مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
یہود ہفتہ کے دن کی تعظیم کی وجہ سے اس دن کا روزہ رکھتے تھے ‘ ان کی مشابہت کی وجہ سے اس دن کے روزہ سے منع فرمایا ۔
(١) روزہ رکھنے سے کھانے پینے اور شہوانی لذات میں کمی ہوتی ہے ‘ اس سے حیوانی قوت کم ہوتی ہے اور روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔
(٢) کھانے پینے اور شہوانی عمل کو ترک کرکے انسان بعض اوقات میں اللہ عزوجل کی صفت صمدیہ سے متصف ہوجاتا ہے اور بہ قدرامکان ملائکہ مقربین کے مشابہ ہوجاتا ہے ۔
(٣) بھوک اور پیاس پر صبر کرنے سے انسان کو مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے کی عادت پڑتی ہے اور مشقت برداشت کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(٤) خود بھوکا اور پیاسا رہنے سے انسان کو دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے اور پھر اس کا دل غرباء کی مدد کی طرف مائل ہوتا ہے ۔
(٥) بھوک پیاس کی وجہ سے انسان گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے ۔
(٦) بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کا تکبر ٹوٹتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی معمولی مقدار کا کس قدر محتاج ہے ۔
(٧) بھوکا رہنے سے ذہن تیز ہوتا ہے اور بصیرت کام کرتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جس کا پیٹ بھوکا ہو اس کی فکر تیز ہوتی ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢١٨،چشتی)
اور پیٹ (بھر کر کھانا) بیماری کی جڑ ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢٢١)
اور لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی: اے بیٹے ! جب معدہ بھرجاتا ہے تو فکر سو جاتی ہے اور حکمت گونگی ہوجاتی ہے اور عبادت کرنے کے لیے اعضاء سست پڑجاتے ہیں ‘ دل کی صفائی میں کمی آجاتی ہے اور مناجات کی لذت اور ذکر میں رقت نہیں رہتی ۔
(٨) روزہ کسی کام کے نہ کرنے کا نام ہے ‘ یہ کسی ایسے عمل کا نام نہیں ہے جو دکھائی دے اور اس کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات میں ریا ہوسکتا ہے روزہ میں نہیں ہوسکتا ‘ یہ اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں ۔
(٩) شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور بھوک پیاس سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اسی طرح روزہ سے شیطان پر ضرب پڑتی ہے ۔
(١٠) روزہ امیر اور غریب ‘ شریف اور خیس سب فرض ہے ‘ اس سے اسلام کی مساوات مؤکد ہوجاتی ہے ۔
(١١) روزانہ ایک وقت پر سحری اور افطار کرنے سے انسان کو نظام الاوقات کی پابندی کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(١٢) فربہی ‘ تبخیر اور بسیار خوری ایسے امراض میں روزہ رکھنا صحت کےلیے بہت مفید ہے ۔
علامہ علاء الدین حصکفی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر روزہ دار بھولے سے کھالے یا پی لے یا جماع کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی یا دھواں داخل ہو خواہ اس کو روزہ یاد ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ان سے بچنا مشکل ہے ‘ تیل لگانے سے یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو ‘ فصد لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ بوسہ لینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بہ شرطی کہ اس سے انزال نہ ہو ‘ احتلام سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کلی کرنے کے بعد جو تری منہ میں رہ گئی اس کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کان میں پانی داخل ہونے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر دانتوں کے درمیان سے خون نکلا اور اس کو نگل لیا تو اگر خون غالب تھا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ‘ استمنا بالید سے اگر انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ ورنہ نہیں۔ اگر ناک (رینٹ) کو اندر کھینچ لیا اور وہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کسی چیز کے چھکنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگر رات سمجھ کر سحری کی اور صبح ہوچکی تھی یا غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کیا اور آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر صرف قضاء ہے اور کفارہ نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ میں عمدا جماع کرے یا عمدا دوا یا غذا کھائے یا پئے تو ان تمام صورتوں میں قضا اور کفارہ ہے ‘ اور اگر از خود قے آئے اور وہ اس کو واپس حلق میں نہ لوٹائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ قے منہ بھر کر آئے یا منہ بھر کر نہ آئے اور اگر خود بخود واپس حلق میں چلی جائے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اور اگر عمدا قے لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا بہ شرطی کہ منہ بھر کر قے آئی ہو یہ مختار مذہب ہے اور اگر از خود قے کی تو اگر منہ بھر کر قے کی ہے تو اجماعا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس میں صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے ۔
یہود ہفتہ کے دن کی تعظیم کی وجہ سے اس دن کا روزہ رکھتے تھے ‘ ان کی مشابہت کی وجہ سے اس دن کے روزہ سے منع فرمایا ۔
(١) روزہ رکھنے سے کھانے پینے اور شہوانی لذات میں کمی ہوتی ہے ‘ اس سے حیوانی قوت کم ہوتی ہے اور روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔
(٢) کھانے پینے اور شہوانی عمل کو ترک کرکے انسان بعض اوقات میں اللہ عزوجل کی صفت صمدیہ سے متصف ہوجاتا ہے اور بہ قدرامکان ملائکہ مقربین کے مشابہ ہوجاتا ہے ۔
(٣) بھوک اور پیاس پر صبر کرنے سے انسان کو مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے کی عادت پڑتی ہے اور مشقت برداشت کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(٤) خود بھوکا اور پیاسا رہنے سے انسان کو دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے اور پھر اس کا دل غرباء کی مدد کی طرف مائل ہوتا ہے ۔
(٥) بھوک پیاس کی وجہ سے انسان گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے ۔
(٦) بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کا تکبر ٹوٹتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی معمولی مقدار کا کس قدر محتاج ہے ۔
(٧) بھوکا رہنے سے ذہن تیز ہوتا ہے اور بصیرت کام کرتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جس کا پیٹ بھوکا ہو اس کی فکر تیز ہوتی ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢١٨،چشتی)
اور پیٹ (بھر کر کھانا) بیماری کی جڑ ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢٢١)
اور لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی: اے بیٹے ! جب معدہ بھرجاتا ہے تو فکر سو جاتی ہے اور حکمت گونگی ہوجاتی ہے اور عبادت کرنے کے لیے اعضاء سست پڑجاتے ہیں ‘ دل کی صفائی میں کمی آجاتی ہے اور مناجات کی لذت اور ذکر میں رقت نہیں رہتی ۔
(٨) روزہ کسی کام کے نہ کرنے کا نام ہے ‘ یہ کسی ایسے عمل کا نام نہیں ہے جو دکھائی دے اور اس کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات میں ریا ہوسکتا ہے روزہ میں نہیں ہوسکتا ‘ یہ اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں ۔
(٩) شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور بھوک پیاس سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اسی طرح روزہ سے شیطان پر ضرب پڑتی ہے ۔
(١٠) روزہ امیر اور غریب ‘ شریف اور خیس سب فرض ہے ‘ اس سے اسلام کی مساوات مؤکد ہوجاتی ہے ۔
(١١) روزانہ ایک وقت پر سحری اور افطار کرنے سے انسان کو نظام الاوقات کی پابندی کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(١٢) فربہی ‘ تبخیر اور بسیار خوری ایسے امراض میں روزہ رکھنا صحت کےلیے بہت مفید ہے ۔
علامہ علاء الدین حصکفی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر روزہ دار بھولے سے کھالے یا پی لے یا جماع کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی یا دھواں داخل ہو خواہ اس کو روزہ یاد ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ان سے بچنا مشکل ہے ‘ تیل لگانے سے یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو ‘ فصد لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ بوسہ لینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بہ شرطی کہ اس سے انزال نہ ہو ‘ احتلام سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کلی کرنے کے بعد جو تری منہ میں رہ گئی اس کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کان میں پانی داخل ہونے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر دانتوں کے درمیان سے خون نکلا اور اس کو نگل لیا تو اگر خون غالب تھا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ‘ استمنا بالید سے اگر انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ ورنہ نہیں۔ اگر ناک (رینٹ) کو اندر کھینچ لیا اور وہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کسی چیز کے چھکنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگر رات سمجھ کر سحری کی اور صبح ہوچکی تھی یا غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کیا اور آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر صرف قضاء ہے اور کفارہ نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ میں عمدا جماع کرے یا عمدا دوا یا غذا کھائے یا پئے تو ان تمام صورتوں میں قضا اور کفارہ ہے ‘ اور اگر از خود قے آئے اور وہ اس کو واپس حلق میں نہ لوٹائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ قے منہ بھر کر آئے یا منہ بھر کر نہ آئے اور اگر خود بخود واپس حلق میں چلی جائے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اور اگر عمدا قے لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا بہ شرطی کہ منہ بھر کر قے آئی ہو یہ مختار مذہب ہے اور اگر از خود قے کی تو اگر منہ بھر کر قے کی ہے تو اجماعا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس میں صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے ۔
👍1
روزہ میں کسی چیز کو بلاعذر چکھنا مکروہ ہے ‘ دنداسہ چبانا مکروہ ہے ‘ بوسہ لینا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے مونچھوں پر تیل لگانا اور سرمہ لگانا مکروہ نہیں ہے ‘ مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے خواہ شام کے وقت کی جائے ۔ (درمختار علی ھامش رد المختار جلد ٢ صفحہ ١١٤۔ ١٠٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ، چشتی)
طالبِ دعا و دعا گو
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322631466639566/
طالبِ دعا و دعا گو
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322631466639566/
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-09-1443 ᴴ | 04-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1