ایک ( یمنی ) شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے حجرِ اسود کے استلام کے متعلق پوچھا ، تو آپ نے فرمایا:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا استلام کرتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔
وہ کہنے لگا:
اگر میں لوگوں کے ہجوم میں پھنس جاؤں اور استلام سے عاجز آجاؤں تو کیا کروں؟
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اِس اگر مگر کو جاکر یمن میں رکھو ، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجراسود کا استلام کرتے اور اسے چومتے ہی دیکھا ہے ۔
( صحیح البخاری ، ر 1611)
اللہ اللہ ، جب محبت کی بات آجائے تو کوئی اگر مگر نہیں چلتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس وہی ہوتاہے جو محبوب کی رضا ہو ؎
مکتبِ عشق میں وامقؔ نے یہ پائی تعلیم
عینِ ایمان ہے فدائے رُخِ جاناں ہونا !
✍️ لقمان شاہد
30-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3415932338686931&id=100008105947430
میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا استلام کرتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔
وہ کہنے لگا:
اگر میں لوگوں کے ہجوم میں پھنس جاؤں اور استلام سے عاجز آجاؤں تو کیا کروں؟
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اِس اگر مگر کو جاکر یمن میں رکھو ، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجراسود کا استلام کرتے اور اسے چومتے ہی دیکھا ہے ۔
( صحیح البخاری ، ر 1611)
اللہ اللہ ، جب محبت کی بات آجائے تو کوئی اگر مگر نہیں چلتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس وہی ہوتاہے جو محبوب کی رضا ہو ؎
مکتبِ عشق میں وامقؔ نے یہ پائی تعلیم
عینِ ایمان ہے فدائے رُخِ جاناں ہونا !
✍️ لقمان شاہد
30-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3415932338686931&id=100008105947430
❤1👍1
سیدِعالم ﷺ کی خواب میں زیارت کرنا بہت بڑا شرف ہے ۔۔۔۔۔۔ زندگی بھر کی نیکیاں اس ایک نیکی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔
اس سعادت کا فقط نیکوں کے حصے میں آنا ضروری نہیں ، بعض گناہ گار بھی نواز دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ زیارت کا سبب اُن کے کرم کے ساتھ ، نیکیاں بھی بنتی ہیں ۔
اِس لیے طالبِ دیدار کو گناہوں سے بچنا چاہیے اور کثرت سے نیکیاں کرتےرہناچاہیے ۔
بالخصوص: اپنا دل مسلمانوں کے بغض سےپاک رکھنا چاہیے ، کسی مسلمان کی ( چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو ) غیبت نہیں کرنی چاہیے ، چغلی نہیں کھانی چاہیے ، کسی مسلمان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے ، نہ کسی کا برا سوچنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت بہت پیاری ہے ، اتنے بچے ماں کو پیارے نہیں ہوتے جتنے حضور کو اپنے امتی پیارے ہیں ؛ آپ کی امت سے ، آپ کی خاطر جتنی محبت کریں گے اتنا ہی آپ ﷺ کا قُرب نصیب ہوگا ۔
جسے حق کے دِیدار کی آرزو ہو
وہ دیکھے مِری جان ! چہرہ تمھارا
خدا ہم کو بخشے وہ چشمِ خدا بِیں
رہے کچھ نہ پردہ ہمارا تمھارا 😢
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
31-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3416567275290104&id=100008105947430
اس سعادت کا فقط نیکوں کے حصے میں آنا ضروری نہیں ، بعض گناہ گار بھی نواز دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ زیارت کا سبب اُن کے کرم کے ساتھ ، نیکیاں بھی بنتی ہیں ۔
اِس لیے طالبِ دیدار کو گناہوں سے بچنا چاہیے اور کثرت سے نیکیاں کرتےرہناچاہیے ۔
بالخصوص: اپنا دل مسلمانوں کے بغض سےپاک رکھنا چاہیے ، کسی مسلمان کی ( چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو ) غیبت نہیں کرنی چاہیے ، چغلی نہیں کھانی چاہیے ، کسی مسلمان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے ، نہ کسی کا برا سوچنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت بہت پیاری ہے ، اتنے بچے ماں کو پیارے نہیں ہوتے جتنے حضور کو اپنے امتی پیارے ہیں ؛ آپ کی امت سے ، آپ کی خاطر جتنی محبت کریں گے اتنا ہی آپ ﷺ کا قُرب نصیب ہوگا ۔
جسے حق کے دِیدار کی آرزو ہو
وہ دیکھے مِری جان ! چہرہ تمھارا
خدا ہم کو بخشے وہ چشمِ خدا بِیں
رہے کچھ نہ پردہ ہمارا تمھارا 😢
خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
31-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3416567275290104&id=100008105947430
❤1👍1
نبی پاک ﷺ حج سے واپس تشریف لائے تو سیدہ اُمِ سِنان سے پوچھا:
تجھے حج کرنے سے کس چیز نے روکے رکھا ( تُو ہمارے ساتھے حج کرنے کیوں نہیں گئی ) ؟ ۔
انھوں نےعرض کی: حضور ! میرےخاوند کے پاس دو ہی اونٹ تھے ، ایک پر وہ خود حج کرنے چلے گئے اور دوسرے اونٹ سے ہم ( کنویں سے پانی نکال کر ) اپنی زمین سیراب کرتے رہے ۔
سیدعالم ﷺ نے فرمایا:
( جب رمضان شریف آئے تو عمرہ کرلینا ) بے شک رمضان شریف میں عمرہ کرنا " میرے ساتھ " حج کرنے کے برابر ہے ۔
( صحیح البخاری ، ر 1863 ۔ و دیگر کتب احادیث )
اللہ اکبر ، ماہِ رمضان کے عمرے کی فضیلت !!
ویسے بھی زندگی میں ایک بار عمرہ شریف ضرور کرنا چاہیے ، اور بار بار یہ سعادت ملے تو سبحان اللہ ۔
ہمارے جمیع فقہاے احناف کے نزدیک عمرہ شریف سنت مؤکدہ ہے ، ( اور ان کی دلیل ترمذی شریف کی حدیث ہے ) اور اسے ہی قولِ مختار قرار دیتے ہیں ؛ البتہ بعض احناف رحمھم اللہ نے عمرہ شریف کے واجب ہونے کا بھی قول کیا ہے ۔
علامہ احمد طحطاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
( فصل العمرۃ سنۃ ) ای: مؤکدۃ علی المذھب ، وصحح فی الجوھرۃ وجوبھا ۔
( حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح ، فصل العمرۃ ، ج 2 ، ص 421 ، ط مکتبہ غوثیہ کراچی )
سیدنا و مولانا عبداللہ بن عمر پاک صاحبِ استطاعت کے لیے عمرہ کو واجب ہی قرار دیتے تھے ۔۔۔۔۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بھی فرماتے تھے کہ:
جس طرح صاحب استطاعت پر حج ہے ، اسی طرح عمرہ شریف بھی واجب ہے ۔ ( انظر: المستدرک علی الصحیحین ، ب الحج والعمرۃ فریضتان ، ج 1 ، ر 1746 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ۔ قال الحاکم ھذا اسناد صحیح علی شرط الشیخین ۔ وافقہ الذھبی رحمہ اللہ )
خدا توفیق دے تو اِسی رمضان میں عمرہ شریف ادا کرلیں ، زندگی کا کیا بھروسہ آئندہ رمضان دیکھنا نصیب ہو ، نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ ؎
دو پل کے ہیں یہ سب مَہ و اختر ، نہ بُھولنا
سورج غروب ہونے کا منظر نہ بُھولنا !
✍️ لقمان شاہد
1-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3417427148537450&id=100008105947430
تجھے حج کرنے سے کس چیز نے روکے رکھا ( تُو ہمارے ساتھے حج کرنے کیوں نہیں گئی ) ؟ ۔
انھوں نےعرض کی: حضور ! میرےخاوند کے پاس دو ہی اونٹ تھے ، ایک پر وہ خود حج کرنے چلے گئے اور دوسرے اونٹ سے ہم ( کنویں سے پانی نکال کر ) اپنی زمین سیراب کرتے رہے ۔
سیدعالم ﷺ نے فرمایا:
( جب رمضان شریف آئے تو عمرہ کرلینا ) بے شک رمضان شریف میں عمرہ کرنا " میرے ساتھ " حج کرنے کے برابر ہے ۔
( صحیح البخاری ، ر 1863 ۔ و دیگر کتب احادیث )
اللہ اکبر ، ماہِ رمضان کے عمرے کی فضیلت !!
ویسے بھی زندگی میں ایک بار عمرہ شریف ضرور کرنا چاہیے ، اور بار بار یہ سعادت ملے تو سبحان اللہ ۔
ہمارے جمیع فقہاے احناف کے نزدیک عمرہ شریف سنت مؤکدہ ہے ، ( اور ان کی دلیل ترمذی شریف کی حدیث ہے ) اور اسے ہی قولِ مختار قرار دیتے ہیں ؛ البتہ بعض احناف رحمھم اللہ نے عمرہ شریف کے واجب ہونے کا بھی قول کیا ہے ۔
علامہ احمد طحطاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
( فصل العمرۃ سنۃ ) ای: مؤکدۃ علی المذھب ، وصحح فی الجوھرۃ وجوبھا ۔
( حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح ، فصل العمرۃ ، ج 2 ، ص 421 ، ط مکتبہ غوثیہ کراچی )
سیدنا و مولانا عبداللہ بن عمر پاک صاحبِ استطاعت کے لیے عمرہ کو واجب ہی قرار دیتے تھے ۔۔۔۔۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بھی فرماتے تھے کہ:
جس طرح صاحب استطاعت پر حج ہے ، اسی طرح عمرہ شریف بھی واجب ہے ۔ ( انظر: المستدرک علی الصحیحین ، ب الحج والعمرۃ فریضتان ، ج 1 ، ر 1746 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ۔ قال الحاکم ھذا اسناد صحیح علی شرط الشیخین ۔ وافقہ الذھبی رحمہ اللہ )
خدا توفیق دے تو اِسی رمضان میں عمرہ شریف ادا کرلیں ، زندگی کا کیا بھروسہ آئندہ رمضان دیکھنا نصیب ہو ، نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ ؎
دو پل کے ہیں یہ سب مَہ و اختر ، نہ بُھولنا
سورج غروب ہونے کا منظر نہ بُھولنا !
✍️ لقمان شاہد
1-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3417427148537450&id=100008105947430
❤1👍1
🌸 روزہ رکھ کر سوئے رہنا ، سُستی میں مبتلا رہنا اور کام کاج سے جی چراتے پھرنا کوئی قابلِ تعریف عمل نہیں ۔
روزہ رکھ کر معمول کے مطابق اپنا کام کاج کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روزہ اللہ کے لیے کی جانے والی ایک مشقت ہے ، اِس مشقت کو خوش دلی سے برداشت کریں ؛ روزے میں جتنی بھوک پیاس زیادہ لگے گی اتنا ہی اجر زیادہ ملے گا ۔
🌸 سحری کے وقت کھانا پینا حسبِ ضرورت رکھیں ، بہت زیادہ پیٹ بھر لینا دانش مندی نہیں ۔
بعض لوگ سحری کے وقت کثرت سے پانی پیتے رہتے ہیں کہ دن کو پیاس نہ لگے ، ایسے نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ انسان جتنابھی پانی پی لے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے ، صرف اونٹ پیے ہوئے پانی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، انسان نہیں ؛ آپ حسب ضرورت ہی پانی استعمال کیا کریں ۔
سحری کے وقت زیادہ نمک مرچ والی چیزیں استعمال نہ کی جائیں تو ویسے بھی دن کو پیاس کم لگتی ہے ۔
🌸 حدیثِ پاک میں کھجور کو بندۂ مومن کی بہترین سحری کہا گیاہے ، سحری میں خشک روٹی کے ساتھ کھجور لے لی جائے تو غذائیت سے بھرپور سحری ہوجاتی ہے جو بھوک پیاس اور کمزوری میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔
✍️ لقمان شاہد
4-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3420057658274399&id=100008105947430
روزہ رکھ کر معمول کے مطابق اپنا کام کاج کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روزہ اللہ کے لیے کی جانے والی ایک مشقت ہے ، اِس مشقت کو خوش دلی سے برداشت کریں ؛ روزے میں جتنی بھوک پیاس زیادہ لگے گی اتنا ہی اجر زیادہ ملے گا ۔
🌸 سحری کے وقت کھانا پینا حسبِ ضرورت رکھیں ، بہت زیادہ پیٹ بھر لینا دانش مندی نہیں ۔
بعض لوگ سحری کے وقت کثرت سے پانی پیتے رہتے ہیں کہ دن کو پیاس نہ لگے ، ایسے نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ انسان جتنابھی پانی پی لے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے ، صرف اونٹ پیے ہوئے پانی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، انسان نہیں ؛ آپ حسب ضرورت ہی پانی استعمال کیا کریں ۔
سحری کے وقت زیادہ نمک مرچ والی چیزیں استعمال نہ کی جائیں تو ویسے بھی دن کو پیاس کم لگتی ہے ۔
🌸 حدیثِ پاک میں کھجور کو بندۂ مومن کی بہترین سحری کہا گیاہے ، سحری میں خشک روٹی کے ساتھ کھجور لے لی جائے تو غذائیت سے بھرپور سحری ہوجاتی ہے جو بھوک پیاس اور کمزوری میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔
✍️ لقمان شاہد
4-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3420057658274399&id=100008105947430
❤1👍1
قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا چاہیں تب بھی ٹھیک ، بھلے روزانہ کی ایک آیت پڑھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن پاک کی کثرت سے تلاوت کرنا چاہیں تب بھی درست ہے ، چاہے روزانہ تیس پارے مکمل کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن پاک مزے لے لے کر ، مختلف لہجوں میں پڑھنا چاہیں تب بھی اجازت ہے چاہے ایک ہی آیت یاسورت دھراتے رہیں ۔
یہ وہ مقدس کتاب ہے جسے پڑھنا ، سننا ، دیکھنا ، چھونا ، چومنا ، سب عبادت ہے ۔
✍️ لقمان شاہد
5-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3420780864868745&id=100008105947430
یہ وہ مقدس کتاب ہے جسے پڑھنا ، سننا ، دیکھنا ، چھونا ، چومنا ، سب عبادت ہے ۔
✍️ لقمان شاہد
5-4-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3420780864868745&id=100008105947430
❤1👍1
قران پاک میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں ، ان کے علاوہ کسی کو زکوۃ دینا جائز نہیں ؛ حتی کہ مسجد ، مدرسہ ، ہسپتال ، مسافر خانہ اور جنازہ گاہ کی تعمیر پر بھی مال زکوٰۃ نہیں لگایا جاسکتا ۔
💰مصارف زکوٰۃ 💰
1: فقیر ، یعنی وہ شخص جس کے پاس تھوڑا بہت مال ہو ، لیکن وہ شرعی نصاب سے کم ہو ۔
2: مسکین ، یعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔
3: عاملین ، یعنی وہ لوگ جنھیں حاکمِ اسلام نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے مقرر کیا ہو ۔
4: مؤلفۃ القلوب ، یعنی وہ لوگ جن کا دل اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو ۔
5: رقاب ، یعنی وہ غلام جسے کچھ مال کے عوض آزادی مل سکتی ہو تو اُسے آزاد کروانے کےلیے مالِ زکوۃ خرچ کیا جائے ۔
6: غارمین ، یعنی جو مقروض ہوں اور قرض ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو مالِ زکوۃ سے ان کا قرض ادا کیا جائے ۔
7: فی سبیل اللہ ، یعنی اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے مجاہد اور حاجی وغیرہ ۔
8 : اِبن سبیل ، یعنی ایسے مسافر جن کے پاس دورانِ سفر مال نہ ہو ۔
اِن کے تفصیلی احکام کُتب فقہ میں دیکھے جاسکتے ہیں ، یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ حکمِ الہی کے مطابق زکوۃ کے صرف یہی مصارف ہیں ، انھیں ذہن نشین رکھنا چاہیے ۔
✍️ لقمان شاہد
6-4-2022ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3421541488126016&id=100008105947430
💰مصارف زکوٰۃ 💰
1: فقیر ، یعنی وہ شخص جس کے پاس تھوڑا بہت مال ہو ، لیکن وہ شرعی نصاب سے کم ہو ۔
2: مسکین ، یعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔
3: عاملین ، یعنی وہ لوگ جنھیں حاکمِ اسلام نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے مقرر کیا ہو ۔
4: مؤلفۃ القلوب ، یعنی وہ لوگ جن کا دل اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو ۔
5: رقاب ، یعنی وہ غلام جسے کچھ مال کے عوض آزادی مل سکتی ہو تو اُسے آزاد کروانے کےلیے مالِ زکوۃ خرچ کیا جائے ۔
6: غارمین ، یعنی جو مقروض ہوں اور قرض ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو مالِ زکوۃ سے ان کا قرض ادا کیا جائے ۔
7: فی سبیل اللہ ، یعنی اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے مجاہد اور حاجی وغیرہ ۔
8 : اِبن سبیل ، یعنی ایسے مسافر جن کے پاس دورانِ سفر مال نہ ہو ۔
اِن کے تفصیلی احکام کُتب فقہ میں دیکھے جاسکتے ہیں ، یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ حکمِ الہی کے مطابق زکوۃ کے صرف یہی مصارف ہیں ، انھیں ذہن نشین رکھنا چاہیے ۔
✍️ لقمان شاہد
6-4-2022ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3421541488126016&id=100008105947430
❤1👍1
مختصر سوانح حیات
حضور نظمی میاں علیہالرحمہ
سید ملت حضرت سید شاہ آل رسول حسنین میاں نظمیؔ مارہروی قدس سرہٗ
ولادتِ مبارکہ:
حضرت سید شاہ آلِ رسول حسنین میاں نظمی برکاتی مارہروی کی ولادت 6؍ رمضان المبارک 1365ھ بمطابق 4؍ اگست 1946ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حافظ عبد الرحمن عرف حافظ کلو سے قرآن مجید پڑھا، فارسی اپنے چچا حضور احسن العلماء سے اور انٹر ایم۔جی۔ ایچ۔ ایم انٹر کالج سے کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اسلامک اسٹڈیز اور انگلش لٹریچر میں بی۔ اے۔ کیا پھر یو۔ پی۔ ایس۔ سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
زوجہ کا نام:
سیدہ آمنہ سلطان بشریٰ خاتون۔
اولادِ امجاد: تین:
(۱) سید سبطین حیدر (۲) سید صفی حیدر (۳) سید ذو الفقار حیدر۔ (ایک بیٹے کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا)
بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت اپنے والد ماجد حضور سید العلماء سے تھی اور عم مکرم حضور احسن العلماء نے بھی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔
مختلف زبانوں میں مہارت:
عربی، فارسی، اردو، ہندی، انگلش، گجراتی، سنسکرت اور مراٹھی زبانوں میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔
تصانیف و تالیفات:
آپ نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں سے متعدد انگریزی زبان میں ہیں۔
نمایاں وصف:
نعت گوئی (اعلیٰ حضرت کے کلام کے بعد محفلوں میں سب سے زیادہ آپ کا کلام پڑھا اور سنا جاتا ہے)۔
مشہور خلفاء:
تینوں صاحب زادگان کے علاوہ (۱)حضرت سید محمد اویس مصطفی صاحب زیدی واسطی، بلگرام شریف (۲) مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی، گھوسی (۳) علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب، گھوسی (۴) الحاج سید الشاہ حسین صاحب، سلطان پور (۵) مولوی شبیر احمد قادری صاحب (۶) قاری محمد اختر برکاتی، مگہر (۷) قاری عبد القادر صاحب ، بمبئی (۸) صوفی محمد اسلام میاں کرلا، ممبئی (۹) مولانا محمد شاکر رضا نوری (۱۰) مفتی محمد زبیر صاحب قادری نوری، ممبئی (۱۱) الحاج محمد شوکت حسین خان صاحب، پاکستان (۱۲) الحاج درویش عبد الہادی صاحب نوری، ڈربن ساؤتھ افریقہ وغیرہم۔
اہم کارناموں:
انفارمیشن براڈ کاسٹنگ محکمہ میں مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہے (۲) شیلانگ میں پریس انفارمیشن بیورو میں بحیثیت ڈائرکٹر سبک دوش ہوئے (۳) کنز الایمان کا ہندی زبان میں بنام ’’کلام الرحمن‘‘ ترجمہ کیا-
وصالِ پُر ملال:
یکم محرم الحرام 1435ھ بمطابق نومبر 2013ء۔ بہ شکریہ : البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب :
محمد حسین مُشاہد رضوی
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/syed-e-millat-hazrat-syed-shah-aal-e-rasool-hasnain-miyan-nazmi-marehravi
Copyright © Zia-e-Taiba
حضور نظمی میاں علیہالرحمہ
سید ملت حضرت سید شاہ آل رسول حسنین میاں نظمیؔ مارہروی قدس سرہٗ
ولادتِ مبارکہ:
حضرت سید شاہ آلِ رسول حسنین میاں نظمی برکاتی مارہروی کی ولادت 6؍ رمضان المبارک 1365ھ بمطابق 4؍ اگست 1946ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حافظ عبد الرحمن عرف حافظ کلو سے قرآن مجید پڑھا، فارسی اپنے چچا حضور احسن العلماء سے اور انٹر ایم۔جی۔ ایچ۔ ایم انٹر کالج سے کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اسلامک اسٹڈیز اور انگلش لٹریچر میں بی۔ اے۔ کیا پھر یو۔ پی۔ ایس۔ سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
زوجہ کا نام:
سیدہ آمنہ سلطان بشریٰ خاتون۔
اولادِ امجاد: تین:
(۱) سید سبطین حیدر (۲) سید صفی حیدر (۳) سید ذو الفقار حیدر۔ (ایک بیٹے کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا)
بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت اپنے والد ماجد حضور سید العلماء سے تھی اور عم مکرم حضور احسن العلماء نے بھی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔
مختلف زبانوں میں مہارت:
عربی، فارسی، اردو، ہندی، انگلش، گجراتی، سنسکرت اور مراٹھی زبانوں میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔
تصانیف و تالیفات:
آپ نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں سے متعدد انگریزی زبان میں ہیں۔
نمایاں وصف:
نعت گوئی (اعلیٰ حضرت کے کلام کے بعد محفلوں میں سب سے زیادہ آپ کا کلام پڑھا اور سنا جاتا ہے)۔
مشہور خلفاء:
تینوں صاحب زادگان کے علاوہ (۱)حضرت سید محمد اویس مصطفی صاحب زیدی واسطی، بلگرام شریف (۲) مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی، گھوسی (۳) علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب، گھوسی (۴) الحاج سید الشاہ حسین صاحب، سلطان پور (۵) مولوی شبیر احمد قادری صاحب (۶) قاری محمد اختر برکاتی، مگہر (۷) قاری عبد القادر صاحب ، بمبئی (۸) صوفی محمد اسلام میاں کرلا، ممبئی (۹) مولانا محمد شاکر رضا نوری (۱۰) مفتی محمد زبیر صاحب قادری نوری، ممبئی (۱۱) الحاج محمد شوکت حسین خان صاحب، پاکستان (۱۲) الحاج درویش عبد الہادی صاحب نوری، ڈربن ساؤتھ افریقہ وغیرہم۔
اہم کارناموں:
انفارمیشن براڈ کاسٹنگ محکمہ میں مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہے (۲) شیلانگ میں پریس انفارمیشن بیورو میں بحیثیت ڈائرکٹر سبک دوش ہوئے (۳) کنز الایمان کا ہندی زبان میں بنام ’’کلام الرحمن‘‘ ترجمہ کیا-
وصالِ پُر ملال:
یکم محرم الحرام 1435ھ بمطابق نومبر 2013ء۔ بہ شکریہ : البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب :
محمد حسین مُشاہد رضوی
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/syed-e-millat-hazrat-syed-shah-aal-e-rasool-hasnain-miyan-nazmi-marehravi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-09-1443 ᴴ | 07-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-09-1443 ᴴ | 08-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1