Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓮
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
*🕯حضرت سیّدۃ النّسا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سیّدہ فاطمہ۔
*کنیت:* اُمّ الحسنین۔
*اَلقاب:* زہرا، بتول، سیّدۃ النساء، خاتونِ جنّت، مخدومۂ کائنات، طیّبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، وغیرہ۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بنتِ سیّدالانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔
آپ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔
*فاطمہ کی وجہِ تسمیہ:* سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالٰی فطمھاومحبیھا عن النار:
(ترجمہ: یعنی میری بیٹی کا نام ’’فاطمہ‘‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کر دیا ہے۔)
*(کَنْزُ الْعُمَّال،ج12،حدیث34222)*
*تاریخِ ولادت:* اِعلانِ نبوّت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بقولِ بعض آپ کی ولادتِ باسعادت20؍ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔
*فضائل و مناقب:*
*تصویرِ مصطفیٰ ﷺ:* اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل وصورت اور بات چیت میں سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا۔ *(سننِ ابو داؤد)*
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین
(ترجمہ: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنّت کی عورتوں کی سردار ہو؟)
*(بخاری،1:532، مسلم جلد دوم:290)*
*سیّدہ کی خوشی و ناراضگی اللہ تعالیٰ کی خوشی و ناراضگی:* حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا
فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے اور دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے۔
*(بخاری ، 1:532)*
*قیامت کے دن ندا ہوگی اہلِ محشر اپنی نگاہوں کو جھکالیں:* حضور سیّدِ عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق
(ترجمہ: قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیّدہ فاطمہ بنتِ محمدﷺ گذر جائیں، چناں چہ سیّدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی۔)
*(المستدرک ، 3:161)*
*سیّدہ کا نکاح:* سن 2 ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔اس وقت آپ کی عمر 15 سال ، اور مولا علی کی عمر 21 سال تھی۔ رخصتی ذوالحجہ میں ہوئی۔
*سیّدہ کا جہیز:* ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے، یہ ہے دونوں جہانوں کے سردار ﷺکی لاڈلی بیٹی کا جہیز کہ صرف وہ اشیا دیں جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں۔
*وصال:* حضورِ اکرم ﷺ کے وصال کے6 ماہ بعد 3؍رمضان المبارک 11ھ منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔نمازِ جنازہ سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی۔
*(کنز العمّال۔حدیث،42856؛ شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلاۃوالسلام، ج4،ص342)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
*🕯حضرت سیّدۃ النّسا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سیّدہ فاطمہ۔
*کنیت:* اُمّ الحسنین۔
*اَلقاب:* زہرا، بتول، سیّدۃ النساء، خاتونِ جنّت، مخدومۂ کائنات، طیّبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، وغیرہ۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بنتِ سیّدالانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔
آپ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔
*فاطمہ کی وجہِ تسمیہ:* سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالٰی فطمھاومحبیھا عن النار:
(ترجمہ: یعنی میری بیٹی کا نام ’’فاطمہ‘‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کر دیا ہے۔)
*(کَنْزُ الْعُمَّال،ج12،حدیث34222)*
*تاریخِ ولادت:* اِعلانِ نبوّت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بقولِ بعض آپ کی ولادتِ باسعادت20؍ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔
*فضائل و مناقب:*
*تصویرِ مصطفیٰ ﷺ:* اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل وصورت اور بات چیت میں سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا۔ *(سننِ ابو داؤد)*
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین
(ترجمہ: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنّت کی عورتوں کی سردار ہو؟)
*(بخاری،1:532، مسلم جلد دوم:290)*
*سیّدہ کی خوشی و ناراضگی اللہ تعالیٰ کی خوشی و ناراضگی:* حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا
فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے اور دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے۔
*(بخاری ، 1:532)*
*قیامت کے دن ندا ہوگی اہلِ محشر اپنی نگاہوں کو جھکالیں:* حضور سیّدِ عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق
(ترجمہ: قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیّدہ فاطمہ بنتِ محمدﷺ گذر جائیں، چناں چہ سیّدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی۔)
*(المستدرک ، 3:161)*
*سیّدہ کا نکاح:* سن 2 ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔اس وقت آپ کی عمر 15 سال ، اور مولا علی کی عمر 21 سال تھی۔ رخصتی ذوالحجہ میں ہوئی۔
*سیّدہ کا جہیز:* ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے، یہ ہے دونوں جہانوں کے سردار ﷺکی لاڈلی بیٹی کا جہیز کہ صرف وہ اشیا دیں جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں۔
*وصال:* حضورِ اکرم ﷺ کے وصال کے6 ماہ بعد 3؍رمضان المبارک 11ھ منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔نمازِ جنازہ سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی۔
*(کنز العمّال۔حدیث،42856؛ شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلاۃوالسلام، ج4،ص342)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء.... مثالی و پاکیزہ زندگی*
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/400761858545674/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔
*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/400761858545674/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔
*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)
Facebook
Aa'la Hazrat Research Center, Malegaon
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
❤1👍1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
پیکر صبر و حیا، استقامت و تقویٰ کی مظہر، نبوی آغوشِ تربیت کی پروردہ سیدہ طیبہ زاہدہ عابدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کردار اپنا کر حقوقِ نسواں کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے اور خواتین کی عصمتوں، عظمتوں، آبروؤں کو موجودہ جدیدیت کی وحشی تہذیب کا لقمۂ تر بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایسی باوقار خاتون کے کردار کو اُجاگر کر کے مغرب کے بے حیا کرداروں کی قلعی کھولی جا سکتی ہے؛ بکتی حیا، لٹتی عصمت کو بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء کے کردار کو موجودہ عہد کی خواتین میں نمایاں کیا جائے۔ خلافِ شرع کاموں سے بچ کر اسلام کے حکم پردہ کی پاس داری کی جائے۔ آج کا اَلمیہ یہ بھی ہے کہ پردے کی بات کرنے والے پیشہ وَر واعظین بھی اسکرینوں کے ذریعے خواتین میں خود کو نمایاں کر کے بے پردگی کی تعلیم دے رہے ہیں؛ انھیں فاطمی درسِ حیا و پاس داریِ پردہ سے سبق لینا چاہیے اور حضرات حسنین کریمین کی تعلیمات کی دعوت و تبلیغ کو مطمح نظر بنانا چاہیے تا کہ نبوی انقلاب کی تازہ ہواؤں سے دلوں کی کلیاں کھل اُٹھیں اور گلشنِ حیات مہک مہک اُٹھے ؎
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
*حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء.... مثالی و پاکیزہ زندگی* "خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..." https://m.facebook.com/107640804524449/posts/400761858545674/ غلام مصطفیٰ رضوی نوری مشن مالیگاؤں…
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓯
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩)
⚡️ حدیث: لو سرقت فاطمة رضي الله عنها ⚡️
(سئل) ایک صحابیہ نے چوری کی تو اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم شرع نافذ کردیا تو ایک عورت نے ان کی شفارش کی اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ عمل میری بیٹی نے کیا ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا. یہ واقعہ کس کتاب میں ہے؟
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
متفق عليہ حدیث ہے: عن عائشة رضي الله عنها أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت فقالوا : من يكلم فيها رسول الله ﷺ؟ فقالوا : ومن يجترئ عليه إلا أسامة بن زيد حب رسول الله ﷺ فكلمه أسامة . فقال رسول الله ﷺ : أتشفع في حد من حدود الله ؟ ثم قام فاختطب ثم قال: إنما أهلك الذين قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد وايم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها. (صحیح البخاری، م: ٣٤٧٥، ٤٣٠٤؛ صحيح مسلم، م: ١٦٨٨)
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی حالت نے غم میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کے بارے میں رسول الله ﷺ سے کون عرض کرے تو بولے کہ اس پر کون جرأت کرسکتا ہے سواء اسامہ ابن زید کے جو رسول الله ﷺ کے پیارے ہیں چنانچہ حضور سے اسامہ نے عرض کیا تو فرمایا رسول الله ﷺ نے کیا تم الله تعالی کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو پھر قیام فرمایا خطبہ دیا پھر فرمایا تم سے پہلے والے صرف اس وجہ سے ہلاک کیے گئے ۵؎ کہ ان میں جب کوئی عزت والا چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور الله کی قسم اگر محمد مصطفی کی دختر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا.
سنن نسائی (م: ٤٩٠١) میں ہے: ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ: ﺃﻥ ﻗﺮﻳﺸﺎ ﺃﻫﻤﻬﻢ ﺷﺄﻥ اﻟﻤﺨﺰﻭﻣﻴﺔ اﻟﺘﻲ ﺳﺮﻗﺖ، ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﻜﻠﻢ ﻓﻴﻬﺎ؟ ﻗﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﺠﺘﺮﺉ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻻ ﺃﺳﺎﻣﺔ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺐ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻜﻠﻤﻪ ﺃﺳﺎﻣﺔ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻠﻚ اﻟﺬﻳﻦ ﻣﻦ ﻗﺒﻠﻜﻢ، ﺃﻧﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﺸﺮﻳﻒ ﺗﺮﻛﻮﻩ، ﻭﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﻀﻌﻴﻒ ﺃﻗﺎﻣﻮا ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺤﺪ، ﻭاﻳﻢ اﻟﻠﻪ، ﻟﻮ ﺳﺮﻗﺖ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﻟﻘﻄﻌﺖ ﻳﺪﻫﺎ.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
کتبه: شمشیر رضا، اخلاق احمد العطاری کامروی
(سئل) ایک صحابیہ نے چوری کی تو اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم شرع نافذ کردیا تو ایک عورت نے ان کی شفارش کی اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ عمل میری بیٹی نے کیا ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا. یہ واقعہ کس کتاب میں ہے؟
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
متفق عليہ حدیث ہے: عن عائشة رضي الله عنها أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت فقالوا : من يكلم فيها رسول الله ﷺ؟ فقالوا : ومن يجترئ عليه إلا أسامة بن زيد حب رسول الله ﷺ فكلمه أسامة . فقال رسول الله ﷺ : أتشفع في حد من حدود الله ؟ ثم قام فاختطب ثم قال: إنما أهلك الذين قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد وايم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها. (صحیح البخاری، م: ٣٤٧٥، ٤٣٠٤؛ صحيح مسلم، م: ١٦٨٨)
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی حالت نے غم میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کے بارے میں رسول الله ﷺ سے کون عرض کرے تو بولے کہ اس پر کون جرأت کرسکتا ہے سواء اسامہ ابن زید کے جو رسول الله ﷺ کے پیارے ہیں چنانچہ حضور سے اسامہ نے عرض کیا تو فرمایا رسول الله ﷺ نے کیا تم الله تعالی کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو پھر قیام فرمایا خطبہ دیا پھر فرمایا تم سے پہلے والے صرف اس وجہ سے ہلاک کیے گئے ۵؎ کہ ان میں جب کوئی عزت والا چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور الله کی قسم اگر محمد مصطفی کی دختر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا.
سنن نسائی (م: ٤٩٠١) میں ہے: ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ: ﺃﻥ ﻗﺮﻳﺸﺎ ﺃﻫﻤﻬﻢ ﺷﺄﻥ اﻟﻤﺨﺰﻭﻣﻴﺔ اﻟﺘﻲ ﺳﺮﻗﺖ، ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﻜﻠﻢ ﻓﻴﻬﺎ؟ ﻗﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﺠﺘﺮﺉ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻻ ﺃﺳﺎﻣﺔ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺐ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻜﻠﻤﻪ ﺃﺳﺎﻣﺔ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻠﻚ اﻟﺬﻳﻦ ﻣﻦ ﻗﺒﻠﻜﻢ، ﺃﻧﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﺸﺮﻳﻒ ﺗﺮﻛﻮﻩ، ﻭﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﻀﻌﻴﻒ ﺃﻗﺎﻣﻮا ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺤﺪ، ﻭاﻳﻢ اﻟﻠﻪ، ﻟﻮ ﺳﺮﻗﺖ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﻟﻘﻄﻌﺖ ﻳﺪﻫﺎ.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
کتبه: شمشیر رضا، اخلاق احمد العطاری کامروی
❤1👍1
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
⚡️ حدیث: لو سرقت فاطمة رضي الله عنها ⚡️ (سئل) ایک صحابیہ نے چوری کی تو اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم شرع نافذ کردیا تو ایک عورت نے ان کی شفارش کی اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ عمل میری بیٹی نے کیا ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا. یہ…
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓰
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓱
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
http://www.masaileshariya.com/2019/09/Post449.html?m=1
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح مبارکہ کیا اللہ تبارک و تعالٰی نے خود نکالی؟
سوال نمبر 449
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح، اللہ تعالٰی نے اپنے دست قدرت سے نکالی یا حضرت عزرائیل علیہ السلام نے؟
حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفتی: محمد وقاص عطاری فیصل آباد پاکستان
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب:
اللہ رب العزت کا خود بعض خواص بندوں کی روح کا قبض فرمانا حدیث شریف سے ثابت ہے چنانچہ شہدائے بحر کے بارے میں سرکار علیہ السلام نے فرمایا " عن ابى امامة يقول سمعت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم أن الله عز و جل وكل ملك الموت بقبض الارواح الا شهيد البحر فانه يتولى قبض أرواحهم " اھ یعنی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالٰی نے ملک الموت کو روح قبض کرنے کے لئے مقرر فرمایا ہے مگر دریا کی شہیدوں کی روح اللہ تعالٰی خود قبض فرماتا ہے " اھ ( ابن ماجہ ص 199) انہیں خواص میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی ہیں جن کی روح اللہ تعالی نے قبض فرمائی ہے جیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ " ان فاطمة الزهراء رضى الله تعالى عنها لما نزل عليها ملك الموت لم ترض بقبضه فقبض الله روحها " اھ یعنی جب خدا نے ملک الموت کو حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا تو آپ راضی نہ ہوئیں تو اللہ عز وجل نے حضرت فاطمہ کی روح خود قبض فرمائی " اھ ( ج 8 ص 114 )
واللہ اعلم بالصواب
✍ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی
موبائل نمبر 7666456313
http://www.masaileshariya.com/2019/09/Post449.html?m=1
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
http://www.masaileshariya.com/2019/09/Post449.html?m=1
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح مبارکہ کیا اللہ تبارک و تعالٰی نے خود نکالی؟
سوال نمبر 449
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح، اللہ تعالٰی نے اپنے دست قدرت سے نکالی یا حضرت عزرائیل علیہ السلام نے؟
حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفتی: محمد وقاص عطاری فیصل آباد پاکستان
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب:
اللہ رب العزت کا خود بعض خواص بندوں کی روح کا قبض فرمانا حدیث شریف سے ثابت ہے چنانچہ شہدائے بحر کے بارے میں سرکار علیہ السلام نے فرمایا " عن ابى امامة يقول سمعت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم أن الله عز و جل وكل ملك الموت بقبض الارواح الا شهيد البحر فانه يتولى قبض أرواحهم " اھ یعنی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالٰی نے ملک الموت کو روح قبض کرنے کے لئے مقرر فرمایا ہے مگر دریا کی شہیدوں کی روح اللہ تعالٰی خود قبض فرماتا ہے " اھ ( ابن ماجہ ص 199) انہیں خواص میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی ہیں جن کی روح اللہ تعالی نے قبض فرمائی ہے جیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ " ان فاطمة الزهراء رضى الله تعالى عنها لما نزل عليها ملك الموت لم ترض بقبضه فقبض الله روحها " اھ یعنی جب خدا نے ملک الموت کو حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا تو آپ راضی نہ ہوئیں تو اللہ عز وجل نے حضرت فاطمہ کی روح خود قبض فرمائی " اھ ( ج 8 ص 114 )
واللہ اعلم بالصواب
✍ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی
موبائل نمبر 7666456313
http://www.masaileshariya.com/2019/09/Post449.html?m=1
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓲
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
https://t.me/SharayiAdalatChannelFMfoundation/87
ایک مسئلہ:
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال تاریخ کیا ھے ؟
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے 3 / رمضان سن 11 / ہجری منگل کی رات کو محنت خانہ دنیا سے دار البقا کی طرف رحلت فرمائی ۔ یہی قول مشہور صحیح ہے اور بھی کئی اقوال ہیں لیکن وہ درجہ صحت سے دور ہیں ۔ ( حیرت انگیز معلومات ص 265 بحوالہ مدارج النبوہ ج 2 ص 790 )
واللہ اعلم بالصواب
✍ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئ فون نمبر 7666456313
شائع کردہ: ایف ایم فاؤنڈیشن
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
https://t.me/SharayiAdalatChannelFMfoundation/87
ایک مسئلہ:
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال تاریخ کیا ھے ؟
المستفتی : محمد قاسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے 3 / رمضان سن 11 / ہجری منگل کی رات کو محنت خانہ دنیا سے دار البقا کی طرف رحلت فرمائی ۔ یہی قول مشہور صحیح ہے اور بھی کئی اقوال ہیں لیکن وہ درجہ صحت سے دور ہیں ۔ ( حیرت انگیز معلومات ص 265 بحوالہ مدارج النبوہ ج 2 ص 790 )
واللہ اعلم بالصواب
✍ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئ فون نمبر 7666456313
شائع کردہ: ایف ایم فاؤنڈیشن
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
#فیضان_حضرت_فاطمۃ_الزہرا ❶
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
❤1👍1