ْ #فیضان_رمضان_المبارک ㉙
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
https://t.me/islaamic_Knowledge/29457
روزے کے بارے میں ۱۹ غلط باتیں
✍ #مفتی_علی_اصغر صاحب ¹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
الٹی آنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
حالت روزہ میں احتلام ہو جائے
تھوک یا بلغم نگل جانے سے روزہ
تیل خوشبو اور موئے زیر ناف صاف
سحری میں آنکھ نہ کھلے سحری نہ
رات میں غسل فرض ہو جائے تو ؟
حالت روزہ میں مسواک کرنا کیسا؟
اذان ہوتی رہے سحری جاری رکھو؟
خون نکلنے یا خون کا ٹیسٹ کرانے
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
https://t.me/islaamic_Knowledge/29457
روزے کے بارے میں ۱۹ غلط باتیں
✍ #مفتی_علی_اصغر صاحب ¹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
الٹی آنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
حالت روزہ میں احتلام ہو جائے
تھوک یا بلغم نگل جانے سے روزہ
تیل خوشبو اور موئے زیر ناف صاف
سحری میں آنکھ نہ کھلے سحری نہ
رات میں غسل فرض ہو جائے تو ؟
حالت روزہ میں مسواک کرنا کیسا؟
اذان ہوتی رہے سحری جاری رکھو؟
خون نکلنے یا خون کا ٹیسٹ کرانے
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
ْ #فیضان_رمضان_المبارک ㉚
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
https://t.me/islaamic_Knowledge/29468
روزے کے بارے میں ۱۹ غلط باتیں
✍ #مفتی_علی_اصغر صاحب ²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
روزہ میں انجکشن لگوانے سے
روزہ میں عطر یا خوشبو لگانا
سفر کے دن روزہ چھوڑنا کیسا
روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینا ...
ٹوتھ پیسٹ کرنے سے روزہ ...
کیا ہر طرح کا روزہ توڑنے پر کفارہ
حالت روزہ میں ٹھنڈک کے لئے نہانا
روزہ چھوٹ جانے پر ساٹھ روزہ
اگر غلطی سے پانی حلق سے اتر جائے
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ ᴿᵒᶻᵃ
https://t.me/islaamic_Knowledge/29468
روزے کے بارے میں ۱۹ غلط باتیں
✍ #مفتی_علی_اصغر صاحب ²
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
روزہ میں انجکشن لگوانے سے
روزہ میں عطر یا خوشبو لگانا
سفر کے دن روزہ چھوڑنا کیسا
روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینا ...
ٹوتھ پیسٹ کرنے سے روزہ ...
کیا ہر طرح کا روزہ توڑنے پر کفارہ
حالت روزہ میں ٹھنڈک کے لئے نہانا
روزہ چھوٹ جانے پر ساٹھ روزہ
اگر غلطی سے پانی حلق سے اتر جائے
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت مولانا ہدایت اللہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی مولانا ہدایت اللہ بن مولانا رفیع اللہ خان ہے۔ آپ کا آبائی وطن سوات تھا۔
مقامِ ولادت:
آپ مولانا رفیع اللہ خان کے گھر محلّہ الف خان رام پور میں پیدا ہوئے، لیکن ہمیں تاریخِ ولادت بسیار کوشش کے باوجود نہ مل سکی۔
تعلیم وتربیت:
ابتدائی کتابیں والدِ ماجد سے پڑھیں، صرف ونحوحافظ غلام علی سے اور منطق میر زاہد تک مولانا جلال الدین (المتوفّٰی 1313ھ) سے حاصل کی۔پھر حضرت علامہ مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ کے ورودِ رام پور کے بعد حلقہ تلامذہ میں داخل ہو کر تمام علوم وفنون میں کمال حاصل کیا، اور حدیث مولانا عالم علی حسینی نگینوی (المتوفّٰی 1295ھ) سے حاصل کی۔
بیعت وخلافت:
اپنے استاذِ گرامی مولانا جلال الدین علیہ الرحمۃ کےبرادرِ اصغر حضرت شاہ چھوٹے میاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
فاضلِ جلیل، عالمِ نبیل،محقق کبیر، جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ حضرت علامہ مولانا ہدایت اللہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا شمار رامپور کے جیّد اور مشہور علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ ان علما میں سے تھے جن سے علم و فضل کو شرف حاصل ہوتا ہے، اور دینِ اسلام کو عروج ملتا ہے۔ آپ کا تعلق ان علمائے حق سے ہے جنہوں نے مشکل وقت میں اپنے دین وایمان ،اورملک وملّت کی سلامتی اوربقا کے لیے عظیم قربانیاں دیں ہیں۔ آپ اپنے استاذِ محترم حضرت علامہ فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ کے فکر ونظریات اور علم وعمل کی بنا پر اُن کے عاشق و شیدائی تھے۔ ہر جگہ ساتھ رہے اور حضرت خیر آبادی کی خدمت سر انجام دیتے رہے۔
انگریزوں کی مخالفت اور فتوائے جہاد کی وجہ سےحضرت خیر آبادی جب کالا پانی بھیج دیے گئے تب جدائی ہوئی۔ مغموم و محزون وطن واپس آئے اور تدریس شروع کردی ۔مدرسہ عالیہ میں تدریس فرماتے رہے۔ 1870ء میں مدرسۂ حنفیہ جون پور میں صدر مدرّس کی حیثیت سےتشریف لائے۔
فرقہ ضالہ وہابیہ کے ردّ و تنفر میں نامور عالمِ دین حامیِ حق حضرت خیر آبادی کے قدم بَہ قدم رہے۔ 1300ھ میں بمقام مرشد آباد بنگال کے مشہور غیر مقلد بہاری مولوی عبدالعزیزی رحیم آبادی کے مقابلے میں مذہب ِحنفیہ کو دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا اور وہابی مولوی کو اپنے باطل مذہب کے ساتھ راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔
آپ وسیع الاخلاق، خندہ رو، دوست آشنا، سادہ وضع، متورع و متقی اور شاگردوں پر نہایت شفیق تھے۔
وصال:
بروز ہفتہ 5؍رمضان المبارک 1326ھ کو واصل بحق ہوئے۔
مزار:
درگاہِ حضرت قطب الاقطاب شیخ عبدالرشید جونپوری علیہ الرحمۃ واقع رشید آباد میں مدفون ہیں۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hidayatullah-khan-rampuri
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی مولانا ہدایت اللہ بن مولانا رفیع اللہ خان ہے۔ آپ کا آبائی وطن سوات تھا۔
مقامِ ولادت:
آپ مولانا رفیع اللہ خان کے گھر محلّہ الف خان رام پور میں پیدا ہوئے، لیکن ہمیں تاریخِ ولادت بسیار کوشش کے باوجود نہ مل سکی۔
تعلیم وتربیت:
ابتدائی کتابیں والدِ ماجد سے پڑھیں، صرف ونحوحافظ غلام علی سے اور منطق میر زاہد تک مولانا جلال الدین (المتوفّٰی 1313ھ) سے حاصل کی۔پھر حضرت علامہ مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ کے ورودِ رام پور کے بعد حلقہ تلامذہ میں داخل ہو کر تمام علوم وفنون میں کمال حاصل کیا، اور حدیث مولانا عالم علی حسینی نگینوی (المتوفّٰی 1295ھ) سے حاصل کی۔
بیعت وخلافت:
اپنے استاذِ گرامی مولانا جلال الدین علیہ الرحمۃ کےبرادرِ اصغر حضرت شاہ چھوٹے میاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
فاضلِ جلیل، عالمِ نبیل،محقق کبیر، جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ حضرت علامہ مولانا ہدایت اللہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا شمار رامپور کے جیّد اور مشہور علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ ان علما میں سے تھے جن سے علم و فضل کو شرف حاصل ہوتا ہے، اور دینِ اسلام کو عروج ملتا ہے۔ آپ کا تعلق ان علمائے حق سے ہے جنہوں نے مشکل وقت میں اپنے دین وایمان ،اورملک وملّت کی سلامتی اوربقا کے لیے عظیم قربانیاں دیں ہیں۔ آپ اپنے استاذِ محترم حضرت علامہ فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ کے فکر ونظریات اور علم وعمل کی بنا پر اُن کے عاشق و شیدائی تھے۔ ہر جگہ ساتھ رہے اور حضرت خیر آبادی کی خدمت سر انجام دیتے رہے۔
انگریزوں کی مخالفت اور فتوائے جہاد کی وجہ سےحضرت خیر آبادی جب کالا پانی بھیج دیے گئے تب جدائی ہوئی۔ مغموم و محزون وطن واپس آئے اور تدریس شروع کردی ۔مدرسہ عالیہ میں تدریس فرماتے رہے۔ 1870ء میں مدرسۂ حنفیہ جون پور میں صدر مدرّس کی حیثیت سےتشریف لائے۔
فرقہ ضالہ وہابیہ کے ردّ و تنفر میں نامور عالمِ دین حامیِ حق حضرت خیر آبادی کے قدم بَہ قدم رہے۔ 1300ھ میں بمقام مرشد آباد بنگال کے مشہور غیر مقلد بہاری مولوی عبدالعزیزی رحیم آبادی کے مقابلے میں مذہب ِحنفیہ کو دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا اور وہابی مولوی کو اپنے باطل مذہب کے ساتھ راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔
آپ وسیع الاخلاق، خندہ رو، دوست آشنا، سادہ وضع، متورع و متقی اور شاگردوں پر نہایت شفیق تھے۔
وصال:
بروز ہفتہ 5؍رمضان المبارک 1326ھ کو واصل بحق ہوئے۔
مزار:
درگاہِ حضرت قطب الاقطاب شیخ عبدالرشید جونپوری علیہ الرحمۃ واقع رشید آباد میں مدفون ہیں۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hidayatullah-khan-rampuri
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ عبدالمصطفیٰ۔
لقب: اعظمی۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
محمد عبدالمصطفیٰ بن شیخ حافظ عبدالرحیم بن شیخ حاجی عبدالوہاب بن شیخ چمن بن شیخ نور محمد بن شیخ مٹھوبابارحمہم اللہ تعالٰی۔
والدۂ ماجدہ کا نام حلیمہ بی بی تھا۔
تاریخِ ولادت:
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمۃ ہندوستان کے ضلع اعظم گڑھ کے گنجان آباد قصبہ گھوسی میں ماہِ ذیقعد 1333ھ میں شیخ حافظ عبدالرحیم علیہ الرحمۃ کے گھر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنے والدِ گرامی سے ابتدائی تعلیم حاصل کر کےمدرسۂاسلامیہ گھوسی میں داخل ہوئے اوراردوفارسی کی مزید تعلیم پائی۔ چند ماہ مدرسۂ ناصر العلوم گھوسی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ معروفیہ معروف پورہ میں میزان سے شرح جامی تک پڑھا۔
پھر 1351ھ میں مدرسۂ محمدیّہ حنفیہ امروہہ اور مدرسۂ منظرِ اسلام بریلی میں علی الترتیب شیخ العلما حضرت مولانا شاہ اُویس حسن عرف غلام جیلانی اعظمی (شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف (متوفّٰی 1397ھ)، مولانا حکمت اللہ امروہوی، حضرت مولانا سیّد خلیل احمد کاظمی محدث امروہوی، حضرت مولانا سردار ا حمد محدث اعظم پاکستان (علیہم الرحمۃ) سے حاصل کی۔10؍ شوّال المکرم 1355ھ کو دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ ریاست دادوں علی گڑھ پہنچے، حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ سے دورۂ حدیث پڑھا، 1356ھ میں سندِ فضیلت مرحمت ہوئی۔ حضرت مولانا سیّد شاہ مصباح الحسن صاحب چشتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے سر پر دستار فضیلت باندھی۔
مذکورہ مشائخ کے علاوہ آپ علیہ الرحمۃ نے اِن نابغۂ روزگار ہستیوں سے بھی علمی وروحانی استفادہ فرمایا: حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ حامدرضا خان صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (خلفِ اکبر سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّہٗ) کی خدمت میں حاضری دی اور شرف یاب ہوئے۔ موصوف آپ پر بڑا کرم فرمایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ کے برادرِ خورد حضرت مولانا محمد رضا خاں صاحب عرف ننھے میاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے علم المیراث کی مشق کی اور حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں نوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (زیب سجادہ آستانۂ عالیہ قادریّہ رضویہ بریلی شریف، خلفِ اصغر حضور اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ) کے دارالافتاء میں بھی حاضر ہوتے تھے۔
اسی طرح حضر ت مولانا سیّد سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفۂ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ) کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے۔
بیعت و خلافت:
17؍صفر المظفر1353ھ میں حضرت حافظ شاہ ابرار حسن خان صاحب نقشبندی شاہجہاں پوری سے سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے، اور25؍صفر المظفر 1358ھ میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خاں صاحب علیہ الرحمۃ نے سلسلۂ قادریہ رضویہ کی خلافت عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت مولانا قاضی محبوب احمد عباسی صاحب خلیفہ حافظ شاہ ابرار حسن صاحب شاہ جہاں پوری نے سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کی خلافت سے سر فراز فرمایا۔
سیرت و خصائص:
فقیہِ ملّت حضرت علامَہ مفتی محمد جَلال الدین صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’علامۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا الحاج عبدالمصطفیٰ صاحب اعظمی مجددی قبلہ مدظلہ العالی، اپنے علمی جاہ و جلال اور فضل و کمال کے اعتبار سے اکابر علمائے اہلِ سنّت میں ایک خصوصی امتیاز کے ساتھ ممتاز ہیں۔ آپ ایک مُسلّم الثبوت، ماہر درسیات، ساحرالبیان اور ایک خصوصی طرزِ تحریر کے موجد و کامیاب مصنّف ہونے کی بنا پر ملک وبیرونِ ملک میں ’’جامع الصفات‘‘ مشہور ہیں۔ چند خاص خاص اور اہم موضوعات پر آپ کی چھوٹی بڑی پندرہ کتابیں طبع ہو کر عوام وخواص سے خراجِ تحسین حاصِل کر چکی ہیں۔‘‘ (تقریظ، جنتی زیور)
درس و تدریس :
آپ ساری زندگی مدارس ِ اہلِ سنّت میں تدریس کے فرائض سر انجام ديتے رہے، اور حقیقی طور پر دینِ متین کی خدمت فرمائی۔ بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی ان درس گاہوں میں سیکڑوں طلبہ آپ کے درس سے فارغ التحصیل ودستار بند ہو کر ہندوستان و پاکستان، بنگلہ دیش، انگلینڈ اور افریقہ میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وعظ و تقریر:
آپ ایک بلند پایہ مقرر تھے۔ وعظ و تقریر کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ زبان میں شیرینی، روانی اور تاثیر تھی۔ ملک کے طول وعرض میں آپ کے بیانات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔
تصانیف:
آپ کی خاص خاص تصانیف جو بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی طبع ہو کر ملک و بیرون ملک میں مقبولیت ِ عامّہ پا چکی ہیں۔ تقریباً ان کی تعداد 24 ہے۔
سفرِ حج اور آپ کے مشائخ حرمین:
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ عبدالمصطفیٰ۔
لقب: اعظمی۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
محمد عبدالمصطفیٰ بن شیخ حافظ عبدالرحیم بن شیخ حاجی عبدالوہاب بن شیخ چمن بن شیخ نور محمد بن شیخ مٹھوبابارحمہم اللہ تعالٰی۔
والدۂ ماجدہ کا نام حلیمہ بی بی تھا۔
تاریخِ ولادت:
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمۃ ہندوستان کے ضلع اعظم گڑھ کے گنجان آباد قصبہ گھوسی میں ماہِ ذیقعد 1333ھ میں شیخ حافظ عبدالرحیم علیہ الرحمۃ کے گھر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنے والدِ گرامی سے ابتدائی تعلیم حاصل کر کےمدرسۂاسلامیہ گھوسی میں داخل ہوئے اوراردوفارسی کی مزید تعلیم پائی۔ چند ماہ مدرسۂ ناصر العلوم گھوسی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ معروفیہ معروف پورہ میں میزان سے شرح جامی تک پڑھا۔
پھر 1351ھ میں مدرسۂ محمدیّہ حنفیہ امروہہ اور مدرسۂ منظرِ اسلام بریلی میں علی الترتیب شیخ العلما حضرت مولانا شاہ اُویس حسن عرف غلام جیلانی اعظمی (شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف (متوفّٰی 1397ھ)، مولانا حکمت اللہ امروہوی، حضرت مولانا سیّد خلیل احمد کاظمی محدث امروہوی، حضرت مولانا سردار ا حمد محدث اعظم پاکستان (علیہم الرحمۃ) سے حاصل کی۔10؍ شوّال المکرم 1355ھ کو دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ ریاست دادوں علی گڑھ پہنچے، حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ سے دورۂ حدیث پڑھا، 1356ھ میں سندِ فضیلت مرحمت ہوئی۔ حضرت مولانا سیّد شاہ مصباح الحسن صاحب چشتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے سر پر دستار فضیلت باندھی۔
مذکورہ مشائخ کے علاوہ آپ علیہ الرحمۃ نے اِن نابغۂ روزگار ہستیوں سے بھی علمی وروحانی استفادہ فرمایا: حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ حامدرضا خان صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (خلفِ اکبر سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّہٗ) کی خدمت میں حاضری دی اور شرف یاب ہوئے۔ موصوف آپ پر بڑا کرم فرمایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ کے برادرِ خورد حضرت مولانا محمد رضا خاں صاحب عرف ننھے میاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے علم المیراث کی مشق کی اور حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں نوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (زیب سجادہ آستانۂ عالیہ قادریّہ رضویہ بریلی شریف، خلفِ اصغر حضور اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ) کے دارالافتاء میں بھی حاضر ہوتے تھے۔
اسی طرح حضر ت مولانا سیّد سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفۂ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ) کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے۔
بیعت و خلافت:
17؍صفر المظفر1353ھ میں حضرت حافظ شاہ ابرار حسن خان صاحب نقشبندی شاہجہاں پوری سے سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے، اور25؍صفر المظفر 1358ھ میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خاں صاحب علیہ الرحمۃ نے سلسلۂ قادریہ رضویہ کی خلافت عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت مولانا قاضی محبوب احمد عباسی صاحب خلیفہ حافظ شاہ ابرار حسن صاحب شاہ جہاں پوری نے سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کی خلافت سے سر فراز فرمایا۔
سیرت و خصائص:
فقیہِ ملّت حضرت علامَہ مفتی محمد جَلال الدین صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’علامۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا الحاج عبدالمصطفیٰ صاحب اعظمی مجددی قبلہ مدظلہ العالی، اپنے علمی جاہ و جلال اور فضل و کمال کے اعتبار سے اکابر علمائے اہلِ سنّت میں ایک خصوصی امتیاز کے ساتھ ممتاز ہیں۔ آپ ایک مُسلّم الثبوت، ماہر درسیات، ساحرالبیان اور ایک خصوصی طرزِ تحریر کے موجد و کامیاب مصنّف ہونے کی بنا پر ملک وبیرونِ ملک میں ’’جامع الصفات‘‘ مشہور ہیں۔ چند خاص خاص اور اہم موضوعات پر آپ کی چھوٹی بڑی پندرہ کتابیں طبع ہو کر عوام وخواص سے خراجِ تحسین حاصِل کر چکی ہیں۔‘‘ (تقریظ، جنتی زیور)
درس و تدریس :
آپ ساری زندگی مدارس ِ اہلِ سنّت میں تدریس کے فرائض سر انجام ديتے رہے، اور حقیقی طور پر دینِ متین کی خدمت فرمائی۔ بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی ان درس گاہوں میں سیکڑوں طلبہ آپ کے درس سے فارغ التحصیل ودستار بند ہو کر ہندوستان و پاکستان، بنگلہ دیش، انگلینڈ اور افریقہ میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وعظ و تقریر:
آپ ایک بلند پایہ مقرر تھے۔ وعظ و تقریر کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ زبان میں شیرینی، روانی اور تاثیر تھی۔ ملک کے طول وعرض میں آپ کے بیانات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔
تصانیف:
آپ کی خاص خاص تصانیف جو بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی طبع ہو کر ملک و بیرون ملک میں مقبولیت ِ عامّہ پا چکی ہیں۔ تقریباً ان کی تعداد 24 ہے۔
سفرِ حج اور آپ کے مشائخ حرمین:
❤1👍1