🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-09-1443 ᴴ | 08-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت داؤد علیہ السلام
مولانا بدر الدین قادری
فرمانِ حافظِ ملت: چندہ کرنے سے
عزت گھٹتی نہیں بلکہ بڑھتی ہے!!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت داؤد علیہ السلام
مولانا بدر الدین قادری
فرمانِ حافظِ ملت: چندہ کرنے سے
عزت گھٹتی نہیں بلکہ بڑھتی ہے!!
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت سیدنا داؤد علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام
حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک سو سال عمر پائی، آپ موسیٰ علیہ السلام سے پانچ سو ننانوے (۵۹۹) سال بعد تشریف لائے۔ (اس کے دیگر اقوال بھی منقول ہیں) حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے ہیں آپ نے انسٹھ سال عمر پائی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سات سو سال پہلے تشریف لائے۔ (التخبیر للسیوطی، حاشیہ جلالین، ص۲۷۵)
وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاؤدَ ذَالْاَیْدِ اِنَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص ۱۷) اور ہمارے بندے داؤد، نعمتوں والے کو یاد کرو بے شک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے۔
ذا الاید: کا معنیٰ نعمتوں والا بھی ہے اور طاقت و قوت والا بھی ہے۔
یعنی آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عبادات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کی طاقت کی تعریف فرمائی تو اس سے وہی مراد ہو سکتی ہے، جو قابل تعریف ہو اور قابل تعریف وہی طاقت ہے جس کی وجہ سے انسان عبادات پر عمل کر سکے اور گناہوں سے بچ سکے۔
حضرت داؤد علیہ السلام اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
داؤد علیہ السلام کی عبادت:
آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، یہ دراصل آپ علیہ السلام کا نفس کے خلاف جہاد تھا؛ کیونکہ انسان کا ’’نفس‘‘ بچے کی طرح ہوتا ہے۔ بچے کو ایک دن دودھ پلایا جائے اور دوسرے دن نہ پلایا جائے یہ بہت مشکل ہے، اسی طرح داؤد علیہ السلام نے اپنے نفس سے ایسا جہاد کیا جو عام آدمی کے لیے بہت مشکل تھا؛ کیونکہ ایک دن نفس کو خواہشات سے روکنا اور دوسرے دن خواہشات کی اجازت دینا عظیم کام تھا۔
آپ علیہ السلام نصف رات اللہ تعالیٰ کے حضور قیام فرماتے، یعنی نوافل ادا کرتے، پھر رات کا تہائی حصہ سوتے، پھر رات کا چھٹا حصہ جاگ کر عبادت میں مشغول رہتے۔
داؤد علیہ السلام اور سلیمان
علیہ السلام کی نبوت کا ذکر:
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ (پ۱۹ سورۃ نمل ۱۵)
اور بے شک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہم السلام) کو بڑا علم عطا کیا تھا، اور دونوں نے کہا؛ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی۔
علم سے مراد لوگوں کے درمیان قضاء (فیصلہ) کا علم، پرندوں کی بولیاں جاننے کا علم وغیرہ ’’ہمیں فضیلت دی‘‘ اس سے مراد نبوت اور جنوں شیطانوں کو آپ کے تابع بنانا ہے۔ ’’علم‘‘ سے انسان کو فضیلت حاصل ہوتی ہے، انسان کو چاہیے کہ نعمتوں کے حاصل ہونے پر ان کا شکریہ ادا کرے، کسی نعمت کا اظہار بطور تکبر ناجائز ہے، بطور شکر ذکر کرنا مستحب ہے۔ سنت انبیائے کرام ہے ۔ (از روح البیان، جلالین شریف)
داؤد علیہ السلام کی بادشاہت کا ذکر:
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ (پ۲۳ سورۃ ص۲۶)
اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا، تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکا دےگی، بے شک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ عذاب کے دن کو بھول بیٹھے۔ ’’فقد جمع لداؤد بین النبوۃ والسلطنۃ‘‘ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوت اور بادشاہت دونوں حاصل تھیں۔ ’’ولا تتبع الھوی المقصود من نھیہ اعلام امتہ لانہ معصوم ولتتبعہ فیما امر بہ لانہ اذا کان ھذا الخطاب للمعصوم فغیرہ اولی“ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
آپ علیہ السلام کو رب نے جو فرمایا:
’’خواہش کے پیچھے نہ جانا‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خواہش کے پیچھے چلنے سے امت کی تعلیم کے لیے روکا گیا ہے، کہ وہ غور و فکر کریں۔ اور آپ علیہ السلام کو جو حکم دیے گئے ہیں وہ ان کی تابعداری کریں۔ جب یہ خطاب معصوم کو ہو سکتا ہے تو دوسروں کو تو یقیناً یہ حکم ہونا ہی ہے۔
روایت کیا گیا ہے کہ بنی مروان میں سے کسی خلیفہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ کہا کہ کیا تم نے سنا ہے؟ جو ہمیں خبر دی گئی ہے کہ خلیفہ پر کوئی قلم نہیں چلے گی اور اس پر کوئی معصیت نہیں لکھی جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین خلفاء افضل ہیں یا انبیاء علیہم السلام؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تعلیم امت کے لیے خواہشات کے پیچھے چلنے سے منع کیا ہے تو خلیفہ کیا چیز ہو سکتا ہے؟ (از تفسیر کبیر)
حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک سو سال عمر پائی، آپ موسیٰ علیہ السلام سے پانچ سو ننانوے (۵۹۹) سال بعد تشریف لائے۔ (اس کے دیگر اقوال بھی منقول ہیں) حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے ہیں آپ نے انسٹھ سال عمر پائی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سات سو سال پہلے تشریف لائے۔ (التخبیر للسیوطی، حاشیہ جلالین، ص۲۷۵)
وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاؤدَ ذَالْاَیْدِ اِنَّہٗ اَوَّابٌ (پ۲۳ سورۃ ص ۱۷) اور ہمارے بندے داؤد، نعمتوں والے کو یاد کرو بے شک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے۔
ذا الاید: کا معنیٰ نعمتوں والا بھی ہے اور طاقت و قوت والا بھی ہے۔
یعنی آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عبادات کے ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کی طاقت کی تعریف فرمائی تو اس سے وہی مراد ہو سکتی ہے، جو قابل تعریف ہو اور قابل تعریف وہی طاقت ہے جس کی وجہ سے انسان عبادات پر عمل کر سکے اور گناہوں سے بچ سکے۔
حضرت داؤد علیہ السلام اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
داؤد علیہ السلام کی عبادت:
آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، یہ دراصل آپ علیہ السلام کا نفس کے خلاف جہاد تھا؛ کیونکہ انسان کا ’’نفس‘‘ بچے کی طرح ہوتا ہے۔ بچے کو ایک دن دودھ پلایا جائے اور دوسرے دن نہ پلایا جائے یہ بہت مشکل ہے، اسی طرح داؤد علیہ السلام نے اپنے نفس سے ایسا جہاد کیا جو عام آدمی کے لیے بہت مشکل تھا؛ کیونکہ ایک دن نفس کو خواہشات سے روکنا اور دوسرے دن خواہشات کی اجازت دینا عظیم کام تھا۔
آپ علیہ السلام نصف رات اللہ تعالیٰ کے حضور قیام فرماتے، یعنی نوافل ادا کرتے، پھر رات کا تہائی حصہ سوتے، پھر رات کا چھٹا حصہ جاگ کر عبادت میں مشغول رہتے۔
داؤد علیہ السلام اور سلیمان
علیہ السلام کی نبوت کا ذکر:
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ (پ۱۹ سورۃ نمل ۱۵)
اور بے شک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہم السلام) کو بڑا علم عطا کیا تھا، اور دونوں نے کہا؛ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی۔
علم سے مراد لوگوں کے درمیان قضاء (فیصلہ) کا علم، پرندوں کی بولیاں جاننے کا علم وغیرہ ’’ہمیں فضیلت دی‘‘ اس سے مراد نبوت اور جنوں شیطانوں کو آپ کے تابع بنانا ہے۔ ’’علم‘‘ سے انسان کو فضیلت حاصل ہوتی ہے، انسان کو چاہیے کہ نعمتوں کے حاصل ہونے پر ان کا شکریہ ادا کرے، کسی نعمت کا اظہار بطور تکبر ناجائز ہے، بطور شکر ذکر کرنا مستحب ہے۔ سنت انبیائے کرام ہے ۔ (از روح البیان، جلالین شریف)
داؤد علیہ السلام کی بادشاہت کا ذکر:
یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ (پ۲۳ سورۃ ص۲۶)
اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا، تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکا دےگی، بے شک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ عذاب کے دن کو بھول بیٹھے۔ ’’فقد جمع لداؤد بین النبوۃ والسلطنۃ‘‘ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوت اور بادشاہت دونوں حاصل تھیں۔ ’’ولا تتبع الھوی المقصود من نھیہ اعلام امتہ لانہ معصوم ولتتبعہ فیما امر بہ لانہ اذا کان ھذا الخطاب للمعصوم فغیرہ اولی“ (صاوی، حاشیہ جلالین ص۳۸۲)
آپ علیہ السلام کو رب نے جو فرمایا:
’’خواہش کے پیچھے نہ جانا‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خواہش کے پیچھے چلنے سے امت کی تعلیم کے لیے روکا گیا ہے، کہ وہ غور و فکر کریں۔ اور آپ علیہ السلام کو جو حکم دیے گئے ہیں وہ ان کی تابعداری کریں۔ جب یہ خطاب معصوم کو ہو سکتا ہے تو دوسروں کو تو یقیناً یہ حکم ہونا ہی ہے۔
روایت کیا گیا ہے کہ بنی مروان میں سے کسی خلیفہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ کہا کہ کیا تم نے سنا ہے؟ جو ہمیں خبر دی گئی ہے کہ خلیفہ پر کوئی قلم نہیں چلے گی اور اس پر کوئی معصیت نہیں لکھی جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین خلفاء افضل ہیں یا انبیاء علیہم السلام؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تعلیم امت کے لیے خواہشات کے پیچھے چلنے سے منع کیا ہے تو خلیفہ کیا چیز ہو سکتا ہے؟ (از تفسیر کبیر)
❤1👍1