ ان پرندوں کا آپ کے پاس اجتماع وہ حشر ہے ان کا ’’حاشر‘‘ یعنی جمع کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جس ذات نے یہاں غیر ذوی العقول کو عقل عطا کرکے اور غیر ذی روح کو روح عطا کرکے آپ کے تابع بنادیا وہ ذات قیامت میں ذی روح کی روح کیونکر نہیں لوٹا سکتا۔ (تفسیر کبیر بزیادۃ)
تنبیہ: عام طور پر اہل عرب لفظ بولتے ہیں: [شرقت الشمس] ’’سورج طلوع ہو گیا‘‘ اور [اشرقت الشمس] کا معنی لیتے ہیں ’’سورج روشن ہوگیا‘‘۔ آیت کریمہ میں لفظ ’’اشراق‘‘ استعمال ہوا ہے اس سے صلوۃ ضحیٰ پر دلیل پکڑی گئی ہے۔
ایک انسان دنیامیں زندگی گزارنے کی جمیع ضروریات پر عمل نہیں کر سکتا، کوئی کھیتی باڑی کرتا ہے کوئی دانے پیستا ہے، کوئی روٹی پکاتا ہے، کوئی کپڑا بنتا ہے اور کوئی سلاتی کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے۔ تمام کام مل کر تمام کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ جب سب لوگوں نے ایک ہی علاقہ ایک ہی سر زمین میں مجتمع ہو کر رہنا ہے اور مختلف کام سر انجام دینے ہیں تو ان میں اختلافات، جھگڑے ہونا بھی قدرتی امر ہے۔ اس لیے ان میں کوئی ایک ایسا شخص بھی ہونا چاہیے جسے طاقت اور دبدبہ حاصل ہو جو ان کے اختلافات دور کرا سکے، ان کے جھگڑوں میں فیصلہ کرا سکے، یہ وہ بادشاہ ہی ہو سکتا ہے جس کا حکم کل پر نافذ ہوتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مخلوق کی مصلحت کے لیے بادشاہ، سیاستدان کا ہونا ضروری ہے۔
پھر اگر بادشاہ اپنی خواہش کے مطابق احکام نافذ کرے، اپنے دنیاوی منافع حاصل کرے مخلوق کو عظیم ضرر پہنچائے، رعیت کو اپنی ذات پر قربان کر دے، یعنی اپنی بادشاہت کو بچانے کے لیے رعیت کی تباہی کا لحاظ نہ کرے، رعیت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے تو دنیا تباہی و بربادی پر پہنچ جاتی ہے، مخلوق میں قتل و غارت کا وقوع عام ہوتا ہے، آخر کار اس بادشاہ کی تباہی کا وقت بھی آجاتا ہے اس طرح بادشاہ کے مظالم سے ملک کی بربادی کے ساتھ بادشاہ کی اپنی بربادی بھی ہو جاتی ہے۔ اگر بادشاہ شرعی احکام کے مطابق فیصلے کرے تو نظامِ عالَم درست ہو جاتا ہے، بھلائی کے دروازے اچھے طریقے سے کھل جاتے ہیں،
ان مقاصد کے پیش نظر قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کو یہ حکم دیا۔
پہاڑ اور پرندے حضرت
داؤد علیہ السلام کے تابع:
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً کُلٌّ لَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص۱۸، ۱۹)
بے شک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ کو مسخر کر دیے کہ تسبیح کرتے شام کو اور سورج چمکتے اور پرندے جمع کیے ہوتے، اور سب اس کے فرماں بردار تھے۔
اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو آپ کے ساتھ مسخر کر دیا، یعنی پہاڑ آپ کے تابع تھے، آپ جہاں چلتے پہاڑ آپ کے ساتھ چلتے یا آپ جس جگہ پہاڑوں کے لے جانے کا ارادہ فرماتے پہاڑ وہاں چلے جاتے۔
آپ علیہ السلام کا یہ معجزہ اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت و قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی آواز بہت حسین تھی، آواز میں رعب اور دبدبہ بھی تھا۔ جب آپ خوش الحانی سے ’’زبور شریف‘‘ پڑھا کرتے تو پہاڑوں سے بھی تسبیحات کی حسین و جمیل گنگناہٹ سنائی دیتی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کئی کارنامے موجود ہیں، یعنی پہاڑوں کے جسم میں زندگی پیدا فرماتا ہے، پھر انہیں شعور عطا فرماتا ہے، پھر انہیں قدرت نوازتا ہے پھر انہیں بولنے کی طاقت دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیحات پڑھتے ہیں، اس کی مثال قرآن پاک میں ایک اور بھی ہے۔ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبَّہٗ لِلْجَبَلِ جب اس (موسیٰ) کے رب نے اپنی تجلیات کا ظہور پہاڑ پر فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہاڑ میں عقل و فہم پیدا کیے، پھر اسے اپنے صفاتی نور کو دیکھنے کے لیے دیکھنے کی طاقت و سمجھ عطا کیے، دیکھنے پر وہ پہاڑ برداشت نہ کر سکا۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے خوش آوازی سے زبور پڑھنے اور تسبیحات پڑھنے کے ساتھ ساتھ پرندے بھی تسبیحات پڑھتے تھے، آپ علیہ السلام کے قریب آ کر کان لگا کر سنتے تھے، اتنے قریب ہو جاتے تھے کہ آپ پرندوں کو گردن سے پکڑ کر ان سے پیار کرتے۔ (تفسیر کبیر)
بلکہ بعض حضرات نے بیان کیا ہے کہ آپ علیہ السلام کی آواز میں رب نے ایسا عجیب اثر رکھا تھا کہ آپ جب زبور پڑھتے تو چلتا پانی رُک جاتا، درختوں پر یہ اثر ہوتا کہ گویا وہ بھی زبان حال سے آپ کے ساتھ تسبیحات پڑھ رہے ہیں، اور ان کے پتے جھڑنے شروع ہوجاتے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
فائدہ:
علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب یہ پتہ چلا کہ پہاڑ آپ کے ساتھ چلتے اور تسبیحات پڑھتے اور پرندے آپ کے پاس جمع ہو جاتے تھے۔ ’’واجتمعاعھا الیہ ھو حشرھا فیکون علی ھذا التقدیر حاشرھا ھو اللہ‘‘ ان پرندوں کا آپ کے پاس اجتماع وہ حشر ہے ان کا ’’حاشر‘‘ یعنی جمع کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جس ذات نے یہاں غیر ذوی العقول کو عقل عطا کرکے اور غیر ذی روح کو روح عطا کرکے آپ کے تابع بنادیا وہ ذات قیامت میں ذی روح کی روح کیونکر نہیں لوٹا سکتا۔ (تفسیر کبیر بزیادۃ)
تنبیہ: عام طور پر اہل عرب لفظ بولتے ہیں: [شرقت الشمس] ’’سورج طلوع ہو گیا‘‘ اور [اشرقت الشمس] کا معنی لیتے ہیں ’’سورج روشن ہوگیا‘‘۔ آیت کریمہ میں لفظ ’’اشراق‘‘ استعمال ہوا ہے اس سے صلوۃ ضحیٰ پر دلیل پکڑی گئی ہے۔
❤1👍1
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے آپ نے وضو کے لیے پانی طلب کیا اور وضو کرکے’’صلوٰۃ ضحیٰ‘‘ (چاشت کی نماز) ادا فرمائی اور ارشاد فرمایا: اے ام ہانی! ’’ھذہ صلوۃ الاشراق‘‘ یہ نماز اشراق ہے۔
حضرت طاؤس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم چاشت کی نماز کا ذکر قرآن پاک میں پاتے ہو؟ تو حاضرین نے جواب دیا، نہیں۔ تو آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت کی: اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ (پ۲۳ ص۱۸)
یعنی یہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام ادا فرماتے ہیں، آپ علیہ السلام نے کہا کہ میرے دل میں ہمیشہ صلوٰۃ ضحیٰ کے متعلق خیال آتا رہتا تھا کہ اس کا ذکر قرآن پاک میں ہے یانہیں؟ تو میں نے اسے..... یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ میں پالیا۔ (تفسیر کبیر)
’’ویلوح من ھٰھنا ان الاشراق والضحیٰ واحد یعنی ھو فی الحقیقۃ وقت واحد و صلوۃ واحدۃ اولھا وقت الاشراق وآخرھا الی قبیل نصف النھار ولما صلی فی بعض الاحیان فی الوقتین ظنوا ان ھھنا وقتین وصلوتین‘‘ (کمالین حاشیہ جلالین ص ۳۸۱)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشراق اور ضحیٰ ایک ہی ہیں یعنی ایک ہی وقت ہے اور ایک ہی نماز ہے اول وقت کو اشراق کہا جاتا ہے اور آخر کو ضحیٰ کہا گیا ہے آخر وقت زوال سے تھوڑا پہلے تک ہے، جب بعض اوقات یہ نماز اول وقت میں پڑھی گئی اور بعض اوقات آخر میں تو یہ گمان ہوا کہ دو وقت علیحدہ علیحدہ ہیں اور علیحدہ علیحدہ نمازیں ہیں۔ (حالانکہ نماز ایک ہی ہے)
اشراق یا چاشت کی رکعات:
’’اقلھا رکعتان وادنی کمالھا اربع ویزید ماشاء فھو ثمان رکعات واکثرھا اثنتا عشرۃ رکعۃ‘‘ (ماخوذ از روح المعانی) کم از کم دو رکعتیں اور کمال کا ادنیٰ درجہ چار رکعتیں ہے، اس سے زائد جتنی چاہے پڑھے۔ اور آٹھ رکعتیں اور اس سے بھی زائد بارہ رکعتیں ہیں۔
تمام تعداد کی صورتوں پر احادیث مبارکہ دال ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے: اوصاہ بھما وان لا یدعھا آپ نے دو رکعتیں ادا کرنے اور ان کو نہ چھوڑنے کا حکم فرمایا۔
مسلم مسند احمد ابن ماجہ میں حضرت ام ھانی سے مروی ہے۔ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی الضحیٰ اربعا ویزید ما شاء اللہ تعالٰی. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلوٰۃ ضحیٰ چار رکعت پڑھتے تھے اور زیادہ فرماتے جتنا رب تعالیٰ چاہتا۔
ابن عبد البر نے تمہید میں عکرمہ رضی اللہ عنہ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کی روایت کو بیان کیا۔ ’’قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثمان رکعات فقلت ما ھذہ الصلوۃ قال ھذہ صلوۃ الضحی‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں ادا کیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون سی نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ چاشت کی نماز ہے۔
ایک ضعیف روایت میں بارہ رکعت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ (از روح المعانی)
خیال رہے کہ راقم کا مطلب صرف مسئلہ کی تحقیق تھی، جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہوئی ہے اور وہ اِشراق کے وقت علیحدہ نوافل پڑھتے ہیں اور چاشت کے وقت علیحدہ۔ انہیں اس مستحسن فعل سے منع کرنا مقصود نہیں۔ یہ جاہلانہ طرز عمل ہے کہ: فلاں وقت دعاء نہ کرو، فرض کے بعد دعاء ثابت نہیں، سنتوں اور نوافل کے بعد دعاء ثابت نہیں، جنازہ کے بعد دعاء نہیں، جمعرات کو دعاء نہیں، چالیسواں پر دعاء تھی، نہ جانے کیوں خدا سے مانگنے میں بھی جاہلوں کو شرم آتی ہے؟ خدا سے نہ مانگنے والے متکبر جہنم کا ایندھن ہیں
اس مسئلہ پر میری کتاب ’’ شمع ہدایت ‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔
آپ کی بادشاہی کا دبدبہ اور اثر خطاب:
وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ اور ہم نے اس کو اس کی سلطنت کو مضبوط کیا اور اسے حکمت اور قول فیصل دیا۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ چھتیس ہزار آدمی رات کو آپ کی حفاظت کرنے والے ہوتے صبح ہوتی تو آپ ان کو فرماتے کہ تم لوٹ جاؤ تم پر اللہ کا نبی راضی ہے، بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ آپ کی حفاظت کرنے والے چالیس ہزار کی تعداد میں ہوتے، (کبیر)
اتنی تعداد میں لوگ اپنے شوق و محبت کی وجہ سے آپ کی حفاظت کے لیے آتے تھے، اس میں اپنی سعادت سمجھتے اور باعث برکت سمجھتے۔
علامہ آلوسی کا یہ کہنا: کہ یہ عقلاً بعید ہے؛ کیونکہ اتنے آدمیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ قول مجھے درست نظر نہیں آرہا ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نبی کو ضرورت نہیں تھی لیکن آپ کے غلاموں کو آپ کی خدمت کی ضرورت تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس ایک شخص پر گائے کا دعویٰ کیا، اس نے انکار کیا، حضرت داؤد علیہ السلام نے مدعی سے گواہ طلب کیے اس کے پاس گواہ نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان دونوں کو کہا: تم دونوں جاؤ میں اس معاملہ میں غور و فکر کروں گا۔ وہ دونوں آپ
حضرت طاؤس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم چاشت کی نماز کا ذکر قرآن پاک میں پاتے ہو؟ تو حاضرین نے جواب دیا، نہیں۔ تو آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت کی: اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ (پ۲۳ ص۱۸)
یعنی یہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام ادا فرماتے ہیں، آپ علیہ السلام نے کہا کہ میرے دل میں ہمیشہ صلوٰۃ ضحیٰ کے متعلق خیال آتا رہتا تھا کہ اس کا ذکر قرآن پاک میں ہے یانہیں؟ تو میں نے اسے..... یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ میں پالیا۔ (تفسیر کبیر)
’’ویلوح من ھٰھنا ان الاشراق والضحیٰ واحد یعنی ھو فی الحقیقۃ وقت واحد و صلوۃ واحدۃ اولھا وقت الاشراق وآخرھا الی قبیل نصف النھار ولما صلی فی بعض الاحیان فی الوقتین ظنوا ان ھھنا وقتین وصلوتین‘‘ (کمالین حاشیہ جلالین ص ۳۸۱)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشراق اور ضحیٰ ایک ہی ہیں یعنی ایک ہی وقت ہے اور ایک ہی نماز ہے اول وقت کو اشراق کہا جاتا ہے اور آخر کو ضحیٰ کہا گیا ہے آخر وقت زوال سے تھوڑا پہلے تک ہے، جب بعض اوقات یہ نماز اول وقت میں پڑھی گئی اور بعض اوقات آخر میں تو یہ گمان ہوا کہ دو وقت علیحدہ علیحدہ ہیں اور علیحدہ علیحدہ نمازیں ہیں۔ (حالانکہ نماز ایک ہی ہے)
اشراق یا چاشت کی رکعات:
’’اقلھا رکعتان وادنی کمالھا اربع ویزید ماشاء فھو ثمان رکعات واکثرھا اثنتا عشرۃ رکعۃ‘‘ (ماخوذ از روح المعانی) کم از کم دو رکعتیں اور کمال کا ادنیٰ درجہ چار رکعتیں ہے، اس سے زائد جتنی چاہے پڑھے۔ اور آٹھ رکعتیں اور اس سے بھی زائد بارہ رکعتیں ہیں۔
تمام تعداد کی صورتوں پر احادیث مبارکہ دال ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے: اوصاہ بھما وان لا یدعھا آپ نے دو رکعتیں ادا کرنے اور ان کو نہ چھوڑنے کا حکم فرمایا۔
مسلم مسند احمد ابن ماجہ میں حضرت ام ھانی سے مروی ہے۔ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی الضحیٰ اربعا ویزید ما شاء اللہ تعالٰی. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلوٰۃ ضحیٰ چار رکعت پڑھتے تھے اور زیادہ فرماتے جتنا رب تعالیٰ چاہتا۔
ابن عبد البر نے تمہید میں عکرمہ رضی اللہ عنہ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کی روایت کو بیان کیا۔ ’’قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثمان رکعات فقلت ما ھذہ الصلوۃ قال ھذہ صلوۃ الضحی‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں ادا کیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون سی نماز ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ چاشت کی نماز ہے۔
ایک ضعیف روایت میں بارہ رکعت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ (از روح المعانی)
خیال رہے کہ راقم کا مطلب صرف مسئلہ کی تحقیق تھی، جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی ہوئی ہے اور وہ اِشراق کے وقت علیحدہ نوافل پڑھتے ہیں اور چاشت کے وقت علیحدہ۔ انہیں اس مستحسن فعل سے منع کرنا مقصود نہیں۔ یہ جاہلانہ طرز عمل ہے کہ: فلاں وقت دعاء نہ کرو، فرض کے بعد دعاء ثابت نہیں، سنتوں اور نوافل کے بعد دعاء ثابت نہیں، جنازہ کے بعد دعاء نہیں، جمعرات کو دعاء نہیں، چالیسواں پر دعاء تھی، نہ جانے کیوں خدا سے مانگنے میں بھی جاہلوں کو شرم آتی ہے؟ خدا سے نہ مانگنے والے متکبر جہنم کا ایندھن ہیں
اس مسئلہ پر میری کتاب ’’ شمع ہدایت ‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔
آپ کی بادشاہی کا دبدبہ اور اثر خطاب:
وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ اور ہم نے اس کو اس کی سلطنت کو مضبوط کیا اور اسے حکمت اور قول فیصل دیا۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ چھتیس ہزار آدمی رات کو آپ کی حفاظت کرنے والے ہوتے صبح ہوتی تو آپ ان کو فرماتے کہ تم لوٹ جاؤ تم پر اللہ کا نبی راضی ہے، بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ آپ کی حفاظت کرنے والے چالیس ہزار کی تعداد میں ہوتے، (کبیر)
اتنی تعداد میں لوگ اپنے شوق و محبت کی وجہ سے آپ کی حفاظت کے لیے آتے تھے، اس میں اپنی سعادت سمجھتے اور باعث برکت سمجھتے۔
علامہ آلوسی کا یہ کہنا: کہ یہ عقلاً بعید ہے؛ کیونکہ اتنے آدمیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ قول مجھے درست نظر نہیں آرہا ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نبی کو ضرورت نہیں تھی لیکن آپ کے غلاموں کو آپ کی خدمت کی ضرورت تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس ایک شخص پر گائے کا دعویٰ کیا، اس نے انکار کیا، حضرت داؤد علیہ السلام نے مدعی سے گواہ طلب کیے اس کے پاس گواہ نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان دونوں کو کہا: تم دونوں جاؤ میں اس معاملہ میں غور و فکر کروں گا۔ وہ دونوں آپ
❤1👍1