🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ْ #فیضان_رمضان_المبارک ㉛ #رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ رمضان کا پہلا جمعہ مبارک ہو! آج اللہ پاک لاکھوں کو بخشےگا شب جمعہ اور روز جمعہ کی ہر گھڑی دس لاکھ کی مغفرت ہر شے کا ایک دروازہ ہے! اور عبادت کا دروازہ روزہ ہے ... تین چیزوں کو اللہ محبوب رکھتا…
ْ #فیضان_رمضان_المبارک ㉜
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رمضان کا پہلا جمعہ مبارک ہو!
مہینوں کا سردار رمضان ہے!
اور دنوں کا سردار جمعہ ہے!!
جمعہ مبارک | مسلمانوں کے لئے دعا
جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن
ہر لمحہ دس لاکھ کی مغفرت ...
شب جمعہ کا درود شریف ...
منافق اپنے کو قابل اعتبار ثابت کرنے
کے لئے بات بات پر قسم کھاتا ہے ...
ہر جمعہ کو ایک حج اور ایک عمرہ
ایمان کے ستر سے زائد شعبے | حیاء
جمعہ | عصر کے بعد سے غروب تک
صبر سے بہتر کوئی وسیع چیز نہیں
سلام کو عام کرو سلامتی پا لوگے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔍 #جمعہ_مبارک ❷ #Juma
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رمضان کا پہلا جمعہ مبارک ہو!
مہینوں کا سردار رمضان ہے!
اور دنوں کا سردار جمعہ ہے!!
جمعہ مبارک | مسلمانوں کے لئے دعا
جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن
ہر لمحہ دس لاکھ کی مغفرت ...
شب جمعہ کا درود شریف ...
منافق اپنے کو قابل اعتبار ثابت کرنے
کے لئے بات بات پر قسم کھاتا ہے ...
ہر جمعہ کو ایک حج اور ایک عمرہ
ایمان کے ستر سے زائد شعبے | حیاء
جمعہ | عصر کے بعد سے غروب تک
صبر سے بہتر کوئی وسیع چیز نہیں
سلام کو عام کرو سلامتی پا لوگے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔍 #جمعہ_مبارک ❷ #Juma
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز عصر کے بعد قرآن مجید پڑھنا کیسا ہے ؟ مع دلیل جواب عنایت فرمائیں
مہربانی ہوگی ۔
سائل : آپ کا خادم محمد مظہر حسین متعلم دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ویسٹ ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* عصر بعد قرآن مجید کی تلاوت کرنا یا ذکر و اذکار کرنا بلا کراہت جائز ہے خواہ دیکھ کر یا بغیر دیکھ کر مگر اوقات مکروہ کے وقت تلاوت کرنا خلاف اولیٰ ہے ، یعنی جائز ہے مگر بہتر نہیں ، اس وقت افضل یہ ہے کہ قرآن پاک پڑھنے والا ، تلاوت قرآن مجید موقوف کرکے ذکر و دُرود و تسبیحات وغیرھا پڑھنے میں مشغول رہے بہتر ہے جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " ذکر الله من طلوع الفجر الی طوع الشمس اولی من تلاوة القرآن و تستحب القراءة عند الطلوع او المغرب ۔۔۔۔۔ فان الاولی تفید استحباب الذکر دون القراءة و ھو الذی تقدم فی کتاب الصلوة و اقتصر علیه فی القنیة و قال : الصلوة علی النبی صلی الله عليه وسلم و الدعاء و التسبیح افضل من قراءة القران فی الاوقات التی نھی عن الصلوة فیھا " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 9 ص 606 : کتاب الحظر و الاباحۃ ، باب الاستبراء وغیرہ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور اسی میں ہے کہ " و فیه عن البغیة : الصلاة فیها علی النبی أفضل من قراءة القرآن و کأنه لأنها من أرکان الصللاة ، فالأولی ترك ماکان رکناً لها " اھ اور رد المحتار میں ہے کہ " کالصلاة الدعاء و التسبیح کما هو فی البحر عن البغیة " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 35 : کتاب الصلاة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور البحر الرائق میں ہے کہ " وفي البغية: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن۔ ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة، فالأولى ترك ما كان ركناً لها، والتعبير بالاستواء أولى من التعبير بوقت الزوال ؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعاً، كذا في شرح منية المصلی " اھ ( بحر الرائق ج 2 ص 288 ) اور فتاوی رضویہ میں ہے کہ " بعد نماز عصر تلاوت قرآن عظیم جائز ہے دیکھ کر ہو خواہ یاد پر مگر جب آفتاب قریب غروب پہنچے اور وقت کراہت آئے اُس وقت تلاوت ملتوی کی جائے اور اذکارِ الٰہیہ کی جائیں کہ آفتاب نکلتے اور ڈوبتے اور ٹھیک دوپہر کے وقت نماز ناجائز ہے اور تلاوت مکروہ " اھ ( فتاوی رضویہ ج 6 ص 330 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں ، بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 455 : نماز کے وقتوں کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز عصر کے بعد قرآن مجید پڑھنا کیسا ہے ؟ مع دلیل جواب عنایت فرمائیں
مہربانی ہوگی ۔
سائل : آپ کا خادم محمد مظہر حسین متعلم دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ویسٹ ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* عصر بعد قرآن مجید کی تلاوت کرنا یا ذکر و اذکار کرنا بلا کراہت جائز ہے خواہ دیکھ کر یا بغیر دیکھ کر مگر اوقات مکروہ کے وقت تلاوت کرنا خلاف اولیٰ ہے ، یعنی جائز ہے مگر بہتر نہیں ، اس وقت افضل یہ ہے کہ قرآن پاک پڑھنے والا ، تلاوت قرآن مجید موقوف کرکے ذکر و دُرود و تسبیحات وغیرھا پڑھنے میں مشغول رہے بہتر ہے جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " ذکر الله من طلوع الفجر الی طوع الشمس اولی من تلاوة القرآن و تستحب القراءة عند الطلوع او المغرب ۔۔۔۔۔ فان الاولی تفید استحباب الذکر دون القراءة و ھو الذی تقدم فی کتاب الصلوة و اقتصر علیه فی القنیة و قال : الصلوة علی النبی صلی الله عليه وسلم و الدعاء و التسبیح افضل من قراءة القران فی الاوقات التی نھی عن الصلوة فیھا " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 9 ص 606 : کتاب الحظر و الاباحۃ ، باب الاستبراء وغیرہ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور اسی میں ہے کہ " و فیه عن البغیة : الصلاة فیها علی النبی أفضل من قراءة القرآن و کأنه لأنها من أرکان الصللاة ، فالأولی ترك ماکان رکناً لها " اھ اور رد المحتار میں ہے کہ " کالصلاة الدعاء و التسبیح کما هو فی البحر عن البغیة " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 35 : کتاب الصلاة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور البحر الرائق میں ہے کہ " وفي البغية: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن۔ ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة، فالأولى ترك ما كان ركناً لها، والتعبير بالاستواء أولى من التعبير بوقت الزوال ؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعاً، كذا في شرح منية المصلی " اھ ( بحر الرائق ج 2 ص 288 ) اور فتاوی رضویہ میں ہے کہ " بعد نماز عصر تلاوت قرآن عظیم جائز ہے دیکھ کر ہو خواہ یاد پر مگر جب آفتاب قریب غروب پہنچے اور وقت کراہت آئے اُس وقت تلاوت ملتوی کی جائے اور اذکارِ الٰہیہ کی جائیں کہ آفتاب نکلتے اور ڈوبتے اور ٹھیک دوپہر کے وقت نماز ناجائز ہے اور تلاوت مکروہ " اھ ( فتاوی رضویہ ج 6 ص 330 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں ، بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 455 : نماز کے وقتوں کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1👍1
فقہ شرعی سے منع کرنا:
محمد بن عبد الوہاب اپنے پیروؤں کو کتب فقہ دیکھنے سے منع کرتا تھا. اس نے فقہ کی بہت سی کتابیں جلا دیں اور وہابیوں کو اجازت دے دی کہ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کے معنیٰ گڑھ لیا کرے.
https://t.me/Faize_Millat_Library/2352 ↑یہ کتاب پیڈِیایف میں
وہابی دیوبندی کی نشانی صـ³⁵
حضور نبی کریم ﷺ کی زبانی
✍ علامہ فیض احمد اویسی
رضوی رحمة الـلّٰـهِ تعالیٰ عـلـیه
محمد بن عبد الوہاب اپنے پیروؤں کو کتب فقہ دیکھنے سے منع کرتا تھا. اس نے فقہ کی بہت سی کتابیں جلا دیں اور وہابیوں کو اجازت دے دی کہ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کے معنیٰ گڑھ لیا کرے.
https://t.me/Faize_Millat_Library/2352 ↑یہ کتاب پیڈِیایف میں
وہابی دیوبندی کی نشانی صـ³⁵
حضور نبی کریم ﷺ کی زبانی
✍ علامہ فیض احمد اویسی
رضوی رحمة الـلّٰـهِ تعالیٰ عـلـیه
😢1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1