🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
انہوں نے کہا: ’’عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔(الفروع من الکافی‘‘ کتاب المواریث ،جلد7،صفحہ 137)



ابنِ بابویہ قمی صدوق نے اپنی صحیح ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں یہ روایت بیان کی ہے : ابو عبداللہ جعفر کی روایت ان کے پانچویں امام کی روایت میسر نے بیان کی ہے کہ میں نے آپ سے (یعنی جعفر سے) عورتوں کی میراث کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے کہا: جہاں تک زمین اور غیر منقولہ جائداد کا تعلق ہے، اس میں عورتوں کی میراث نہیں۔(من لا یحضرہ الفقیہ““،کتاب الفرائض والمیراث جلد۴ ،صفحہ ۳۴۷،چشتی)



اسی طرح اور بہت سی روایات بھی بیان کی گئی ہیں جن کی بناء پر اُن کے علماء نے اتفاق کیا ہے کہ زمین اور غیر منقولہ جائداد میں عورتوں کو میراث نہیں دی جاتی ۔



اگر عورتوں کو زمین اور باغات وغیرہ کی جائیداد نہیں دی جاتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بقول ان کے کس طرح فدک کا مطالبہ کیا تھا۔ کوئی کوڑھ مغز بھی اس سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ یقینا فدک غیر منقولہ جائداد تھی۔



کیا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسلہ پر ناراض تھیں کا جواب شیعوں کے سب سے بڑے متعصب عالم مجلسی کے قلم سے پڑھیئے ، باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ:سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے: میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کے لیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا۔(حق الیقین‘‘ ،صفحہ ۲۰۱، ۲۰۲ ،ترجمہ فارسی)



مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اقتدار پر فائز ہوتے ہی ابن سباء کی نسل کی اس سازش پر ضربِ کاری لگائی ۔ امامِ شیعہ، سید مرتضیٰ علم الہدیٰ لکھتا ہے:جب فدک کے انکار کا معاملہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو آپ نے کہا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس چیز کو دے ڈالوں جس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روک لیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی حال میں برقرار رکھا۔ (الشافی‘‘ للمرتضیٰ صفحہ ۲۳۱ )( شرح نہج البلاغۃ لابنِ ابی الحدید“، جلد ۴)



حضرت امام ابوجعفر محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں کثیر النوال نے پوچھا: ’’میں آپ پر قربان جاؤں۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا حق روک کر آپ پر ظلم کیا ہے؟‘‘ یا ان الفاظ میں کہا کہ: ’’آپ کا کچھ حق تلف کیا ہے؟‘‘ آپ نے کہا: ’’ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے اپنے اس بندے پر قرآن نازل کیا جو سارے جہانوں کے لیے نذیر (ڈرانے والے) ہیں ، ہم پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔‘‘ میں نے کہا: ’’قربان جاؤں کیا میں بھی ان دونوں سے محبت رکھوں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہاں تیرا ستیاناس! تو ان دونوں سے محبت رکھ، پھر اگر کوئی تکلیف تجھے پہنچے تو وہ میرے ذمے۔(شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)



ہم نے شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں شیعہ جنہیں اپنا امام مانتے ہیں (آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم) اور دیگر شیعہ نے صاف صاف یہ کہا کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےاُن پر کوئی ظلم نہیں کیا پھر یہ اجہل متعصب شیعہ کیوں ان مقدس ہستیوں پرتہمتیں لگاتے ہیں ۔؟ یا تو صآف لکھیں شیعہ مذھب کے تمام امام جھوٹے ہیں یا یہ شیعہ خود جھوٹے ہیں فیصلہ خود کیجیئے۔



امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے بھی فدک کے مسئلے میں وہی کچھ فرمایا جو آپ کے دادا مولا علی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا پڑھیئے شیعہ مذھب کی معتبر کتاب کے حوالے سے : بحتری بن حسان کے پوچھنے پر حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تحقیر و توہین کے طور پر میں نے زید بن علی علیہ السلام سے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک فاطمہ رضی اللہ عنہا سے چھین لیا، یہ سن کر آپ کہنے لگے: ابوبکر رضی اللہ عنہ مہربان آدمی تھے، وہ ناپسند کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے کسی کام میں تغیر و تبدل کریں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدک دیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کے
پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟ آپ علی رضی اللہ عنہ کو لے آئیں ، انہوں نے اس بات کی گواہی دی۔ ان کے بعد ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: کیا تم دونوں گواہی نہیں دیتے کہ میں اہلِ جنت میں سے ہوں، دونوں کہنے لگے کیوں نہیں، ابو زید نے کہا: یعنی انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک ان (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو دیا تھا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور آدمی یا عورت کو بھی اس جھگڑے میں فیصلہ کرنے کا حق دار سمجھتی ہیں، اس پر ابو زید کہنے لگے: اللہ کی قسم اگر فیصلہ میرے پاس آتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔(شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲)



الحمد للہ فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے مسلہ باغ فدک کے متعلق شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں سے اس مسلہ کو علمی اور مہذب انداز میں پیش کر دیا ہے جو کچھ آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم نے فرمایا اور جو کچھ شیعہ مذھب کے معتبر علماء نے لکھا یہی اہلسنت و جماعت کا مؤقف ہے مجھے حیرت ہوتی اجہل قسم کے شیعہ ذاکرین اور سننے پڑھنے والے شیعہ حضرات آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات و ارشادات کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں اس کی وجہ صاف ہے کہ یہ جھوٹی محبت کے دعویدار ہیں صرف امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پھیلانا ان کا کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اہل اسلام کو ابن سباء یہودی کے پھیلائے ہوئے اس فتنہ و شر سے محفوظ فرمائے اور حق کو قبول کرنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔



باغِ فَدَک اور حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کا فیصلہ



محترم قارئینِ کرام : یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام کتب تواریخ اس پر شاہد ہیں کہ فدک زمانہ علوی میں بھی اسی طرح رہا جیسے صدیق و فاروق و عثمان رضی ﷲ عنہما کے دور خلافت میں تھا اور حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے بھی فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو صدیق اکبررضی ﷲ عنہ نے جاری رکھا تھا ۔



آیئے پہلے اس کے متعلق پڑھتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی طرح فدک کو استعمال میں لائے :

شیعہ عالم الدکتور سعید السَّامرّائی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی بن ابی طالب علیہ السّلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ اللہ عنہما) نے نہی کیا ۔ (شیعہ کتاب : حجج النّھج صفحہ نمبر 277)

شیعہ محقق مرتضی علی موسوی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی علیہ السّلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام شیرخدا سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : الشافی فی الامامت صفحہ نمبر 76،چشتی)

شیعہ عالم الدکتور سعید السَّامرّائی لکھتا ہے : یہ سن کر سیدہ فاطمہ علیہا السّلام نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی علیہ السّلام اور ام ایمن بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہ) بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ اے بنت پیغمبر توں نے بھی سچ کہا اے علی علیہ السّلام تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ علیہا السّلام تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرمادیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے راضی ہوگئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے عہد لیا ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) فدک کا غلہ وصول کرتے اور اہلبیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) بھی فدک کواسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان (رضی اللہ عنہ) بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی علیہ السّلام بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 266،چشتی)
شیعہ محقق لکھتا ہے : جب امر خلافت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ سے فدک کو اہلبیت رضی اللہ عنہم کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : شرح نھج البلاغہ ابن حدید جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۲)

اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے اپنے دور حکومت میں فدک غصب کرلیا تھا تو جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا فرض تھا کہ وہ فدک کو تقسیم کرتے اور اس وقت جو اس کے وارث موجود تھے ، ان کو دے دیتے اور جو ناجائز بات چلی آرہی تھی اور جو ظلم روا رکھا گیا تھا ، اس کو اپنے دور خلافت میں ختم کردیتے کیونکہ خود حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے میں کہ امام کے لئے پانچ امر ضروری ہیں :

(1) خوب وعظ کہنا ۔

(2) لوگوں کی خیر خواہی میں خوب قوت صرف کرنا ۔

(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت کو زندہ کرنا ۔

(4) سزاؤں کے حق داروں کو سزا دینا ۔

(5) حق داروں کو ان کے حقوق واپس لوٹا دینا ۔ (نہج البلاغہ مصری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 202)

اسی طرح شیعہ مذھب کی مشہور کتاب رجال کشی میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد مذکور ہے : انی اذا بصرت شیئا منکراً او قدت نارا و دعوت قنبراً ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 199،چشتی)



ترجمہ : جب میں خلافِ شریعت کام دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور قنبر کو بلاتا ہوں ۔



اسی بناء پر آپ نے ان لوگوں کو آگ میں جلا دیا تھا ۔ جو آپ کو خدا کہنے لگ گئے تھے پھر فرماتے ہیں : ولا المعطل للسنۃ فیہلک الامۃ ۔ (نہج البلاغہ صفحہ 398)

ترجمہ : امام ایسا نہیں ہونا چاہئے جو پیغمبرکے طریقے کو چھوڑ دے، ورنہ امت ہلاک ہوجائے گی ۔



لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کا تھا یہ اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے نزدیک باغِ فَدک میں صدیقی طرز عمل حق و صواب تھا اور حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ صدیقی طرز عمل کو بالکل شریعت اسلامیہ کے مطابق جانتے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعہ حضرات کا صدیقی خلافت میں غصبِ فَدک کا قول کرنا حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی امامت و خلافت پر شرمناک حملہ ہے ۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے باغِ فَدک غصب کرلیا تھا تو حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ پر بھی یہ الزام قائم ہوگا ۔ کہ انہوں نے فدک کو صدیقی خلافت کے دستو رپر جاری رکھ کر امت و خلافت کا حق ادا نہیں کیا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ اگر غاصب فدک ثابت ہونگے تو حضرت مولا علی مرتضیٰ رضی ﷲ عنہ غصب کے برقرار رکھنے والے ثابت ہونگے ۔ سوچئے کہ غصب کرنے والا زیادہ مجرم ہے یا غصب کو برقرار رکھنے والا ۔ اور غاصبوں کے طرز عمل کی حکومت و سلطنت کے با وجود حمایت کرنے والا ۔ (معاذ ﷲ) ۔ غرضیکہ قضیہ فدک میں جناب حضرت مولا علی الممرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا طرز عمل دنیائے شیعیت پر بہت بھاری حجت ہے ۔ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر اعتراض ہوگا تو حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر بھی حرف آئے گا ۔ پس جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ کا اراضی فدک کو اسی دستور پر رکھنا جس پر کہ جناب صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے رکھا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی حقانیت اور ان کے طرز عمل کی صحت پر دلیل قاہر ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہؑ کو باغِ فَدَک دینے سے انکار فرمادیا تھا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانُ ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ عُمَرُ : يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ يَعْنِي عَلَى
عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلَافَةَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ ، وَتُوُفِّيَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُ مِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْ بَقِيَ لَكَانَ أَقَلَّ . (سنن ابی داؤد الجزء الثالث حدیث نمبر 2972 صفحہ نمبر 253،چشتی)



ترجمہ اردو : مغیرہ کہتے ہیں` عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے (اہل و عیال، فقراء و مساکین پر) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر احسان فرماتے تھے، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدک مانگا تو آپ نے انہیں دینے سے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاطمہ علیہا السلام کو دینے سے منع کر دیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا (یعنی میں نے پھر وقف کر دیا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزخلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو (گھٹ کر) چار سو دینار ہو گئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی ۔



ترجمہ انگلش :



Narrated Umar ibn Abdul Aziz: Al-Mughirah (ibn Shubah) said: Umar ibn Abdul Aziz gathered the family of Marwan when he was made caliph, and he said: Fadak belonged to the Messenger of Allah ﷺ, and he made contributions from it, showing repeated kindness to the poor of the Banu Hashim from it, and supplying from it the cost of marriage for those who were unmarried. Fatimah asked him to give it to her, but he refused. That is how matters stood during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ till he passed on (i. e. died). When Abu Bakr was made ruler he administered it as the Prophet ﷺ had done in his lifetime till he passed on. Then when Umar ibn al-Khattab was made ruler he administered it as they had done till he passed on. Then it was given to Marwan as a fief, and it afterwards came to Umar ibn Abdul Aziz. Umar ibn Abdul Aziz said: I consider I have no right to something which the Messenger of Allah ﷺ refused to Fatimah, and I call you to witness that I have restored it to its former condition; meaning in the time of the Messenger of Allah ﷺ. Abu Dawud said: When Umar bin Abd al-Aziz was made caliph its revenue was forty thousand dinars, and when he died its revenue was four hundred dinars. Had he remained alive, it would have been less than it.(Chishti)



عَن المغيرةِ قَالَ: إِنَّ عمَرَ بنَ عبد العزيزِ جَمَعَ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لسبيلِه فَلَمَّا وُلّيَ أَبُو بكرٍ علم فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ثُمَّ اقْتَطَعَهَا مَرْوَانُ ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي
رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ. يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وعمَرَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد ۔ (حدیث مشکوٰۃ)

ترجمہ : روایت ہے حضرت مغیرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے مروان کی اولاد کو جمع فرمایا ۲؎ جب آپ خلیفہ ہوئے پھر فرمایا کہ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تھا جس سے آپ خرچ فرماتے تھے اور اس سے بنی ہاشم کے بچوں پر لوٹاتے تھے اسی میں سے اور اسی سے ان کی بیوگان کا نکاح کرتے تھے۳؎ اور حضرت فاطمہ نے آپ سے سوال کیا تھا کہ یہ انہیں دے دیں تو انکار فرمادیا تھا ۴؎ پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی شریف میں اسی طرح رہا حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی راہ تشریف لے گئے پھر جب ابوبکر صدیق خلیفہ بنائے گئے تو آپ نے اس میں وہ ہی عمل کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی زندگی شریف میں کرتے تھے حتی کہ آپ بھی اپنی راہ گئے پھر جب حضرت عمر ابن خطاب خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے اس میں وہ ہی کام کیے جو ان دونوں بزرگوں نے کیے تھے ۵؎ حتی کہ وہ بھی اپنی راہ گئے پھر اسے مروان نے بانٹ لیا ۶؎ پھر وہ عمر ابن عبدالعزیز کے پاس پہنچا تو میں سمجھتا ہوں کہ جس چیز کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جناب فاطمہ کو نہ دیا اس میں میرا حق نہیں کہ تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اسے اسی حال کی طرف لوٹاتا ہوں جہاں پر وہ تھا یعنی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ابوبکروعمر کے زمانہ میں ۷؎ (ابوداؤد،چشتی)۔(تاریخ الخلفاء مترجم اردو صفحہ نمبر 466 مطبوعہ پرودریسو بکس اردو بازار لاہور)



حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ۱؎ خیال رہے کہ مغیرہ تین ہیں : ایک صحابی،دو تابعی مغیرہ ابن شعبہ صحابی ہیں جن کے حالات بارہا بیان ہوچکے اور اکثر صرف مغیرہ کہنے سے یہ ہی مراد ہوتے ہیں۔دوسرے مغیرہ ابن زید موصلی یہ تابعی ہیں۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ منکرالحدیث ہیں۔تیسرے مغیرہ ابن مقسم کوفی نابینا تھے،فقہی ومتقی تھے،۱۳۳ھ؁ میں ان کی وفات ہوئی۔یہاں یہ تیسرے مغیرہ مراد ہیں نہ کہ مغیرہ ابن شعبہ صحابی کیونکہ حضرت مغیرہ صحابی کا انتقال ۵۰ھ؁ پچاس ہجری میں ہوا اور عمر ابن عبدالعزیز ۹۹ ؁ ننانوے ہجری میں والی بنے تو یہ واقعہ حضرت مغیرہ صحابی کیسے بیان کرسکتے ہیں۔(مرقات)مگر حضرت شیخ کو یہاں سخت دھوکا لگا کہ وہ مغیرہ ابن شعبہ فرماگئے،یہاں تیسرے مغیرہ یعنی ابن مقسم کوفی مراد ہیں۔

۲؎ آپ عمر ابن عبدالعزیز ابن مروان ابن حکم ہیں،قرشی ہیں،اموی ہیں،تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابوحفص ہے،آپ کی والدہ لیلی بنت عاصم ابن عمرابن خطاب ہیں یعنی حضرت عمرفاروق کی پوتی،سلیمان ابن عبدالملک کے بعد خلیفہ ہوئے، ۹۹ھ؁ میں اور ۱۰۱؁ ایک سو ایک میں وفات پائی،مدت خلافت کل دو سال پانچ مہینہ،عمر شریف چالیس سال ہوئی یا اس سے بھی چند ماہ کم،متقی زاہد شب بیدار،بہت ہی خوفِ خدا رکھنے والے بزرگ تھے،جب آپ کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے آپ کے زمانہ خلافت کے حالات پوچھے گئے تو فرمانے لگیں کہ خلیفہ بننے کے بعد کبھی غسل جنابت نہ کیا،رات کا اکثر حصہ آہ وزاری میں گزارتے تھے۔

۳؎ یعنی باغ فدک کی آمدنی سے حضور انور یہ کام کرتے تھے اولًا اپنے گھر بار پر خرچ،پھر فقراءواقارب پر خرچ فرماتے۔یعود کے معنی ہیں باربار ان پر خرچ فرمانا یہ فرق ہے عائدہ اور فائدہ کے درمیان،فائدہ ایک بارنفی اور عائدہ بار بارنفی۔

۴؎ یعنی حضرت فاطمہ زہرا نے حضور کی زندگی پاک میں باغ فدک حضور سے مانگا۔آپ نے تملیک سے انکار فرمادیا،حضور چاہتے تھے کہ باغ میرے بعد وقف رہے کیونکہ حضرات انبیاء کرام کا متروک مال وقف ہوتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا حتی کہ حضرت علی نے بھی اسے اپنی خلافت میں تقسیم نہ فرمایا۔

۵؎ یعنی حضرت ابوبکرصدیق اور عمر فاروق نے صرف متولی ہونے کی حیثیت سے اس باغ کی آمدنی کا انتظام فرمایا،کسی نے اسے اپنی ملکیت قرار نہ دیا۔حضرات امہات المؤمنین نے عثمان غنی کو حضرت صدیق اکبر کے پاس طلب میراث کے لیے بھیجنا چاہا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے منع فرمادیا وہ حدیث سنا کر کہ حضرات انبیاءکرام کی میراث تقسیم نہیں ہوتی۔(دیکھو اشعۃ اللمعات میں اس حدیث کی شرح)جناب فاطمہ زہرا نے صدیق اکبر سے میراث مانگی تو آپ نے وہ ہی حدیث سناکر تقسیم میراث سے انکار فرمادیا جسے حضرت زہرا نے قبول فرمایا اور اس کے متعلق کبھی ذکر تک نہ کیا ، کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ سرکار فرمان مصطفی سن کر ناراض ہوتیں۔فغضبت کے معنی ہیں کچھ اور ہیں جو ان شاءاﷲ اپنے مقام پر بیان ہوں گے بہرحال یہ باغ وقف رہا ۔
۶؎ یعنی مروان ابن حکم نے اپنے دور حکومت میں باغ فدک پر اپنے آپ میں تقسیم کرلیا کہ کچھ حصہ اپنے پاس رکھا کچھ اپنے عزیزوں کو دیا یہ ہی صحیح ہے۔مرقات نے فرمایا کہ مروان کی یہ تقسیم خلافت عثمانی میں ہوئی محض غلط ہے۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت عثمان و علی زندہ ہوں اور مروان کی یہ حرکت دیکھ کر خاموش رہیں اور حضرت علی اپنے دور حکومت میں اس کی یہ تقسیم قائم رکھیں مرقات نے یہ سخت غلطی کی ہے۔اشعۃ اللمعات نے یہ ہی فرمایا کہ مروان کی یہ حرکت اپنے دور حکومت میں تھی۔خیال رہے کہ مروان ابن حکم حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دادا ہے،یہ زمانہ نبوی میں پیدا تو ہوا مگر حضور کے دیدار سے محروم رہا کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کے باپ حکم کو مدینہ سے طائف نکال دیا تھا،یہ اس وقت بہت کم سن تھا خلافت عثمان میں یہ مدینہ منورہ آیا لہذا مروان صحابی نہیں ۔

8۷؎ یعنی اس باغ میں میرا کچھ حصہ نہیں یہ اسی طرح وقف رہے گا جیسے ان حضرات کے زمانہ میں وقف تھا۔چنانچہ آپ نے تمام بنی امیہ سے وہ باغ واپس لے کر ویسے ہی وقف قرار دے دیا۔یہ عدل و انصاف آپ کے انتہائی تقویٰ،طہارت خوفِ خدا کی دلیل ہے۔ خیال رہے کہ حضرت عمر نے اپنی خلافت میں باغ فدک حضرت علی و عباس کی تولیت میں دے دیا تھا ، یہ دونوں حضرات متولی تھے نہ کہ مالک ، پھر ان دونوں نے اس کی تقسیم چاہی تو جناب فاروق نے فرمایا کہ تقسیم کیسی یہ تمہاری ملکیت نہیں صرف تولیت ہے ، یہ قصہ بخاری شریف وغیرہ میں بہت تفصیل سے مذکور ہے ۔ خیال رہے کہ حضرت علی و عباس نے ملکیت کی تقسیم نہ چاہی تھی بلکہ تولیت کی تقسیم کی خواہش کی تھی حضرت عمر نے اس کو بھی قبول نہ فرمایا تاکہ آگے چل کر یہ تقسیم ملکیت کا ذریعہ نہ بن جائے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا متروکہ مال سارے مسلمانوں کے نفع پر خرچ ہوگا مگر اس کا انتظام یا بادشاہ کرے گا یا جسے بادشاہ اسلام مقرر فرمادے ۔ (مراۃ شرح مشکوٰۃ جلد نمبر 5 حدیث نمبر 4063)۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_75.html?m=1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
#ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/04/blog-post_16.html

شانِ سیدہ ، زاہدہ ، طیّبہ ، طاہرہ ، عابدہ حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا

محترم قارئینِ کرام: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحب زادی سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی ولادت با سعادت مکہ شریف میں ہوئی ۔ پوری دنیا کی تاریخ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی کی نظیر اور مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ آپ کی ذات طیبہ امت مسلمہ کی خواتین کے لئے ایک بے مثال اور قابل تقلید نمونہ ہے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بڑے پاکیزہ اوصاف کی حامل تھیں، ہر وقت عبادت الٰہی میں ڈوبی رہتی تھیں، دنیا کی خواہشات سے آپ کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہ تھا، انہیں اعلی صفات کی بنیاد پر آپ متعدد القاب سے جانی جاتی تھیں جن میں سے ایک ”بتول“ ہے علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ آپ کا لقب “بتول” اس لئے تھا کہ آپ دینداری اور شرافت و پاکیزگی میں تمام عورتوں سے ممتاز اور یگانہ تھیں۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بچپن کا دور اسلام کا ابتدائی دور تھا۔یہ وقت بڑا کٹھن اور دشوار تر ین تھا،اس وقت مکہ کے کفاروں کا مسلمانوں پر ظلم وستم اور تعصب پورے زور پر تھا۔قریش نے بنی ہاشم پر عر صہ حیات تنگ کر رکھا تھا،اس دوران بنی ہاشم تقریبا تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور بھی رہے اور نہایت تنگ دستی کی زندگی گزاری۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے بچپنے میں اپنے عظیم والد حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ بھوک اور پیاس کی تمام تکلیفوں کو برداشت کیں۔آپ کی مادرِ عظیم ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی رحلت کا صدمہ بھی آپ کے لئے بڑا جان گداز تھا ،جسے آپ نے بڑے حوصلے سے برداشت کیا ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تعلیم وتر بیت اور درس ونصیحت کی وجہ سے آپ بچپنے ہی سے ملکوتی صفات سے آراستہ و پیراستہ ہو گئی تھیں ۔ آپ کو عام لڑ کیوں کی طرح کھیل کودکا بالکل شوق نہ تھا ، آپ نے کبھی ضد نہ کیا ، آپ کو زیورات پہننے کی خواہش تھی نہ بناؤسنگھار کی کوئی فکرنہ زرق برق لباس پہننے کی کوئی آرزو ۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بچپنے ہی سے پاک باز تھیں ،فہم وتدبر،مہمان نوازی،شرم وحیا،صبر وتوکل،زہد وقناعت اور تواضع وخاکساری آپ کا شعار تھا۔

جب آپ سن بلوغ کو پہنچیں تو بڑے بڑے سرداران عرب نے نکاح کا پیغام بھیجا مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نےحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کردیا اس وقت ان کے پاس رہنے کو اپنا گھر بھی نہیں تھا۔مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انتخاب کو خوشدلی کے ساتھ قبول فر مایا۔اور پوری زندگی انتہائی سادگی کے ساتھ بغیر کسی گلہ شکوہ کے گزاردیں۔گھر کے تما م کاج کام آپ خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی تھیں،گھر صاف کرتیں،چکی پیستیں،مشکیزہ میں بھر کے پانی لاتیں ،چکی پیسنے کی وجہ سے آپ کی ہاتھوں میں نشان پڑ گئے تھے ۔

ایک دن حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ اونٹ کے بالوں کا ایک موٹا کپڑا پہنے ہوئی ہیں ۔تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فر مایا:اے فاطمہ !آج اس دنیا کی پر یشانی اور تکلیف پر صبر کرتی رہ تا کہ آخرت میں تمہیں جنت کی نعمتیں ملے ۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول رہنا اور اپنے رب کریم کے احکام وفر مانبرداری میں زندگی گزارنا بڑا پسند تھا۔آپ نے کبھی اپنا چہرہ غیر محرم مردوں کے سامنے نہیں کھولا ،حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے صحابہ سے پوچھا کہ:عورت کی سب سے بہترین خوبی کیا ہے ؟ کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑاتو حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر تشریف لے گئے اور یہی سوال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو آپ نے فر مایا کہ : عورت کی سب سے بہترین خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی کسی غیر مرد کو نہ دیکھے اور نہ کوئی غیر اس کو دیکھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ جواب لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور حضرت فاطمہ کا جواب بیان کیا۔تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فر مایا:فاطمہ میری لخت جگر ہے اس کی رائے میری رائے ہے ۔

حضرت سیدہ ، طیبہ ، طاہرہ ، زاہدہ ، کاملہ ، اکملہ ، عابدہ ، ساجدہ ، عالمہ ، خا تون جنّت حضرت بی بی فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ ان کی والدہ کا نام بھی حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بعثت نبوی کے بعد جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر مبارک اکتالیس سال تھی مکہ مکرمہ میں
👍1
پیدا ہوئیں ۔ بعض سیرت نگاروں کے نزدیک حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت جس زمانہ میں قریش کعبہ کی تعمیرکر رہے تھے اس وقت ہوئی ۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر مبارک پینتیس سال تھی ۔ (طبقات ابن سعد ج۸ ص۱۱، الاصابہ لابن حجر ج۴ ص۵۶۳،الاصابہ فی تمیزالصاحبہ ج۴ ص۵۶۳ )

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحزادیوں میں سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ ان کا اسم گرامی : حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا : اور ان کے القاب میں زہرا ، بتول ، زکیہ ، راضیہ ، طاہرہ ، بضعۃالرسول خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی پرورش اور تربیت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمائی ۔

حدیث شریف کی کی کتابوں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق ان کی سیرت اور طرز طریق کو محدثین اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ : فاقبلت فاطمہ تمشی ۔ ماتخطئی مشیۃالرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شیاَ ۔ یعنی جس وقت حضرت فاطمہرضی اللہ تعالیٰ عنہا چلتی تھیں تو آپرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چال ڈھال اپنے والد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بلکل مشابہ ہوتی تھی ۔ ام المو’منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں قیام وقعود ،نشست و برخاست ،عادات واطوار میںحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ۔ (مسلم شریف ج۲ص ۰۹۲ ، الاستیعاب ج۴ص۳۶۳،حلیۃالاولیا لابی نعیم الصفہانی ج۲ص۹۳،چشتی)

شعب ابی طالب میں محصوری : اسلام کا راستہ روکنے کے لیئے کفار مکہ نے نبی کریم صلی اللہ ولیہ وسلم کے خاندان ،صحابہ کرام ، ازواج مطہرات : اوربنات رضی اللہ عنہم : کو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کر دیا ۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے یہ صبر آزما لمحات اپنے اعزہ واقارب اور عظیم والدین کے ہمراہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیں ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہجرت فرما کے مدینہ تشریف لے گئے ۔ اس وقت حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہامکہ میں تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں لانے کے لیے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومتعین فرمایا اور دو اونٹ دیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ درہم زاد راہ کے لیئے دیے ۔ یہ دونوں بنات طیبات ان کے ہمراہ مدینہ تشریف لائیں ۔ (البدایۃ لابن کثیر ج۳ ص۲۰۲)

ماہ رجب 2 ہجری میں حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اکیس یا چوبیس برس اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پندرہ یا اٹھارہ برس تھی ۔ (تفسیر القرطبی ج۴۱ ص۱۴۲) ۔ اس نکاح کے گواہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ (خائرالعبقعی المحب الطبری )

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کی رخصتی کے لیے تمام تیاری سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمائی ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی اس کام میں ان کی معاون تھیں۔ کہ ہم نے وادی بطحا سے اچھی قسم کی مٹی منگوائی ۔جس سے اس مکان کو لیپا پونچا اور صاف کیا ۔پھر ہم نے اپنے ہاتھوں سے کھجور کی چھال درست کر کے دو گدے تیار کیے ۔اوع خرمااور منقی سے خوراک تیار کی اور پینے کے لیے شیریں پانی مہیا کیا ۔پھر اس مکان کے ایک کونے میں لکڑی گاڈ دی تاکہ اس پر کپڑے اور مشکیزہ لٹکایا جاسکی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ : فمارایناعرسا احسن من عر س فا طمہ ۔ یعنی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی سے بہتر ہم نے کوئی شادی نہیں دیکھی ۔ (سنن ابن ماجہ ص۹۳۱،مسند احمد ج۱ ص۴۰۱)

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جہیز : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کو جو جہیز دیا مختلف روائتوں کے مطابق اس کی تفصیل یہ ہے : (1) ایک بستر مصری کپڑے کا جس میں اون بھری ہوئی تھی ۔ (2) ایک چمڑے کاتکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ (3) ایک مشکیزہ ۔ (4) دو مٹی کے گھڑی ۔ (5) ایک چکی ۔ (6) ایک پیالہ ۔ (7) دو چادریں ۔ (8) ایک جا نماز ۔ (مسند احمدج۱ ص104،چشتی)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی زندگی کے تمام ادوار میں بے مثال نظر آتی ہیں ۔ آپ اپنے والدین کے لئے ایک بے مثال اور قابل فخر بیٹی تھیں ۔ اپنے شوہر کے لئے ایک بے مثال شریک حیات اور مونس وغمخوار تھیں ۔ آپ نے ماں ہونے کی حیثیت سے سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کی ایسی تربیت فر مائی کہ انہوں نے اللہ کے دین کو بچانے کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا یہاں تک کہ
انتہائی صبر وتحمل کے ساتھ اپنی جان بھی قر بان کردی اور اس وقت جب کہ آپ کی نگاہوں کے سامنے عزیز واقارب کی بہترّ نعشیں پڑی تھیں اور خود اپنا جسم تلواروں ،بھالوں،نیزوں اور تیروں کےزخموں سے لہو لہان تھا سجدہ قضا نہ ہونے دیا۔اور اپنی صاحبزادی حضرت زینب اور ام کلثوم کو اللہ و رسول کے احکام کا ایسا پابند بنایا تھا کہ انہوں نے کر ب وبلا کی سر زمین پر اپنے بھائی ،بھتیجوں اور بھانجوں کے تڑپتے لاشے کو دیکھ کر بھی اپنے سر سے دوپٹے کو ہٹنے نہیں دیا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فر مایا: حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والدین علی اور فاطمہ ان دونوں سے بھی بہتر ہیں ۔ ( ابن ماجہ،حدیث:۱۱۸،چشی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس بارے میں سیدہ سلام ﷲ علیہا سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی مرض میں وصال ہو جائے گا۔ پس میں رونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعد آؤ گی اس پر میں ہنس پڑی ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3511، و کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1327، الرقم : 3427، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1904، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 296، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 77، و في فضائل الصحابة، 2 / 754، الرقم : 1322،چشتی)

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع تھیں اور کوئی ایک بھی ہم میں سے غیر حاضر نہ تھی، اِتنے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنھا وہاں تشریف لے آئیں ، تو ﷲ کی قسم اُن کا چلنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے سے ذَرّہ بھر مختلف نہ تھا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستئذان، باب : من ناجي بين الناس ومن لم بسر صاحبه فإذا مات أخبر به، 5 / 2317، الرقم : 5928، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 263، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الطيالسي في المسند : 196، الرقم : 1373، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 247، و الدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 101، 102، الرقم : 188،چشتی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اَزواج جمع تھیں اور کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنھا آئیں جن کی چال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے کے مشابہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مرحبا (خوش آمدید) میری بیٹی ! پھر اُنہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا ۔ اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، 1906، الرقم : 2450، و ابن ماجة في السنن، کتاب : ماجاء في الجنائز، باب : ماجاء في ذکر مرض رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 1 / 518، الرقم؛ 1620، و النسائي في السنن الکبري، 4 / 251، الرقم : 7078، 5 / 96، 146، الرقم : 8368، 8516، 8517، و في فضائل الصحابة، 77، الرقم : 263، و في کتاب الوفاة، 1 / 20، الرقم : 2،چشتی)

اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اَطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 700، الرقم : 3872، و أبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ماجاء في القيام، 4 / 355، الرقم : 5217، و النسائي في فضائل الصحابة : 78، الرقم : 264، و الحاکم في المستدرک، 4 / 303،
الرقم : 7715، و البيهقي في السنن الکبري، 5 / 96، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 248، و إبن جوزي في صفة الصفوة، 2 / 6، 7،چشتی)

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام بخاری نے ’’ الادب المفرد‘‘ میں اور امام نسائی و ابن حبان نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 326، 377، الرقم : 947، 971، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 391، الرقم : 9236، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 403، الرقم : 6953، و الحاکم في المستدرک، 3 / 167، 174، الرقم : 4732، 4753، و الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 242، الرقم : 40890، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 101، و ابن راهوية في المسند، 1 / 8، الرقم : 6،چشتی)

حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت : ’’جب ﷲ کی مدد اور فتح آ پہنچے ۔ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا اور فرمایا : میری وفات کی خبر آ گئی ہے، وہ رو پڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : مت رو، بے شک تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو وہ ہنس پڑیں ، اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج نے بھی دیکھا ۔ انہوں نے کہا : فاطمہ! (کیا ماجرا ہے)، ہم نے آپ کو پہلے روتے اور پھر ہنستے ہوئے دیکھا ہے؟ آپ نے جواب دیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا : میری وفات کا وقت آ پہنچا ہے ۔ (اس پر) میں رو پڑی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، تم میرے خاندان میں سب سے پہلے مجھے ملو گی، تو میں ہنس پڑی ۔ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 51، الرقم : 79، و ابن کثير في تفسير قرآن العظيم، 4،چشتی)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : دَعَا رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة اللَّهُمَّ، إِنِّي أُعِيْذُهَابِکَ وَ ذُرِّيَتَهَا مِنَ الْشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ.رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ .

ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لئے خصوصی دعا فرمائی : اے ﷲ! میں (اپنی) اس (بیٹی) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔ اس حدیث کو امام ابن حبان، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 15 / 394، 395، الرقم : 6944، و الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 409، الرقم : 1021، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الهيثمي في موارد الظمآن، 550، 551، الرقم : 2225، و ابن الجوزي في تذکرة الخواص، 1 / 277، و المحب الطبري في ذخائر العقبي، 1 / 67،چشتی)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : لَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ فَاطِمَة سلام ﷲ عليهم. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی اور حضرت فاطمہ الزہراء (رضی اللہ عنھم) سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 164،چشتی)

حضرت امّ سلمی رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیھا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی ۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاںتک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے ۔ سیدۂ کائنات نے کہا : اے اماں ! میرے غسل کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی ۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا۔ پھر بولیں : اماں جی! مجھے نیا لباس دیں ۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا : اماں جی : اب میری وفات ہو جائے گی، میں (غسل کر کے) پاک ہو چکی ہوں ، لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت اُمّ سلمی بیان کرتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی ۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 461، الرقم : 27656. 27657، والدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 113، والزيلعي في نصب الراية، 2 / 250، والطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، 1 / 103، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 210، وابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 221،چشتی)
عَنْ جَابِرٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لِکُلِّ بَنِي أُمٍّ عُصْبَةٌ يَنْتِمُوْنَ إِلَيْهِمْ إِلَّا ابْنَي فَاطِمَة، فَأَنَا وَلِيُهُمَا وَ عُصْبَتُهُمَا.رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر ماں کی اولاد کا عصبہ (باپ) ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے ، سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، کہ میں ہی اُن کا ولی اور میں ہی اُن کا نسب ہوں ۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 179، الرقم : 4770، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف بحب اَقرباء الرسول صلي الله عليه وآله وسلم و ذَوِي الشرف، 1 / 130،چشتی)

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي ﷲ عنه قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُلُّ نَسَبٍ وَ سَبَبٍ يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَة إِلَّا مَا کَانَ مِنْ سَبَبِي وَ نَسَبِي . رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ .

ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میرے نسب اور رشتہ کے سوا قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے گا ۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم، احمد اور بزار نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 153، الرقم : 4684، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 625، 626، 758، الرقم : 1069، 1070، 1333، و البزار في المسند، 1 / 397، الرقم : 274، و الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 44، 45، الرقم : 2633، 2634، و في المعجم الأوسط، 5 / 376، الرقم : 5606، 6 / 357، الرقم : 6609،چشتی)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے ہاں گئے اور کہا : اے فاطمہ! خدا کی قسم! میں نے آپ کے سوا کسی شخص کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک محبوب تر نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! لوگوں میں سے مجھے بھی آپ کے والد محترم کے بعد کوئی آپ سے زیادہ محبوب نہیں ۔ اسے امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 168، الرقم : 4736، و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 432، الرقم : 37045، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 364، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 360، الرقم : 2952، والخطيب في تاريخ بغداد، 4 / 401،چشتی)

عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ فَاطِمَة حَصَّنَتْ فَرْجَهَا فَحَرَّمَهَا ﷲُ وَ ذُرِّيَتَهَا عَلَي النَّارِ.رَوَاهُ الطَّبَرانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ.

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ نے اپنی عصمت و پاک دامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کی اولاد کو آگ پر حرام فرما دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام طبرانی، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 407، الرقم : 1018، و البزار في المسند، 5 / 223، الرقم : 1829، و الحاکم في المستدرک، 3 / 165، الرقم : 4726، و أبو نعيم في حلية الأولياء، 4 / 188، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 115، 116،چشتی)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي ﷲ عنهما، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : إِنَّ ﷲَ عزوجل غَيْرُ مُعَذِّبِکِ وَلَا وُلْدِکِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 263، الرقم : 11685، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 202، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 117،چشتی)

عَنْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها قَالَتْ : مَا رَأيْتُ أفْضَلَ مِنْ فَاطِمَة رضي ﷲ عنها غَيْرَ أبِيْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے افضل اُن کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی شخص نہیں پایا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 137 الرقم : 2721، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 201، و الشوکاني في درالسحابة، 1 / 277، الرقم : 24،چشتی)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : أَنْتِ أَوَّلُ أَهْلِي لَحُوْقًا بِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الْفَضَائِلِ وَأَبُونُعَيْمٍ .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنھا سے فرمایا : میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تو مجھ سے ملے گی ۔ اس حدیث کو امام احمد نے ’’فضائل الصحابہ‘‘ میں امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في فصائل الصحابة، 2 / 764، الرقم : 1345، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 40،چشتی)

عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها : مَا رَأيْتُ أحَدًا قَطُّ أصْدَقُ مِنْ فَاطِمَة غَيْرَ أبِيْهَا . رَوَاهُ أبُونُعَيْمٍ .

ترجمہ : حضرت عمرو بن دینار رحمۃ ﷲ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا : فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کائنات میں کوئی نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (حلية الأولياء، 2 / 41، 42،چشتی)

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّمَا سُمِّيَتْ بِنْتِي فَاطِمَة لِأنَّ ﷲَ عزوجل فَطَمَهَا وَ فَطَمَ مُحِبِّيْهَا عَنِ النَّارِ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ .

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے جدا کر دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 346، الرقم : 1385، و الهندي في ’کنز العمال، 12 / 109، الرقم : 34227، و السخاوي في ’اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 96،چشتی)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أنَا مِيْزَانُ الْعِلْمِ ، وَ عَلِيٌّ کَفَتَاهُ، وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ خُيُوْطُهُ ، وَ فَاطِمَة عَلَاقَتُهُ وَ الْأئِمَّة مِنْ بَعْدِي عُمُوْدُهُ يُوْزَنُ بِهِ أعْمَالُ الْمُحِبِّيْنَ لَنَا وَ الْمُبْغِضِيْنَ لَنَا .

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا ترازو ہوں ، علی اس کا پلڑا ہے ، حسن اور حسین اُس کی رسیاں ہیں ، فاطمہ اُس کا دستہ ہے اور میرے بعد اَئمہ اَطہار (اُس ترازو کی) عمودی سلاخ ہیں،جس کے ذریعے ہمارے ساتھ محبت کرنے والوں اور بغض رکھنے والوں کے اَعمال تولے جائیں گے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 44، الرقم : 107، و العجلوني في ’کشف الخفاء، 1 / 236،چشتی)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ:میری بیٹی فاطمہ تمام جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔ ( ترمذی،حدیث:۳۷۸۱ ) ۔ تین (3) رمضان المبارک سن 11 ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔ ( ماخذ : کتب احادیث ، کتب تفاسیر ، فضائل سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ، البتول ، خاتون جنت وغیرہ )

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ایک روز صبح کے وقت باہر تشریف لے گئے ۔ آپ کے اوپر سیاہ اُون سے بُنی ہوئی چادر تھی ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے توآپ نے اُنہیں اس چادر میں داخل کرلیا ۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے تواُنہیں بھی اس چادر میں داخل کرلیا ، پھرحضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا آئیں تو انہیں بھی داخل کرلیا ، پھر حضرت حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے توآپ نے اُنہیں بھی اس چادر میں لے لیا ۔ پھرفرمایا ،''بے شک ﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو! کہ تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے ۔ (صحیح مسلم، مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم،چشتی)

حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْس۔۔۔۔۔۔الخ ۔ حضرت امِ سلمہ رضی ﷲ عنہا کے کاشانہ اقدس میں نازل ہوئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو بلا کر چادر اوڑھائی پھر دعا مانگی، اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، ان سے گندگی دور رکھ اور انہیں خوب پاک وصاف بنا دے۔ حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ آپ نے فرمایا ، تم اپنی جگہ پر ہو اور تم خیر کی جانب ہو ۔ (ترمذی ابواب المناقب،چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھ ماہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ معمول رہا کہ جب نماز فجر کے لیے نکلتے اور حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے تو فرماتے ، اے اہلِ بیت! نماز قائم کرو ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْس۔۔۔۔۔۔الخ ۔ بے شک ﷲ یہ چاہتا ہے کہ اے گھر والو ! کہ تم سے گندگی دور کردے اور تمہیں خوب پاک صاف کردے ۔ (مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ، فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَ نَا وَاَبْنَاءَ کُمْ ۔۔۔۔۔۔ الخ۔'' فرما دو ، آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو''۔ تو رسول کریم انے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا، اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں ۔ (صحیح مسلم)

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات واطوار اور نشست وبرخاست میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ (المستدرک، فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے مل کر سفر پر روانہ ہوتے اور جب سفر سے تشریف لاتے تو بھی سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے پاس آتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرماتے ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں ۔ (المستدرک للحاکم،صحیح ابن حبان،چشتی)

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری،مسلم)

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کے لیئے نکاح کا پیغام دیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بیشک فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُسے کوئی تکلیف پہنچے ۔ خدا کی قسم ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ (بخاری، مسلم،چشتی)

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کر دیں ۔ میں اُن کو اجازت نہیں دیتا ، میں ان کو اجازت نہیں دیتا ، پھر میں ان کو اجازت نہیں دیتا ۔ ہاں اگر ابنِ ابی طالب چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دیدے اورپھر اُن کی بیٹی سے شادی کر لے ۔ کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے ۔ جو چیز اُسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اورجو چیز اُسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے ۔ (مسلم، ترمذی، ابوداؤد،چشتی)

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ اسے تکلیف دینے والامجھے تکلیف دیتا ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے ۔ (مسند احمد،المستدرک)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا سے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ تیری ناراضگی پر ناراض اور تیری رضا پر راضی ہوتا ہے ۔ (المستدرک،طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں ۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد،چشتی)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا کے لیے ان کی شادی کے موقع پر خاص دعا فرمائی، اے اللہ ! میں اپنی اس بیٹی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔(صحیح ابن حبان، طبرانی فی الکبیر)

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی کی ر ات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اُن پر پانی چھڑکا اور فرمایا ، اے اللہ ! ان دونوں کے حق میں برکت دے اور ان دونوں پر برکت نازل فرما اور ان دونوں کے لیے ان کی اولاد میں برکت عطا فرما ۔ (طبقات ابن سعد، اُسدُ الغابہ)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، قیامت کے دن میرے حسب ونسب کے سوا ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا ۔ ہر بیٹے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے سوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں ۔ (مصنف عبدالرزاق، سنن الکبریٰ للبیہقی، طبرانی فی الکبیر)

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ثکے متعلق فرمایا ، میں اُن سے لڑنے والا ہوں جو اِن سے لڑیں اور اُن سے صلح کرنے والا ہوں جو اِن سے صلح کریں ۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دریافت فرمایا، عورت کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے ؟ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے ۔ میں نے گھر آ کر یہی سوال سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے کیا تو انہوں نے جواب دیا، عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ اسے غیر مرد نہ دیکھے ۔ میں نے اس جواب کا ذکر حضور اسے کیا تو آپ نے فرمایا ، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ۔ (مسند بزار، مجمع الزوائد،چشتی)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، بیشک فاطمہ نے اپنی عصمت وپارسائی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد پر آگ حرام کر دی ہے۔ (المستدرک للحاکم، مسند بزار)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہاسے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا ۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد) ۔ علامہ ہیثمی نے کہا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، آج رات ایک فرشتہ جو اس سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا، اُس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے کے لیے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (ترمذی،مسند احمد، فضائل الصحابۃ للنسائی، المستدرک للحاکم،چشتی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا،سب سے پہلے جنت میںتم، فاطمہ ، حسن اور حسین داخل ہو گے ۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہونگے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، وہ تمہارے پیچھے ہونگے ۔ (المستدرک للحاکم، الصواعق المحرقۃ:٢٣٥،چشتی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میں، تم اور یہ دونوں ( یعنی حسن و حسین) اور یہ سونے والا (سیدنا علی جو کہ اُسوقت سو کر اُٹھے ہی تھے) قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہونگے ۔ (مسند احمد،مجمع الزوائد)

اُمُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں جب سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم انہیں مرحبا کہتے ، کھڑے ہو کر اُن کا استقبال کرتے ، اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بوسہ دیتے اور اُنہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے۔ (المستدرک،فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)

حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے پوچھا ، لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ فرمایا ، فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پوچھا، مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرمایا ، ان کے شوہر یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ (ترمذی ، المستدرک، طبرانی فی الکبیر)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کو میرے اور فاطمہ میں سے کون زیادہ محبوب ہے ؟ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ، فاطمہ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اور تم مجھے اس سے زیادہ عزیز ہو ۔ (طبرانی فی الاوسط، مجمع الزوائد،چشتی)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا ، اے فاطمہ ! خدا کی قسم ! میں نے آپ سے زیادہ کسی ہستی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک محبوب نہیں دیکھا ۔ اور خدا کی قسم ! لوگوں میں سے سوائے آپ کے والد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے مجھے کوئی اور آپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم)

سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے وصال سے قبل حضرت اسماء بنت عمیس رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میرا جنازہ لے جاتے وقت اور تدفین کے وقت پردے کا پورا لحاظ رکھنا ۔ انہوں نے کہا ، میں نے حبش میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ان پر پردہ ڈال دیتے ہیں (اس طرح جسم کی ہیئت نمایاں نہیں ہوتی) ۔ پھر انہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر ان پر کپڑا ڈال کر سیدہ کو دکھایا ۔ آپ نے پسند کیا پھر بعد وصال اسی طرح آپ کا جنازہ اٹھا ۔ (اُسدُ الغابہ، استیعاب)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا غیب سے آواز دے گا ، اے اہلِ محشر ! اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم گزر جائیں ۔ (المستدرک للحاکم،اسدُ الغابہ)
فضائل حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا بزبان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الفاطمۃ سیدۃنساء اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہے ۔ (البدایۃ والنہایہ)

صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خواتین امت کی سردا ر ہے ۔ فاطمہ میرے جگر کا تکڑا ہے ۔ جس نے اسے تنگ کیا اس نے مجھے تنگ کیا اور جس نے مجھے تنگ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو تنگ کیا ۔جس نے اللہ تعالیٰ کہ تنگ کیا قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ کرے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری تقلید کے لیئے تمام دنیا کی عورتوں میں مریم علیہ اسلام ، خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت آسیہ کافی ہیں ۔ (ترمزی شریف)

اولاد حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا : سید فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کواللہ تعالیٰ نے پانچ اولادیں عطا فرمائیں ۔تین لڑکے اور دو لڑکیاں جن کے نام یہ ہیں ۔

حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔حضرت ام کلثوم ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ حضرت محسن ر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔:حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ صغر سنی میں فوت ہو گئے تھے ۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے 71 ہجری میں ہوا ۔ اور دوسری بیٹی حضرت زینب بنت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ۔ (نسب قریش ص۵۲،چشتی)

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت و شب بیداری

سیدنا حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںمیں اپنی والدہ (گھر کے کام دھندوں سے فرصت پانے کے بعد)صبح سے شام تک محراب عبادت میں اللہ کے آگے گریہ وزار ی کر تی،خشوع وخضوع کے ساتھ اس کی حمد وثنا کرتے ، دعائیںمانگتے دیکھا کرتا ، یہ دعائیںوہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمان مردوں اورعورتوں کے لیے مانگتی تھی ۔

ایثار و سخاوت : ایک مرتبہ کسی نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا چالیس اونٹوں کی زکوۃ کیا ہو گی؟ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ۔ تمہارے لیے صرف ا یک اونٹ اور اگرمیرے پاس چالیس اونٹ ہوں تو میں سارے کے سارے ہی راہ خدا میں دے دوں ۔

انتقال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا اظہار غم

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرمرض کی شدت نے اضافہ کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پریشانی عالم میں فرمانے لگیں ۔ذاکرب ابا۔افسوس ہمارے والد کی تکلیف ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ۔ آج کے بعد تیرے والد کو کوئی تکلیف نہیں ۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتحال ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دار فانی سے دار بقا کی طرف انتقال فرما گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت پرنہایت درد و سوز کے عالم میں فرمایاتھا ۔

صبت علی مصائب لوانھا۔صبت علی الایام سرن لیا لیا۔

ترجمہ : مجھ پر مصیبتوں کے اس قدر پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ اگر یہی مصیبتوں کے پہاڑ دنوں پر ٹوٹے تو دن رات بن جاتے ۔

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی مرض الوفات اور ان کی تیمارداری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت مغموم رہتی تھی اور یہ ایام انہوں نے صبر اور سکون کیساتھ پورے کیے ۔ آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر اٹھائیس یا انتیس برس تھی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہو گیں۔ان بیماری کے ایام میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری اور خدما ت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سر انجام دیتی تھی ۔

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔پھر تین رمضان گیارہ ہجری منگل کی شب اٹھا ئیس یا انتیس برس کی عمر مبارک میں حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال ہوا ۔ (البدا یۃ والنھایۃ ج۶ ص۴۳۳،چشتی)

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا غسل اور اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمات : حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وفات سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت اسما بنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت کی تھی کہ آپ مجھے بعد از وفات غسل دیں ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ معاون ہوں ۔چناچہ حضرت اسما بنت عمیس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غسل کا انتظام کیا ۔اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت سلمیٰ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا اور حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا شریک تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سارے انتظام کی نگرانی فرمانے والے تھے ۔ (اسدالغابہ ج۵ص۸۷۴،البدایۃ والنھایۃ ج۶ص۳۳۳ ،حلیۃالاولیاج۳ص۳۴)

جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھنے کا مرحلہ پیش آیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ا ور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو اس موقعہ پر موجود تھے تشریف لائے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں ۔ جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں جنازہ پڑھانے کے لیئے پیش قدمی نہیں کر سکتا ۔ نماز جنازہ پڑھانا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کا حق ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائیں اورجنازہ پڑھائیں ۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جنازہ پڑھایا ۔ (طبقات ابن سعد ج۸ص۹۱،کنزالعمال ج۶ص۸۱۳) ۔ نماز جنازہ کے بعد حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رات کو ہی جنت البقیع میں دفن کیا گیا ، اور دفن کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قبر میں اترے ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2021/04/blog-post_16.html
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا

https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789

*🕯حضرت سیّدۃ النّسا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا🕯*

*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سیّدہ فاطمہ۔
*کنیت:* اُمّ الحسنین۔
*اَلقاب:* زہرا، بتول، سیّدۃ النساء، خاتونِ جنّت، مخدومۂ کائنات، طیّبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، وغیرہ۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بنتِ سیّدالانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔
آپ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔

*فاطمہ کی وجہِ تسمیہ:* سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالٰی فطمھاومحبیھا عن النار:
(ترجمہ: یعنی میری بیٹی کا نام ’’فاطمہ‘‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کر دیا ہے۔)
*(کَنْزُ الْعُمَّال،ج12،حدیث34222)*

*تاریخِ ولادت:* اِعلانِ نبوّت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بقولِ بعض آپ کی ولادتِ باسعادت20؍ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔

*فضائل و مناقب:*
*تصویرِ مصطفیٰ ﷺ:* اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، شکل وصورت اور بات چیت میں سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا۔ *(سننِ ابو داؤد)*

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین
(ترجمہ: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنّت کی عورتوں کی سردار ہو؟)
*(بخاری،1:532، مسلم جلد دوم:290)*

*سیّدہ کی خوشی و ناراضگی اللہ تعالیٰ کی خوشی و ناراضگی:* حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا
فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے اور دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے۔
*(بخاری ، 1:532)*

*قیامت کے دن ندا ہوگی اہلِ محشر اپنی نگاہوں کو جھکالیں:* حضور سیّدِ عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق
(ترجمہ: قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیّدہ فاطمہ بنتِ محمدﷺ گذر جائیں، چناں چہ سیّدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی۔)
*(المستدرک ، 3:161)*

*سیّدہ کا نکاح:* سن 2 ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔اس وقت آپ کی عمر 15 سال ، اور مولا علی کی عمر 21 سال تھی۔ رخصتی ذوالحجہ میں ہوئی۔

*سیّدہ کا جہیز:* ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے، یہ ہے دونوں جہانوں کے سردار ﷺکی لاڈلی بیٹی کا جہیز کہ صرف وہ اشیا دیں جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں۔

*وصال:* حضورِ اکرم ﷺ کے وصال کے6 ماہ بعد 3؍رمضان المبارک 11ھ منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔نمازِ جنازہ سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی۔
*(کنز العمّال۔حدیث،42856؛ شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلاۃوالسلام، ج4،ص342)*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6789

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
👍1