اپنے لئے الگ خلیفہ اور امیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے۔ اس لئے اس بغاوت کو دبانے لئے عمر ، فاطمہ کے گھر گئے جب علی اور زبیر گھر پر نہیں تھے۔ کنز العمال میں یہ درج ہے کہ عمر نے فاطمہ کوکہا کہ ’’ اے دخترِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم، تمام لوگوں میں سے کوئی مجھے آپ کے باپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور اس کے بعد آپ سے زیادہ پیارا کوئی نہیں ۔ میرے پاس یہ بری خبر آئی ہے کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہوئے ہیں اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کررہے ہیں ۔ اگر ان لوگوں کو روکا نہیں گیا تو خدا کی قسم میں ان کے گھر جلادوں گا ۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت عمر لوٹ آئے اور جب علی اور زبیر گھر واپس آئے تو فاطمہ نے ان لوگوں سے یہ کہا ’’ کیا آپ کو پتہ ہے کہ عمر یہاں آئے تھے اور مجھ سے ایک عہد لیا کہ اگر تم لوگوں نے ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کی تو تم لوگوں کے گھر جلادیں گے ؟ خدا کی قس م! عمر اپنے عہد کو پورا کریں گے ۔ اس لئے میرے گھر سے اس ارادے سے چلے جائے کہ اپنے ارادے اور خیالات کو ملتوی کردیں اور دوبارہ میرے گھر اس ارادے سے نہیں آئیں ۔‘‘ علی اور زبیر گھر چھوڑ کر آگئے اور دوبارہ وہاں جمع نہیں ہوئے جب تک انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہ کرلی ۔ (کنز العمال ج 5، ص 651،چشتی)
کنز العمال کی اس روایت کے ذریعے کچھ نکات واضح اور صاف ظاہرہوتے ہیں :
جب عمر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی اور حضرت زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین گھر پر نہیں تھے۔اس لئے عمر کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور کوئی جھگڑا ہوا۔
(1) عمر رضی اللہ عنہ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت عزت کے ساتھ پیش آئے انکو یہ بھی بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا انکے بچوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔
(2) عمر نے فاطمہ کو کسی طور پر دھمکایا نہیں تھا۔
(3) جب عمر نے فاطمہ کا گھر چھوڑا، تو فاطمہ اور انکا گھر بالکل صحیح سالم تھا۔انکو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔بعد میں جب علی رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو فاطمہ نے یہ شکایت نہیں کی کہ عمر نے ان سے بدتمیزی کی۔ بجائے اسکے فاطمہ نے انکو مستقبل میں اپنے گھر میں عمر کی کی مخالفت اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے سے روکا تھا۔
(4) علی رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کے ہاتھوں بغیر کسی مجبوری اور دباؤ کے بیعت کرلی تھی۔
یہ الزام حضرت عمر پر لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ کا گھر کا دروازہ توڑا اور علی اور فاطمہ کے پاس ایک غیر مہذبانہ انداز میں گئے، ان کے اس عمل کے نتیجے میں فاطمہ کا حمل ساقط ہوگیا ، یہ تمام الزام ایک جھوٹ اور من گھڑت ہے ۔ حقیقت میں یہ الزام دراصل حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی توہین کرتا ہے اور اسلام کا مذاق اڑاتا ہے ۔ کیا حضرت علی اتنے بزدل تھے کہ نہ اپنے گھر کو بچا سکے اور نہ ہی اپنی بیوی کا انتقام لے سکے ؟ جب حضرت علی خلیفہ بن گئے تو کیوں نہیں انہوں نے حضرت عمر کے خاندان سے اپنے مقتول بچے کا خون بہا لیا ؟ وہ لوگ جنہوں نے یہ روایات گھڑیں ہیں دراصل اسلام کے دشمن تھے ۔ ان لوگوں نے کفار کے سامنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اسطرح گمراہ تصویر کشی کی ہے کہ نعوذ باللہ وہ خلافت کے حصول کے پیاسے تھے ، ان کا کوئی قانونی سسٹم نہیں تھا ، طاقتور کمزو ر کا دبایا کرتا تھا ، سچ بولنا جرم تھا، ظالم کو سزا نہیں ملتی تھی، حکام کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، جیسے منافق لوگ ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے دلوں میں اپنے حکمرانوں کے لئے برائی چھپی ہوتی ہے۔ استغفر اللہ۔ کیا آپ کا دل یہ الزامات اور خرافات قبول کرے گا ؟ کیا کبار صحابہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ؟ کیا یہ صحابہ اس قابل نہیں تھے کہ انہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں جیسے قیصر اور کسریٰ جیسوں بغیر سروسامانی کے کو تباہ و برباد کردیا تھا؟ کیا اللہ تعالی ظالموں کی مدد کرتا ہے ؟
یہ دعویٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا اسقاط ہوگیا تھا، ایک من گھڑت قصہ ہے ۔ یہ ایک مصدقہ تاریخی کتاب، البدایہ و النہایہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی میں ، حضرت فاطمہ نے ایک تیسرے بچے جس کا نام محسن تھا، جنم دیا تھا اور یہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تھا۔ اسی وجہ سے زیادہ تر تاریخ نویسوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صرف دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر نے ان لوگوں کے خلاف ایک سخت رویہ کیوں اختیار کیا جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہونے کے بعد مخالفت کی، اسکا سبب یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا تھا: ’’ خلیفہ ہونے کے بعد کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا، جب اسکو مسلمانوں نے مقرر کرلیا ہو۔ پس جو اسکا دعویٰ کرے اسکو قتل کردو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔(صحیح مسلم)
کنز العمال کی اس روایت کے ذریعے کچھ نکات واضح اور صاف ظاہرہوتے ہیں :
جب عمر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی اور حضرت زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین گھر پر نہیں تھے۔اس لئے عمر کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور کوئی جھگڑا ہوا۔
(1) عمر رضی اللہ عنہ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت عزت کے ساتھ پیش آئے انکو یہ بھی بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا انکے بچوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔
(2) عمر نے فاطمہ کو کسی طور پر دھمکایا نہیں تھا۔
(3) جب عمر نے فاطمہ کا گھر چھوڑا، تو فاطمہ اور انکا گھر بالکل صحیح سالم تھا۔انکو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔بعد میں جب علی رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو فاطمہ نے یہ شکایت نہیں کی کہ عمر نے ان سے بدتمیزی کی۔ بجائے اسکے فاطمہ نے انکو مستقبل میں اپنے گھر میں عمر کی کی مخالفت اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے سے روکا تھا۔
(4) علی رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کے ہاتھوں بغیر کسی مجبوری اور دباؤ کے بیعت کرلی تھی۔
یہ الزام حضرت عمر پر لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ کا گھر کا دروازہ توڑا اور علی اور فاطمہ کے پاس ایک غیر مہذبانہ انداز میں گئے، ان کے اس عمل کے نتیجے میں فاطمہ کا حمل ساقط ہوگیا ، یہ تمام الزام ایک جھوٹ اور من گھڑت ہے ۔ حقیقت میں یہ الزام دراصل حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی توہین کرتا ہے اور اسلام کا مذاق اڑاتا ہے ۔ کیا حضرت علی اتنے بزدل تھے کہ نہ اپنے گھر کو بچا سکے اور نہ ہی اپنی بیوی کا انتقام لے سکے ؟ جب حضرت علی خلیفہ بن گئے تو کیوں نہیں انہوں نے حضرت عمر کے خاندان سے اپنے مقتول بچے کا خون بہا لیا ؟ وہ لوگ جنہوں نے یہ روایات گھڑیں ہیں دراصل اسلام کے دشمن تھے ۔ ان لوگوں نے کفار کے سامنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اسطرح گمراہ تصویر کشی کی ہے کہ نعوذ باللہ وہ خلافت کے حصول کے پیاسے تھے ، ان کا کوئی قانونی سسٹم نہیں تھا ، طاقتور کمزو ر کا دبایا کرتا تھا ، سچ بولنا جرم تھا، ظالم کو سزا نہیں ملتی تھی، حکام کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، جیسے منافق لوگ ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے دلوں میں اپنے حکمرانوں کے لئے برائی چھپی ہوتی ہے۔ استغفر اللہ۔ کیا آپ کا دل یہ الزامات اور خرافات قبول کرے گا ؟ کیا کبار صحابہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ؟ کیا یہ صحابہ اس قابل نہیں تھے کہ انہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں جیسے قیصر اور کسریٰ جیسوں بغیر سروسامانی کے کو تباہ و برباد کردیا تھا؟ کیا اللہ تعالی ظالموں کی مدد کرتا ہے ؟
یہ دعویٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا اسقاط ہوگیا تھا، ایک من گھڑت قصہ ہے ۔ یہ ایک مصدقہ تاریخی کتاب، البدایہ و النہایہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی میں ، حضرت فاطمہ نے ایک تیسرے بچے جس کا نام محسن تھا، جنم دیا تھا اور یہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تھا۔ اسی وجہ سے زیادہ تر تاریخ نویسوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صرف دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر نے ان لوگوں کے خلاف ایک سخت رویہ کیوں اختیار کیا جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہونے کے بعد مخالفت کی، اسکا سبب یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا تھا: ’’ خلیفہ ہونے کے بعد کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا، جب اسکو مسلمانوں نے مقرر کرلیا ہو۔ پس جو اسکا دعویٰ کرے اسکو قتل کردو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔(صحیح مسلم)
👍1
جب عام بیعت ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ میں خلیفہ بننا نہیں چاہتا تھا، نہ ہی اسکو خواہش کی تھی۔ اگر آپ لوگ اس نے خوش نہ ہوں ، تو میں معزول ہوجاتا ہوں اور آپ کسی اور کو خلیفہ بنالینا۔‘‘ مہاجرین کی اکثریت، خصوصا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسکا انکار کیا اور کہا ’’ نہیں، آپ (ابوبکر) اس امر کے بنسبت کسی اور کے زیادہ مستحق ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے نماز جیسے اہم امور میں آپ کو آگے کیا، تو اب ہم آپ کو کیسے پیچھے ہٹائیں؟‘‘ جب علی اور زبیر سے پوچھا گیا کہ آپ نے شروع میں بیعت کیوں نہیں کی؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ اسکا سبب ہم نے اس معاملے میں مشورہ کیا تھا۔ شیعہ کتاب ’’ احتجاج طبرسی‘‘ کی ایک روایت ہے کہ علی نے ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کی اور ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ علی نے اس بات کا اپنی خلافت میں اعلان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خلیفہ مقرر کرنے کی اور ہمیں اسکی بیعت کرنے کی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ اگر میں نے بیعت کی ہوتی تو میں کبھی ابوبکر کو رسول اللہ کے منبر پر چڑھنے کی اجازت نہ دیتا، لیکن ابوبکر خلافت کے اہل تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کو آگے بڑھایا، انکے ساتھ کام کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ہم نے عمر اور عثمان کی معاونت کی۔
کوئی اس بات پر غور کرسکتا ہے کہ اگر علی رضی اللہ عنہ نے بیعت لی ہوتی تو وہ اسکو اپنی خلافت میں ضرور بتاتے، جب انکو حکومتی سطح سے کسی کی تنبیہ یا دھمکی کا خطرہ نہ ہوتا۔ اگر ابوبکر یا عمر نے ان پر ظلم کیا ہوتا تو اس کو وہ ضرور بتاتے ، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ہم نے کافی تفضٰیل کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ کوئی بھی اس کو مصدقہ مان سکتا ہے کیونکہ یہ اسلام اور صحابہ کی نیچر کے مطابق ہے۔ وہ روایات جو صحابہ اور اسلام کی غلط تعبیریں کرتی ہیں انکو قبول نہ کیا جانا چاہیے کیونکہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتے ہوئے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں ، انہوں نے ان جھوٹی روایات کو گھڑا ہے اور اسطرح انکو پھیلایا ہے کہ مسلمانوں میں ناانتفاقی پھیل جائے اور گروہ درگروہ تقسیم ہوکر آپس میں خون بہانے لگیں۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہر بات سچی اور مصدقہ نہیں ہوتی اور اس پر شیعوں سے لڑنا نہیں چاہیے، اس کے برعکس ہمیں ایک عملی مسلمان ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ آپ کو صحابہ کا ذکر ہمیشہ ادب و احترام سے کرنا چاہیے اور ان کے لئے نفرت اور کسی اور صحابی کے لئے انکی برائی نہیں رکھنا چاہیے، نیز تمام صحابہ کے لئے محبت کی تلقین کرنا چاہئے ۔ ان سے محبت کرنا ہمارے ایمان کی نشانی ہے اور ان کی مخالفت کرنا نفاق کی نشانی ہے۔
اگر کوئی شیعہ آپ کو مستقل تنگ کرے تو اس سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ بزدل تھے یا بہادر تھے ؟
اگر وہ بہادر تھے توانہوں نے سچائی کیوں چھپائی ؟
کس چیز نے انکو سچائی چھپانے سے اپنی خلافت میں روکا ؟
اگر تمہارے (شیعہ) عقیدے میں کسی کو خلافت اور حکومتی معاملات میں وصیت ملے اور وہ ان کو کھل کر نہ کہہ سکے ، تو تم اس کو کیسا پاؤ گے؟
اس کی یہ وصیت کہاں ہے اور کس کتاب میں ملے گی ؟
اس کو تم کسی معیاری مصدقہ ذرائع سے ثابت کیوں نہیں کرپارہے ؟
یہ مضمون فقیر نے درج ذیل کتب سے تیار کیا ہے تفصیل کےلیے ان کتب کا مطالعہ فرمائیں : (صحیح البخاری ج 2، ص 1009، 1072)(فتح الباری ج 12، ص 145، حدیث نمبر 6830، ج 13، ص 208، حدیث نمبر 7219،)(مسند احمد بن حنبل ، ج 1، ص 55، حدیث 133، ص 121، حدیث 391)(کنز الاعمال ج 5، ص 635- 637، حدیث نمبر 14131 - 14156)(رشد الانف ، شرح سیرہ ابن ہاشم ج 4، ص 260)(البدایہ و النہایہ ج 5، ص 245-252 ج 6، ص 301-331)(الکامل فی التاریخ ابن اثیر ج 2ص 189،194) ۔
(مزید حصّہ ہشتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
کوئی اس بات پر غور کرسکتا ہے کہ اگر علی رضی اللہ عنہ نے بیعت لی ہوتی تو وہ اسکو اپنی خلافت میں ضرور بتاتے، جب انکو حکومتی سطح سے کسی کی تنبیہ یا دھمکی کا خطرہ نہ ہوتا۔ اگر ابوبکر یا عمر نے ان پر ظلم کیا ہوتا تو اس کو وہ ضرور بتاتے ، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ہم نے کافی تفضٰیل کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ کوئی بھی اس کو مصدقہ مان سکتا ہے کیونکہ یہ اسلام اور صحابہ کی نیچر کے مطابق ہے۔ وہ روایات جو صحابہ اور اسلام کی غلط تعبیریں کرتی ہیں انکو قبول نہ کیا جانا چاہیے کیونکہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتے ہوئے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں ، انہوں نے ان جھوٹی روایات کو گھڑا ہے اور اسطرح انکو پھیلایا ہے کہ مسلمانوں میں ناانتفاقی پھیل جائے اور گروہ درگروہ تقسیم ہوکر آپس میں خون بہانے لگیں۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہر بات سچی اور مصدقہ نہیں ہوتی اور اس پر شیعوں سے لڑنا نہیں چاہیے، اس کے برعکس ہمیں ایک عملی مسلمان ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ آپ کو صحابہ کا ذکر ہمیشہ ادب و احترام سے کرنا چاہیے اور ان کے لئے نفرت اور کسی اور صحابی کے لئے انکی برائی نہیں رکھنا چاہیے، نیز تمام صحابہ کے لئے محبت کی تلقین کرنا چاہئے ۔ ان سے محبت کرنا ہمارے ایمان کی نشانی ہے اور ان کی مخالفت کرنا نفاق کی نشانی ہے۔
اگر کوئی شیعہ آپ کو مستقل تنگ کرے تو اس سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ بزدل تھے یا بہادر تھے ؟
اگر وہ بہادر تھے توانہوں نے سچائی کیوں چھپائی ؟
کس چیز نے انکو سچائی چھپانے سے اپنی خلافت میں روکا ؟
اگر تمہارے (شیعہ) عقیدے میں کسی کو خلافت اور حکومتی معاملات میں وصیت ملے اور وہ ان کو کھل کر نہ کہہ سکے ، تو تم اس کو کیسا پاؤ گے؟
اس کی یہ وصیت کہاں ہے اور کس کتاب میں ملے گی ؟
اس کو تم کسی معیاری مصدقہ ذرائع سے ثابت کیوں نہیں کرپارہے ؟
یہ مضمون فقیر نے درج ذیل کتب سے تیار کیا ہے تفصیل کےلیے ان کتب کا مطالعہ فرمائیں : (صحیح البخاری ج 2، ص 1009، 1072)(فتح الباری ج 12، ص 145، حدیث نمبر 6830، ج 13، ص 208، حدیث نمبر 7219،)(مسند احمد بن حنبل ، ج 1، ص 55، حدیث 133، ص 121، حدیث 391)(کنز الاعمال ج 5، ص 635- 637، حدیث نمبر 14131 - 14156)(رشد الانف ، شرح سیرہ ابن ہاشم ج 4، ص 260)(البدایہ و النہایہ ج 5، ص 245-252 ج 6، ص 301-331)(الکامل فی التاریخ ابن اثیر ج 2ص 189،194) ۔
(مزید حصّہ ہشتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❽
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_40.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ ہشتم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا وصال مبارک اور جنازہ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھایا
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے وصال مبارک کے متعلق شیعہ رافضی و نیم رافضی انتہائی گھٹیا و بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ پھیلاتے ہیں کہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو شہید کیا گیا اور سوائے سات لوگوں کے کوئی بھی جنازہ میں زریک نہ ہوا استغفر اللہ العظیم رافضی ایسی گھٹیا قوم ہے کہ جھوٹی من گھڑت کہانیاں بناتے وقت انہیں اتنی بھی شرم و حیاء نہیں آتی کہ اُن کے اِس گھناؤنے کردار و عمل سے کِن کِن مقدس ہستیوں کی توہین ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ اِن بے شرم و بے حیاء لوگوں کے شر سے اُمتِ مسلمہ کو بچائے آمین آیئے حقائق پڑھتے ہیں :
نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے چھ ماہ بعد حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔ پھر تین رمضان المبارک 11ھجری میں منگل کی شب ان کا انتقال ہوا ۔ اس وقت ان کی عمر مبارک علماء نے اٹھائیس یا انتیس 28 یا 29 برس ذکر کی ہے ۔ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے سن وفات اور ان کی عمر کی تعیین میں سیرت نگاہوں نے متعدد اقوال لکھے ہيں ہم نے یہاں مشہور قول کے مطابق تاریخ انتقال اور مدت عمر درج کی ہے ۔ (البدایہ والنھایہ ج6ص334۔ تحت حالات 11ھ)،(وفاءالوفاء للسمھودی ج3ص905۔ تحت عنوان قبر فاطمہ بن رسول ﷲ)
عن عبد اللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فاطمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لما حضرتہا الوفاۃ امرت علیا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فوضع لہا غسلا فاغتسلت و تطہرت ودعت ثیاب اکفانہا فلبستہا ومست من الحنوط ثم امرت علیا ان لا تکشف اذا قضت وان تدرج کما ہی فی ثیا بہا ، قال : فقلت لہ: ہل علمت احدا فعل ذلک ؟ قال: نعم، کثیر بن عباس ، وکتب فی اطراف اکفانہ ، شہد کثیر بن عباس ، ان لا الہ الا اللہ ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن محمد بن عقیل بن طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے انتقال کے قریب امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اپنے غسل کے لئے پانی رکھوایا پھر نہائیں اور کفن منگا کر پہنا اور حنوط کی خوشبو لگائی ، پھر حضرت مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو وصیت فرمائی کہ میرے انتقال کے بعد کوئی مجھے نہ کھولے اور اسی کفن میں دفنا دی جائیں ۔ میں نے پوچھا کسی اور نے بھی ایسا کیا ہے ؟ کہا : ہاں ، حضرت کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ۔ اور انہوں نے اپنے کفن کے کناروں پر لکھا تھا کثیر بن عباس گواہی دیتا ہے ، لا الہ الا اللہ ۔ (المصنف لعبد الرزاق کتاب الجنائز۳/۴۱۱،چشتی)
نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ میں اس مرض میں وفات پاجاوٴں گا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا رونے لگیں، پھر آپ نے ان سے فرمایا کہ میرے اہل میں سب سے پہلے (عالم برزخ میں) آکر تم مجھ سے ملوگی تو وہ ہنسنے لگیں بعض ازواجِ مطہرات (اور غالباً حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا) نے رونے اور ہنسنے کا سبب معلوم فرمایا تو حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے دونوں باتیں بتائیں ۔ (مشکاة ص: ۵۴۹، باب وفاة النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
اس حدیث شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے جلد وفات ہونے کی پیشین گوئی فرمائی تھی اور اس سے خوش ہوکر حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا ہنسنے لگی تھیں اگر کسی درجہ میں شیعہ صاحبان کو ذمہ داری کسی کے سر تھونپنی ہی تھی تو نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو ذمہ دار ٹھیراتے بلکہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اس پیشین گوئی سے خوش ہوئیں تو وہ خود ہی اپنی وفات کی ذمہ دار ٹھہریں ورنہ بجائے خوش ہونے کے ان کو چأہیے تھا کہ اس پیشین گوئی سے ناخوش ہوکر اس کو رد فرمادیتیں ، اسی طرح حضراتِ شیخین (حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما) سے متعلق یہ وصیت فرمانا کہ ان کو جنازہ میں شریک نہ کیا جائے ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا پر تہمت ہے ، حقیقت یہ ہے کہ حضرت سیدہ کے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہٴ مطہرہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے تیمار داری کے خصوصی فرائض انجام دیئے ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے یہ وصیت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_40.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ ہشتم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا وصال مبارک اور جنازہ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھایا
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے وصال مبارک کے متعلق شیعہ رافضی و نیم رافضی انتہائی گھٹیا و بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ پھیلاتے ہیں کہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو شہید کیا گیا اور سوائے سات لوگوں کے کوئی بھی جنازہ میں زریک نہ ہوا استغفر اللہ العظیم رافضی ایسی گھٹیا قوم ہے کہ جھوٹی من گھڑت کہانیاں بناتے وقت انہیں اتنی بھی شرم و حیاء نہیں آتی کہ اُن کے اِس گھناؤنے کردار و عمل سے کِن کِن مقدس ہستیوں کی توہین ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ اِن بے شرم و بے حیاء لوگوں کے شر سے اُمتِ مسلمہ کو بچائے آمین آیئے حقائق پڑھتے ہیں :
نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے چھ ماہ بعد حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔ پھر تین رمضان المبارک 11ھجری میں منگل کی شب ان کا انتقال ہوا ۔ اس وقت ان کی عمر مبارک علماء نے اٹھائیس یا انتیس 28 یا 29 برس ذکر کی ہے ۔ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے سن وفات اور ان کی عمر کی تعیین میں سیرت نگاہوں نے متعدد اقوال لکھے ہيں ہم نے یہاں مشہور قول کے مطابق تاریخ انتقال اور مدت عمر درج کی ہے ۔ (البدایہ والنھایہ ج6ص334۔ تحت حالات 11ھ)،(وفاءالوفاء للسمھودی ج3ص905۔ تحت عنوان قبر فاطمہ بن رسول ﷲ)
عن عبد اللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فاطمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لما حضرتہا الوفاۃ امرت علیا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فوضع لہا غسلا فاغتسلت و تطہرت ودعت ثیاب اکفانہا فلبستہا ومست من الحنوط ثم امرت علیا ان لا تکشف اذا قضت وان تدرج کما ہی فی ثیا بہا ، قال : فقلت لہ: ہل علمت احدا فعل ذلک ؟ قال: نعم، کثیر بن عباس ، وکتب فی اطراف اکفانہ ، شہد کثیر بن عباس ، ان لا الہ الا اللہ ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن محمد بن عقیل بن طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے انتقال کے قریب امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اپنے غسل کے لئے پانی رکھوایا پھر نہائیں اور کفن منگا کر پہنا اور حنوط کی خوشبو لگائی ، پھر حضرت مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو وصیت فرمائی کہ میرے انتقال کے بعد کوئی مجھے نہ کھولے اور اسی کفن میں دفنا دی جائیں ۔ میں نے پوچھا کسی اور نے بھی ایسا کیا ہے ؟ کہا : ہاں ، حضرت کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ۔ اور انہوں نے اپنے کفن کے کناروں پر لکھا تھا کثیر بن عباس گواہی دیتا ہے ، لا الہ الا اللہ ۔ (المصنف لعبد الرزاق کتاب الجنائز۳/۴۱۱،چشتی)
نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ میں اس مرض میں وفات پاجاوٴں گا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا رونے لگیں، پھر آپ نے ان سے فرمایا کہ میرے اہل میں سب سے پہلے (عالم برزخ میں) آکر تم مجھ سے ملوگی تو وہ ہنسنے لگیں بعض ازواجِ مطہرات (اور غالباً حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا) نے رونے اور ہنسنے کا سبب معلوم فرمایا تو حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے دونوں باتیں بتائیں ۔ (مشکاة ص: ۵۴۹، باب وفاة النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
اس حدیث شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے جلد وفات ہونے کی پیشین گوئی فرمائی تھی اور اس سے خوش ہوکر حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا ہنسنے لگی تھیں اگر کسی درجہ میں شیعہ صاحبان کو ذمہ داری کسی کے سر تھونپنی ہی تھی تو نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو ذمہ دار ٹھیراتے بلکہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اس پیشین گوئی سے خوش ہوئیں تو وہ خود ہی اپنی وفات کی ذمہ دار ٹھہریں ورنہ بجائے خوش ہونے کے ان کو چأہیے تھا کہ اس پیشین گوئی سے ناخوش ہوکر اس کو رد فرمادیتیں ، اسی طرح حضراتِ شیخین (حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما) سے متعلق یہ وصیت فرمانا کہ ان کو جنازہ میں شریک نہ کیا جائے ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا پر تہمت ہے ، حقیقت یہ ہے کہ حضرت سیدہ کے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہٴ مطہرہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے تیمار داری کے خصوصی فرائض انجام دیئے ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے یہ وصیت
👍1
فرمائی تھی کہ میری وفات کے بعد مجھ کو غسل حضرت اسماء دیں گی ، چنانچہ وصیت کے مطابق انھوں نے غسل دیا ، ان جیسے امور سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بلکہ ان کا گھرانہ آلِ رسول رضی اللہ عنہم کے گھرانہ کے ساتھ دکھ درد میں شریک ایک دوسرے سے بہت قریب اور باہم شیر وشکر تھے اور یہی اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ فاضلہ تمام صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کے تھے جو قرآنِ کریم احادیث مبارکہ اور صحیح تاریخ سے ثابت ہیں ، اس کے برخلاف چیزیں جھوٹے راویوں کی روایتیں اور اہل باطل کے گھڑے ہوئے قصے کہانیاں ، نرے افسانہ کے قبیل سے اور بالکل غیر معتبر ہیں یا پھر مأوّل ہیں ۔
الغرض جب حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال ہوگیا اور وصیت کے مطابق غسل و کفن دلاکر جنازہ تیار ہوگیا تو حضراتِ صحابہٴ کرام بشمول حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ عنہما بھی جنازہ میں شریک ہوئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے نماز پڑھانے کی درخواست کی اور کہا کہ چلئے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائیے حضرت شیر خدا مولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا میں آگے نہیں بڑھ سکتا ، آپ ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں ما کنت لأتقدم وأنت خلیفة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتقدم أبوبکر وصلّی علیہا ۔ (کنز العمال: ج۶ ص۳۶۶،چشتی)
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا جنازہ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھایا
محترم قارئینِ کرام : جمہور علماء اہلسنت کا موقف ہے اور مستند ترین کتابوں میں یہ موجود ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا جنازہ خلیفہ بلا فصل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظاہری و باطنی اور روحانی خلیفہ و جانشین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے اور اسی پر اکثر امت مسلمہ کا اتفاق ہے ۔ شیعہ روافض کے مذھب کی بنیاد تقیہ یعنی جھوٹ پر ہے اگر یہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں تو ان کا خود ساختہ مذھب خود بخود دفن ہو جائے گا انہیں جھوٹوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں اور حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں پڑھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جنازہ میں شرکت نہیں کی ۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین آئیے اس جھوٹ کا جواب مستند دلائل کی روشنی میں پڑھتے ہیں :
عن حماد عن ابراھیم النخعی قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فکبر اربعا ۔
ترجمہ : حضرت ابرھیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں ۔ (طبقات ابن سعد جلد ثامن صفحہ ١٩ تذکرہ فاطمہ مطبوعہ لیدن یورپ،چشتی)
عن مجاھد عن الشعبی قال صلی علیھا ابوبکر رضی اللہ عنہ وعنہا ۔
ترجمہ : حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھایا ۔ (طبقات ابن سعد جلد ٨ صفحہ ١٩تذکر ہ فاطمہ طبع لیدن یورپ)
تیسری روایت امام بہیقی رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی سند کے ساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ : حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حدثنا عون بن سلام حدثنا سوار بن مصعب عن مجالدعن الشعبی ان فاطمۃ اماماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا ۔ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
ترجمہ : یعنی جب حضرت سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنھما نے ان کو رات میں ہی دفن کردیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کردیا ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی مو الجواھر النقی جلد٤ صفحہ ٢٩کتاب الجنائز،چشتی)
حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے : عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا
ترجمہ : امام جعفر صادق امام محمد باقر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائیے تو علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ خیفۃ رسول ہیں آپ کی موجودگی میں ٫٫میں ،، آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا ۔ (کنزالعمال (خط فی رواۃ مالک) جلد ٦ صفحہ ٣١٨ طبع قدیم روایت ٥٢٩٩باب فضائل
الغرض جب حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال ہوگیا اور وصیت کے مطابق غسل و کفن دلاکر جنازہ تیار ہوگیا تو حضراتِ صحابہٴ کرام بشمول حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ عنہما بھی جنازہ میں شریک ہوئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے نماز پڑھانے کی درخواست کی اور کہا کہ چلئے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائیے حضرت شیر خدا مولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا میں آگے نہیں بڑھ سکتا ، آپ ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں ما کنت لأتقدم وأنت خلیفة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتقدم أبوبکر وصلّی علیہا ۔ (کنز العمال: ج۶ ص۳۶۶،چشتی)
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا جنازہ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھایا
محترم قارئینِ کرام : جمہور علماء اہلسنت کا موقف ہے اور مستند ترین کتابوں میں یہ موجود ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا جنازہ خلیفہ بلا فصل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظاہری و باطنی اور روحانی خلیفہ و جانشین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے اور اسی پر اکثر امت مسلمہ کا اتفاق ہے ۔ شیعہ روافض کے مذھب کی بنیاد تقیہ یعنی جھوٹ پر ہے اگر یہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں تو ان کا خود ساختہ مذھب خود بخود دفن ہو جائے گا انہیں جھوٹوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں اور حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں پڑھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جنازہ میں شرکت نہیں کی ۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین آئیے اس جھوٹ کا جواب مستند دلائل کی روشنی میں پڑھتے ہیں :
عن حماد عن ابراھیم النخعی قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فکبر اربعا ۔
ترجمہ : حضرت ابرھیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں ۔ (طبقات ابن سعد جلد ثامن صفحہ ١٩ تذکرہ فاطمہ مطبوعہ لیدن یورپ،چشتی)
عن مجاھد عن الشعبی قال صلی علیھا ابوبکر رضی اللہ عنہ وعنہا ۔
ترجمہ : حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھایا ۔ (طبقات ابن سعد جلد ٨ صفحہ ١٩تذکر ہ فاطمہ طبع لیدن یورپ)
تیسری روایت امام بہیقی رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی سند کے ساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ : حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حدثنا عون بن سلام حدثنا سوار بن مصعب عن مجالدعن الشعبی ان فاطمۃ اماماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا ۔ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
ترجمہ : یعنی جب حضرت سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنھما نے ان کو رات میں ہی دفن کردیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کردیا ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی مو الجواھر النقی جلد٤ صفحہ ٢٩کتاب الجنائز،چشتی)
حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے : عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا
ترجمہ : امام جعفر صادق امام محمد باقر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائیے تو علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ خیفۃ رسول ہیں آپ کی موجودگی میں ٫٫میں ،، آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا ۔ (کنزالعمال (خط فی رواۃ مالک) جلد ٦ صفحہ ٣١٨ طبع قدیم روایت ٥٢٩٩باب فضائل
الصحابہ ۔ فصل الصدیق مسندات علی،چشتی)
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے : عن مالک عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن جدہ علی ابن حسین قال ماتت فاطمہ بین المغرب والعشاء فحضرھا ابوبکر و عمر وعثمان والزبیر وعبدالرحمان ابن عوف فلما وضعت لیصلیٰ علیھا قال علی تقدم یا ابابکر قال وانت شاھد یا اباالحسن؟قال نعم !فواللہ لا یصلی علیھا غیرک فصلٰی علیھا ابوبکر(رضوان اللہ علیہم اجمعین) ودفنت لیلا ۔
ترجمہ : جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیںکہ مغرب و عشاء کے درمیان حضرت فاطمۃالزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابوبکر و عمر وعثمان وزبیر وعبدالرحمان بن عوف حضرات رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائیے اللہ کی قسم آپ کے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نمازجنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں ۔ (ریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ مبشرہلمحب الطبری جلد١صفحہ ١٥٦باب وفات فاطمہ)
حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے تحفہ اثنا عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر 14 آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہو ئے ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے : در فصل الخطاب آوردہ کہ ابوبکر صدیق و عثمان وعبدالرحمانابن عوف و زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم وقت نماز عشاء حاضر شدندو رحلت حضرت فاطمہ درمیان مغرب و عشاء شب سہ شنبہ سوم ماہ رمضان ١١ھبعد ازششماہ از واقعہ سرور جہاں بوقوع آمدہبودوستین عمرش بست و ہشت بود وابوبکر بموجب گفتہ علی المرتضٰی پیش امام شدونماز بروئے گزاشتو چہار تکبیر بر آورد ۔
ترجمہ : فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابو بکرصدیق و عثمان و عبدالرحمان بن عوف وزبیر بن عوام تمام حضرات رضی اللہ عنہم عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال مبارک ہوا اسوقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی عمر 28 سال تھی علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق ابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ نماز جنازہ کے لیئے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی ۔(تحفہ اثنا عشریہ مطاعن صدیقی طعن نمبر ١٤ صفحہ ٤٤٥ طبع نول کشور لکھنوی،چشتی)
امام حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جنازہ کی روایت کی ہے : عن میمون بن مھران عن ابن عباس النبی اتی بجنازۃ فصلٰی علیھا اربعا وقال کیرت الملائکۃ علیٰ ادم اربع تکبیرات و کبرابوبکر علیٰ فاطمہ اربعا وکبر عمر علیٰ ابی بکر اربعا وکبر صہیب علیٰ عمر اربعا ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما مزید فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیریں کہیں اور عمر نے ابوبکر اور صہیب نے عمر رضی اللہ عنہم پر چار تکبیریں کہیں تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانہ جلد نمبر٤ صفحہ ٩٦ تذکرہ میمون بن مھران)
کتاب بزل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ (عربی) مؤلفہ علامہ مخدوم ہاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء مترجم (مفتی علیم الدین ) کے صفحہ نمبر 606 پر حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپ کا جنازہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ۔ (سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر 606 کا حاشیہ نمبر 1)
تاریخ ابن کثیر البدایہ و النھایہ از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیردمشقی اردوترجمہ حصہ ششم صفحہ نمبر 443 پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی
حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے متعلق بھی روایات موجود ہیں ۔ (تاریخ ابن کثیر اردو ترجمہ البدیہ والنھایہ از امام ابن کثیر حصہ ششم صفحہ نمبر ٤٤٣،چشتی)
مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دھلوی ( مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین علیہما الرحمہ) کے صفحہ نمبر 544 پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے : عن مالک عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن جدہ علی ابن حسین قال ماتت فاطمہ بین المغرب والعشاء فحضرھا ابوبکر و عمر وعثمان والزبیر وعبدالرحمان ابن عوف فلما وضعت لیصلیٰ علیھا قال علی تقدم یا ابابکر قال وانت شاھد یا اباالحسن؟قال نعم !فواللہ لا یصلی علیھا غیرک فصلٰی علیھا ابوبکر(رضوان اللہ علیہم اجمعین) ودفنت لیلا ۔
ترجمہ : جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیںکہ مغرب و عشاء کے درمیان حضرت فاطمۃالزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابوبکر و عمر وعثمان وزبیر وعبدالرحمان بن عوف حضرات رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائیے اللہ کی قسم آپ کے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نمازجنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں ۔ (ریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ مبشرہلمحب الطبری جلد١صفحہ ١٥٦باب وفات فاطمہ)
حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے تحفہ اثنا عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر 14 آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہو ئے ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے : در فصل الخطاب آوردہ کہ ابوبکر صدیق و عثمان وعبدالرحمانابن عوف و زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم وقت نماز عشاء حاضر شدندو رحلت حضرت فاطمہ درمیان مغرب و عشاء شب سہ شنبہ سوم ماہ رمضان ١١ھبعد ازششماہ از واقعہ سرور جہاں بوقوع آمدہبودوستین عمرش بست و ہشت بود وابوبکر بموجب گفتہ علی المرتضٰی پیش امام شدونماز بروئے گزاشتو چہار تکبیر بر آورد ۔
ترجمہ : فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابو بکرصدیق و عثمان و عبدالرحمان بن عوف وزبیر بن عوام تمام حضرات رضی اللہ عنہم عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال مبارک ہوا اسوقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی عمر 28 سال تھی علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق ابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ نماز جنازہ کے لیئے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی ۔(تحفہ اثنا عشریہ مطاعن صدیقی طعن نمبر ١٤ صفحہ ٤٤٥ طبع نول کشور لکھنوی،چشتی)
امام حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جنازہ کی روایت کی ہے : عن میمون بن مھران عن ابن عباس النبی اتی بجنازۃ فصلٰی علیھا اربعا وقال کیرت الملائکۃ علیٰ ادم اربع تکبیرات و کبرابوبکر علیٰ فاطمہ اربعا وکبر عمر علیٰ ابی بکر اربعا وکبر صہیب علیٰ عمر اربعا ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما مزید فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیریں کہیں اور عمر نے ابوبکر اور صہیب نے عمر رضی اللہ عنہم پر چار تکبیریں کہیں تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانہ جلد نمبر٤ صفحہ ٩٦ تذکرہ میمون بن مھران)
کتاب بزل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ (عربی) مؤلفہ علامہ مخدوم ہاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء مترجم (مفتی علیم الدین ) کے صفحہ نمبر 606 پر حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپ کا جنازہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ۔ (سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر 606 کا حاشیہ نمبر 1)
تاریخ ابن کثیر البدایہ و النھایہ از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیردمشقی اردوترجمہ حصہ ششم صفحہ نمبر 443 پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی
حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے متعلق بھی روایات موجود ہیں ۔ (تاریخ ابن کثیر اردو ترجمہ البدیہ والنھایہ از امام ابن کثیر حصہ ششم صفحہ نمبر ٤٤٣،چشتی)
مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دھلوی ( مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین علیہما الرحمہ) کے صفحہ نمبر 544 پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر
بن العوام (رضی اللہ عنہم) بھی آئے ۔ (مدارج النبوت از شیخ عبدالحق محدث دہلوی جلد دوم صفحہ ٥٤٤ مطبوعہ ضیاء القرآن)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرتِ فاطِمۃ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ حضرت ابو بکر صِدِّیق رضی اللہ عنہما نے پڑھائی ۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب الموت، باب فی اشیاء قبل الدفن، ج۸، الجزء الخامس عشر، ص۳۰۳، الحدیث:۴۲۸۵۶)
حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ عنہ نے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بِنتِ رسولُ اللہ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں ۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب الموت، باب فی اشیاء قبل الدفن، ج۸، الجزء الخامس عشر، ص۲۹۹، الحدیث :۴۲۸۱۶،چشتی)
حکیم الا مت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحیح یہ ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رضی اللہ عنہما نے آپ کا جنازہ پڑھایا ۔ (مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الفضائل،باب مناقب اھل بیت النبی، ج۸، ص۴۵۶)
حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شمولیت
امام جرح و تعدیل امام ذہبی رحمة اللہ علیہ امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ”سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا وصال رات کو ہوا تو صدیق اکبر و عمر عثمان اور طلحہ رضی اللہ عنہم سب وہاں پہنچ گئے ۔ (لسان المیزان جلد پنجم صفحہ ۲۴۰ رقم ۸۴۰)
حضر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نماز جنازہ میں چار تکبریں کہنے کے دلائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی تو فرشتوں نے ان پر چار تکبریں پڑھی تھیں اور جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تو چار تکبریں کہیں ۔ (البدایہ والنھایہ جلد اول صفحہ ۹۸،چشتی)
امام ابن جوزی رحمة اللہ علیہ امام شیبانی رحمة اللہ علیہ اور امام ابراہیم انخعی رحمة اللہ علیہ کی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ
“اس پر اتفاق ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ۔ (المنتظم جلد چہارم صفحہ ۹۶)
امام محب طبری رحمة اللہ علیہ نے الریاض النضرۃ جلد دوم صفحہ ۹۶ پر آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی مکمل سند کے ساتھ روایت لکھی کہ : امام مالک رحمة اللہ علیہ نے حضرت جعفر الصادق سے انہوں نے حضرت امام محمد الباقر سے اور انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ جب جنازہ کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی چار پائی لائی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کہا آئیں اور آپ جنازہ پڑھائیں تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ موجود ھیں آپ پڑھائیں مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا (واللہ) خدا کی قسم آپ کے سوا کوئی جنازہ نہیں پڑھاے گا ۔
امام مقدسی رحمة اللہ علیہ (ذخیرہ الحفاظ جلد دوم صفحہ ۱۱۷۲ رقم ۲۴۹۳) پر آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی سند کے ساتھ جو ہم نے الریاض النضرۃ کے حوالے سے امام مالک رحمة اللہ علیہ کے واسطہ سے لکھی ہے جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بطور دلیل بناتے ہوے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں آگے نہیں آؤں گا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ ہیں (یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ) آپ جنازہ کی امامت کریں۔۔ اور آپ نے چار تکبریں کہیں تھیں ۔
کنزالعمال جلد ۱۲ صفحہ ۲۳۱ رقم ۳۵۶۷۷ پر امام مدینہ امام مالک رحمة اللہ علیہ کہ واسطہ سے روایت ہے کہ امام جعفر الصادق نے امام الباقر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہو گیا تو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم وہاں پہنچ گئے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا آپ جنازہ پڑھائیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم میں آگے نہیں بڑھوں گا آپ اللہ کے خلیفہ ہیں آپ جنازہ پڑھائیں ۔
اسلامی تاریخ کے نامور مورخ امام ابن سعد الطبقات الکبری جلد ۸ صفحہ ۲۹ پر امام ابراہیم النخعی علیہما الرحمہ سے جنازہ میں چار تکبریں پڑھنے پر بطور دلیل روایت کرتے ہیں کہ : سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبریں کہیں ۔ اسی طرح امام شعبی کا قول لکھتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھایا ۔
الطبقات الکبری میں ایک قول جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی امامت سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہے ۔ اسی طرح ابن جوزی رحمة اللہ علیہ نے تلقیح فھوم اھل اثر جلد میں اول صفحہ ۳۱ پر تین قول نقل کیے ھیں جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی امامت پر اول قول : سیدنا علی رضی اللہ عنہ ۔ دوم : سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ۔ سوم : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ۔ مگر امام ابراہیم انخعی رحمة اللہ علیہ نے ان اختلافات روایات پر جو موقف دیا ہے وہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرتِ فاطِمۃ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ حضرت ابو بکر صِدِّیق رضی اللہ عنہما نے پڑھائی ۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب الموت، باب فی اشیاء قبل الدفن، ج۸، الجزء الخامس عشر، ص۳۰۳، الحدیث:۴۲۸۵۶)
حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ عنہ نے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بِنتِ رسولُ اللہ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں ۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، کتاب الموت، باب فی اشیاء قبل الدفن، ج۸، الجزء الخامس عشر، ص۲۹۹، الحدیث :۴۲۸۱۶،چشتی)
حکیم الا مت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحیح یہ ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رضی اللہ عنہما نے آپ کا جنازہ پڑھایا ۔ (مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الفضائل،باب مناقب اھل بیت النبی، ج۸، ص۴۵۶)
حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شمولیت
امام جرح و تعدیل امام ذہبی رحمة اللہ علیہ امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ”سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا وصال رات کو ہوا تو صدیق اکبر و عمر عثمان اور طلحہ رضی اللہ عنہم سب وہاں پہنچ گئے ۔ (لسان المیزان جلد پنجم صفحہ ۲۴۰ رقم ۸۴۰)
حضر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نماز جنازہ میں چار تکبریں کہنے کے دلائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی تو فرشتوں نے ان پر چار تکبریں پڑھی تھیں اور جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تو چار تکبریں کہیں ۔ (البدایہ والنھایہ جلد اول صفحہ ۹۸،چشتی)
امام ابن جوزی رحمة اللہ علیہ امام شیبانی رحمة اللہ علیہ اور امام ابراہیم انخعی رحمة اللہ علیہ کی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ
“اس پر اتفاق ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ۔ (المنتظم جلد چہارم صفحہ ۹۶)
امام محب طبری رحمة اللہ علیہ نے الریاض النضرۃ جلد دوم صفحہ ۹۶ پر آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی مکمل سند کے ساتھ روایت لکھی کہ : امام مالک رحمة اللہ علیہ نے حضرت جعفر الصادق سے انہوں نے حضرت امام محمد الباقر سے اور انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ جب جنازہ کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی چار پائی لائی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کہا آئیں اور آپ جنازہ پڑھائیں تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ موجود ھیں آپ پڑھائیں مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا (واللہ) خدا کی قسم آپ کے سوا کوئی جنازہ نہیں پڑھاے گا ۔
امام مقدسی رحمة اللہ علیہ (ذخیرہ الحفاظ جلد دوم صفحہ ۱۱۷۲ رقم ۲۴۹۳) پر آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی سند کے ساتھ جو ہم نے الریاض النضرۃ کے حوالے سے امام مالک رحمة اللہ علیہ کے واسطہ سے لکھی ہے جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بطور دلیل بناتے ہوے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں آگے نہیں آؤں گا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ ہیں (یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ) آپ جنازہ کی امامت کریں۔۔ اور آپ نے چار تکبریں کہیں تھیں ۔
کنزالعمال جلد ۱۲ صفحہ ۲۳۱ رقم ۳۵۶۷۷ پر امام مدینہ امام مالک رحمة اللہ علیہ کہ واسطہ سے روایت ہے کہ امام جعفر الصادق نے امام الباقر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہو گیا تو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم وہاں پہنچ گئے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا آپ جنازہ پڑھائیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم میں آگے نہیں بڑھوں گا آپ اللہ کے خلیفہ ہیں آپ جنازہ پڑھائیں ۔
اسلامی تاریخ کے نامور مورخ امام ابن سعد الطبقات الکبری جلد ۸ صفحہ ۲۹ پر امام ابراہیم النخعی علیہما الرحمہ سے جنازہ میں چار تکبریں پڑھنے پر بطور دلیل روایت کرتے ہیں کہ : سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبریں کہیں ۔ اسی طرح امام شعبی کا قول لکھتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھایا ۔
الطبقات الکبری میں ایک قول جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی امامت سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہے ۔ اسی طرح ابن جوزی رحمة اللہ علیہ نے تلقیح فھوم اھل اثر جلد میں اول صفحہ ۳۱ پر تین قول نقل کیے ھیں جنازہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی امامت پر اول قول : سیدنا علی رضی اللہ عنہ ۔ دوم : سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ۔ سوم : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ۔ مگر امام ابراہیم انخعی رحمة اللہ علیہ نے ان اختلافات روایات پر جو موقف دیا ہے وہ
اُوپر بیان ہو چُکا ہے المنتظم کے حوالے سے اور اسی پر ہمارا اہلسنّت کا اعتماد اور نظریہ ہے ۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ راجح قول یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تھی ۔ ( کشف الباری، کتاب المغازی،ج:۸ ؍ ۴۶۳)
اب اتنے کثیر دلائل اور ثبوت کے بعد بھی مخالفین یہ کہیں کہ اہلسنت کی کتب سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےخصوصاً سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شرکت نہیں کی اور نہ شیر خدا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اطلاع دی تو ہم یہی کہیں گے کہ دل بہلانے کےلیے خیال اچھا ہے ۔ اور پھر بردران اہلسنّت یہ بھی تاریخی ثبوت ہے ۔ شیعہ سُنی تاریخ میں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو غُسل زوجہ صدیق اکبر حضرتِ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے دیا ۔ اب یہ کیسا مزاق ہے شیعہ کی طرف سے کہ زوجہ صدیق تو غسل میں شامل ہوں اور یہی زوجہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ اپنے سرتاج سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو وفات فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خبر بھی نہ دیں ۔
محترم قارئینِ کرام : مذکورہ بالا روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃالرسول جانشین سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم امام المسلمین والمومنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خدا حضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپ کو مصلٰی امامت پر کھڑا کیا اور خود ان کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی ۔ اس نماز جنازہ سے فقہ کے اس مسئلہ کی طرف بھی راہنمائی ملتی ہے کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار حاکم وقت ہے اگر وہ حاضر نہ ہو تو قاضی اور وہ بھی حاضر نہ ہو تو محلے کا امام امامت کرانے کا زیادہ حقدار ہے یہاں جن روایات میں حضرت علی و عباس رضی اللہ عنہما کی روایات میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بھی شامل کیا گیا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ کہ حاکم وقت کی موجودگی میں باقی افراد امامت کے اہل نہیں اور اسوقت کیونکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ موجود تھے اس لئیے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ والی روایات کو ترجیح دی جائے گی ۔ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
اور رہا یہ مسئلہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض تھیں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کی خلافت کے حق میں نہیں تھے یا آپ رضی اللہ عنہ مجبور تھے یہ ساری باتیں ان روایات سے باطل ہو جاتی ہیں کہ نماز جنازہ کے سلسلے میں تو آپ رضی اللہ عنہ مجبور نہیں تھے بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اسوقت ان کو اختیار تھا کہ آپ چاہتے تو خود امامت کرا سکتے تھے لیکن انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اور یہ کہ ان کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھ کر ان تمام خدشات اور نظریات اور اقوال کو باطل کردیا کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کو خلیفہ برحق نہیں مانتے تھے آپ مجبورا ان کی خلافت کو مانتے تھے یا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے معاذ اللہ ناراض تھیں اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ کرنے کا کہا تھا اوقر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کو رات کو دفن کر دیا یہ ساری باتیں لوگوں کی خرافات ہیں اور یہ باتیں ان لوگوں کے درمیان اختلافات کو ظاہر کر کے اپنے گھٹیا مقاصد حاصل کرنے اور لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان روایات کی روشنی میں خلفائے راشدین اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے اور اپنا عقیدہ اہلسنت و جماعت کے مروجہ قواعد و ضوابط اور نظریات کے مطابق رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔
اور رہا یہ مسئلہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض تھیں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کی خلافت کے حق میں نہیں تھے یا آپ رضی اللہ عنہ مجبور تھے یہ ساری باتیں ان روایات سے باطل ہو جاتی ہیں کہ نماز جنازہ کے سلسلے میں تو آپ رضی اللہ عنہ مجبور نہیں تھے بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اسوقت ان کو اختیار تھا کہ آپ چاہتے تو خود امامت کرا سکتے تھے لیکن انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اور یہ کہ ان کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھ کر ان تمام خدشات اور نظریات اور اقوال کو باطل کردیا کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کو خلیفہ برحق نہیں مانتے تھے آپ مجبورا ان کی خلافت کو مانتے تھے یا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے معاذ اللہ ناراض تھیں اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ کرنے کا کہا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کو رات کو دفن کر دیا یہ ساری باتیں لوگوں کی خرافات ہیں اور یہ باتیں ان لوگوں کے درمیان اختلافات کو ظاہر کر کے اپنے گھٹیا مقاصد حاصل کرنے
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ راجح قول یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تھی ۔ ( کشف الباری، کتاب المغازی،ج:۸ ؍ ۴۶۳)
اب اتنے کثیر دلائل اور ثبوت کے بعد بھی مخالفین یہ کہیں کہ اہلسنت کی کتب سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےخصوصاً سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شرکت نہیں کی اور نہ شیر خدا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اطلاع دی تو ہم یہی کہیں گے کہ دل بہلانے کےلیے خیال اچھا ہے ۔ اور پھر بردران اہلسنّت یہ بھی تاریخی ثبوت ہے ۔ شیعہ سُنی تاریخ میں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو غُسل زوجہ صدیق اکبر حضرتِ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے دیا ۔ اب یہ کیسا مزاق ہے شیعہ کی طرف سے کہ زوجہ صدیق تو غسل میں شامل ہوں اور یہی زوجہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ اپنے سرتاج سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو وفات فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خبر بھی نہ دیں ۔
محترم قارئینِ کرام : مذکورہ بالا روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃالرسول جانشین سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم امام المسلمین والمومنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خدا حضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپ کو مصلٰی امامت پر کھڑا کیا اور خود ان کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی ۔ اس نماز جنازہ سے فقہ کے اس مسئلہ کی طرف بھی راہنمائی ملتی ہے کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار حاکم وقت ہے اگر وہ حاضر نہ ہو تو قاضی اور وہ بھی حاضر نہ ہو تو محلے کا امام امامت کرانے کا زیادہ حقدار ہے یہاں جن روایات میں حضرت علی و عباس رضی اللہ عنہما کی روایات میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بھی شامل کیا گیا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ کہ حاکم وقت کی موجودگی میں باقی افراد امامت کے اہل نہیں اور اسوقت کیونکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ موجود تھے اس لئیے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ والی روایات کو ترجیح دی جائے گی ۔ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
اور رہا یہ مسئلہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض تھیں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کی خلافت کے حق میں نہیں تھے یا آپ رضی اللہ عنہ مجبور تھے یہ ساری باتیں ان روایات سے باطل ہو جاتی ہیں کہ نماز جنازہ کے سلسلے میں تو آپ رضی اللہ عنہ مجبور نہیں تھے بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اسوقت ان کو اختیار تھا کہ آپ چاہتے تو خود امامت کرا سکتے تھے لیکن انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اور یہ کہ ان کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھ کر ان تمام خدشات اور نظریات اور اقوال کو باطل کردیا کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کو خلیفہ برحق نہیں مانتے تھے آپ مجبورا ان کی خلافت کو مانتے تھے یا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے معاذ اللہ ناراض تھیں اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ کرنے کا کہا تھا اوقر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کو رات کو دفن کر دیا یہ ساری باتیں لوگوں کی خرافات ہیں اور یہ باتیں ان لوگوں کے درمیان اختلافات کو ظاہر کر کے اپنے گھٹیا مقاصد حاصل کرنے اور لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان روایات کی روشنی میں خلفائے راشدین اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے اور اپنا عقیدہ اہلسنت و جماعت کے مروجہ قواعد و ضوابط اور نظریات کے مطابق رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔
اور رہا یہ مسئلہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض تھیں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کی خلافت کے حق میں نہیں تھے یا آپ رضی اللہ عنہ مجبور تھے یہ ساری باتیں ان روایات سے باطل ہو جاتی ہیں کہ نماز جنازہ کے سلسلے میں تو آپ رضی اللہ عنہ مجبور نہیں تھے بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اسوقت ان کو اختیار تھا کہ آپ چاہتے تو خود امامت کرا سکتے تھے لیکن انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اور یہ کہ ان کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھ کر ان تمام خدشات اور نظریات اور اقوال کو باطل کردیا کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کو خلیفہ برحق نہیں مانتے تھے آپ مجبورا ان کی خلافت کو مانتے تھے یا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے معاذ اللہ ناراض تھیں اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ کرنے کا کہا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کو رات کو دفن کر دیا یہ ساری باتیں لوگوں کی خرافات ہیں اور یہ باتیں ان لوگوں کے درمیان اختلافات کو ظاہر کر کے اپنے گھٹیا مقاصد حاصل کرنے
اور لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان روایات کی روشنی میں خلفائے راشدین اور اھلبیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے اور اپنا عقیدہ اہلسنت و جماعت کے مروجہ قواعد و ضوابط اور نظریات کے مطابق رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔
(مزید حصّہ نہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_40.html
(مزید حصّہ نہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_40.html
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❾
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_19.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ نہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہما) سے ناراض تھیں کا جواب
شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنه پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو باغ فدک نہیں دیا جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی وفات تک ناراض رہیں ان سے بات نہیں کی ۔ یہ شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی کے جھوٹ میں سے ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جبکہ ان کی خود کی کتب میں اس بات کی تردید موجود ہے ۔ رافضیوں کے رد میں لکھی گئی لاجواب کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : اہل سنت کی روایات تو وہ بھی مدارج النبوت کتاب الوفاق ۔ بیہقی اور مشکوۃ شریف میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه اس قضیہ کے بعد حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه کے گھر تشریف لے گئے اور دھوپ میں دروازہ پر کھڑے ہوئے اور عذر چاہا اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه ان سے راضی ہوئیں ۔
ریاض النضرہ میں بھی یہ قصہ تفصیل سے مذکور ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی سے یہ قصہ منقول ہے اور ابن الدمام کتاب الموافقہ میں اوزاعی سے روایت ہے کہ گرمی کے دن حضرت سیدنا صدیق اکبر حضرت فاطمہ رضی الله عنه کے دروازہ پر تشریف لائے اور فرمایا اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوجائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنه حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے پاس گئے اور ان کو قسم دی کہ وہ راضی ہوجائیں پس حضرت فاطمہ راضی ہوئیں ۔
اور شیعہ میں زیدیہ تو نعیمیہ اہل سنت کی روایت کے موافق روایت کرتے ہیں اور امامیہ میں سے صاحب محجاج السالکین اور دوسرے یو روایت کرتے ہیں : ⬇
ان ابابكر لماراى ان فاطمة انقبضهت عنه وحجرته ولم تتكلم بعد ذلك فى امر فدك كبر ذلك عنده فاراد استرمناء ها فقال لها صدقت يا ابنة رسول الله فيما ادعيت ولكنى رايت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم يقسمهما فيعطى الفقراء والمساكين وابن السبيل بعد ان يوتى منها قوتكم والصانعين بها فقالت افعل فيها كما كان ابى رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یفعل فیھا فقال ذلك الله على ان افعل فيها ماكان يفعل ابوك فقالت والله لتفعلن فقال والله لا فعلن فقالت اللهم اشهد فرضيت بذلك واخذت العهد عليه وكان ابوبكر يعطيهم منها قوتهم ويقسم الباقى فيعطىالفقراء والمساكين وابن السبيل ۔
ترجمہ : (حضرت) ابوبکر نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ مجھ سے کبیدہ خاطر ہوئیں اور مجھ سے تعلقات توڑ لئے اور اس کے بعد گسل کے معاملہ مین کوئی بات نہیں اٹھائی تو یہ بات ان پر بہت شاق گذری چاہا کہ ان کو اپنے سے راضی کریں پس آئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہا ان سے اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی تم اپنے دعوے میں سچی تھیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا کہ اس کو تقسیم کیا کرتے تھے فقیروں مسکینوں اور مسافروں کودیا کرتے جب تم کو تمہارے گذارے کے موافق اور اس میں کام کرنے والوں کو دے چکتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو کرو اس میں جیسا میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے پھر کہا حضرت ابوبکر نے قسم ہے خدا کی تمہارے واسطے کرونگا وہ کام جو کچھ تمہارے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے تو آپ بولیں قسم خدا کی آپ ایسا ہی کرو گے حضرت ابوبکر نے فرمایا قسم بخدا میں ضرور کرونگا تو اسپر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنه نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا پس راضی ہوئی حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے اور اسپر عہد لیا پھر حضرت ابوبکر (باغ فدخل سے) دیا کرتے تھے انکا گذار اس سے اور باقی فقیروں مسکینوں اور مسافروں پر تقسیم کرتے ۔ (یہ عبارت شعیہ کتاب محجاج السالکین اور دوسری معتبر کتابوں کی عبارت ہے)
اس عبارت سے صاف پتہ چلا کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ نے حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اس میں تاحین حیات تصرف کرنا اور اس پر قبضہ نہ کرنا اس کو انہوں نے ملک کے مخالف جانا جیسا کہ تمام امت کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے اب حضرت ابوبکرصدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی تو پھر ام ایمن اور حضرت علی رضی للہ عنہ کے گواہ بنانے کی ضرورت کیا رہ گئی ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_19.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ نہم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہما) سے ناراض تھیں کا جواب
شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنه پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو باغ فدک نہیں دیا جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی وفات تک ناراض رہیں ان سے بات نہیں کی ۔ یہ شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی کے جھوٹ میں سے ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جبکہ ان کی خود کی کتب میں اس بات کی تردید موجود ہے ۔ رافضیوں کے رد میں لکھی گئی لاجواب کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : اہل سنت کی روایات تو وہ بھی مدارج النبوت کتاب الوفاق ۔ بیہقی اور مشکوۃ شریف میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه اس قضیہ کے بعد حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه کے گھر تشریف لے گئے اور دھوپ میں دروازہ پر کھڑے ہوئے اور عذر چاہا اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه ان سے راضی ہوئیں ۔
ریاض النضرہ میں بھی یہ قصہ تفصیل سے مذکور ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی سے یہ قصہ منقول ہے اور ابن الدمام کتاب الموافقہ میں اوزاعی سے روایت ہے کہ گرمی کے دن حضرت سیدنا صدیق اکبر حضرت فاطمہ رضی الله عنه کے دروازہ پر تشریف لائے اور فرمایا اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوجائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنه حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے پاس گئے اور ان کو قسم دی کہ وہ راضی ہوجائیں پس حضرت فاطمہ راضی ہوئیں ۔
اور شیعہ میں زیدیہ تو نعیمیہ اہل سنت کی روایت کے موافق روایت کرتے ہیں اور امامیہ میں سے صاحب محجاج السالکین اور دوسرے یو روایت کرتے ہیں : ⬇
ان ابابكر لماراى ان فاطمة انقبضهت عنه وحجرته ولم تتكلم بعد ذلك فى امر فدك كبر ذلك عنده فاراد استرمناء ها فقال لها صدقت يا ابنة رسول الله فيما ادعيت ولكنى رايت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم يقسمهما فيعطى الفقراء والمساكين وابن السبيل بعد ان يوتى منها قوتكم والصانعين بها فقالت افعل فيها كما كان ابى رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یفعل فیھا فقال ذلك الله على ان افعل فيها ماكان يفعل ابوك فقالت والله لتفعلن فقال والله لا فعلن فقالت اللهم اشهد فرضيت بذلك واخذت العهد عليه وكان ابوبكر يعطيهم منها قوتهم ويقسم الباقى فيعطىالفقراء والمساكين وابن السبيل ۔
ترجمہ : (حضرت) ابوبکر نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ مجھ سے کبیدہ خاطر ہوئیں اور مجھ سے تعلقات توڑ لئے اور اس کے بعد گسل کے معاملہ مین کوئی بات نہیں اٹھائی تو یہ بات ان پر بہت شاق گذری چاہا کہ ان کو اپنے سے راضی کریں پس آئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہا ان سے اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی تم اپنے دعوے میں سچی تھیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا کہ اس کو تقسیم کیا کرتے تھے فقیروں مسکینوں اور مسافروں کودیا کرتے جب تم کو تمہارے گذارے کے موافق اور اس میں کام کرنے والوں کو دے چکتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو کرو اس میں جیسا میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے پھر کہا حضرت ابوبکر نے قسم ہے خدا کی تمہارے واسطے کرونگا وہ کام جو کچھ تمہارے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے تو آپ بولیں قسم خدا کی آپ ایسا ہی کرو گے حضرت ابوبکر نے فرمایا قسم بخدا میں ضرور کرونگا تو اسپر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنه نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا پس راضی ہوئی حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے اور اسپر عہد لیا پھر حضرت ابوبکر (باغ فدخل سے) دیا کرتے تھے انکا گذار اس سے اور باقی فقیروں مسکینوں اور مسافروں پر تقسیم کرتے ۔ (یہ عبارت شعیہ کتاب محجاج السالکین اور دوسری معتبر کتابوں کی عبارت ہے)
اس عبارت سے صاف پتہ چلا کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ نے حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اس میں تاحین حیات تصرف کرنا اور اس پر قبضہ نہ کرنا اس کو انہوں نے ملک کے مخالف جانا جیسا کہ تمام امت کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے اب حضرت ابوبکرصدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی تو پھر ام ایمن اور حضرت علی رضی للہ عنہ کے گواہ بنانے کی ضرورت کیا رہ گئی ۔
👍1
خدا کا شکر ہے خود روایات شیعہ (امامیہ) کی رو سے حق منکشف ہوگیا اور تہمت جو حضرت ابوبکرصدیق رضی للہ عنہ پر لگائ تھی کہ آپ نے شہادت کو رد کیا اور دعوے کو کیا سراسر جھوٹ ثابت ہوئی ۔
والله يحق الحق ويبطل الباطل ۔
ترجمہ : اور اللہ حق کوثابت کرتا ہے اور باطل کو باطل ۔
حافظ ابن کثیر ( متوفی 774ھ) تصریح فرماتے ہیں : فلما مرضت جاءها الصدیق فدخل علیها فجعل یترضاها فرضِیت ۔
ترجمہ : جب فاطمہ رضی اللہ عنہس بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کےپاس تشریف لائے اور ان کو راضی کرنے لگے حتیٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان سے راضی ہوگئیں۔ (البدایۃ والنھایۃ: 6؍33… نیز دیکھئے العواصم من القواصم: ص38،چشتی)
امام محمد بن سعد (متوفی 230، 235ھ) کی تصریح : أخبرنا عبد الله بن عمر حدثنا إسماعیل عن عامر الشعبی قال جاء أبوبکر إلىٰ فاطمة حین مرضت فاستأذن. فقال علي: هٰذا أبوبکر على الباب فإن شئتِ أن تأذن له. قالت وذلك أحب إلیك، قال نعم فدخل علیها واعتذر إلیها وکلّمها فرضیتْ عنه ۔
ترجمہ : حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے فاطمہ ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں (اگر اجازت ہو) تو حضرت فاطمہ نے فرمایا : اگر آپ کو ان کے اندر آنے پراعتراض نہ ہو تو تشریف لے آئیں ۔ حضرت علی نے فرمایا : مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ تب ابوبکر صدیق اندر آگئے اور معذرت کرتے ہوئے ان کو راضی کرنے لگے ۔ حضرت فاطمہ نے ان کی معذرت کو پذیرائی بخشتے ہوئے صلح کرلی اور ان سے راضی ہوگئیں ۔ (طبقات ابن سعد: 8؍17، تذکرہ فاطمہ؛ورحمآء بینهم : 1؍147،چشی)(ریاض النضرہ فی مناقب العشرة:1 ؍115)
امام بیہقی کی تصریح : عن الشعبی قال لما مرضت فاطمة أتاها أبوبکر الصدیق فاستأذن علیها فقال علي: یا فاطمة! هٰذا أبوبکر یستأذن علیك فقالت أتحب أن أذن له قال نعم فأذنت له فدخل علیها یترضاها وقال والله ماترکت الدار والمال والأهل والعشیرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتکم أهل البیت ثم ترضاها حتی رضیت ۔ هٰذا مرسل حسن بإسناد صحیح ۔
ترجمہ : جب حضرت فاطمۃ الزہراء بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ حضرت علی نے حضر ت فاطمہ سےکہا کہ ابوبکر صدیق اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ اگر ان کا آنا آپ کو پسند ہے تو ٹھیک، حضرت علیؓ نے فرمایا: ان کا اندر آنا مجھے گوارا ہے۔اجازت ہوئی، ابوبکر صدیق اندر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی رضا مندی حاصل کرنے کی خاطر گفتگو شروع کرتے ہوئے حضرت ابوبکر نے فرمایا : اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رضا مندی کی خاطر اور آپ (اہل بیت) کی خوشنودی کے لیے ہم نے گھر بار مال و دولت، خویش و اقربا کو چھوڑا۔ اس طرح کی گفتگو کاسلسلہ شروع رکھا حتیٰ کہ سیدہ فاطمہؓ ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہوگئیں ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی مع الجوہر النقی : 6؍301)(فتح الباری : 6 ؍151)
امام اوزاعی کی تصریح:عن الأوزاعی قال: فخرج أبوبکر حتی قام علىٰ بابها في یوم حار ثم قال لا أبرح مکاني حتی ترضی عني بنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدخل علیها علي فأقسم علیها لترضی فرضیت۔
’’امام اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ایک گرم دن میں حضر ت فاطمہ کے دروازہ پر پہنچے او رفرمایا : جب تک رسول زادی مجھ سے راضی نہ ہوگی یہاں سے ہٹنے کا نہیں۔ حتیٰ کہ حضرت علی حضر ت فاطمہ کے پاس آئے اور ان کو قسم دی کہ آپ ابوبکر سے راضی ہوجائیں تو اس پر حضرت فاطمہ راضی ہوگئیں ۔ (أخرجه ابن السمان في الموافقه، ریاض النضرۃ فی مناقب العشر المبشرۃ : 1؍156 ،157 و تحفۃ اثنا عشریۃ جواب طعن سیزدہم)
حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے سخت ناراض ہوگئیں تھی شیعہ اعتراض : ⬇
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے سیدہ کو باغ فدک دینے سے صاف انکار کردیا جس پر سیدہ ناراض ہوگئیں اور مرتے دم تک حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے نہ بولیں ۔ حتی کہ یہ وصیت کرگئیں کہ میرے جنازہ میں ابوبکر شریک نہ ہوں۔ چنانچہ بوقت وفات حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے ابوبکر کو اطلاع بھی نہ دی اور راتوں رات سیدہ کو دفن کردیا ۔ دیکھو ابوبکر نے جگرپارۂ رسول کو ناراض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ہے فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی اذیت سے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے تو ابوبکر نے فقط فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو غضب ناک نہیں کیا بلکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو غضبناک کیا اور اغضاب النبی علی حد الشرک ۔ (خلاصہ از کتاب سواء السبیل ص159، مصنف محمد مہدی شیعہ عالم)
والله يحق الحق ويبطل الباطل ۔
ترجمہ : اور اللہ حق کوثابت کرتا ہے اور باطل کو باطل ۔
حافظ ابن کثیر ( متوفی 774ھ) تصریح فرماتے ہیں : فلما مرضت جاءها الصدیق فدخل علیها فجعل یترضاها فرضِیت ۔
ترجمہ : جب فاطمہ رضی اللہ عنہس بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کےپاس تشریف لائے اور ان کو راضی کرنے لگے حتیٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان سے راضی ہوگئیں۔ (البدایۃ والنھایۃ: 6؍33… نیز دیکھئے العواصم من القواصم: ص38،چشتی)
امام محمد بن سعد (متوفی 230، 235ھ) کی تصریح : أخبرنا عبد الله بن عمر حدثنا إسماعیل عن عامر الشعبی قال جاء أبوبکر إلىٰ فاطمة حین مرضت فاستأذن. فقال علي: هٰذا أبوبکر على الباب فإن شئتِ أن تأذن له. قالت وذلك أحب إلیك، قال نعم فدخل علیها واعتذر إلیها وکلّمها فرضیتْ عنه ۔
ترجمہ : حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے فاطمہ ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں (اگر اجازت ہو) تو حضرت فاطمہ نے فرمایا : اگر آپ کو ان کے اندر آنے پراعتراض نہ ہو تو تشریف لے آئیں ۔ حضرت علی نے فرمایا : مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ تب ابوبکر صدیق اندر آگئے اور معذرت کرتے ہوئے ان کو راضی کرنے لگے ۔ حضرت فاطمہ نے ان کی معذرت کو پذیرائی بخشتے ہوئے صلح کرلی اور ان سے راضی ہوگئیں ۔ (طبقات ابن سعد: 8؍17، تذکرہ فاطمہ؛ورحمآء بینهم : 1؍147،چشی)(ریاض النضرہ فی مناقب العشرة:1 ؍115)
امام بیہقی کی تصریح : عن الشعبی قال لما مرضت فاطمة أتاها أبوبکر الصدیق فاستأذن علیها فقال علي: یا فاطمة! هٰذا أبوبکر یستأذن علیك فقالت أتحب أن أذن له قال نعم فأذنت له فدخل علیها یترضاها وقال والله ماترکت الدار والمال والأهل والعشیرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتکم أهل البیت ثم ترضاها حتی رضیت ۔ هٰذا مرسل حسن بإسناد صحیح ۔
ترجمہ : جب حضرت فاطمۃ الزہراء بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ حضرت علی نے حضر ت فاطمہ سےکہا کہ ابوبکر صدیق اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ اگر ان کا آنا آپ کو پسند ہے تو ٹھیک، حضرت علیؓ نے فرمایا: ان کا اندر آنا مجھے گوارا ہے۔اجازت ہوئی، ابوبکر صدیق اندر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی رضا مندی حاصل کرنے کی خاطر گفتگو شروع کرتے ہوئے حضرت ابوبکر نے فرمایا : اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رضا مندی کی خاطر اور آپ (اہل بیت) کی خوشنودی کے لیے ہم نے گھر بار مال و دولت، خویش و اقربا کو چھوڑا۔ اس طرح کی گفتگو کاسلسلہ شروع رکھا حتیٰ کہ سیدہ فاطمہؓ ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہوگئیں ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی مع الجوہر النقی : 6؍301)(فتح الباری : 6 ؍151)
امام اوزاعی کی تصریح:عن الأوزاعی قال: فخرج أبوبکر حتی قام علىٰ بابها في یوم حار ثم قال لا أبرح مکاني حتی ترضی عني بنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدخل علیها علي فأقسم علیها لترضی فرضیت۔
’’امام اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ایک گرم دن میں حضر ت فاطمہ کے دروازہ پر پہنچے او رفرمایا : جب تک رسول زادی مجھ سے راضی نہ ہوگی یہاں سے ہٹنے کا نہیں۔ حتیٰ کہ حضرت علی حضر ت فاطمہ کے پاس آئے اور ان کو قسم دی کہ آپ ابوبکر سے راضی ہوجائیں تو اس پر حضرت فاطمہ راضی ہوگئیں ۔ (أخرجه ابن السمان في الموافقه، ریاض النضرۃ فی مناقب العشر المبشرۃ : 1؍156 ،157 و تحفۃ اثنا عشریۃ جواب طعن سیزدہم)
حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے سخت ناراض ہوگئیں تھی شیعہ اعتراض : ⬇
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے سیدہ کو باغ فدک دینے سے صاف انکار کردیا جس پر سیدہ ناراض ہوگئیں اور مرتے دم تک حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے نہ بولیں ۔ حتی کہ یہ وصیت کرگئیں کہ میرے جنازہ میں ابوبکر شریک نہ ہوں۔ چنانچہ بوقت وفات حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے ابوبکر کو اطلاع بھی نہ دی اور راتوں رات سیدہ کو دفن کردیا ۔ دیکھو ابوبکر نے جگرپارۂ رسول کو ناراض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ہے فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی اذیت سے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے تو ابوبکر نے فقط فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو غضب ناک نہیں کیا بلکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو غضبناک کیا اور اغضاب النبی علی حد الشرک ۔ (خلاصہ از کتاب سواء السبیل ص159، مصنف محمد مہدی شیعہ عالم)
جواب : یہ تھی شیعہ مولوی کی تحریر جس میں شیعہ بدخت نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کو مشرک تک کہہ دیا (معاذ ﷲ) اس پوری تحریر میں صرف اتنی بات صحیح ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے جواب میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حدیث شریف سیدہ کو سنائی ۔
حدیث شریف : حضرت عروہ بن زبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کےلیے پیغام بھیجا ۔ ان سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی میراث کا مطالبہ کرتے ہوئے جو ﷲ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو مدینہ منورہ اور فدک میں عطا فرمایا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد ہے ۔ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑیں ، وہ صدقہ ہے مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کھاتے ہیں اور خدا کی قسم میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقہ میں ذرا سی تبدیلی بھی نہیں کروں گا اور اسی حال میں رکھوں گا جس حال میں وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عہد مبارک میں تھا اور میں اس میں عمل نہیں کروں گا مگر اسی طرح جیسے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے۔ پس حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اس میں سے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کردیا ۔ (سنن ابو داٶد جلد دوم، کتاب الخراج، حدیث 1194، ص 455، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور،چشتی)
یہ ناراضگی اور جنازہ میں عدمِ شرکت کا قصہ صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ شیعوں کے زعم باطل کے مطابق حضرت فاطمہ فدک کی وجہ سے آپ سے ناراض تھیں ، کیونکہ اگر یہ ثابت ہوجائے۔ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی تھیں تو شیعوں کےلیے طعن کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ۔ اس لئے ہم فریقین کی کتب سے سیدہ فاطمہ کا حضرت ابوبکر سے راضی ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔
شیعوں کی معتبر اور مشہور ترین کتاب شرح نہج البلاغہ ابن میسم بحرانی جز 35 ص 543 میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب سیدہ کا کلام سنا تو حمد کی درود پڑھا اور پھر حضرت فاطمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اے افضل عورتوں میں اور بیٹی اس ذات مقدس کی جو سب سے افضل ہے۔ میں نے رسول کی رائے سے تجاوز نہیں کیا۔ اور نہیں عمل کیا میں نے ،مگر رسول کے حکم پر۔ بے شک تم نے گفتگو کی اور بات بڑھا دی اور سختی اور ناراضگی کی۔ اب ﷲ معاف کرے ہمارے لیے اور تمہارے لئے۔ اور میں نے رسول کے ہتھیار اور سواری کے جانور علی کو دے دیئے لیکن جو کچھ اس کے سوا ہے اس میں، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : انا معاشر الانبیاء لا نورث ذہباً ولا فضۃ ولا ارضاً ولا عقاراً ولا داراً ولکنا نورث الایمان والحکمۃ والعلم والسنۃ وعملت بما امرنی ونصحت ۔
ہم جماعت انبیاء نہ سونے کی میراث دیتے ہیں نہ چاندنی کی، نہ زمین کی، نہ کھیتی کی اور نہ مکان کی میراث دیتے ہیں لیکن ہم میراث دیتے ہیں ایمان اور حکمت اور علم اور سنت کی اور عمل کیا میں نے اس پر جو مجھے حکم کیا تھا (رسول نے) اور میں نے نیک نیتی کی۔
اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے یہ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فدک کو ہبہ کردیا تھا جس پر انہوں نے علی اور ام ایمن کو گواہ پیش کیا۔ جنہوں نے گواہی دی پھر عمر آئے۔ انہوں نے اور عبدالرحمن بن عوف نے یہ گواہی دی کہ حضور فدک کی آمدنی تقسیم فرما دیتے تھے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر نے فرمایا۔کان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یاخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل فیہ فی سبیل ﷲ ولک علی اﷲ ان اصنع بہاکما کان یصنع فرضیت بذلک واخذت العہد علیہ بہ وکان یاخذ غلتھا فیدفع الیہم منھاما یکفیہمم ثم فعلت الخلفاء بعدہ ذلک ۔ (شرح میثم، مطبوعہ ایران، ج 35)
تم سب سچے ہو ۔ مگر اس کا تصفیہ یہ ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدک کی آمدنی سے تمہارے گزارے کےلیے رکھ لیتے تھے، اور باقی جو بچتا تھا اس کو تقسیم فرما دیتے تھے اور ﷲ کی راہ میں اس میں سے اٹھا لیتے تھے اور میں تمہارے لیے ﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ فدک میں وہی کروں گا جو رسول کرتے تھے تو اس پر فاطمہ راضی ہوگئیں اور فدک میں اسی پر عمل کرنے کو ابوبکر سے عہد لے لیا اور ابوبکر فدک کی پیداوار کرلیتے تھے اور جتنا اہل بیت کا خرچ ہوتا تھا ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور پھر ابوبکر کے بعد اور خلفاء نے بھی اسی طرح کیا ۔
حدیث شریف : حضرت عروہ بن زبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کےلیے پیغام بھیجا ۔ ان سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی میراث کا مطالبہ کرتے ہوئے جو ﷲ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو مدینہ منورہ اور فدک میں عطا فرمایا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد ہے ۔ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑیں ، وہ صدقہ ہے مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کھاتے ہیں اور خدا کی قسم میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقہ میں ذرا سی تبدیلی بھی نہیں کروں گا اور اسی حال میں رکھوں گا جس حال میں وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عہد مبارک میں تھا اور میں اس میں عمل نہیں کروں گا مگر اسی طرح جیسے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے۔ پس حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اس میں سے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کردیا ۔ (سنن ابو داٶد جلد دوم، کتاب الخراج، حدیث 1194، ص 455، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور،چشتی)
یہ ناراضگی اور جنازہ میں عدمِ شرکت کا قصہ صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ شیعوں کے زعم باطل کے مطابق حضرت فاطمہ فدک کی وجہ سے آپ سے ناراض تھیں ، کیونکہ اگر یہ ثابت ہوجائے۔ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی تھیں تو شیعوں کےلیے طعن کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ۔ اس لئے ہم فریقین کی کتب سے سیدہ فاطمہ کا حضرت ابوبکر سے راضی ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔
شیعوں کی معتبر اور مشہور ترین کتاب شرح نہج البلاغہ ابن میسم بحرانی جز 35 ص 543 میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب سیدہ کا کلام سنا تو حمد کی درود پڑھا اور پھر حضرت فاطمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اے افضل عورتوں میں اور بیٹی اس ذات مقدس کی جو سب سے افضل ہے۔ میں نے رسول کی رائے سے تجاوز نہیں کیا۔ اور نہیں عمل کیا میں نے ،مگر رسول کے حکم پر۔ بے شک تم نے گفتگو کی اور بات بڑھا دی اور سختی اور ناراضگی کی۔ اب ﷲ معاف کرے ہمارے لیے اور تمہارے لئے۔ اور میں نے رسول کے ہتھیار اور سواری کے جانور علی کو دے دیئے لیکن جو کچھ اس کے سوا ہے اس میں، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : انا معاشر الانبیاء لا نورث ذہباً ولا فضۃ ولا ارضاً ولا عقاراً ولا داراً ولکنا نورث الایمان والحکمۃ والعلم والسنۃ وعملت بما امرنی ونصحت ۔
ہم جماعت انبیاء نہ سونے کی میراث دیتے ہیں نہ چاندنی کی، نہ زمین کی، نہ کھیتی کی اور نہ مکان کی میراث دیتے ہیں لیکن ہم میراث دیتے ہیں ایمان اور حکمت اور علم اور سنت کی اور عمل کیا میں نے اس پر جو مجھے حکم کیا تھا (رسول نے) اور میں نے نیک نیتی کی۔
اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے یہ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فدک کو ہبہ کردیا تھا جس پر انہوں نے علی اور ام ایمن کو گواہ پیش کیا۔ جنہوں نے گواہی دی پھر عمر آئے۔ انہوں نے اور عبدالرحمن بن عوف نے یہ گواہی دی کہ حضور فدک کی آمدنی تقسیم فرما دیتے تھے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر نے فرمایا۔کان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یاخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل فیہ فی سبیل ﷲ ولک علی اﷲ ان اصنع بہاکما کان یصنع فرضیت بذلک واخذت العہد علیہ بہ وکان یاخذ غلتھا فیدفع الیہم منھاما یکفیہمم ثم فعلت الخلفاء بعدہ ذلک ۔ (شرح میثم، مطبوعہ ایران، ج 35)
تم سب سچے ہو ۔ مگر اس کا تصفیہ یہ ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدک کی آمدنی سے تمہارے گزارے کےلیے رکھ لیتے تھے، اور باقی جو بچتا تھا اس کو تقسیم فرما دیتے تھے اور ﷲ کی راہ میں اس میں سے اٹھا لیتے تھے اور میں تمہارے لیے ﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ فدک میں وہی کروں گا جو رسول کرتے تھے تو اس پر فاطمہ راضی ہوگئیں اور فدک میں اسی پر عمل کرنے کو ابوبکر سے عہد لے لیا اور ابوبکر فدک کی پیداوار کرلیتے تھے اور جتنا اہل بیت کا خرچ ہوتا تھا ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور پھر ابوبکر کے بعد اور خلفاء نے بھی اسی طرح کیا ۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت سیدہ کی رضا مندی والی یہ روایت صرف ابن میثم ہی نے نہیں بلکہ متعدد علمائے شیعہ نے اپنی کتابوں میں ذکر کی ہے جن کے نام یہ ہیں ۔ (درنجیفہ شرح نہج البلاغہ مطبوعہ طہران ص 332)(حدیدی شرح نہج البلاغۃ جلد دوم، جز 16،ص 296،چشتی)(سید علی نقی فیض الاسلام کی تصنیف فارسی شرح نہج البلاغہ، جز 5،ص 960)
رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے ۔
اول : فدک کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا ۔
دوم : حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا ۔
قارئین کرام : للہ انصاف کیجئے ! اس روایت سے جو شیعوں کی معتبر مذہبی کتاب کی ہے بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قضیہ فدک میں حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ان کے اس فیصلہ سے جو انہوں نے حدیث رسول کے ماتحت کیا راضی ہوگئیں اور سیدہ نے اس امر کا حضرت ابوبکر سے عہد بھی لے لیا کہ ابوبکر فدک کی آمدنی سے اہل بیت کے اخراجات پورے کریں گے ۔ ایسی صاف و صریح رضامندی کے بعد بھی شیعہ حضرات جناب صدیق اکبر پر زبانِ طعن دراز کریں تو اس کا علاج واقعی کچھ نہیں ہے ۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ سیدہ کے راضی ہوجانے کے بعد کسی محب اہل بیت کےلیے تو یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر طعن کر سکے ۔ البتہ نا انصافی سے کام لینا دوسری بات ہے ۔
سوم : اہل بیت کے اخراجات تمام عمر حضرت صدیق اکبر فدک کی آمدنی سے پورے کرتے رہے اور سیدہ اپنے اخراجات حضرت صدیق اکبر سے وصول کرتی رہیں اور صدیق اکبر کے طرز عمل کو سراہتی رہیں ۔
چہارم : نہ صرف صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ بلکہ تینوں خلفاء بھی ایسا ہی کرتے رہے اور انہوں نے فدک میں وہ طرز عمل اختیار کیا جو حضور علیہ السلام اور ان کے بعد صدیق کبر نے اختیار کیا ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے بھی سیدہ راضی تھیں
شیعوں کی مشہور مذہبی کتاب حق الیقین مطبوعہ ایران کے صفحہ 71 پر ہے : کہ چوں علی وزبیر بیعت کرد ونداویںفتنہ فرد نشست، ابوبکر آمدہ شفاعت از برائے عمر ف فاطمہ از وراضی شد ۔
پھر جب حضرت علی و زبیر نے بیعت کرلی تو حضرت ابوبکر آئے اور حضرت عمر کے متعلق سفارش کی تو حضرت فاطمہ عمر سے بھی راضی ہوگئیں ۔
اسی طرح طبقات ابن سعد جلد 8 مطبوعہ ایران کے ص 17 پر ہے : جاء ابوبکر الی فاطمۃ حین مرضت فاستا دن فقال علی ہذا ابوبکر علی الباب فان شئت ان تاذنی لہ قالت وذلک احب الیک قال نعم فدخل علیہا واعتذر الیہا وکلمہا ورضیت عنہ ۔
حضرت ابوبکر فاطمہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھیں ۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو ۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے عذر کیا اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں ۔
ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جائے ، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہو سکے ۔
حدیثِ بخاری : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ””، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا
رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے ۔
اول : فدک کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا ۔
دوم : حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا ۔
قارئین کرام : للہ انصاف کیجئے ! اس روایت سے جو شیعوں کی معتبر مذہبی کتاب کی ہے بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قضیہ فدک میں حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ان کے اس فیصلہ سے جو انہوں نے حدیث رسول کے ماتحت کیا راضی ہوگئیں اور سیدہ نے اس امر کا حضرت ابوبکر سے عہد بھی لے لیا کہ ابوبکر فدک کی آمدنی سے اہل بیت کے اخراجات پورے کریں گے ۔ ایسی صاف و صریح رضامندی کے بعد بھی شیعہ حضرات جناب صدیق اکبر پر زبانِ طعن دراز کریں تو اس کا علاج واقعی کچھ نہیں ہے ۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ سیدہ کے راضی ہوجانے کے بعد کسی محب اہل بیت کےلیے تو یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر طعن کر سکے ۔ البتہ نا انصافی سے کام لینا دوسری بات ہے ۔
سوم : اہل بیت کے اخراجات تمام عمر حضرت صدیق اکبر فدک کی آمدنی سے پورے کرتے رہے اور سیدہ اپنے اخراجات حضرت صدیق اکبر سے وصول کرتی رہیں اور صدیق اکبر کے طرز عمل کو سراہتی رہیں ۔
چہارم : نہ صرف صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ بلکہ تینوں خلفاء بھی ایسا ہی کرتے رہے اور انہوں نے فدک میں وہ طرز عمل اختیار کیا جو حضور علیہ السلام اور ان کے بعد صدیق کبر نے اختیار کیا ۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے بھی سیدہ راضی تھیں
شیعوں کی مشہور مذہبی کتاب حق الیقین مطبوعہ ایران کے صفحہ 71 پر ہے : کہ چوں علی وزبیر بیعت کرد ونداویںفتنہ فرد نشست، ابوبکر آمدہ شفاعت از برائے عمر ف فاطمہ از وراضی شد ۔
پھر جب حضرت علی و زبیر نے بیعت کرلی تو حضرت ابوبکر آئے اور حضرت عمر کے متعلق سفارش کی تو حضرت فاطمہ عمر سے بھی راضی ہوگئیں ۔
اسی طرح طبقات ابن سعد جلد 8 مطبوعہ ایران کے ص 17 پر ہے : جاء ابوبکر الی فاطمۃ حین مرضت فاستا دن فقال علی ہذا ابوبکر علی الباب فان شئت ان تاذنی لہ قالت وذلک احب الیک قال نعم فدخل علیہا واعتذر الیہا وکلمہا ورضیت عنہ ۔
حضرت ابوبکر فاطمہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھیں ۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو ۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے عذر کیا اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں ۔
ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جائے ، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہو سکے ۔
حدیثِ بخاری : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ””، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا
أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَىأَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا: أَصَبْتَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ ۔ (صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4240کتاب غزوات کے بیان میں ۔ باب : غزوہ خیبر کا بیان،چشتی)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی
اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی (کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کرلی ہے ۔
کسی بھی واقعے کو پرکھنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے ۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریباً 36 مقامات پر موجود ہے ۔ ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے ۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے ۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی رضی اللہ عنہم سے یہ روایات مروی ہیں ۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول نہیں ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں ۔
پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں ۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں ، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں ۔ تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے ۔
جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے ۔
کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو ۔ اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔
کسی بھی واقعے کو پرکھنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے ۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریباً 36 مقامات پر موجود ہے ۔ ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے ۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے ۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی رضی اللہ عنہم سے یہ روایات مروی ہیں ۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول نہیں ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں ۔
پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں ۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں ، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں ۔ تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے ۔
جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے ۔
کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو ۔ اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کے پاس پردہ میں گئیں تھیں یا بے پردہ ؟
ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
پھر راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں ؟؟
ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے ۔ اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دین نے ہوں گے ۔ ⬇
راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی ؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے ۔
سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر ۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے ۔
ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے ۔
غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔
ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔
سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا۔۔
حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب
ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لیے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ۔
روایات فریقین سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی ﷲ عنہا بوقتِ وفات حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ سے راضی تھیں اور کسی قسم کی کبیدگی ان کے درمیان نہ تھی ۔ اگر بالفرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان مذکورہ روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہو رہا ہے ۔
(مزید حصّہ دہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_19.html
ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
پھر راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں ؟؟
ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے ۔ اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دین نے ہوں گے ۔ ⬇
راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی ؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے ۔
سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر ۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے ۔
ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے ۔
غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔
ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔
سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا۔۔
حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب
ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لیے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ۔
روایات فریقین سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی ﷲ عنہا بوقتِ وفات حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ سے راضی تھیں اور کسی قسم کی کبیدگی ان کے درمیان نہ تھی ۔ اگر بالفرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان مذکورہ روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہو رہا ہے ۔
(مزید حصّہ دہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_19.html
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM