🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ایک واقعہ‌🌹

( یہ ایسا واقعہ ہے جس کے متعلق امام احمد بن حنبل اپنے شاگردوں سے فرمایا کرتے تھے:
اسے بیان کیا کرو ، اسے یاد کرلو یہ بڑا فائدے مند ہے ۔ )

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ایک ہمسایہ بڑا فاسق فاجر تھا ، ایک دن اس نے آپ کی مجلس میں آ کر سلام کیا تو آپ نے اسے صحیح طرح سے جواب نہ دیا اور اس سے بے رخی کا اظہار کیا ۔
وہ کہنے لگا: اے ابوعبداللہ ! مجھ سے کیوں نالاں ہیں ؟
آپ کو میرے ( برے اعمال کے ) متعلق جو کچھ معلوم ہے ، ایک خواب دیکھنے کے بعد میں اُس سے توبہ کر چکا ہوں ۔
امام صاحب نے فرمایا: تُو نے کیا خواب دیکھا ہے؟
کہنے لگا: میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ہے ۔۔۔۔۔ آپ زمین کے ایک بلند حصے پر تشریف فرما تھے اور بہت سارے لوگ نیچے بیٹھے ہوۓ تھے ۔
ان میں سے ہر بندہ اٹھ کر بارگاہِ اقدس میں عرض کرتا:
حضور! میرے لیے دعا فرمادیں ، تو آپ دعا فرمادیتے ۔‌‌‌‌۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ میرے سوا کوئی باقی نہ رہا ۔
میں نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا لیکن اپنے برے اعمال کی وجہ سے مجھےحیا آگئی ۔ ( کہ‌ کہاں میں ، اور کہاں یہ بارگاہ ! 😢 )
سرکارنے مجھے فرمایا: اے فلاں ! تو اٹھ کر مجھ سے کیوں سوال نہیں کرتا ، کہ میں تیرے لیے بھی دعاکروں ؟

۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے عمل بہت برے ہیں جن کی وجہ سے مجھے حیا آرہی ہے ۔

ارشاد فرمایا: اگر ( گناہوں کی ) حیا تجھے کھڑا ہونے سے روک رہی ہے تو میں تجھے کہتا ہوں کھڑا ہو جا اور سوال کر ، تاکہ میں تجھے دعا دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" فانک لاتسب احدا من اصحابی "
کیوں کہ تُو میرے کسی بھی صحابی کو برا نہیں کہتا ۔
میں ( حضور کی اس شفقت سے ) اٹھ کھڑا ہوا تو آپ نے میرے لیے دعا فرمادی ۔
جب میں بیدار ہوا تو مجھے سب برائیوں سے نفرت ہو چکی تھی ۔

( طبقات الحنابلۃ للقاضی ابی یعلی ، ت جعفر بن محمد بن شاکر ، ج 1 ، ص 338 ، ر151 )

( آج مسجدالحرام شریف میں بیٹھ کر یہ واقعہ پڑھا تو بے ساختہ آنسو نکل آئے ۔
ترجمہ کرکے آپ کے سامنے پیش کردیا ہے ، آپ بھی اسے یاد کرلیں ۔۔۔۔۔۔ ہم جیسے بھی ہیں لیکن بے ادب نہیں ؛ رب تعالی ہمیں اپنے حبیب پاک کی برکتوں سے کبھی محروم نہیں فرمائے گا ۔ 😢)

خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
25-3-2022ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3412278865718945&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حافظ ابن بی الدنیا رحمہ اللہ نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اُن لوگوں کے واقعات جمع کیے ہیں جن کی دعائیں قبول ہوئیں ، مشکلیں حل ہوئیں ، اور مرادیں بر آئیں ۔
یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے ۔۔۔۔۔ اسے پڑھ کر یقین مزید مضبوط ہوجاتا ہے ؛ اور جب یقین مضبوط ہوتا ہے تو دعائیں شرف قبولیت بھی پالیتی ہیں ۔

( اگرکوئی فاضل دوست اس کتاب کا اردو ترجمہ کردیں تو بہت سارے اہل اردو کا بھلا ہوجائے گا ۔ )

اس کتاب میں اپنے زمانے کے طبیب حضرت عَبدُ المَلِک بن اَبْجَر تابعی رحمہ اللہ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ:

آپ کے پاس ( علاج کے لیے ) ایک شخص آیا تو آپ نے اس کا پیٹ چیک کرکے کہا: تمھیں ایک لا علاج مرض ہے ۔
اس نے پوچھا : وہ کیا ؟

کہنے لگے: دُبَیْلَہ ( یعنی تیرے پیٹ میں ایک خاص قسم کا پھوڑا ) ہے ۔
وہ شخص ( یہ سن کر ) واپس آیا اور ( اپنے رب کے حضور فریاد کرتے ہوئے ) کہنے لگا:

اللہ ، اللہ ، اللہ ، میرا رب ہے ؛ میں اس کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ۔
اے اللہ! میں تیری طرف تیرے نبی محمد پاک علیہ الصلاۃ والسلام کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں ، جو رحمت والے نبی ہیں ۔
یامحمد ! میں آپ کے وسیلے سے آپ کے اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ، وہ ﷻ میری بیماری میں مجھ پر رحم فرمائے ۔۔۔۔۔ مجھے ایسی رحمت کی ضرورت ہے جو مجھے اس کی رحمت کے علاوہ ہر رحمت سے مستغنی کردے !

تین دفعہ یہ دعا مانگ کر وہ شخص دوبارہ حکیم عبدالملک رحمہ اللہ کے پاس جب گیا تو آپ نے اس کا پیٹ دبا کر کہا: تم ٹھیک ہوچکے ہو ، اب تمھیں کوئی مرض نہیں رہا ۔

( مجابوالدعوۃ ، دعاء من مرض فی بطنہ ، ص 136 ، مکتبۃ القران القاھرۃ )

صدق یقین سے اپنے نبی کا وسیلہ پیش کرنے والا بارگاہِ الہی سے کبھی خالی نہیں لوٹایا جاتا ۔

خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
27-3-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3413466708933494&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
میری‌ تمنا تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے شہرِ مدینہ کا طالب علم بن جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کریم نے کرم نوازی فرمائی اور مدینہ طیبہ میں مقیم قاہرہ ( مصر ) کے ایک استاد میسر آگئے ؛ جو فن قرات کے بہترین عالم‌ ہیں ۔
الحمدللہ اُن سے کتاب اللہ شریف ( بروایۃ حفص عن عاصم من طریق طیبۃ النشر ، بروایۃ قالون عن نافع من طریق الشاطبیہ ) پڑھنے کی ابتدا کی ؛ آج سورت بقرہ شریف ختم ہوگئی ہے ، اللہ تعالی سارا قرآن پاک اخلاص سے سنانے کی توفیق بخشے !
اللہ کرے اس کے بعد طیبۃ النشر اور حرز الامانی پڑھنے اور یاد کرنے کی بھی توفیق مل جائے ۔
( علم قرات میں حرز الامانی کو وہی حیثیت حاصل ہے جو علم‌حدیث میں بخاری شریف کو ہے )

دعا فرمائیں رب تعالی مرتے دم تک شہرِ نبی کا طالبِ علم رکھے ، اس مقدس شہر میں سکونت عطافرمائے اور اسی شہر مبارک میں زندگی کی انتہا ہوجائے ؎

رہیں اُن کے جلوے ، بسیں اُن کے جلوے
مِرا دل بنے یادگارِ مدینہ

مِری خاک یارب نہ برباد جائے
پسِ مرگ کردے غبارِ مدینہ 😢

خاکِ راہ حجاز

✍️ لقمان شاہد
28-3-2022ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3414664882147010&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
ایک ( یمنی ) شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے حجرِ اسود کے استلام کے متعلق پوچھا ، تو آپ نے فرمایا:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا استلام کرتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔
وہ کہنے لگا:
اگر میں لوگوں کے ہجوم میں پھنس جاؤں اور استلام سے عاجز آجاؤں تو کیا کروں؟
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

اِس اگر مگر کو جاکر یمن میں رکھو ، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجراسود کا استلام کرتے اور اسے چومتے ہی دیکھا ہے ۔
( صحیح البخاری ، ر 1611)

اللہ اللہ ، جب محبت کی بات آجائے تو کوئی اگر مگر نہیں چلتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس وہی ہوتاہے جو محبوب کی رضا ہو ؎

مکتبِ عشق میں وامقؔ نے یہ پائی تعلیم​
عینِ ایمان ہے فدائے رُخِ جاناں ہونا ​!

✍️ لقمان شاہد
30-3-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3415932338686931&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
سیدِعالم ﷺ کی خواب میں زیارت کرنا بہت بڑا شرف ہے ۔۔۔۔۔۔ زندگی بھر کی نیکیاں اس ایک نیکی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔

اس سعادت کا فقط نیکوں کے حصے میں آنا ضروری نہیں ، بعض گناہ گار بھی نواز دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ زیارت کا سبب اُن کے کرم کے ساتھ ، نیکیاں بھی بنتی ہیں ۔

اِس لیے طالبِ دیدار کو گناہوں سے بچنا چاہیے اور کثرت سے نیکیاں کرتےرہناچاہیے ۔

بالخصوص: اپنا دل مسلمانوں کے بغض سےپاک رکھنا چاہیے ، کسی مسلمان کی ( چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو ) غیبت نہیں کرنی چاہیے ، چغلی نہیں کھانی چاہیے ، کسی مسلمان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے ، نہ کسی کا برا سوچنا چاہیے ۔

رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت بہت پیاری ہے ، اتنے بچے ماں کو پیارے نہیں ہوتے جتنے حضور کو اپنے امتی پیارے ہیں ؛ آپ کی امت سے ، آپ کی خاطر جتنی محبت کریں گے اتنا ہی آپ ﷺ کا قُرب نصیب ہوگا ۔

جسے حق کے دِیدار کی آرزو ہو
وہ دیکھے مِری جان ! چہرہ تمھارا

خدا ہم کو بخشے وہ چشمِ خدا بِیں
رہے کچھ نہ پردہ ہمارا تمھارا 😢

خاکِ راہِ حجاز
✍️ لقمان شاہد
31-3-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3416567275290104&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
نبی پاک ﷺ حج سے واپس تشریف لائے تو سیدہ‌ اُمِ سِنان سے پوچھا:

تجھے حج کرنے سے کس چیز نے روکے رکھا ( تُو ہمارے ساتھے حج کرنے کیوں نہیں گئی ) ؟ ۔
انھوں نےعرض کی: حضور ! میرےخاوند کے پاس دو ہی اونٹ تھے ، ایک پر وہ خود حج کرنے چلے گئے اور دوسرے اونٹ سے ہم ( کنویں سے پانی نکال کر ) اپنی زمین سیراب کرتے رہے ۔

سیدعالم ﷺ نے فرمایا:

( جب رمضان شریف آئے تو عمرہ کرلینا ) بے شک رمضان شریف میں عمرہ کرنا " میرے ساتھ " حج کرنے کے برابر ہے ۔

( صحیح البخاری ، ر 1863 ۔ و دیگر کتب احادیث )

اللہ اکبر ، ماہِ رمضان کے عمرے کی فضیلت !!

ویسے بھی زندگی میں ایک بار عمرہ شریف ضرور کرنا چاہیے ، اور بار بار یہ سعادت ملے تو سبحان اللہ ۔

ہمارے جمیع فقہاے احناف کے نزدیک عمرہ شریف سنت مؤکدہ ہے ، ( اور ان کی دلیل ترمذی شریف کی حدیث ہے ) اور اسے ہی قولِ مختار قرار دیتے ہیں ؛ البتہ بعض احناف رحمھم اللہ نے عمرہ شریف کے واجب ہونے کا بھی قول کیا ہے ۔

علامہ احمد طحطاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

( فصل العمرۃ سنۃ ) ای: مؤکدۃ علی المذھب ، وصحح فی الجوھرۃ وجوبھا ۔

( حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح ، فصل العمرۃ ، ج 2 ، ص 421 ، ط مکتبہ غوثیہ کراچی )

سیدنا و مولانا عبداللہ بن عمر پاک صاحبِ استطاعت کے لیے عمرہ کو واجب ہی قرار دیتے تھے ۔۔۔۔۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بھی فرماتے تھے کہ:
جس طرح صاحب استطاعت پر حج ہے ، اسی طرح عمرہ شریف بھی واجب ہے ۔ ( انظر: المستدرک علی الصحیحین ، ب الحج والعمرۃ فریضتان ، ج 1 ، ر 1746 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ۔ قال الحاکم ھذا اسناد صحیح علی شرط الشیخین ۔ وافقہ الذھبی رحمہ اللہ )

خدا توفیق دے تو اِسی رمضان میں عمرہ شریف ادا کرلیں ، زندگی کا کیا بھروسہ آئندہ رمضان دیکھنا نصیب ہو ، نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ ؎

دو پل کے ہیں یہ سب مَہ و اختر ، نہ بُھولنا
سورج غروب ہونے کا منظر نہ بُھولنا !

✍️ لقمان شاہد
1-4-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3417427148537450&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌸 روزہ رکھ کر سوئے رہنا ، سُستی میں مبتلا رہنا اور کام کاج سے جی چراتے پھرنا کوئی قابلِ تعریف عمل نہیں ۔
روزہ رکھ کر معمول کے مطابق اپنا کام کاج کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روزہ اللہ کے لیے کی جانے والی ایک مشقت ہے ، اِس مشقت کو خوش دلی سے برداشت کریں ؛ روزے میں جتنی بھوک پیاس زیادہ لگے گی اتنا ہی اجر زیادہ ملے گا ۔

🌸 سحری کے وقت کھانا پینا حسبِ ضرورت رکھیں ، بہت زیادہ پیٹ بھر لینا دانش مندی نہیں ۔
بعض لوگ سحری کے وقت کثرت سے پانی پیتے رہتے ہیں کہ دن کو پیاس نہ لگے ، ایسے نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ انسان جتنابھی پانی پی لے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے ، صرف اونٹ پیے ہوئے پانی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، انسان نہیں ؛ آپ حسب ضرورت ہی پانی استعمال کیا کریں ۔
سحری کے وقت زیادہ نمک مرچ والی چیزیں استعمال نہ کی جائیں تو ویسے بھی دن کو پیاس کم لگتی ہے ۔

🌸 حدیثِ پاک میں کھجور کو بندۂ مومن کی بہترین سحری کہا گیاہے ، سحری میں خشک روٹی کے ساتھ کھجور لے لی جائے تو غذائیت سے بھرپور سحری ہوجاتی ہے جو بھوک پیاس اور کمزوری میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔

✍️ لقمان شاہد
4-4-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3420057658274399&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
قرآن پاک‌ کو سمجھ کر پڑھنا چاہیں تب بھی ٹھیک ، بھلے روزانہ کی ایک آیت پڑھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن پاک کی کثرت سے تلاوت کرنا چاہیں تب بھی درست ہے ، چاہے روزانہ تیس پارے مکمل کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن پاک مزے لے لے کر ، مختلف لہجوں میں پڑھنا چاہیں تب بھی اجازت ہے چاہے ایک ہی آیت یاسورت دھراتے رہیں ۔

یہ وہ مقدس کتاب ہے جسے پڑھنا ، سننا ، دیکھنا ، چھونا ، چومنا ، سب عبادت ہے ۔

✍️ لقمان شاہد
5-4-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3420780864868745&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
قران پاک میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں ، ان کے علاوہ کسی کو زکوۃ دینا جائز نہیں ؛ حتی کہ مسجد ، مدرسہ ، ہسپتال ، مسافر خانہ اور جنازہ گاہ کی تعمیر پر بھی مال زکوٰۃ نہیں لگایا جاسکتا ۔

💰مصارف زکوٰۃ 💰

1: فقیر ، یعنی وہ شخص جس کے پاس تھوڑا بہت مال‌ ہو ، لیکن وہ شرعی نصاب سے کم ہو ۔

2: مسکین ، یعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔

3: عاملین ، یعنی وہ لوگ جنھیں حاکمِ اسلام نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے مقرر کیا ہو ۔

4: مؤلفۃ القلوب ، یعنی وہ لوگ جن کا دل اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو ۔

5: رقاب ، یعنی وہ غلام جسے کچھ مال کے عوض آزادی مل سکتی ہو تو اُسے آزاد کروانے کےلیے مالِ زکوۃ خرچ کیا جائے ۔

6: غارمین ، یعنی جو مقروض ہوں اور قرض ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو مالِ زکوۃ سے ان کا قرض ادا کیا جائے ۔

7: فی سبیل اللہ ، یعنی اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے مجاہد اور حاجی وغیرہ ۔

8 : اِبن سبیل ، یعنی ایسے مسافر جن کے پاس دورانِ سفر مال نہ ہو ۔

اِن کے تفصیلی احکام کُتب فقہ میں دیکھے جاسکتے ہیں ، یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ حکمِ الہی کے مطابق زکوۃ کے صرف یہی مصارف ہیں ، انھیں ذہن نشین رکھنا چاہیے ۔

✍️ لقمان شاہد
6-4-2022ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3421541488126016&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مختصر سوانح حیات
حضور نظمی میاں علیہ‌الرحمہ


سید ملت حضرت سید شاہ آل رسول حسنین میاں نظمیؔ مارہروی قدس سرہٗ  

ولادتِ مبارکہ:
حضرت سید شاہ آلِ رسول حسنین میاں نظمی برکاتی مارہروی کی ولادت 6؍ رمضان المبارک 1365ھ بمطابق 4؍ اگست 1946ء کو ہوئی۔

تحصیلِ علم:
حافظ عبد الرحمن عرف حافظ کلو سے قرآن مجید پڑھا، فارسی اپنے چچا حضور احسن العلماء سے اور انٹر ایم۔جی۔ ایچ۔ ایم انٹر کالج سے کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اسلامک اسٹڈیز اور انگلش لٹریچر میں بی۔ اے۔ کیا پھر یو۔ پی۔ ایس۔ سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

زوجہ کا نام:
سیدہ آمنہ سلطان بشریٰ خاتون۔

اولادِ امجاد: تین:
(۱) سید سبطین حیدر (۲) سید صفی حیدر (۳) سید ذو الفقار حیدر۔ (ایک بیٹے کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا)

بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت اپنے والد ماجد حضور سید العلماء سے تھی اور عم مکرم حضور احسن العلماء نے بھی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔

مختلف زبانوں میں مہارت:
عربی، فارسی، اردو، ہندی، انگلش، گجراتی، سنسکرت اور مراٹھی زبانوں میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔

تصانیف و تالیفات:
آپ نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں سے متعدد انگریزی زبان میں ہیں۔

نمایاں وصف:
نعت گوئی (اعلیٰ حضرت کے کلام کے بعد محفلوں میں سب سے زیادہ آپ کا کلام پڑھا اور سنا جاتا ہے)۔

مشہور خلفاء:
تینوں صاحب زادگان کے علاوہ (۱)حضرت سید محمد اویس مصطفی صاحب زیدی واسطی، بلگرام شریف (۲) مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی، گھوسی (۳) علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب، گھوسی (۴) الحاج سید الشاہ حسین صاحب، سلطان پور (۵) مولوی شبیر احمد قادری صاحب (۶) قاری محمد اختر برکاتی، مگہر (۷) قاری عبد القادر صاحب ، بمبئی (۸) صوفی محمد اسلام میاں کرلا، ممبئی (۹) مولانا محمد شاکر رضا نوری (۱۰) مفتی محمد زبیر صاحب قادری نوری، ممبئی (۱۱) الحاج محمد شوکت حسین خان صاحب، پاکستان (۱۲) الحاج درویش عبد الہادی صاحب نوری، ڈربن ساؤتھ افریقہ وغیرہم۔

اہم کارناموں:
انفارمیشن براڈ کاسٹنگ محکمہ میں مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہے (۲) شیلانگ میں پریس انفارمیشن بیورو میں بحیثیت ڈائرکٹر سبک دوش ہوئے (۳) کنز الایمان کا ہندی زبان میں بنام ’’کلام الرحمن‘‘ ترجمہ کیا-

وصالِ پُر ملال:
یکم محرم الحرام 1435ھ بمطابق نومبر 2013ء۔   بہ شکریہ : البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ

دعاؤں کا طالب :
محمد حسین مُشاہد رضوی

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/syed-e-millat-hazrat-syed-shah-aal-e-rasool-hasnain-miyan-nazmi-marehravi
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1