🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
#ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_52.html

سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار دخترانِ ذیشان ہیں جو سبھی کی سبھی خاتون اوّل اُمّْ الموٴمنین حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطنِ پاک سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پاک بیٹیاں ہیں ۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم نے سورة الاحزاب کی آیت نمبر 95 میں وضاحت فرمائی ہے : یْٰاَیُّھَا النَّبِیّْ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاْءِ الْمُوْمِنِیْنَ ۔
ترجمہ : اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے فرما دیں ۔

اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اپنی صرف ایک بیٹی پاک ہوتی تو اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم قرآنِ مجید میں اُس کا ذکر خیر بیٹیاں فرما کر نہ کرتا ۔ ربِّ ذوالجلال والاکرام کے فرمان سے یہ بات واضح ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اپنی ہی چار بیٹیاں ہیں جن کے نام ترتیب وار اِس طرح ہیں (1) حضرت سیّدہ زینب (1) حضرت سیّدہ رقیہ (3) حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم اور (4) حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہن ۔

قرآنِ مجید کے اِرشادِ عظیم کے مطابق اَیسی لڑکی جو بیوہ عورت کے پہلے شوہر سے ہواور وہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی کرے تو بیوہ عورت کی پہلے شوہر سے لڑکی دوسرے شوہر کی بیٹی نہیں کہلاتی بلکہ ”ربیبہ“ کہلاتی ہے ۔ وَرَبَاْئِبْکْمْ الّٰتِیْ فِیْ حْجْوْرِکْمْ مِّنْ نِّسَاْءِ کْمْ الّٰتِیْ دَخَلْتْمْ بِھِنَّ ۔ (النساء:۳۲) ، اور اُن کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیویوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو ۔

حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پاک بیٹیوں میں سے سب سے چھوٹی شہزادی ہیں ۔

آپ کا اِسم مبارک ”فاطمہ“ ہے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ آپ کا لقب بتول اور زہرا ہے ۔ بتول کا معنی ہے منقطع ہونا‘ کٹ جانا چونکہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے اَلگ تھیں۔ لہٰذا بتول لقب ہوا۔ زہرا بمعنی کلی ‘آپ جنت کی کلی تھیں ۔

آپ کے جسم پاک سے جنت کی خوشبو آتی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سونگھا کرتے تھے۔ اِس لئے آپ کا لقب زہرا ہوا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ مختلف روایات کے مطابق آپ اِعلانِ نبوت سے ایک سال یا پانچ سال پہلے پیدا ہوئیں ۔

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : فاطمه بضعة منی، فمن اغضبها اغضبنی ۔

ترجمہ : فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری، الصحيح، 3: 1361، رقم: 3510)،(مشکوٰة حدیث نمبر ۹۳۱۶‘ بخاری حدیث نمبر ۷۶۷۳‘چشتی)

آپ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے چھوٹی بیٹی، حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ اور مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا اسم گرامی فاطمہ ہے۔ کنیت بنت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور القاب بتول، زہرا اور سیدہ ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی کا نام فاطمہ اسلئے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کردیا ہے ۔ (ديلمی، الفردوس بما ثور الخطاب، رقم: 1385،چشتی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ رضی اللہ عنہا کے بارے میں خود بیان کیا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سوا کائنات میں کسی کو افضل نہیں دیکھا ۔ (مجمع الزوائد، 9: 201)

اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتیں تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کو خوش آمدید کہتے اور کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیتے اور انہیں اپنی نشست پر بٹھالیتے ۔ (حاکم، المستدرک، 3: 167، رقم: 4732)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرماکر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں ۔ (ابوداؤد، السنن، 4: 87، رقم:
👍1
4213،چشتی)

حضرت بریدہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عورتوںمیں سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے تھی اور مردوں میں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ محبوب تھے ۔ (ترمذی، الجامع الصحيح، 5: 698، رقم: 3868)

اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیاری بیٹی کی سیرت پر ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو وصال مبارک کے بعد آپ اکثر بیمار رہنے لگ گئیں اور بالآخر 3 رمضان المبارک کو اپنے خالق حقیقی سے ملیں ۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور رات کو جنت البقیع میں دفن کی گئیں ۔ (رياض النضره فی مناقب العشره مبشره، ج1، ص152،چشتی)

حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں ۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔

حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کی شادی امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور حضرت سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا جن کا نکاح حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے ہوا ۔ حضرت سیّدنا محسن اور حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بچپن میں اِنتقال کر گئے ۔ آپ کی اَولادِ پاک میں سے سوائے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی کی نسل پاک جاری نہیں ہوئی ۔

حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سرکارِ دوعالم کی سب سے چھوٹی، مگر سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں، آپ کا نام"فاطمہ" اور لقب" زہرا بتول، ام السادات، طیبہ، طاہرہ، سیدہ، عابدہ، ذاکیہ، محدثہ، خاتونِ جنت، دخترِمصطفی، بانوئے مرتضی، ام الحسنین وغیرہ ہیں، یہ عظیم کنیتیں اور کثیر القابات آپ کی شخصیت کو ہی موزوں ہو سکتے ہیں ۔

حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے الفاظ کے ذریعے اظہار کیا مولا علی رضی اللہ عنہ سے کہ "آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں"، اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمارے دل میں اپنے" بچوں کے ابو" کا احترام ہونا چاہیے اور ان کی رضا کےلیے کوشش کرنی چاہیے ۔

ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کےلیے زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہئے کہ مسلمان کی دعا اُس کی غیر موجودگی میں بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 91)

سیّدہ زہرا رضی اللہ عنہا کھانا پکانے کی حالت میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھیں، ہمیں بھی تلاوت کرتے رہنا چاہئے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 92)

خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ایک مدنی پھول یہ بھی چننے کو ملا کہ آپ ہمسایوں کے لئے زیادہ دُعا فرماتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ 101،چشتی)

سیّدہ کا ئنات رضی اللہ عنہا خود سچی اور سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی ہیں، ہمیں بھی ان کی اس عادت کو اپنا کر اپنی دنیا و آخرت سنوار نی چاہئے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 131،چشتی)

جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہزادی سیّدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑی ہو جاتیں، ان کے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں، ہمیں بھی اپنے والدین کا ادب کرنا چاہئے ۔

مخدومہ کائنات رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ہمیں مزید بھی بہت سے مدنی پھول سیکھنے کو ملتے ہیں ، جیسے :

(1) نذر

(2) سخاوت

(3) ایثار

(4) کھانا کھلانا

(5) سادگی

(6) عاجزی وغیرھا

آپ رضی اللہ عنہا غربت پر صبر کرتیں ، فاقے کرتیں اور پھر بھی ہر حال میں ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 148،چشتی)

آپ رضی اللہ عنہا دنیا سے بے رغبت تھیں، جس کی وجہ سے آپ کا ایک لقب "زاہدہ" دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی" بھی ہے ۔

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا پردے کا اس قدر اہتمام فرماتیں کہ ان کے مبارک جنازہ کا بھی پردہ تھا کہ انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ رات کو ان کا جنازہ پڑھاجائے تو اس سے ہمیں بھی پردہ کرنے کا درس ملتا ہے کہ جو آج کل اسلامی بہنیں بے پردہ پھر رہی ہوتی ہیں، انہیں اس سے درس حاصل کرنا چاہیے ۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا کرے گا، اے اہلِ مجمع!اپنی نگاہیں جھکا لو تا کہ حضرت فاطمہ بنتِ محمد مصطفی رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزریں۔

وہ ردا جس کی تطہیر اللہ دے
آسمان کی نظر بھی نہ جس پر پڑے

جس کا دامن نہ سہواً ہو اسکے چھو سکے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے

اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام
اللہ ربّ العزت نے آپ کو پردہ دار رہنے کا ایک صلہ یہ دیا کہ روزِ محشر آپ رضی اللہ عنہا کی خاطر اہلِ محشر کو نگاہیں جھکانے کا حکم صادر کیا جائے گا تو ہمیں بھی پردہ کرنا چاہئے اور اپنی عزت کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم گھر سے نہ نکلیں اور اگر حاجت ہو تو ایسا برقع پہن کر نکلیں، جس سے ہمارا پورا بدن چھپ جائے اور کوئی ہمیں پہچان نہ سکے اور کسی کو یہ معلوم بھی نہ ہو سکے کہ یہ بوڑھی ہے یا کوئی جوان، ہمیں بھی حضرت فاطمۃ الزہرا کی سیرت عمل کرنا چاہئے ۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت فاطمۃ الزہرا کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے صدقے ہماری ماٶں بہنوں اور بیٹیوں کو شرم و حیاء کی چادر نصیب فرمائے ، اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔

کسی نے کیا ہی پیارا شعر کہا ہے :

چُو زھراباش از مخلوق رُوپوش
کہ در آغوش شبیر بہ بینی
"یعنی فاطمہ کی طرح پرہیزگار، پردہ دار بنو تا کہ گود میں شبّیرِ نامدار اِمامِ حسین رضی اللہ عنہ جیسی اولاد دیکھو۔"

حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ خانہ داری کے امور میں کسی رشتے داریا ہمسائی کو مدد کے لئے نہ بلا تیں، نہ کام کی کثرت اور کسی قسم کی مشقت سے گھبرا تیں، چاہے خود فاقے سے ہوں جب تک شوہر اور بچوں کو نہ کھلا لیتیں، خود ایک لقمہ بھی منہ میں نہ ڈالتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ 273)

حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ مدارج النبوۃ میں نقل فرماتے ہیں : حضرت سیدنا اِمام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"میں نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ (بسا اوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ۔"

(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_52.html
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
#ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_57.html

 سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کو کس قدر عبادت کا ذوق تھا کہ پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتی تھیں ، آپ رضی اللہ عنہا سے حقیقی اُلفت و محبت کا تقاضا ہے کہ ہم نہ صرف فرائض بلکہ سُنن و نوافل کی ادائیگی کو بھی اپنا معمول بنائیں ۔ (شان ِخاتون جنت ص76)

حضرت سیدتنا فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہا کی جب رخصتی ہوئی اور آپ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے گھر تشریف لے گئیں تو حضرت علی آپ سے محبت بھری گفتگو کرنے لگے ، یہاں تک کہ جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو آپ رونے لگیں، حضرت علی نے کہا " اےتمام عورتوں کی سردار ! کیا آپ خوش نہیں کہ میں آپ کا شوہر ہوں اور آپ میری بیوی ہیں ؟ " کہنے لگیں" میں کیونکر راضی نہ ہوں گی"آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں " میں تو اپنی حالت و معاملہ متعلق سوچ رہی ہوں کہ جب میری عمر پوری ہو جائے گی اور مجھے قبر میں داخل کر دیا جائے گا ، آج میرا عزت و فخر کے بستر میں داخل ہونا کل قبر میں داخل ہونے کی مانند ہے ، آج رات ہم اپنے ربّ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عبادت کریں گے کہ وہی عبادت کا زیادہ حق رکھتا ہے ، اس کے بعد وہ دونوں کھڑے ہو کر عبادت کرنے لگے ۔ (حکایتیں اور نصیحتیں صفحہ 548،چشتی)

اس حدیث مبارک کے الفاظ "آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں" بہت اہمیت کے حامل ہیں، اس پر اسلامی بہنوں کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے دل میں اپنے "بچّوں کے ابو" کا کتنا احترام ہے اور وہ بچوں کے ابو کے کتنے حقوق ادا کرتی ہیں اور ان کی رِضا کےلیے کیا کوششیں کرتی ہیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 89 ، 91)

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ماجدہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے حق میں بہت زیادہ دعائیں کرتے دیکھا، میں نے عرض کیا : اے مادرِ مہربان!کیا بات ہے کہ آپ اپنے لئے کوئی دعا نہیں مانگتیں"، فرمایا : اے فرزند"یعنی پہلے ہمسائے ہیں، پھر گھر ۔ (مدارج النبوہ مترجم، قسم پنجم باب اوّل جلد 4 صفحہ نمبر 435)

حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملا کہ آپ رضی اللہ عنہا ہمسایوں کےلیے زیادہ دعا فرمایا کرتیں اور فرماتیں" پہلے ہمسایہ ہے، پھر گھر "ایک ہم نادان ہیں کہ ہمسایوں کا ہمیں خیال تک نہیں، ہم اپنے گھر میں طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں، عمدہ عمدہ ملبوسات پہنتے ہیں اور ہم میں سے بعض کے ہمسایوں کو یہ چیزیں میسّر نہیں ہوتیں اور ہمیں ان کا خیال تک نہیں ہوتا اور اگر وہ کسی چیز کا سوال کریں تو ہم پھر بھی نہیں کرتے۔( شان خاتونِ جنت، ص101)

خواتینِ جنت کی سردار ، جگر گوشہ سرکار، حضرت سیّدۃ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت تھی اور محبت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ جس سے محبت ہو اس کی ہر ادا پنانے کی کوشش کی جاتی ہے، چنانچہ حضرت سیدنا فاطمہ نے خود کو ہر اعتبار سے سنتِ رسول کے سانچے میں ڈھال رکھا تھا، عادات و اطوار، سیرت و کردار، نشست و برخاست، چلنے کے انداز، گفتگو اور صداقت و کلام میں آپ سیرتِ مصطفی کا عکس اور نمونہ تھیں۔(شان خاتونِ جنت، ص114)

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا  ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی شہزادی اور امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی والدہ محترمہ ہیں اور جنتی عورتوں کی سردار ہیں، ہم سب کو ان کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہئے ، ان کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ہمیں بہت کچھ درس حاصل ہوتا ہے ۔

خاتونِ جنت کو کس قدر عبادت کا ذوق تھا کہ پوری پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتی تھیں، ان کی کثرتِ عبادت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم بھی زیادہ سے زیادہ اپنے ربّ عزوجل کی عبادت کریں، آپ رضی اللہ عنہا تو خاتونِ جنت ہو کر بھی اس قدر عبادت کرتی تھیں اور ہمیں تو معلوم بھی نہیں، نجانے ہمارے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ ہوگا، ہمیں بھی زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اپنے ربّ عزوجل کو خوش کرنا چاہئے کہ اگر ربّ عزوجل ہم سے ہمیشہ کے لئے راضی ہوگیا، تو ہماری دنیا و آخرت سنور جائے گی۔

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بہت زیادہ سخی تھیں، کسی سائل کو خالی نہ لوٹاتیں، حتٰی کہ اگر گھر میں کوئی چیز بظاہر موجود نہ ہو تی تو قرض لے کر سائل کی حاجت پوری کرتیں، اس سے ہمیں بھی سخاوت کا درس ملتا ہے کہ ہمیں بھی حاجت مندوں کی مدد کرنی چاہئے کہ جس چیز کی سامنے والے کو ضرورت ہو وہی دینی چاہئے، لیکن ہم تو ایسا کرتے ہیں کہ جس چیز کی ہمیں حاجت نہیں ہوتی وہ ہم دوسروں کو دے دیتے ہیں، یہ تو سخاوت ہی نہیں ہے کہ حضرت سیّدنا ابو سلمان عبدالرحمٰن بن احمد بن عطیہ
👍1
علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:"بہترین سخاوت وہ ہے جو حاجت کے مطابق و موافق ہو (کہ سامنے والے کو جس چیز کی حاجت ہو وہ دی جائے)۔( شعب الایمان، الرابع والسبعون من شعب الایمان باب فی الجود و السخا، ج 7، ص447، الرقم 10938،چشتی)

خاتونِ جنت اپنے تمام گھریلو کام اپنے ہاتھ سے کرتیں، حتٰی کہ اپنی مبارک کمر پر پانی لے کر آئیں، اس سے ہمیں بھی یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں بھی اپنے گھر کے کام کاج خود کرنے چاہیئں کہ اس سے بھی اللہ عزوجل کا قرب حاصل ہوتا ہے ، سیرتِ ابودرداء کے صفحہ 62 پر ہے : حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی طرف ایک مکتوب روانہ فرمایا، جس میں یہ بھی تھا کہ اے میرے بھائی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو نے ایک خادم خریدا ہے، میں نے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ "بندہ جب تک کسی خادم سے مدد نہیں لیتا، اللہ عزوجل کے قریب ہوتا رہتا ہے اور جب وہ کسی خادم سے خدمت لیتا ہے تو اس پر اس کا حساب لازم ہو جاتا ہے۔"

میری زوجہ نے مجھ سے ایک خادم رکھنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حساب کے خوف سے میں نے اسے نا پسند جانا، حالانکہ میں ان دنوں مالدار تھا۔

اس سے ہمیں بھی یہ درس ملا کہ ہمیں بھی خود گھر کے کام کاج کرنے چاہئیں کہ اس سے بھائی بہنوں اور ماں باپ کی منظورِ نظر بن جائیں گی، شادی شدہ ہیں تو شوہر، نند اور ساس کے دلوں میں جگہ بن جائے گی اور گھر امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ماجدہ کو دیکھا کہ رات کو مسجدِ بیت کے محراب میں نماز پڑھتی رہتیں، یہاں تک کہ نمازِ فجر کا وقت ہو جاتا، میں نے آپ رضی اللہ عنہا کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے بہت زیادہ دعائیں کرتے سنا، آپ رضی اللہ عنہا اپنی ذات کے لئے کوئی دعا نہ کرتیں، میں نے عرض کی، پیاری امّی جان! کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے لیے کوئی دعا نہیں کرتیں، فرمایا" پہلے پڑوس ہے پھر گھر ۔"

مولا مشکل کشا حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے موت کے وقت وصیت فرمائی تھی کہ جب دنیا سے رخصت ہوجاؤں تو رات میں دفن کرنا تاکہ کسی غیر مرد کی نظر میرے جنازے پر نہ پڑے۔

یہاں ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ بی بی فاطمہ کا اتنا بڑا مرتبہ ہونے کے باوجود، سرکارِ دو عالم کی شہزادی ہونے کے باوجود ، شیرِ خدا کی زوجہ ہونے کے باوجود، اور جنتی عورتوں کی سردار ہونے کے باوجود بھی آپ نے اپنی زندگی میں بھی اور وفات کے وقت بھی پردے کا ایسا اہتمام فرمایا کہ اپنے بعد آنے والی تمام عورتوں کے لئے مثال قائم کر دی۔

آپ رضی اللہ عنہا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ بااختیار ہیں، ان کی لاڈلی بیٹی ہونے کے باوجود اپنے گھر کا سارا کام خود کرتیں تھیں، کنویں سے پانی بھر کر پیٹھ پر مشک لاد کر لایا کرتیں، خود چکّی چلا کر آٹا بھی پیسا کرتیں اور یہ عورت کا فرض بھی ہے کہ شوہر کی گنجائش نہ ہونے پر گھریلو کام کاج خود کرلیا کریں۔(شان خاتون جنت، ص36)

آپ بہت باحیاء اور با پردہ تھیں اور پردہ کو پسند کرتی تھیں، یہاں تک کہ آپ یہ بھی پسند نہ فرماتیں کہ آپ کے جنازہ مبارکہ پر بھی کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑے۔(شان خاتون جنت، ص322)

آپ رضی اللہ عنہا نے دنیا سے بے رغبتی اختیار کی ہوئی تھی اور اکثر فاقے کرتیں اور خوب صدقہ فرماتیں، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہا کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سونے کا ہار تحفہ دیا تو آپ نے اس کے بدلے غلام خریدا اور اس کو آزاد کر دیا۔(شان خاتون جنت، صفحہ 386)

آپ رضی اللہ عنہا پڑوسیوں پر نہایت ہی شفیق تھیں کہ آپ جب دعا فرماتیں تو پہلے پڑوسیوں کے لئے کرتیں اور فرماتیں کہ" پہلے پڑوس ہے، پھر گھر۔"(فیضان نماز، صفحہ 485)

آپ رضی اللہ عنہا کو بہت زیادہ تلاوت کا شوق تھا کہ آپ گھر کے کام کاج کرتے وقت بھی تلاوت فرماتی تھیں،یہاں تک کہ آپ کو ایک بار اپنے بچوں کو پنکھا جھلتے ہوئے تلاوت کرتے ہوئے سنا گیا۔

آپ کو اس قدرعبادت کا ذوق تھا کہ آپ رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی، کسی بیماری، تکلیف میں بھی نماز میں مشغول رہتیں۔(شان خاتون جنت، ص76)

اس دور حاضر میں جہاں مسلمان دن بدن پستی کا شکار ہو رہے ہیں وہیں مسلمانوں کی زبوں حالی کا ایک سبب بے پردہ عورت ہیں وہم پرستی ،  غم و شادی کے مواقع پر ہندوانہ اور جاہلانہ رسم و رواج وغیرہ جہاں یہ تمام خرافات بد قسمتی سے اسلامی معاشرہ میں عروج پذیر ہیں وہیں مسلمان خواتین میں حیا اور پردہ کا ذہن (concept) جاتا نظر آرہا ہے آج مسلمان خواتین نے اپنا آئیڈیل غیر مسلم اور آزادانہ خیال کی حامل خواتین کو بنا لیا ہے جبکہ ہماری پسندیدہ شخصیت وہ ہستی ہونی چاہئے تھیں جو دنیا میں رہ کر فکر آخرت کرنے والی ہوں اسلامی قوانین کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے والی اور عبادت کو دل و جان سے محبوب رکھنے والی اور با حیا ہوں ، ان تمام خصوصیات کو اگر ہم سیرت حضرت فاطمہ الزھراء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھا کے آئینہ میں
دیکھیں تو صاف طور پر یہ نظر آئے گا کہ ایک مسلمان عورت کی زندگی کی حقیقی تصویر کیا ہونی چاہئے ۔

حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا پردہ کی نہایت پابند تھیں اور حد درجہ حیا دار تھیں ایک بار سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا بیٹی عورت کی سب سے اچھی صفت کون سی ہے ؟ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنھا نے عرض کی عورت کی سب سے اعلی خوبی یہ ہے کہ نہ وہ کسی غیر مرد کو دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اس کو دیکھے۔(سیرت فاطمۃ الزہراء ، باب شرم و حیا صفحہ نمبر 110)

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

حضرت فاطمۃ الزہراء کی شرم و حیا کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد خاتون جنت شہزادی کونین حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا پر غم مصطفی کا اس قدر غلبہ ہواکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا کے لبوں پر مسکراہٹ ختم ہوگی اپنے وصال سے قبل ایک ہی بار مسکرائی دیکھی گئی ۔

اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ شرم و حیاء کی پیکر حضرت سیدتنا خاتون جنت کو یہ تشویش تھی کہ عمر بھر تو غیر مردوں کی نظروں سے خود کو بچائے رکھا ہے اب کہیں بعد وفات میرے کفن پوش، لاش پر لوگوں کی نظر نہ پڑ جائے ۔ایک موقع پر حضرت سیدتنا اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا میں نے حبشہ میں دیکھا کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ایک ڈولی جیسی صورت بنا کر اس پر پردہ ڈال دیتے ہیں پھر انہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر انہیں جوڑ کر اس پر کپڑا تان کر سیدہ خاتون جنت کو دکھایا آپ بہت خوش ہوئی اور لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔ (جذب القلوب مترجم ،ص 231)

سبحان اللہ سیدہ خاتون جنت رضی اللہ عنھا کے پردے اور حیا کی بھی کیا بات ہے کسی نے کتنا پیارا شعر کہا ہے ۔

چوزھرا باش از مخلوق رو پوش
کہ در آغوش شبیرے بہ بینی

(یعنی حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء کی طرح پرہیزگار و پردہ دار بنو تاکہ اپنی گود میں حضرت سیدنا شبیر نامدار امام حسین جیسی اولاد دیکھو)

حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنھا بہت زیادہ پیکر شرم و حیا اور باپردہ تھیں ہمیں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنھا کی مبارک سیرت سے جہاں دیگر درس حاصل ہوتے ہیں وہی ہمیں باپردہ اور باحیا رہنے کا درس حاصل ہوتا ہے کہ آپ کو دنیا تو دنیا لیکن دنیا سے وصال فرما جانے کے بعد بھی اگر کوئی فکر لاحق تھی تو اپنے پردے کی تھی ۔

حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا نہایت ہی عبادت گزار خاتون تھیں، جس کی وجہ سے آپ کا لقب عابدہ بنا، آپ کو نماز انتہائی محبوب تھی، آپ پوری پوری رات اللہ عزوجل کی عبادت میں گزار دیتیں۔

چنانچہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ مدارج النبوۃ میں نقل فرماتے ہیں:حضرت سیدنا اِمام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"میں نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ (بسااوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ۔"( شانِ خا تونِ جنت، ص 77)

قرآن پاک کی سورۃ الذٰریٰت  کی آیت نمبر 56 میں ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُونِ ۔
ترجمہ : اور میں نے جن اور آدمی اسی لیے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

مذکورہ آیت میں جنوں اور انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور انہیں اللہ کی معرفت حاصل ہو ۔ لیکن آج کے زمانے کا انسان اس مقصد کو بھول کر دنیا طلب کرنے اور اس طلب میں مُنہمک ہے ، اپنے مقصدِ پیدائش کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لئے سلف صالحین و صالحات کی سیرتیں مشعلِ راہ ہیں ۔ انہیں میں سے ایک سیرتِ طیبہ خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی سیرت ہے ، آپ رضی اللہ عنہا کی مبارک سیرت کے چند پہلو ملاحظہ فرمائیں ۔

آپ رضی اللہ عنہا کی طبیعتِ عالیہ ہمہ وقت عبادتِ الہی کی طرف متوجّہ رہتی تھی، اپنے گھریلو کام کاج کی انجام دہی کے ساتھ یادِ الٰہی میں مشغول رہتیں، تلاوتِ قرآن کا ورد بھی جاری رکھتیں، پوری پوری رات اللہ عزوجل عبادت میں گزار دیتی تھیں ، حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی مدارج النبوۃ میں نقل فرماتے ہیں : حضرت سیدتنا اِمام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"میں نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ (بسااوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔"

اور صفحہ نمبر83 پر ہے:حضرت سیّدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور پر نور، شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ حضراتِ حسنینِ کریمین رضی اللہ عنہما سو رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہا ان کو پنکھا جھل رہی تھیں اور زبان سے کلامِ الہی کی تلاوت جا ری تھی، یہ دیکھ کر مجھ پر ایک خاص رقت طاری ہوئی۔
سورۃ الدہر میں اِرشادِ ربّانی ہے کہ ، وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا ۔
ترجمہ : اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اَسِیر(قیدی) کو ۔ (پ 29 سورہ الدھر : آیت 8)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، حضراتِ حسنینِ کریمین ایک بار بچپن میں بیمار ہوگئے تو حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ بی بی فاطمہ اور حضرت سیّدتنا فضہ رضی اللہ عنہما نے ان کی صحت یابی کے لئے تین روزوں کی منت مانی، اللہ تعالی نے صحت دی، نذر کی وفا کا وقت آیا، سب صاحبوں نے روزے رکھے، خا تونِ جنت رضی اللہ عنہانے ایک ایک صاع (یعنی چار کلو میں 160 گرام کم) تینوں دن پکایا، لیکن جب افطار کا وقت آیا، روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک دن مسکین، ایک دن یتیم اور ایک دن قیدی دروازے پر حاضر ہو گئے اور روٹیوں کا سوال کیا تو تینوں دن روٹیاں ان سائلوں کو دے دیں اور صرف پانی سے افطار کر کے اگلا روزہ رکھ لیا۔( خزائن العرفان، پ29 ، الدھر:8، ص1073)

خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی سیرتِ طیبہ سے ہمیں سخاوت کا درس ملتا ہے، اللہ پاک نے آپ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کو پسند کرتے ہوئے اس کا ذکر قرآن پاک میں فرمایا، فقط اللہ کی رضا کے لئے ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا، دنیا و آخرت میں سرخروئی کا باعث ہے، بندوں پر کرم کرنے والے پر اللہ کا کرم ہوتا ہے ۔

حضرت سّٕدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے محبت کرنا ہمارے ایمان کی سلامتی کی ضامن ہے، فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد 2 صفحہ 436  حدیث 6139،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے والی چیز بی بی فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہا سے محبت و عقیدت ہے۔

دُخترِ مصطفی، بانوئےمرتضی، ام الحسنین، بی بی فاطمۃالزہرا رضی اللہ عنہا شرم و حیا کی پیکر ، حق وصداقت کی علمبردار، فکرِ آخرت سے سرشار، عبادت، معاملات اور امورِ خانہ داری میں اپنی مثال آپ تھیں۔

آپ رضی اللہ عنہا باکمال عاشقہ رسول تھیں، آپ رضی اللہ عنہا نے خود کو ہر اعتبار سے سنتِ رسول کے ڈھانچے میں ڈھال رکھا تھا، عادات واطوار، سیرت و کردار، نشست و برخاست، چلنے کا انداز، گفتگو ، صداقت و کلام میں آپ رضی اللہ عنہا سیرتِ مصطفی کا عکس ونمونہ تھیں۔

حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خود کو غیر مردوں کی نظر وں سے بچائے رکھا تھا، ان کی حیا فضیلت کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ معظم ہے:"جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک منادی ندا کرے گا، اے اہلِ مجمع! اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ بنتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پُل صراط سے گزریں۔(جامع الصغیر مع فیض القدیر، جلد 1 صفحہ 549، حدیث 822)

کہاوت مشہور ہے:حیا حسن سے زیادہ پُرکشش ہے، ہمیں چاہئے کہ خاتونِ جنت کے راستے پر چلتے ہوئے فیشن کو چھوڑ کر پردے داری کی راہ اختیار کریں۔

حضرت سیدنا اِمام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"میں نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ (بسااوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی ۔ (مدارج النبوہ جلد 2 صفحہ 623،چشتی)

حضراتِ حسنین کریمین سو رہے ہوتے، آپ رضی اللہ عنہا ان کو پنکھا جھل رہی ہوتی اور زبان سے تلاوتِ قرآن جاری ہوتی۔(سفینہ نوح حصہ دوم صفحہ 35)

ہمیں بھی چاہئے کہ گھریلو مصروفیت کے دوران ذکرُ اللہ سے غافل نہ ہو۔

حضرت سیّدنا فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا اُمورِ خانہ داری کے تمام کام (چکّی پیسنا، پانی کی مشک بھر کر لانا، جھاڑو وغیرہ دینا) خود کیا کرتی تھیں۔( سنن ابی داؤد، ص790: حدیث5023)

ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے گھر کے کام کاج اپنے ہاتھ سے کرنے کو ترجیح دیں، حضرت بی بی فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی بہت سادہ زندگی تھی، آپ رضی اللہ عنہا نے فاقہ کشی کے دن بھی گزارے، آپ رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ہمیں حوصلہ ملتا ہےکہ مصیبت کے وقت ان مقدس ہستی کی فاقہ کشی کو یاد کریں، معاشی بدحالی ہو تو گھر والوں یا شوہر کو لعن طعن کرنے کے بجائے صبر سے کام لیں۔اللہ تبارک و تعالی بی بی فاطمۃالزہرا رضی اللہ عنہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمين ۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ علیہ"مدارج النبوۃ" میں نقل فرماتے  ہیں : حضرت سیّدنا اِمام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"میں نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ (بسااوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی ۔"(مدارج النبوۃ مترجم قسم پنجم، درذ کر اولاد کرام، سیدہ فاطمۃ الزھراء، ج2 ، صفحہ نمبر 623،چشتی)
حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کو کس قدر عبادت کا ذوق تھا کہ پوری پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتی تھیں، لہذا آپ رضی اللہ عنہا سے حقیقی الفت و محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نہ صرف فرائض بلکہ سنن و نوافل کی ادائیگی کو بھی اپنا معمول بنائیں، نماز کو خوب شوق ومحبت سے پڑھیں۔

حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا خود سچی اور سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شہزادی ہیں، سچ کی بہت برکات ہیں اور جھوٹ ایسی بُری چیز ہے جو تمام اَدیان میں حرام ہے اور ہرمذہب والے اس کی برائی کرتے ہیں، لہذا ہمیں چاہئے کہ سچ بولیں اور جھوٹ سے بچیں۔

اس کے علاوہ ہمیں آپ کی سیرت سے سخاوت، ایثار، گھر کے کام کاج کرنا، شوہر کی اطاعت کرنا، سادگی، حسنِ اخلاق، پڑوسیوں کے لئے دعائیں کرنا، باپردہ رہنا، خوفِ خدا، زہدو تقوی وغیرہ یہ سب درس سیکھنے کو ملتے ہیں، لہذا ہر اسلامی ماں بہن اور بیٹی کو چاہیے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت سے درس حاصل کر کے اپنی زندگیوں کو سنتوں کو بجالاتے ہوئے گزاریں۔

حضرت سیّدنا علاؤ الدّین علی متقی ہندی  علیہ الرحمۃ اللہ الغنی خاتونِ جنت کی شان و عظمت میں حدیث پاک نقل کرتے ہیں کہ شاہِ ہر دوسرا، مکی مدنی آقا، والدِماجدِ زہرا صلی اللہ علیہ و سلم نے اِرشاد فرمایا:"میری بیٹی فاطمہ اِنسانی شکل میں حوروں کی طرح حیض و نفاس سے پاک ہے۔"

صادقہ، صالحہ، صائمہ، صابرہ،
صاف دل، نیک خُو، پارسا، شاکرہ،

عابدہ، زاہدہ، ساجدہ، ذاکرہ،
سیدہ، زہرا، طیبہ، طاہرہ،

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادی، خاتونِ جنت، حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا پر ہمارے دل و جان قربان، آپ رضی اللہ عنہا کو اُمّتِ مسلمہ کا بے حد دردتھا، پیارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی دُکھیاری اُمت کے لئے بعض اوقات ساری ساری رات دعائیں مانگتی رہتیں، اپنی سہولت و آسائش کے لئے ربِّ کائنات کی بارگاہ میں کبھی التجا نہ کرتیں، آپ رضی اللہ عنہا سارا دن گھر کا کام کاج کرتیں اور جب رات آتی تو عبادتِ الہی کے لئے کھڑی ہوجاتیں۔

امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیّدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کھانا پکانے کی حالت میں بھی قران پاک کی تلاوت جاری رکھتیں۔

اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو کئیں نادان مصروفیت کے دوران کانوں میں ہینڈ فری لگا کر بڑے انہما ک سے گانے سنتے ہوئے اپنے کاموں میں مگن رہتے ہیں، گویا گانے باجوں کے بغیر ان کے کام ہی نہیں ہوتے، اے کاش! ہمارا کوئی لمحہ فضول کاموں میں بسر نہ ہو اور ہر دم ہمارے لبوں پر ذکر و درود اور نعتِ رسول جاری رہے۔

حضرت سیّدتنا فاطمۃ الزہرا کی رخصتی کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا دونوں نے اپنے بستر کو چھوڑ دیا اور اللہ پاک کی عبادت میں مصروف ہو گئے، رات قیام میں، تو دن روزے کی حالت میں بسر ہوتے رہے، حتی کہ تین دن اسی طرح گزر گئے، چوتھے روز جبرائیل امین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں کے متعلق سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ اللہ پاک تمہاری وجہ سے ملائکہ پر فخر فرما رہا ہے، تم دونوں روزِقیامت گناہ گاروں کی شفاعت کرو گے۔(الروض الفائق)

ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کی سیرت پر چلتے ہوئے خوب خوب عبادت کرنی چاہئے، علاوہ رمضان المبارک کے فرض روزوں کے نفل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے، سیدتنا خاتونِ جنت کے ذوقِ تلاوت اور آپ کے شوقِ عبادت میں باالخصوص ہمارے گھر کی اسلامی بہنوں کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کی عبادت کا ذوق و شوق ہونا چاہئے، نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ ہونا چاہئے۔

حضرت سیدہ خاتون جنت کی شان و عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ ہمیشہ سادگی اختیار فرماتیں، غریبوں کے ساتھ غمخواری اور ملنساری سے پیش آتی تھیں، آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر آنے والے سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔

اے غلانانِ اہل بیت ! دیکھا آپ نے خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ایثارو سخاوت کا جذبہ ایسا زبردست تھا کہ خود فاقےسے رہتیں اور ایک نو مسلم کی حاجت روائی کے لئے قرض کی خاطر مبارک چادر گِروی رکھوا دی ۔ ایک طرف خاتونِ جنت کا پاکیزہ عمل اور دوسری طرف ہماری حالت کہ اگر ہمارے پاس کوئی حاجت مند آجائے تو اسے دیتے وقت ایسی باتیں سناتے ہیں کہ اس کی دل آزاری ہو یا اس کی ذلت و رسوائی ہو، ہمیں اس سے بچنا چاہئے۔

ایک اور نمایاں پہلو جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہا کی سیرت کو نمایاں مقام حاصل ہے اور وہ ہے پردہ ، حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہانے موت کے وقت وصیت فرمائی کہ جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو رات میں دفن کرنا تاکہ کسی غیر مرد کی نظر میرے جنازے پر نہ پڑے ۔ ( مدارج النبوۃ مترجم جلد 2) ۔

(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
#ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_61.html

سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ سوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحب زادی سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی ولادت با سعادت مکہ شریف میں ہوئی ۔ پوری دنیا کی تاریخ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی کی نظیر اور مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ آپ کی ذات طیبہ امت مسلمہ کی خواتین کےلیے ایک بے مثال اور قابل تقلید نمونہ ہے ۔

حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بڑے پاکیزہ اوصاف کی حامل تھیں ، ہر وقت عبادت الہٰی میں ڈوبی رہتی تھیں ، دنیا کی خواہشات سے آپ کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہ تھا ، انہیں اعلیٰ صفات کی بنیاد پر آپ متعدد القاب سے جانی جاتی تھیں جن میں سے ایک ”بتول” ہے علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ آپ کا لقب “بتول” اس لیے تھا کہ آپ دینداری اور شرافت و پاکیزگی میں تمام عورتوں سے ممتاز اور یگانہ تھیں ۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بچپن کا دور اسلام کا ابتدائی دور تھا۔یہ وقت بڑا کٹھن اور دشوار تر ین تھا،اس وقت مکہ کے کفاروں کا مسلمانوں پر ظلم وستم اور تعصب پورے زور پر تھا۔قریش نے بنی ہاشم پر عر صہ حیات تنگ کر رکھا تھا،اس دوران بنی ہاشم تقریبا تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور بھی رہے اور نہایت تنگ دستی کی زندگی گزاری۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے بچپنے میں اپنے عظیم والد حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ بھوک اور پیاس کی تمام تکلیفوں کو برداشت کیں۔آپ کی مادرِ عظیم ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی رحلت کا صدمہ بھی آپ کےلیے بڑا جان گداز تھا ،جسے آپ نے بڑے حوصلے سے برداشت کیا ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تعلیم وتر بیت اور درس ونصیحت کی وجہ سے آپ بچپنے ہی سے ملکوتی صفات سے آراستہ و پیراستہ ہو گئی تھیں ۔ آپ کو عام لڑ کیوں کی طرح کھیل کودکا بالکل شوق نہ تھا ، آپ نے کبھی ضد نہ کیا ، آپ کو زیورات پہننے کی خواہش تھی نہ بناؤسنگھار کی کوئی فکرنہ زرق برق لباس پہننے کی کوئی آرزو ۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بچپنے ہی سے پاک باز تھیں ،فہم وتدبر،مہمان نوازی،شرم وحیا،صبر وتوکل،زہد وقناعت اور تواضع وخاکساری آپ کا شعار تھا۔

جب آپ سن بلوغ کو پہنچیں تو بڑے بڑے سرداران عرب نے نکاح کا پیغام بھیجا مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا آخر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نےحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کردیا اس وقت ان کے پاس رہنے کو اپنا گھر بھی نہیں تھا۔مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انتخاب کو خوشدلی کے ساتھ قبول فر مایا۔اور پوری زندگی انتہائی سادگی کے ساتھ بغیر کسی گلہ شکوہ کے گزاردیں۔گھر کے تما م کاج کام آپ خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی تھیں،گھر صاف کرتیں ، چکی پیستیں ، مشکیزہ میں بھر کے پانی لاتیں ، چکی پیسنے کی وجہ سے آپ کی ہاتھوں میں نشان پڑ گئے تھے ۔

ایک دن حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ اونٹ کے بالوں کا ایک موٹا کپڑا پہنے ہوئی ہیں ۔تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فر مایا:اے فاطمہ !آج اس دنیا کی پر یشانی اور تکلیف پر صبر کرتی رہ تا کہ آخرت میں تمہیں جنت کی نعمتیں ملے ۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول رہنا اور اپنے رب کریم کے احکام وفر مانبرداری میں زندگی گزارنا بڑا پسند تھا۔آپ نے کبھی اپنا چہرہ غیر محرم مردوں کے سامنے نہیں کھولا ،حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے صحابہ سے پوچھا کہ:عورت کی سب سے بہترین خوبی کیا ہے ؟ کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑاتو حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر تشریف لے گئے اور یہی سوال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو آپ نے فر مایا کہ : عورت کی سب سے بہترین خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی کسی غیر مرد کو نہ دیکھے اور نہ کوئی غیر اس کو دیکھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ جواب لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور حضرت فاطمہ کا جواب بیان کیا۔تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فر مایا:فاطمہ میری لخت جگر ہے اس کی رائے میری رائے ہے ۔

حضرت سیدہ ، طیبہ ، طاہرہ ، زاہدہ ، کاملہ ، اکملہ ، عابدہ ، ساجدہ ، عالمہ ، خا تون جنّت حضرت بی بی فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ ان کی والدہ کا نام بھی حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بعثت نبوی کے بعد جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر مبارک اکتالیس سال تھی مکہ
👍1
مکرمہ میں پیدا ہوئیں ۔ بعض سیرت نگاروں کے نزدیک حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت جس زمانہ میں قریش کعبہ کی تعمیرکر رہے تھے اس وقت ہوئی ۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر مبارک پینتیس سال تھی ۔ (طبقات ابن سعد ج۸ ص۱۱، الاصابہ لابن حجر ج۴ ص۵۶۳، الاصابہ فی تمیزالصاحبہ ج۴ ص۵۶۳،چشتی)

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحزادیوں میں سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ ان کا اسم گرامی : حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا : اور ان کے القاب میں زہرا ، بتول ، زکیہ ، راضیہ ، طاہرہ ، بضعۃ الرسول خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی پرورش اور تربیت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمائی ۔

حدیث شریف کی کی کتابوں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق ان کی سیرت اور طرز طریق کو محدثین اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ : فاقبلت فاطمہ تمشی ۔ ماتخطئی مشیۃالرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شیاَ ۔ یعنی جس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا چلتی تھیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چال ڈھال اپنے والد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بلکل مشابہ ہوتی تھی ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں قیام وقعود ،نشست و برخاست ،عادات واطوار میںحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ۔ (مسلم شریف ج۲ص ۰۹۲ ، الاستیعاب ج۴ص۳۶۳، حلیۃالاولیا لابی نعیم الصفہانی ج۲ص۹۳،چشتی)

شعب ابی طالب میں محصوری : اسلام کا راستہ روکنے کے لیئے کفار مکہ نے نبی کریم صلی اللہ ولیہ وسلم کے خاندان ،صحابہ کرام ، ازواج مطہرات : اوربنات رضی اللہ عنہم : کو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور کر دیا ۔ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے یہ صبر آزما لمحات اپنے اعزہ واقارب اور عظیم والدین کے ہمراہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیں ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہجرت فرما کے مدینہ تشریف لے گئے ۔ اس وقت حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہامکہ میں تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں لانے کے لیے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومتعین فرمایا اور دو اونٹ دیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ درہم زاد راہ کے لیئے دیے ۔ یہ دونوں بنات طیبات ان کے ہمراہ مدینہ تشریف لائیں ۔ (البدایۃ لابن کثیر ج۳ ص۲۰۲)

ماہ رجب 2 ہجری میں حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اکیس یا چوبیس برس اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پندرہ یا اٹھارہ برس تھی ۔ (تفسیر القرطبی ج۴۱ ص۱۴۲) ۔ اس نکاح کے گواہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ (ذخائرالعبقعیٰ المحب الطبری)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کی رخصتی کے لیے تمام تیاری سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمائی ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی اس کام میں ان کی معاون تھیں۔ کہ ہم نے وادی بطحا سے اچھی قسم کی مٹی منگوائی ۔جس سے اس مکان کو لیپا پونچا اور صاف کیا ۔پھر ہم نے اپنے ہاتھوں سے کھجور کی چھال درست کر کے دو گدے تیار کیے ۔اوع خرمااور منقی سے خوراک تیار کی اور پینے کے لیے شیریں پانی مہیا کیا ۔پھر اس مکان کے ایک کونے میں لکڑی گاڈ دی تاکہ اس پر کپڑے اور مشکیزہ لٹکایا جاسکی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ : فمارایناعرسا احسن من عر س فا طمہ ۔ یعنی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی سے بہتر ہم نے کوئی شادی نہیں دیکھی ۔ (سنن ابن ماجہ ص۹۳۱،مسند احمد ج۱ ص۴۰۱،چشتی)

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جہیز : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی لخت جگر کو جو جہیز دیا مختلف روائتوں کے مطابق اس کی تفصیل یہ ہے : (1) ایک بستر مصری کپڑے کا جس میں اون بھری ہوئی تھی ۔ (2) ایک چمڑے کاتکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ (3) ایک مشکیزہ ۔ (4) دو مٹی کے گھڑی ۔ (5) ایک چکی ۔ (6) ایک پیالہ ۔ (7) دو چادریں ۔ (8) ایک جا نماز ۔ (مسند احمدج۱ ص104،چشتی)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی زندگی کے تمام ادوار میں بے مثال نظر آتی ہیں ۔ آپ اپنے والدین کے لئے ایک بے مثال اور قابل فخر بیٹی تھیں ۔ اپنے شوہر کے لئے ایک بے مثال شریک حیات اور مونس وغمخوار تھیں ۔ آپ نے ماں ہونے کی حیثیت سے سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کی ایسی تربیت فر مائی کہ انہوں نے اللہ کے دین کو بچانے کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ
1
لٹا دیا یہاں تک کہ انتہائی صبر وتحمل کے ساتھ اپنی جان بھی قر بان کردی اور اس وقت جب کہ آپ کی نگاہوں کے سامنے عزیز واقارب کی بہترّ نعشیں پڑی تھیں اور خود اپنا جسم تلواروں ،بھالوں،نیزوں اور تیروں کےزخموں سے لہو لہان تھا سجدہ قضا نہ ہونے دیا۔اور اپنی صاحبزادی حضرت زینب اور ام کلثوم کو اللہ و رسول کے احکام کا ایسا پابند بنایا تھا کہ انہوں نے کر ب وبلا کی سر زمین پر اپنے بھائی ،بھتیجوں اور بھانجوں کے تڑپتے لاشے کو دیکھ کر بھی اپنے سر سے دوپٹے کو ہٹنے نہیں دیا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فر مایا: حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والدین علی اور فاطمہ ان دونوں سے بھی بہتر ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث:۱۱۸)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر انہیں قریب بلا کر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس بارے میں سیدہ سلام ﷲ علیہا سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی مرض میں وصال ہو جائے گا۔ پس میں رونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعد آؤ گی اس پر میں ہنس پڑی ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3511، و کتاب : المناقب، باب : علامات النبوة في الإسلام، 3 / 1327، الرقم : 3427، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1904، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 296، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 77، و في فضائل الصحابة، 2 / 754، الرقم : 1322،چشتی)

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع تھیں اور کوئی ایک بھی ہم میں سے غیر حاضر نہ تھی، اِتنے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنھا وہاں تشریف لے آئیں ، تو ﷲ کی قسم اُن کا چلنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے سے ذَرّہ بھر مختلف نہ تھا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاستئذان، باب : من ناجي بين الناس ومن لم بسر صاحبه فإذا مات أخبر به، 5 / 2317، الرقم : 5928، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، الرقم : 2450، و النسائي في فضائل الصحابة : 77، الرقم : 263، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الطيالسي في المسند : 196، الرقم : 1373، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 247، و الدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 101، 102، الرقم : 188،چشتی)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اَزواج جمع تھیں اور کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی ۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنھا آئیں جن کی چال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے کے مشابہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مرحبا (خوش آمدید) میری بیٹی ! پھر اُنہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا ۔ اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1905، 1906، الرقم : 2450، و ابن ماجة في السنن، کتاب : ماجاء في الجنائز، باب : ماجاء في ذکر مرض رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 1 / 518، الرقم؛ 1620، و النسائي في السنن الکبري، 4 / 251، الرقم : 7078، 5 / 96، 146، الرقم : 8368، 8516، 8517، و في فضائل الصحابة، 77، الرقم : 263، و في کتاب الوفاة، 1 / 20، الرقم : 2،چشتی)

اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اَطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 700، الرقم : 3872، و أبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : ماجاء في القيام، 4 / 355، الرقم : 5217، و النسائي في فضائل الصحابة : 78، الرقم : 264، و الحاکم في
المستدرک، 4 / 303، الرقم : 7715، و البيهقي في السنن الکبري، 5 / 96، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 2 / 248، و إبن جوزي في صفة الصفوة، 2 / 6، 7،چشتی)

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی ﷲ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔ اس حدیث کو امام بخاری نے ’’ الادب المفرد‘‘ میں اور امام نسائی و ابن حبان نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 326، 377، الرقم : 947، 971، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 391، الرقم : 9236، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 403، الرقم : 6953، و الحاکم في المستدرک، 3 / 167، 174، الرقم : 4732، 4753، و الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 242، الرقم : 40890، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 101، و ابن راهوية في المسند، 1 / 8، الرقم : 6،چشتی)

حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت : ’’جب ﷲ کی مدد اور فتح آ پہنچے ۔ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو بلایا اور فرمایا : میری وفات کی خبر آ گئی ہے، وہ رو پڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : مت رو، بے شک تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو وہ ہنس پڑیں ، اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج نے بھی دیکھا ۔ انہوں نے کہا : فاطمہ! (کیا ماجرا ہے)، ہم نے آپ کو پہلے روتے اور پھر ہنستے ہوئے دیکھا ہے؟ آپ نے جواب دیا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا : میری وفات کا وقت آ پہنچا ہے ۔ (اس پر) میں رو پڑی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مت رو، تم میرے خاندان میں سب سے پہلے مجھے ملو گی، تو میں ہنس پڑی ۔ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 51، الرقم : 79، و ابن کثير في تفسير قرآن العظيم، 4،چشتی)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : دَعَا رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِفَاطِمَة اللَّهُمَّ، إِنِّي أُعِيْذُهَابِکَ وَ ذُرِّيَتَهَا مِنَ الْشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ.رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ .
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا کے لئے خصوصی دعا فرمائی : اے ﷲ! میں (اپنی) اس (بیٹی) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ۔ اس حدیث کو امام ابن حبان، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه ابن حبان في الصحيح، 15 / 394، 395، الرقم : 6944، و الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 409، الرقم : 1021، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 762، الرقم : 1342، و الهيثمي في موارد الظمآن، 550، 551، الرقم : 2225، و ابن الجوزي في تذکرة الخواص، 1 / 277، و المحب الطبري في ذخائر العقبي، 1 / 67،چشتی)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي ﷲ عنه، قَالَ : لَمْ يَکُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَ فَاطِمَة سلام ﷲ عليهم. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی اور حضرت فاطمہ الزہراء (رضی اللہ عنھم) سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 164،چشتی)

حضرت امّ سلمی رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام ﷲ علیھا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی ۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاںتک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے ۔ سیدۂ کائنات نے کہا : اے اماں ! میرے غسل کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی ۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا۔ پھر بولیں : اماں جی! مجھے نیا لباس دیں ۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا : اماں جی : اب میری وفات ہو جائے گی، میں (غسل کر کے) پاک ہو چکی ہوں ، لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی ۔ حضرت اُمّ سلمی بیان کرتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم ﷲ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی ۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 461، الرقم : 27656. 27657، والدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 113، والزيلعي في نصب الراية، 2 / 250، والطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، 1 / 103، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 210، وابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 221،چشتی)