🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں عورت حمل سے ہوگئی ابھی دوسرا مہینہ چل رہا ہے لیکن اس کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ بچے کو اپنے پیٹ میں رکھ سکے اگر رکھ لیگی تو جان کا خطرہ ہوسکتا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے
جواب جلدی عنایت فرمائیں نوازش ہوگی
سائل : سلمان رضا علیمی نظامی سدھارتھنگر یوپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں رحم مادر میں جنین میں روح پھونکی جانے کے بعد اس کو ساقط کرنا ناجائز و حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ‘ ارشاد الٰہی ہے " وَلاَ تَقْتُلُوْا أَوْلادَکُمْ خَشْیَة إِمْلاقٍ نحن نرزقكم و اياهم "  ترجمہ : اور تم تنگدستی  کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو ۔ (سورۂ بنی اسرائیل‘ 31) ۔ روح پیدا ہونے سے پہلے حمل ساقط کرنا بھی انجام کے لحاظ سے قتل کی مانند ہے‘ لہٰذا بلاوجہ یہ بھی ناجائز و حرام ہی ہے۔ روح کب پیدا ہوتی ہے اس کے متعلق صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک وارد ہے حدثنا عبد اللہ حدثنا رسول اللہ صلی اللہ تعالى علیہ و سلم وهو الصادق المصدوق إن أحدکم یجمع فی بطن أمه أربعین یوما ثم یکون علقة مثل ذلک ثم یکون مضغة مثل ذلک ثم یبعث اللہ إلیه ملکا بأربع کلمات فیکتب عمله و أجله رزقه و شقی أم سعید ثم ینفخ فیه الروح "  ترجمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا سچے مصدوق رسول صلی اللہ تعالى علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقینا تم میں سے کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن منجمد خون کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار کلمات کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجتا ہے وہ فرشتہ اس کا عمل‘ اس کی عمر اس کا رزق لکھتا ہے اور یہ لکھتا ہے کہ وہ نیک بخت ہے یا بدبخت پھر اس میں روح پھونکتا ہے (صحیح بخاری شریف‘ کتاب الانبیاء‘ حدیث نمبر: 3036) اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سو بیس (120) دن میں روح ڈالی جاتی ہے روح پھونکے جانے سے پہلے جبکہ حمل منجمد خون کی شکل میں ہو یا لوتھڑے کی حالت میں ہو تو حمل ساقط کرنے کی گنجائش چند اعذار کی بناء پر ہوسکتی ہے مثلاً ماں انتہائی جسمانی کمزوری سے دوچار ہے حمل کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی یا حاملہ یا بچہ کی جان جانے کا خطرہ ہو یا دودھ کی کمی کی وجہ سے موجودہ بچہ کی جان کو خطرہ ہو اور شوہر معاشی اعتبار سے دودھ کے لئے کوئی اور انتظام نہ کرسکتا ہو۔ ان صورتوں میں ایک سو بیس دن کی مدت سے پہلے اسقاط حمل کی گنجائش اس وقت نکل سکتی ہے جب کہ کوئی ماہر ڈاکٹر یہ تجویز پیش کرے ۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے " امرأۃ مرضعة ظهر بها حبل و انقطع لبنها و تخاف علی ولدها الهلاک و لیس لأبی هذا الولد سعة حتی یستأجر الظئر یباح لها أن تعالج فی استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم یخلق له عضو و خلقه لا یستبین إلا بعد مائة و عشرین یوما أربعون نطفة و أربعون علقة و أربعون مضغة کذا فی خزانة المفتین " اھ ( ج 5 ص 356 ) رد المحتار میں ہے " یباح لها أن تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة و لم یخلق له عضو و قدروا تلک المدۃ بمائة و عشرین یوما و إنما أباحوا ذلک لأنه لیس بآدمی " اھ ( ج 5 ص 305 )
لہذا مذکورہ باتوں ثابت ہوا کہ زید کی عورت کا بغیر کسی عذر شرعی کے حمل ساقط کرنا یا کرانا سخت حرام ہے ہاں اگر کوئی شرعی مجبوری ہے تو جائز ہے
 واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ فیضان سرور مصباحی ✰)
*عورت کمزوری یا پہلے زیادہ آپریشن ہونے کی وجہ سے حمل گرا سکتی یے؟*

سوال 68
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ دو ماہ سے کم کا حمل ہے ڈاکٹر نے عورت کو کہا ہے کہ آپ اتنی طاقت نہیں رکھتیں کہ اس کو پیدا کر سکیں یعنی کہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے خون کی بھی کمی ہے پہلے بھی تین آپریشن ہو چکے ہیں تو کیا حمل گرا سکتے ہیں؟

بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

حمل اگر ایک سو بیس دن کا ہوگیا ہو تو اب اسے ضائع کرنا حرام اور قتل کی طرح ہے کیونکہ ایک سو بیس دن(120) میں اس میں جان پڑ جاتی ہے، 120 دن سے کم کا حمل ہو تو بھی بلا عذر شرعی ساقط کروانا ناجائز ہے البتہ عذر ہو مثلا حمل کی وجہ سے دودھ خشک ہوجانے اور بچہ کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے یا عورت کے بہت زیادہ کمزور ہونے کے سبب اس کی جان خطرے میں پڑنے کا گمان غالب ہے تو حمل ساقط کروانے کی اجازت ہے۔صورت مسئولہ میں اگر واقعی معاملہ خطرناک ہے اور عورت کی جان جانے کا صحیح اندیشہ ہے تو حمل ساقط کروانا جائز ہوگا۔

در مختار میں ہے:"و یکرہ ان تسقی لاسقاط حملھا و جاز لعذر حیث لا یتصور" ترجمہ:عورت کا حمل کو ساقط کرنے کے لئے دوا استعمال کرنا ناجائز ہے اور کوئی عذر ہو تو اعضاء بننے سے پہلے تک جائز ہے۔(درمختار،جلد 9 کتاب الحظر و الاباحۃ،صفحہ 709،دار المعرفہ)

فتاوی شامی میں "جاز لعذر" کے تحت ہے:"کالمرضعۃ اذا ظہر بھا الحبل و انقطع لبنھا و لیس لابی الصبی ما یستاجر بہ الظئر و یخاف ھلاک الولد قالوا یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغۃ او علقۃ و لم یخلق لہ عضو و قدروا تلک المدۃ بمائۃ و عشرین یوما و جاز لانۃ لیس بآدمی و فیہ صیانہ الآدمی۔"ترجمہ:جیسا کہ دودھ پلانے والی کو حمل ٹھہر گیا اور اس کا دودھ خشک ہوگیا اور بچہ کے باپ کی استطاعت نہیں کہ وہ دایہ میں اجرت پر رکھ سکے اور اس میں بچہ کے ہلاک ہونے کا خوف ہے تو فقہاء نے فرمایا کہ عورت کے لئے جائز ہے کہ حمل ساقط کرنے کے لئے دوا استعمال کرلے جب تک حمل خون یا گوشت کا لوتھڑا ہو اور اس کا کوئی عضو نہ بنا ہو اور علماء نے اس کی مدت ایک سو بیس دن بیان کی ہے اور حمل ساقط کروانا اس لئے جائز ہے کہ اس میں روح نہیں پڑی اور اسقاط حمل میں ذی روح کی جان بچانا ہے۔(درمختار،جلد 9 کتاب الحظر و الاباحۃ،صفحہ 710،دار المعرفہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:"جان پڑجانے کے بعد اسقاط حمل حرام ہے، اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے، اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہے تو حرج نہیں۔"(فتاوی رضویہ،جلد 24،صفحہ 207،رضا فاؤنڈیشن)

حبیب الفتاوی میں ہے:"شرعی ضرورت و عذر کی بنا پر یہ عمل کیا جائے کہ زوجین میں سے کوئی فرد یا دونوں حد درجہ کمزور ہوچکے ہیں یا بیمار ہوں یا عورت بار حمل از ابتدا تا انتہا برداشت کرنے کے قابل نہ ہو بلکہ اس کی جان و صحت کو خطرہ میں پڑنے کا ظن غالب ہو تو ایسی صورت میں عمل مذکور(اسقاط حمل) جائز ہوگا۔(حبیب الفتاوی،جلد 4،صفحہ 13،شبیر برادرز)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ
( مورخہ 2 مارچ، 2022 بمطابق 28 رجب المرجب،1443ھ بروز جمعہ)
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-09-1443 ᴴ | 08-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-09-1443 ᴴ | 09-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1