حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے مل کر سفر پر روانہ ہوتے اور جب سفر سے تشریف لاتے تو بھی سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے پاس آتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرماتے ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں ۔ (المستدرک للحاکم،صحیح ابن حبان)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری،مسلم)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کے لیئے نکاح کا پیغام دیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بیشک فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُسے کوئی تکلیف پہنچے ۔ خدا کی قسم ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ (بخاری، مسلم،چشتی)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کر دیں ۔ میں اُن کو اجازت نہیں دیتا ، میں ان کو اجازت نہیں دیتا ، پھر میں ان کو اجازت نہیں دیتا ۔ ہاں اگر ابنِ ابی طالب چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دیدے اورپھر اُن کی بیٹی سے شادی کر لے ۔ کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے ۔ جو چیز اُسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اورجو چیز اُسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے ۔ (مسلم، ترمذی، ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ اسے تکلیف دینے والامجھے تکلیف دیتا ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے ۔ (مسند احمد،المستدرک)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا سے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ تیری ناراضگی پر ناراض اور تیری رضا پر راضی ہوتا ہے ۔ (المستدرک،طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں ۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لیے ان کی شادی کے موقع پر خاص دعا فرمائی، اے اللہ ! میں اپنی اس بیٹی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔(صحیح ابن حبان، طبرانی فی الکبیر)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی کی ر ات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اُن پر پانی چھڑکا اور فرمایا ، اے اللہ ! ان دونوں کے حق میں برکت دے اور ان دونوں پر برکت نازل فرما اور ان دونوں کے لیے ان کی اولاد میں برکت عطا فرما ۔ (طبقات ابن سعد، اُسدُ الغابہ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، قیامت کے دن میرے حسب ونسب کے سوا ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا ۔ ہر بیٹے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے سوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں ۔ (مصنف عبدالرزاق، سنن الکبریٰ للبیہقی، طبرانی فی الکبیر،چشتی)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ثکے متعلق فرمایا ، میں اُن سے لڑنے والا ہوں جو اِن سے لڑیں اور اُن سے صلح کرنے والا ہوں جو اِن سے صلح کریں ۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دریافت فرمایا، عورت کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے ؟ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے ۔ میں نے گھر آ کر یہی سوال سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے کیا تو انہوں نے جواب دیا، عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ اسے غیر مرد نہ دیکھے ۔ میں نے اس جواب کا ذکر حضور اسے کیا تو آپ نے فرمایا ، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ۔ (مسند بزار، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، بیشک فاطمہ نے اپنی عصمت وپارسائی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد پر آگ حرام کر دی ہے۔(المستدرک للحاکم، مسند بزار)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری،مسلم)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کے لیئے نکاح کا پیغام دیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بیشک فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اُسے کوئی تکلیف پہنچے ۔ خدا کی قسم ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ (بخاری، مسلم،چشتی)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کر دیں ۔ میں اُن کو اجازت نہیں دیتا ، میں ان کو اجازت نہیں دیتا ، پھر میں ان کو اجازت نہیں دیتا ۔ ہاں اگر ابنِ ابی طالب چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دیدے اورپھر اُن کی بیٹی سے شادی کر لے ۔ کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے ۔ جو چیز اُسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اورجو چیز اُسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے ۔ (مسلم، ترمذی، ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ اسے تکلیف دینے والامجھے تکلیف دیتا ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے ۔ (مسند احمد،المستدرک)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہرضی ﷲ عنہا سے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ تیری ناراضگی پر ناراض اور تیری رضا پر راضی ہوتا ہے ۔ (المستدرک،طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں ۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لیے ان کی شادی کے موقع پر خاص دعا فرمائی، اے اللہ ! میں اپنی اس بیٹی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔(صحیح ابن حبان، طبرانی فی الکبیر)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی کی ر ات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اُن پر پانی چھڑکا اور فرمایا ، اے اللہ ! ان دونوں کے حق میں برکت دے اور ان دونوں پر برکت نازل فرما اور ان دونوں کے لیے ان کی اولاد میں برکت عطا فرما ۔ (طبقات ابن سعد، اُسدُ الغابہ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، قیامت کے دن میرے حسب ونسب کے سوا ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا ۔ ہر بیٹے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے سوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں ۔ (مصنف عبدالرزاق، سنن الکبریٰ للبیہقی، طبرانی فی الکبیر،چشتی)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ثکے متعلق فرمایا ، میں اُن سے لڑنے والا ہوں جو اِن سے لڑیں اور اُن سے صلح کرنے والا ہوں جو اِن سے صلح کریں ۔ (ترمذی،ابن ماجہ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دریافت فرمایا، عورت کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے ؟ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے ۔ میں نے گھر آ کر یہی سوال سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے کیا تو انہوں نے جواب دیا، عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ اسے غیر مرد نہ دیکھے ۔ میں نے اس جواب کا ذکر حضور اسے کیا تو آپ نے فرمایا ، فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ۔ (مسند بزار، مجمع الزوائد،چشتی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، بیشک فاطمہ نے اپنی عصمت وپارسائی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد پر آگ حرام کر دی ہے۔(المستدرک للحاکم، مسند بزار)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہاسے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا۔ (طبرانی فی الکبیر،مجمع الزوائد) علامہ ہیثمی نے کہا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، آج رات ایک فرشتہ جو اس سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا، اُس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے کے لیے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ (ترمذی،مسند احمد، فضائل الصحابۃ للنسائی، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا،سب سے پہلے جنت میںتم، فاطمہ ، حسن اور حسین داخل ہو گے ۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہونگے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، وہ تمہارے پیچھے ہونگے ۔ (المستدرک للحاکم، الصواعق المحرقۃ:٢٣٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میں، تم اور یہ دونوں ( یعنی حسن و حسین) اور یہ سونے والا (سیدنا علی جو کہ اُسوقت سو کر اُٹھے ہی تھے) قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہونگے ۔ (مسند احمد،مجمع الزوائد)
اُمُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں جب سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم انہیں مرحبا کہتے ، کھڑے ہو کر اُن کا استقبال کرتے ، اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بوسہ دیتے اور اُنہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے ۔ (المستدرک فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)
حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے پوچھا ، لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ فرمایا ، فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پوچھا، مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرمایا ، ان کے شوہر یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ (ترمذی،المستدرک، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کو میرے اور فاطمہ میں سے کون زیادہ محبوب ہے ؟ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ، فاطمہ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اور تم مجھے اس سے زیادہ عزیز ہو ۔ (طبرانی فی الاوسط ، مجمع الزوائد)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا ، اے فاطمہ ! خدا کی قسم ! میں نے آپ سے زیادہ کسی ہستی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک محبوب نہیں دیکھا ۔ اور خدا کی قسم ! لوگوں میں سے سوائے آپ کے والد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے مجھے کوئی اور آپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم)
سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے وصال سے قبل حضرت اسماء بنت عمیس رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میرا جنازہ لے جاتے وقت اور تدفین کے وقت پردے کا پورا لحاظ رکھنا ۔ انہوں نے کہا ، میں نے حبش میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ان پر پردہ ڈال دیتے ہیں (اس طرح جسم کی ہیئت نمایاں نہیں ہوتی) ۔ پھر انہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر ان پر کپڑا ڈال کر سیدہ کو دکھایا ۔ آپ نے پسند کیا پھر بعد وصال اسی طرح آپ کا جنازہ اٹھا ۔ (اُسدُ الغابہ، استیعاب)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا غیب سے آواز دے گا ، اے اہلِ محشر ! اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم گزر جائیں ۔ (المستدرک للحاکم،اسدُ الغابہ) ۔
(مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/04/blog-post_5.html
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ، آج رات ایک فرشتہ جو اس سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا، اُس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے کے لیے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ (ترمذی،مسند احمد، فضائل الصحابۃ للنسائی، المستدرک للحاکم،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا،سب سے پہلے جنت میںتم، فاطمہ ، حسن اور حسین داخل ہو گے ۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہونگے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، وہ تمہارے پیچھے ہونگے ۔ (المستدرک للحاکم، الصواعق المحرقۃ:٢٣٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میں، تم اور یہ دونوں ( یعنی حسن و حسین) اور یہ سونے والا (سیدنا علی جو کہ اُسوقت سو کر اُٹھے ہی تھے) قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہونگے ۔ (مسند احمد،مجمع الزوائد)
اُمُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں جب سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم انہیں مرحبا کہتے ، کھڑے ہو کر اُن کا استقبال کرتے ، اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بوسہ دیتے اور اُنہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے ۔ (المستدرک فضائل الصحابۃ للنسائی،چشتی)
حضرت جمیع بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے پوچھا ، لوگوں میں سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ فرمایا ، فاطمہ رضی ﷲ عنہا ۔ پوچھا، مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا ؟ فرمایا ، ان کے شوہر یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ (ترمذی،المستدرک، طبرانی فی الکبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کو میرے اور فاطمہ میں سے کون زیادہ محبوب ہے ؟ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ، فاطمہ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اور تم مجھے اس سے زیادہ عزیز ہو ۔ (طبرانی فی الاوسط ، مجمع الزوائد)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا ، اے فاطمہ ! خدا کی قسم ! میں نے آپ سے زیادہ کسی ہستی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک محبوب نہیں دیکھا ۔ اور خدا کی قسم ! لوگوں میں سے سوائے آپ کے والد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے مجھے کوئی اور آپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، المستدرک للحاکم)
سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے وصال سے قبل حضرت اسماء بنت عمیس رضی ﷲ عنہا سے فرمایا ، میرا جنازہ لے جاتے وقت اور تدفین کے وقت پردے کا پورا لحاظ رکھنا ۔ انہوں نے کہا ، میں نے حبش میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ان پر پردہ ڈال دیتے ہیں (اس طرح جسم کی ہیئت نمایاں نہیں ہوتی) ۔ پھر انہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر ان پر کپڑا ڈال کر سیدہ کو دکھایا ۔ آپ نے پسند کیا پھر بعد وصال اسی طرح آپ کا جنازہ اٹھا ۔ (اُسدُ الغابہ، استیعاب)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا غیب سے آواز دے گا ، اے اہلِ محشر ! اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم گزر جائیں ۔ (المستدرک للحاکم،اسدُ الغابہ) ۔
(مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/04/blog-post_5.html
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❺
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_64.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ پنجم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت سیّدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے شادی کی خواہش کئی لوگوں نے کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے اس سلسلے میں وحی الہی کا انتظار ہے ۔ کچھ عرصہ بعد حضرت سیّدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی خواہش کا اظہار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول کر لیا اور کہا 'مرحباً و اھلاً ۔ بعض روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ اے علی خدا کا حکم ہے کہ میں فاطمہ کی شادی تم سے کر دوں ۔ کیا تمہیں منظور ہے۔ انہوں نے کہا : ’’ہاں‘‘ چنانچہ شادی ہو گئی ۔ یہی روایت صحاح میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے کی ہے ۔ ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کردوں ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی یکم ذی الحجہ 2ھ کو ہوئی ۔ کچھ اور روایات کے مطابق حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ و حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نکاح رمضان میں اور رخصتی اسی سال ذی الحجہ میں ہوئی ۔ شادی کے اخراجات کے لیے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زرہ 500 درھم میں بیچ دی جو حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے قبل ازیں خرید کر بعد ازاں شادی کے تحفہ کے طور پر دے دی ۔ یہ رقم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی جو حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر قرار پایا ۔ جبکہ بعض دیگر روایات میں مہر 480 درھم تھا ۔ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا مولا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ سے راجح قول کے مطابق سن 2 ہجری میں ہوا ہے ، نکاح کے مہینہ میں قدرے اختلاف ہے ، اس سلسلے میں مختلف اقول ہیں، (1) رمضان 2 ہجری (2) رجب 2 ہجری ۔ (3) صفر 2 ہجری (4) سن 2 ہجری کے شروع میں محرم کے مہینہ میں ۔
اسی طرح رخصتی کے بارے میں بھی مختلف اقوال ہیں : (1) ذی القعدہ 2 ہجری ، (2) ذی الحجہ 2 ہجری،(3) ایک قول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی تعالیٰ عنہا سے رخصتی کے ساڑھے چار ماہ بعد ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح کیا ، اور نکاح کے بعد ساڑھے نو ماہ بعد ان کی رخصتی کی ہے ، اور اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی تعالیٰ عنہا کی رخصتی ہجرت کے پہلے سال شوال کے مہینے میں ہوئی ، اور اس کے ساڑھے چار ماہ بعد کا مطلب ہے کہ صفر میں حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ہوا ، اور اس کے ساڑھے نو ماہ بعد رخصتی کا مطلب یہ ہوا کہ سن 2 ہجری ذی القعدہ میں حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رخصتی ہوئی ۔ لہٰذا ان میں راجح قول یہی ہے کہ سن 2 ہجری میں غزوہ بدر سے پہلے حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ہوا ، اور غزوہ بدر رمضان المبارک میں ہوا ، اس سے واپسی پرذی القعدہ کے آخر یا ذی الحجہ کے شروع میں آپ کی رخصتی ہوئی ۔ باقی نکاح کا دن کون سا تھا، تتبع اور تلاش کے باوجود ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا ۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (16/ 249) میں ہے : وأنكحها رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَليّ بن أبي طَالب، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، بعد وقْعَة أحد، وَقيل: تزَوجهَا بعد أَن ابتني رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بعائشة بأَرْبعَة أشهر وَنصفاً وَبنى بهَا بعد تَزْوِيجه إِيَّاهَا بِتِسْعَة أشهر وَنصف، وَكَانَ سنّهَا يَوْمئِذٍ خمس عشرَة وَخَمْسَة أشهر وَنصفاً، وَكَانَ سنّ عَليّ يَوْمئِذٍ إِحْدَى وَعشْرين سنةً وَخَمْسَة أشهر ۔
كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري (5/ 288) میں ہے : وتزوجها علي أوائل المحرم سنة اثنتين، قيل: إنه تزوجها بعد أن ابتنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعائشة بأربعة أشهر ونصف، وبنى بها بعد تزويجه إياها بتسعة أشهر ونصف، وكان سنها يوم تزويجها خمس عشرة سنةً وخمسة أشهر ونصفًا، وكان سن علي إحدى وعشرين سنةً وخمسة أشهر.
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_64.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ پنجم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت سیّدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے شادی کی خواہش کئی لوگوں نے کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے اس سلسلے میں وحی الہی کا انتظار ہے ۔ کچھ عرصہ بعد حضرت سیّدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی خواہش کا اظہار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول کر لیا اور کہا 'مرحباً و اھلاً ۔ بعض روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ اے علی خدا کا حکم ہے کہ میں فاطمہ کی شادی تم سے کر دوں ۔ کیا تمہیں منظور ہے۔ انہوں نے کہا : ’’ہاں‘‘ چنانچہ شادی ہو گئی ۔ یہی روایت صحاح میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے کی ہے ۔ ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کردوں ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی یکم ذی الحجہ 2ھ کو ہوئی ۔ کچھ اور روایات کے مطابق حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ و حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نکاح رمضان میں اور رخصتی اسی سال ذی الحجہ میں ہوئی ۔ شادی کے اخراجات کے لیے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زرہ 500 درھم میں بیچ دی جو حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے قبل ازیں خرید کر بعد ازاں شادی کے تحفہ کے طور پر دے دی ۔ یہ رقم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی جو حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر قرار پایا ۔ جبکہ بعض دیگر روایات میں مہر 480 درھم تھا ۔ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا مولا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ سے راجح قول کے مطابق سن 2 ہجری میں ہوا ہے ، نکاح کے مہینہ میں قدرے اختلاف ہے ، اس سلسلے میں مختلف اقول ہیں، (1) رمضان 2 ہجری (2) رجب 2 ہجری ۔ (3) صفر 2 ہجری (4) سن 2 ہجری کے شروع میں محرم کے مہینہ میں ۔
اسی طرح رخصتی کے بارے میں بھی مختلف اقوال ہیں : (1) ذی القعدہ 2 ہجری ، (2) ذی الحجہ 2 ہجری،(3) ایک قول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی تعالیٰ عنہا سے رخصتی کے ساڑھے چار ماہ بعد ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح کیا ، اور نکاح کے بعد ساڑھے نو ماہ بعد ان کی رخصتی کی ہے ، اور اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی تعالیٰ عنہا کی رخصتی ہجرت کے پہلے سال شوال کے مہینے میں ہوئی ، اور اس کے ساڑھے چار ماہ بعد کا مطلب ہے کہ صفر میں حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ہوا ، اور اس کے ساڑھے نو ماہ بعد رخصتی کا مطلب یہ ہوا کہ سن 2 ہجری ذی القعدہ میں حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رخصتی ہوئی ۔ لہٰذا ان میں راجح قول یہی ہے کہ سن 2 ہجری میں غزوہ بدر سے پہلے حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ہوا ، اور غزوہ بدر رمضان المبارک میں ہوا ، اس سے واپسی پرذی القعدہ کے آخر یا ذی الحجہ کے شروع میں آپ کی رخصتی ہوئی ۔ باقی نکاح کا دن کون سا تھا، تتبع اور تلاش کے باوجود ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا ۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (16/ 249) میں ہے : وأنكحها رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَليّ بن أبي طَالب، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، بعد وقْعَة أحد، وَقيل: تزَوجهَا بعد أَن ابتني رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بعائشة بأَرْبعَة أشهر وَنصفاً وَبنى بهَا بعد تَزْوِيجه إِيَّاهَا بِتِسْعَة أشهر وَنصف، وَكَانَ سنّهَا يَوْمئِذٍ خمس عشرَة وَخَمْسَة أشهر وَنصفاً، وَكَانَ سنّ عَليّ يَوْمئِذٍ إِحْدَى وَعشْرين سنةً وَخَمْسَة أشهر ۔
كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري (5/ 288) میں ہے : وتزوجها علي أوائل المحرم سنة اثنتين، قيل: إنه تزوجها بعد أن ابتنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعائشة بأربعة أشهر ونصف، وبنى بها بعد تزويجه إياها بتسعة أشهر ونصف، وكان سنها يوم تزويجها خمس عشرة سنةً وخمسة أشهر ونصفًا، وكان سن علي إحدى وعشرين سنةً وخمسة أشهر.
👍1
وقيل: تزوجها في رجب سنة مقدمهم المدينة، وبنى بها مرجعه من بدر، ولها يومئذٍ ثمان عشرة سنةً.وفي الصحيح عن علي قصة الشارفية لما ذبحهما حمزة، وكان علي أراد أن يبني بفاطمة. فهذا يدفع قول من زعم أن تزويجه بها كان بعد أحد، فإن حمزة قُتل بأحد.وولدت له: حسنًا وحُسينًا، ومُحسنًا، وأم كلثوم، وزينب۔
الطبقات الكبرى ط دار صادر (8/ 22) میں ہے : عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «تَزَوَّجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم فِي رَجَبٍ بَعْدَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صلّى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ وَبَنَى بِهَا مَرْجِعَهُ مِنْ بَدْرٍ وَفَاطِمَةُ يَوْمَ بَنَى بِهَا عَلِيٌّ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً ۔
الذرية الطاهرة للدولابي (ص: 63) میں ہے : عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: «تَزَوَّجَ عَلِيُّ فَاطِمَةَ فِي صَفَرٍ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ وَبَنَى بِهَا فِي ذِي الْحِجَّةِ عَلَى رَأْسِ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ شَهْرًا يَعْنِي مِنَ التَّارِيخِ ۔
سبل السلام (2/ 219) میں ہے : (وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: «لما تزوج علي فاطمة - رضي الله عنهما -) هي سيدة نساء العالمين، تزوجها علي - رضي الله عنه - في السنة الثانية من الهجرة في شهر رمضان، وبنى عليها في ذي الحجة ولدت له الحسن والحسين والمحسن ۔
المنتخب من ذيل المذيل (ص: 90) میں ہے : قال الطبري: وتزوج على فاطمة عليها السلام في رجب بعد مقدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة بخمسة أشهر وبنى بها مرجعه من بدر وفاطمة يوم بنى بها على عليه السلام ابنة ثمانى عشرة كذلك ذكر محمد ابن عمر عن عبد الله بن محمد بن عمر بن على عن أبيه ۔
الإصابة في تمييز الصحابة (8/ 264،چشتی) میں ہے : تزوّج عليّ فاطمة في رجب سنة مقدمهم المدينة، وبنى بها مرجعه من بدر، ولها يومئذ ثمان عشرة سنةً.وفي «الصّحيح» عن عليّ قصّة الشّارفين لما ذبحهما حمزة، وكان عليّ أراد أن يبني بفاطمة، فهذا يدفع قول من زعم أنّ تزويجه بها كان بعد أحد، فإن حمزة قتل بأحد ۔
جہیز کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مقداد ابن اسود رضی اللہ عنہ کو رقم دے کر اشیاء خریدنے کے لیے بھیجا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مدد کے لیے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے چیزیں لا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھیں۔ اس وقت حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں۔ مختلف روایات میں جہیز کی فہرست میں ایک قمیص، ایک مقنع (یا خمار یعنی سر ڈھانکنے کے لیے کپڑا)، ایک سیاہ کمبل، کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر، موٹے ٹاٹ کے دو فرش، چار چھوٹے تکیے، ہاتھ کی چکی، کپڑے دھونے کے لیے تانبے کا ایک برتن، چمڑے کی مشک، پانی پینے کے لیے لکڑی کا ایک برتن(بادیہ)، کھجور کے پتوں کا ایک برتن جس پر مٹی پھیر دیتے ہیں، دو مٹی کے آبخورے، مٹی کی صراحی، زمین پر بچھانے کا ایک چمڑا، ایک سفید چادر اور ایک لوٹا شامل تھے۔ یہ مختصر جہیز دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ان پر برکت نازل فرما جن کے اچھے سے اچھے برتن مٹی کے ہیں۔ یہ جہیز اسی رقم سے خریدا گیا تھا جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ بیچ کر حاصل کی تھی۔
نکاح کے کچھ ماہ بعد یکم ذی الحجہ کو آپ کی رخصتی ہوئی۔ رخصتی کے جلوس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اشہب نامی ناقہ پر سوار ہوئیں جس کے ساربان حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ازواج مطہرات جلوس کے آگے آگے تھیں۔ بنی ھاشم ننگی تلواریں لیے جلوس کے ساتھ تھے۔ مسجد کا طواف کرنے کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں اتارا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا اس پر دعائیں پڑھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سر بازؤوں اور سینے پر چھڑک کر دعا کی کہ اے اللہ انہیں اور ان کی اولاد کو شیطان الرجیم سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ ازواج مطہرات نے جلوس کے آگے رجز پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاندان عبدالمطلب اور مہاجرین و انصار کی خواتین کو کہا کہ رجز پڑھیں خدا کی حمد و تکبیر کہیں اور کوئی ایسی بات نہ کہیں اور کریں جس سے خدا ناراض ہوتا ہو۔ بالترتیب امہات المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے رجز پڑھے۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے جو رجز پڑھے ان کا ترجمہ : حضرت ام سلمیٰ کا رجز : اے پڑوسنو چلو اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرو۔ اور جن پریشانیوں اور مصیبتوں کو دور کرکے اللہ نے احسان فرمایا ہے اسے یاد کرو۔ آسمانوں کے پروردگار نے ہمیں کفر کی تاریکیوں سے نکالا اور ہر طرح کا عیش و آرام دیا۔ اے پڑوسنو۔ چلو سیدہ
الطبقات الكبرى ط دار صادر (8/ 22) میں ہے : عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «تَزَوَّجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم فِي رَجَبٍ بَعْدَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صلّى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ وَبَنَى بِهَا مَرْجِعَهُ مِنْ بَدْرٍ وَفَاطِمَةُ يَوْمَ بَنَى بِهَا عَلِيٌّ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً ۔
الذرية الطاهرة للدولابي (ص: 63) میں ہے : عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: «تَزَوَّجَ عَلِيُّ فَاطِمَةَ فِي صَفَرٍ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ وَبَنَى بِهَا فِي ذِي الْحِجَّةِ عَلَى رَأْسِ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ شَهْرًا يَعْنِي مِنَ التَّارِيخِ ۔
سبل السلام (2/ 219) میں ہے : (وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: «لما تزوج علي فاطمة - رضي الله عنهما -) هي سيدة نساء العالمين، تزوجها علي - رضي الله عنه - في السنة الثانية من الهجرة في شهر رمضان، وبنى عليها في ذي الحجة ولدت له الحسن والحسين والمحسن ۔
المنتخب من ذيل المذيل (ص: 90) میں ہے : قال الطبري: وتزوج على فاطمة عليها السلام في رجب بعد مقدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة بخمسة أشهر وبنى بها مرجعه من بدر وفاطمة يوم بنى بها على عليه السلام ابنة ثمانى عشرة كذلك ذكر محمد ابن عمر عن عبد الله بن محمد بن عمر بن على عن أبيه ۔
الإصابة في تمييز الصحابة (8/ 264،چشتی) میں ہے : تزوّج عليّ فاطمة في رجب سنة مقدمهم المدينة، وبنى بها مرجعه من بدر، ولها يومئذ ثمان عشرة سنةً.وفي «الصّحيح» عن عليّ قصّة الشّارفين لما ذبحهما حمزة، وكان عليّ أراد أن يبني بفاطمة، فهذا يدفع قول من زعم أنّ تزويجه بها كان بعد أحد، فإن حمزة قتل بأحد ۔
جہیز کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مقداد ابن اسود رضی اللہ عنہ کو رقم دے کر اشیاء خریدنے کے لیے بھیجا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مدد کے لیے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے چیزیں لا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھیں۔ اس وقت حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں۔ مختلف روایات میں جہیز کی فہرست میں ایک قمیص، ایک مقنع (یا خمار یعنی سر ڈھانکنے کے لیے کپڑا)، ایک سیاہ کمبل، کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر، موٹے ٹاٹ کے دو فرش، چار چھوٹے تکیے، ہاتھ کی چکی، کپڑے دھونے کے لیے تانبے کا ایک برتن، چمڑے کی مشک، پانی پینے کے لیے لکڑی کا ایک برتن(بادیہ)، کھجور کے پتوں کا ایک برتن جس پر مٹی پھیر دیتے ہیں، دو مٹی کے آبخورے، مٹی کی صراحی، زمین پر بچھانے کا ایک چمڑا، ایک سفید چادر اور ایک لوٹا شامل تھے۔ یہ مختصر جہیز دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ان پر برکت نازل فرما جن کے اچھے سے اچھے برتن مٹی کے ہیں۔ یہ جہیز اسی رقم سے خریدا گیا تھا جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ بیچ کر حاصل کی تھی۔
نکاح کے کچھ ماہ بعد یکم ذی الحجہ کو آپ کی رخصتی ہوئی۔ رخصتی کے جلوس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اشہب نامی ناقہ پر سوار ہوئیں جس کے ساربان حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ازواج مطہرات جلوس کے آگے آگے تھیں۔ بنی ھاشم ننگی تلواریں لیے جلوس کے ساتھ تھے۔ مسجد کا طواف کرنے کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں اتارا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا اس پر دعائیں پڑھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سر بازؤوں اور سینے پر چھڑک کر دعا کی کہ اے اللہ انہیں اور ان کی اولاد کو شیطان الرجیم سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ ازواج مطہرات نے جلوس کے آگے رجز پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاندان عبدالمطلب اور مہاجرین و انصار کی خواتین کو کہا کہ رجز پڑھیں خدا کی حمد و تکبیر کہیں اور کوئی ایسی بات نہ کہیں اور کریں جس سے خدا ناراض ہوتا ہو۔ بالترتیب امہات المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے رجز پڑھے۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے جو رجز پڑھے ان کا ترجمہ : حضرت ام سلمیٰ کا رجز : اے پڑوسنو چلو اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرو۔ اور جن پریشانیوں اور مصیبتوں کو دور کرکے اللہ نے احسان فرمایا ہے اسے یاد کرو۔ آسمانوں کے پروردگار نے ہمیں کفر کی تاریکیوں سے نکالا اور ہر طرح کا عیش و آرام دیا۔ اے پڑوسنو۔ چلو سیدہ
زنانِ عالم کے ساتھ جن پر ان کی پھوپھیاں اور خالائیں نثار ہوں۔ اے عالی مرتبت پیغمبر کی بیٹی جسے اللہ نے وحی اور رسالت کے ذریعے سے تمام لوگوں پر فضیلت دی ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا رجز : اے عورتو! چادر اوڑھ لو اور یاد رکھو کہ یہ چیز مجمع میں اچھی سمجھی جاتی ہے ۔
یاد رکھو اس پروردگار کو جس نے اپنے دوسرے شکر گزار بندوں کے ساتھ ہمیں بھی اپنے دینِ حق کے لیے مخصوص فرمایا۔ اللہ کی حمد اس کے فضل و کرم پر اور شکر ہے اس کا جو عزت و قدرت والا ہے۔ حضرت فاطمہ زھرائ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کے چلو کہ اللہ نے ان کے ذکر کو بلند کیا ہے اور ان کے لیے ایک ایسے پاک و پاکیزہ مرد کو مخصوص کیا ہے جو ان ہی کے خاندان سے ہے۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رجز : اے فاطمہ! تم عالم انسانیت کی تمام عورتوں سے بہتر ہو۔ تمہارا چہرہ چاند کی مثل ہے۔ تمہیں اللہ نے تمام دنیا پر فضیلت دی ہے۔ اس شخص کی فضیلت کے ساتھ جس کا فضل و شرف سورہ زمر کی آیتوں میں مذکور ہے۔ اللہ نے تمہاری تزویج ایک صاحب فضائل و مناقب نوجوان سے کی ہے یعنی علی رضی اللہ عنہ سے جو تمام لوگوں سے بہتر ہے۔ پس اے میری پڑوسنو۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لے کر چلو کیونکہ یہ ایک بڑی شان والے باپ کی عزت مآب بیٹی ہے ۔
آپ کی شادی کے بعد زنانِ قریش انہیں طعنے دیتی تھیں کہ ان کی شادی ایک فقیر (غریب) سے کردی گئی ہے۔ جس پر انہوں نے رسالت مآب سے شکایت کی تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہاتھ پکڑا اور تسلی دی کہ اے فاطمہ ایسا نہیں ہے بلکہ میں نے تیری شادی ایک ایسے شخص سے کی ہے جو اسلام میں سب سے اول، علم میں سب سے اکمل اور حلم میں سب سے افضل ہے۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ علی میرا بھائی ہے دنیا اور آخرت میں؟۔ یہ سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہنسنے لگیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اس پر راضی اور خوش ہوں ۔(چشتی)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے آپس میں باہمی رضا مندی سے گھریلو امور اور ذمہ داریوں کی تقسیم کچھ اس طرح کر رکھی تھی کہ باہر کے سارے امور اور ضروریات زندگی کی فراہمی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذمے تھی اور گھر کے سارے کام، چکی پیسنا، جھاڑو دینا، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو امور کی انجام دہی حضرت سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے سپرد تھی۔ ان امور میں آپ کی خوشدامن حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا بھی معاون تھیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مدارج النبوہ میں یہ روایت درج کی ہے کہ یہ تقسیم خود تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ اس طرح ان کی زندگی میں تنگ دستی کے باوجود خوشگوار تعاون اور حسن و سکون پیدا ہوگیا تھا۔
سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھیں کہ بیوی کا مزاج شوہر کے مزاج اور فکرو عمل پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اسے سعادت مندی کی مسند پر بٹھادے اور چاہے تو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرد میدان تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدنی زندگی میں جتنے معرکہ ہائے حق و باطل بپا ہوئے، ان میں علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کاری ضربیں تاریخ شجاعت کا تابناک باب ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فاتح خیبر ، غازی بدر و احد و حنین اور خندق کے صف اول کے مجاہد تھے ۔ ایسے ہمہ جہت مرد مجاہد اور عظیم سپہ سالار کی خدمت کے لئے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی خیر خواہ محب و مخلص اور بہادر زوجہ، قدرت کا اپنا انتخاب تھا۔ حضرت سیدہ زہراء رضی اللہ عنہا نے شوہر نامدار کی جہادی زندگی میں بھرپور معاونت فرمائی۔ انہیں گھریلو کاموں سے فراغت اور بے فکری مہیا کی۔ سارا دن تیغ و تُفنگ سے تھکے ماندے حضرت علی رضی اللہ عنہ جب واپس گھر آتے تو سیدہ رضی اللہ عنہا سو جان سے ان کی خدمت بجا لاتیں۔ ان سے جنگ کے واقعات سن کر ایمان تازہ کرتیں اور ان کی شجاعت کی داد بھی دیتیں۔ زخموں کی مرہم پٹی کرتیں، خون آلود تلوار اور لباس کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتیں، یوں یہ پیکر جرات و شجاعت تازہ دم ہوکر اگلے معرکے کے لئے کمر بستہ ہوجاتے ۔
ہاں ! یہی جذبہ مسلمان بیوی کا طرہ امتیاز ہے ۔ وہ شوہر کی صلاحیت ، وقت اور اس کی جان ومال کو اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو دین کی سربلندی میں صرف کر دینے پر اسے ابھارتی ہے۔ بلاشبہ ایسی خواتین قیامت کے دن مجاہدین کی صف میں کھڑی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی مستحق ٹھہریں گی۔ آج بھی مسلمان خواتین اگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس صفت کو اپنے کردار کا حصہ بنالیں تو ایسے گھرانوں میں تربیت پانے والی اولاد سیدنا امام حسن و سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما اور حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکل میں تاریخ دعوت و عزیمت کا قابل فخر سرمایہ کیوں نہیں
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا رجز : اے عورتو! چادر اوڑھ لو اور یاد رکھو کہ یہ چیز مجمع میں اچھی سمجھی جاتی ہے ۔
یاد رکھو اس پروردگار کو جس نے اپنے دوسرے شکر گزار بندوں کے ساتھ ہمیں بھی اپنے دینِ حق کے لیے مخصوص فرمایا۔ اللہ کی حمد اس کے فضل و کرم پر اور شکر ہے اس کا جو عزت و قدرت والا ہے۔ حضرت فاطمہ زھرائ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کے چلو کہ اللہ نے ان کے ذکر کو بلند کیا ہے اور ان کے لیے ایک ایسے پاک و پاکیزہ مرد کو مخصوص کیا ہے جو ان ہی کے خاندان سے ہے۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رجز : اے فاطمہ! تم عالم انسانیت کی تمام عورتوں سے بہتر ہو۔ تمہارا چہرہ چاند کی مثل ہے۔ تمہیں اللہ نے تمام دنیا پر فضیلت دی ہے۔ اس شخص کی فضیلت کے ساتھ جس کا فضل و شرف سورہ زمر کی آیتوں میں مذکور ہے۔ اللہ نے تمہاری تزویج ایک صاحب فضائل و مناقب نوجوان سے کی ہے یعنی علی رضی اللہ عنہ سے جو تمام لوگوں سے بہتر ہے۔ پس اے میری پڑوسنو۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لے کر چلو کیونکہ یہ ایک بڑی شان والے باپ کی عزت مآب بیٹی ہے ۔
آپ کی شادی کے بعد زنانِ قریش انہیں طعنے دیتی تھیں کہ ان کی شادی ایک فقیر (غریب) سے کردی گئی ہے۔ جس پر انہوں نے رسالت مآب سے شکایت کی تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہاتھ پکڑا اور تسلی دی کہ اے فاطمہ ایسا نہیں ہے بلکہ میں نے تیری شادی ایک ایسے شخص سے کی ہے جو اسلام میں سب سے اول، علم میں سب سے اکمل اور حلم میں سب سے افضل ہے۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ علی میرا بھائی ہے دنیا اور آخرت میں؟۔ یہ سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہنسنے لگیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اس پر راضی اور خوش ہوں ۔(چشتی)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے آپس میں باہمی رضا مندی سے گھریلو امور اور ذمہ داریوں کی تقسیم کچھ اس طرح کر رکھی تھی کہ باہر کے سارے امور اور ضروریات زندگی کی فراہمی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذمے تھی اور گھر کے سارے کام، چکی پیسنا، جھاڑو دینا، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو امور کی انجام دہی حضرت سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے سپرد تھی۔ ان امور میں آپ کی خوشدامن حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا بھی معاون تھیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مدارج النبوہ میں یہ روایت درج کی ہے کہ یہ تقسیم خود تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ اس طرح ان کی زندگی میں تنگ دستی کے باوجود خوشگوار تعاون اور حسن و سکون پیدا ہوگیا تھا۔
سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھیں کہ بیوی کا مزاج شوہر کے مزاج اور فکرو عمل پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اسے سعادت مندی کی مسند پر بٹھادے اور چاہے تو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرد میدان تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدنی زندگی میں جتنے معرکہ ہائے حق و باطل بپا ہوئے، ان میں علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کاری ضربیں تاریخ شجاعت کا تابناک باب ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فاتح خیبر ، غازی بدر و احد و حنین اور خندق کے صف اول کے مجاہد تھے ۔ ایسے ہمہ جہت مرد مجاہد اور عظیم سپہ سالار کی خدمت کے لئے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی خیر خواہ محب و مخلص اور بہادر زوجہ، قدرت کا اپنا انتخاب تھا۔ حضرت سیدہ زہراء رضی اللہ عنہا نے شوہر نامدار کی جہادی زندگی میں بھرپور معاونت فرمائی۔ انہیں گھریلو کاموں سے فراغت اور بے فکری مہیا کی۔ سارا دن تیغ و تُفنگ سے تھکے ماندے حضرت علی رضی اللہ عنہ جب واپس گھر آتے تو سیدہ رضی اللہ عنہا سو جان سے ان کی خدمت بجا لاتیں۔ ان سے جنگ کے واقعات سن کر ایمان تازہ کرتیں اور ان کی شجاعت کی داد بھی دیتیں۔ زخموں کی مرہم پٹی کرتیں، خون آلود تلوار اور لباس کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتیں، یوں یہ پیکر جرات و شجاعت تازہ دم ہوکر اگلے معرکے کے لئے کمر بستہ ہوجاتے ۔
ہاں ! یہی جذبہ مسلمان بیوی کا طرہ امتیاز ہے ۔ وہ شوہر کی صلاحیت ، وقت اور اس کی جان ومال کو اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو دین کی سربلندی میں صرف کر دینے پر اسے ابھارتی ہے۔ بلاشبہ ایسی خواتین قیامت کے دن مجاہدین کی صف میں کھڑی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی مستحق ٹھہریں گی۔ آج بھی مسلمان خواتین اگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس صفت کو اپنے کردار کا حصہ بنالیں تو ایسے گھرانوں میں تربیت پانے والی اولاد سیدنا امام حسن و سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما اور حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکل میں تاریخ دعوت و عزیمت کا قابل فخر سرمایہ کیوں نہیں
👍1
بنے گی اور آئندہ مؤرخ ان گھرانوں کو کیسے خراج تحسین پیش نہیں کرے گا ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی سورہ الفتح میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ وہ : (1) اہل کفر کے لئے شدت پسند ہیں (2) اہل ایمان کے لئے پیکر رحمت و شفقت ہیں (3) ان کی پیشانیوں میں سجدوں کی کثرت کی واضح علامت ہے۔ (4) ان کے شب و روز حالت رکوع و سجود میں رضائے الہٰی کی طلب میں گزرتے ہیں ۔
صاف ظاہر ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام و منصب اس بات کا متقاضی تھاکہ وہ ان صفات عالیہ میں عام صحابہ کرام رضی اللہ عہنم سے بڑھ چڑھ کر اپنی قربت اور خصوصیت کا ثبوت فراہم کرتے۔ تاریخ گواہ ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عملاً ایسا کرکے دکھایا آپ بچپن سے فیضان نبوت و رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے براہ راست امین تھے ۔ عارف کامل اور زاہد شب زندہ دار تھے ۔ ان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تھی ۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت مطہرہ پر بھی یہی صفات غالب تھیں۔ دونوں نے مَہْبِطِ وحی میں پرورش پائی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات دونوں کے پیش نظر تھے اس لئے دونوں ہستیوں کا اوڑھنا بچھونا اسلام کی خدمت اور عبادت و ریاضت تھا۔ اس کا اعتراف سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ازدواجی زندگی کے ابتدائی دنوں میں کرلیا جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا، ’’سناؤ علی! شریکہ حیات کیسی ملی ہے؟‘‘ عرض کیا ’’نعم العون علی العبادۃ‘‘ میری شریکہ حیات فاطمہ میری عبادت گزاری میں بہترین معاون ہیں ۔(چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کل کائنات یہ گھر اور آپ کا سب سرمایہ علم تھا جس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا : اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں‘‘ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نعمت عظمٰی پر ہمیشہ فخرکرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر زبان زد خاص و عام ہوکر طالبان علم کو بہت بڑا شرف بخش گیا ہے ۔
رضِينا قِسمة الجبّار فِينا لنا علمٌ ولِلجُهّال مالٌ ۔
ترجمہ : ہم خالق ارض و سماوات کی اس تقسیم پر خوش ہیں جس کے تحت اس نے ہمارے مقدر میں علم کی سعادت اور جہلاء کے لئے مال و دولت رکھ دیا۔
مراد یہ کہ دنیوی مال و اسباب علم کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انسان کی عظمت علم سے وابستہ ہے نہ کہ مال و دولت سے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت علم سے مالا مال تھے لیکن سیم و زر سے آپ کا دامن ہمیشہ خالی رہا اس لئے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی ساری زندگی فقر و فاقہ اور تنگ دستی میں گزری۔ کونین کے مالک کی لاڈلی دو دو اور تین تین دن کچھ کھائے پئے بغیر گزار دیتیں لیکن حرف شکایت زبان پر نہ لاتیں۔ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دینی فرائض سے فرصت پاکر محنت مزدوری کرتے جو ملتا وہ لاکر سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے ہاتھ میں دے دیتے اور آپ اسے صبر و شکر کے ساتھ قبول فرمالیتیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ فقرو تنگ دستی آپ دونوں کے خوشگوار تعلقات پر اثر انداز ہوئی ہو ۔
تنگ دستی پر صبر و ضبط کرلینا شاید آسان ہو لیکن اس حالت پر راضی اور خوش ہوکر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا اور چہرے پر کبھی ناگواری کے آثار تک نہ لانا بہت بڑے حوصلے اور پختہ کردار کی علامت ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ آپ ’’الفقر فخری‘‘ کہنے والے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت یافتہ عظیم بیٹی ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سیدہ کونین رضی اللہ عنہا کو دو تین دنوں کے فاقہ کے بعد کچھ ملا۔ اپنے شہزادوں اور شوہر کو کھلانے کے بعد اس کا کچھ حصہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! ’’میری بیٹی تمہارا باپ یہ لقمہ چار دن کے بعد کھارہا ہے‘‘ ہاں! یہ وہی گھرانہ ہے جہاں سے مخلوق کو دونوں جہانوں کے خزانے تقسیم کئے جاتے تھے اور اب تک کئے جارہے ہیں لیکن فقر اختیاری تھا کہ اپنی ذات پر ہمیشہ دوسروں کو ترجیح دی ۔
کل جہاں مِلک اور جو کی روٹی غذا
اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہمیشہ توازن برقرار رکھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عبادت و ریاضت میں محو ہوکر شوہر کی خدمت اور بچوں کی پرورش میں کمی آئی ہو، یا بچوں اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں عبادت و ریاضت کے معمولات متاثر ہوئے ہوں۔اللہ کی عبادت اورشوہر کی اطاعت میں یہی حسنِ توازن ہے جو خاتونِ جنت کی کامیاب ترین اور مثالی حیاتِ مقدسہ کا طرہ امتیاز ہے۔ورنہ عام طور پر ان دونوں محاذوں پر خواتین و حضرات انصاف نہیں کر پاتے خصوصاً خواتین کے لئے یہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی سورہ الفتح میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ وہ : (1) اہل کفر کے لئے شدت پسند ہیں (2) اہل ایمان کے لئے پیکر رحمت و شفقت ہیں (3) ان کی پیشانیوں میں سجدوں کی کثرت کی واضح علامت ہے۔ (4) ان کے شب و روز حالت رکوع و سجود میں رضائے الہٰی کی طلب میں گزرتے ہیں ۔
صاف ظاہر ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام و منصب اس بات کا متقاضی تھاکہ وہ ان صفات عالیہ میں عام صحابہ کرام رضی اللہ عہنم سے بڑھ چڑھ کر اپنی قربت اور خصوصیت کا ثبوت فراہم کرتے۔ تاریخ گواہ ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عملاً ایسا کرکے دکھایا آپ بچپن سے فیضان نبوت و رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے براہ راست امین تھے ۔ عارف کامل اور زاہد شب زندہ دار تھے ۔ ان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تھی ۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت مطہرہ پر بھی یہی صفات غالب تھیں۔ دونوں نے مَہْبِطِ وحی میں پرورش پائی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات دونوں کے پیش نظر تھے اس لئے دونوں ہستیوں کا اوڑھنا بچھونا اسلام کی خدمت اور عبادت و ریاضت تھا۔ اس کا اعتراف سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ازدواجی زندگی کے ابتدائی دنوں میں کرلیا جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا، ’’سناؤ علی! شریکہ حیات کیسی ملی ہے؟‘‘ عرض کیا ’’نعم العون علی العبادۃ‘‘ میری شریکہ حیات فاطمہ میری عبادت گزاری میں بہترین معاون ہیں ۔(چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کل کائنات یہ گھر اور آپ کا سب سرمایہ علم تھا جس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا : اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں‘‘ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نعمت عظمٰی پر ہمیشہ فخرکرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر زبان زد خاص و عام ہوکر طالبان علم کو بہت بڑا شرف بخش گیا ہے ۔
رضِينا قِسمة الجبّار فِينا لنا علمٌ ولِلجُهّال مالٌ ۔
ترجمہ : ہم خالق ارض و سماوات کی اس تقسیم پر خوش ہیں جس کے تحت اس نے ہمارے مقدر میں علم کی سعادت اور جہلاء کے لئے مال و دولت رکھ دیا۔
مراد یہ کہ دنیوی مال و اسباب علم کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انسان کی عظمت علم سے وابستہ ہے نہ کہ مال و دولت سے۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت علم سے مالا مال تھے لیکن سیم و زر سے آپ کا دامن ہمیشہ خالی رہا اس لئے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی ساری زندگی فقر و فاقہ اور تنگ دستی میں گزری۔ کونین کے مالک کی لاڈلی دو دو اور تین تین دن کچھ کھائے پئے بغیر گزار دیتیں لیکن حرف شکایت زبان پر نہ لاتیں۔ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دینی فرائض سے فرصت پاکر محنت مزدوری کرتے جو ملتا وہ لاکر سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے ہاتھ میں دے دیتے اور آپ اسے صبر و شکر کے ساتھ قبول فرمالیتیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ فقرو تنگ دستی آپ دونوں کے خوشگوار تعلقات پر اثر انداز ہوئی ہو ۔
تنگ دستی پر صبر و ضبط کرلینا شاید آسان ہو لیکن اس حالت پر راضی اور خوش ہوکر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا اور چہرے پر کبھی ناگواری کے آثار تک نہ لانا بہت بڑے حوصلے اور پختہ کردار کی علامت ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ آپ ’’الفقر فخری‘‘ کہنے والے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت یافتہ عظیم بیٹی ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سیدہ کونین رضی اللہ عنہا کو دو تین دنوں کے فاقہ کے بعد کچھ ملا۔ اپنے شہزادوں اور شوہر کو کھلانے کے بعد اس کا کچھ حصہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! ’’میری بیٹی تمہارا باپ یہ لقمہ چار دن کے بعد کھارہا ہے‘‘ ہاں! یہ وہی گھرانہ ہے جہاں سے مخلوق کو دونوں جہانوں کے خزانے تقسیم کئے جاتے تھے اور اب تک کئے جارہے ہیں لیکن فقر اختیاری تھا کہ اپنی ذات پر ہمیشہ دوسروں کو ترجیح دی ۔
کل جہاں مِلک اور جو کی روٹی غذا
اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہمیشہ توازن برقرار رکھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عبادت و ریاضت میں محو ہوکر شوہر کی خدمت اور بچوں کی پرورش میں کمی آئی ہو، یا بچوں اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں عبادت و ریاضت کے معمولات متاثر ہوئے ہوں۔اللہ کی عبادت اورشوہر کی اطاعت میں یہی حسنِ توازن ہے جو خاتونِ جنت کی کامیاب ترین اور مثالی حیاتِ مقدسہ کا طرہ امتیاز ہے۔ورنہ عام طور پر ان دونوں محاذوں پر خواتین و حضرات انصاف نہیں کر پاتے خصوصاً خواتین کے لئے یہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’فاطمہ رضی اللہ عنہا جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کو فریضہ سمجھتی تھی اسی طرح میری اطاعت بھی کرتی تھی۔ عبادت و ریاضت کے انتہائی سخت معمولات میں اس نے میری خدمت میں ذرہ بھر فرق نہ آنے دیا۔ وہ ہمیشہ گھر کی صفائی کرتی، چکی پر گردو غبار نہ پڑنے دیتی، صبح کی نماز سے پہلے بچھونہ تہہ کرکے رکھ دیتی گھر کے برتن صاف ستھرے ہوتے۔ ان کی چادر میں پیوند ضرور تھے مگر وہ کبھی میلی نہیں ہوتی تھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گھر میں سامان خوردو نوش موجود ہو اور انہوں نے کھانا تیار کرنے میں دیر کی ہو، خود کبھی پہلے نہ کھاتی، زیور اور ریشمی کپڑوں کی کبھی فرمائش نہ کی، طبیعت میں بے نیازی رہی، جو ملتا اس پر صبر شکر کرتی، میری کبھی نافرمانی نہیں کی، اس لیے میں جب بھی فاطم رضی اللہ عنہا کو دیکھتا تو میرے تمام غم غلط ہو جاتے ۔
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی یہی پاکیزہ ادائیں تھیں جن پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دل و جان سے فدا تھے۔ ان کی موجودگی میں دوسرا نکاح نہیں کیا۔ کسی نے وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ’’سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کیسی تھیں ؟‘‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نم دیدہ ہوکر کہنے لگے ۔ ’’فاطمہ رضی اللہ عنہ دنیا کی بہترین عورت تھی، وہ جنت کا ایسا پھول تھا جس کے مرجھا جانے کے بعد بھی مشام جان معطر ہے۔ جب تک زندہ رہی مجھے ان سے کوئی شکایت نہ ہوئی ۔ جگر گوشۂ رسول، حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نکاح کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے دولت خانہ میں تشریف لائیں تو گھر کے تمام کاموں کی ذمّہ داری آپ پر آ پڑی آپ رضی اللہ عنہ نے اس ذمّہ داری کو بڑے اَحسن انداز میں نبھایا اور ہر طرح کے حالات میں اپنے عظیم ُ المرتبت شوہر کا ساتھ دیا ۔
حضرتِ سیِّدُنا ضَمْرَہ بن حبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمورِ خانہ داری (مثلاً چکی پیسنے ، جھاڑو دینے ، کھانا پکانے کے کام وغیرہ) اپنی شہزادی حضرت فاطمۃُالزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سپُرد فرمائے اور گھر سے باہر کے کام (مثلاً بازار سے سودا سلف لانا ، اُونٹ کوپانی پلاناوغیرہ) حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ذمّہ لگا دیئے ۔ (اَلْمُصَنَّف لِاِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃ، کتاب الزھد،کلام علی بن ابی طالب، ج۸، ص۱۵۷، الحدیث:۱۴،چشتی)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدۂ ماجدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کی ، ’’فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا آپ کی خدمت اور گھر کے کام کاجکیا کریں گی ۔ (اَلْاِصَابَۃُ فِیْ تَمْیِیْزِ الصَّحَابَۃِ، ج۸، ص۲۹۷)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کا مطالَعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا خانہ داری کے کاموں کی اَنجام دہی کے لئے کبھی کسی رشتہ دار یا ہمسائی کو اپنی مدد کے لئے نہیں بلاتی تھیں ۔ نہ کام کی کثرت اور نہ کسی قسم کی محنت مشقت سے گھبراتی تھیں ۔ ساری عمر شوہر کے سامنے حرفِ شکایت زبان پر نہ لائیں اور نہ ان سے کسی چیز کی فرمائش کی۔ کھانے کا اُصول یہ تھا کہ چاہے خود فاقے سے ہوں جب تک شوہر اور بچوں کو نہ کھلالیتیں خود ایک لقمہ بھی منہ میں نہ ڈالتیں ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا گہوارہ صبر و رضا کی پروردہ تھیں ۔ آپ کے ہاتھ تو چکی چلانے میں مصروف رہتے لیکن زباں پر قرآن پاک کی تلاوت جاری رہتی ۔ نوری اور ناری مخلوق آپ رضی اللہ عنہا کی مطیع اور فرمانبردار تھی لیکن اس سے بے نیاز ہوکر آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی رضا کو شوہر کی رضا میں گم کر رکھا تھا ۔ آپ سحر خیزی اور گریہ شب کی وجہ سے سرہانے اور بستر کے آرام اور تکلف سے بے نیاز تھیں۔ نماز کے وقت آپ کے اشک گہر بار اتنی کثرت سے جاری رہتے کہ جبرائیل امین علیہ السلام ان اشک کے موتیوں کو زمین سے چن کر عرش بریں پر شبنم کی طرح گراتے تھے ۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کو آج اگر مسلمان عورت یہ نقوش حرز جاں بنالے تو تاریخ کے اس نازک ترین دور میں بھی اسلام کی برکت سے ہمارا ماحول رشک جنت بن سکتا ہے۔ تباہی کے کنارے کھڑی انسانیت کو آج بھی رحمۃ للعالمین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کی سیرت، فوزو فلاح کاپیغام دے رہی ہے ۔ اب یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ شرف انسانیت کا عنوان بنتی ہے یا تخریب اخلاق و کردار کے ذریعے تباہی کا ہتھیار ۔
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض اضمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_64.html
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی یہی پاکیزہ ادائیں تھیں جن پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دل و جان سے فدا تھے۔ ان کی موجودگی میں دوسرا نکاح نہیں کیا۔ کسی نے وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ’’سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کیسی تھیں ؟‘‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نم دیدہ ہوکر کہنے لگے ۔ ’’فاطمہ رضی اللہ عنہ دنیا کی بہترین عورت تھی، وہ جنت کا ایسا پھول تھا جس کے مرجھا جانے کے بعد بھی مشام جان معطر ہے۔ جب تک زندہ رہی مجھے ان سے کوئی شکایت نہ ہوئی ۔ جگر گوشۂ رسول، حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نکاح کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے دولت خانہ میں تشریف لائیں تو گھر کے تمام کاموں کی ذمّہ داری آپ پر آ پڑی آپ رضی اللہ عنہ نے اس ذمّہ داری کو بڑے اَحسن انداز میں نبھایا اور ہر طرح کے حالات میں اپنے عظیم ُ المرتبت شوہر کا ساتھ دیا ۔
حضرتِ سیِّدُنا ضَمْرَہ بن حبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمورِ خانہ داری (مثلاً چکی پیسنے ، جھاڑو دینے ، کھانا پکانے کے کام وغیرہ) اپنی شہزادی حضرت فاطمۃُالزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سپُرد فرمائے اور گھر سے باہر کے کام (مثلاً بازار سے سودا سلف لانا ، اُونٹ کوپانی پلاناوغیرہ) حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ذمّہ لگا دیئے ۔ (اَلْمُصَنَّف لِاِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃ، کتاب الزھد،کلام علی بن ابی طالب، ج۸، ص۱۵۷، الحدیث:۱۴،چشتی)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدۂ ماجدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کی ، ’’فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا آپ کی خدمت اور گھر کے کام کاجکیا کریں گی ۔ (اَلْاِصَابَۃُ فِیْ تَمْیِیْزِ الصَّحَابَۃِ، ج۸، ص۲۹۷)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کا مطالَعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا خانہ داری کے کاموں کی اَنجام دہی کے لئے کبھی کسی رشتہ دار یا ہمسائی کو اپنی مدد کے لئے نہیں بلاتی تھیں ۔ نہ کام کی کثرت اور نہ کسی قسم کی محنت مشقت سے گھبراتی تھیں ۔ ساری عمر شوہر کے سامنے حرفِ شکایت زبان پر نہ لائیں اور نہ ان سے کسی چیز کی فرمائش کی۔ کھانے کا اُصول یہ تھا کہ چاہے خود فاقے سے ہوں جب تک شوہر اور بچوں کو نہ کھلالیتیں خود ایک لقمہ بھی منہ میں نہ ڈالتیں ۔
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا گہوارہ صبر و رضا کی پروردہ تھیں ۔ آپ کے ہاتھ تو چکی چلانے میں مصروف رہتے لیکن زباں پر قرآن پاک کی تلاوت جاری رہتی ۔ نوری اور ناری مخلوق آپ رضی اللہ عنہا کی مطیع اور فرمانبردار تھی لیکن اس سے بے نیاز ہوکر آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی رضا کو شوہر کی رضا میں گم کر رکھا تھا ۔ آپ سحر خیزی اور گریہ شب کی وجہ سے سرہانے اور بستر کے آرام اور تکلف سے بے نیاز تھیں۔ نماز کے وقت آپ کے اشک گہر بار اتنی کثرت سے جاری رہتے کہ جبرائیل امین علیہ السلام ان اشک کے موتیوں کو زمین سے چن کر عرش بریں پر شبنم کی طرح گراتے تھے ۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کو آج اگر مسلمان عورت یہ نقوش حرز جاں بنالے تو تاریخ کے اس نازک ترین دور میں بھی اسلام کی برکت سے ہمارا ماحول رشک جنت بن سکتا ہے۔ تباہی کے کنارے کھڑی انسانیت کو آج بھی رحمۃ للعالمین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کی سیرت، فوزو فلاح کاپیغام دے رہی ہے ۔ اب یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ شرف انسانیت کا عنوان بنتی ہے یا تخریب اخلاق و کردار کے ذریعے تباہی کا ہتھیار ۔
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض اضمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_64.html
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ ششم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : گدائے درِ اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی بارگاہِ شہزادی رسول خاتون جنّت حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا میں یہ نذرانہ عقیدت احادیث مبارکہ سے چن کر پیش کر رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ یہ نذرانہ اس فقیر کےلیئے ذریعہ نجات بنے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے آمین ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس بارے میں سیدہ سلام ﷲ علیہا سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی مرض میں وصال ہو جائے گا ۔ پس میں رونے لگی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعد آؤ گی اس پر میں ہنس پڑی ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3511، و کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1327، الرقم : 3427، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1904، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 296، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 77، و في فضائل الصحابة، 2 / 754، الرقم : 1322،چشتی)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع تھیں اور کوئی ایک بھی ہم میں سے غیر حاضر نہ تھی، اِتنے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنھا وہاں تشریف لے آئیں ، تو ﷲ کی قسم اُن کا چلنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے سے ذَرّہ بھر مختلف نہ تھا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستئذان، باب : من ناجي بين الناس ومن لم بسر صاحبه فإذا مات أخبر به، 5 / 2317، الرقم : 5928، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 263، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الطيالسي في المسند : 196، الرقم : 1373، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 247، و الدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 101، 102، الرقم : 188،چشتی)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اَزواج جمع تھیں اور کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنھا آئیں جن کی چال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے کے مشابہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مرحبا (خوش آمدید) میری بیٹی ! پھر اُنہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا ۔ اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، 1906، الرقم : 2450، و ابن ماجة في السنن، کتاب : ماجاء في الجنائز، باب : ماجاء في ذکر مرض رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 1 / 518، الرقم؛ 1620، و النسائي في السنن الکبري، 4 / 251، الرقم : 7078، 5 / 96، 146، الرقم : 8368، 8516، 8517، و في فضائل الصحابة، 77، الرقم : 263، و في کتاب الوفاة، 1 / 20، الرقم : 2،چشتی)
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اَطوار ، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 700، الرقم : 3872، و أبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ماجاء في القيام، 4 / 355، الرقم : 5217، و النسائي في فضائل الصحابة : 78، الرقم : 264، و الحاکم في المستدرک، 4 / 303، الرقم : 7715، و البيهقي في السنن الکبري، 5
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ ششم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : گدائے درِ اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی بارگاہِ شہزادی رسول خاتون جنّت حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا میں یہ نذرانہ عقیدت احادیث مبارکہ سے چن کر پیش کر رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ یہ نذرانہ اس فقیر کےلیئے ذریعہ نجات بنے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے آمین ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس بارے میں سیدہ سلام ﷲ علیہا سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی مرض میں وصال ہو جائے گا ۔ پس میں رونے لگی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعد آؤ گی اس پر میں ہنس پڑی ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3511، و کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1327، الرقم : 3427، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1904، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 296، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 77، و في فضائل الصحابة، 2 / 754، الرقم : 1322،چشتی)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع تھیں اور کوئی ایک بھی ہم میں سے غیر حاضر نہ تھی، اِتنے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنھا وہاں تشریف لے آئیں ، تو ﷲ کی قسم اُن کا چلنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے سے ذَرّہ بھر مختلف نہ تھا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستئذان، باب : من ناجي بين الناس ومن لم بسر صاحبه فإذا مات أخبر به، 5 / 2317، الرقم : 5928، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 263، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الطيالسي في المسند : 196، الرقم : 1373، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 247، و الدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 101، 102، الرقم : 188،چشتی)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اَزواج جمع تھیں اور کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنھا آئیں جن کی چال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے کے مشابہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مرحبا (خوش آمدید) میری بیٹی ! پھر اُنہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا ۔ اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، 1906، الرقم : 2450، و ابن ماجة في السنن، کتاب : ماجاء في الجنائز، باب : ماجاء في ذکر مرض رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 1 / 518، الرقم؛ 1620، و النسائي في السنن الکبري، 4 / 251، الرقم : 7078، 5 / 96، 146، الرقم : 8368، 8516، 8517، و في فضائل الصحابة، 77، الرقم : 263، و في کتاب الوفاة، 1 / 20، الرقم : 2،چشتی)
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اَطوار ، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 700، الرقم : 3872، و أبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ماجاء في القيام، 4 / 355، الرقم : 5217، و النسائي في فضائل الصحابة : 78، الرقم : 264، و الحاکم في المستدرک، 4 / 303، الرقم : 7715، و البيهقي في السنن الکبري، 5
👍1
/ 96، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 248، و إبن جوزي في صفة الصفوة، 2 / 6، 7،چشتی)
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام بخاری نے ’’ الادب المفرد ‘‘ میں اور امام نسائی و ابن حبان نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 326، 377، الرقم : 947، 971، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 391، الرقم : 9236، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 403، الرقم : 6953، و الحاکم في المستدرک، 3 / 167، 174، الرقم : 4732، 4753، و الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 242، الرقم : 40890، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 101، و ابن راهوية في المسند، 1 / 8، الرقم : 6،چشتی)
حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت : ’’جب ﷲ کی مدد اور فتح آ پہنچے ۔ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا اور فرمایا : میری وفات کی خبر آ گئی ہے، وہ رو پڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، بے شک تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو وہ ہنس پڑیں ، اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج نے بھی دیکھا۔ انہوں نے کہا : فاطمہ! (کیا ماجرا ہے)، ہم نے آپ کو پہلے روتے اور پھر ہنستے ہوئے دیکھا ہے؟ آپ نے جواب دیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا : میری وفات کا وقت آ پہنچا ہے ۔ (اس پر) میں رو پڑی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، تم میرے خاندان میں سب سے پہلے مجھے ملو گی، تو میں ہنس پڑی ۔ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔(أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 51، الرقم : 79، و ابن کثير في تفسير قرآن العظيم، 4،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : دَعَا رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة اللَّهُمَّ، إِنِّي أُعِيْذُهَابِکَ وَ ذُرِّيَتَهَا مِنَ الْشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ.رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لئے خصوصی دعا فرمائی : اے ﷲ! میں (اپنی) اس (بیٹی) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن حبان، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 15 / 394، 395، الرقم : 6944، و الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 409، الرقم : 1021، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الهيثمي في موارد الظمآن، 550، 551، الرقم : 2225، و ابن الجوزي في تذکرة الخواص، 1 / 277، و المحب الطبري في ذخائر العقبي، 1 / 67،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : لَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ فَاطِمَة سلام ﷲ عليهم. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی اور حضرت فاطمہ الزہراء (رضی اللہ عنھم) سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا ۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 164،چشتی)
حضرت امّ سلمی رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیھا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی ۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاںتک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے ۔ سیدۂ کائنات نے کہا : اے اماں ! میرے غسل کے لیے پانی لائیں ۔ میں پانی لائی ۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا ۔ پھر بولیں : اماں جی ! مجھے نیا لباس دیں۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا : اماں جی : اب میری وفات ہو جائے گی ، میں (غسل کر کے) پاک ہو چکی ہوں، لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت اُمّ سلمی بیان کرتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی ۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 461، الرقم : 27656. 27657، والدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 113، والزيلعي في نصب الراية، 2 / 250، والطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، 1 / 103، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 210، وابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 221،چشتی)
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام بخاری نے ’’ الادب المفرد ‘‘ میں اور امام نسائی و ابن حبان نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 326، 377، الرقم : 947، 971، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 391، الرقم : 9236، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 403، الرقم : 6953، و الحاکم في المستدرک، 3 / 167، 174، الرقم : 4732، 4753، و الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 242، الرقم : 40890، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 101، و ابن راهوية في المسند، 1 / 8، الرقم : 6،چشتی)
حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت : ’’جب ﷲ کی مدد اور فتح آ پہنچے ۔ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا اور فرمایا : میری وفات کی خبر آ گئی ہے، وہ رو پڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، بے شک تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو وہ ہنس پڑیں ، اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج نے بھی دیکھا۔ انہوں نے کہا : فاطمہ! (کیا ماجرا ہے)، ہم نے آپ کو پہلے روتے اور پھر ہنستے ہوئے دیکھا ہے؟ آپ نے جواب دیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا : میری وفات کا وقت آ پہنچا ہے ۔ (اس پر) میں رو پڑی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، تم میرے خاندان میں سب سے پہلے مجھے ملو گی، تو میں ہنس پڑی ۔ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔(أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 51، الرقم : 79، و ابن کثير في تفسير قرآن العظيم، 4،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : دَعَا رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة اللَّهُمَّ، إِنِّي أُعِيْذُهَابِکَ وَ ذُرِّيَتَهَا مِنَ الْشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ.رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لئے خصوصی دعا فرمائی : اے ﷲ! میں (اپنی) اس (بیٹی) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن حبان، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 15 / 394، 395، الرقم : 6944، و الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 409، الرقم : 1021، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الهيثمي في موارد الظمآن، 550، 551، الرقم : 2225، و ابن الجوزي في تذکرة الخواص، 1 / 277، و المحب الطبري في ذخائر العقبي، 1 / 67،چشتی)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : لَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ فَاطِمَة سلام ﷲ عليهم. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی اور حضرت فاطمہ الزہراء (رضی اللہ عنھم) سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا ۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 164،چشتی)
حضرت امّ سلمی رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیھا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی ۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاںتک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے ۔ سیدۂ کائنات نے کہا : اے اماں ! میرے غسل کے لیے پانی لائیں ۔ میں پانی لائی ۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا ۔ پھر بولیں : اماں جی ! مجھے نیا لباس دیں۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا : اماں جی : اب میری وفات ہو جائے گی ، میں (غسل کر کے) پاک ہو چکی ہوں، لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت اُمّ سلمی بیان کرتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی ۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 461، الرقم : 27656. 27657، والدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 113، والزيلعي في نصب الراية، 2 / 250، والطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، 1 / 103، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 210، وابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 221،چشتی)
عَنْ جَابِرٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لِکُلِّ بَنِي أُمٍّ عُصْبَةٌ يَنْتِمُوْنَ إِلَيْهِمْ إِلَّا ابْنَي فَاطِمَة، فَأَنَا وَلِيُهُمَا وَ عُصْبَتُهُمَا.رَوَاهُ الْحَاکِمُ ۔
ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر ماں کی اولاد کا عصبہ (باپ) ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے، سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، کہ میں ہی اُن کا ولی اور میں ہی اُن کا نسب ہوں ۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 179، الرقم : 4770، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف بحب اَقرباء الرسول صلي الله عليه وآله وسلم و ذَوِي الشرف، 1 / 130،چشتی)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي ﷲ عنه قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُلُّ نَسَبٍ وَ سَبَبٍ يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَة إِلَّا مَا کَانَ مِنْ سَبَبِي وَ نَسَبِي. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ .
ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میرے نسب اور رشتہ کے سوا قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم، احمد اور بزار نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 153، الرقم : 4684، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 625، 626، 758، الرقم : 1069، 1070، 1333، و البزار في المسند، 1 / 397، الرقم : 274، و الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 44، 45، الرقم : 2633، 2634، و في المعجم الأوسط، 5 / 376، الرقم : 5606، 6 / 357، الرقم : 6609،چشتی)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے ہاں گئے اور کہا : اے فاطمہ! خدا کی قسم! میں نے آپ کے سوا کسی شخص کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک محبوب تر نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! لوگوں میں سے مجھے بھی آپ کے والد محترم کے بعد کوئی آپ سے زیادہ محبوب نہیں ۔ اسے امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 168، الرقم : 4736، و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 432، الرقم : 37045، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 364، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 360، الرقم : 2952، والخطيب في تاريخ بغداد، 4 / 401،چشتی)
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ فَاطِمَة حَصَّنَتْ فَرْجَهَا فَحَرَّمَهَا ﷲُ وَ ذُرِّيَتَهَا عَلَي النَّارِ.رَوَاهُ الطَّبَرانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ.
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ نے اپنی عصمت و پاک دامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کی اولاد کو آگ پر حرام فرما دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام طبرانی، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 407، الرقم : 1018، و البزار في المسند، 5 / 223، الرقم : 1829، و الحاکم في المستدرک، 3 / 165، الرقم : 4726، و أبو نعيم في حلية الأولياء، 4 / 188، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 115، 116،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي ﷲ عنهما، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : إِنَّ ﷲَ عزوجل غَيْرُ مُعَذِّبِکِ وَلَا وُلْدِکِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 263، الرقم : 11685، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 202، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 117،چشتی)
عَنْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها قَالَتْ : مَا رَأيْتُ أفْضَلَ مِنْ فَاطِمَة رضي ﷲ عنها غَيْرَ أبِيْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے افضل اُن کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی شخص نہیں پایا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 137 الرقم : 2721، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 201، و الشوکاني في درالسحابة، 1 / 277، الرقم : 24،چشتی)
ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر ماں کی اولاد کا عصبہ (باپ) ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے، سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، کہ میں ہی اُن کا ولی اور میں ہی اُن کا نسب ہوں ۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 179، الرقم : 4770، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف بحب اَقرباء الرسول صلي الله عليه وآله وسلم و ذَوِي الشرف، 1 / 130،چشتی)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي ﷲ عنه قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : کُلُّ نَسَبٍ وَ سَبَبٍ يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَة إِلَّا مَا کَانَ مِنْ سَبَبِي وَ نَسَبِي. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ .
ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میرے نسب اور رشتہ کے سوا قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم، احمد اور بزار نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 153، الرقم : 4684، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 625، 626، 758، الرقم : 1069، 1070، 1333، و البزار في المسند، 1 / 397، الرقم : 274، و الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 44، 45، الرقم : 2633، 2634، و في المعجم الأوسط، 5 / 376، الرقم : 5606، 6 / 357، الرقم : 6609،چشتی)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے ہاں گئے اور کہا : اے فاطمہ! خدا کی قسم! میں نے آپ کے سوا کسی شخص کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک محبوب تر نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! لوگوں میں سے مجھے بھی آپ کے والد محترم کے بعد کوئی آپ سے زیادہ محبوب نہیں ۔ اسے امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 168، الرقم : 4736، و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 432، الرقم : 37045، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 364، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 360، الرقم : 2952، والخطيب في تاريخ بغداد، 4 / 401،چشتی)
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ فَاطِمَة حَصَّنَتْ فَرْجَهَا فَحَرَّمَهَا ﷲُ وَ ذُرِّيَتَهَا عَلَي النَّارِ.رَوَاهُ الطَّبَرانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ.
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ نے اپنی عصمت و پاک دامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کی اولاد کو آگ پر حرام فرما دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام طبرانی، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 407، الرقم : 1018، و البزار في المسند، 5 / 223، الرقم : 1829، و الحاکم في المستدرک، 3 / 165، الرقم : 4726، و أبو نعيم في حلية الأولياء، 4 / 188، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 115، 116،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي ﷲ عنهما، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : إِنَّ ﷲَ عزوجل غَيْرُ مُعَذِّبِکِ وَلَا وُلْدِکِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 263، الرقم : 11685، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 202، و السخاوي في اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 117،چشتی)
عَنْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها قَالَتْ : مَا رَأيْتُ أفْضَلَ مِنْ فَاطِمَة رضي ﷲ عنها غَيْرَ أبِيْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی ﷲ عنہا سے افضل اُن کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی شخص نہیں پایا ۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 137 الرقم : 2721، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 201، و الشوکاني في درالسحابة، 1 / 277، الرقم : 24،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة رضي ﷲ عنها : أَنْتِ أَوَّلُ أَهْلِي لَحُوْقًا بِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الْفَضَائِلِ وَأَبُونُعَيْمٍ.
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنھا سے فرمایا : میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تو مجھ سے ملے گی ۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد نے ’’فضائل الصحابہ‘‘ میں امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في فصائل الصحابة، 2 / 764، الرقم : 1345، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 40،چشتی)
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها : مَا رَأيْتُ أحَدًا قَطُّ أصْدَقُ مِنْ فَاطِمَة غَيْرَ أبِيْهَا. رَوَاهُ أبُونُعَيْمٍ . ترجمہ : حضرت عمرو بن دینار رحمۃ ﷲ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا : فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کائنات میں کوئی نہیں دیکھا ۔‘‘ اس حدیث کو امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (حلية الأولياء، 2 / 41، 42،چشتی)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّمَا سُمِّيَتْ بِنْتِي فَاطِمَة لِأنَّ ﷲَ عزوجل فَطَمَهَا وَ فَطَمَ مُحِبِّيْهَا عَنِ النَّارِ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے جدا کر دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 346، الرقم : 1385، و الهندي في ’کنز العمال، 12 / 109، الرقم : 34227، و السخاوي في ’اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 96)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أنَا مِيْزَانُ الْعِلْمِ، وَ عَلِيٌّ کَفَتَاهُ، وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ خُيُوْطُهُ، وَ فَاطِمَة عَلَاقَتُهُ وَ الْأئِمَّة مِنْ بَعْدِي عُمُوْدُهُ يُوْزَنُ بِهِ أعْمَالُ الْمُحِبِّيْنَ لَنَا وَ الْمُبْغِضِيْنَ لَنَا. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا ترازو ہوں ، علی اس کا پلڑا ہے، حسن اور حسین اُس کی رسیاں ہیں، فاطمہ اُس کا دستہ ہے اور میرے بعد اَئمہ اَطہار (اُس ترازو کی) عمودی سلاخ ہیں ، جس کے ذریعے ہمارے ساتھ محبت کرنے والوں اور بغض رکھنے والوں کے اَعمال تولے جائیں گے ۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 44، الرقم : 107، و العجلوني في ’کشف الخفاء، 1 / 236) ۔
(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنھا سے فرمایا : میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تو مجھ سے ملے گی ۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد نے ’’فضائل الصحابہ‘‘ میں امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في فصائل الصحابة، 2 / 764، الرقم : 1345، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 40،چشتی)
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَة رضي ﷲ عنها : مَا رَأيْتُ أحَدًا قَطُّ أصْدَقُ مِنْ فَاطِمَة غَيْرَ أبِيْهَا. رَوَاهُ أبُونُعَيْمٍ . ترجمہ : حضرت عمرو بن دینار رحمۃ ﷲ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا : فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کائنات میں کوئی نہیں دیکھا ۔‘‘ اس حدیث کو امام ابونعیم نے روایت کیا ہے ۔ (حلية الأولياء، 2 / 41، 42،چشتی)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّمَا سُمِّيَتْ بِنْتِي فَاطِمَة لِأنَّ ﷲَ عزوجل فَطَمَهَا وَ فَطَمَ مُحِبِّيْهَا عَنِ النَّارِ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے جدا کر دیا ہے ۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 346، الرقم : 1385، و الهندي في ’کنز العمال، 12 / 109، الرقم : 34227، و السخاوي في ’اِستجلاب اِرتقاء الغرف، 1 / 96)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أنَا مِيْزَانُ الْعِلْمِ، وَ عَلِيٌّ کَفَتَاهُ، وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ خُيُوْطُهُ، وَ فَاطِمَة عَلَاقَتُهُ وَ الْأئِمَّة مِنْ بَعْدِي عُمُوْدُهُ يُوْزَنُ بِهِ أعْمَالُ الْمُحِبِّيْنَ لَنَا وَ الْمُبْغِضِيْنَ لَنَا. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا ترازو ہوں ، علی اس کا پلڑا ہے، حسن اور حسین اُس کی رسیاں ہیں، فاطمہ اُس کا دستہ ہے اور میرے بعد اَئمہ اَطہار (اُس ترازو کی) عمودی سلاخ ہیں ، جس کے ذریعے ہمارے ساتھ محبت کرنے والوں اور بغض رکھنے والوں کے اَعمال تولے جائیں گے ۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 44، الرقم : 107، و العجلوني في ’کشف الخفاء، 1 / 236) ۔
(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❼
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ ہفتم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے راضی ہو گئیں ۔
شیعہ محقق و محدث شیخ عباس قمی لکھتا ہے : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور حالات پرسکون ہو گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے سفارش کی اور رضا کے طلب گار ہوئے تو آپ راضی ہو گئیں ۔ (بیت الاحزان شیخ عباس قمی صفحہ نمبر 113)،(حق الیقین جلد اول صفحہ نمبر 202)،(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد نمبر 6 صفحہ 196)،(بحار الانوار ملا باقر مجلسی جلد نمبر 28 صفحہ نمبر 322)
سوچ فتنہ باز رافضی اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی سوچ اب بھی وقت ہے فتنہ بازی اور نفرت پھیلانے سے باز آجا ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا گھر جلایا کا جواب
محترم قارئین : روافض یعنی شیعہ حضرات کے مذھب کی بنیاد جھوٹ یعنی تقیہ پر ہے اگر یہ جھوٹ نہ بولیں تو ان کا خود ساختہ مذھب خود بخود دفن ہو جائے گا ان کے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا گھر جلایا آیئے پہلے شیعہ کے جھوٹے اعتراض کو پڑھتے ہیں پھر اس کا جواب :
شیعہ اعتراض : ایک اعتراض جو شیعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ سقیفہ کے واقعہ کے بعد، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیعت دینے سے انکار کیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر اور چند دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاؤ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ کرلے آؤ ۔ ذرائع کے مطابق جیسے تاریخ طبری (اور دوسرے ذرائع) میں ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں گھر کا دروازہ توڑا اور علی رضی اللہ عنہ کو گھسیٹے ہوئے ابو بکر کی طرف لے گئے اور زبردستی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کروائی ۔ یہ واقعہ تمام تاریخ کی کتابوں ، جیسے صحیح البخاری، احمد بن حنبل، سیرہ النبوۃ از ابن ہشام، تاریخ طبری (عربی)، الستیعاب از عبدالبر، تاریخ الخلفاء ابن قتیبہ اور کنز المعال میں درج ہے ۔ وہ علی (رضی اللہ عنہ) کے گرد گھیرا ڈال کے کھڑے ہوئے ، ان کے گھر کا دروازہ جلایا اور ان کی مرضی کے خلاف ان کو گھر سے نکالا ، علی رضی اللہ عنہ کے گھر کی خواتین کی سردار (حضرت فاطمہ علیہ السلام) کو دروازے کے درمیان دبایا اور اسطرح محسن رضی اللہ عنہ (جن سے فاطمہ چھ مہینے کی حاملہ تھیں) کو مار ڈالا ۔
شیعہ اعتراض کا جواب : شیعہ حضرات نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے افعال کے بارے میں دھوکہ دیا۔ یہ واقعہ ایسا نہیں تھا جیسا اس کو بتایا جاتا ہے ۔ جو کچھ بھی اس واقعہ سے متعلق صحیح بخاری، مسند احمد، کنزالاعمال، البدایہ النہایہ، الکامل از ابن اثیر، سیرۃ النبی از ابن ہشام اور تاریخ السلام از لیث سحابی میں موجود ہے، جب کھنگالا جاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انتقال کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اور انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم ، تدفین کے مراحل میں مشغول تھے ۔ دوسری طرف کچھ انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سقیفہ بنی سعدہ میں اکھٹا ہوئے ۔ ان کا ارادہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا تھا ۔ کیونکہ یہ اکابر صحابہ اور مہاجرین صحابہ کی باہمی مشاورت کے خلاف تھا اس لئے نہایت ہی نامناسب تھا ۔ اسکو دیکھ کر ایک صحابی فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرکی طرف روانہ ہوئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، جو تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ پہلے تو حضرت عمر نے انہماک کی وجہ سے آنے سے انکار کیا ، لیکن جب صحابی نے اس پراسرار کیا اور اس کی اہمیت کے متعلق اطلاع کی تو عمر باہر نکل کر آئے صحابی نے انہیں انصار کے مجمع کے بارے میں بتایا ۔ اس کو سن کر حضرت عمر نے فوراً حضرت ابوبکر کو بلایا جو کہ خود تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ جب عمر نے ان کو معاملے کی اہمیت کے بارے میں بتایا ، تو وہ بھی سقیفہ جانے کے لئے تیار ہوگئے اور ان کے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی ہولئے ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_0.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ ہفتم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے راضی ہو گئیں ۔
شیعہ محقق و محدث شیخ عباس قمی لکھتا ہے : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور حالات پرسکون ہو گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے سفارش کی اور رضا کے طلب گار ہوئے تو آپ راضی ہو گئیں ۔ (بیت الاحزان شیخ عباس قمی صفحہ نمبر 113)،(حق الیقین جلد اول صفحہ نمبر 202)،(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد نمبر 6 صفحہ 196)،(بحار الانوار ملا باقر مجلسی جلد نمبر 28 صفحہ نمبر 322)
سوچ فتنہ باز رافضی اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی سوچ اب بھی وقت ہے فتنہ بازی اور نفرت پھیلانے سے باز آجا ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا گھر جلایا کا جواب
محترم قارئین : روافض یعنی شیعہ حضرات کے مذھب کی بنیاد جھوٹ یعنی تقیہ پر ہے اگر یہ جھوٹ نہ بولیں تو ان کا خود ساختہ مذھب خود بخود دفن ہو جائے گا ان کے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا گھر جلایا آیئے پہلے شیعہ کے جھوٹے اعتراض کو پڑھتے ہیں پھر اس کا جواب :
شیعہ اعتراض : ایک اعتراض جو شیعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ سقیفہ کے واقعہ کے بعد، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیعت دینے سے انکار کیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر اور چند دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاؤ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ کرلے آؤ ۔ ذرائع کے مطابق جیسے تاریخ طبری (اور دوسرے ذرائع) میں ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں گھر کا دروازہ توڑا اور علی رضی اللہ عنہ کو گھسیٹے ہوئے ابو بکر کی طرف لے گئے اور زبردستی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کروائی ۔ یہ واقعہ تمام تاریخ کی کتابوں ، جیسے صحیح البخاری، احمد بن حنبل، سیرہ النبوۃ از ابن ہشام، تاریخ طبری (عربی)، الستیعاب از عبدالبر، تاریخ الخلفاء ابن قتیبہ اور کنز المعال میں درج ہے ۔ وہ علی (رضی اللہ عنہ) کے گرد گھیرا ڈال کے کھڑے ہوئے ، ان کے گھر کا دروازہ جلایا اور ان کی مرضی کے خلاف ان کو گھر سے نکالا ، علی رضی اللہ عنہ کے گھر کی خواتین کی سردار (حضرت فاطمہ علیہ السلام) کو دروازے کے درمیان دبایا اور اسطرح محسن رضی اللہ عنہ (جن سے فاطمہ چھ مہینے کی حاملہ تھیں) کو مار ڈالا ۔
شیعہ اعتراض کا جواب : شیعہ حضرات نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے افعال کے بارے میں دھوکہ دیا۔ یہ واقعہ ایسا نہیں تھا جیسا اس کو بتایا جاتا ہے ۔ جو کچھ بھی اس واقعہ سے متعلق صحیح بخاری، مسند احمد، کنزالاعمال، البدایہ النہایہ، الکامل از ابن اثیر، سیرۃ النبی از ابن ہشام اور تاریخ السلام از لیث سحابی میں موجود ہے، جب کھنگالا جاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انتقال کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اور انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم ، تدفین کے مراحل میں مشغول تھے ۔ دوسری طرف کچھ انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سقیفہ بنی سعدہ میں اکھٹا ہوئے ۔ ان کا ارادہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا تھا ۔ کیونکہ یہ اکابر صحابہ اور مہاجرین صحابہ کی باہمی مشاورت کے خلاف تھا اس لئے نہایت ہی نامناسب تھا ۔ اسکو دیکھ کر ایک صحابی فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھرکی طرف روانہ ہوئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، جو تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ پہلے تو حضرت عمر نے انہماک کی وجہ سے آنے سے انکار کیا ، لیکن جب صحابی نے اس پراسرار کیا اور اس کی اہمیت کے متعلق اطلاع کی تو عمر باہر نکل کر آئے صحابی نے انہیں انصار کے مجمع کے بارے میں بتایا ۔ اس کو سن کر حضرت عمر نے فوراً حضرت ابوبکر کو بلایا جو کہ خود تدفین کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ جب عمر نے ان کو معاملے کی اہمیت کے بارے میں بتایا ، تو وہ بھی سقیفہ جانے کے لئے تیار ہوگئے اور ان کے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی ہولئے ۔
👍1
یہاں پر یہ معاملہ صاف ہوگیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت حاصل کرنے کے لئے کوئی ابتدائی قدم نہیں اٹھایا تھا ، اس کے برعکس وہ تدفین کے مراحل میں مصروف تھے ۔ کوئی دوسرے صحابی آئے اور انہوں نے حضرت عمر کو انصار کے جمع ہونے کے بارے میں بتایا ۔
اس واقعے کے بعد کوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہمیت کے بارے میں جان سکتا ہے ۔ نیز حضرت ابوبکر اکیلے سقیفہ بنی سعدہ نہیں گئے تھے ، بلکہ ان کے ساتھ عمر اور عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم بھی ساتھ گئے تھے ۔ (یہ تین صحابہ عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ، یعنی ان دس صحابیوں میں سے تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جنت کی خوشخبری دی تھی) ۔ بظاہر حضرت ابوبکر ، حضرت علی یا حضرت زبیر کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے تھے ، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سب سے نزدیکی رشتہ دار تھے اور ان کا تدفین کے انتتظامات میں رکنا زیادہ مناسب تھا ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو روضہ مبارک میں منتقل کیا کو فرمایا ’’ ایک آدمی کی تدفین کے لئے اسکے اہل خانہ اور قریبی رشتہ دار ذمہ دار ہوتے ہیں ۔‘‘ (سنن ابوداؤد ج 2ص 102،چشتی)
عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کی وضاحت کی تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سقیفہ بنی سعدہ اس لئے گئے تھے کہ انصار کو مطلع اور انکو وضاحت کرسکیں۔ انکو اسکا نہیں پتہ تھا کہ اسکے بیچ میں انکو خلیفہ مقرر کرنے کی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نہیں گئے تھے۔ جب یہ تینوں صحابہ سقیفہ بنی سعدہ پہنچے تو دیکھا کہ انصارایک بہت جذباتی حالت میں ہیں اور سعد بن عبادہ کو خلیفہ کے طور پر مقرر کرنے والے ہیں۔ یہ کسی بھی حالت میں درست اور مناسب نہیں تھا۔ مہاجرین کے علاوہ ، انصار میں سے کوئی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت لینے پر خوش نہیں تھا اور اس کا بہت بڑا خطرہ تھا کہ بغاوت نہ ہوجائے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی نشاندہی بخاری میں موجود میں خطبہ میں کی تھی۔ اسی لئے ابوبکر آگے آئے اور انہوں نے بڑی ذہانت کے ساتھ اس کی وضاحت کی کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے کیونکہ تمام عرب انکی عزت کیا کرتے ہیں۔ اسکے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرات عمر اور ابوعبیدہ بن جراح رضوان اللہ علہم اجمعین کے ہاتھ کھڑا کرکے گذارش کی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر بیعت کرلو ۔ انصار اس پر راضی نہیں ہوئے لیکن انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ایک امیر انصار میں سے ہونا چاہیے او ر ایک مہاجرین سے۔ لیکن یہ ممکن کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ملک میں ایک ہی وقت میں دو حکمران ہوں؟ اس موقع پر حضرت عمر نے کہا ’’ ایک میان میں دوتلواریں نہیں رہ سکتی‘‘۔ جب حضرت عمر نے دیکھا کہ مسائل حل نہیں ہورہے اور اعتراضات ختم نہیں ہورہے ہیں اور بغاوت کا خدشہ سامنے آرہا ہے تو انہوں نے حضرت ابوبکر کو منبر پر کھڑا کردیا اور اعلان کیا کہ وہ انکے ہاتھوں پر بیعت کرنے جارہے ہیں۔ حضرت عمر کے ہاتھوں بیعت کرنے سے پہلے انصاری صحابہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت کرلی ۔ اسکو دیکھنے کے بعد تمام مہاجرین اور انصار جو وہاں موجود تھے ، انہوں نے بھی حضرت ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کرلی، سوائے سعد بن عبادہ کے ۔ جب حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کو خلافت کے اہل ہونے کا حقدار ثابت کیا تو انہوں نے کہا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ابوبکر کو اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کے لئے آگے کیا تھا اور وہ ہی ثانی اثنین یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے غار کے ساتھی تھے۔ عمر انکی موجودگی میں خلیفہ کیسے بن سکتا ہے ؟‘‘ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے بھی یہی بات کی۔ زید بن ثابت جو ایک انصاری صحابی تھے، انہوں نے بھی کچھ اسی طرح کہا اور مہاجرین کی فضیلت اور اہمیت انصار پر واضح کی۔ اس طرح وہ انصار جنہوں نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے ، اپنی خوشی سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت کی ۔
یہ مجمع ایک اتفاقی واقعہ تھا ۔ انصار اس مجمع کے ہونے کے ذمہ دار تھے۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھم نے انکو جمع نہیں کیا تھا کہ خلافت حاصل کی جائے ۔ اس کے برعکس انکو سقیفہ بنی سعدہ جانے کے لئے مجبور کیا گیا تھا تاکہ وہ ایک بغاوت کو اٹھنے سے روکیں۔ اگر یہ طریقہ نہیں اختیار کیا جاتا اور یہ تین صحابہ سقیفہ بنی سعدہ سے چلے جاتے، انصار کا ایک گروہ اپنے آپ میں سے کسی ایک کو خلیفہ مقرر کرلیتا کیونکہ وہ ایک جذباتی حالت میں تھے اور خلیفہ مقرر کرنے میں دیر نہیں چاہتے تھے۔ اگر ایک اس وقت ایک انصار صحابی اکابر صحابہ کی غیر موجودگی میں خلیفہ مقرر ہوجاتے تو اس کا ایک قوی امکان تھا کہ عرب ان کی خلافت کو رد کردیتے اور ناتفاقی اور کشت و خون کا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصآل کے فوری بعد ہی شروع ہوجاتا ۔ یہی بات وہ صحابی کہہ رہے
اس واقعے کے بعد کوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہمیت کے بارے میں جان سکتا ہے ۔ نیز حضرت ابوبکر اکیلے سقیفہ بنی سعدہ نہیں گئے تھے ، بلکہ ان کے ساتھ عمر اور عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم بھی ساتھ گئے تھے ۔ (یہ تین صحابہ عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ، یعنی ان دس صحابیوں میں سے تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جنت کی خوشخبری دی تھی) ۔ بظاہر حضرت ابوبکر ، حضرت علی یا حضرت زبیر کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے تھے ، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سب سے نزدیکی رشتہ دار تھے اور ان کا تدفین کے انتتظامات میں رکنا زیادہ مناسب تھا ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو روضہ مبارک میں منتقل کیا کو فرمایا ’’ ایک آدمی کی تدفین کے لئے اسکے اہل خانہ اور قریبی رشتہ دار ذمہ دار ہوتے ہیں ۔‘‘ (سنن ابوداؤد ج 2ص 102،چشتی)
عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کی وضاحت کی تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سقیفہ بنی سعدہ اس لئے گئے تھے کہ انصار کو مطلع اور انکو وضاحت کرسکیں۔ انکو اسکا نہیں پتہ تھا کہ اسکے بیچ میں انکو خلیفہ مقرر کرنے کی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نہیں گئے تھے۔ جب یہ تینوں صحابہ سقیفہ بنی سعدہ پہنچے تو دیکھا کہ انصارایک بہت جذباتی حالت میں ہیں اور سعد بن عبادہ کو خلیفہ کے طور پر مقرر کرنے والے ہیں۔ یہ کسی بھی حالت میں درست اور مناسب نہیں تھا۔ مہاجرین کے علاوہ ، انصار میں سے کوئی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت لینے پر خوش نہیں تھا اور اس کا بہت بڑا خطرہ تھا کہ بغاوت نہ ہوجائے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی نشاندہی بخاری میں موجود میں خطبہ میں کی تھی۔ اسی لئے ابوبکر آگے آئے اور انہوں نے بڑی ذہانت کے ساتھ اس کی وضاحت کی کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے کیونکہ تمام عرب انکی عزت کیا کرتے ہیں۔ اسکے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرات عمر اور ابوعبیدہ بن جراح رضوان اللہ علہم اجمعین کے ہاتھ کھڑا کرکے گذارش کی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر بیعت کرلو ۔ انصار اس پر راضی نہیں ہوئے لیکن انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ایک امیر انصار میں سے ہونا چاہیے او ر ایک مہاجرین سے۔ لیکن یہ ممکن کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ملک میں ایک ہی وقت میں دو حکمران ہوں؟ اس موقع پر حضرت عمر نے کہا ’’ ایک میان میں دوتلواریں نہیں رہ سکتی‘‘۔ جب حضرت عمر نے دیکھا کہ مسائل حل نہیں ہورہے اور اعتراضات ختم نہیں ہورہے ہیں اور بغاوت کا خدشہ سامنے آرہا ہے تو انہوں نے حضرت ابوبکر کو منبر پر کھڑا کردیا اور اعلان کیا کہ وہ انکے ہاتھوں پر بیعت کرنے جارہے ہیں۔ حضرت عمر کے ہاتھوں بیعت کرنے سے پہلے انصاری صحابہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت کرلی ۔ اسکو دیکھنے کے بعد تمام مہاجرین اور انصار جو وہاں موجود تھے ، انہوں نے بھی حضرت ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کرلی، سوائے سعد بن عبادہ کے ۔ جب حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کو خلافت کے اہل ہونے کا حقدار ثابت کیا تو انہوں نے کہا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ابوبکر کو اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کے لئے آگے کیا تھا اور وہ ہی ثانی اثنین یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے غار کے ساتھی تھے۔ عمر انکی موجودگی میں خلیفہ کیسے بن سکتا ہے ؟‘‘ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے بھی یہی بات کی۔ زید بن ثابت جو ایک انصاری صحابی تھے، انہوں نے بھی کچھ اسی طرح کہا اور مہاجرین کی فضیلت اور اہمیت انصار پر واضح کی۔ اس طرح وہ انصار جنہوں نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے ، اپنی خوشی سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیعت کی ۔
یہ مجمع ایک اتفاقی واقعہ تھا ۔ انصار اس مجمع کے ہونے کے ذمہ دار تھے۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھم نے انکو جمع نہیں کیا تھا کہ خلافت حاصل کی جائے ۔ اس کے برعکس انکو سقیفہ بنی سعدہ جانے کے لئے مجبور کیا گیا تھا تاکہ وہ ایک بغاوت کو اٹھنے سے روکیں۔ اگر یہ طریقہ نہیں اختیار کیا جاتا اور یہ تین صحابہ سقیفہ بنی سعدہ سے چلے جاتے، انصار کا ایک گروہ اپنے آپ میں سے کسی ایک کو خلیفہ مقرر کرلیتا کیونکہ وہ ایک جذباتی حالت میں تھے اور خلیفہ مقرر کرنے میں دیر نہیں چاہتے تھے۔ اگر ایک اس وقت ایک انصار صحابی اکابر صحابہ کی غیر موجودگی میں خلیفہ مقرر ہوجاتے تو اس کا ایک قوی امکان تھا کہ عرب ان کی خلافت کو رد کردیتے اور ناتفاقی اور کشت و خون کا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصآل کے فوری بعد ہی شروع ہوجاتا ۔ یہی بات وہ صحابی کہہ رہے
تھے کہ جب انصار صحابی کو وہ مشورہ دے رہے تھے : تم لوگوں نے پہلے اسلام کو سہار ا دیا اور اسکی مدد دی، اب تم لوگ وہ پہلے افراد نہ بنو جو اسلام کو ختم کرو یعنی لڑائی جھگڑا آپس میں کرکے ۔‘‘
اب اس بات پر کوئی غور کرسکتا ہے کہ یہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ نہ انہوں نے خلافت کا مطالبہ کیا اور نہ ہی خلافت کے حصول کی کوشش کی۔ حضرت ابوبکر نے عمر اور ابوعبیدہ بن جراح کو خلافت کے لئے پیش کیا۔ حضرت عمر نے آپ کو خلافت کے لئے آگے کیا اور تمام مہاجرین اور انصار نے حضرت عمر کی اس دعوت کا قبول کیا۔ یہ کسی مصدقہ روایت سے ثابت نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر کسی سازش کاحصہ تھے۔ اگر کوئی اسکا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اسکا ثبوت لے کر آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس خلافت کا اپنی دورِ خلافت میں اتفاقی کہنا بھی اسی لئے تھا، کیونکہ ان کے ذہن میں اس خیال کا آنا ناممکن تھا یا یہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین اس بیعت کا حصہ نہیں بنے تھے کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے مراحل میں مصروف تھے اور بظاہر انکو نہیں پتہ تھا کہ کون گھر کے باہر ظاہر ہوا۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین نے اس لئے بیعت نہیں کی کہ وہ اس سے متفق نہیں تھے، اسی لئے ان صحابہ کو جو وہاں موجود نہیں تھے ملامت کا شکار نہیں کیا گیا تھا۔ ایک عام مجلس دوسرے دن مسجد نبوی میں منعقد ہوئی جس میں بقایا سب افراد کے لئے بیعت ہوئی تاکہ کسی کو خلافت ابی بکر رضی اللہ عنہ کے خلاف کہنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ بھی کسی کالزام لگانا غلط ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کو سقیفہ بنی سعدہ میں مدعو نہیں کیا تھا۔ انکو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے ، نہ ہی وہ اس ارادہ سے گئے تھے کہ خلافت اپنے لئے غضب کرلیں۔ سقیفہ بنی سعدہ میں جوکچھ ہوا وہ ایک اتفاق اور اچانک ہوا تھا۔
یہ کچھ کچھ روایات سے ثابت ہے کہ سقیفہ بنی سعدہ کے واقعے کی بعد ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھر تشریف لے کہ گئے اور تدفین کے بقایا مراحل میں حصہ لیا۔ اگلے دن ابوبکر مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہوگئے اور عمر صحابہ کے سامنے کھڑے رہے ، پھر ابوبکر نے کچھ الفاظ ادا کیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد جو انہوں نے کہا تھا ، اس پر معذرت کی ۔ پھر مزید کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وصال ہوگیا ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔‘‘ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کی طرف اشارہ کیا اور انکے فآائل کا اعتراف کیا۔ پھر فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے یارِ غار تھے اور خلافت کے کسی اور کی نسبت سب سے زیادہ مستحق تھے اور سب لوگوں کو انکے ہاتھ ہر بیعت کرنا چاہیے۔ تمام صحابہ جو اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے انہوں نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسکو عام بیعت کہا جاتا ہے۔ اس بیعت کے موقع پر دو نہایت اہم اور مشہور صحابی علی اور زبیر رضوان اللہ علیھم اجمعنین موجود نہ تھے۔ یہ ایک الجھاؤ تھا۔ حضرت ابوبکر نے انکے متعلق دریافت کیا۔ کچھ صحابہ کھڑے ہوئے اور علی اور زبیر کو مسجد نبوی میں بلالائے۔ جب یہ صحابہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے بیعت کیوں نہیں لی حالانکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رشتہ دار اور داماد ہیں ؟ کیا آپ مسلمانوں کے درمیان ناتفاقی چاہتے ہو ؟‘‘ حضرت علی یہ سننے کے بعد اس پر معذرت کی اور حضرت ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کر لی ۔ حضرت ابوبکر نے حضرت زبیر سے بھی یہی سوال کیا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حواری اور رشتہ دار ہونے کے بعد بھی تم مسلمانوں کے درمیان نااتفاقی پیدا کرنے چاہتے ہو ؟ ‘‘ انہوں نے بھی اس پر اپنی معذرت پیش کی اور ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔
اب جہاں تک کچھ روایتوں میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ کے گھر اکھٹے ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ادھر گئے تو انکو دھمکایا، میں یہاں پر یہ کہوں گا کہ بظاہر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے بعد اور مسجد نبوی میں عام بیعت کے بعد، علی اور زبیر اور کچھ دوسرے مہاجرین ، فاطمہ کے گھر میں اکھٹے ہوئے اور یہ ارادہ کیا کہ چونکہ اب تم عام بیعت منعقد نہیں ہوئی تھی، اس لئے ہم علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنادیتے ہیں۔انہوں نے اس معاملے کو اپنے طور پر طے کیا اور زبیررضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ وہ علی کی مدد تلوار کے ذریعے کریں گے۔ دوسرے طرف بہت سے مہاجرین اور انصار پہلے ہی حضرت ابوبکر کے ہاتھوں سقیفہ بنی سعدہ میں بیعت کرچکے تھے، اب اگر ایک اور خلیفہ مقرر ہوجاتا تو بغاوت کا ایک بہت بڑا خدشہ پیدا ہوتااور انصار ایک بار پھر
اب اس بات پر کوئی غور کرسکتا ہے کہ یہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ نہ انہوں نے خلافت کا مطالبہ کیا اور نہ ہی خلافت کے حصول کی کوشش کی۔ حضرت ابوبکر نے عمر اور ابوعبیدہ بن جراح کو خلافت کے لئے پیش کیا۔ حضرت عمر نے آپ کو خلافت کے لئے آگے کیا اور تمام مہاجرین اور انصار نے حضرت عمر کی اس دعوت کا قبول کیا۔ یہ کسی مصدقہ روایت سے ثابت نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر کسی سازش کاحصہ تھے۔ اگر کوئی اسکا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اسکا ثبوت لے کر آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس خلافت کا اپنی دورِ خلافت میں اتفاقی کہنا بھی اسی لئے تھا، کیونکہ ان کے ذہن میں اس خیال کا آنا ناممکن تھا یا یہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین اس بیعت کا حصہ نہیں بنے تھے کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے مراحل میں مصروف تھے اور بظاہر انکو نہیں پتہ تھا کہ کون گھر کے باہر ظاہر ہوا۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین نے اس لئے بیعت نہیں کی کہ وہ اس سے متفق نہیں تھے، اسی لئے ان صحابہ کو جو وہاں موجود نہیں تھے ملامت کا شکار نہیں کیا گیا تھا۔ ایک عام مجلس دوسرے دن مسجد نبوی میں منعقد ہوئی جس میں بقایا سب افراد کے لئے بیعت ہوئی تاکہ کسی کو خلافت ابی بکر رضی اللہ عنہ کے خلاف کہنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ بھی کسی کالزام لگانا غلط ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کو سقیفہ بنی سعدہ میں مدعو نہیں کیا تھا۔ انکو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے ، نہ ہی وہ اس ارادہ سے گئے تھے کہ خلافت اپنے لئے غضب کرلیں۔ سقیفہ بنی سعدہ میں جوکچھ ہوا وہ ایک اتفاق اور اچانک ہوا تھا۔
یہ کچھ کچھ روایات سے ثابت ہے کہ سقیفہ بنی سعدہ کے واقعے کی بعد ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گھر تشریف لے کہ گئے اور تدفین کے بقایا مراحل میں حصہ لیا۔ اگلے دن ابوبکر مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہوگئے اور عمر صحابہ کے سامنے کھڑے رہے ، پھر ابوبکر نے کچھ الفاظ ادا کیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد جو انہوں نے کہا تھا ، اس پر معذرت کی ۔ پھر مزید کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وصال ہوگیا ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔‘‘ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کی طرف اشارہ کیا اور انکے فآائل کا اعتراف کیا۔ پھر فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے یارِ غار تھے اور خلافت کے کسی اور کی نسبت سب سے زیادہ مستحق تھے اور سب لوگوں کو انکے ہاتھ ہر بیعت کرنا چاہیے۔ تمام صحابہ جو اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے انہوں نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسکو عام بیعت کہا جاتا ہے۔ اس بیعت کے موقع پر دو نہایت اہم اور مشہور صحابی علی اور زبیر رضوان اللہ علیھم اجمعنین موجود نہ تھے۔ یہ ایک الجھاؤ تھا۔ حضرت ابوبکر نے انکے متعلق دریافت کیا۔ کچھ صحابہ کھڑے ہوئے اور علی اور زبیر کو مسجد نبوی میں بلالائے۔ جب یہ صحابہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے بیعت کیوں نہیں لی حالانکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رشتہ دار اور داماد ہیں ؟ کیا آپ مسلمانوں کے درمیان ناتفاقی چاہتے ہو ؟‘‘ حضرت علی یہ سننے کے بعد اس پر معذرت کی اور حضرت ابوبکر کے ہاتھوں بیعت کر لی ۔ حضرت ابوبکر نے حضرت زبیر سے بھی یہی سوال کیا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حواری اور رشتہ دار ہونے کے بعد بھی تم مسلمانوں کے درمیان نااتفاقی پیدا کرنے چاہتے ہو ؟ ‘‘ انہوں نے بھی اس پر اپنی معذرت پیش کی اور ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔
اب جہاں تک کچھ روایتوں میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ کے گھر اکھٹے ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ادھر گئے تو انکو دھمکایا، میں یہاں پر یہ کہوں گا کہ بظاہر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تدفین کے بعد اور مسجد نبوی میں عام بیعت کے بعد، علی اور زبیر اور کچھ دوسرے مہاجرین ، فاطمہ کے گھر میں اکھٹے ہوئے اور یہ ارادہ کیا کہ چونکہ اب تم عام بیعت منعقد نہیں ہوئی تھی، اس لئے ہم علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنادیتے ہیں۔انہوں نے اس معاملے کو اپنے طور پر طے کیا اور زبیررضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ وہ علی کی مدد تلوار کے ذریعے کریں گے۔ دوسرے طرف بہت سے مہاجرین اور انصار پہلے ہی حضرت ابوبکر کے ہاتھوں سقیفہ بنی سعدہ میں بیعت کرچکے تھے، اب اگر ایک اور خلیفہ مقرر ہوجاتا تو بغاوت کا ایک بہت بڑا خدشہ پیدا ہوتااور انصار ایک بار پھر
اپنے لئے الگ خلیفہ اور امیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے۔ اس لئے اس بغاوت کو دبانے لئے عمر ، فاطمہ کے گھر گئے جب علی اور زبیر گھر پر نہیں تھے۔ کنز العمال میں یہ درج ہے کہ عمر نے فاطمہ کوکہا کہ ’’ اے دخترِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم، تمام لوگوں میں سے کوئی مجھے آپ کے باپ سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور اس کے بعد آپ سے زیادہ پیارا کوئی نہیں ۔ میرے پاس یہ بری خبر آئی ہے کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہوئے ہیں اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کررہے ہیں ۔ اگر ان لوگوں کو روکا نہیں گیا تو خدا کی قسم میں ان کے گھر جلادوں گا ۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت عمر لوٹ آئے اور جب علی اور زبیر گھر واپس آئے تو فاطمہ نے ان لوگوں سے یہ کہا ’’ کیا آپ کو پتہ ہے کہ عمر یہاں آئے تھے اور مجھ سے ایک عہد لیا کہ اگر تم لوگوں نے ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کی تو تم لوگوں کے گھر جلادیں گے ؟ خدا کی قس م! عمر اپنے عہد کو پورا کریں گے ۔ اس لئے میرے گھر سے اس ارادے سے چلے جائے کہ اپنے ارادے اور خیالات کو ملتوی کردیں اور دوبارہ میرے گھر اس ارادے سے نہیں آئیں ۔‘‘ علی اور زبیر گھر چھوڑ کر آگئے اور دوبارہ وہاں جمع نہیں ہوئے جب تک انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہ کرلی ۔ (کنز العمال ج 5، ص 651،چشتی)
کنز العمال کی اس روایت کے ذریعے کچھ نکات واضح اور صاف ظاہرہوتے ہیں :
جب عمر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی اور حضرت زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین گھر پر نہیں تھے۔اس لئے عمر کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور کوئی جھگڑا ہوا۔
(1) عمر رضی اللہ عنہ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت عزت کے ساتھ پیش آئے انکو یہ بھی بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا انکے بچوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔
(2) عمر نے فاطمہ کو کسی طور پر دھمکایا نہیں تھا۔
(3) جب عمر نے فاطمہ کا گھر چھوڑا، تو فاطمہ اور انکا گھر بالکل صحیح سالم تھا۔انکو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔بعد میں جب علی رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو فاطمہ نے یہ شکایت نہیں کی کہ عمر نے ان سے بدتمیزی کی۔ بجائے اسکے فاطمہ نے انکو مستقبل میں اپنے گھر میں عمر کی کی مخالفت اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے سے روکا تھا۔
(4) علی رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کے ہاتھوں بغیر کسی مجبوری اور دباؤ کے بیعت کرلی تھی۔
یہ الزام حضرت عمر پر لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ کا گھر کا دروازہ توڑا اور علی اور فاطمہ کے پاس ایک غیر مہذبانہ انداز میں گئے، ان کے اس عمل کے نتیجے میں فاطمہ کا حمل ساقط ہوگیا ، یہ تمام الزام ایک جھوٹ اور من گھڑت ہے ۔ حقیقت میں یہ الزام دراصل حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی توہین کرتا ہے اور اسلام کا مذاق اڑاتا ہے ۔ کیا حضرت علی اتنے بزدل تھے کہ نہ اپنے گھر کو بچا سکے اور نہ ہی اپنی بیوی کا انتقام لے سکے ؟ جب حضرت علی خلیفہ بن گئے تو کیوں نہیں انہوں نے حضرت عمر کے خاندان سے اپنے مقتول بچے کا خون بہا لیا ؟ وہ لوگ جنہوں نے یہ روایات گھڑیں ہیں دراصل اسلام کے دشمن تھے ۔ ان لوگوں نے کفار کے سامنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اسطرح گمراہ تصویر کشی کی ہے کہ نعوذ باللہ وہ خلافت کے حصول کے پیاسے تھے ، ان کا کوئی قانونی سسٹم نہیں تھا ، طاقتور کمزو ر کا دبایا کرتا تھا ، سچ بولنا جرم تھا، ظالم کو سزا نہیں ملتی تھی، حکام کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، جیسے منافق لوگ ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے دلوں میں اپنے حکمرانوں کے لئے برائی چھپی ہوتی ہے۔ استغفر اللہ۔ کیا آپ کا دل یہ الزامات اور خرافات قبول کرے گا ؟ کیا کبار صحابہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ؟ کیا یہ صحابہ اس قابل نہیں تھے کہ انہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں جیسے قیصر اور کسریٰ جیسوں بغیر سروسامانی کے کو تباہ و برباد کردیا تھا؟ کیا اللہ تعالی ظالموں کی مدد کرتا ہے ؟
یہ دعویٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا اسقاط ہوگیا تھا، ایک من گھڑت قصہ ہے ۔ یہ ایک مصدقہ تاریخی کتاب، البدایہ و النہایہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی میں ، حضرت فاطمہ نے ایک تیسرے بچے جس کا نام محسن تھا، جنم دیا تھا اور یہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تھا۔ اسی وجہ سے زیادہ تر تاریخ نویسوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صرف دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر نے ان لوگوں کے خلاف ایک سخت رویہ کیوں اختیار کیا جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہونے کے بعد مخالفت کی، اسکا سبب یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا تھا: ’’ خلیفہ ہونے کے بعد کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا، جب اسکو مسلمانوں نے مقرر کرلیا ہو۔ پس جو اسکا دعویٰ کرے اسکو قتل کردو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔(صحیح مسلم)
کنز العمال کی اس روایت کے ذریعے کچھ نکات واضح اور صاف ظاہرہوتے ہیں :
جب عمر رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی اور حضرت زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین گھر پر نہیں تھے۔اس لئے عمر کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور کوئی جھگڑا ہوا۔
(1) عمر رضی اللہ عنہ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت عزت کے ساتھ پیش آئے انکو یہ بھی بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا انکے بچوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔
(2) عمر نے فاطمہ کو کسی طور پر دھمکایا نہیں تھا۔
(3) جب عمر نے فاطمہ کا گھر چھوڑا، تو فاطمہ اور انکا گھر بالکل صحیح سالم تھا۔انکو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔بعد میں جب علی رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو فاطمہ نے یہ شکایت نہیں کی کہ عمر نے ان سے بدتمیزی کی۔ بجائے اسکے فاطمہ نے انکو مستقبل میں اپنے گھر میں عمر کی کی مخالفت اور ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے سے روکا تھا۔
(4) علی رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر کے ہاتھوں بغیر کسی مجبوری اور دباؤ کے بیعت کرلی تھی۔
یہ الزام حضرت عمر پر لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ کا گھر کا دروازہ توڑا اور علی اور فاطمہ کے پاس ایک غیر مہذبانہ انداز میں گئے، ان کے اس عمل کے نتیجے میں فاطمہ کا حمل ساقط ہوگیا ، یہ تمام الزام ایک جھوٹ اور من گھڑت ہے ۔ حقیقت میں یہ الزام دراصل حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی توہین کرتا ہے اور اسلام کا مذاق اڑاتا ہے ۔ کیا حضرت علی اتنے بزدل تھے کہ نہ اپنے گھر کو بچا سکے اور نہ ہی اپنی بیوی کا انتقام لے سکے ؟ جب حضرت علی خلیفہ بن گئے تو کیوں نہیں انہوں نے حضرت عمر کے خاندان سے اپنے مقتول بچے کا خون بہا لیا ؟ وہ لوگ جنہوں نے یہ روایات گھڑیں ہیں دراصل اسلام کے دشمن تھے ۔ ان لوگوں نے کفار کے سامنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اسطرح گمراہ تصویر کشی کی ہے کہ نعوذ باللہ وہ خلافت کے حصول کے پیاسے تھے ، ان کا کوئی قانونی سسٹم نہیں تھا ، طاقتور کمزو ر کا دبایا کرتا تھا ، سچ بولنا جرم تھا، ظالم کو سزا نہیں ملتی تھی، حکام کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولنا پڑتا تھا، جیسے منافق لوگ ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے دلوں میں اپنے حکمرانوں کے لئے برائی چھپی ہوتی ہے۔ استغفر اللہ۔ کیا آپ کا دل یہ الزامات اور خرافات قبول کرے گا ؟ کیا کبار صحابہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ؟ کیا یہ صحابہ اس قابل نہیں تھے کہ انہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں جیسے قیصر اور کسریٰ جیسوں بغیر سروسامانی کے کو تباہ و برباد کردیا تھا؟ کیا اللہ تعالی ظالموں کی مدد کرتا ہے ؟
یہ دعویٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا اسقاط ہوگیا تھا، ایک من گھڑت قصہ ہے ۔ یہ ایک مصدقہ تاریخی کتاب، البدایہ و النہایہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی میں ، حضرت فاطمہ نے ایک تیسرے بچے جس کا نام محسن تھا، جنم دیا تھا اور یہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تھا۔ اسی وجہ سے زیادہ تر تاریخ نویسوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صرف دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر نے ان لوگوں کے خلاف ایک سخت رویہ کیوں اختیار کیا جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہونے کے بعد مخالفت کی، اسکا سبب یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا تھا: ’’ خلیفہ ہونے کے بعد کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا، جب اسکو مسلمانوں نے مقرر کرلیا ہو۔ پس جو اسکا دعویٰ کرے اسکو قتل کردو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔(صحیح مسلم)
👍1