دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو اور دو خصلتوں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے ‘ جن دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے وہ کلمہ شہادت پڑھنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا ہے ‘ اور جن دو خصلتوں کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے وہ یہ ہیں کہ تم اللہ سے جنت کا سوال کرو اور اس سے دوزخ سے پناہ طلب کرو اور جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پلائے گا ‘ اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی حتی کہ وہ جنت میں چلا جائے گا ۔ (صحیح ابن خزیمہ ‘ بیہقی ‘ صحیح ابن حبان)
امام ابن حبان نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کے مہینہ میں اپنی حلال کمائی سے کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرایا تو رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور لیلۃ القدر میں جبریل (علیہ السلام) اس سے مصاحفہ کرتے ہیں اور جس سے جبریل (علیہ السلام) مصافحہ کرتے ہیں اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بہت آنسو نکلتے ہیں۔ حضرت سلمان نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک مٹھی طعام دے دے ‘ میں نے کہا : یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک گھونٹ دودھ دے دے ‘ میں نے عرض کیا : اگر اس کے پاس وہ بھی نہ ہو ؟ فرمایا : ایک گھونٹ پانی دے دے (امام ابن خزیمہ اور بیہقی نے بھی اس کو روایت کیا ہے)
حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں جب رمضان آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس رمضان آگیا ہے ‘ یہ برکت کا مہینہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں ڈھانپ لیتا ہے اس میں رحمت نازل ہوتی ہے اور گناہ جھڑ جاتے ہیں اور اس میں دعا قبول ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس مہینہ میں تمہاری رغبت کو دیکھتا ہے سو تم اللہ کو اس مہینہ میں نیک کام کرکے دکھاؤ کیونکہ وہ شخص بدبخت ہے جو اس مہینہ میں اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم رہا (اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ‘ البتہ اس کے ایک راوی محمد بن قیس کے متعلق مجھے کوئی جرح یا تعدیل مستحضر نہیں ہے)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے ‘ تو جنتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا ‘ اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا ‘ اور سرکش جنوں کے گلوں میں طوق ڈال دیا جاتا ہے اور ہر رات صبح تک ایک منادی آسمان سے ندا کرتا ہے : اے نیکی کے طلب کرنے والے ! نیکی کا قصد کر اور زیادہ نیکی کر ‘ اور اے برائی کے طلب کرنے والے ! برائی میں کمی کر اور آخرت میں غور وفکر کر ‘ کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے تو اس کی مغفرت کردی جائے اور کوئی توبہ کرنے کا والا ہے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور کوئی دعا کرنے والا ہے تو اس کی دعا قبول کی جائے اور کوئی سوال کرنے والا ہے تو اس پورا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ ماہ رمضان کی ہر رات میں ساٹھ ہزار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ‘ اور رمضان کی ہر رات میں جتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے عید کے دن اس سے تیس گنازیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ۔ (اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے)
حضرت عبدالرحمان بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا ذکر کیا اور تمام مہینوں پر اس کی فضیلت بیان کی ‘ پس فرمایا : جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح آج ہی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو (اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے)
حضرت عمرہ بن مرہ جہنی (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بتائیے اگر میں اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے اور آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دوں ‘ اور پانچوں نمازیں پڑھوں اور زکوۃ ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور قیام کروں تو میرا کن لوگوں میں شمار ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : صدیقین اور شہداء میں ۔ (مسندبزار ‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ صحیح ابن حبان)(الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٠٦۔ ٩٢‘ ملتقطا مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ)
امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : نہ کرو ‘ روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو (بغیر روزہ
امام ابن حبان نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کے مہینہ میں اپنی حلال کمائی سے کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرایا تو رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور لیلۃ القدر میں جبریل (علیہ السلام) اس سے مصاحفہ کرتے ہیں اور جس سے جبریل (علیہ السلام) مصافحہ کرتے ہیں اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بہت آنسو نکلتے ہیں۔ حضرت سلمان نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک مٹھی طعام دے دے ‘ میں نے کہا : یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک گھونٹ دودھ دے دے ‘ میں نے عرض کیا : اگر اس کے پاس وہ بھی نہ ہو ؟ فرمایا : ایک گھونٹ پانی دے دے (امام ابن خزیمہ اور بیہقی نے بھی اس کو روایت کیا ہے)
حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں جب رمضان آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس رمضان آگیا ہے ‘ یہ برکت کا مہینہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں ڈھانپ لیتا ہے اس میں رحمت نازل ہوتی ہے اور گناہ جھڑ جاتے ہیں اور اس میں دعا قبول ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس مہینہ میں تمہاری رغبت کو دیکھتا ہے سو تم اللہ کو اس مہینہ میں نیک کام کرکے دکھاؤ کیونکہ وہ شخص بدبخت ہے جو اس مہینہ میں اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم رہا (اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ‘ البتہ اس کے ایک راوی محمد بن قیس کے متعلق مجھے کوئی جرح یا تعدیل مستحضر نہیں ہے)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے ‘ تو جنتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا ‘ اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا ‘ اور سرکش جنوں کے گلوں میں طوق ڈال دیا جاتا ہے اور ہر رات صبح تک ایک منادی آسمان سے ندا کرتا ہے : اے نیکی کے طلب کرنے والے ! نیکی کا قصد کر اور زیادہ نیکی کر ‘ اور اے برائی کے طلب کرنے والے ! برائی میں کمی کر اور آخرت میں غور وفکر کر ‘ کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے تو اس کی مغفرت کردی جائے اور کوئی توبہ کرنے کا والا ہے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور کوئی دعا کرنے والا ہے تو اس کی دعا قبول کی جائے اور کوئی سوال کرنے والا ہے تو اس پورا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ ماہ رمضان کی ہر رات میں ساٹھ ہزار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ‘ اور رمضان کی ہر رات میں جتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے عید کے دن اس سے تیس گنازیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ۔ (اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے)
حضرت عبدالرحمان بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا ذکر کیا اور تمام مہینوں پر اس کی فضیلت بیان کی ‘ پس فرمایا : جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح آج ہی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو (اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے)
حضرت عمرہ بن مرہ جہنی (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بتائیے اگر میں اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے اور آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دوں ‘ اور پانچوں نمازیں پڑھوں اور زکوۃ ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور قیام کروں تو میرا کن لوگوں میں شمار ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : صدیقین اور شہداء میں ۔ (مسندبزار ‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ صحیح ابن حبان)(الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٠٦۔ ٩٢‘ ملتقطا مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ)
امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : نہ کرو ‘ روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو (بغیر روزہ
👍1
کے رہو) قیام بھی کرو اور سوؤ بھی ‘ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ‘ اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے ‘ اور تمہارے لیے یہ کافی ہے تم پر مہینہ کے تین دن روزے رکھو ‘ اور تمہیں نیکی کا دس گنا اجر ملے گا اور یہ تمہارے پورے دہر کے روزے ہوجائیں گے ‘ میں نے شدت کی اور کہا : یارسول اللہ ! میں قوت پاتا ہوں تو آپ نے فرمایا : اللہ کے نبی داؤد کے روزے کس طرح تھے ؟ آپ نے فرمایا : نصف دہر (ایک دن روزہ ایک دن افطار) ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٦٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام ابوداؤد علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : ابن ملحان قیسی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایام بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے تیرھویں ‘ چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے کا اور فرماتے : ان روزوں سے پورے دہر کے روزوں کا اجر ملے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣٢ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)
تین روزوں کا دس گنا اجر ملے گا جیسا کہ ” صحیح بخاری “ کی روایت میں ہے تو ہر ماہ تین روزے رکھنے سے پورے ماہ کے روزوں کا اجر ملے گا اور جو شخص ہمیشہ یہ روزے رکھے گا اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا ۔
امام مسلم علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ‘ پھر اس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
ہر نیکی کا دس گنا اجر ہوتا ہے تو چھتیس روزوں کا اجر ٣٦٠ روزوں کے برابر ہوا ‘ گویا وہ پورا سال روزہ دار رہا ۔
حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا اور دس محرم کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٦٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
امام ابوداؤد علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : قدامہ بن مظعون بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت اسامہ بن زید (رض) کے ساتھ وادی القری میں اپنے مال کی طلب میں گئے ‘ حضرت اسامہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ قدامہ نے کہا : آپ بوڑھے آدمی ہیں ‘ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا پیر اور جمعرات کو بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ (سنن ابوداؤد جلد ١ صفحہ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مسلسل) روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ افطار (روزہ ترک کرنا) نہیں کریں گے ‘ اور آپ روزے نہ رکھتے حتی کہ ہم کہتے : اب آپ روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رمضان کے علاوہ آپ کو کسی ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣١۔ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
امام ابوداؤد علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا : عید الاضحی کے دن کیونکہ اس دن تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو اور عید الفطر کے دن کیونکہ اس دن تم اپنے روزوں سے افطار کرتے ہو ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : یوم عرفہ ‘ یوم نحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩۔ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)
میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے اور دوسری جگہوں میں اس دن روزہ رکھنا کار ثواب ہے اور عیدین میں روزہ رکھنا ممنوع ہے ۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٣١ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص (صرف) جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے ‘ الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ رکھے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٢٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)۔ابوداؤد نے کہا : یہ حدیث منسوخ ہے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩ مطبوعہ مطبع
امام ابوداؤد علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : ابن ملحان قیسی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایام بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے تیرھویں ‘ چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے کا اور فرماتے : ان روزوں سے پورے دہر کے روزوں کا اجر ملے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣٢ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)
تین روزوں کا دس گنا اجر ملے گا جیسا کہ ” صحیح بخاری “ کی روایت میں ہے تو ہر ماہ تین روزے رکھنے سے پورے ماہ کے روزوں کا اجر ملے گا اور جو شخص ہمیشہ یہ روزے رکھے گا اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا ۔
امام مسلم علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ‘ پھر اس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
ہر نیکی کا دس گنا اجر ہوتا ہے تو چھتیس روزوں کا اجر ٣٦٠ روزوں کے برابر ہوا ‘ گویا وہ پورا سال روزہ دار رہا ۔
حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا اور دس محرم کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٦٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
امام ابوداؤد علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : قدامہ بن مظعون بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت اسامہ بن زید (رض) کے ساتھ وادی القری میں اپنے مال کی طلب میں گئے ‘ حضرت اسامہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ قدامہ نے کہا : آپ بوڑھے آدمی ہیں ‘ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا پیر اور جمعرات کو بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ (سنن ابوداؤد جلد ١ صفحہ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مسلسل) روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ افطار (روزہ ترک کرنا) نہیں کریں گے ‘ اور آپ روزے نہ رکھتے حتی کہ ہم کہتے : اب آپ روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رمضان کے علاوہ آپ کو کسی ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣١۔ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
امام ابوداؤد علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا : عید الاضحی کے دن کیونکہ اس دن تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو اور عید الفطر کے دن کیونکہ اس دن تم اپنے روزوں سے افطار کرتے ہو ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : یوم عرفہ ‘ یوم نحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩۔ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)
میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے اور دوسری جگہوں میں اس دن روزہ رکھنا کار ثواب ہے اور عیدین میں روزہ رکھنا ممنوع ہے ۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٣١ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص (صرف) جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے ‘ الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ رکھے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٢٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)۔ابوداؤد نے کہا : یہ حدیث منسوخ ہے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩ مطبوعہ مطبع
👍1
مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
یہود ہفتہ کے دن کی تعظیم کی وجہ سے اس دن کا روزہ رکھتے تھے ‘ ان کی مشابہت کی وجہ سے اس دن کے روزہ سے منع فرمایا ۔
(١) روزہ رکھنے سے کھانے پینے اور شہوانی لذات میں کمی ہوتی ہے ‘ اس سے حیوانی قوت کم ہوتی ہے اور روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔
(٢) کھانے پینے اور شہوانی عمل کو ترک کرکے انسان بعض اوقات میں اللہ عزوجل کی صفت صمدیہ سے متصف ہوجاتا ہے اور بہ قدرامکان ملائکہ مقربین کے مشابہ ہوجاتا ہے ۔
(٣) بھوک اور پیاس پر صبر کرنے سے انسان کو مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے کی عادت پڑتی ہے اور مشقت برداشت کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(٤) خود بھوکا اور پیاسا رہنے سے انسان کو دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے اور پھر اس کا دل غرباء کی مدد کی طرف مائل ہوتا ہے ۔
(٥) بھوک پیاس کی وجہ سے انسان گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے ۔
(٦) بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کا تکبر ٹوٹتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی معمولی مقدار کا کس قدر محتاج ہے ۔
(٧) بھوکا رہنے سے ذہن تیز ہوتا ہے اور بصیرت کام کرتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جس کا پیٹ بھوکا ہو اس کی فکر تیز ہوتی ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢١٨،چشتی)
اور پیٹ (بھر کر کھانا) بیماری کی جڑ ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢٢١)
اور لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی: اے بیٹے ! جب معدہ بھرجاتا ہے تو فکر سو جاتی ہے اور حکمت گونگی ہوجاتی ہے اور عبادت کرنے کے لیے اعضاء سست پڑجاتے ہیں ‘ دل کی صفائی میں کمی آجاتی ہے اور مناجات کی لذت اور ذکر میں رقت نہیں رہتی ۔
(٨) روزہ کسی کام کے نہ کرنے کا نام ہے ‘ یہ کسی ایسے عمل کا نام نہیں ہے جو دکھائی دے اور اس کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات میں ریا ہوسکتا ہے روزہ میں نہیں ہوسکتا ‘ یہ اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں ۔
(٩) شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور بھوک پیاس سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اسی طرح روزہ سے شیطان پر ضرب پڑتی ہے ۔
(١٠) روزہ امیر اور غریب ‘ شریف اور خیس سب فرض ہے ‘ اس سے اسلام کی مساوات مؤکد ہوجاتی ہے ۔
(١١) روزانہ ایک وقت پر سحری اور افطار کرنے سے انسان کو نظام الاوقات کی پابندی کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(١٢) فربہی ‘ تبخیر اور بسیار خوری ایسے امراض میں روزہ رکھنا صحت کےلیے بہت مفید ہے ۔
علامہ علاء الدین حصکفی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر روزہ دار بھولے سے کھالے یا پی لے یا جماع کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی یا دھواں داخل ہو خواہ اس کو روزہ یاد ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ان سے بچنا مشکل ہے ‘ تیل لگانے سے یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو ‘ فصد لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ بوسہ لینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بہ شرطی کہ اس سے انزال نہ ہو ‘ احتلام سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کلی کرنے کے بعد جو تری منہ میں رہ گئی اس کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کان میں پانی داخل ہونے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر دانتوں کے درمیان سے خون نکلا اور اس کو نگل لیا تو اگر خون غالب تھا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ‘ استمنا بالید سے اگر انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ ورنہ نہیں۔ اگر ناک (رینٹ) کو اندر کھینچ لیا اور وہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کسی چیز کے چھکنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگر رات سمجھ کر سحری کی اور صبح ہوچکی تھی یا غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کیا اور آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر صرف قضاء ہے اور کفارہ نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ میں عمدا جماع کرے یا عمدا دوا یا غذا کھائے یا پئے تو ان تمام صورتوں میں قضا اور کفارہ ہے ‘ اور اگر از خود قے آئے اور وہ اس کو واپس حلق میں نہ لوٹائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ قے منہ بھر کر آئے یا منہ بھر کر نہ آئے اور اگر خود بخود واپس حلق میں چلی جائے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اور اگر عمدا قے لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا بہ شرطی کہ منہ بھر کر قے آئی ہو یہ مختار مذہب ہے اور اگر از خود قے کی تو اگر منہ بھر کر قے کی ہے تو اجماعا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس میں صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے ۔
یہود ہفتہ کے دن کی تعظیم کی وجہ سے اس دن کا روزہ رکھتے تھے ‘ ان کی مشابہت کی وجہ سے اس دن کے روزہ سے منع فرمایا ۔
(١) روزہ رکھنے سے کھانے پینے اور شہوانی لذات میں کمی ہوتی ہے ‘ اس سے حیوانی قوت کم ہوتی ہے اور روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔
(٢) کھانے پینے اور شہوانی عمل کو ترک کرکے انسان بعض اوقات میں اللہ عزوجل کی صفت صمدیہ سے متصف ہوجاتا ہے اور بہ قدرامکان ملائکہ مقربین کے مشابہ ہوجاتا ہے ۔
(٣) بھوک اور پیاس پر صبر کرنے سے انسان کو مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے کی عادت پڑتی ہے اور مشقت برداشت کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(٤) خود بھوکا اور پیاسا رہنے سے انسان کو دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے اور پھر اس کا دل غرباء کی مدد کی طرف مائل ہوتا ہے ۔
(٥) بھوک پیاس کی وجہ سے انسان گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے ۔
(٦) بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کا تکبر ٹوٹتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی معمولی مقدار کا کس قدر محتاج ہے ۔
(٧) بھوکا رہنے سے ذہن تیز ہوتا ہے اور بصیرت کام کرتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جس کا پیٹ بھوکا ہو اس کی فکر تیز ہوتی ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢١٨،چشتی)
اور پیٹ (بھر کر کھانا) بیماری کی جڑ ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢٢١)
اور لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی: اے بیٹے ! جب معدہ بھرجاتا ہے تو فکر سو جاتی ہے اور حکمت گونگی ہوجاتی ہے اور عبادت کرنے کے لیے اعضاء سست پڑجاتے ہیں ‘ دل کی صفائی میں کمی آجاتی ہے اور مناجات کی لذت اور ذکر میں رقت نہیں رہتی ۔
(٨) روزہ کسی کام کے نہ کرنے کا نام ہے ‘ یہ کسی ایسے عمل کا نام نہیں ہے جو دکھائی دے اور اس کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات میں ریا ہوسکتا ہے روزہ میں نہیں ہوسکتا ‘ یہ اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں ۔
(٩) شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور بھوک پیاس سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اسی طرح روزہ سے شیطان پر ضرب پڑتی ہے ۔
(١٠) روزہ امیر اور غریب ‘ شریف اور خیس سب فرض ہے ‘ اس سے اسلام کی مساوات مؤکد ہوجاتی ہے ۔
(١١) روزانہ ایک وقت پر سحری اور افطار کرنے سے انسان کو نظام الاوقات کی پابندی کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(١٢) فربہی ‘ تبخیر اور بسیار خوری ایسے امراض میں روزہ رکھنا صحت کےلیے بہت مفید ہے ۔
علامہ علاء الدین حصکفی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر روزہ دار بھولے سے کھالے یا پی لے یا جماع کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی یا دھواں داخل ہو خواہ اس کو روزہ یاد ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ان سے بچنا مشکل ہے ‘ تیل لگانے سے یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو ‘ فصد لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ بوسہ لینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بہ شرطی کہ اس سے انزال نہ ہو ‘ احتلام سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کلی کرنے کے بعد جو تری منہ میں رہ گئی اس کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کان میں پانی داخل ہونے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر دانتوں کے درمیان سے خون نکلا اور اس کو نگل لیا تو اگر خون غالب تھا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ‘ استمنا بالید سے اگر انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ ورنہ نہیں۔ اگر ناک (رینٹ) کو اندر کھینچ لیا اور وہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کسی چیز کے چھکنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگر رات سمجھ کر سحری کی اور صبح ہوچکی تھی یا غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کیا اور آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر صرف قضاء ہے اور کفارہ نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ میں عمدا جماع کرے یا عمدا دوا یا غذا کھائے یا پئے تو ان تمام صورتوں میں قضا اور کفارہ ہے ‘ اور اگر از خود قے آئے اور وہ اس کو واپس حلق میں نہ لوٹائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ قے منہ بھر کر آئے یا منہ بھر کر نہ آئے اور اگر خود بخود واپس حلق میں چلی جائے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اور اگر عمدا قے لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا بہ شرطی کہ منہ بھر کر قے آئی ہو یہ مختار مذہب ہے اور اگر از خود قے کی تو اگر منہ بھر کر قے کی ہے تو اجماعا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس میں صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے ۔
👍1
روزہ میں کسی چیز کو بلاعذر چکھنا مکروہ ہے ‘ دنداسہ چبانا مکروہ ہے ‘ بوسہ لینا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے مونچھوں پر تیل لگانا اور سرمہ لگانا مکروہ نہیں ہے ‘ مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے خواہ شام کے وقت کی جائے ۔ (درمختار علی ھامش رد المختار جلد ٢ صفحہ ١١٤۔ ١٠٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ، چشتی)
طالبِ دعا و دعا گو
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322631466639566/
طالبِ دعا و دعا گو
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322631466639566/
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-09-1443 ᴴ | 04-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1