🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-09-1443 ᴴ | 04-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❶
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_52.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار دخترانِ ذیشان ہیں جو سبھی کی سبھی خاتون اوّل اُمّْ الموٴمنین حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطنِ پاک سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پاک بیٹیاں ہیں ۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم نے سورة الاحزاب کی آیت نمبر 95 میں وضاحت فرمائی ہے : یْٰاَیُّھَا النَّبِیّْ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاْءِ الْمُوْمِنِیْنَ ۔
ترجمہ : اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے فرما دیں ۔
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اپنی صرف ایک بیٹی پاک ہوتی تو اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم قرآنِ مجید میں اُس کا ذکر خیر بیٹیاں فرما کر نہ کرتا ۔ ربِّ ذوالجلال والاکرام کے فرمان سے یہ بات واضح ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اپنی ہی چار بیٹیاں ہیں جن کے نام ترتیب وار اِس طرح ہیں (1) حضرت سیّدہ زینب (1) حضرت سیّدہ رقیہ (3) حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم اور (4) حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہن ۔
قرآنِ مجید کے اِرشادِ عظیم کے مطابق اَیسی لڑکی جو بیوہ عورت کے پہلے شوہر سے ہواور وہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی کرے تو بیوہ عورت کی پہلے شوہر سے لڑکی دوسرے شوہر کی بیٹی نہیں کہلاتی بلکہ ”ربیبہ“ کہلاتی ہے ۔ وَرَبَاْئِبْکْمْ الّٰتِیْ فِیْ حْجْوْرِکْمْ مِّنْ نِّسَاْءِ کْمْ الّٰتِیْ دَخَلْتْمْ بِھِنَّ ۔ (النساء:۳۲) ، اور اُن کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیویوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو ۔
حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پاک بیٹیوں میں سے سب سے چھوٹی شہزادی ہیں ۔
آپ کا اِسم مبارک ”فاطمہ“ ہے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ آپ کا لقب بتول اور زہرا ہے ۔ بتول کا معنی ہے منقطع ہونا‘ کٹ جانا چونکہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے اَلگ تھیں۔ لہٰذا بتول لقب ہوا۔ زہرا بمعنی کلی ‘آپ جنت کی کلی تھیں ۔
آپ کے جسم پاک سے جنت کی خوشبو آتی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سونگھا کرتے تھے۔ اِس لئے آپ کا لقب زہرا ہوا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ مختلف روایات کے مطابق آپ اِعلانِ نبوت سے ایک سال یا پانچ سال پہلے پیدا ہوئیں ۔
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : فاطمه بضعة منی، فمن اغضبها اغضبنی ۔
ترجمہ : فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری، الصحيح، 3: 1361، رقم: 3510)،(مشکوٰة حدیث نمبر ۹۳۱۶‘ بخاری حدیث نمبر ۷۶۷۳‘چشتی)
آپ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے چھوٹی بیٹی، حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ اور مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا اسم گرامی فاطمہ ہے۔ کنیت بنت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور القاب بتول، زہرا اور سیدہ ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی کا نام فاطمہ اسلئے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کردیا ہے ۔ (ديلمی، الفردوس بما ثور الخطاب، رقم: 1385،چشتی)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ رضی اللہ عنہا کے بارے میں خود بیان کیا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سوا کائنات میں کسی کو افضل نہیں دیکھا ۔ (مجمع الزوائد، 9: 201)
اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتیں تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کو خوش آمدید کہتے اور کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیتے اور انہیں اپنی نشست پر بٹھالیتے ۔ (حاکم، المستدرک، 3: 167، رقم: 4732)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرماکر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں ۔ (ابوداؤد، السنن، 4: 87، رقم:
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_52.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار دخترانِ ذیشان ہیں جو سبھی کی سبھی خاتون اوّل اُمّْ الموٴمنین حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطنِ پاک سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پاک بیٹیاں ہیں ۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم نے سورة الاحزاب کی آیت نمبر 95 میں وضاحت فرمائی ہے : یْٰاَیُّھَا النَّبِیّْ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاْءِ الْمُوْمِنِیْنَ ۔
ترجمہ : اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے فرما دیں ۔
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اپنی صرف ایک بیٹی پاک ہوتی تو اللہ تبارک وتعالیٰ جل مجدہْ الکریم قرآنِ مجید میں اُس کا ذکر خیر بیٹیاں فرما کر نہ کرتا ۔ ربِّ ذوالجلال والاکرام کے فرمان سے یہ بات واضح ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اپنی ہی چار بیٹیاں ہیں جن کے نام ترتیب وار اِس طرح ہیں (1) حضرت سیّدہ زینب (1) حضرت سیّدہ رقیہ (3) حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم اور (4) حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہن ۔
قرآنِ مجید کے اِرشادِ عظیم کے مطابق اَیسی لڑکی جو بیوہ عورت کے پہلے شوہر سے ہواور وہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی کرے تو بیوہ عورت کی پہلے شوہر سے لڑکی دوسرے شوہر کی بیٹی نہیں کہلاتی بلکہ ”ربیبہ“ کہلاتی ہے ۔ وَرَبَاْئِبْکْمْ الّٰتِیْ فِیْ حْجْوْرِکْمْ مِّنْ نِّسَاْءِ کْمْ الّٰتِیْ دَخَلْتْمْ بِھِنَّ ۔ (النساء:۳۲) ، اور اُن کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اُن بیویوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو ۔
حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پاک بیٹیوں میں سے سب سے چھوٹی شہزادی ہیں ۔
آپ کا اِسم مبارک ”فاطمہ“ ہے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ آپ کا لقب بتول اور زہرا ہے ۔ بتول کا معنی ہے منقطع ہونا‘ کٹ جانا چونکہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے اَلگ تھیں۔ لہٰذا بتول لقب ہوا۔ زہرا بمعنی کلی ‘آپ جنت کی کلی تھیں ۔
آپ کے جسم پاک سے جنت کی خوشبو آتی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سونگھا کرتے تھے۔ اِس لئے آپ کا لقب زہرا ہوا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ مختلف روایات کے مطابق آپ اِعلانِ نبوت سے ایک سال یا پانچ سال پہلے پیدا ہوئیں ۔
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : فاطمه بضعة منی، فمن اغضبها اغضبنی ۔
ترجمہ : فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ (بخاری، الصحيح، 3: 1361، رقم: 3510)،(مشکوٰة حدیث نمبر ۹۳۱۶‘ بخاری حدیث نمبر ۷۶۷۳‘چشتی)
آپ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے چھوٹی بیٹی، حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ اور مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا اسم گرامی فاطمہ ہے۔ کنیت بنت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور القاب بتول، زہرا اور سیدہ ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی کا نام فاطمہ اسلئے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کردیا ہے ۔ (ديلمی، الفردوس بما ثور الخطاب، رقم: 1385،چشتی)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ رضی اللہ عنہا کے بارے میں خود بیان کیا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سوا کائنات میں کسی کو افضل نہیں دیکھا ۔ (مجمع الزوائد، 9: 201)
اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتیں تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کو خوش آمدید کہتے اور کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیتے اور انہیں اپنی نشست پر بٹھالیتے ۔ (حاکم، المستدرک، 3: 167، رقم: 4732)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرماکر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں ۔ (ابوداؤد، السنن، 4: 87، رقم:
👍1
4213،چشتی)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عورتوںمیں سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے تھی اور مردوں میں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ محبوب تھے ۔ (ترمذی، الجامع الصحيح، 5: 698، رقم: 3868)
اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیاری بیٹی کی سیرت پر ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو وصال مبارک کے بعد آپ اکثر بیمار رہنے لگ گئیں اور بالآخر 3 رمضان المبارک کو اپنے خالق حقیقی سے ملیں ۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور رات کو جنت البقیع میں دفن کی گئیں ۔ (رياض النضره فی مناقب العشره مبشره، ج1، ص152،چشتی)
حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں ۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔
حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کی شادی امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور حضرت سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا جن کا نکاح حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے ہوا ۔ حضرت سیّدنا محسن اور حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بچپن میں اِنتقال کر گئے ۔ آپ کی اَولادِ پاک میں سے سوائے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی کی نسل پاک جاری نہیں ہوئی ۔
حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سرکارِ دوعالم کی سب سے چھوٹی، مگر سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں، آپ کا نام"فاطمہ" اور لقب" زہرا بتول، ام السادات، طیبہ، طاہرہ، سیدہ، عابدہ، ذاکیہ، محدثہ، خاتونِ جنت، دخترِمصطفی، بانوئے مرتضی، ام الحسنین وغیرہ ہیں، یہ عظیم کنیتیں اور کثیر القابات آپ کی شخصیت کو ہی موزوں ہو سکتے ہیں ۔
حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے الفاظ کے ذریعے اظہار کیا مولا علی رضی اللہ عنہ سے کہ "آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں"، اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمارے دل میں اپنے" بچوں کے ابو" کا احترام ہونا چاہیے اور ان کی رضا کےلیے کوشش کرنی چاہیے ۔
ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کےلیے زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہئے کہ مسلمان کی دعا اُس کی غیر موجودگی میں بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 91)
سیّدہ زہرا رضی اللہ عنہا کھانا پکانے کی حالت میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھیں، ہمیں بھی تلاوت کرتے رہنا چاہئے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 92)
خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ایک مدنی پھول یہ بھی چننے کو ملا کہ آپ ہمسایوں کے لئے زیادہ دُعا فرماتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ 101،چشتی)
سیّدہ کا ئنات رضی اللہ عنہا خود سچی اور سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی ہیں، ہمیں بھی ان کی اس عادت کو اپنا کر اپنی دنیا و آخرت سنوار نی چاہئے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 131،چشتی)
جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہزادی سیّدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑی ہو جاتیں، ان کے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں، ہمیں بھی اپنے والدین کا ادب کرنا چاہئے ۔
مخدومہ کائنات رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ہمیں مزید بھی بہت سے مدنی پھول سیکھنے کو ملتے ہیں ، جیسے : ⬇
(1) نذر
(2) سخاوت
(3) ایثار
(4) کھانا کھلانا
(5) سادگی
(6) عاجزی وغیرھا
آپ رضی اللہ عنہا غربت پر صبر کرتیں ، فاقے کرتیں اور پھر بھی ہر حال میں ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 148،چشتی)
آپ رضی اللہ عنہا دنیا سے بے رغبت تھیں، جس کی وجہ سے آپ کا ایک لقب "زاہدہ" دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی" بھی ہے ۔
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا پردے کا اس قدر اہتمام فرماتیں کہ ان کے مبارک جنازہ کا بھی پردہ تھا کہ انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ رات کو ان کا جنازہ پڑھاجائے تو اس سے ہمیں بھی پردہ کرنے کا درس ملتا ہے کہ جو آج کل اسلامی بہنیں بے پردہ پھر رہی ہوتی ہیں، انہیں اس سے درس حاصل کرنا چاہیے ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا کرے گا، اے اہلِ مجمع!اپنی نگاہیں جھکا لو تا کہ حضرت فاطمہ بنتِ محمد مصطفی رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزریں۔
وہ ردا جس کی تطہیر اللہ دے
آسمان کی نظر بھی نہ جس پر پڑے
جس کا دامن نہ سہواً ہو اسکے چھو سکے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عورتوںمیں سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے تھی اور مردوں میں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ محبوب تھے ۔ (ترمذی، الجامع الصحيح، 5: 698، رقم: 3868)
اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیاری بیٹی کی سیرت پر ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو وصال مبارک کے بعد آپ اکثر بیمار رہنے لگ گئیں اور بالآخر 3 رمضان المبارک کو اپنے خالق حقیقی سے ملیں ۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور رات کو جنت البقیع میں دفن کی گئیں ۔ (رياض النضره فی مناقب العشره مبشره، ج1، ص152،چشتی)
حضرت سیّدہ فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں ۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔
حضرت سیّدہ اُمّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کی شادی امیر الموٴمنین حضرت سیّدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور حضرت سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا جن کا نکاح حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے ہوا ۔ حضرت سیّدنا محسن اور حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بچپن میں اِنتقال کر گئے ۔ آپ کی اَولادِ پاک میں سے سوائے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی کی نسل پاک جاری نہیں ہوئی ۔
حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سرکارِ دوعالم کی سب سے چھوٹی، مگر سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں، آپ کا نام"فاطمہ" اور لقب" زہرا بتول، ام السادات، طیبہ، طاہرہ، سیدہ، عابدہ، ذاکیہ، محدثہ، خاتونِ جنت، دخترِمصطفی، بانوئے مرتضی، ام الحسنین وغیرہ ہیں، یہ عظیم کنیتیں اور کثیر القابات آپ کی شخصیت کو ہی موزوں ہو سکتے ہیں ۔
حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے الفاظ کے ذریعے اظہار کیا مولا علی رضی اللہ عنہ سے کہ "آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں"، اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمارے دل میں اپنے" بچوں کے ابو" کا احترام ہونا چاہیے اور ان کی رضا کےلیے کوشش کرنی چاہیے ۔
ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کےلیے زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہئے کہ مسلمان کی دعا اُس کی غیر موجودگی میں بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 91)
سیّدہ زہرا رضی اللہ عنہا کھانا پکانے کی حالت میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھیں، ہمیں بھی تلاوت کرتے رہنا چاہئے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 92)
خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ایک مدنی پھول یہ بھی چننے کو ملا کہ آپ ہمسایوں کے لئے زیادہ دُعا فرماتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ 101،چشتی)
سیّدہ کا ئنات رضی اللہ عنہا خود سچی اور سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی ہیں، ہمیں بھی ان کی اس عادت کو اپنا کر اپنی دنیا و آخرت سنوار نی چاہئے ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 131،چشتی)
جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہزادی سیّدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ ان کی تعظیم کے لئے کھڑی ہو جاتیں، ان کے ہاتھ مبارک کا بوسہ لیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں، ہمیں بھی اپنے والدین کا ادب کرنا چاہئے ۔
مخدومہ کائنات رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ہمیں مزید بھی بہت سے مدنی پھول سیکھنے کو ملتے ہیں ، جیسے : ⬇
(1) نذر
(2) سخاوت
(3) ایثار
(4) کھانا کھلانا
(5) سادگی
(6) عاجزی وغیرھا
آپ رضی اللہ عنہا غربت پر صبر کرتیں ، فاقے کرتیں اور پھر بھی ہر حال میں ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 148،چشتی)
آپ رضی اللہ عنہا دنیا سے بے رغبت تھیں، جس کی وجہ سے آپ کا ایک لقب "زاہدہ" دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی" بھی ہے ۔
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا پردے کا اس قدر اہتمام فرماتیں کہ ان کے مبارک جنازہ کا بھی پردہ تھا کہ انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ رات کو ان کا جنازہ پڑھاجائے تو اس سے ہمیں بھی پردہ کرنے کا درس ملتا ہے کہ جو آج کل اسلامی بہنیں بے پردہ پھر رہی ہوتی ہیں، انہیں اس سے درس حاصل کرنا چاہیے ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا کرے گا، اے اہلِ مجمع!اپنی نگاہیں جھکا لو تا کہ حضرت فاطمہ بنتِ محمد مصطفی رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزریں۔
وہ ردا جس کی تطہیر اللہ دے
آسمان کی نظر بھی نہ جس پر پڑے
جس کا دامن نہ سہواً ہو اسکے چھو سکے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام
اللہ ربّ العزت نے آپ کو پردہ دار رہنے کا ایک صلہ یہ دیا کہ روزِ محشر آپ رضی اللہ عنہا کی خاطر اہلِ محشر کو نگاہیں جھکانے کا حکم صادر کیا جائے گا تو ہمیں بھی پردہ کرنا چاہئے اور اپنی عزت کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم گھر سے نہ نکلیں اور اگر حاجت ہو تو ایسا برقع پہن کر نکلیں، جس سے ہمارا پورا بدن چھپ جائے اور کوئی ہمیں پہچان نہ سکے اور کسی کو یہ معلوم بھی نہ ہو سکے کہ یہ بوڑھی ہے یا کوئی جوان، ہمیں بھی حضرت فاطمۃ الزہرا کی سیرت عمل کرنا چاہئے ۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت فاطمۃ الزہرا کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے صدقے ہماری ماٶں بہنوں اور بیٹیوں کو شرم و حیاء کی چادر نصیب فرمائے ، اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ۔
کسی نے کیا ہی پیارا شعر کہا ہے :
چُو زھراباش از مخلوق رُوپوش
کہ در آغوش شبیر بہ بینی
"یعنی فاطمہ کی طرح پرہیزگار، پردہ دار بنو تا کہ گود میں شبّیرِ نامدار اِمامِ حسین رضی اللہ عنہ جیسی اولاد دیکھو۔"
حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ خانہ داری کے امور میں کسی رشتے داریا ہمسائی کو مدد کے لئے نہ بلا تیں، نہ کام کی کثرت اور کسی قسم کی مشقت سے گھبرا تیں، چاہے خود فاقے سے ہوں جب تک شوہر اور بچوں کو نہ کھلا لیتیں، خود ایک لقمہ بھی منہ میں نہ ڈالتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ 273)
حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ مدارج النبوۃ میں نقل فرماتے ہیں : حضرت سیدنا اِمام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"میں نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ (بسا اوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ۔"
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_52.html
کسی نے کیا ہی پیارا شعر کہا ہے :
چُو زھراباش از مخلوق رُوپوش
کہ در آغوش شبیر بہ بینی
"یعنی فاطمہ کی طرح پرہیزگار، پردہ دار بنو تا کہ گود میں شبّیرِ نامدار اِمامِ حسین رضی اللہ عنہ جیسی اولاد دیکھو۔"
حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ خانہ داری کے امور میں کسی رشتے داریا ہمسائی کو مدد کے لئے نہ بلا تیں، نہ کام کی کثرت اور کسی قسم کی مشقت سے گھبرا تیں، چاہے خود فاقے سے ہوں جب تک شوہر اور بچوں کو نہ کھلا لیتیں، خود ایک لقمہ بھی منہ میں نہ ڈالتیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ 273)
حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ مدارج النبوۃ میں نقل فرماتے ہیں : حضرت سیدنا اِمام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"میں نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ (بسا اوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ۔"
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_52.html
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_فاطمة_الزہرا ❷
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_57.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کو کس قدر عبادت کا ذوق تھا کہ پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتی تھیں ، آپ رضی اللہ عنہا سے حقیقی اُلفت و محبت کا تقاضا ہے کہ ہم نہ صرف فرائض بلکہ سُنن و نوافل کی ادائیگی کو بھی اپنا معمول بنائیں ۔ (شان ِخاتون جنت ص76)
حضرت سیدتنا فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہا کی جب رخصتی ہوئی اور آپ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے گھر تشریف لے گئیں تو حضرت علی آپ سے محبت بھری گفتگو کرنے لگے ، یہاں تک کہ جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو آپ رونے لگیں، حضرت علی نے کہا " اےتمام عورتوں کی سردار ! کیا آپ خوش نہیں کہ میں آپ کا شوہر ہوں اور آپ میری بیوی ہیں ؟ " کہنے لگیں" میں کیونکر راضی نہ ہوں گی"آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں " میں تو اپنی حالت و معاملہ متعلق سوچ رہی ہوں کہ جب میری عمر پوری ہو جائے گی اور مجھے قبر میں داخل کر دیا جائے گا ، آج میرا عزت و فخر کے بستر میں داخل ہونا کل قبر میں داخل ہونے کی مانند ہے ، آج رات ہم اپنے ربّ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عبادت کریں گے کہ وہی عبادت کا زیادہ حق رکھتا ہے ، اس کے بعد وہ دونوں کھڑے ہو کر عبادت کرنے لگے ۔ (حکایتیں اور نصیحتیں صفحہ 548،چشتی)
اس حدیث مبارک کے الفاظ "آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں" بہت اہمیت کے حامل ہیں، اس پر اسلامی بہنوں کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے دل میں اپنے "بچّوں کے ابو" کا کتنا احترام ہے اور وہ بچوں کے ابو کے کتنے حقوق ادا کرتی ہیں اور ان کی رِضا کےلیے کیا کوششیں کرتی ہیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 89 ، 91)
امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ماجدہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے حق میں بہت زیادہ دعائیں کرتے دیکھا، میں نے عرض کیا : اے مادرِ مہربان!کیا بات ہے کہ آپ اپنے لئے کوئی دعا نہیں مانگتیں"، فرمایا : اے فرزند"یعنی پہلے ہمسائے ہیں، پھر گھر ۔ (مدارج النبوہ مترجم، قسم پنجم باب اوّل جلد 4 صفحہ نمبر 435)
حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملا کہ آپ رضی اللہ عنہا ہمسایوں کےلیے زیادہ دعا فرمایا کرتیں اور فرماتیں" پہلے ہمسایہ ہے، پھر گھر "ایک ہم نادان ہیں کہ ہمسایوں کا ہمیں خیال تک نہیں، ہم اپنے گھر میں طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں، عمدہ عمدہ ملبوسات پہنتے ہیں اور ہم میں سے بعض کے ہمسایوں کو یہ چیزیں میسّر نہیں ہوتیں اور ہمیں ان کا خیال تک نہیں ہوتا اور اگر وہ کسی چیز کا سوال کریں تو ہم پھر بھی نہیں کرتے۔( شان خاتونِ جنت، ص101)
خواتینِ جنت کی سردار ، جگر گوشہ سرکار، حضرت سیّدۃ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت تھی اور محبت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ جس سے محبت ہو اس کی ہر ادا پنانے کی کوشش کی جاتی ہے، چنانچہ حضرت سیدنا فاطمہ نے خود کو ہر اعتبار سے سنتِ رسول کے سانچے میں ڈھال رکھا تھا، عادات و اطوار، سیرت و کردار، نشست و برخاست، چلنے کے انداز، گفتگو اور صداقت و کلام میں آپ سیرتِ مصطفی کا عکس اور نمونہ تھیں۔(شان خاتونِ جنت، ص114)
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی شہزادی اور امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی والدہ محترمہ ہیں اور جنتی عورتوں کی سردار ہیں، ہم سب کو ان کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہئے ، ان کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ہمیں بہت کچھ درس حاصل ہوتا ہے ۔
خاتونِ جنت کو کس قدر عبادت کا ذوق تھا کہ پوری پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتی تھیں، ان کی کثرتِ عبادت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم بھی زیادہ سے زیادہ اپنے ربّ عزوجل کی عبادت کریں، آپ رضی اللہ عنہا تو خاتونِ جنت ہو کر بھی اس قدر عبادت کرتی تھیں اور ہمیں تو معلوم بھی نہیں، نجانے ہمارے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ ہوگا، ہمیں بھی زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اپنے ربّ عزوجل کو خوش کرنا چاہئے کہ اگر ربّ عزوجل ہم سے ہمیشہ کے لئے راضی ہوگیا، تو ہماری دنیا و آخرت سنور جائے گی۔
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بہت زیادہ سخی تھیں، کسی سائل کو خالی نہ لوٹاتیں، حتٰی کہ اگر گھر میں کوئی چیز بظاہر موجود نہ ہو تی تو قرض لے کر سائل کی حاجت پوری کرتیں، اس سے ہمیں بھی سخاوت کا درس ملتا ہے کہ ہمیں بھی حاجت مندوں کی مدد کرنی چاہئے کہ جس چیز کی سامنے والے کو ضرورت ہو وہی دینی چاہئے، لیکن ہم تو ایسا کرتے ہیں کہ جس چیز کی ہمیں حاجت نہیں ہوتی وہ ہم دوسروں کو دے دیتے ہیں، یہ تو سخاوت ہی نہیں ہے کہ حضرت سیّدنا ابو سلمان عبدالرحمٰن بن احمد بن عطیہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَا
✍ #ڈاکٹر_فیض_احمد_چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/01/blog-post_57.html
سیرت و شانِ حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کو کس قدر عبادت کا ذوق تھا کہ پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتی تھیں ، آپ رضی اللہ عنہا سے حقیقی اُلفت و محبت کا تقاضا ہے کہ ہم نہ صرف فرائض بلکہ سُنن و نوافل کی ادائیگی کو بھی اپنا معمول بنائیں ۔ (شان ِخاتون جنت ص76)
حضرت سیدتنا فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہا کی جب رخصتی ہوئی اور آپ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے گھر تشریف لے گئیں تو حضرت علی آپ سے محبت بھری گفتگو کرنے لگے ، یہاں تک کہ جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو آپ رونے لگیں، حضرت علی نے کہا " اےتمام عورتوں کی سردار ! کیا آپ خوش نہیں کہ میں آپ کا شوہر ہوں اور آپ میری بیوی ہیں ؟ " کہنے لگیں" میں کیونکر راضی نہ ہوں گی"آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں " میں تو اپنی حالت و معاملہ متعلق سوچ رہی ہوں کہ جب میری عمر پوری ہو جائے گی اور مجھے قبر میں داخل کر دیا جائے گا ، آج میرا عزت و فخر کے بستر میں داخل ہونا کل قبر میں داخل ہونے کی مانند ہے ، آج رات ہم اپنے ربّ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عبادت کریں گے کہ وہی عبادت کا زیادہ حق رکھتا ہے ، اس کے بعد وہ دونوں کھڑے ہو کر عبادت کرنے لگے ۔ (حکایتیں اور نصیحتیں صفحہ 548،چشتی)
اس حدیث مبارک کے الفاظ "آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں" بہت اہمیت کے حامل ہیں، اس پر اسلامی بہنوں کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے دل میں اپنے "بچّوں کے ابو" کا کتنا احترام ہے اور وہ بچوں کے ابو کے کتنے حقوق ادا کرتی ہیں اور ان کی رِضا کےلیے کیا کوششیں کرتی ہیں ۔ (شانِ خاتون جنت صفحہ نمبر 89 ، 91)
امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ماجدہ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے حق میں بہت زیادہ دعائیں کرتے دیکھا، میں نے عرض کیا : اے مادرِ مہربان!کیا بات ہے کہ آپ اپنے لئے کوئی دعا نہیں مانگتیں"، فرمایا : اے فرزند"یعنی پہلے ہمسائے ہیں، پھر گھر ۔ (مدارج النبوہ مترجم، قسم پنجم باب اوّل جلد 4 صفحہ نمبر 435)
حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملا کہ آپ رضی اللہ عنہا ہمسایوں کےلیے زیادہ دعا فرمایا کرتیں اور فرماتیں" پہلے ہمسایہ ہے، پھر گھر "ایک ہم نادان ہیں کہ ہمسایوں کا ہمیں خیال تک نہیں، ہم اپنے گھر میں طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں، عمدہ عمدہ ملبوسات پہنتے ہیں اور ہم میں سے بعض کے ہمسایوں کو یہ چیزیں میسّر نہیں ہوتیں اور ہمیں ان کا خیال تک نہیں ہوتا اور اگر وہ کسی چیز کا سوال کریں تو ہم پھر بھی نہیں کرتے۔( شان خاتونِ جنت، ص101)
خواتینِ جنت کی سردار ، جگر گوشہ سرکار، حضرت سیّدۃ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت تھی اور محبت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ جس سے محبت ہو اس کی ہر ادا پنانے کی کوشش کی جاتی ہے، چنانچہ حضرت سیدنا فاطمہ نے خود کو ہر اعتبار سے سنتِ رسول کے سانچے میں ڈھال رکھا تھا، عادات و اطوار، سیرت و کردار، نشست و برخاست، چلنے کے انداز، گفتگو اور صداقت و کلام میں آپ سیرتِ مصطفی کا عکس اور نمونہ تھیں۔(شان خاتونِ جنت، ص114)
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی شہزادی اور امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی والدہ محترمہ ہیں اور جنتی عورتوں کی سردار ہیں، ہم سب کو ان کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہئے ، ان کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ہمیں بہت کچھ درس حاصل ہوتا ہے ۔
خاتونِ جنت کو کس قدر عبادت کا ذوق تھا کہ پوری پوری رات اللہ کی عبادت میں گزار دیتی تھیں، ان کی کثرتِ عبادت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم بھی زیادہ سے زیادہ اپنے ربّ عزوجل کی عبادت کریں، آپ رضی اللہ عنہا تو خاتونِ جنت ہو کر بھی اس قدر عبادت کرتی تھیں اور ہمیں تو معلوم بھی نہیں، نجانے ہمارے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ ہوگا، ہمیں بھی زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اپنے ربّ عزوجل کو خوش کرنا چاہئے کہ اگر ربّ عزوجل ہم سے ہمیشہ کے لئے راضی ہوگیا، تو ہماری دنیا و آخرت سنور جائے گی۔
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بہت زیادہ سخی تھیں، کسی سائل کو خالی نہ لوٹاتیں، حتٰی کہ اگر گھر میں کوئی چیز بظاہر موجود نہ ہو تی تو قرض لے کر سائل کی حاجت پوری کرتیں، اس سے ہمیں بھی سخاوت کا درس ملتا ہے کہ ہمیں بھی حاجت مندوں کی مدد کرنی چاہئے کہ جس چیز کی سامنے والے کو ضرورت ہو وہی دینی چاہئے، لیکن ہم تو ایسا کرتے ہیں کہ جس چیز کی ہمیں حاجت نہیں ہوتی وہ ہم دوسروں کو دے دیتے ہیں، یہ تو سخاوت ہی نہیں ہے کہ حضرت سیّدنا ابو سلمان عبدالرحمٰن بن احمد بن عطیہ
👍1