یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت سیدہ کی رضا مندی والی یہ روایت صرف ابن میثم ہی نے نہیں بلکہ متعدد علمائے شیعہ نے اپنی کتابوں میں ذکر کی ہے جن کے نام یہ ہیں ۔ (درنجیفہ شرح نہج البلاغہ مطبوعہ طہران ص 332)(حدیدی شرح نہج البلاغۃ جلد دوم، جز 16،ص 296،چشتی)(سید علی نقی فیض الاسلام کی تصنیف فارسی شرح نہج البلاغہ، جز 5،ص 960)
رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے ۔
اول : فدک کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا ۔
دوم : حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا ۔
قارئین کرام : للہ انصاف کیجئے ! اس روایت سے جو شیعوں کی معتبر مذہبی کتاب کی ہے بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قضیہ فدک میں حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ان کے اس فیصلہ سے جو انہوں نے حدیث رسول کے ماتحت کیا راضی ہوگئیں اور سیدہ نے اس امر کا حضرت ابوبکر سے عہد بھی لے لیا کہ ابوبکر فدک کی آمدنی سے اہل بیت کے اخراجات پورے کریں گے ۔ ایسی صاف و صریح رضامندی کے بعد بھی شیعہ حضرات جناب صدیق اکبر پر زبانِ طعن دراز کریں تو اس کا علاج واقعی کچھ نہیں ہے ۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ سیدہ کے راضی ہوجانے کے بعد کسی محب اہل بیت کےلیے تو یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر طعن کر سکے ۔ البتہ نا انصافی سے کام لینا دوسری بات ہے ۔
سوم : اہل بیت کے اخراجات تمام عمر حضرت صدیق اکبر فدک کی آمدنی سے پورے کرتے رہے اور سیدہ اپنے اخراجات حضرت صدیق اکبر سے وصول کرتی رہیں اور صدیق اکبر کے طرز عمل کو سراہتی رہیں ۔
چہارم : نہ صرف صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ بلکہ تینوں خلفاء بھی ایسا ہی کرتے رہے اور انہوں نے فدک میں وہ طرز عمل اختیار کیا جو حضور علیہ السلام اور ان کے بعد صدیق کبر نے اختیار کیا ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے بھی سیدہ راضی تھیں
شیعوں کی مشہور مذہبی کتاب حق الیقین مطبوعہ ایران کے صفحہ 71 پر ہے : کہ چوں علی وزبیر بیعت کرد ونداویںفتنہ فرد نشست، ابوبکر آمدہ شفاعت از برائے عمر ف فاطمہ از وراضی شد ۔
پھر جب حضرت علی و زبیر نے بیعت کرلی تو حضرت ابوبکر آئے اور حضرت عمر کے متعلق سفارش کی تو حضرت فاطمہ عمر سے بھی راضی ہوگئیں ۔
اسی طرح طبقات ابن سعد جلد 8 مطبوعہ ایران کے ص 17 پر ہے : جاء ابوبکر الی فاطمۃ حین مرضت فاستا دن فقال علی ہذا ابوبکر علی الباب فان شئت ان تاذنی لہ قالت وذلک احب الیک قال نعم فدخل علیہا واعتذر الیہا وکلمہا ورضیت عنہ ۔
حضرت ابوبکر فاطمہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھیں ۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو ۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے عذر کیا اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں ۔
ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جائے ، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہو سکے ۔
حدیثِ بخاری : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ””، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا
رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے ۔
اول : فدک کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا ۔
دوم : حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا ۔
قارئین کرام : للہ انصاف کیجئے ! اس روایت سے جو شیعوں کی معتبر مذہبی کتاب کی ہے بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قضیہ فدک میں حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ان کے اس فیصلہ سے جو انہوں نے حدیث رسول کے ماتحت کیا راضی ہوگئیں اور سیدہ نے اس امر کا حضرت ابوبکر سے عہد بھی لے لیا کہ ابوبکر فدک کی آمدنی سے اہل بیت کے اخراجات پورے کریں گے ۔ ایسی صاف و صریح رضامندی کے بعد بھی شیعہ حضرات جناب صدیق اکبر پر زبانِ طعن دراز کریں تو اس کا علاج واقعی کچھ نہیں ہے ۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ سیدہ کے راضی ہوجانے کے بعد کسی محب اہل بیت کےلیے تو یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر طعن کر سکے ۔ البتہ نا انصافی سے کام لینا دوسری بات ہے ۔
سوم : اہل بیت کے اخراجات تمام عمر حضرت صدیق اکبر فدک کی آمدنی سے پورے کرتے رہے اور سیدہ اپنے اخراجات حضرت صدیق اکبر سے وصول کرتی رہیں اور صدیق اکبر کے طرز عمل کو سراہتی رہیں ۔
چہارم : نہ صرف صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ بلکہ تینوں خلفاء بھی ایسا ہی کرتے رہے اور انہوں نے فدک میں وہ طرز عمل اختیار کیا جو حضور علیہ السلام اور ان کے بعد صدیق کبر نے اختیار کیا ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے بھی سیدہ راضی تھیں
شیعوں کی مشہور مذہبی کتاب حق الیقین مطبوعہ ایران کے صفحہ 71 پر ہے : کہ چوں علی وزبیر بیعت کرد ونداویںفتنہ فرد نشست، ابوبکر آمدہ شفاعت از برائے عمر ف فاطمہ از وراضی شد ۔
پھر جب حضرت علی و زبیر نے بیعت کرلی تو حضرت ابوبکر آئے اور حضرت عمر کے متعلق سفارش کی تو حضرت فاطمہ عمر سے بھی راضی ہوگئیں ۔
اسی طرح طبقات ابن سعد جلد 8 مطبوعہ ایران کے ص 17 پر ہے : جاء ابوبکر الی فاطمۃ حین مرضت فاستا دن فقال علی ہذا ابوبکر علی الباب فان شئت ان تاذنی لہ قالت وذلک احب الیک قال نعم فدخل علیہا واعتذر الیہا وکلمہا ورضیت عنہ ۔
حضرت ابوبکر فاطمہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھیں ۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو ۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے عذر کیا اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں ۔
ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جائے ، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہو سکے ۔
حدیثِ بخاری : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ””، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا
أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَىأَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا: أَصَبْتَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ ۔ (صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4240کتاب غزوات کے بیان میں ۔ باب : غزوہ خیبر کا بیان،چشتی)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی
اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی (کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کرلی ہے ۔
کسی بھی واقعے کو پرکھنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے ۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریباً 36 مقامات پر موجود ہے ۔ ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے ۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے ۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی رضی اللہ عنہم سے یہ روایات مروی ہیں ۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول نہیں ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں ۔
پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں ۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں ، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں ۔ تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے ۔
جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے ۔
کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو ۔ اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔
کسی بھی واقعے کو پرکھنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے ۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریباً 36 مقامات پر موجود ہے ۔ ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے ۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے ۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی رضی اللہ عنہم سے یہ روایات مروی ہیں ۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول نہیں ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں ۔
پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں ۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں ، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں ۔ تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے ۔
جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے ۔
کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو ۔ اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کے پاس پردہ میں گئیں تھیں یا بے پردہ ؟
ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
پھر راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں ؟؟
ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے ۔ اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دین نے ہوں گے ۔ ⬇
راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی ؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے ۔
سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر ۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے ۔
ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے ۔
غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔
ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔
سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا۔۔
حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب
ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لیے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ۔
روایات فریقین سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی ﷲ عنہا بوقتِ وفات حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ سے راضی تھیں اور کسی قسم کی کبیدگی ان کے درمیان نہ تھی ۔ اگر بالفرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان مذکورہ روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہو رہا ہے ۔
(مزید حصّہ دہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_19.html
ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
پھر راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں ؟؟
ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے ۔ اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دین نے ہوں گے ۔ ⬇
راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی ؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے ۔
سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر ۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے ۔
ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے ۔
غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔
ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔
سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا۔۔
حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب
ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لیے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ۔
روایات فریقین سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی ﷲ عنہا بوقتِ وفات حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ سے راضی تھیں اور کسی قسم کی کبیدگی ان کے درمیان نہ تھی ۔ اگر بالفرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان مذکورہ روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہو رہا ہے ۔
(مزید حصّہ دہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_19.html
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❿
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_43.html?m=1
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا کا جواب : ایک اعتراض جو شیعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ سقیفہ کے واقعہ کے بعد، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیعت دینے سے انکار کیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر اور چند دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاؤ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ کرلے آؤ ۔ ذرائع کے مطابق جیسے تاریخ طبری (اور دوسرے ذرائع) میں ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں گھر کا دروازہ توڑا اور علی رضی اللہ عنہ کو گھسیٹتے ہوئے ابو بکر کی طرف لے گئے اور زبردستی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کروائی ۔ یہ واقعہ تمام تاریخ کی کتابوں ، جیسے صحیح البخاری، احمد بن حنبل، سیرہ النبوۃ از ابن ہشام، تاریخ طبری (عربی)، الستیعاب از عبدالبر، تاریخ الخلفاء ابن قتیبہ اور کنز المعال میں درج ہے ۔ وہ علی (رضی اللہ عنہ) کے گرد گھیرا ڈال کے کھڑے ہوئے ، ان کے گھر کا دروازہ جلایا اور ان کی مرضی کے خلاف ان کو گھر سے نکالا ، علی رضی اللہ عنہ کے گھر کی خواتین کی سردار (حضرت فاطمہ علیہ السلام) کو دروازے کے درمیان دبایا اور اسطرح محسن رضی اللہ عنہ (جن سے فاطمہ چھ مہینے کی حاملہ تھیں) کو مار ڈالا ۔
شیعہ اعتراض کا جواب : شیعہ حضرات نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے افعال کے بارے میں دھوکہ دیا۔ یہ واقعہ ایسا نہیں تھا جیسا اس کو بتایا جاتا ہے ۔ جو کچھ بھی اس واقعہ سے متعلق صحیح بخاری، مسند احمد، کنزالاعمال، البدایہ النہایہ، الکامل از ابن اثیر، سیرۃ النبی از ابن ہشام اور تاریخ السلام از لیث سحابی میں موجود ہے، جب کھنگالا جاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انتقال کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اور انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم ، تدفین کے مراحل میں مشغول تھے ۔ دوسری طرف کچھ انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سقیفہ بنی سعدہ میں اکھٹا ہوئے ۔ ان کا ارادہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا تھا ۔ کیونکہ یہ اکابر صحابہ اور مہاجرین صحابہ کی باہمی مشاورت کے خلاف تھا اس لئے نہایت ہی نامناسب تھا ۔ اسکو دیکھ کر ایک صحابی فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرکی طرف روانہ ہوئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، جو تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ پہلے تو حضرت عمر نے انہماک کی وجہ سے آنے سے انکار کیا ، لیکن جب صحابی نے اس پراسرار کیا اور اس کی اہمیت کے متعلق اطلاع کی تو عمر باہر نکل کر آئے صحابی نے انہیں انصار کے مجمع کے بارے میں بتایا ۔ اس کو سن کر حضرت عمر نے فوراً حضرت ابوبکر کو بلایا جو کہ خود تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ جب عمر نے ان کو معاملے کی اہمیت کے بارے میں بتایا ، تو وہ بھی سقیفہ جانے کے لئے تیار ہوگئے اور ان کے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی ہولئے ۔
یہاں پر یہ معاملہ صاف ہوگیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت حاصل کرنے کے لئے کوئی ابتدائی قدم نہیں اٹھایا تھا ، اس کے برعکس وہ تدفین کے مراحل میں مصروف تھے ۔ کوئی دوسرے صحابی آئے اور انہوں نے حضرت عمر کو انصار کے جمع ہونے کے بارے میں بتایا ۔
اس واقعے کے بعد کوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہمیت کے بارے میں جان سکتا ہے ۔ نیز حضرت ابوبکر اکیلے سقیفہ بنی سعدہ نہیں گئے تھے ، بلکہ ان کے ساتھ عمر اور عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم بھی ساتھ گئے تھے ۔ (یہ تین صحابہ عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ، یعنی ان دس صحابیوں میں سے تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جنت کی خوشخبری دی تھی) ۔ بظاہر حضرت ابوبکر ، حضرت علی یا حضرت زبیر کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے تھے ، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سب سے نزدیکی رشتہ دار تھے اور ان کا تدفین کے انتتظامات میں رکنا زیادہ مناسب تھا ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو روضہ مبارک میں منتقل کیا کو فرمایا ’’ ایک آدمی کی تدفین کے لئے اسکے اہل خانہ اور قریبی رشتہ دار ذمہ دار ہوتے ہیں ۔‘‘ (سنن ابوداؤد ج 2ص 102،چشتی)
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_43.html?m=1
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا کا جواب : ایک اعتراض جو شیعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ سقیفہ کے واقعہ کے بعد، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیعت دینے سے انکار کیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر اور چند دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاؤ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ کرلے آؤ ۔ ذرائع کے مطابق جیسے تاریخ طبری (اور دوسرے ذرائع) میں ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں گھر کا دروازہ توڑا اور علی رضی اللہ عنہ کو گھسیٹتے ہوئے ابو بکر کی طرف لے گئے اور زبردستی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کروائی ۔ یہ واقعہ تمام تاریخ کی کتابوں ، جیسے صحیح البخاری، احمد بن حنبل، سیرہ النبوۃ از ابن ہشام، تاریخ طبری (عربی)، الستیعاب از عبدالبر، تاریخ الخلفاء ابن قتیبہ اور کنز المعال میں درج ہے ۔ وہ علی (رضی اللہ عنہ) کے گرد گھیرا ڈال کے کھڑے ہوئے ، ان کے گھر کا دروازہ جلایا اور ان کی مرضی کے خلاف ان کو گھر سے نکالا ، علی رضی اللہ عنہ کے گھر کی خواتین کی سردار (حضرت فاطمہ علیہ السلام) کو دروازے کے درمیان دبایا اور اسطرح محسن رضی اللہ عنہ (جن سے فاطمہ چھ مہینے کی حاملہ تھیں) کو مار ڈالا ۔
شیعہ اعتراض کا جواب : شیعہ حضرات نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے افعال کے بارے میں دھوکہ دیا۔ یہ واقعہ ایسا نہیں تھا جیسا اس کو بتایا جاتا ہے ۔ جو کچھ بھی اس واقعہ سے متعلق صحیح بخاری، مسند احمد، کنزالاعمال، البدایہ النہایہ، الکامل از ابن اثیر، سیرۃ النبی از ابن ہشام اور تاریخ السلام از لیث سحابی میں موجود ہے، جب کھنگالا جاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انتقال کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اور انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم ، تدفین کے مراحل میں مشغول تھے ۔ دوسری طرف کچھ انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سقیفہ بنی سعدہ میں اکھٹا ہوئے ۔ ان کا ارادہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا تھا ۔ کیونکہ یہ اکابر صحابہ اور مہاجرین صحابہ کی باہمی مشاورت کے خلاف تھا اس لئے نہایت ہی نامناسب تھا ۔ اسکو دیکھ کر ایک صحابی فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرکی طرف روانہ ہوئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، جو تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ پہلے تو حضرت عمر نے انہماک کی وجہ سے آنے سے انکار کیا ، لیکن جب صحابی نے اس پراسرار کیا اور اس کی اہمیت کے متعلق اطلاع کی تو عمر باہر نکل کر آئے صحابی نے انہیں انصار کے مجمع کے بارے میں بتایا ۔ اس کو سن کر حضرت عمر نے فوراً حضرت ابوبکر کو بلایا جو کہ خود تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ جب عمر نے ان کو معاملے کی اہمیت کے بارے میں بتایا ، تو وہ بھی سقیفہ جانے کے لئے تیار ہوگئے اور ان کے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی ہولئے ۔
یہاں پر یہ معاملہ صاف ہوگیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت حاصل کرنے کے لئے کوئی ابتدائی قدم نہیں اٹھایا تھا ، اس کے برعکس وہ تدفین کے مراحل میں مصروف تھے ۔ کوئی دوسرے صحابی آئے اور انہوں نے حضرت عمر کو انصار کے جمع ہونے کے بارے میں بتایا ۔
اس واقعے کے بعد کوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہمیت کے بارے میں جان سکتا ہے ۔ نیز حضرت ابوبکر اکیلے سقیفہ بنی سعدہ نہیں گئے تھے ، بلکہ ان کے ساتھ عمر اور عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم بھی ساتھ گئے تھے ۔ (یہ تین صحابہ عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ، یعنی ان دس صحابیوں میں سے تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جنت کی خوشخبری دی تھی) ۔ بظاہر حضرت ابوبکر ، حضرت علی یا حضرت زبیر کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے تھے ، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سب سے نزدیکی رشتہ دار تھے اور ان کا تدفین کے انتتظامات میں رکنا زیادہ مناسب تھا ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو روضہ مبارک میں منتقل کیا کو فرمایا ’’ ایک آدمی کی تدفین کے لئے اسکے اہل خانہ اور قریبی رشتہ دار ذمہ دار ہوتے ہیں ۔‘‘ (سنن ابوداؤد ج 2ص 102،چشتی)
👍1
عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کی وضاحت کی تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سقیفہ بنی سعدہ اس لئے گئے تھے کہ انصار کو مطلع اور انکو وضاحت کرسکیں۔ انکو اسکا نہیں پتہ تھا کہ اسکے بیچ میں انکو خلیفہ مقرر کرنے کی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نہیں گئے تھے۔ جب یہ تینوں صحابہ سقیفہ بنی سعدہ پہنچے تو دیکھا کہ انصارایک بہت جذباتی حالت میں ہیں اور سعد بن عبادہ کو خلیفہ کے طور پر مقرر کرنے والے ہیں۔ یہ کسی بھی حالت میں درست اور مناسب نہیں تھا۔ مہاجرین کے علاوہ ، انصار میں سے کوئی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت لینے پر خوش نہیں تھا اور اس کا بہت بڑا خطرہ تھا کہ بغاوت نہ ہوجائے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی نشاندہی بخاری میں موجود میں خطبہ میں کی تھی۔ اسی لئے ابوبکر آگے آئے اور انہوں نے بڑی ذہانت کے ساتھ اس کی وضاحت کی کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے کیونکہ تمام عرب انکی عزت کیا کرتے ہیں۔ اسکے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرات عمر اور ابوعبیدہ بن جراح رضوان اللہ علہم اجمعین کے ہاتھ کھڑا کرکے گذارش کی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر بیعت کرلو ۔ انصار اس پر راضی نہیں ہوئے لیکن انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ایک امیر انصار میں سے ہونا چاہیے او ر ایک مہاجرین سے۔ لیکن یہ ممکن کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ملک میں ایک ہی وقت میں دو حکمران ہوں؟ اس موقع پر حضرت عمر نے کہا ’’ ایک میان میں دوتلواریں نہیں رہ سکتی‘‘۔ جب حضرت عمر نے دیکھا کہ مسائل حل نہیں ہورہے اور اعتراضات ختم نہیں ہورہے ہیں اور بغاوت کا خدشہ سامنے آرہا ہے تو انہوں نے حضرت ابوبکر کو منبر پر کھڑا کردیا اور اعلان کیا کہ وہ انکے ہاتھوں پر بیعت کرنے جارہے ہیں۔ حضرت عمر کے ہاتھوں بیعت کرنے سے پہلے انصاری صحابہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت کرلی ۔ اسکو دیکھنے کے بعد تمام مہاجرین اور انصار جو وہاں موجود تھے ، انہوں نے بھی حضرت ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کرلی، سوائے سعد بن عبادہ کے ۔ جب حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کو خلافت کے اہل ہونے کا حقدار ثابت کیا تو انہوں نے کہا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ابوبکر کو اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کے لئے آگے کیا تھا اور وہ ہی ثانی اثنین یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے غار کے ساتھی تھے۔ عمر انکی موجودگی میں خلیفہ کیسے بن سکتا ہے ؟‘‘ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے بھی یہی بات کی۔ زید بن ثابت جو ایک انصاری صحابی تھے، انہوں نے بھی کچھ اسی طرح کہا اور مہاجرین کی فضیلت اور اہمیت انصار پر واضح کی۔ اس طرح وہ انصار جنہوں نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے ، اپنی خوشی سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت کی ۔
یہ مجمع ایک اتفاقی واقعہ تھا ۔ انصار اس مجمع کے ہونے کے ذمہ دار تھے۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھم نے انکو جمع نہیں کیا تھا کہ خلافت حاصل کی جائے ۔ اس کے برعکس انکو سقیفہ بنی سعدہ جانے کے لئے مجبور کیا گیا تھا تاکہ وہ ایک بغاوت کو اٹھنے سے روکیں۔ اگر یہ طریقہ نہیں اختیار کیا جاتا اور یہ تین صحابہ سقیفہ بنی سعدہ سے چلے جاتے، انصار کا ایک گروہ اپنے آپ میں سے کسی ایک کو خلیفہ مقرر کرلیتا کیونکہ وہ ایک جذباتی حالت میں تھے اور خلیفہ مقرر کرنے میں دیر نہیں چاہتے تھے۔ اگر ایک اس وقت ایک انصار صحابی اکابر صحابہ کی غیر موجودگی میں خلیفہ مقرر ہوجاتے تو اس کا ایک قوی امکان تھا کہ عرب ان کی خلافت کو رد کردیتے اور ناتفاقی اور کشت و خون کا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصآل کے فوری بعد ہی شروع ہوجاتا ۔ یہی بات وہ صحابی کہہ رہے تھے کہ جب انصار صحابی کو وہ مشورہ دے رہے تھے : تم لوگوں نے پہلے اسلام کو سہار ا دیا اور اسکی مدد دی، اب تم لوگ وہ پہلے افراد نہ بنو جو اسلام کو ختم کرو یعنی لڑائی جھگڑا آپس میں کرکے ۔‘‘
اب اس بات پر کوئی غور کرسکتا ہے کہ یہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ نہ انہوں نے خلافت کا مطالبہ کیا اور نہ ہی خلافت کے حصول کی کوشش کی۔ حضرت ابوبکر نے عمر اور ابوعبیدہ بن جراح کو خلافت کے لئے پیش کیا۔ حضرت عمر نے آپ کو خلافت کے لئے آگے کیا اور تمام مہاجرین اور انصار نے حضرت عمر کی اس دعوت کا قبول کیا۔ یہ کسی مصدقہ روایت سے ثابت نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر کسی سازش کاحصہ تھے۔ اگر کوئی اسکا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اسکا ثبوت لے کر آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس خلافت کا اپنی دورِ خلافت میں اتفاقی کہنا بھی اسی لئے تھا، کیونکہ ان کے ذہن میں اس خیال کا آنا ناممکن تھا یا یہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین اس بیعت کا حصہ نہیں بنے تھے کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے مراحل میں مصروف تھے اور بظاہر انکو نہیں پتہ تھا کہ کون گھر کے باہر ظاہر ہوا۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ علی رضی اللہ
یہ مجمع ایک اتفاقی واقعہ تھا ۔ انصار اس مجمع کے ہونے کے ذمہ دار تھے۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھم نے انکو جمع نہیں کیا تھا کہ خلافت حاصل کی جائے ۔ اس کے برعکس انکو سقیفہ بنی سعدہ جانے کے لئے مجبور کیا گیا تھا تاکہ وہ ایک بغاوت کو اٹھنے سے روکیں۔ اگر یہ طریقہ نہیں اختیار کیا جاتا اور یہ تین صحابہ سقیفہ بنی سعدہ سے چلے جاتے، انصار کا ایک گروہ اپنے آپ میں سے کسی ایک کو خلیفہ مقرر کرلیتا کیونکہ وہ ایک جذباتی حالت میں تھے اور خلیفہ مقرر کرنے میں دیر نہیں چاہتے تھے۔ اگر ایک اس وقت ایک انصار صحابی اکابر صحابہ کی غیر موجودگی میں خلیفہ مقرر ہوجاتے تو اس کا ایک قوی امکان تھا کہ عرب ان کی خلافت کو رد کردیتے اور ناتفاقی اور کشت و خون کا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصآل کے فوری بعد ہی شروع ہوجاتا ۔ یہی بات وہ صحابی کہہ رہے تھے کہ جب انصار صحابی کو وہ مشورہ دے رہے تھے : تم لوگوں نے پہلے اسلام کو سہار ا دیا اور اسکی مدد دی، اب تم لوگ وہ پہلے افراد نہ بنو جو اسلام کو ختم کرو یعنی لڑائی جھگڑا آپس میں کرکے ۔‘‘
اب اس بات پر کوئی غور کرسکتا ہے کہ یہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ نہ انہوں نے خلافت کا مطالبہ کیا اور نہ ہی خلافت کے حصول کی کوشش کی۔ حضرت ابوبکر نے عمر اور ابوعبیدہ بن جراح کو خلافت کے لئے پیش کیا۔ حضرت عمر نے آپ کو خلافت کے لئے آگے کیا اور تمام مہاجرین اور انصار نے حضرت عمر کی اس دعوت کا قبول کیا۔ یہ کسی مصدقہ روایت سے ثابت نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر کسی سازش کاحصہ تھے۔ اگر کوئی اسکا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اسکا ثبوت لے کر آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس خلافت کا اپنی دورِ خلافت میں اتفاقی کہنا بھی اسی لئے تھا، کیونکہ ان کے ذہن میں اس خیال کا آنا ناممکن تھا یا یہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین اس بیعت کا حصہ نہیں بنے تھے کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے مراحل میں مصروف تھے اور بظاہر انکو نہیں پتہ تھا کہ کون گھر کے باہر ظاہر ہوا۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ علی رضی اللہ
عنہ اور دوسرے مہاجرین نے اس لئے بیعت نہیں کی کہ وہ اس سے متفق نہیں تھے، اسی لئے ان صحابہ کو جو وہاں موجود نہیں تھے ملامت کا شکار نہیں کیا گیا تھا۔ ایک عام مجلس دوسرے دن مسجد نبوی میں منعقد ہوئی جس میں بقایا سب افراد کے لئے بیعت ہوئی تاکہ کسی کو خلافت ابی بکر رضی اللہ عنہ کے خلاف کہنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ بھی کسی کالزام لگانا غلط ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کو سقیفہ بنی سعدہ میں مدعو نہیں کیا تھا۔ انکو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے ، نہ ہی وہ اس ارادہ سے گئے تھے کہ خلافت اپنے لئے غضب کرلیں۔ سقیفہ بنی سعدہ میں جوکچھ ہوا وہ ایک اتفاق اور اچانک ہوا تھا۔
یہ کچھ کچھ روایات سے ثابت ہے کہ سقیفہ بنی سعدہ کے واقعے کی بعد ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھر تشریف لے کہ گئے اور تدفین کے بقایا مراحل میں حصہ لیا۔ اگلے دن ابوبکر مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہوگئے اور عمر صحابہ کے سامنے کھڑے رہے ، پھر ابوبکر نے کچھ الفاظ ادا کیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد جو انہوں نے کہا تھا ، اس پر معذرت کی ۔ پھر مزید کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وصال ہوگیا ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔‘‘ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کی طرف اشارہ کیا اور انکے فآائل کا اعتراف کیا۔ پھر فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے یارِ غار تھے اور خلافت کے کسی اور کی نسبت سب سے زیادہ مستحق تھے اور سب لوگوں کو انکے ہاتھ ہر بیعت کرنا چاہیے۔ تمام صحابہ جو اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے انہوں نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسکو عام بیعت کہا جاتا ہے۔ اس بیعت کے موقع پر دو نہایت اہم اور مشہور صحابی علی اور زبیر رضوان اللہ علیھم اجمعنین موجود نہ تھے۔ یہ ایک الجھاؤ تھا۔ حضرت ابوبکر نے انکے متعلق دریافت کیا۔ کچھ صحابہ کھڑے ہوئے اور علی اور زبیر کو مسجد نبوی میں بلالائے۔ جب یہ صحابہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے بیعت کیوں نہیں لی حالانکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رشتہ دار اور داماد ہیں ؟ کیا آپ مسلمانوں کے درمیان ناتفاقی چاہتے ہو ؟‘‘ حضرت علی یہ سننے کے بعد اس پر معذرت کی اور حضرت ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کر لی ۔ حضرت ابوبکر نے حضرت زبیر سے بھی یہی سوال کیا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حواری اور رشتہ دار ہونے کے بعد بھی تم مسلمانوں کے درمیان نااتفاقی پیدا کرنے چاہتے ہو ؟ ‘‘ انہوں نے بھی اس پر اپنی معذرت پیش کی اور ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔
اب جہاں تک کچھ روایتوں میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ کے گھر اکھٹے ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ادھر گئے تو انکو دھمکایا، میں یہاں پر یہ کہوں گا کہ بظاہر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے بعد اور مسجد نبوی میں عام بیعت کے بعد، علی اور زبیر اور کچھ دوسرے مہاجرین ، فاطمہ کے گھر میں اکھٹے ہوئے اور یہ ارادہ کیا کہ چونکہ اب تم عام بیعت منعقد نہیں ہوئی تھی، اس لئے ہم علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنادیتے ہیں۔انہوں نے اس معاملے کو اپنے طور پر طے کیا اور زبیررضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ وہ علی کی مدد تلوار کے ذریعے کریں گے۔ دوسرے طرف بہت سے مہاجرین اور انصار پہلے ہی حضرت ابوبکر کے ہاتھوں سقیفہ بنی سعدہ میں بیعت کرچکے تھے، اب اگر ایک اور خلیفہ مقرر ہوجاتا تو بغاوت کا ایک بہت بڑا خدشہ پیدا ہوتااور انصار ایک بار پھر اپنے لئے الگ خلیفہ اور امیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے۔ اس لئے اس بغاوت کو دبانے لئے عمر ، فاطمہ کے گھر گئے جب علی اور زبیر گھر پر نہیں تھے۔ کنز العمال میں یہ درج ہے کہ عمر نے فاطمہ کوکہا کہ ’’ اے دخترِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم، تمام لوگوں میں سے کوئی مجھے آپ کے باپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور اس کے بعد آپ سے زیادہ پیارا کوئی نہیں ۔ میرے پاس یہ بری خبر آئی ہے کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہوئے ہیں اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کررہے ہیں ۔ اگر ان لوگوں کو روکا نہیں گیا تو خدا کی قسم میں ان کے گھر جلادوں گا ۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت عمر لوٹ آئے اور جب علی اور زبیر گھر واپس آئے تو فاطمہ نے ان لوگوں سے یہ کہا ’’ کیا آپ کو پتہ ہے کہ عمر یہاں آئے تھے اور مجھ سے ایک عہد لیا کہ اگر تم لوگوں نے ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کی تو تم لوگوں کے گھر جلادیں گے ؟ خدا کی قس م! عمر اپنے عہد کو پورا کریں گے ۔ اس لئے میرے گھر سے اس ارادے سے چلے جائے کہ اپنے ارادے اور خیالات کو ملتوی کردیں اور دوبارہ میرے گھر اس ارادے سے نہیں آئیں ۔‘‘ علی اور زبیر گھر چھوڑ کر آگئے اور دوبارہ وہاں جمع نہیں ہوئے جب تک انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہ کرلی ۔ (کنز العمال ج 5، ص 651،چشتی)
یہ کچھ کچھ روایات سے ثابت ہے کہ سقیفہ بنی سعدہ کے واقعے کی بعد ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھر تشریف لے کہ گئے اور تدفین کے بقایا مراحل میں حصہ لیا۔ اگلے دن ابوبکر مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہوگئے اور عمر صحابہ کے سامنے کھڑے رہے ، پھر ابوبکر نے کچھ الفاظ ادا کیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد جو انہوں نے کہا تھا ، اس پر معذرت کی ۔ پھر مزید کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وصال ہوگیا ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔‘‘ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کی طرف اشارہ کیا اور انکے فآائل کا اعتراف کیا۔ پھر فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے یارِ غار تھے اور خلافت کے کسی اور کی نسبت سب سے زیادہ مستحق تھے اور سب لوگوں کو انکے ہاتھ ہر بیعت کرنا چاہیے۔ تمام صحابہ جو اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے انہوں نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسکو عام بیعت کہا جاتا ہے۔ اس بیعت کے موقع پر دو نہایت اہم اور مشہور صحابی علی اور زبیر رضوان اللہ علیھم اجمعنین موجود نہ تھے۔ یہ ایک الجھاؤ تھا۔ حضرت ابوبکر نے انکے متعلق دریافت کیا۔ کچھ صحابہ کھڑے ہوئے اور علی اور زبیر کو مسجد نبوی میں بلالائے۔ جب یہ صحابہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے بیعت کیوں نہیں لی حالانکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رشتہ دار اور داماد ہیں ؟ کیا آپ مسلمانوں کے درمیان ناتفاقی چاہتے ہو ؟‘‘ حضرت علی یہ سننے کے بعد اس پر معذرت کی اور حضرت ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کر لی ۔ حضرت ابوبکر نے حضرت زبیر سے بھی یہی سوال کیا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حواری اور رشتہ دار ہونے کے بعد بھی تم مسلمانوں کے درمیان نااتفاقی پیدا کرنے چاہتے ہو ؟ ‘‘ انہوں نے بھی اس پر اپنی معذرت پیش کی اور ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔
اب جہاں تک کچھ روایتوں میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ کے گھر اکھٹے ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ادھر گئے تو انکو دھمکایا، میں یہاں پر یہ کہوں گا کہ بظاہر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے بعد اور مسجد نبوی میں عام بیعت کے بعد، علی اور زبیر اور کچھ دوسرے مہاجرین ، فاطمہ کے گھر میں اکھٹے ہوئے اور یہ ارادہ کیا کہ چونکہ اب تم عام بیعت منعقد نہیں ہوئی تھی، اس لئے ہم علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنادیتے ہیں۔انہوں نے اس معاملے کو اپنے طور پر طے کیا اور زبیررضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ وہ علی کی مدد تلوار کے ذریعے کریں گے۔ دوسرے طرف بہت سے مہاجرین اور انصار پہلے ہی حضرت ابوبکر کے ہاتھوں سقیفہ بنی سعدہ میں بیعت کرچکے تھے، اب اگر ایک اور خلیفہ مقرر ہوجاتا تو بغاوت کا ایک بہت بڑا خدشہ پیدا ہوتااور انصار ایک بار پھر اپنے لئے الگ خلیفہ اور امیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے۔ اس لئے اس بغاوت کو دبانے لئے عمر ، فاطمہ کے گھر گئے جب علی اور زبیر گھر پر نہیں تھے۔ کنز العمال میں یہ درج ہے کہ عمر نے فاطمہ کوکہا کہ ’’ اے دخترِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم، تمام لوگوں میں سے کوئی مجھے آپ کے باپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور اس کے بعد آپ سے زیادہ پیارا کوئی نہیں ۔ میرے پاس یہ بری خبر آئی ہے کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہوئے ہیں اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کررہے ہیں ۔ اگر ان لوگوں کو روکا نہیں گیا تو خدا کی قسم میں ان کے گھر جلادوں گا ۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت عمر لوٹ آئے اور جب علی اور زبیر گھر واپس آئے تو فاطمہ نے ان لوگوں سے یہ کہا ’’ کیا آپ کو پتہ ہے کہ عمر یہاں آئے تھے اور مجھ سے ایک عہد لیا کہ اگر تم لوگوں نے ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کی تو تم لوگوں کے گھر جلادیں گے ؟ خدا کی قس م! عمر اپنے عہد کو پورا کریں گے ۔ اس لئے میرے گھر سے اس ارادے سے چلے جائے کہ اپنے ارادے اور خیالات کو ملتوی کردیں اور دوبارہ میرے گھر اس ارادے سے نہیں آئیں ۔‘‘ علی اور زبیر گھر چھوڑ کر آگئے اور دوبارہ وہاں جمع نہیں ہوئے جب تک انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہ کرلی ۔ (کنز العمال ج 5، ص 651،چشتی)
کنز العمال کی اس روایت کے ذریعے کچھ نکات واضح اور صاف ظاہرہوتے ہیں :
جب عمر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی اور حضرت زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین گھر پر نہیں تھے۔اس لئے عمر کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور کوئی جھگڑا ہوا۔
(1) عمر رضی اللہ عنہ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت عزت کے ساتھ پیش آئے انکو یہ بھی بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا انکے بچوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔
(2) عمر نے فاطمہ کو کسی طور پر دھمکایا نہیں تھا۔
(3) جب عمر نے فاطمہ کا گھر چھوڑا، تو فاطمہ اور انکا گھر بالکل صحیح سالم تھا۔انکو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔بعد میں جب علی رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو فاطمہ نے یہ شکایت نہیں کی کہ عمر نے ان سے بدتمیزی کی۔ بجائے اسکے فاطمہ نے انکو مستقبل میں اپنے گھر میں عمر کی کی مخالفت اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے سے روکا تھا۔
(4) علی رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کے ہاتھوں بغیر کسی مجبوری اور دباؤ کے بیعت کرلی تھی۔
یہ الزام حضرت عمر پر لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ کا گھر کا دروازہ توڑا اور علی اور فاطمہ کے پاس ایک غیر مہذبانہ انداز میں گئے، ان کے اس عمل کے نتیجے میں فاطمہ کا حمل ساقط ہوگیا ، یہ تمام الزام ایک جھوٹ اور من گھڑت ہے ۔ حقیقت میں یہ الزام دراصل حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی توہین کرتا ہے اور اسلام کا مذاق اڑاتا ہے ۔ کیا حضرت علی اتنے بزدل تھے کہ نہ اپنے گھر کو بچا سکے اور نہ ہی اپنی بیوی کا انتقام لے سکے ؟ جب حضرت علی خلیفہ بن گئے تو کیوں نہیں انہوں نے حضرت عمر کے خاندان سے اپنے مقتول بچے کا خون بہا لیا ؟ وہ لوگ جنہوں نے یہ روایات گھڑیں ہیں دراصل اسلام کے دشمن تھے ۔ ان لوگوں نے کفار کے سامنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اسطرح گمراہ تصویر کشی کی ہے کہ نعوذ باللہ وہ خلافت کے حصول کے پیاسے تھے ، ان کا کوئی قانونی سسٹم نہیں تھا ، طاقتور کمزو ر کا دبایا کرتا تھا ، سچ بولنا جرم تھا، ظالم کو سزا نہیں ملتی تھی، حکام کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، جیسے منافق لوگ ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے دلوں میں اپنے حکمرانوں کے لئے برائی چھپی ہوتی ہے۔ استغفر اللہ۔ کیا آپ کا دل یہ الزامات اور خرافات قبول کرے گا ؟ کیا کبار صحابہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ؟ کیا یہ صحابہ اس قابل نہیں تھے کہ انہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں جیسے قیصر اور کسریٰ جیسوں بغیر سروسامانی کے کو تباہ و برباد کردیا تھا؟ کیا اللہ تعالی ظالموں کی مدد کرتا ہے ؟
یہ دعویٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا اسقاط ہوگیا تھا، ایک من گھڑت قصہ ہے ۔ یہ ایک مصدقہ تاریخی کتاب، البدایہ و النہایہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی میں ، حضرت فاطمہ نے ایک تیسرے بچے جس کا نام محسن تھا، جنم دیا تھا اور یہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تھا۔ اسی وجہ سے زیادہ تر تاریخ نویسوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صرف دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر نے ان لوگوں کے خلاف ایک سخت رویہ کیوں اختیار کیا جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہونے کے بعد مخالفت کی، اسکا سبب یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا تھا: ’’ خلیفہ ہونے کے بعد کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا، جب اسکو مسلمانوں نے مقرر کرلیا ہو۔ پس جو اسکا دعویٰ کرے اسکو قتل کردو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔(صحیح مسلم)
جب عام بیعت ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ میں خلیفہ بننا نہیں چاہتا تھا، نہ ہی اسکو خواہش کی تھی۔ اگر آپ لوگ اس نے خوش نہ ہوں ، تو میں معزول ہوجاتا ہوں اور آپ کسی اور کو خلیفہ بنالینا۔‘‘ مہاجرین کی اکثریت، خصوصا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسکا انکار کیا اور کہا ’’ نہیں، آپ (ابوبکر) اس امر کے بنسبت کسی اور کے زیادہ مستحق ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے نماز جیسے اہم امور میں آپ کو آگے کیا، تو اب ہم آپ کو کیسے پیچھے ہٹائیں؟‘‘ جب علی اور زبیر سے پوچھا گیا کہ آپ نے شروع میں بیعت کیوں نہیں کی؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ اسکا سبب ہم نے اس معاملے میں مشورہ کیا تھا۔ شیعہ کتاب ’’ احتجاج طبرسی‘‘ کی ایک روایت ہے کہ علی نے ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کی اور ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ علی نے اس بات کا اپنی خلافت میں اعلان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خلیفہ مقرر کرنے کی اور ہمیں اسکی بیعت کرنے کی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ اگر میں نے بیعت کی ہوتی تو میں کبھی ابوبکر کو رسول اللہ کے منبر پر چڑھنے کی اجازت نہ دیتا، لیکن ابوبکر خلافت کے اہل تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کو آگے بڑھایا، انکے ساتھ کام کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ہم نے عمر اور عثمان کی معاونت کی۔
جب عمر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی اور حضرت زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین گھر پر نہیں تھے۔اس لئے عمر کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور کوئی جھگڑا ہوا۔
(1) عمر رضی اللہ عنہ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت عزت کے ساتھ پیش آئے انکو یہ بھی بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا انکے بچوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔
(2) عمر نے فاطمہ کو کسی طور پر دھمکایا نہیں تھا۔
(3) جب عمر نے فاطمہ کا گھر چھوڑا، تو فاطمہ اور انکا گھر بالکل صحیح سالم تھا۔انکو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔بعد میں جب علی رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو فاطمہ نے یہ شکایت نہیں کی کہ عمر نے ان سے بدتمیزی کی۔ بجائے اسکے فاطمہ نے انکو مستقبل میں اپنے گھر میں عمر کی کی مخالفت اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے سے روکا تھا۔
(4) علی رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کے ہاتھوں بغیر کسی مجبوری اور دباؤ کے بیعت کرلی تھی۔
یہ الزام حضرت عمر پر لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ کا گھر کا دروازہ توڑا اور علی اور فاطمہ کے پاس ایک غیر مہذبانہ انداز میں گئے، ان کے اس عمل کے نتیجے میں فاطمہ کا حمل ساقط ہوگیا ، یہ تمام الزام ایک جھوٹ اور من گھڑت ہے ۔ حقیقت میں یہ الزام دراصل حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی توہین کرتا ہے اور اسلام کا مذاق اڑاتا ہے ۔ کیا حضرت علی اتنے بزدل تھے کہ نہ اپنے گھر کو بچا سکے اور نہ ہی اپنی بیوی کا انتقام لے سکے ؟ جب حضرت علی خلیفہ بن گئے تو کیوں نہیں انہوں نے حضرت عمر کے خاندان سے اپنے مقتول بچے کا خون بہا لیا ؟ وہ لوگ جنہوں نے یہ روایات گھڑیں ہیں دراصل اسلام کے دشمن تھے ۔ ان لوگوں نے کفار کے سامنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اسطرح گمراہ تصویر کشی کی ہے کہ نعوذ باللہ وہ خلافت کے حصول کے پیاسے تھے ، ان کا کوئی قانونی سسٹم نہیں تھا ، طاقتور کمزو ر کا دبایا کرتا تھا ، سچ بولنا جرم تھا، ظالم کو سزا نہیں ملتی تھی، حکام کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، جیسے منافق لوگ ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے دلوں میں اپنے حکمرانوں کے لئے برائی چھپی ہوتی ہے۔ استغفر اللہ۔ کیا آپ کا دل یہ الزامات اور خرافات قبول کرے گا ؟ کیا کبار صحابہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ؟ کیا یہ صحابہ اس قابل نہیں تھے کہ انہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں جیسے قیصر اور کسریٰ جیسوں بغیر سروسامانی کے کو تباہ و برباد کردیا تھا؟ کیا اللہ تعالی ظالموں کی مدد کرتا ہے ؟
یہ دعویٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا اسقاط ہوگیا تھا، ایک من گھڑت قصہ ہے ۔ یہ ایک مصدقہ تاریخی کتاب، البدایہ و النہایہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی میں ، حضرت فاطمہ نے ایک تیسرے بچے جس کا نام محسن تھا، جنم دیا تھا اور یہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تھا۔ اسی وجہ سے زیادہ تر تاریخ نویسوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صرف دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر نے ان لوگوں کے خلاف ایک سخت رویہ کیوں اختیار کیا جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہونے کے بعد مخالفت کی، اسکا سبب یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا تھا: ’’ خلیفہ ہونے کے بعد کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا، جب اسکو مسلمانوں نے مقرر کرلیا ہو۔ پس جو اسکا دعویٰ کرے اسکو قتل کردو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔(صحیح مسلم)
جب عام بیعت ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ میں خلیفہ بننا نہیں چاہتا تھا، نہ ہی اسکو خواہش کی تھی۔ اگر آپ لوگ اس نے خوش نہ ہوں ، تو میں معزول ہوجاتا ہوں اور آپ کسی اور کو خلیفہ بنالینا۔‘‘ مہاجرین کی اکثریت، خصوصا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسکا انکار کیا اور کہا ’’ نہیں، آپ (ابوبکر) اس امر کے بنسبت کسی اور کے زیادہ مستحق ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے نماز جیسے اہم امور میں آپ کو آگے کیا، تو اب ہم آپ کو کیسے پیچھے ہٹائیں؟‘‘ جب علی اور زبیر سے پوچھا گیا کہ آپ نے شروع میں بیعت کیوں نہیں کی؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ اسکا سبب ہم نے اس معاملے میں مشورہ کیا تھا۔ شیعہ کتاب ’’ احتجاج طبرسی‘‘ کی ایک روایت ہے کہ علی نے ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کی اور ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ علی نے اس بات کا اپنی خلافت میں اعلان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خلیفہ مقرر کرنے کی اور ہمیں اسکی بیعت کرنے کی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ اگر میں نے بیعت کی ہوتی تو میں کبھی ابوبکر کو رسول اللہ کے منبر پر چڑھنے کی اجازت نہ دیتا، لیکن ابوبکر خلافت کے اہل تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کو آگے بڑھایا، انکے ساتھ کام کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ہم نے عمر اور عثمان کی معاونت کی۔
کوئی اس بات پر غور کرسکتا ہے کہ اگر علی رضی اللہ عنہ نے بیعت لی ہوتی تو وہ اسکو اپنی خلافت میں ضرور بتاتے، جب انکو حکومتی سطح سے کسی کی تنبیہ یا دھمکی کا خطرہ نہ ہوتا۔ اگر ابوبکر یا عمر نے ان پر ظلم کیا ہوتا تو اس کو وہ ضرور بتاتے ، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ہم نے کافی تفضٰیل کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ کوئی بھی اس کو مصدقہ مان سکتا ہے کیونکہ یہ اسلام اور صحابہ کی نیچر کے مطابق ہے۔ وہ روایات جو صحابہ اور اسلام کی غلط تعبیریں کرتی ہیں انکو قبول نہ کیا جانا چاہیے کیونکہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتے ہوئے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں ، انہوں نے ان جھوٹی روایات کو گھڑا ہے اور اسطرح انکو پھیلایا ہے کہ مسلمانوں میں ناانتفاقی پھیل جائے اور گروہ درگروہ تقسیم ہوکر آپس میں خون بہانے لگیں۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہر بات سچی اور مصدقہ نہیں ہوتی اور اس پر شیعوں سے لڑنا نہیں چاہیے، اس کے برعکس ہمیں ایک عملی مسلمان ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ آپ کو صحابہ کا ذکر ہمیشہ ادب و احترام سے کرنا چاہیے اور ان کے لئے نفرت اور کسی اور صحابی کے لئے انکی برائی نہیں رکھنا چاہیے، نیز تمام صحابہ کے لئے محبت کی تلقین کرنا چاہئے ۔ ان سے محبت کرنا ہمارے ایمان کی نشانی ہے اور ان کی مخالفت کرنا نفاق کی نشانی ہے۔
اگر کوئی شیعہ آپ کو مستقل تنگ کرے تو اس سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ بزدل تھے یا بہادر تھے ؟
اگر وہ بہادر تھے توانہوں نے سچائی کیوں چھپائی ؟
کس چیز نے انکو سچائی چھپانے سے اپنی خلافت میں روکا ؟
اگر تمہارے (شیعہ) عقیدے میں کسی کو خلافت اور حکومتی معاملات میں وصیت ملے اور وہ ان کو کھل کر نہ کہہ سکے ، تو تم اس کو کیسا پاؤ گے؟
اس کی یہ وصیت کہاں ہے اور کس کتاب میں ملے گی ؟
اس کو تم کسی معیاری مصدقہ ذرائع سے ثابت کیوں نہیں کر پا رہے ؟
یہ مضمون ہم نے درج ذیل کتب سے تیار کیا ہے تفصیل کےلیے ان کتب کا مطالعہ فرمائیں : (صحیح البخاری ج 2، ص 1009، 1072)(فتح الباری ج 12، ص 145، حدیث نمبر 6830، ج 13، ص 208، حدیث نمبر 7219،) (مسند احمد بن حنبل ، ج 1، ص 55، حدیث 133، ص 121، حدیث 391)(کنز الاعمال ج 5، ص 635-637، حدیث نمبر 14131-14156)(رشد الانف ، شرح سیرہ ابن ہاشم ج 4، ص 260)(البدایہ و النہایہ ج 5، ص 245-252 ج 6، ص 301-331)(الکامل فی التاریخ ابن اثیر ج 2ص 189،194)(تحفہ جعفریہ ۔ فقہ جعفریہ ۔ عقاٸد جعفریہ)۔(شیعہ مذھب) ۔
(مزید حصّہ یازدہم میں ان شاء اللہ)
(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_43.html?m=1
ہم نے کافی تفضٰیل کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ کوئی بھی اس کو مصدقہ مان سکتا ہے کیونکہ یہ اسلام اور صحابہ کی نیچر کے مطابق ہے۔ وہ روایات جو صحابہ اور اسلام کی غلط تعبیریں کرتی ہیں انکو قبول نہ کیا جانا چاہیے کیونکہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتے ہوئے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں ، انہوں نے ان جھوٹی روایات کو گھڑا ہے اور اسطرح انکو پھیلایا ہے کہ مسلمانوں میں ناانتفاقی پھیل جائے اور گروہ درگروہ تقسیم ہوکر آپس میں خون بہانے لگیں۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہر بات سچی اور مصدقہ نہیں ہوتی اور اس پر شیعوں سے لڑنا نہیں چاہیے، اس کے برعکس ہمیں ایک عملی مسلمان ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ آپ کو صحابہ کا ذکر ہمیشہ ادب و احترام سے کرنا چاہیے اور ان کے لئے نفرت اور کسی اور صحابی کے لئے انکی برائی نہیں رکھنا چاہیے، نیز تمام صحابہ کے لئے محبت کی تلقین کرنا چاہئے ۔ ان سے محبت کرنا ہمارے ایمان کی نشانی ہے اور ان کی مخالفت کرنا نفاق کی نشانی ہے۔
اگر کوئی شیعہ آپ کو مستقل تنگ کرے تو اس سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ بزدل تھے یا بہادر تھے ؟
اگر وہ بہادر تھے توانہوں نے سچائی کیوں چھپائی ؟
کس چیز نے انکو سچائی چھپانے سے اپنی خلافت میں روکا ؟
اگر تمہارے (شیعہ) عقیدے میں کسی کو خلافت اور حکومتی معاملات میں وصیت ملے اور وہ ان کو کھل کر نہ کہہ سکے ، تو تم اس کو کیسا پاؤ گے؟
اس کی یہ وصیت کہاں ہے اور کس کتاب میں ملے گی ؟
اس کو تم کسی معیاری مصدقہ ذرائع سے ثابت کیوں نہیں کر پا رہے ؟
یہ مضمون ہم نے درج ذیل کتب سے تیار کیا ہے تفصیل کےلیے ان کتب کا مطالعہ فرمائیں : (صحیح البخاری ج 2، ص 1009، 1072)(فتح الباری ج 12، ص 145، حدیث نمبر 6830، ج 13، ص 208، حدیث نمبر 7219،) (مسند احمد بن حنبل ، ج 1، ص 55، حدیث 133، ص 121، حدیث 391)(کنز الاعمال ج 5، ص 635-637، حدیث نمبر 14131-14156)(رشد الانف ، شرح سیرہ ابن ہاشم ج 4، ص 260)(البدایہ و النہایہ ج 5، ص 245-252 ج 6، ص 301-331)(الکامل فی التاریخ ابن اثیر ج 2ص 189،194)(تحفہ جعفریہ ۔ فقہ جعفریہ ۔ عقاٸد جعفریہ)۔(شیعہ مذھب) ۔
(مزید حصّہ یازدہم میں ان شاء اللہ)
(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_43.html?m=1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓫
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_45.html?m=1
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ یازدہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار بیٹیاں ، آیتِ مباہلہ اور شیعہ رافضیوں کے جھوٹ و فریب کا جواب محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ۔ (سورہ النساء آیت نمبر 61)
ترجمہ : پھر اے محبوب جو تم سے عیسٰی کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں ۔
محترم قارئینِ کرام : سورہ آل عمران کی یہ آیت جو کہ آیت مباہلہ کے نام سے مشہور ہے اس آیت کو پیش کر کے شیعہ حضرات یہاں یہ بات ثابت کرنے کی بے جا کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صرف ایک صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہی تھیں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اور صاحبزادیاں ہوتیں تو وہ سب بھی اس روز مباہلہ میں شرکت کرتیں ۔ تو جناب گذارش یہ ہے کہ شیعہ حضرات کی تاریخ کی تمام معتبر کتابوں (ناسخ التوریخ اور کافی وغیرہ) میں موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار صاحبزادیاں تھیں اس دن خاتون جنت سلام اللہ علیہا کا تنہا تشریف لانا اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی باقی صاحبزادیاں انتقال فرما چکی تھیں ۔ یہ واقعہ 10ہجری کا ہے جبکہ حضرت رقیہ 2 ہجری میں ، حضرت زینب 8 ہجری میں اور حضرت ام کلثوم نے 9 ہجری میں انتقال فرمایا ۔
محترم قارئینِ کرام : ہم اہل تشیع اور روافض کی کتابوں سے حوالہ پیش کررہے ہیں جس سے روافض کی غلط بیانی کی نشاندہی ہو جائیگی کہ خود ان کے گھر کی معتبر کتابیں اس بات کی شہادت دیتیں ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی کل چار بیٹیاں تھیں ۔
شیعہ مذہب کی بنیادی کتابیں چار ہیں ۔ جنہیں ”صحاح اربعہ “ کہا جاتا ہے ۔ (1) اصول کافی ۔ (2) من لا یحضر الفقیة۔ (3) تهذيب الاحکام ۔ (4) الاستبصار ۔
ان چار میں سے سب سے زیادہ اہمیت ”اصول کافی“ کو دیجاتی ہے اس کتاب کو لکھنے والے معروف شیعہ عالم“ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی” ہیں ۔ کلینی 329ھ میں فوت ہوا ۔ محمد بن یعقوب کلینی نے اس کتاب کی " کتاب الحجہ باب مولد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم " میں ذکر کیا ہے کہ : وتزوج الخديجة وهو ابن بضع وعشرین سنة فولدہ منهاقبل مبعثه القاسم ورقیة وزینب وام کلثوم وولدلہ بعد المبعث الطیب والطاهر وفاطمةعليها السلام ۔ (اصول کافی ص439 طبع بازار سلطانی تہران۔ایران،چشتی)
ترجمہ : یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خدیجہ کے ساتھ نکاح کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر بیس سال سے زیادہ تھی پھر خدیجہ سے جناب کی اولاد بعثت سے پہلے جو پیدا ہوئی وہ يہ ہے قاسم، رقیہ ، زینب اور ام کلثوم اور بعثت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اولاد طیب ، طاہر اور فاطمہ پیدا ہوئیں ۔
محترم قارئینِ کرام : اصول کا فی جو اصول اربعہ کی نمبر1 کتاب ہے اس نے مسئلہ بالکل واضح کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار صاحبزادیاں ہیں اور چاروں صاحبزادیاں حضرت خدیجہ الکبری سے متولد ہیں اور پھر اصول کافی کے تمام تر شارحین نے اس کی تشریح اور توضیح عمدہ طریقے پر کر دی ہے مثلاً مرآة العقول شرح اصول جو باقر مجلسی نے لکھی ہے اور ” الصافی شرح کافی “ ملا خلیل قزوینی نے لکھی ہے انہوں نے اس روایت کو بالکل درست کہا ہے ۔ آج چودہویں صدی کے شیعہ علماءاپنی عوام کو ”بدھو بنانے کے غرض سے يہ کہہ کرجان چھڑا لیتےہیں کہ يہ روایت ضعیف ہے مگر آج تک شیعہ برادری ضعيف روایت کی معقول وجہ پیش نہیں کر سکی اور نہ قیامت تک کر سکتی ہے ۔
اب شیعہ مذہب کی دوسری کتاب كا حوالہ ملاحظہ ہو ۔ مشہور شیعہ عالم ابو العباس عبدﷲ بن جعفری الحمیری اپنی کتاب " قرب الاسناد" لکھتے ہیں قال: وحدثني مسعدة بن صدقة قال: حدثني جعفر بن محمد، عن أبيه قال ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة: القاسم، والطاهر، وأم كلثوم، ورقية، وفاطمة، وزينب. فتزوج علي عليه السلام فاطمة عليها السلام، وتزوج أبو العاص بن ربيعة – وهو من بني أمية – زينب، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم ولم يدخل بها حتى هلكت، وزوجه رسول الله صلى الله عليه وآله مكانها رقية.
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_45.html?m=1
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ یازدہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار بیٹیاں ، آیتِ مباہلہ اور شیعہ رافضیوں کے جھوٹ و فریب کا جواب محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ۔ (سورہ النساء آیت نمبر 61)
ترجمہ : پھر اے محبوب جو تم سے عیسٰی کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں ۔
محترم قارئینِ کرام : سورہ آل عمران کی یہ آیت جو کہ آیت مباہلہ کے نام سے مشہور ہے اس آیت کو پیش کر کے شیعہ حضرات یہاں یہ بات ثابت کرنے کی بے جا کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صرف ایک صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہی تھیں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اور صاحبزادیاں ہوتیں تو وہ سب بھی اس روز مباہلہ میں شرکت کرتیں ۔ تو جناب گذارش یہ ہے کہ شیعہ حضرات کی تاریخ کی تمام معتبر کتابوں (ناسخ التوریخ اور کافی وغیرہ) میں موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار صاحبزادیاں تھیں اس دن خاتون جنت سلام اللہ علیہا کا تنہا تشریف لانا اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی باقی صاحبزادیاں انتقال فرما چکی تھیں ۔ یہ واقعہ 10ہجری کا ہے جبکہ حضرت رقیہ 2 ہجری میں ، حضرت زینب 8 ہجری میں اور حضرت ام کلثوم نے 9 ہجری میں انتقال فرمایا ۔
محترم قارئینِ کرام : ہم اہل تشیع اور روافض کی کتابوں سے حوالہ پیش کررہے ہیں جس سے روافض کی غلط بیانی کی نشاندہی ہو جائیگی کہ خود ان کے گھر کی معتبر کتابیں اس بات کی شہادت دیتیں ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی کل چار بیٹیاں تھیں ۔
شیعہ مذہب کی بنیادی کتابیں چار ہیں ۔ جنہیں ”صحاح اربعہ “ کہا جاتا ہے ۔ (1) اصول کافی ۔ (2) من لا یحضر الفقیة۔ (3) تهذيب الاحکام ۔ (4) الاستبصار ۔
ان چار میں سے سب سے زیادہ اہمیت ”اصول کافی“ کو دیجاتی ہے اس کتاب کو لکھنے والے معروف شیعہ عالم“ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی” ہیں ۔ کلینی 329ھ میں فوت ہوا ۔ محمد بن یعقوب کلینی نے اس کتاب کی " کتاب الحجہ باب مولد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم " میں ذکر کیا ہے کہ : وتزوج الخديجة وهو ابن بضع وعشرین سنة فولدہ منهاقبل مبعثه القاسم ورقیة وزینب وام کلثوم وولدلہ بعد المبعث الطیب والطاهر وفاطمةعليها السلام ۔ (اصول کافی ص439 طبع بازار سلطانی تہران۔ایران،چشتی)
ترجمہ : یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خدیجہ کے ساتھ نکاح کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر بیس سال سے زیادہ تھی پھر خدیجہ سے جناب کی اولاد بعثت سے پہلے جو پیدا ہوئی وہ يہ ہے قاسم، رقیہ ، زینب اور ام کلثوم اور بعثت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اولاد طیب ، طاہر اور فاطمہ پیدا ہوئیں ۔
محترم قارئینِ کرام : اصول کا فی جو اصول اربعہ کی نمبر1 کتاب ہے اس نے مسئلہ بالکل واضح کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار صاحبزادیاں ہیں اور چاروں صاحبزادیاں حضرت خدیجہ الکبری سے متولد ہیں اور پھر اصول کافی کے تمام تر شارحین نے اس کی تشریح اور توضیح عمدہ طریقے پر کر دی ہے مثلاً مرآة العقول شرح اصول جو باقر مجلسی نے لکھی ہے اور ” الصافی شرح کافی “ ملا خلیل قزوینی نے لکھی ہے انہوں نے اس روایت کو بالکل درست کہا ہے ۔ آج چودہویں صدی کے شیعہ علماءاپنی عوام کو ”بدھو بنانے کے غرض سے يہ کہہ کرجان چھڑا لیتےہیں کہ يہ روایت ضعیف ہے مگر آج تک شیعہ برادری ضعيف روایت کی معقول وجہ پیش نہیں کر سکی اور نہ قیامت تک کر سکتی ہے ۔
اب شیعہ مذہب کی دوسری کتاب كا حوالہ ملاحظہ ہو ۔ مشہور شیعہ عالم ابو العباس عبدﷲ بن جعفری الحمیری اپنی کتاب " قرب الاسناد" لکھتے ہیں قال: وحدثني مسعدة بن صدقة قال: حدثني جعفر بن محمد، عن أبيه قال ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة: القاسم، والطاهر، وأم كلثوم، ورقية، وفاطمة، وزينب. فتزوج علي عليه السلام فاطمة عليها السلام، وتزوج أبو العاص بن ربيعة – وهو من بني أمية – زينب، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم ولم يدخل بها حتى هلكت، وزوجه رسول الله صلى الله عليه وآله مكانها رقية.
👍1
ثم ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله – من أم إبراهيم – إبراهيم، وهي مارية القبطية، أهداها إليه صاحب الإسكندرية مع البغلة الشهباء وأشياء معها ۔ (کتاب قرب الاسناد الحميري القمي الصفحة ٩،چشتی)
ترجمہ : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جن کی پیدائش وہ قاسم، طاہر، ام کلثوم، رقیہ، فاطمہ اور زینب ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی ۔
اس روایت نے مسئلہ ہذا کو مزید واضح کر دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حقیقی بیٹیاں چار ہی تھیں اور چاروں خدیجة الکبری کے بطن سے پیدا ہوئیں اور يہ اس کتاب کا حوالہ ہے جس کے مصنف کا دعوی ہے کہ میں جواب طلب مسئلہ ايک چٹھی پر لکھ کر درخت کی کھوہ میں رکھ دیتا تھا دو دن کے بعد جب جا کر ديکھتا تو اس پر امام غائب (شیعوں کے امام مہدی) کی مہر لگی ہوتی تھی چنانچہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کا اصل نام ”قرب الاسناد الی صاحب الامر“ ہے ۔ (تحفہ اثناعشریہ ص245)
ليجئے اب تو اس مسئلہ پر امام مہدی (جو شیعہ عقائد کے مطابق” روپوش“ ہیں اور قرب قیامت میں ظاہر ہونگے) اس کی مہر لگ گئی ہے نیز اسی کتاب کی اس روایت کو شیعہ مجتہدین نے اپنی اپنی تصا نیف میں بطور تائید نقل کیا ہے مثلاً باقر مجلسی نے حیات القلوب جلد نمبر2 ص718 میں اور عباس القمی نے ”منتھی الآمال جلد نمبر1 ص108 میں اور عبدﷲ مامقانی نے ” تنقیح المقال“ کے آخر میں تائیداً ذکر کیا ہے ۔ اب شیعہ حضرات خود فیصلہ صادر فرمائیں کہ ان کے سابق اکابر حضرات حق پر تھے یا يہ آج کل کے مجلس خوان ذاکر ؟
شیعہ مذہب کی نہایت قابل اعتماد عالم شیخ صدوق ابن بابويہ القمی نے اپنی مايہ ناز کتاب ”کتاب الخصال“ کےا ندر متعدد بار اس مسئلہ کو اٹھایا ہے چنانچہ ايک مقام پر قول نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : رسول خدا کی سات اولاد تھیں
شیعہ مذہب کا نہایت قابل اعتماد عالم شیخ صدوق ابن بابويہ القمی لکھتا ہے : حدثنا أبي ، ومحمد بن الحسن رضي الله عنهما قالا: حدثنا سعد بن – عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله البرقي، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن علي بن – أبي حمزة، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة القاسم والطاهر وهو عبد الله، وأم كلثوم، ورقية، وزينب، وفاطمة. وتزوج علي ابن أبي طالب عليه السلام فاطمة عليها السلام، وتزوج أبو العاص بن الربيع وهو رجل من بني أمية زينب، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم فماتت ولم يدخل بها، فلما ساروا إلى بدر زوجه رسول الله صلى الله عليه وآله رقية. وولد لرسول الله صلى الله عليه وآله إبراهيم من مارية القبطية وهي أم إبراهيم أم ولد ۔ (کتاب الخصال الشيخ الصدوق عربی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 404،چشتی)(مترجم اردو کا صفحہ نمبر 223)
ترجمہ : امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چھ اولاد تھیں قاسم ، طاہر کہ ان کا نام عبدالله تھا ، ام کلثوم ، رقیہ ، زینب اور فاطمہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں لہٰذا جب مسلمانوں نے بدر کی جانب رخ کیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے اس کی شادی کی ۔
یہی شیخ صدوق ابن بابويہ القمی لکھتا ہے : ان خدیجة رحمها ﷲ و لدت منی طاهر وهو عبد ﷲ هو المطهر و ولدت منی القاسم وفاطمة ورقیة وام کلثوم وزینب ۔
ترجمہ : (رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا) ﷲ تعالی خدیجہ پر رحم فرمائے کہ اس کے بطن سے میری اولاد ہوئی طاہر جس کو عبد ﷲ کہتے ہیں اور وہی مطہر ہے اور خدیجہ سے ميرے ہاں قاسم ، فاطمہ، رقیہ، ام کلثوم او زینب پیدا ہوئيں ۔ (کتاب الخصال للصدوق عربی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 405،چشتی)،(کتاب الخصال للصدوق مترجم اردو صفحہ نمبر 223)
گیارہویں صدی ہجری کے شیعوں کے جلیل القدر محدث سید نعمت ﷲ الجزائری اپنی معر ف کتاب ” انوار النعمانیة“ میں ذکر کرتے ہیں کہ : انما ولدت له ابنان واربع بنات زینب ورقیة وام کلثوم وفاطمة ۔
ترجمہ : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جن کی پیدائش وہ قاسم، طاہر، ام کلثوم، رقیہ، فاطمہ اور زینب ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی ۔
اس روایت نے مسئلہ ہذا کو مزید واضح کر دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حقیقی بیٹیاں چار ہی تھیں اور چاروں خدیجة الکبری کے بطن سے پیدا ہوئیں اور يہ اس کتاب کا حوالہ ہے جس کے مصنف کا دعوی ہے کہ میں جواب طلب مسئلہ ايک چٹھی پر لکھ کر درخت کی کھوہ میں رکھ دیتا تھا دو دن کے بعد جب جا کر ديکھتا تو اس پر امام غائب (شیعوں کے امام مہدی) کی مہر لگی ہوتی تھی چنانچہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کا اصل نام ”قرب الاسناد الی صاحب الامر“ ہے ۔ (تحفہ اثناعشریہ ص245)
ليجئے اب تو اس مسئلہ پر امام مہدی (جو شیعہ عقائد کے مطابق” روپوش“ ہیں اور قرب قیامت میں ظاہر ہونگے) اس کی مہر لگ گئی ہے نیز اسی کتاب کی اس روایت کو شیعہ مجتہدین نے اپنی اپنی تصا نیف میں بطور تائید نقل کیا ہے مثلاً باقر مجلسی نے حیات القلوب جلد نمبر2 ص718 میں اور عباس القمی نے ”منتھی الآمال جلد نمبر1 ص108 میں اور عبدﷲ مامقانی نے ” تنقیح المقال“ کے آخر میں تائیداً ذکر کیا ہے ۔ اب شیعہ حضرات خود فیصلہ صادر فرمائیں کہ ان کے سابق اکابر حضرات حق پر تھے یا يہ آج کل کے مجلس خوان ذاکر ؟
شیعہ مذہب کی نہایت قابل اعتماد عالم شیخ صدوق ابن بابويہ القمی نے اپنی مايہ ناز کتاب ”کتاب الخصال“ کےا ندر متعدد بار اس مسئلہ کو اٹھایا ہے چنانچہ ايک مقام پر قول نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : رسول خدا کی سات اولاد تھیں
شیعہ مذہب کا نہایت قابل اعتماد عالم شیخ صدوق ابن بابويہ القمی لکھتا ہے : حدثنا أبي ، ومحمد بن الحسن رضي الله عنهما قالا: حدثنا سعد بن – عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله البرقي، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن علي بن – أبي حمزة، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة القاسم والطاهر وهو عبد الله، وأم كلثوم، ورقية، وزينب، وفاطمة. وتزوج علي ابن أبي طالب عليه السلام فاطمة عليها السلام، وتزوج أبو العاص بن الربيع وهو رجل من بني أمية زينب، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم فماتت ولم يدخل بها، فلما ساروا إلى بدر زوجه رسول الله صلى الله عليه وآله رقية. وولد لرسول الله صلى الله عليه وآله إبراهيم من مارية القبطية وهي أم إبراهيم أم ولد ۔ (کتاب الخصال الشيخ الصدوق عربی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 404،چشتی)(مترجم اردو کا صفحہ نمبر 223)
ترجمہ : امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چھ اولاد تھیں قاسم ، طاہر کہ ان کا نام عبدالله تھا ، ام کلثوم ، رقیہ ، زینب اور فاطمہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں لہٰذا جب مسلمانوں نے بدر کی جانب رخ کیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے اس کی شادی کی ۔
یہی شیخ صدوق ابن بابويہ القمی لکھتا ہے : ان خدیجة رحمها ﷲ و لدت منی طاهر وهو عبد ﷲ هو المطهر و ولدت منی القاسم وفاطمة ورقیة وام کلثوم وزینب ۔
ترجمہ : (رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا) ﷲ تعالی خدیجہ پر رحم فرمائے کہ اس کے بطن سے میری اولاد ہوئی طاہر جس کو عبد ﷲ کہتے ہیں اور وہی مطہر ہے اور خدیجہ سے ميرے ہاں قاسم ، فاطمہ، رقیہ، ام کلثوم او زینب پیدا ہوئيں ۔ (کتاب الخصال للصدوق عربی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 405،چشتی)،(کتاب الخصال للصدوق مترجم اردو صفحہ نمبر 223)
گیارہویں صدی ہجری کے شیعوں کے جلیل القدر محدث سید نعمت ﷲ الجزائری اپنی معر ف کتاب ” انوار النعمانیة“ میں ذکر کرتے ہیں کہ : انما ولدت له ابنان واربع بنات زینب ورقیة وام کلثوم وفاطمة ۔
ترجمہ : حضرت خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہاں دو صاحبزداے اور چار صاحبزدایاں پیدا ہوئیں ايک زینب دوسری رقیہ تیسری ام کلثوم اور چوتھے نمبر پر فاطمہ رضی ﷲ تعالی عنھن ۔
يہ نعمت ﷲ الجزائری صاحب وہ ہیں جنہوں نے ”متعے“ کی فضلیت پر بھی بہت کچھ لکھا ہے اس لئے کم ازکم شیعوں کو ” ان صاحب“ کی بات تو ضرور مان لینی چاہيے کیوں کہ انہوں نے ملت شیعہ پر احسان عظیم کیا ہے کہ" متعہ جیسی لذیذ" عبادت پر قلم چلایا ہے ۔
چودہویں صدی کا شیعوں کا مجتہد و محققِ اعظم شیخ عباس قمی لکھتا ہے : ورد في (قرب الاسناد) عن الامام الصادق (علیه السلام) انه ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة: القاسم، والطاهر، وأم كلثوم ، ورقية ، وفاطمة ، وزينب . فتزوج علي عليه السلام فاطمة عليها السلام ، وتزوج أبو العاص بن ربيعة ، وهو من بني أمية ۔ زينب ، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم ولم يدخل بها حتى هلكت ، وزوجه رسول الله صلى الله عليه وآله مكانها رقية ۔ (منتهى الامال في تواريخ النبي والال عليهم السلام الشيخ ، عباس القمي جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 151،چشتی)
ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جن کی پیدائش وہ قاسم ، طاہر ، ام کلثوم ، رقیہ ، فاطمہ اور زینب ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہیں اور آج تک علی التواتر شیعہ مذہب کی ”امہات الکتب“ میں ان چاروں کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ شیعہ مذہب کے ايک اور متبحر عالم اور مجتہد ملا باقر مجلسی اصفہانی اپنی کتاب حیات القلوب میں لکھتے ہیں : پس اول فرزند کہ از برائے او بہم رسید عبد ﷲ بود کہ اور بعبد ﷲ وطیب طاہر ملقب ساختند و بغد از قاسم متولد شدو بعضے گفتہ کہ قاسم ازعبد ﷲ بزرگ توبود چہار دختراز وبرائے حضرت آورد زینب و زقیہ ان کلثوم وفاطمہ ۔ (حیات القلوب ج2ص728طبع لکھنو،چشتی)
ترجمہ : یعنی حضرت خدیجہ رضی ﷲ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہاں پہلے فرزند عبد ﷲ پیدا ہوئے جس کو طیب اور طاہر کے ساتھ بھی ملقب کیا جاتا ہے اور اس کے بعد قاسم متولد ہوئے اوربعض علماء کہتے ہیں قاسم عبد ﷲ سے بڑے تھے اور چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں زینب رقیہ ام کلثوم اور فاطمہ رضی ﷲ تعالی عنہن ۔
واضح ہو گیا کہ ملا باقر مجلسی نے بھی اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے صاف اقرار کیا کہ صاحبزادیاں چار ہی تھیں اور يہ باقرمجلسی وہ ہیں جن کے متعلق خود خمینی نے لکھا کہ ۔ کتاب ہائی فارسی راکہ مرحوم مجلسی برائی مردم پارسی زبان نوشتہ نجوائید ۔ (کشف الاسرار)
ترجمہ : وہ فارسی کتب جو مرحوم باقر مجلسی نے اہل فارس کےلئے لکھی ہیں انہیں پڑھو ۔
شیعہ مذہب کے قدیم مورخ عتمد مؤرخ احمد بن یعقوب بن جعفر جو تیسری صدی ہجری میں گذرا ہے وہ ”تاریخ یعقوبی“ میں لکھتا ہے : ولدت له قبل ان يبعث : القاسم , ورقية , وزينب ,وام كلثوم , وبعد ما بعث : عبد اللّه وهو الطيب والطاهر , لانه ولد في الاسلام وفاطمة ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بعثت سے پہلے قاسم رقیہ زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد عبد اللہ جو طیب اور طاہر بھی کہلاتے تھے اور فاطمہ پیدا ہوئیں ۔ (تأريخ اليعقوبي عربی أحمد بن يعقوب بن وهب جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 340،چشتی)(تأريخ اليعقوبي مترجم اردو أحمد بن يعقوب بن وهب جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 37 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)
ديگر کتابوں کی طرح اس تاریخ یعقوبی کو بھی شیعہ مذہب میں کافی اہمیت حاصل ہے اب ان تمام متعبر کتابوں کے حوالہ جات کے بعد آپ اس نتیجہ پر ضرور پہنچیں گے کہ تمام صاحبزادیوں کا حضرت خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا سے متولدہونا شیعہ و سنی سب کے نزدیک مسلمہ امر ہے مگر آج کے شیعہ اپنی سابقہ کتب کی تکذیب پر ڈٹے ہوئے ہیں اگر شیعہ حضرات سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو کم ازکم اس اس مسئلہ پر تو اختلاف ختم ہو سکتا ہے مگر ان کی ہٹ دھرمی ديکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شیعہ قوم کبھی بھی اس کےلئے تیار نہیں ہوگی ۔ وﷲ یھدی من یشاءالی صراط مستقیم ۔
شیعہ مذہب کے نزدیک حضرت علی المرتضی رضی ﷲ عنہ کے کلام کا مشہور ومستند مجموعہ کتاب ”نہج البلاغہ“ ہے حضرات علماء شیعہ کے نزدیک يہ کتاب انتہائی معتبر ہے اس کتاب میں حضرت علی المرتضی رضی ﷲ عنہ حضرت عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ کو خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ اے عثمان رضی ﷲ عنہ آپ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرف حضرات ابو بکر و عمر رضی ﷲ
يہ نعمت ﷲ الجزائری صاحب وہ ہیں جنہوں نے ”متعے“ کی فضلیت پر بھی بہت کچھ لکھا ہے اس لئے کم ازکم شیعوں کو ” ان صاحب“ کی بات تو ضرور مان لینی چاہيے کیوں کہ انہوں نے ملت شیعہ پر احسان عظیم کیا ہے کہ" متعہ جیسی لذیذ" عبادت پر قلم چلایا ہے ۔
چودہویں صدی کا شیعوں کا مجتہد و محققِ اعظم شیخ عباس قمی لکھتا ہے : ورد في (قرب الاسناد) عن الامام الصادق (علیه السلام) انه ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة: القاسم، والطاهر، وأم كلثوم ، ورقية ، وفاطمة ، وزينب . فتزوج علي عليه السلام فاطمة عليها السلام ، وتزوج أبو العاص بن ربيعة ، وهو من بني أمية ۔ زينب ، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم ولم يدخل بها حتى هلكت ، وزوجه رسول الله صلى الله عليه وآله مكانها رقية ۔ (منتهى الامال في تواريخ النبي والال عليهم السلام الشيخ ، عباس القمي جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 151،چشتی)
ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جن کی پیدائش وہ قاسم ، طاہر ، ام کلثوم ، رقیہ ، فاطمہ اور زینب ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہیں اور آج تک علی التواتر شیعہ مذہب کی ”امہات الکتب“ میں ان چاروں کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ شیعہ مذہب کے ايک اور متبحر عالم اور مجتہد ملا باقر مجلسی اصفہانی اپنی کتاب حیات القلوب میں لکھتے ہیں : پس اول فرزند کہ از برائے او بہم رسید عبد ﷲ بود کہ اور بعبد ﷲ وطیب طاہر ملقب ساختند و بغد از قاسم متولد شدو بعضے گفتہ کہ قاسم ازعبد ﷲ بزرگ توبود چہار دختراز وبرائے حضرت آورد زینب و زقیہ ان کلثوم وفاطمہ ۔ (حیات القلوب ج2ص728طبع لکھنو،چشتی)
ترجمہ : یعنی حضرت خدیجہ رضی ﷲ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہاں پہلے فرزند عبد ﷲ پیدا ہوئے جس کو طیب اور طاہر کے ساتھ بھی ملقب کیا جاتا ہے اور اس کے بعد قاسم متولد ہوئے اوربعض علماء کہتے ہیں قاسم عبد ﷲ سے بڑے تھے اور چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں زینب رقیہ ام کلثوم اور فاطمہ رضی ﷲ تعالی عنہن ۔
واضح ہو گیا کہ ملا باقر مجلسی نے بھی اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے صاف اقرار کیا کہ صاحبزادیاں چار ہی تھیں اور يہ باقرمجلسی وہ ہیں جن کے متعلق خود خمینی نے لکھا کہ ۔ کتاب ہائی فارسی راکہ مرحوم مجلسی برائی مردم پارسی زبان نوشتہ نجوائید ۔ (کشف الاسرار)
ترجمہ : وہ فارسی کتب جو مرحوم باقر مجلسی نے اہل فارس کےلئے لکھی ہیں انہیں پڑھو ۔
شیعہ مذہب کے قدیم مورخ عتمد مؤرخ احمد بن یعقوب بن جعفر جو تیسری صدی ہجری میں گذرا ہے وہ ”تاریخ یعقوبی“ میں لکھتا ہے : ولدت له قبل ان يبعث : القاسم , ورقية , وزينب ,وام كلثوم , وبعد ما بعث : عبد اللّه وهو الطيب والطاهر , لانه ولد في الاسلام وفاطمة ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بعثت سے پہلے قاسم رقیہ زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد عبد اللہ جو طیب اور طاہر بھی کہلاتے تھے اور فاطمہ پیدا ہوئیں ۔ (تأريخ اليعقوبي عربی أحمد بن يعقوب بن وهب جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 340،چشتی)(تأريخ اليعقوبي مترجم اردو أحمد بن يعقوب بن وهب جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 37 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)
ديگر کتابوں کی طرح اس تاریخ یعقوبی کو بھی شیعہ مذہب میں کافی اہمیت حاصل ہے اب ان تمام متعبر کتابوں کے حوالہ جات کے بعد آپ اس نتیجہ پر ضرور پہنچیں گے کہ تمام صاحبزادیوں کا حضرت خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا سے متولدہونا شیعہ و سنی سب کے نزدیک مسلمہ امر ہے مگر آج کے شیعہ اپنی سابقہ کتب کی تکذیب پر ڈٹے ہوئے ہیں اگر شیعہ حضرات سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو کم ازکم اس اس مسئلہ پر تو اختلاف ختم ہو سکتا ہے مگر ان کی ہٹ دھرمی ديکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شیعہ قوم کبھی بھی اس کےلئے تیار نہیں ہوگی ۔ وﷲ یھدی من یشاءالی صراط مستقیم ۔
شیعہ مذہب کے نزدیک حضرت علی المرتضی رضی ﷲ عنہ کے کلام کا مشہور ومستند مجموعہ کتاب ”نہج البلاغہ“ ہے حضرات علماء شیعہ کے نزدیک يہ کتاب انتہائی معتبر ہے اس کتاب میں حضرت علی المرتضی رضی ﷲ عنہ حضرت عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ کو خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ اے عثمان رضی ﷲ عنہ آپ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرف حضرات ابو بکر و عمر رضی ﷲ
عنہما سے قرابت اور رشتہ داری میں زیادہ قریب ہیں اور آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ دامادی کا شرف پایا ہے جس ابو بکرو عمر رضی ﷲ عنہما نہیں پاسکے ۔ ’’نہج البلاغہ“ کی عبارت ملاحظہ ہو ۔" وانت اقرب الی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شیجته رحم منهما وقدنلت من صهره مالم ینا لا الخ " ۔ (نہج البلاغہ ص303جلد1مطبوعہ تہران،چشتی)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ بھی حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حقیقی داماد قرار ديتے تھے وہ دامادی مشہورو معروف ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو صاحبزادیاں يکے بعد دیگرے آپ رضی ﷲ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ ان واضح تائیدات کے باوجود بھی اگر شیعہ تین صاحبزادیو ں کا انکا رکریں تو يہ صرف اور صرف دروغ گوئی اورحضرت علی رضی ﷲ عنہ کے فرمان کی کھلی تکذیب ہے ۔
مشہور شیعہ عالم علی بن عیسیٰ ”ازبلی“ نے ساتوں ہجری میں ايک کتاب لکھی جس کو شیعہ مذيب میں بڑی مقبولیت ملی اس کا نام ”کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ“ اس میں لکھا ہے کہ : وکانت اول امراة تزوجها رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و اولاد كلهم منها الاابراهيم فانه من مارية القبطية ۔ (کشف الغمہ)
ترجمہ : یعنی خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے پہلی زوجہ تھیں جن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شادی کی اور آنجناب کی تمام اولاد (صاحبزادے ، صاحبزادیاں) خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا ہی سے متولد ہوئیں مگر ابراہیم ماریہ قبطیہ رضی ﷲ عنہا سے متولد ہوئے ۔
علماء شیعہ کے معروف عالم شیخ عبد ﷲ مامقانی اپنی مشہور تصنیف ”تنقیح المقال فی احوال الرجال“ رقمطراز ہیں : وولدت له اربع بنات كلهن ادرکن الاسلام وهاجرين وهن زینب وفاطمة ورقية وام کلثوم ۔ (تنقیح المقال ج3ص73طبع لنبان،چشتی)
ترجمہ:یعنی خدیجہ رضی ﷲ عنہا سے آنجناب کی چار صاحبزادیاں پیداہوئیں تمام نے دور اسلام پایا اور مدینہ کی طرف ہجرت بھی کی اور وہ زینب ، فاطمہ ، رقیہ اور ام کلثوم ہیں ۔
شیعوں کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی لکھتا ہے : زوج فاطمة عليها السلام عليا وهو أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه ، وأمها خديجة أم المؤمنين ، وزوج بنتيه رقية وأم كلثوم عثمان ، لما ماتت الثانية ، قال : لو كانت ثالثة لزوجناه إياها ، وتزوج الزبير أسماء بنت أبي بكر ، وهي أخت عايشة ، وتزوج طلحة أختها الأخرى ۔ (کتاب المبسوط الشيخ الطوسي جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 159،چشتی)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کی اور ان کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں اور اپنی دونوں بیٹیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کی جب پہلی کا انتقال ہو گیا اور کہا کے اگر میری تیسری بیٹی بھی ہوتی تو تو میں اس کے نکاح میں دیتا حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور یہ بہن تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی دوسری بہن سے شادی کی ۔
شیعہ مذھب کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی یہ دعاء امام موسی کاظم علیہ السّلام سے منسوب کر کے لکھتا ہے : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْقَاسِمِ وَ الطَّاهِرِ ابْنَيْ نَبِيِّكَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ الْعَنْ مَنْ آذَى نَبِيَّكَ فِيهَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ الْعَنْ مَنْ آذَى نَبِيَّكَ فِيهَا ۔
ترجمہ : اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بیٹے قاسم اور طاہر پر ، اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج رقیہ پر جو تیرے نبی کی بیٹی ہے اور لعنت کر اس پر جس نے اس کے ذریعے تیرے نبی کو اذیت دی ، اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج ام کلثوم پر جو تیرے نبی کی بیٹی ہے اور لعنت کر اس پر جس نے اس کے ذریعے تیرے نبی کو اذیت دی ۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 120،چشتی)
شیخ طوسی اس کو اپنی کتاب تهذيب الأحكام میں لائے ہیں صحیح سند کے ساتھ ۔ تهذيب الأحكام ہماری کتب اربعہ میں سے ایک ہے ۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو بیٹیوں کا ذکر ہو رہا ہے ، رقیہ اور ام کلثوم ، سلام اللہ علیہا ۔
اس کی سند : محمد بن يعقوب عن علي بن إبراهيم عن أبيه عن ابن محبوب عن علي بن رئاب عن عبد صالح عليه السلام قال، ادع بهذا الدعاء في شهر رمضان مستقبل دخول السنة ۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ بھی حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حقیقی داماد قرار ديتے تھے وہ دامادی مشہورو معروف ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو صاحبزادیاں يکے بعد دیگرے آپ رضی ﷲ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ ان واضح تائیدات کے باوجود بھی اگر شیعہ تین صاحبزادیو ں کا انکا رکریں تو يہ صرف اور صرف دروغ گوئی اورحضرت علی رضی ﷲ عنہ کے فرمان کی کھلی تکذیب ہے ۔
مشہور شیعہ عالم علی بن عیسیٰ ”ازبلی“ نے ساتوں ہجری میں ايک کتاب لکھی جس کو شیعہ مذيب میں بڑی مقبولیت ملی اس کا نام ”کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ“ اس میں لکھا ہے کہ : وکانت اول امراة تزوجها رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و اولاد كلهم منها الاابراهيم فانه من مارية القبطية ۔ (کشف الغمہ)
ترجمہ : یعنی خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے پہلی زوجہ تھیں جن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شادی کی اور آنجناب کی تمام اولاد (صاحبزادے ، صاحبزادیاں) خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا ہی سے متولد ہوئیں مگر ابراہیم ماریہ قبطیہ رضی ﷲ عنہا سے متولد ہوئے ۔
علماء شیعہ کے معروف عالم شیخ عبد ﷲ مامقانی اپنی مشہور تصنیف ”تنقیح المقال فی احوال الرجال“ رقمطراز ہیں : وولدت له اربع بنات كلهن ادرکن الاسلام وهاجرين وهن زینب وفاطمة ورقية وام کلثوم ۔ (تنقیح المقال ج3ص73طبع لنبان،چشتی)
ترجمہ:یعنی خدیجہ رضی ﷲ عنہا سے آنجناب کی چار صاحبزادیاں پیداہوئیں تمام نے دور اسلام پایا اور مدینہ کی طرف ہجرت بھی کی اور وہ زینب ، فاطمہ ، رقیہ اور ام کلثوم ہیں ۔
شیعوں کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی لکھتا ہے : زوج فاطمة عليها السلام عليا وهو أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه ، وأمها خديجة أم المؤمنين ، وزوج بنتيه رقية وأم كلثوم عثمان ، لما ماتت الثانية ، قال : لو كانت ثالثة لزوجناه إياها ، وتزوج الزبير أسماء بنت أبي بكر ، وهي أخت عايشة ، وتزوج طلحة أختها الأخرى ۔ (کتاب المبسوط الشيخ الطوسي جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 159،چشتی)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کی اور ان کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں اور اپنی دونوں بیٹیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کی جب پہلی کا انتقال ہو گیا اور کہا کے اگر میری تیسری بیٹی بھی ہوتی تو تو میں اس کے نکاح میں دیتا حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور یہ بہن تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی دوسری بہن سے شادی کی ۔
شیعہ مذھب کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی یہ دعاء امام موسی کاظم علیہ السّلام سے منسوب کر کے لکھتا ہے : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْقَاسِمِ وَ الطَّاهِرِ ابْنَيْ نَبِيِّكَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ الْعَنْ مَنْ آذَى نَبِيَّكَ فِيهَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ الْعَنْ مَنْ آذَى نَبِيَّكَ فِيهَا ۔
ترجمہ : اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بیٹے قاسم اور طاہر پر ، اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج رقیہ پر جو تیرے نبی کی بیٹی ہے اور لعنت کر اس پر جس نے اس کے ذریعے تیرے نبی کو اذیت دی ، اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج ام کلثوم پر جو تیرے نبی کی بیٹی ہے اور لعنت کر اس پر جس نے اس کے ذریعے تیرے نبی کو اذیت دی ۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 120،چشتی)
شیخ طوسی اس کو اپنی کتاب تهذيب الأحكام میں لائے ہیں صحیح سند کے ساتھ ۔ تهذيب الأحكام ہماری کتب اربعہ میں سے ایک ہے ۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو بیٹیوں کا ذکر ہو رہا ہے ، رقیہ اور ام کلثوم ، سلام اللہ علیہا ۔
اس کی سند : محمد بن يعقوب عن علي بن إبراهيم عن أبيه عن ابن محبوب عن علي بن رئاب عن عبد صالح عليه السلام قال، ادع بهذا الدعاء في شهر رمضان مستقبل دخول السنة ۔
ترجمہ : محمد بن یعقوب ، جنہوں نے روایت کی علی بن ابراہیم سے اور انہوں نے اپنے والد سے ، ان کے والد نے محبوب سے اور انہوں نے علی بن رئاب سے ، جنہوں نے عبد صالح (امام موسى الكاظم) عليه السلام سے روایت کی جنہوں نے فرمایا کہ اس دعاء سے الله جلّ جلالہ کو پکارو آئندہ جب بھی نیا سال آئے ۔۔۔ پھر دعاء تعلیم فرمائی جس کا کچھ حصہ اوپر نقل کیا ہے ۔ سند کے تمام راوی معتبر ہیں ، علامہ مجلسی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے ۔
أحمد بن محمد عن ابن أبي عمير عن حماد عن الحلبي عن أبي عبد الله عليه السلام ان أباه حدثه ان امامة بنت أبي العاص بن الربيع وأمها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وآله فتزوجها بعد علي عليه السلام ۔
ترجمہ : احمد بن محمد، جنہوں نے روایت کی ابن ابی عامر سے اور انہوں نے حماد سے جنہوں نے حلبی سے اور انہوں نے امام الصادق ععلیہ السّلام سے جنہوں نے فرمایا کہ ان کے والد (امام الباقر علیہ السّلام) نے ان سے بیان کیا تھا امامہ بنت ابی عاص بن ربیع جن کی والدہ زینب بنت رسول الله جلّ جلالہ تھیں نے علی علیہ السّلام کے بعد شادی کی ۔۔۔ الخ ۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیّدہ زینب سلام اللہ علیہا بھی رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی تھیں ۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 258،چشتی)
شیعہ مذھب کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی یہ روایت بھی لکھتا ہے : وَ إِنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ النَّبِيِّ ص تُوُفِّيَتْ وَ إِنَّ فَاطِمَةَ ع خَرَجَتْ فِي نِسَائِهَا فَصَلَّتْ عَلَى أُخْتِهَا ۔
ترجمہ : زینب بنت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وفات ہوئی تو فاطمہ علیہا السّلام اپنی عورتوں کے ساتھ نکلیں اور اپنی بہن پر نماز پڑھی ۔ اس کی بھی سند معتبر ہے۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 333)
شیعوں کا محققِ و مجتہدِ اعظم ملاّں باقر مجلسی لکھتا ہے : معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اولاد جو ہوئی اُن کے نام یہ ہیں ، طاہر و قاسم ، فاطمہ ، ام کلثوم ، رقیہ اور زینب رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔ (حیات القلوب مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 869،چشتی) ، (حیات القلوب فارسی جلد دوم صفحہ 559 ملا باقر مجلسی)
شیعوں کا علاّمہ ملاّں باقر مجلسی لکھتا ہے : ولدت خدیجة له صلی اللہ علیه وسلم زینب و رقیة و ام کلثوم و فاطمة القاسم وبه کان یکنی والاطاھر والطیب ۔ (مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول العلامة المجلسي جلد نمبر5 صفحہ نمبر 181،چشتی)
ترجمہ : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بچوں میں زینب ، رقیہ ، ام کلثوم ، فاطمہ ، طاہر، اور قاسم (رضی اللہ عنہم) پیدا ہوئے ۔
مشہور شیعہ عالم و محقق محمد کاظم قزوینی لکھتا ہے : بنات اربع : زینب و ام کلثوم و رقیة و فاطمة الزھراء ۔ بنات اربع : زینب و ام کلثوم و رقیة و فاطمة الزھراء
وھناک اختلاف بین المورخین والمحدثین حول بنتین الاولین فقیل انھما لیستا من بنات النبي والصحیح انھما من بناته وصلبه وسیاتي الکلام حول ذالک في المستقبل بالمناسبة باذن اللہ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار بیٹیاں ہیں ، زینب ، ام کلثوم ، رقیہ و فاطمۃ الزہرا (رضی اللہ عنہن) ۔ (کتاب فاطمة الزهراء عليها السلام من المهد الى اللحد كاظم القزويني الصفحة ٣١)
محترم قارئینِ کرام : یہ چند حوالہ جات ہم نے شیعہ کتب سے پیش کیئے ہیں جو دور حاضر کے روافض کی غلط بیانی کی پول کو کھولتے ہیں اورہدایت کے متلاشی کےلیے دلیلِ کافی ہیں ۔
(مزید حصّہ دوازدہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_45.html?m=1
أحمد بن محمد عن ابن أبي عمير عن حماد عن الحلبي عن أبي عبد الله عليه السلام ان أباه حدثه ان امامة بنت أبي العاص بن الربيع وأمها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وآله فتزوجها بعد علي عليه السلام ۔
ترجمہ : احمد بن محمد، جنہوں نے روایت کی ابن ابی عامر سے اور انہوں نے حماد سے جنہوں نے حلبی سے اور انہوں نے امام الصادق ععلیہ السّلام سے جنہوں نے فرمایا کہ ان کے والد (امام الباقر علیہ السّلام) نے ان سے بیان کیا تھا امامہ بنت ابی عاص بن ربیع جن کی والدہ زینب بنت رسول الله جلّ جلالہ تھیں نے علی علیہ السّلام کے بعد شادی کی ۔۔۔ الخ ۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیّدہ زینب سلام اللہ علیہا بھی رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی تھیں ۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 258،چشتی)
شیعہ مذھب کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی یہ روایت بھی لکھتا ہے : وَ إِنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ النَّبِيِّ ص تُوُفِّيَتْ وَ إِنَّ فَاطِمَةَ ع خَرَجَتْ فِي نِسَائِهَا فَصَلَّتْ عَلَى أُخْتِهَا ۔
ترجمہ : زینب بنت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وفات ہوئی تو فاطمہ علیہا السّلام اپنی عورتوں کے ساتھ نکلیں اور اپنی بہن پر نماز پڑھی ۔ اس کی بھی سند معتبر ہے۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 333)
شیعوں کا محققِ و مجتہدِ اعظم ملاّں باقر مجلسی لکھتا ہے : معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اولاد جو ہوئی اُن کے نام یہ ہیں ، طاہر و قاسم ، فاطمہ ، ام کلثوم ، رقیہ اور زینب رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔ (حیات القلوب مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 869،چشتی) ، (حیات القلوب فارسی جلد دوم صفحہ 559 ملا باقر مجلسی)
شیعوں کا علاّمہ ملاّں باقر مجلسی لکھتا ہے : ولدت خدیجة له صلی اللہ علیه وسلم زینب و رقیة و ام کلثوم و فاطمة القاسم وبه کان یکنی والاطاھر والطیب ۔ (مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول العلامة المجلسي جلد نمبر5 صفحہ نمبر 181،چشتی)
ترجمہ : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بچوں میں زینب ، رقیہ ، ام کلثوم ، فاطمہ ، طاہر، اور قاسم (رضی اللہ عنہم) پیدا ہوئے ۔
مشہور شیعہ عالم و محقق محمد کاظم قزوینی لکھتا ہے : بنات اربع : زینب و ام کلثوم و رقیة و فاطمة الزھراء ۔ بنات اربع : زینب و ام کلثوم و رقیة و فاطمة الزھراء
وھناک اختلاف بین المورخین والمحدثین حول بنتین الاولین فقیل انھما لیستا من بنات النبي والصحیح انھما من بناته وصلبه وسیاتي الکلام حول ذالک في المستقبل بالمناسبة باذن اللہ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار بیٹیاں ہیں ، زینب ، ام کلثوم ، رقیہ و فاطمۃ الزہرا (رضی اللہ عنہن) ۔ (کتاب فاطمة الزهراء عليها السلام من المهد الى اللحد كاظم القزويني الصفحة ٣١)
محترم قارئینِ کرام : یہ چند حوالہ جات ہم نے شیعہ کتب سے پیش کیئے ہیں جو دور حاضر کے روافض کی غلط بیانی کی پول کو کھولتے ہیں اورہدایت کے متلاشی کےلیے دلیلِ کافی ہیں ۔
(مزید حصّہ دوازدہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_45.html?m=1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ⓬
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_75.html?m=1
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دوازدہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مسئلہ باغ فدک اور حدیث بخاری کا صحیح مفہوم شیعہ کتب کی روشنی میں محترم قارئینِ کرام : امام بخاری رحمة اللہ علیہ صحیح بخاری میں حدیث پیش کرتے ہیں : حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا هشام أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السلام أتيا أبا بکر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلی الله عليه وسلم وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدک وسهمهما من خيبر فقال لهما أبو بکر سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول لا نورث ما ترکنا صدقة إنما يأکل آل محمد من هذا المال قال أبو بکر والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته قال فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت ۔(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1645 ،- فرائض کی تعلیم کا بیان )
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رسول اللہ کے (ترکہ میں سے) اپنے میراث مانگنے آئے اور وہ دونوں اس وقت فدک کی زمین اور خیبر کی زمین سے اپنا حصہ وصول کر رہے تھے تو ان دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے صرف اس مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھائیں گے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کو نہیں چھوڑتا ہوں چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے گفتگو چھوڑ دی یہاں تک کہ وفات پاگئیں ۔
منکرین حدیث اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو ماننےسے انکار کیوں کیا ؟ اور ساتھ ہی یہ اعتراض بھی نقل کرتے ہیں کہ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شان پر بھی چوٹ پڑتی ہے ۔ کیونکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مرتے دم تک ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اور نہ ہی ملاقات کی ۔
جواب : دراصل یہاں صرف اور صرف مغالطوں سے کام لینے کی کوشش کی جارہی ہے،کیونکہ اگر تمام طرق احادیث اسی مسئلہ پر جمع کیے جائیں تو یہ سارے اعتراضات کا لعدم ہوجاتے ہیں۔رہی بات اس مسئلے کی کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ حدیث مانے سے انکار کیوں کیا ؟ تو اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک یہ حدیث نہ پہنچی تھی یا اس وقت ان کے ذہن میں نہ تھی، تب تو انہوں نے وراثت مانگی لیکن جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کبھی بھی وراثت کا سوال نہیں کیا۔اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں موجود ہے کہ انہوں نے حدیث سننے کے بعد حدیث کی مخالفت کی ہو۔لہذا یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماں رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل طور پر عاملہ تھیں۔
جن احادیث میں یہ ذکر ہو ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا نے کبھی بھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگواس امر پر محمل ہے کہ وراثت کے مسئلے کے لیے گفتگو نہ فرمائی لیکن ملاقات ترک نہ کی اور نہ اس کی کوئی واضح دلیل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : فھجرتہ فاطمۃ فلم تکلمہ حتیٰ ماتت} ووقع عندبن شبۃ من وجہ اٰخر عن معمر(فلمہ تکلمہ فی ذالک المال}فتح الباری ،ج 6 ،ص164)
ترجمہ : حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ترک کی اور مرتے دم تک ان سے گفتگو نہ کی}معمر سے بطریق یہ روایت ہے کہ {جس روایت میں یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگو نہ کی اس سے مراد یہ ہے کہ} فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے وراثت کے مال کے بارے میں گفتگو نہ کی۔
یعنی وراثت کے مسئلے پر گفتگو نہ کی لہذا اگر کوئی ان باتوں سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطلق ناراضگی مرادلے گا تو یہ غلط ہے۔کیونکہ دوسری روایت اس بات پر شاہد ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو بھی فرمائی اور ان سے ملاقات بھی کی ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_75.html?m=1
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دوازدہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مسئلہ باغ فدک اور حدیث بخاری کا صحیح مفہوم شیعہ کتب کی روشنی میں محترم قارئینِ کرام : امام بخاری رحمة اللہ علیہ صحیح بخاری میں حدیث پیش کرتے ہیں : حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا هشام أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السلام أتيا أبا بکر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلی الله عليه وسلم وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدک وسهمهما من خيبر فقال لهما أبو بکر سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول لا نورث ما ترکنا صدقة إنما يأکل آل محمد من هذا المال قال أبو بکر والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته قال فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت ۔(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1645 ،- فرائض کی تعلیم کا بیان )
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رسول اللہ کے (ترکہ میں سے) اپنے میراث مانگنے آئے اور وہ دونوں اس وقت فدک کی زمین اور خیبر کی زمین سے اپنا حصہ وصول کر رہے تھے تو ان دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے صرف اس مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھائیں گے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کو نہیں چھوڑتا ہوں چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے گفتگو چھوڑ دی یہاں تک کہ وفات پاگئیں ۔
منکرین حدیث اس حدیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو ماننےسے انکار کیوں کیا ؟ اور ساتھ ہی یہ اعتراض بھی نقل کرتے ہیں کہ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شان پر بھی چوٹ پڑتی ہے ۔ کیونکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مرتے دم تک ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اور نہ ہی ملاقات کی ۔
جواب : دراصل یہاں صرف اور صرف مغالطوں سے کام لینے کی کوشش کی جارہی ہے،کیونکہ اگر تمام طرق احادیث اسی مسئلہ پر جمع کیے جائیں تو یہ سارے اعتراضات کا لعدم ہوجاتے ہیں۔رہی بات اس مسئلے کی کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ حدیث مانے سے انکار کیوں کیا ؟ تو اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک یہ حدیث نہ پہنچی تھی یا اس وقت ان کے ذہن میں نہ تھی، تب تو انہوں نے وراثت مانگی لیکن جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کبھی بھی وراثت کا سوال نہیں کیا۔اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں موجود ہے کہ انہوں نے حدیث سننے کے بعد حدیث کی مخالفت کی ہو۔لہذا یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماں رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل طور پر عاملہ تھیں۔
جن احادیث میں یہ ذکر ہو ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا نے کبھی بھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگواس امر پر محمل ہے کہ وراثت کے مسئلے کے لیے گفتگو نہ فرمائی لیکن ملاقات ترک نہ کی اور نہ اس کی کوئی واضح دلیل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : فھجرتہ فاطمۃ فلم تکلمہ حتیٰ ماتت} ووقع عندبن شبۃ من وجہ اٰخر عن معمر(فلمہ تکلمہ فی ذالک المال}فتح الباری ،ج 6 ،ص164)
ترجمہ : حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ترک کی اور مرتے دم تک ان سے گفتگو نہ کی}معمر سے بطریق یہ روایت ہے کہ {جس روایت میں یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے گفتگو نہ کی اس سے مراد یہ ہے کہ} فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے وراثت کے مال کے بارے میں گفتگو نہ کی۔
یعنی وراثت کے مسئلے پر گفتگو نہ کی لہذا اگر کوئی ان باتوں سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطلق ناراضگی مرادلے گا تو یہ غلط ہے۔کیونکہ دوسری روایت اس بات پر شاہد ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو بھی فرمائی اور ان سے ملاقات بھی کی ۔
👍1