Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں عورت حمل سے ہوگئی ابھی دوسرا مہینہ چل رہا ہے لیکن اس کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ بچے کو اپنے پیٹ میں رکھ سکے اگر رکھ لیگی تو جان کا خطرہ ہوسکتا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے
جواب جلدی عنایت فرمائیں نوازش ہوگی
سائل : سلمان رضا علیمی نظامی سدھارتھنگر یوپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں رحم مادر میں جنین میں روح پھونکی جانے کے بعد اس کو ساقط کرنا ناجائز و حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ‘ ارشاد الٰہی ہے " وَلاَ تَقْتُلُوْا أَوْلادَکُمْ خَشْیَة إِمْلاقٍ نحن نرزقكم و اياهم " ترجمہ : اور تم تنگدستی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو ۔ (سورۂ بنی اسرائیل‘ 31) ۔ روح پیدا ہونے سے پہلے حمل ساقط کرنا بھی انجام کے لحاظ سے قتل کی مانند ہے‘ لہٰذا بلاوجہ یہ بھی ناجائز و حرام ہی ہے۔ روح کب پیدا ہوتی ہے اس کے متعلق صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک وارد ہے حدثنا عبد اللہ حدثنا رسول اللہ صلی اللہ تعالى علیہ و سلم وهو الصادق المصدوق إن أحدکم یجمع فی بطن أمه أربعین یوما ثم یکون علقة مثل ذلک ثم یکون مضغة مثل ذلک ثم یبعث اللہ إلیه ملکا بأربع کلمات فیکتب عمله و أجله رزقه و شقی أم سعید ثم ینفخ فیه الروح " ترجمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا سچے مصدوق رسول صلی اللہ تعالى علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقینا تم میں سے کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن منجمد خون کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار کلمات کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجتا ہے وہ فرشتہ اس کا عمل‘ اس کی عمر اس کا رزق لکھتا ہے اور یہ لکھتا ہے کہ وہ نیک بخت ہے یا بدبخت پھر اس میں روح پھونکتا ہے (صحیح بخاری شریف‘ کتاب الانبیاء‘ حدیث نمبر: 3036) اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سو بیس (120) دن میں روح ڈالی جاتی ہے روح پھونکے جانے سے پہلے جبکہ حمل منجمد خون کی شکل میں ہو یا لوتھڑے کی حالت میں ہو تو حمل ساقط کرنے کی گنجائش چند اعذار کی بناء پر ہوسکتی ہے مثلاً ماں انتہائی جسمانی کمزوری سے دوچار ہے حمل کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی یا حاملہ یا بچہ کی جان جانے کا خطرہ ہو یا دودھ کی کمی کی وجہ سے موجودہ بچہ کی جان کو خطرہ ہو اور شوہر معاشی اعتبار سے دودھ کے لئے کوئی اور انتظام نہ کرسکتا ہو۔ ان صورتوں میں ایک سو بیس دن کی مدت سے پہلے اسقاط حمل کی گنجائش اس وقت نکل سکتی ہے جب کہ کوئی ماہر ڈاکٹر یہ تجویز پیش کرے ۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے " امرأۃ مرضعة ظهر بها حبل و انقطع لبنها و تخاف علی ولدها الهلاک و لیس لأبی هذا الولد سعة حتی یستأجر الظئر یباح لها أن تعالج فی استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم یخلق له عضو و خلقه لا یستبین إلا بعد مائة و عشرین یوما أربعون نطفة و أربعون علقة و أربعون مضغة کذا فی خزانة المفتین " اھ ( ج 5 ص 356 ) رد المحتار میں ہے " یباح لها أن تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة و لم یخلق له عضو و قدروا تلک المدۃ بمائة و عشرین یوما و إنما أباحوا ذلک لأنه لیس بآدمی " اھ ( ج 5 ص 305 )
لہذا مذکورہ باتوں ثابت ہوا کہ زید کی عورت کا بغیر کسی عذر شرعی کے حمل ساقط کرنا یا کرانا سخت حرام ہے ہاں اگر کوئی شرعی مجبوری ہے تو جائز ہے
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
جواب جلدی عنایت فرمائیں نوازش ہوگی
سائل : سلمان رضا علیمی نظامی سدھارتھنگر یوپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* صورت مسئولہ میں رحم مادر میں جنین میں روح پھونکی جانے کے بعد اس کو ساقط کرنا ناجائز و حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ‘ ارشاد الٰہی ہے " وَلاَ تَقْتُلُوْا أَوْلادَکُمْ خَشْیَة إِمْلاقٍ نحن نرزقكم و اياهم " ترجمہ : اور تم تنگدستی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو ۔ (سورۂ بنی اسرائیل‘ 31) ۔ روح پیدا ہونے سے پہلے حمل ساقط کرنا بھی انجام کے لحاظ سے قتل کی مانند ہے‘ لہٰذا بلاوجہ یہ بھی ناجائز و حرام ہی ہے۔ روح کب پیدا ہوتی ہے اس کے متعلق صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک وارد ہے حدثنا عبد اللہ حدثنا رسول اللہ صلی اللہ تعالى علیہ و سلم وهو الصادق المصدوق إن أحدکم یجمع فی بطن أمه أربعین یوما ثم یکون علقة مثل ذلک ثم یکون مضغة مثل ذلک ثم یبعث اللہ إلیه ملکا بأربع کلمات فیکتب عمله و أجله رزقه و شقی أم سعید ثم ینفخ فیه الروح " ترجمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا سچے مصدوق رسول صلی اللہ تعالى علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقینا تم میں سے کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن منجمد خون کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار کلمات کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجتا ہے وہ فرشتہ اس کا عمل‘ اس کی عمر اس کا رزق لکھتا ہے اور یہ لکھتا ہے کہ وہ نیک بخت ہے یا بدبخت پھر اس میں روح پھونکتا ہے (صحیح بخاری شریف‘ کتاب الانبیاء‘ حدیث نمبر: 3036) اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سو بیس (120) دن میں روح ڈالی جاتی ہے روح پھونکے جانے سے پہلے جبکہ حمل منجمد خون کی شکل میں ہو یا لوتھڑے کی حالت میں ہو تو حمل ساقط کرنے کی گنجائش چند اعذار کی بناء پر ہوسکتی ہے مثلاً ماں انتہائی جسمانی کمزوری سے دوچار ہے حمل کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی یا حاملہ یا بچہ کی جان جانے کا خطرہ ہو یا دودھ کی کمی کی وجہ سے موجودہ بچہ کی جان کو خطرہ ہو اور شوہر معاشی اعتبار سے دودھ کے لئے کوئی اور انتظام نہ کرسکتا ہو۔ ان صورتوں میں ایک سو بیس دن کی مدت سے پہلے اسقاط حمل کی گنجائش اس وقت نکل سکتی ہے جب کہ کوئی ماہر ڈاکٹر یہ تجویز پیش کرے ۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے " امرأۃ مرضعة ظهر بها حبل و انقطع لبنها و تخاف علی ولدها الهلاک و لیس لأبی هذا الولد سعة حتی یستأجر الظئر یباح لها أن تعالج فی استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم یخلق له عضو و خلقه لا یستبین إلا بعد مائة و عشرین یوما أربعون نطفة و أربعون علقة و أربعون مضغة کذا فی خزانة المفتین " اھ ( ج 5 ص 356 ) رد المحتار میں ہے " یباح لها أن تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة و لم یخلق له عضو و قدروا تلک المدۃ بمائة و عشرین یوما و إنما أباحوا ذلک لأنه لیس بآدمی " اھ ( ج 5 ص 305 )
لہذا مذکورہ باتوں ثابت ہوا کہ زید کی عورت کا بغیر کسی عذر شرعی کے حمل ساقط کرنا یا کرانا سخت حرام ہے ہاں اگر کوئی شرعی مجبوری ہے تو جائز ہے
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ویسٹ ممبئی فون نمبر 7666456313
شائع کردہ:ایف ایم فاؤنڈیشن
❤2👍1