پیدا ہوئیں ۔ بعض سیرت نگاروں کے نزدیک حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت جس زمانہ میں قریش کعبہ کی تعمیرکر رہے تھے اس وقت ہوئی ۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر مبارک پینتیس سال تھی ۔ (طبقات ابن سعد ج۸ ص۱۱، الاصابہ لابن حجر ج۴ ص۵۶۳،الاصابہ فی تمیزالصاحبہ ج۴ ص۵۶۳ )
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحزادیوں میں سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ ان کا اسم گرامی : حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا : اور ان کے القاب میں زہرا ، بتول ، زکیہ ، راضیہ ، طاہرہ ، بضعۃالرسول خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی پرورش اور تربیت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمائی ۔
حدیث شریف کی کی کتابوں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق ان کی سیرت اور طرز طریق کو محدثین اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ : فاقبلت فاطمہ تمشی ۔ ماتخطئی مشیۃالرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شیاَ ۔ یعنی جس وقت حضرت فاطمہرضی اللہ تعالیٰ عنہا چلتی تھیں تو آپرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چال ڈھال اپنے والد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بلکل مشابہ ہوتی تھی ۔ ام المو’منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں قیام وقعود ،نشست و برخاست ،عادات واطوار میںحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ۔ (مسلم شریف ج۲ص ۰۹۲ ، الاستیعاب ج۴ص۳۶۳،حلیۃالاولیا لابی نعیم الصفہانی ج۲ص۹۳،چشتی)
شعب ابی طالب میں محصوری : اسلام کا راستہ روکنے کے لیئے کفار مکہ نے نبی کریم صلی اللہ ولیہ وسلم کے خاندان ،صحابہ کرام ، ازواج مطہرات : اوربنات رضی اللہ عنہم : کو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کر دیا ۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے یہ صبر آزما لمحات اپنے اعزہ واقارب اور عظیم والدین کے ہمراہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیں ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہجرت فرما کے مدینہ تشریف لے گئے ۔ اس وقت حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہامکہ میں تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں لانے کے لیے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومتعین فرمایا اور دو اونٹ دیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ درہم زاد راہ کے لیئے دیے ۔ یہ دونوں بنات طیبات ان کے ہمراہ مدینہ تشریف لائیں ۔ (البدایۃ لابن کثیر ج۳ ص۲۰۲)
ماہ رجب 2 ہجری میں حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اکیس یا چوبیس برس اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پندرہ یا اٹھارہ برس تھی ۔ (تفسیر القرطبی ج۴۱ ص۱۴۲) ۔ اس نکاح کے گواہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ (خائرالعبقعی المحب الطبری )
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کی رخصتی کے لیے تمام تیاری سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمائی ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی اس کام میں ان کی معاون تھیں۔ کہ ہم نے وادی بطحا سے اچھی قسم کی مٹی منگوائی ۔جس سے اس مکان کو لیپا پونچا اور صاف کیا ۔پھر ہم نے اپنے ہاتھوں سے کھجور کی چھال درست کر کے دو گدے تیار کیے ۔اوع خرمااور منقی سے خوراک تیار کی اور پینے کے لیے شیریں پانی مہیا کیا ۔پھر اس مکان کے ایک کونے میں لکڑی گاڈ دی تاکہ اس پر کپڑے اور مشکیزہ لٹکایا جاسکی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ : فمارایناعرسا احسن من عر س فا طمہ ۔ یعنی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی سے بہتر ہم نے کوئی شادی نہیں دیکھی ۔ (سنن ابن ماجہ ص۹۳۱،مسند احمد ج۱ ص۴۰۱)
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جہیز : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کو جو جہیز دیا مختلف روائتوں کے مطابق اس کی تفصیل یہ ہے : (1) ایک بستر مصری کپڑے کا جس میں اون بھری ہوئی تھی ۔ (2) ایک چمڑے کاتکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ (3) ایک مشکیزہ ۔ (4) دو مٹی کے گھڑی ۔ (5) ایک چکی ۔ (6) ایک پیالہ ۔ (7) دو چادریں ۔ (8) ایک جا نماز ۔ (مسند احمدج۱ ص104،چشتی)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی زندگی کے تمام ادوار میں بے مثال نظر آتی ہیں ۔ آپ اپنے والدین کے لئے ایک بے مثال اور قابل فخر بیٹی تھیں ۔ اپنے شوہر کے لئے ایک بے مثال شریک حیات اور مونس وغمخوار تھیں ۔ آپ نے ماں ہونے کی حیثیت سے سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کی ایسی تربیت فر مائی کہ انہوں نے اللہ کے دین کو بچانے کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا یہاں تک کہ
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحزادیوں میں سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ ان کا اسم گرامی : حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا : اور ان کے القاب میں زہرا ، بتول ، زکیہ ، راضیہ ، طاہرہ ، بضعۃالرسول خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی پرورش اور تربیت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمائی ۔
حدیث شریف کی کی کتابوں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق ان کی سیرت اور طرز طریق کو محدثین اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ : فاقبلت فاطمہ تمشی ۔ ماتخطئی مشیۃالرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شیاَ ۔ یعنی جس وقت حضرت فاطمہرضی اللہ تعالیٰ عنہا چلتی تھیں تو آپرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چال ڈھال اپنے والد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بلکل مشابہ ہوتی تھی ۔ ام المو’منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں قیام وقعود ،نشست و برخاست ،عادات واطوار میںحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ۔ (مسلم شریف ج۲ص ۰۹۲ ، الاستیعاب ج۴ص۳۶۳،حلیۃالاولیا لابی نعیم الصفہانی ج۲ص۹۳،چشتی)
شعب ابی طالب میں محصوری : اسلام کا راستہ روکنے کے لیئے کفار مکہ نے نبی کریم صلی اللہ ولیہ وسلم کے خاندان ،صحابہ کرام ، ازواج مطہرات : اوربنات رضی اللہ عنہم : کو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کر دیا ۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے یہ صبر آزما لمحات اپنے اعزہ واقارب اور عظیم والدین کے ہمراہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیں ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہجرت فرما کے مدینہ تشریف لے گئے ۔ اس وقت حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہامکہ میں تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں لانے کے لیے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومتعین فرمایا اور دو اونٹ دیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ درہم زاد راہ کے لیئے دیے ۔ یہ دونوں بنات طیبات ان کے ہمراہ مدینہ تشریف لائیں ۔ (البدایۃ لابن کثیر ج۳ ص۲۰۲)
ماہ رجب 2 ہجری میں حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اکیس یا چوبیس برس اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پندرہ یا اٹھارہ برس تھی ۔ (تفسیر القرطبی ج۴۱ ص۱۴۲) ۔ اس نکاح کے گواہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ (خائرالعبقعی المحب الطبری )
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کی رخصتی کے لیے تمام تیاری سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمائی ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی اس کام میں ان کی معاون تھیں۔ کہ ہم نے وادی بطحا سے اچھی قسم کی مٹی منگوائی ۔جس سے اس مکان کو لیپا پونچا اور صاف کیا ۔پھر ہم نے اپنے ہاتھوں سے کھجور کی چھال درست کر کے دو گدے تیار کیے ۔اوع خرمااور منقی سے خوراک تیار کی اور پینے کے لیے شیریں پانی مہیا کیا ۔پھر اس مکان کے ایک کونے میں لکڑی گاڈ دی تاکہ اس پر کپڑے اور مشکیزہ لٹکایا جاسکی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ : فمارایناعرسا احسن من عر س فا طمہ ۔ یعنی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی سے بہتر ہم نے کوئی شادی نہیں دیکھی ۔ (سنن ابن ماجہ ص۹۳۱،مسند احمد ج۱ ص۴۰۱)
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جہیز : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کو جو جہیز دیا مختلف روائتوں کے مطابق اس کی تفصیل یہ ہے : (1) ایک بستر مصری کپڑے کا جس میں اون بھری ہوئی تھی ۔ (2) ایک چمڑے کاتکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ (3) ایک مشکیزہ ۔ (4) دو مٹی کے گھڑی ۔ (5) ایک چکی ۔ (6) ایک پیالہ ۔ (7) دو چادریں ۔ (8) ایک جا نماز ۔ (مسند احمدج۱ ص104،چشتی)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی زندگی کے تمام ادوار میں بے مثال نظر آتی ہیں ۔ آپ اپنے والدین کے لئے ایک بے مثال اور قابل فخر بیٹی تھیں ۔ اپنے شوہر کے لئے ایک بے مثال شریک حیات اور مونس وغمخوار تھیں ۔ آپ نے ماں ہونے کی حیثیت سے سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کی ایسی تربیت فر مائی کہ انہوں نے اللہ کے دین کو بچانے کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا یہاں تک کہ
انتہائی صبر وتحمل کے ساتھ اپنی جان بھی قر بان کردی اور اس وقت جب کہ آپ کی نگاہوں کے سامنے عزیز واقارب کی بہترّ نعشیں پڑی تھیں اور خود اپنا جسم تلواروں ،بھالوں،نیزوں اور تیروں کےزخموں سے لہو لہان تھا سجدہ قضا نہ ہونے دیا۔اور اپنی صاحبزادی حضرت زینب اور ام کلثوم کو اللہ و رسول کے احکام کا ایسا پابند بنایا تھا کہ انہوں نے کر ب وبلا کی سر زمین پر اپنے بھائی ،بھتیجوں اور بھانجوں کے تڑپتے لاشے کو دیکھ کر بھی اپنے سر سے دوپٹے کو ہٹنے نہیں دیا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فر مایا: حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والدین علی اور فاطمہ ان دونوں سے بھی بہتر ہیں ۔ ( ابن ماجہ،حدیث:۱۱۸،چشی)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس بارے میں سیدہ سلام ﷲ علیہا سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی مرض میں وصال ہو جائے گا۔ پس میں رونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعد آؤ گی اس پر میں ہنس پڑی ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3511، و کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1327، الرقم : 3427، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1904، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 296، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 77، و في فضائل الصحابة، 2 / 754، الرقم : 1322،چشتی)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع تھیں اور کوئی ایک بھی ہم میں سے غیر حاضر نہ تھی، اِتنے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنھا وہاں تشریف لے آئیں ، تو ﷲ کی قسم اُن کا چلنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے سے ذَرّہ بھر مختلف نہ تھا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستئذان، باب : من ناجي بين الناس ومن لم بسر صاحبه فإذا مات أخبر به، 5 / 2317، الرقم : 5928، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 263، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الطيالسي في المسند : 196، الرقم : 1373، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 247، و الدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 101، 102، الرقم : 188،چشتی)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اَزواج جمع تھیں اور کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنھا آئیں جن کی چال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے کے مشابہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مرحبا (خوش آمدید) میری بیٹی ! پھر اُنہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا ۔ اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، 1906، الرقم : 2450، و ابن ماجة في السنن، کتاب : ماجاء في الجنائز، باب : ماجاء في ذکر مرض رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 1 / 518، الرقم؛ 1620، و النسائي في السنن الکبري، 4 / 251، الرقم : 7078، 5 / 96، 146، الرقم : 8368، 8516، 8517، و في فضائل الصحابة، 77، الرقم : 263، و في کتاب الوفاة، 1 / 20، الرقم : 2،چشتی)
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اَطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 700، الرقم : 3872، و أبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ماجاء في القيام، 4 / 355، الرقم : 5217، و النسائي في فضائل الصحابة : 78، الرقم : 264، و الحاکم في المستدرک، 4 / 303،
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس بارے میں سیدہ سلام ﷲ علیہا سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی مرض میں وصال ہو جائے گا۔ پس میں رونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعد آؤ گی اس پر میں ہنس پڑی ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3511، و کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1327، الرقم : 3427، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1904، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 296، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 77، و في فضائل الصحابة، 2 / 754، الرقم : 1322،چشتی)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع تھیں اور کوئی ایک بھی ہم میں سے غیر حاضر نہ تھی، اِتنے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنھا وہاں تشریف لے آئیں ، تو ﷲ کی قسم اُن کا چلنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے سے ذَرّہ بھر مختلف نہ تھا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستئذان، باب : من ناجي بين الناس ومن لم بسر صاحبه فإذا مات أخبر به، 5 / 2317، الرقم : 5928، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 263، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الطيالسي في المسند : 196، الرقم : 1373، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 247، و الدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 101، 102، الرقم : 188،چشتی)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اَزواج جمع تھیں اور کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنھا آئیں جن کی چال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے کے مشابہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مرحبا (خوش آمدید) میری بیٹی ! پھر اُنہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا ۔ اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، 1906، الرقم : 2450، و ابن ماجة في السنن، کتاب : ماجاء في الجنائز، باب : ماجاء في ذکر مرض رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 1 / 518، الرقم؛ 1620، و النسائي في السنن الکبري، 4 / 251، الرقم : 7078، 5 / 96، 146، الرقم : 8368، 8516، 8517، و في فضائل الصحابة، 77، الرقم : 263، و في کتاب الوفاة، 1 / 20، الرقم : 2،چشتی)
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اَطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 700، الرقم : 3872، و أبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ماجاء في القيام، 4 / 355، الرقم : 5217، و النسائي في فضائل الصحابة : 78، الرقم : 264، و الحاکم في المستدرک، 4 / 303،
الرقم : 7715، و البيهقي في السنن الکبري، 5 / 96، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 248، و إبن جوزي في صفة الصفوة، 2 / 6، 7،چشتی)
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام بخاری نے ’’ الادب المفرد‘‘ میں اور امام نسائی و ابن حبان نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 326، 377، الرقم : 947، 971، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 391، الرقم : 9236، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 403، الرقم : 6953، و الحاکم في المستدرک، 3 / 167، 174، الرقم : 4732، 4753، و الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 242، الرقم : 40890، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 101، و ابن راهوية في المسند، 1 / 8، الرقم : 6،چشتی)
حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت : ’’جب ﷲ کی مدد اور فتح آ پہنچے ۔ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا اور فرمایا : میری وفات کی خبر آ گئی ہے، وہ رو پڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : مت رو، بے شک تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو وہ ہنس پڑیں ، اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج نے بھی دیکھا ۔ انہوں نے کہا : فاطمہ! (کیا ماجرا ہے)، ہم نے آپ کو پہلے روتے اور پھر ہنستے ہوئے دیکھا ہے؟ آپ نے جواب دیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا : میری وفات کا وقت آ پہنچا ہے ۔ (اس پر) میں رو پڑی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، تم میرے خاندان میں سب سے پہلے مجھے ملو گی، تو میں ہنس پڑی ۔ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 51، الرقم : 79، و ابن کثير في تفسير قرآن العظيم، 4،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : دَعَا رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة اللَّهُمَّ، إِنِّي أُعِيْذُهَابِکَ وَ ذُرِّيَتَهَا مِنَ الْشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ.رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لئے خصوصی دعا فرمائی : اے ﷲ! میں (اپنی) اس (بیٹی) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔ اس حدیث کو امام ابن حبان، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 15 / 394، 395، الرقم : 6944، و الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 409، الرقم : 1021، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الهيثمي في موارد الظمآن، 550، 551، الرقم : 2225، و ابن الجوزي في تذکرة الخواص، 1 / 277، و المحب الطبري في ذخائر العقبي، 1 / 67،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : لَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ فَاطِمَة سلام ﷲ عليهم. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی اور حضرت فاطمہ الزہراء (رضی اللہ عنھم) سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 164،چشتی)
حضرت امّ سلمی رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیھا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی ۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاںتک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے ۔ سیدۂ کائنات نے کہا : اے اماں ! میرے غسل کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی ۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا۔ پھر بولیں : اماں جی! مجھے نیا لباس دیں ۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا : اماں جی : اب میری وفات ہو جائے گی، میں (غسل کر کے) پاک ہو چکی ہوں ، لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت اُمّ سلمی بیان کرتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی ۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 461، الرقم : 27656. 27657، والدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 113، والزيلعي في نصب الراية، 2 / 250، والطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، 1 / 103، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 210، وابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 221،چشتی)
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام بخاری نے ’’ الادب المفرد‘‘ میں اور امام نسائی و ابن حبان نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 326، 377، الرقم : 947، 971، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 391، الرقم : 9236، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 403، الرقم : 6953، و الحاکم في المستدرک، 3 / 167، 174، الرقم : 4732، 4753، و الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 242، الرقم : 40890، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 101، و ابن راهوية في المسند، 1 / 8، الرقم : 6،چشتی)
حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت : ’’جب ﷲ کی مدد اور فتح آ پہنچے ۔ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا اور فرمایا : میری وفات کی خبر آ گئی ہے، وہ رو پڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : مت رو، بے شک تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو وہ ہنس پڑیں ، اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج نے بھی دیکھا ۔ انہوں نے کہا : فاطمہ! (کیا ماجرا ہے)، ہم نے آپ کو پہلے روتے اور پھر ہنستے ہوئے دیکھا ہے؟ آپ نے جواب دیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا : میری وفات کا وقت آ پہنچا ہے ۔ (اس پر) میں رو پڑی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، تم میرے خاندان میں سب سے پہلے مجھے ملو گی، تو میں ہنس پڑی ۔ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 51، الرقم : 79، و ابن کثير في تفسير قرآن العظيم، 4،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : دَعَا رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة اللَّهُمَّ، إِنِّي أُعِيْذُهَابِکَ وَ ذُرِّيَتَهَا مِنَ الْشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ.رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لئے خصوصی دعا فرمائی : اے ﷲ! میں (اپنی) اس (بیٹی) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔ اس حدیث کو امام ابن حبان، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 15 / 394، 395، الرقم : 6944، و الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 409، الرقم : 1021، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الهيثمي في موارد الظمآن، 550، 551، الرقم : 2225، و ابن الجوزي في تذکرة الخواص، 1 / 277، و المحب الطبري في ذخائر العقبي، 1 / 67،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : لَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ فَاطِمَة سلام ﷲ عليهم. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی اور حضرت فاطمہ الزہراء (رضی اللہ عنھم) سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 164،چشتی)
حضرت امّ سلمی رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیھا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی ۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاںتک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے ۔ سیدۂ کائنات نے کہا : اے اماں ! میرے غسل کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی ۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا۔ پھر بولیں : اماں جی! مجھے نیا لباس دیں ۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا : اماں جی : اب میری وفات ہو جائے گی، میں (غسل کر کے) پاک ہو چکی ہوں ، لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت اُمّ سلمی بیان کرتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی ۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 461، الرقم : 27656. 27657، والدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 113، والزيلعي في نصب الراية، 2 / 250، والطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، 1 / 103، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 210، وابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 221،چشتی)
عَنْ جَابِرٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لِکُلِّ بَنِي أُمٍّ عُصْبَةٌ يَنْتِمُوْنَ إِلَيْهِمْ إِلَّا ابْنَي فَاطِمَة، فَأَنَا وَلِيُهُمَا وَ عُصْبَتُهُمَا.رَوَاهُ الْحَاکِمُ.
ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر ماں کی اولاد کا عصبہ (باپ) ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے ، سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، کہ میں ہی اُن کا ولی اور میں ہی اُن کا نسب ہوں ۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 179، الرقم : 4770، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف بحب اَقرباء الرسول صلي الله عليه وآله وسلم و ذَوِي الشرف، 1 / 130،چشتی)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي ﷲ عنه قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُلُّ نَسَبٍ وَ سَبَبٍ يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَة إِلَّا مَا کَانَ مِنْ سَبَبِي وَ نَسَبِي . رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ .
ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میرے نسب اور رشتہ کے سوا قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے گا ۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم، احمد اور بزار نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 153، الرقم : 4684، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 625، 626، 758، الرقم : 1069، 1070، 1333، و البزار في المسند، 1 / 397، الرقم : 274، و الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 44، 45، الرقم : 2633، 2634، و في المعجم الأوسط، 5 / 376، الرقم : 5606، 6 / 357، الرقم : 6609،چشتی)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے ہاں گئے اور کہا : اے فاطمہ! خدا کی قسم! میں نے آپ کے سوا کسی شخص کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک محبوب تر نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! لوگوں میں سے مجھے بھی آپ کے والد محترم کے بعد کوئی آپ سے زیادہ محبوب نہیں ۔ اسے امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 168، الرقم : 4736، و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 432، الرقم : 37045، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 364، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 360، الرقم : 2952، والخطيب في تاريخ بغداد، 4 / 401،چشتی)
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ فَاطِمَة حَصَّنَتْ فَرْجَهَا فَحَرَّمَهَا ﷲُ وَ ذُرِّيَتَهَا عَلَي النَّارِ.رَوَاهُ الطَّبَرانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ.
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ نے اپنی عصمت و پاک دامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کی اولاد کو آگ پر حرام فرما دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام طبرانی، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 407، الرقم : 1018، و البزار في المسند، 5 / 223، الرقم : 1829، و الحاکم في المستدرک، 3 / 165، الرقم : 4726، و أبو نعيم في حلية الأولياء، 4 / 188، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 115، 116،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي ﷲ عنهما، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : إِنَّ ﷲَ عزوجل غَيْرُ مُعَذِّبِکِ وَلَا وُلْدِکِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 263، الرقم : 11685، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 202، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 117،چشتی)
عَنْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها قَالَتْ : مَا رَأيْتُ أفْضَلَ مِنْ فَاطِمَة رضي ﷲ عنها غَيْرَ أبِيْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے افضل اُن کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی شخص نہیں پایا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 137 الرقم : 2721، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 201، و الشوکاني في درالسحابة، 1 / 277، الرقم : 24،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : أَنْتِ أَوَّلُ أَهْلِي لَحُوْقًا بِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الْفَضَائِلِ وَأَبُونُعَيْمٍ .
ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر ماں کی اولاد کا عصبہ (باپ) ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے ، سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، کہ میں ہی اُن کا ولی اور میں ہی اُن کا نسب ہوں ۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 179، الرقم : 4770، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف بحب اَقرباء الرسول صلي الله عليه وآله وسلم و ذَوِي الشرف، 1 / 130،چشتی)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي ﷲ عنه قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُلُّ نَسَبٍ وَ سَبَبٍ يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَة إِلَّا مَا کَانَ مِنْ سَبَبِي وَ نَسَبِي . رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ .
ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میرے نسب اور رشتہ کے سوا قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے گا ۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم، احمد اور بزار نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 153، الرقم : 4684، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 625، 626، 758، الرقم : 1069، 1070، 1333، و البزار في المسند، 1 / 397، الرقم : 274، و الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 44، 45، الرقم : 2633، 2634، و في المعجم الأوسط، 5 / 376، الرقم : 5606، 6 / 357، الرقم : 6609،چشتی)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے ہاں گئے اور کہا : اے فاطمہ! خدا کی قسم! میں نے آپ کے سوا کسی شخص کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک محبوب تر نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! لوگوں میں سے مجھے بھی آپ کے والد محترم کے بعد کوئی آپ سے زیادہ محبوب نہیں ۔ اسے امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 168، الرقم : 4736، و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 432، الرقم : 37045، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 364، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 360، الرقم : 2952، والخطيب في تاريخ بغداد، 4 / 401،چشتی)
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ فَاطِمَة حَصَّنَتْ فَرْجَهَا فَحَرَّمَهَا ﷲُ وَ ذُرِّيَتَهَا عَلَي النَّارِ.رَوَاهُ الطَّبَرانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ.
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ نے اپنی عصمت و پاک دامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کی اولاد کو آگ پر حرام فرما دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام طبرانی، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 407، الرقم : 1018، و البزار في المسند، 5 / 223، الرقم : 1829، و الحاکم في المستدرک، 3 / 165، الرقم : 4726، و أبو نعيم في حلية الأولياء، 4 / 188، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 115، 116،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي ﷲ عنهما، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : إِنَّ ﷲَ عزوجل غَيْرُ مُعَذِّبِکِ وَلَا وُلْدِکِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 263، الرقم : 11685، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 202، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 117،چشتی)
عَنْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها قَالَتْ : مَا رَأيْتُ أفْضَلَ مِنْ فَاطِمَة رضي ﷲ عنها غَيْرَ أبِيْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے افضل اُن کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی شخص نہیں پایا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 137 الرقم : 2721، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 201، و الشوکاني في درالسحابة، 1 / 277، الرقم : 24،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : أَنْتِ أَوَّلُ أَهْلِي لَحُوْقًا بِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الْفَضَائِلِ وَأَبُونُعَيْمٍ .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنھا سے فرمایا : میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تو مجھ سے ملے گی ۔ اس حدیث کو امام احمد نے ’’فضائل الصحابہ‘‘ میں امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في فصائل الصحابة، 2 / 764، الرقم : 1345، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 40،چشتی)
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها : مَا رَأيْتُ أحَدًا قَطُّ أصْدَقُ مِنْ فَاطِمَة غَيْرَ أبِيْهَا . رَوَاهُ أبُونُعَيْمٍ .
ترجمہ : حضرت عمرو بن دینار رحمۃ ﷲ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا : فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کائنات میں کوئی نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (حلية الأولياء، 2 / 41، 42،چشتی)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّمَا سُمِّيَتْ بِنْتِي فَاطِمَة لِأنَّ ﷲَ عزوجل فَطَمَهَا وَ فَطَمَ مُحِبِّيْهَا عَنِ النَّارِ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ .
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے جدا کر دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 346، الرقم : 1385، و الهندي في ’کنز العمال، 12 / 109، الرقم : 34227، و السخاوي في ’اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 96،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أنَا مِيْزَانُ الْعِلْمِ ، وَ عَلِيٌّ کَفَتَاهُ، وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ خُيُوْطُهُ ، وَ فَاطِمَة عَلَاقَتُهُ وَ الْأئِمَّة مِنْ بَعْدِي عُمُوْدُهُ يُوْزَنُ بِهِ أعْمَالُ الْمُحِبِّيْنَ لَنَا وَ الْمُبْغِضِيْنَ لَنَا .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا ترازو ہوں ، علی اس کا پلڑا ہے ، حسن اور حسین اُس کی رسیاں ہیں ، فاطمہ اُس کا دستہ ہے اور میرے بعد اَئمہ اَطہار (اُس ترازو کی) عمودی سلاخ ہیں،جس کے ذریعے ہمارے ساتھ محبت کرنے والوں اور بغض رکھنے والوں کے اَعمال تولے جائیں گے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 44، الرقم : 107، و العجلوني في ’کشف الخفاء، 1 / 236،چشتی)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ:میری بیٹی فاطمہ تمام جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔ ( ترمذی،حدیث:۳۷۸۱ ) ۔ تین (3) رمضان المبارک سن 11 ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔ ( ماخذ : کتب احادیث ، کتب تفاسیر ، فضائل سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ، البتول ، خاتون جنت وغیرہ )
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ایک روز صبح کے وقت باہر تشریف لے گئے ۔ آپ کے اوپر سیاہ اُون سے بُنی ہوئی چادر تھی ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے توآپ نے اُنہیں اس چادر میں داخل کرلیا ۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے تواُنہیں بھی اس چادر میں داخل کرلیا ، پھرحضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا آئیں تو انہیں بھی داخل کرلیا ، پھر حضرت حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے توآپ نے اُنہیں بھی اس چادر میں لے لیا ۔ پھرفرمایا ،''بے شک ﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو! کہ تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے ۔ (صحیح مسلم، مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْس۔۔۔۔۔۔الخ ۔ حضرت امِ سلمہ رضی ﷲ عنہا کے کاشانہ اقدس میں نازل ہوئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو بلا کر چادر اوڑھائی پھر دعا مانگی، اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، ان سے گندگی دور رکھ اور انہیں خوب پاک وصاف بنا دے۔ حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ آپ نے فرمایا ، تم اپنی جگہ پر ہو اور تم خیر کی جانب ہو ۔ (ترمذی ابواب المناقب،چشتی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھ ماہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ معمول رہا کہ جب نماز فجر کے لیے نکلتے اور حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے تو فرماتے ، اے اہلِ بیت! نماز قائم کرو ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْس۔۔۔۔۔۔الخ ۔ بے شک ﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو ! کہ تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے ۔ (مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم،چشتی)
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها : مَا رَأيْتُ أحَدًا قَطُّ أصْدَقُ مِنْ فَاطِمَة غَيْرَ أبِيْهَا . رَوَاهُ أبُونُعَيْمٍ .
ترجمہ : حضرت عمرو بن دینار رحمۃ ﷲ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا : فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کائنات میں کوئی نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (حلية الأولياء، 2 / 41، 42،چشتی)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّمَا سُمِّيَتْ بِنْتِي فَاطِمَة لِأنَّ ﷲَ عزوجل فَطَمَهَا وَ فَطَمَ مُحِبِّيْهَا عَنِ النَّارِ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ .
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے جدا کر دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 346، الرقم : 1385، و الهندي في ’کنز العمال، 12 / 109، الرقم : 34227، و السخاوي في ’اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 96،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أنَا مِيْزَانُ الْعِلْمِ ، وَ عَلِيٌّ کَفَتَاهُ، وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ خُيُوْطُهُ ، وَ فَاطِمَة عَلَاقَتُهُ وَ الْأئِمَّة مِنْ بَعْدِي عُمُوْدُهُ يُوْزَنُ بِهِ أعْمَالُ الْمُحِبِّيْنَ لَنَا وَ الْمُبْغِضِيْنَ لَنَا .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا ترازو ہوں ، علی اس کا پلڑا ہے ، حسن اور حسین اُس کی رسیاں ہیں ، فاطمہ اُس کا دستہ ہے اور میرے بعد اَئمہ اَطہار (اُس ترازو کی) عمودی سلاخ ہیں،جس کے ذریعے ہمارے ساتھ محبت کرنے والوں اور بغض رکھنے والوں کے اَعمال تولے جائیں گے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 44، الرقم : 107، و العجلوني في ’کشف الخفاء، 1 / 236،چشتی)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ:میری بیٹی فاطمہ تمام جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔ ( ترمذی،حدیث:۳۷۸۱ ) ۔ تین (3) رمضان المبارک سن 11 ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔ ( ماخذ : کتب احادیث ، کتب تفاسیر ، فضائل سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ، البتول ، خاتون جنت وغیرہ )
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ایک روز صبح کے وقت باہر تشریف لے گئے ۔ آپ کے اوپر سیاہ اُون سے بُنی ہوئی چادر تھی ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے توآپ نے اُنہیں اس چادر میں داخل کرلیا ۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے تواُنہیں بھی اس چادر میں داخل کرلیا ، پھرحضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا آئیں تو انہیں بھی داخل کرلیا ، پھر حضرت حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے توآپ نے اُنہیں بھی اس چادر میں لے لیا ۔ پھرفرمایا ،''بے شک ﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو! کہ تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے ۔ (صحیح مسلم، مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْس۔۔۔۔۔۔الخ ۔ حضرت امِ سلمہ رضی ﷲ عنہا کے کاشانہ اقدس میں نازل ہوئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو بلا کر چادر اوڑھائی پھر دعا مانگی، اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، ان سے گندگی دور رکھ اور انہیں خوب پاک وصاف بنا دے۔ حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ آپ نے فرمایا ، تم اپنی جگہ پر ہو اور تم خیر کی جانب ہو ۔ (ترمذی ابواب المناقب،چشتی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھ ماہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ معمول رہا کہ جب نماز فجر کے لیے نکلتے اور حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے تو فرماتے ، اے اہلِ بیت! نماز قائم کرو ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْس۔۔۔۔۔۔الخ ۔ بے شک ﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو ! کہ تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے ۔ (مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ، فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَ نَا وَاَبْنَاءَ کُمْ ۔۔۔۔۔۔ الخ۔'' فرما دو ، آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو''۔ تو رسول کریم انے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا، اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں ۔ (صحیح مسلم)
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات واطوار اور نشست وبرخاست میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ (المستدرک، فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)
حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے مل کر سفر پر روانہ ہوتے اور جب سفر سے تشریف لاتے تو بھی سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے پاس آتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرماتے ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں ۔ (المستدرک للحاکم،صحیح ابن حبان،چشتی)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری،مسلم)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کے لیئے نکاح کا پیغام دیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بیشک فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُسے کوئی تکلیف پہنچے ۔ خدا کی قسم ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ (بخاری، مسلم،چشتی)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کر دیں ۔ میں اُن کو اجازت نہیں دیتا ، میں ان کو اجازت نہیں دیتا ، پھر میں ان کو اجازت نہیں دیتا ۔ ہاں اگر ابنِ ابی طالب چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دیدے اورپھر اُن کی بیٹی سے شادی کر لے ۔ کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے ۔ جو چیز اُسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اورجو چیز اُسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے ۔ (مسلم، ترمذی، ابوداؤد،چشتی)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ اسے تکلیف دینے والامجھے تکلیف دیتا ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے ۔ (مسند احمد،المستدرک)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا سے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ تیری ناراضگی پر ناراض اور تیری رضا پر راضی ہوتا ہے ۔ (المستدرک،طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں ۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا کے لیے ان کی شادی کے موقع پر خاص دعا فرمائی، اے اللہ ! میں اپنی اس بیٹی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔(صحیح ابن حبان، طبرانی فی الکبیر)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی کی ر ات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اُن پر پانی چھڑکا اور فرمایا ، اے اللہ ! ان دونوں کے حق میں برکت دے اور ان دونوں پر برکت نازل فرما اور ان دونوں کے لیے ان کی اولاد میں برکت عطا فرما ۔ (طبقات ابن سعد، اُسدُ الغابہ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، قیامت کے دن میرے حسب ونسب کے سوا ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا ۔ ہر بیٹے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے سوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں ۔ (مصنف عبدالرزاق، سنن الکبریٰ للبیہقی، طبرانی فی الکبیر)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ثکے متعلق فرمایا ، میں اُن سے لڑنے والا ہوں جو اِن سے لڑیں اور اُن سے صلح کرنے والا ہوں جو اِن سے صلح کریں ۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات واطوار اور نشست وبرخاست میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ (المستدرک، فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)
حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے مل کر سفر پر روانہ ہوتے اور جب سفر سے تشریف لاتے تو بھی سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے پاس آتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرماتے ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں ۔ (المستدرک للحاکم،صحیح ابن حبان،چشتی)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری،مسلم)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کے لیئے نکاح کا پیغام دیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بیشک فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُسے کوئی تکلیف پہنچے ۔ خدا کی قسم ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ (بخاری، مسلم،چشتی)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کر دیں ۔ میں اُن کو اجازت نہیں دیتا ، میں ان کو اجازت نہیں دیتا ، پھر میں ان کو اجازت نہیں دیتا ۔ ہاں اگر ابنِ ابی طالب چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دیدے اورپھر اُن کی بیٹی سے شادی کر لے ۔ کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے ۔ جو چیز اُسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اورجو چیز اُسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے ۔ (مسلم، ترمذی، ابوداؤد،چشتی)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ اسے تکلیف دینے والامجھے تکلیف دیتا ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے ۔ (مسند احمد،المستدرک)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا سے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ تیری ناراضگی پر ناراض اور تیری رضا پر راضی ہوتا ہے ۔ (المستدرک،طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں ۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا کے لیے ان کی شادی کے موقع پر خاص دعا فرمائی، اے اللہ ! میں اپنی اس بیٹی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔(صحیح ابن حبان، طبرانی فی الکبیر)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی کی ر ات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اُن پر پانی چھڑکا اور فرمایا ، اے اللہ ! ان دونوں کے حق میں برکت دے اور ان دونوں پر برکت نازل فرما اور ان دونوں کے لیے ان کی اولاد میں برکت عطا فرما ۔ (طبقات ابن سعد، اُسدُ الغابہ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، قیامت کے دن میرے حسب ونسب کے سوا ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا ۔ ہر بیٹے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے سوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں ۔ (مصنف عبدالرزاق، سنن الکبریٰ للبیہقی، طبرانی فی الکبیر)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ثکے متعلق فرمایا ، میں اُن سے لڑنے والا ہوں جو اِن سے لڑیں اور اُن سے صلح کرنے والا ہوں جو اِن سے صلح کریں ۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دریافت فرمایا، عورت کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے ؟ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے ۔ میں نے گھر آ کر یہی سوال سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے کیا تو انہوں نے جواب دیا، عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ اسے غیر مرد نہ دیکھے ۔ میں نے اس جواب کا ذکر حضور اسے کیا تو آپ نے فرمایا ، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ۔ (مسند بزار، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، بیشک فاطمہ نے اپنی عصمت وپارسائی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد پر آگ حرام کر دی ہے۔ (المستدرک للحاکم، مسند بزار)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہاسے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا ۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد) ۔ علامہ ہیثمی نے کہا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، آج رات ایک فرشتہ جو اس سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا، اُس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے کے لیے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (ترمذی،مسند احمد، فضائل الصحابۃ للنسائی، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا،سب سے پہلے جنت میںتم، فاطمہ ، حسن اور حسین داخل ہو گے ۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہونگے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، وہ تمہارے پیچھے ہونگے ۔ (المستدرک للحاکم، الصواعق المحرقۃ:٢٣٥،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میں، تم اور یہ دونوں ( یعنی حسن و حسین) اور یہ سونے والا (سیدنا علی جو کہ اُسوقت سو کر اُٹھے ہی تھے) قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہونگے ۔ (مسند احمد،مجمع الزوائد)
اُمُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں جب سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم انہیں مرحبا کہتے ، کھڑے ہو کر اُن کا استقبال کرتے ، اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بوسہ دیتے اور اُنہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے۔ (المستدرک،فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)
حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے پوچھا ، لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ فرمایا ، فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پوچھا، مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرمایا ، ان کے شوہر یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ (ترمذی ، المستدرک، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کو میرے اور فاطمہ میں سے کون زیادہ محبوب ہے ؟ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ، فاطمہ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اور تم مجھے اس سے زیادہ عزیز ہو ۔ (طبرانی فی الاوسط، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا ، اے فاطمہ ! خدا کی قسم ! میں نے آپ سے زیادہ کسی ہستی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک محبوب نہیں دیکھا ۔ اور خدا کی قسم ! لوگوں میں سے سوائے آپ کے والد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے مجھے کوئی اور آپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم)
سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے وصال سے قبل حضرت اسماء بنت عمیس رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میرا جنازہ لے جاتے وقت اور تدفین کے وقت پردے کا پورا لحاظ رکھنا ۔ انہوں نے کہا ، میں نے حبش میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ان پر پردہ ڈال دیتے ہیں (اس طرح جسم کی ہیئت نمایاں نہیں ہوتی) ۔ پھر انہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر ان پر کپڑا ڈال کر سیدہ کو دکھایا ۔ آپ نے پسند کیا پھر بعد وصال اسی طرح آپ کا جنازہ اٹھا ۔ (اُسدُ الغابہ، استیعاب)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا غیب سے آواز دے گا ، اے اہلِ محشر ! اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم گزر جائیں ۔ (المستدرک للحاکم،اسدُ الغابہ)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، بیشک فاطمہ نے اپنی عصمت وپارسائی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد پر آگ حرام کر دی ہے۔ (المستدرک للحاکم، مسند بزار)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہاسے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا ۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد) ۔ علامہ ہیثمی نے کہا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، آج رات ایک فرشتہ جو اس سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا، اُس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے کے لیے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (ترمذی،مسند احمد، فضائل الصحابۃ للنسائی، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا،سب سے پہلے جنت میںتم، فاطمہ ، حسن اور حسین داخل ہو گے ۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہونگے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، وہ تمہارے پیچھے ہونگے ۔ (المستدرک للحاکم، الصواعق المحرقۃ:٢٣٥،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میں، تم اور یہ دونوں ( یعنی حسن و حسین) اور یہ سونے والا (سیدنا علی جو کہ اُسوقت سو کر اُٹھے ہی تھے) قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہونگے ۔ (مسند احمد،مجمع الزوائد)
اُمُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں جب سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم انہیں مرحبا کہتے ، کھڑے ہو کر اُن کا استقبال کرتے ، اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بوسہ دیتے اور اُنہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے۔ (المستدرک،فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)
حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے پوچھا ، لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ فرمایا ، فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پوچھا، مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرمایا ، ان کے شوہر یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ (ترمذی ، المستدرک، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کو میرے اور فاطمہ میں سے کون زیادہ محبوب ہے ؟ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ، فاطمہ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اور تم مجھے اس سے زیادہ عزیز ہو ۔ (طبرانی فی الاوسط، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا ، اے فاطمہ ! خدا کی قسم ! میں نے آپ سے زیادہ کسی ہستی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک محبوب نہیں دیکھا ۔ اور خدا کی قسم ! لوگوں میں سے سوائے آپ کے والد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے مجھے کوئی اور آپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم)
سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے وصال سے قبل حضرت اسماء بنت عمیس رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میرا جنازہ لے جاتے وقت اور تدفین کے وقت پردے کا پورا لحاظ رکھنا ۔ انہوں نے کہا ، میں نے حبش میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ان پر پردہ ڈال دیتے ہیں (اس طرح جسم کی ہیئت نمایاں نہیں ہوتی) ۔ پھر انہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر ان پر کپڑا ڈال کر سیدہ کو دکھایا ۔ آپ نے پسند کیا پھر بعد وصال اسی طرح آپ کا جنازہ اٹھا ۔ (اُسدُ الغابہ، استیعاب)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا غیب سے آواز دے گا ، اے اہلِ محشر ! اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم گزر جائیں ۔ (المستدرک للحاکم،اسدُ الغابہ)
فضائل حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا بزبان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الفاطمۃ سیدۃنساء اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہے ۔ (البدایۃ والنہایہ)
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خواتین امت کی سردا ر ہے ۔ فاطمہ میرے جگر کا تکڑا ہے ۔ جس نے اسے تنگ کیا اس نے مجھے تنگ کیا اور جس نے مجھے تنگ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو تنگ کیا ۔جس نے اللہ تعالیٰ کہ تنگ کیا قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ کرے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری تقلید کے لیئے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم علیہ اسلام ، خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت آسیہ کافی ہیں ۔ (ترمزی شریف)
اولاد حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا : سید فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کواللہ تعالیٰ نے پانچ اولادیں عطا فرمائیں ۔تین لڑکے اور دو لڑکیاں جن کے نام یہ ہیں ۔
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔حضرت ام کلثوم ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ حضرت محسن ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔:حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ صغر سنی میں فوت ہو گئے تھے ۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے 71 ہجری میں ہوا ۔ اور دوسری بیٹی حضرت زینب بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ۔ (نسب قریش ص۵۲،چشتی)
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت و شب بیداری
سیدنا حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںمیں اپنی والدہ (گھر کے کام دھندوں سے فرصت پانے کے بعد)صبح سے شام تک محراب عبادت میں اللہ کے آگے گریہ وزار ی کر تی،خشوع وخضوع کے ساتھ اس کی حمد وثنا کرتے ، دعائیںمانگتے دیکھا کرتا ، یہ دعائیںوہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمان مردوں اورعورتوں کے لیے مانگتی تھی ۔
ایثار و سخاوت : ایک مرتبہ کسی نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا چالیس اونٹوں کی زکوۃ کیا ہو گی؟ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ۔ تمہارے لیے صرف ا یک اونٹ اور اگرمیرے پاس چالیس اونٹ ہوں تو میں سارے کے سارے ہی راہ خدا میں دے دوں ۔
انتقال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا اظہار غم
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرمرض کی شدت نے اضافہ کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پریشانی عالم میں فرمانے لگیں ۔ذاکرب ابا۔افسوس ہمارے والد کی تکلیف ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ۔ آج کے بعد تیرے والد کو کوئی تکلیف نہیں ۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتحال ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دار فانی سے دار بقا کی طرف انتقال فرما گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت پرنہایت درد و سوز کے عالم میں فرمایاتھا ۔
صبت علی مصائب لوانھا۔صبت علی الایام سرن لیا لیا۔
ترجمہ : مجھ پر مصیبتوں کے اس قدر پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ اگر یہی مصیبتوں کے پہاڑ دنوں پر ٹوٹے تو دن رات بن جاتے ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی مرض الوفات اور ان کی تیمارداری
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت مغموم رہتی تھی اور یہ ایام انہوں نے صبر اور سکون کیساتھ پورے کیے ۔ آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر اٹھائیس یا انتیس برس تھی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہو گیں۔ان بیماری کے ایام میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری اور خدما ت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سر انجام دیتی تھی ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔پھر تین رمضان گیارہ ہجری منگل کی شب اٹھا ئیس یا انتیس برس کی عمر مبارک میں حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال ہوا ۔ (البدا یۃ والنھایۃ ج۶ ص۴۳۳،چشتی)
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا غسل اور اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمات : حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وفات سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت کی تھی کہ آپ مجھے بعد از وفات غسل دیں ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ معاون ہوں ۔چناچہ حضرت اسما بنت عمیس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غسل کا انتظام کیا ۔اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت سلمیٰ رضی اللہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الفاطمۃ سیدۃنساء اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہے ۔ (البدایۃ والنہایہ)
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خواتین امت کی سردا ر ہے ۔ فاطمہ میرے جگر کا تکڑا ہے ۔ جس نے اسے تنگ کیا اس نے مجھے تنگ کیا اور جس نے مجھے تنگ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو تنگ کیا ۔جس نے اللہ تعالیٰ کہ تنگ کیا قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ کرے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری تقلید کے لیئے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم علیہ اسلام ، خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت آسیہ کافی ہیں ۔ (ترمزی شریف)
اولاد حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا : سید فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کواللہ تعالیٰ نے پانچ اولادیں عطا فرمائیں ۔تین لڑکے اور دو لڑکیاں جن کے نام یہ ہیں ۔
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔حضرت ام کلثوم ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ حضرت محسن ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔:حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ صغر سنی میں فوت ہو گئے تھے ۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے 71 ہجری میں ہوا ۔ اور دوسری بیٹی حضرت زینب بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ۔ (نسب قریش ص۵۲،چشتی)
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت و شب بیداری
سیدنا حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںمیں اپنی والدہ (گھر کے کام دھندوں سے فرصت پانے کے بعد)صبح سے شام تک محراب عبادت میں اللہ کے آگے گریہ وزار ی کر تی،خشوع وخضوع کے ساتھ اس کی حمد وثنا کرتے ، دعائیںمانگتے دیکھا کرتا ، یہ دعائیںوہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمان مردوں اورعورتوں کے لیے مانگتی تھی ۔
ایثار و سخاوت : ایک مرتبہ کسی نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا چالیس اونٹوں کی زکوۃ کیا ہو گی؟ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ۔ تمہارے لیے صرف ا یک اونٹ اور اگرمیرے پاس چالیس اونٹ ہوں تو میں سارے کے سارے ہی راہ خدا میں دے دوں ۔
انتقال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا اظہار غم
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرمرض کی شدت نے اضافہ کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پریشانی عالم میں فرمانے لگیں ۔ذاکرب ابا۔افسوس ہمارے والد کی تکلیف ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ۔ آج کے بعد تیرے والد کو کوئی تکلیف نہیں ۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتحال ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دار فانی سے دار بقا کی طرف انتقال فرما گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت پرنہایت درد و سوز کے عالم میں فرمایاتھا ۔
صبت علی مصائب لوانھا۔صبت علی الایام سرن لیا لیا۔
ترجمہ : مجھ پر مصیبتوں کے اس قدر پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ اگر یہی مصیبتوں کے پہاڑ دنوں پر ٹوٹے تو دن رات بن جاتے ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی مرض الوفات اور ان کی تیمارداری
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت مغموم رہتی تھی اور یہ ایام انہوں نے صبر اور سکون کیساتھ پورے کیے ۔ آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر اٹھائیس یا انتیس برس تھی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہو گیں۔ان بیماری کے ایام میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری اور خدما ت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سر انجام دیتی تھی ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔پھر تین رمضان گیارہ ہجری منگل کی شب اٹھا ئیس یا انتیس برس کی عمر مبارک میں حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال ہوا ۔ (البدا یۃ والنھایۃ ج۶ ص۴۳۳،چشتی)
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا غسل اور اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمات : حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وفات سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت کی تھی کہ آپ مجھے بعد از وفات غسل دیں ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ معاون ہوں ۔چناچہ حضرت اسما بنت عمیس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غسل کا انتظام کیا ۔اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت سلمیٰ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا اور حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا شریک تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سارے انتظام کی نگرانی فرمانے والے تھے ۔ (اسدالغابہ ج۵ص۸۷۴،البدایۃ والنھایۃ ج۶ص۳۳۳ ،حلیۃالاولیاج۳ص۳۴)
جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھنے کا مرحلہ پیش آیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ا ور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو اس موقعہ پر موجود تھے تشریف لائے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں ۔ جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں جنازہ پڑھانے کے لیئے پیش قدمی نہیں کر سکتا ۔ نماز جنازہ پڑھانا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کا حق ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائیں اورجنازہ پڑھائیں ۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جنازہ پڑھایا ۔ (طبقات ابن سعد ج۸ص۹۱،کنزالعمال ج۶ص۸۱۳) ۔ نماز جنازہ کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رات کو ہی جنت البقیع میں دفن کیا گیا ، اور دفن کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قبر میں اترے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/04/blog-post_16.html
جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھنے کا مرحلہ پیش آیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ا ور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو اس موقعہ پر موجود تھے تشریف لائے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں ۔ جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں جنازہ پڑھانے کے لیئے پیش قدمی نہیں کر سکتا ۔ نماز جنازہ پڑھانا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کا حق ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائیں اورجنازہ پڑھائیں ۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جنازہ پڑھایا ۔ (طبقات ابن سعد ج۸ص۹۱،کنزالعمال ج۶ص۸۱۳) ۔ نماز جنازہ کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رات کو ہی جنت البقیع میں دفن کیا گیا ، اور دفن کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قبر میں اترے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/04/blog-post_16.html
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓮
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
*🕯حضرت سیّدۃ النّسا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سیّدہ فاطمہ۔
*کنیت:* اُمّ الحسنین۔
*اَلقاب:* زہرا، بتول، سیّدۃ النساء، خاتونِ جنّت، مخدومۂ کائنات، طیّبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، وغیرہ۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بنتِ سیّدالانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔
آپ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔
*فاطمہ کی وجہِ تسمیہ:* سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالٰی فطمھاومحبیھا عن النار:
(ترجمہ: یعنی میری بیٹی کا نام ’’فاطمہ‘‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کر دیا ہے۔)
*(کَنْزُ الْعُمَّال،ج12،حدیث34222)*
*تاریخِ ولادت:* اِعلانِ نبوّت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بقولِ بعض آپ کی ولادتِ باسعادت20؍ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔
*فضائل و مناقب:*
*تصویرِ مصطفیٰ ﷺ:* اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل وصورت اور بات چیت میں سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا۔ *(سننِ ابو داؤد)*
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین
(ترجمہ: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنّت کی عورتوں کی سردار ہو؟)
*(بخاری،1:532، مسلم جلد دوم:290)*
*سیّدہ کی خوشی و ناراضگی اللہ تعالیٰ کی خوشی و ناراضگی:* حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا
فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے اور دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے۔
*(بخاری ، 1:532)*
*قیامت کے دن ندا ہوگی اہلِ محشر اپنی نگاہوں کو جھکالیں:* حضور سیّدِ عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق
(ترجمہ: قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیّدہ فاطمہ بنتِ محمدﷺ گذر جائیں، چناں چہ سیّدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی۔)
*(المستدرک ، 3:161)*
*سیّدہ کا نکاح:* سن 2 ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔اس وقت آپ کی عمر 15 سال ، اور مولا علی کی عمر 21 سال تھی۔ رخصتی ذوالحجہ میں ہوئی۔
*سیّدہ کا جہیز:* ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے، یہ ہے دونوں جہانوں کے سردار ﷺکی لاڈلی بیٹی کا جہیز کہ صرف وہ اشیا دیں جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں۔
*وصال:* حضورِ اکرم ﷺ کے وصال کے6 ماہ بعد 3؍رمضان المبارک 11ھ منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔نمازِ جنازہ سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی۔
*(کنز العمّال۔حدیث،42856؛ شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلاۃوالسلام، ج4،ص342)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
*🕯حضرت سیّدۃ النّسا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سیّدہ فاطمہ۔
*کنیت:* اُمّ الحسنین۔
*اَلقاب:* زہرا، بتول، سیّدۃ النساء، خاتونِ جنّت، مخدومۂ کائنات، طیّبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، وغیرہ۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بنتِ سیّدالانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔
آپ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔
*فاطمہ کی وجہِ تسمیہ:* سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالٰی فطمھاومحبیھا عن النار:
(ترجمہ: یعنی میری بیٹی کا نام ’’فاطمہ‘‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کر دیا ہے۔)
*(کَنْزُ الْعُمَّال،ج12،حدیث34222)*
*تاریخِ ولادت:* اِعلانِ نبوّت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بقولِ بعض آپ کی ولادتِ باسعادت20؍ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔
*فضائل و مناقب:*
*تصویرِ مصطفیٰ ﷺ:* اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل وصورت اور بات چیت میں سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا۔ *(سننِ ابو داؤد)*
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین
(ترجمہ: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنّت کی عورتوں کی سردار ہو؟)
*(بخاری،1:532، مسلم جلد دوم:290)*
*سیّدہ کی خوشی و ناراضگی اللہ تعالیٰ کی خوشی و ناراضگی:* حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا
فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے اور دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے۔
*(بخاری ، 1:532)*
*قیامت کے دن ندا ہوگی اہلِ محشر اپنی نگاہوں کو جھکالیں:* حضور سیّدِ عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق
(ترجمہ: قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیّدہ فاطمہ بنتِ محمدﷺ گذر جائیں، چناں چہ سیّدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی۔)
*(المستدرک ، 3:161)*
*سیّدہ کا نکاح:* سن 2 ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔اس وقت آپ کی عمر 15 سال ، اور مولا علی کی عمر 21 سال تھی۔ رخصتی ذوالحجہ میں ہوئی۔
*سیّدہ کا جہیز:* ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے، یہ ہے دونوں جہانوں کے سردار ﷺکی لاڈلی بیٹی کا جہیز کہ صرف وہ اشیا دیں جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں۔
*وصال:* حضورِ اکرم ﷺ کے وصال کے6 ماہ بعد 3؍رمضان المبارک 11ھ منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔نمازِ جنازہ سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی۔
*(کنز العمّال۔حدیث،42856؛ شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلاۃوالسلام، ج4،ص342)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء.... مثالی و پاکیزہ زندگی*
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/400761858545674/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔
*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)
"خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..."
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/400761858545674/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلام کے کامل ترین نظام کا یہ حصہ ہے کہ طبقۂ نسواں کے لیے بھی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا مکمل نظام اور قانون موجود ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ اس کی مثال ہے۔ آپ نے بارگاہِ نبوت سے جو فیض حاصل کیا؛ اُس کی اشاعت مدتوں کی۔ صحابیات کو مسائل سے آگاہ کرتیں، ان کی باقاعدہ تربیت کا انتظام کیا ہے اُم المؤمنین نے۔ اسلام کے حقوقِ نسواں کے نظام کی ترسیل مؤثر طریقے سے اُم المؤمنین نے کی؛ اوران تمام پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا جن کے ذریعے ایک خاتون اپنی زندگی کو مقاصد تخلیق کے ضابطوں کی تکمیل کے ساتھ گزار سکے۔ اس طرح اسلام کے فطری نظام کی ترویج کا رول ماڈل پیش کیا ہے اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے... یوں ہی خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیبہ بھی کئی جہتوں سے ممتاز، نمایاں، بے مثل، عدیم النظیر ہے؛ جن سے درس پا کر طبقۂ نسواں کا وقار بحال ہو سکتا ہے، حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آپ کی ذات مشعلِ راہ بھی ہے اور نشانِ منزل بھی۔
*چند خصوصیات:*
[۱] سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کی ذات ممتاز ہے؛ اس لیے کہ بنتِ رسول ہیں، صاحب زادیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[۲] تاج دارِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں رکھ کر مثالی خاتون بنایا۔ جن کی ذات پاک قیامت تک کے لیے وقارِ نسواں کی تابندگی کا مظہر بن گئی ۔
[۳] جب بھی تقدسِ نسواں اور عفتِ بنت حوا کی بات کی جائے گی تو سیرتِ فاطمۃ الزہراء مثال میں پیش کی جائے گی۔
[۴] خواتین کے لیے کامیاب زندگی کا سب سے نمایاں باب ہے سیرتِ فاطمۃ الزہراء۔ طبقۂ نسواں کے لیے عزم و یقیں کے بلند مینار کا نام ہے سیدۂ کائنات۔
[۵] باب العلم خلیفۂ چہارم شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ جیسی عظیم نسبت بھی سیدہ فاطمۃ الزہراء کو حاصل ہے۔
[٦] اسلام کی شرعی سرحدوں کی پاس بانی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی ذات "حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ" کی تربیت جس والدہ کی گود میں ہوئی؛ اسی کا نام حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہے۔ گویا صبر و استقامت کا درس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایت سے دو دو نسبتوں سے امام حسین کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ نے ریگزارِ کربلا میں دین کی اساس کے لیے صبر و استقامت کے ساتھ اسلام پر جاں نثاری کا جو درس دیا تھا؛ امام حسین نے اس کی مکمل پاسداری کی۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا ایثار، فکرو تدبر اور مثالی زندگی بھی سیدہ فاطمہ کی عظمت کا نقشِ جمیل ہے۔
[۷] جنتی خواتین کی سردار ہیں سیدہ فاطمۃ الزہراء؛ جن کے فیضانِ کرم سے طبقۂ نسواں اِس قدر نوازا گیا کہ جب بھی کسی خاتون کی دین کے لیے شجاعت و قربانی کا ذکر کیا جائے گا؛ اُس کی حیات کی تشکیل؛ اور فکر کی تعمیر میں درسِ فاطمی نمایاں دکھائی دے گا۔
[۸] بارگاہِ نبوی سے نسبت و قرب کے سبب جس قدر عظیم اختیارات و سربلندیوں سے آراستہ تھیں؛ اس کا اندازا ہماری معمولی عقلیں نہیں لگا سکتیں؛ ان سب کے باوجود سادہ زندگی، اور رضائے الٰہی کے لیے قناعت و صبر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ مثالی بھی ہے؛ اور دُنیا میں بسنے والی ہر خاتون کی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے رول ماڈل بھی،
[۹] آپ کی ذات تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ تھی؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے مقام تقدس اور خوبیوں کے بیان کو دفتر بھی ناکافی ہیں-
[۱۰] اسلام کے قوانین برائے نسواں کو چیلنج کرنے والے حیاتِ سیدہ فاطمۃ الزہراء کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس قدر پاکیزہ و مطہر و عظیم مقام؛ اسلام نے خواتین کو دیا؛ اس کی مثال کسی بھی مذہب یا ازم یا نظریے میں نہیں پیش کی جا سکتی۔ تاریخ انسانی ایسی کم ہی مثالیں پیش کر سکتی ہے جن کے سرے پر کسی خاتون کی انقلاب بداماں زندگی نے تعمیر فکر ونظر کا فریضہ انجام دیا ہو! انقلاب آفریں ذات ہے سیدہ فاطمہ کی۔
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے مناقب و شان میں یہ پیاری روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس کے محبوبوں کو دوزخ سے جدا کیا ہے۔ (صواعق محرقہ،ص۱۵۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بے شک فاطمہ پاک دامن ہے اور اللہ نے اس کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا ہے۔ (ابونعیم المستدرک حاکم،ص۱۵۳)
Facebook
Aa'la Hazrat Research Center, Malegaon
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
❤1👍1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
پیکر صبر و حیا، استقامت و تقویٰ کی مظہر، نبوی آغوشِ تربیت کی پروردہ سیدہ طیبہ زاہدہ عابدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کردار اپنا کر حقوقِ نسواں کا تحفظ بھی کیا جا سکتا ہے اور خواتین کی عصمتوں، عظمتوں، آبروؤں کو موجودہ جدیدیت کی وحشی تہذیب کا لقمۂ تر بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایسی باوقار خاتون کے کردار کو اُجاگر کر کے مغرب کے بے حیا کرداروں کی قلعی کھولی جا سکتی ہے؛ بکتی حیا، لٹتی عصمت کو بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء کے کردار کو موجودہ عہد کی خواتین میں نمایاں کیا جائے۔ خلافِ شرع کاموں سے بچ کر اسلام کے حکم پردہ کی پاس داری کی جائے۔ آج کا اَلمیہ یہ بھی ہے کہ پردے کی بات کرنے والے پیشہ وَر واعظین بھی اسکرینوں کے ذریعے خواتین میں خود کو نمایاں کر کے بے پردگی کی تعلیم دے رہے ہیں؛ انھیں فاطمی درسِ حیا و پاس داریِ پردہ سے سبق لینا چاہیے اور حضرات حسنین کریمین کی تعلیمات کی دعوت و تبلیغ کو مطمح نظر بنانا چاہیے تا کہ نبوی انقلاب کی تازہ ہواؤں سے دلوں کی کلیاں کھل اُٹھیں اور گلشنِ حیات مہک مہک اُٹھے ؎
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
٭٭٭
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
*حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء.... مثالی و پاکیزہ زندگی* "خواتینِ اسلام کے لیے اسوۂ فاطمی نمونۂ عمل ہے...پاکیزہ زندگی کی اقدار کی تشکیل کے لیے شفاف آئینہ ہے..." https://m.facebook.com/107640804524449/posts/400761858545674/ غلام مصطفیٰ رضوی نوری مشن مالیگاؤں…
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓯
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩)
⚡️ حدیث: لو سرقت فاطمة رضي الله عنها ⚡️
(سئل) ایک صحابیہ نے چوری کی تو اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم شرع نافذ کردیا تو ایک عورت نے ان کی شفارش کی اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ عمل میری بیٹی نے کیا ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا. یہ واقعہ کس کتاب میں ہے؟
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
متفق عليہ حدیث ہے: عن عائشة رضي الله عنها أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت فقالوا : من يكلم فيها رسول الله ﷺ؟ فقالوا : ومن يجترئ عليه إلا أسامة بن زيد حب رسول الله ﷺ فكلمه أسامة . فقال رسول الله ﷺ : أتشفع في حد من حدود الله ؟ ثم قام فاختطب ثم قال: إنما أهلك الذين قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد وايم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها. (صحیح البخاری، م: ٣٤٧٥، ٤٣٠٤؛ صحيح مسلم، م: ١٦٨٨)
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی حالت نے غم میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کے بارے میں رسول الله ﷺ سے کون عرض کرے تو بولے کہ اس پر کون جرأت کرسکتا ہے سواء اسامہ ابن زید کے جو رسول الله ﷺ کے پیارے ہیں چنانچہ حضور سے اسامہ نے عرض کیا تو فرمایا رسول الله ﷺ نے کیا تم الله تعالی کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو پھر قیام فرمایا خطبہ دیا پھر فرمایا تم سے پہلے والے صرف اس وجہ سے ہلاک کیے گئے ۵؎ کہ ان میں جب کوئی عزت والا چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور الله کی قسم اگر محمد مصطفی کی دختر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا.
سنن نسائی (م: ٤٩٠١) میں ہے: ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ: ﺃﻥ ﻗﺮﻳﺸﺎ ﺃﻫﻤﻬﻢ ﺷﺄﻥ اﻟﻤﺨﺰﻭﻣﻴﺔ اﻟﺘﻲ ﺳﺮﻗﺖ، ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﻜﻠﻢ ﻓﻴﻬﺎ؟ ﻗﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﺠﺘﺮﺉ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻻ ﺃﺳﺎﻣﺔ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺐ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻜﻠﻤﻪ ﺃﺳﺎﻣﺔ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻠﻚ اﻟﺬﻳﻦ ﻣﻦ ﻗﺒﻠﻜﻢ، ﺃﻧﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﺸﺮﻳﻒ ﺗﺮﻛﻮﻩ، ﻭﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﻀﻌﻴﻒ ﺃﻗﺎﻣﻮا ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺤﺪ، ﻭاﻳﻢ اﻟﻠﻪ، ﻟﻮ ﺳﺮﻗﺖ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﻟﻘﻄﻌﺖ ﻳﺪﻫﺎ.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
کتبه: شمشیر رضا، اخلاق احمد العطاری کامروی
(سئل) ایک صحابیہ نے چوری کی تو اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم شرع نافذ کردیا تو ایک عورت نے ان کی شفارش کی اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ عمل میری بیٹی نے کیا ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا. یہ واقعہ کس کتاب میں ہے؟
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
متفق عليہ حدیث ہے: عن عائشة رضي الله عنها أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت فقالوا : من يكلم فيها رسول الله ﷺ؟ فقالوا : ومن يجترئ عليه إلا أسامة بن زيد حب رسول الله ﷺ فكلمه أسامة . فقال رسول الله ﷺ : أتشفع في حد من حدود الله ؟ ثم قام فاختطب ثم قال: إنما أهلك الذين قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد وايم الله لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها. (صحیح البخاری، م: ٣٤٧٥، ٤٣٠٤؛ صحيح مسلم، م: ١٦٨٨)
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی حالت نے غم میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کے بارے میں رسول الله ﷺ سے کون عرض کرے تو بولے کہ اس پر کون جرأت کرسکتا ہے سواء اسامہ ابن زید کے جو رسول الله ﷺ کے پیارے ہیں چنانچہ حضور سے اسامہ نے عرض کیا تو فرمایا رسول الله ﷺ نے کیا تم الله تعالی کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو پھر قیام فرمایا خطبہ دیا پھر فرمایا تم سے پہلے والے صرف اس وجہ سے ہلاک کیے گئے ۵؎ کہ ان میں جب کوئی عزت والا چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور الله کی قسم اگر محمد مصطفی کی دختر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا.
سنن نسائی (م: ٤٩٠١) میں ہے: ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ: ﺃﻥ ﻗﺮﻳﺸﺎ ﺃﻫﻤﻬﻢ ﺷﺄﻥ اﻟﻤﺨﺰﻭﻣﻴﺔ اﻟﺘﻲ ﺳﺮﻗﺖ، ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﻜﻠﻢ ﻓﻴﻬﺎ؟ ﻗﺎﻟﻮا: ﻣﻦ ﻳﺠﺘﺮﺉ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻻ ﺃﺳﺎﻣﺔ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺐ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻜﻠﻤﻪ ﺃﺳﺎﻣﺔ، ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻠﻚ اﻟﺬﻳﻦ ﻣﻦ ﻗﺒﻠﻜﻢ، ﺃﻧﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﺸﺮﻳﻒ ﺗﺮﻛﻮﻩ، ﻭﺇﺫا ﺳﺮﻕ ﻓﻴﻬﻢ اﻟﻀﻌﻴﻒ ﺃﻗﺎﻣﻮا ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺤﺪ، ﻭاﻳﻢ اﻟﻠﻪ، ﻟﻮ ﺳﺮﻗﺖ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﻟﻘﻄﻌﺖ ﻳﺪﻫﺎ.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
کتبه: شمشیر رضا، اخلاق احمد العطاری کامروی
❤1👍1
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
⚡️ حدیث: لو سرقت فاطمة رضي الله عنها ⚡️ (سئل) ایک صحابیہ نے چوری کی تو اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم شرع نافذ کردیا تو ایک عورت نے ان کی شفارش کی اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ عمل میری بیٹی نے کیا ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا. یہ…
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓰
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1