🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-09-1443 ᴴ | 04-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-09-1443 ᴴ | 04-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
فضائل مسائل اور دلائل تراویح ⁷
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322534013315978/
فضائل ، مسائل اور دلائل تراویح حصّہ ہفتم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : جیسا کہ سابقہ مضمون میں تفصیل سے عرض کیا جا چکا ہے کہ تہجد اور تراویح الگ الگ نمازیں ہیں ۔ اگر نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح ایک ہی نماز ہے اور تراویح کے آٹھ رکعات ہونے کی یہی حدیث دلیل ہے تو چاہیے کہ اس حدیث کے تمام اجزا پر عمل کیا جائے اور اس میں بیان کردہ پوری کیفیت کے ساتھ نماز تراویح ادا کی جائے یا کم از کم اس کے مسنون ہونے کو بیان کیا جائے۔مگر اس حدیث سے صرف آٹھ کا لفظ تو لے لیا مگر آٹھ رکعات نماز کی کیفیت کو چھوڑ دیا ، کیوں کہ اس میں لمبی لمبی چار چار رکعات پڑھنے کاذکر ہے اور تین رکعات وتر کا ذکر ہے، نیز وتر کےلیے تین کے لفظ کو چھوڑ کر صرف ایک ہی رکعت وتر کو اپنی سہولت کےلیے اختیار کر لیا ۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم آٹھ رکعات پڑھنے کے بعد سوجاتے ، پھر وتر پڑھتے تھے ، حالاں کہ ماہِ رمضان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے سارے حضرات نماز عشاء کے ساتھ تراویح پڑھنے کے فوراً بعد وتر جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ بخاری کی اس حدیث کے صرف آٹھ کے لفظ کو لے کر باقی تمام امور چھوڑ نا یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر عمل کرنا نہیں ہوا ، حالانکہ بخاری میں ہی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دوسری حدیث ہے : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی الله علیہ و آلہ وسلم یُصَلِّی بِالَّیْلِ ثَلَاثَ عَشَرَةَ رَکْعَةً، ثُمَّ یُصَلِّیْ اِذَا سَمِعَ النِّدَاء بِالصُّبْحِ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ ۔ (باب ما یقرأ فی رکعتی الفجر) ۔ یعنی اللہ کے رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم تہجد کی نماز تیرہ رکعات پڑھتے تھے اور جب فجر کی اذان سنتے تو دو ہلکی رکعات ادا کرتے (یعنی فجر کی سنت) ۔ غور فرمائیں کہ گیارہ رکعات والی حدیث بھی بخاری میں ہے اور تیرہ رکعات والی حدیث بھی بخاری میں اور دونوں حدیثیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ گیارہ رکعات والی حدیث میں سے لفظ آٹھ کو تو لے لیا اور تیرہ رکعات والی حدیث کو بالکل ہی چھوڑ دیا ، حالاں کہ تیرہ رکعات والی حدیث میں کان کالفظ استعمال کیا گیا ہے ، جو عربی زبان میں ماضی استمراری کےلیے ہے یعنی آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا تیرہ رکعات پڑھنے کا معمول تھا ۔ نمازِ تہجد اور نماز تراویح کو ایک کہنے والے حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں دونوں احادیث میں تطبیق دینے سے قاصر ہیں ۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی آٹھ رکعات والی حدیث میں تو چار چار رکعات پڑھنے کا تذکرہ ہے ، لیکن عمل دو دو رکعات پڑھنے کا ہے تو جواب میں دوسری حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں نماز تہجد کو دو دو رکعات پڑھنے کا تذکرہ ہے اور وہ حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث ہے جو بخاری ہی (کتاب الوتر) میں ہے : ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ اَوْتَرَ ۔ نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر نماز تہجد پہلے دو رکعات ادا کی ، پھر دو رکعات ادا کی ، پھر دورکعات ادا کی،پھر دورکعات ادا کی،پھر دورکعات ادا کی ، پھر دورکعات ادا کی ، پھر وتر پڑھے ۔ بخاری کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نمازِ وتر کے علاوہ دو دو رکعات کرکے تہجد کی کل بارہ رکعتیں ادا فرماتے ۔ آٹھ رکعات تراویح کا موقف رکھنے والے حضرات کے نزدیک تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے تو ان احادیث میں تطبیق کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ غرضیکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پہلی حدیث سے آٹھ کا لفظ لیا اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے دو دو رکعات پڑھنے کو لیا تو نہ تو حضرت عائشہ کی حدیث پر عمل ہوا اور نہ حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث پرعمل ہوا ، بلکہ اپنے اسلاف کی تقلید ہوئی ، حالانکہ یہ تینوں احادیث صحیح بخاری کی ہی ہیں۔ معلوم ہوا کہ نمازِ تراویح اور نمازِ تہجد کو ایک قرار دینا ہی غلط ہے ، کیوں کہ اس کا ثبوت دلائل شرعیہ سے نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ چاروں آئمہ میں سے کوئی بھی دونوں نمازوں کو ایک قرار دینے کا قائل نہیں ہے ۔ امام بخاری تو تراویح کے بعد تہجد بھی پڑھا کرتے تھے ، امام بخاری تراویح باجماعت پڑھا کرتے تھے اور ہر رکعت میں بیس آیتیں پڑھا کرتے تھے اور پورے رمضان میں تراویح میں صرف ایک ختم کرتے تھے ، جب کہ تہجد کی نماز امام بخاری تنہا پڑھا کرتے تھے اور تہجد میں ہر تین رات میں ایک قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے ۔ (امام بخاری کے اس عمل کی تفصیلات پڑھنے کےلیے صحیح بخاری کی سب سے مشہور و معروف شرح ”فتح الباری“ کے مقدمہ کا
👍1
مطالعہ فرمائیں)

بس بات صحیح یہی ہے کہ نماز تراویح اور نماز تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں ، تہجد کی نماز تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے متعین ہوئی ہے ، سورہٴ المزمل کی ابتدائی آیات (یَااَیَّہَا الْمُزَمِّلُ قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلا ......) پڑھ لیں ۔ جب کہ تراویح کا عمل حضور اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے فرمان سے مشروع ہوا ہے ، جیساکہ آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے : سَنَنْتُ لَہ قِیَامَہ ۔ (سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ)

نوٹ : یاد رہے غیر مقلدین نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی پر ایک بھت بڑا الزام لگاتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے رمضان المبارک میں تہجد نہیں پڑھی حالانکہ تہجد نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم پر فرض تھی اور تراویح نفلی عبادت بھلا ان گستاخوں کو کون سمجھائے کہ اس طرح کے جاھلانہ فتوؤں سے تم نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو تارکِ فرض قرار دے رہے ہو اور یہ اتنی بڑی گستاخی ہے نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی کی کاش تمہارے ہی لوگوں کو سمجھ آجائے جو اندھے مقلد ہیں اپنی مساجد کے ملاّؤں کے اور خود کو غیر مقلد کہتے وہی تمہیں مساجد و بازاروں میں گھسیٹیں گے کہ نعوذ بااللہ تم نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو تارک فرض قرار دیتے ہو اور شرم پھر بھی نہیں آتی ؟
آخری میں ایک سوال اے گروہ آلِ نجد غیر مقلدین کیا نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم تہجد فرض چھوڑ دیتے تھے یا نفلی عبادت تراویح نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے نہیں پڑھی اس سوال کا جواب علمی دلائل سے دو ؟

اور ہاں تہجد اور تراویح نبی صلی الله علیہ و آلہ وسلم کےلیے کس حیثیت میں مانتے ہو ؟

بیس رکعت نماز تراویح کے منکرین سے کچھ سوالات

بر صغیر اور اس سے ملحقہ کچھ ممالک میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی کچھ شریر اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے امت کو تقسیم کرنے میں پورا زور لگاتے ہیں ، ایمان تازہ کرنے اور نیکیوں کے اس موسم میں نت نئی خرابیوں کے علاوہ ایک اہم مسئلہ نماز تراویح کی رکعات کا ہے ۔ شروع سے ہی امت میں متفقہ طور پر بیس رکعات تراویح ادا کی جاتی رہیں مگر ہندوستان کے کچھ لوگوں نے ماضی قریب میں اسے بھی متنازعہ بنا دیا ۔ حرمین شریفین ، بلاد عرب ، شرق و غرب اور کرہ ارض پر موجود امتِ مسلمہ کی اکثریت بیس رکعات ادا کرتی ہے اور یہ جمہور کا مذہب ہے ۔ عوام الناس کے ذہنوں میں موجود غلط فہمی اور ان لوگوں کی جہالت کو روکنے کی نیت سے پہلے کچھ روایات مستند کتبِ حدیث سے پیشِ خدمت ہیں جو کہ بیس ترایح پر دلیل و ثبوت ہیں :

امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام سفیان ثوری، ابن مبارک رضی اللہ عنہم وغیرہ بیس رکعت تراویح کے قائل ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں : و اکثر اهل العلم علی ماروی عن علی و عمر غيرهما من اصحاب النبی صلی الله عليه وآله وسلم عشرين رکعت و هو قول سفيان الثوری، و ابن المبارک و الشافعی و قال الشافعی هکذا ادرکت ببلد مکتة يصلون عشرين رکعت ۔ (جامع ترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی قيام شهر رمضان،چشتی)
تجمہ : اکثر اہل علم کا عمل اس پر ہے جو حضرت علی و حضرت عمر و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ، بیس رکعت ۔ یہی حضرت سفیان ثوری ، ابن مبارک ، امام شافعی کا قول ہے ، امام شافعی علیہ الرحمہ نے فرمایا ، میں نے شہر مکہ میں یہی عمل پایا کہ لوگ بیس رکعت پڑھتے ہیں ۔

یہ روایت کس واضح اور روشن انداز میں بیان کر رہی ہے کہ امت کے جلیل القدر ائمہ کرام رضی اللہ عنہم متفقہ طور پر تراویح کی بیس رکعات کے قائل ہیں۔ اس روایت میں ائمہ اربعہ میں سے ایک امام سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ کا نام شامل نہیں لیکن انہوں نے الگ سے احادیث شریف پر عظیم کتاب "موطا امام مالک" میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل فرما کر اس فتنے کو لگام ڈال دی ۔

کنا نقوم فی عهد عمر بعشرين رکعت ۔ (مؤطا امام مالک)
ترجمہ : ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت پڑھتے تھے ۔

مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ حکم منقول ہے : یحی بن سعید کہتے ہیں کہ : ان عمر بن الخطاب امر رجلا ان يصلی بهم عشرين رکعة ۔ (مصنف ابن ابی شيبه، 1 : 393، مصنف عبد الرزاق، 1 : 262)
ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا ۔

قارئینِ کرام توجہ فرمائیے وہ لوگ جو آٹھ تراویح کا شور کرتے ہیں ان کے پاس کوئی ایک ضعیف حدیث بھی نہیں ہے جس میں صراحت ہو کہ آٹھ رکعات تراویح پڑھو اور یہاں اللہ کے حبیب صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ جناب عمر رضی اللہ عنہ حکماً فرما رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح پڑھو ۔
👍1
اس کے علاوہ تراویح کی بیس رکعات پر علماء کرام کی تصانیف اور تحقیقات کا ایک ذخیرہ موجود ہے ۔ یہاں فقیر چند سوالات درج کر رہا ہے ، جو لوگ آپ کے آس پاس میں آٹھ رکعات پڑھنے کے قائل ہیں ان سے یہ سوالات کیجیے ان شاء اللہ حق واضح ہو جائے گا ۔

1 ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حرم مکہ اور حرم مدینہ میں کبھی آٹھ رکعات نماز تراویح با جماعت ادا کی گئی ہو ؟

2 ۔ شریعت اسلامیہ میں عمل کی ایک شرعی حیثیت ہوتی ہے ، عمل یا تو غلط ہوتا ہے یا درست ، اگر آپ کے نزدیک آٹھ تراویح درست ہیں تو حرمین شریفین میں آج بھی بیس رکعات با جماعت ادا کی جاتی ہیں ۔ آپ دونوں میں سے کون غلط ؟ حرمین شریفین والے یا آپ ؟

3 ۔ ملتِ اسلامیہ میں اس وقت تقریباً ستاون اسلامی ممالک ہیں ، کیا آپ بتا سکتے ہیں کسی ایک ملک میں سرکاری سطح پر آٹھ رکعات تروایح ادا کی جاتی ہیں ؟

4 ۔ تروایح کی رکعات میں ہند و پاک کے علماء پر ہی کیوں اعتراض ، آٹھ تراویح کی وکالت سعودی علماء کے سامنے کیوں نہیں کرتے ؟ اور سعودی عرب میں آٹھ تراویح پڑھانے کےلیے وہاں کے علماء پر کیوں زور نہیں دیتے ؟

5 ۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیس تراویح کا حکم جاری فرمایا ، کیا آپ کوئی ایک ضعیف روایت بھی دکھا سکتے ہیں جس میں دورِ عمر رضی اللہ عنہ یا ان کے بعد کے ائمہ و مشائخ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس حکم سے ذرہ برابر اختلاف کیا ہو ؟

6 ۔ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے علماء و اسلاف اور قرنِ اولٰی کے ائمہ کو اختلاف نہیں تھا تو آپ کل کی پیداوار ہیں ، آپ کس بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں ؟

7 ۔ سعودی عرب میں حرمین شریفین اور تمام بڑی مساجد میں با جماعت بیس رکعات تروایح ادی کی جاتی ہیں ، ہندوستانی و پاکستانی غیر مقلد وہابی علماء وہاں موجود ہوتے ہیں ، جب آپ کے سامنے ایک غیر شرعی عمل ہو رہا ہوتا ہے تو آپ کلمہ حق کیوں بلند نہیں کرتے اور ان لوگوں کو بیس رکعات کی ادائیگی سے کیوں نہیں روکتے ؟

8 ۔ عالمِ اسلام کی عظیم درسگاہ جامعۃ الازہر کے مفتی ، علماء اور فضلاء بیس رکعات پڑھتے ہیں ، کیا آپ نے ہندوستان و پاکستان سے باہر نکل کر کبھی ان علماء کو بھی دعوتِ مناظرہ دی یا صرف ہند و پاک میں ہی فرقہ پرستی پھیلانا مقصود ہے ؟

9 ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں تراویح کا با جماعت عمل شروع کیا ، بیس رکعات بھی انہیں سے ثابت ، آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہزاروں صحابہ کرام علیہم الرضوان حیات و موجود تھے ، کسی ایک صحابی نے بیس رکعات پر اعتراض نہیں کیا ، کسی ایک کتاب سے کوئی ایک اعتراض ثابت نہیں ۔۔۔ تو اب ہم اصحابِ رسول کے قول و فعل کا اعتبار کریں گے یا آپ کی تاویلات مبنی بر جہالت مانیں ؟

10 ۔ ہم سابقہ مضامین میں لکھ چکے اور مزید ثابت کرنے کو تیار ہیں کہ امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور امام مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مستند احادیثِ مبارکہ سے بیس رکعات ثابت ہیں اور یہی چاروں امام امت اسلامیہ کےلیے رہنماء ہیں ، حرمین شریفین میں بھی امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کی جاتی ہے تو اس قدری وزنی دلائل اور ائمہ امت کے اقوال کی موجود گی میں کیا یہ ضرورت باقی رہتی ہے کہ ہم ہندوستان میں پیدا ہونے والی کسی مولوی کی بات پر یقین کر کے تراویح کی رکعات آٹھ مان لیں ؟

سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویحُ أکْثَرُ مِنْ ألْفِ عَامٍ فِی الْمَسْجِدِ النبوی) لک ھی ہے ۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی میں نماز تراویح ہو رہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں ، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے ، اس طرح یہ لوگ مسجد نبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں ۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ، لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں ؛ تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہو جائے ۔ اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمد سالم لکھتے ہیں : اس تفصیلی تجزیہ کے بعد ہم اپنے قراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد نبوی میں مستقل آٹھ تراویح پڑھی جاتی تھیں ؟ یا چلیں بیس سے کم تراویح پڑھنا ہی ثابت ہو ؟ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس یا اس سے زائد ہی پڑھی جاتی تھیں ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحابی یا ماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ ۸ سے زائد تراویح جائز نہیں ہیں اور اس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
👍2
کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو ۔

11 ۔ سعودی عالمِ دین جو کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام و شیخ تھے ، انہوں نے آٹھ تروایح کو غلط سمجھا اور اس پر مکمل کتاب لکھ ڈالی اور کتاب بھی چیلنج سے بھر پور ۔ آٹھ تراویح پڑھنے والوں نے آج تک اس کتاب کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ آپ دونوں میں سے کون غلط ؟ امام مسجد نبوی یا آپ ؟

صبحِ قیامت تک ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہو گا ۔ فقیر کی گزارش ہے کہ تقسیم در تقسیم اس قوم پر رحم کیجیے اور امت کے متفقہ مسائل میں شرانگیزی نہ کیجیے ۔ اس قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اس لیے اگر آپ عملِ خیر نہیں کر سکتے تو ماہِ مقدس میں اپنی شرارتوں سے دوسروں کو اذیت بھی نہ دیجیے ۔ تمام قارئینِ کرام سے گزارش ہے کہ تروایح کی بیس رکعات مکمل ادا کیجیے ۔ اس سے کم نوافل ہو سکتے ہیں تراویح نہیں ہوگی ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322534013315978/
👍21
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322631466639566/
اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ ۔ (سورۃ البقرة آیت 183)
ترجمہ : اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنا فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔

اس آیت میں روزوں کی فرضیت کا بیان ہے ۔ شریعت میں روزہ یہ ہے کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک روزے کی نیت سے کھانے پینے اور ہم بستری سے بچا جائے ۔ (تفسیر خازن البقرۃ الآیۃ : ۱۸۳، ۱ / ۱۱۹،چشتی)

اس آیت میں فرمایا گیا ’’جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے ۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ بہت قدیم عبادت ہے ۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کرتمام شریعتوں میں روزے فرض ہوتے چلے آئے ہیں اگرچہ گزشتہ امتوں کے روزوں کے دن اور احکام ہم سے مختلف ہوتے تھے ۔ یاد رہے کہ رمضان کے روزے 10 شعبان 2 ہجری میں فرض ہوئے تھے ۔ (در مختار، کتاب الصوم، ۳ / ۳۸۳)

سابقہ آیات میں پہلے قصاص کا حکم دیا گیا تھا جس کا تقاضا یہ ہے کہ قاتل اپنے جسم کو حکام اور ولی مقتول کے حوالے کر دے تاکہ وہ اس کو قتل کردیں ‘ اس حکم پر عمل کرنا انسان کے لیے بہت مشکل اور دشوار ہے ‘ اس کے بعد وصیت کرنے کا حکم دیا ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اپنی ملکیت سے نکال کر دوسروں کے حوالے کردے ‘ یہ حکم کی بہ نسبت بہت کم مشکل اور کم دشوار ہے ‘ پھر اس کے بعد روزہ رکھنے کا حکم دیا ‘ یہ اس سے بھی کم مشکل ہے کیونکہ روزہ رکھنے سے انسان کے صرف کھانے پینے کے معمولات بدل جاتے ہیں ‘ اب وہ فجر سے پہلے سحری کرے گا اور دن بھر غروب آفتاب تک بھوکا پیاسا رہے گا ‘ پھر مغرب کے بعد کھانا کھائے گا ‘ یہ حکم پہلے دو حکموں کی بہ نسبت اور بھی کم مشکل ہے تو ان احکام ثلاثہ میں ترتیب یہ ہے پہلے ایک زیادہ مشکل کام کا حکم دیا ‘ پھر بہ تدریج اس مشکل کو کم کرکے احکام دیئے ‘ نیز اسلام کے پانچ ارکان میں سے توحید و رسالت پر ایمان ‘ نماز ‘ زکوۃ اور ضمنا حج کا بھی ذکر اس سے پہلی آیات میں آچکا تھا سو اب روزہ کا ذکر فرمایا :

قصاص اور وصیت کی روزہ کے ساتھ یہ مناسب بھی ہے کہ قصاص میں نفس انسان کو حسی طور پر قتل کیا جاتا ہے اور روزہ میں شہوت کو قتل کیا جاتا ہے اور شہوت وطی کا سبب ہے اور وطی نفس انسان کے پیدا ہونے کا حسا سبب ہے ‘ نیز قصاص میں معنوی طور پر اجسام کی حیات ہے اور روزہ میں ارواح کی حیات ہے ‘ کیونکہ روزہ سے ذہن پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی نعمتوں اور اپنی بری عادتوں اور کوتاہیوں میں غور وفکر کرتا ہے جس سے ندامت ہوتی ہے اور وہ توبہ کرتا ہے اور اس کے دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے اور وہ گناہوں سے بچتا ہے اور دنیا کی رنگینیوں کو ترک کرتا ہے اور فرشتوں کے اوصاف سے متصف ہوجاتا ہے ‘ اسی سبب سے اس مہینہ میں فرشتہ کی وساطت سے قرآن نازل ہوا ‘ بہ ایں ہمہ روزہ کا حکم وصیت کے مناسب تھا ‘ کیونکہ وصیت کے ذریعہ پاکباز لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اب ان سے فرشتوں کی ملاقات کا وقت آرہا ہے ‘ اس لیے وہ مال دنیا کو ترک کردیں اور دنیا کا مال وصیت کرکے دوسرے ضرورت مندوں کے حوالے کردیں ‘ پھر وصیت کے حکم کو مغفرت اور رحمت پر ختم کیا اور اس کے بعد روزہ کا حکم شروع کیا تاکہ معلوم ہو کہ مغفرت اور رحمت سب سے زیادہ روزہ داروں کو حاصل ہوتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا تھا ۔ (سورہ البقرہ : ١٨٣)

روزہ کا لغوی معنی ہے : کسی چیز سے رکنا اور اس کو ترک کرنا ‘ اور روزہ کا شرعی معنی ہے : مکلف اور بالغ شخص کا ثواب کی نیت سے طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے ‘ پینے اور جماع کو ترک کرنا اور اپنے نفس کو تقوی کے حصول کےلیے تیار کرنا ۔

تمام ادیان اور ملل میں روزہ معروف ہے ‘ قدیم مصری ‘ یونانی ‘ رومن اور ہندو سب روزہ رکھتے تھے ‘ موجودہ تورات میں بھی روزہ داروں کی تعریف کا ذکر ہے ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چالیس دن روزہ رکھنا ثابت ہے ‘ یروشلم کی تباہی کو یاد رکھنے کے لیے یہود اس زمانہ میں بھی ایک ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں ‘ اس طرح موجودہ انجیلوں میں بھی روزہ کو عبادت قرار دیا گیا ہے اور روزہ داروں کی تعریف کی گئی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا اسی طرح تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے ‘ تاکہ مسلمانوں کو روزہ رکھنے میں رغبت ہو کیونکہ جب کسی مشکل کام کو عام لوگوں پر لاگو کردیا جاتا ہے تو پھر وہ سہل ہوجاتا ہے ۔
👍1
علامہ علاؤ الدین حصکفی نے لکھا ہے کہ ہجرت کے ڈیڑھ سال اور تحویل قبلہ کے بعد دس شعبان کو روزہ فرض کیا گیا ۔ (درالمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ٨٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ،چشتی)

سب سے پہلے نماز فرض کی گئی ‘ پھر زکوۃ فرض کی گئی ‘ اس کے بعد روزہ فرض کیا گیا ‘ کیونکہ ان احکام میں سب سے سہل اور آسان نماز ہے اس لیے اس کو پہلے فرض کیا گیا ‘ پھر اس سے زیادہ مشکل اور دشوار زکوۃ ہے کیونکہ مال کو اپنی ملکیت سے نکالنا انسان پر بہت شاق ہوتا ہے ‘ پھر اس کے بعد اس سے زیادہ مشکل عبادت روزہ کو فرض کیا گیا ‘ کیونکہ روزہ میں نفس کو کھانے پینے اور عمل تزویج سے روکا جاتا ہے اور یہ انسان کے نفس پر بہت شاق اور دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بہ تدریج احکام شرعیہ نازل فرمائے اور اسی حکمت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارکان اسلام میں نماز اور زکوۃ کے بعد روزہ کا ذکر فرمایا ‘ قرآن مجید میں بھی اس ترتیب کی طرف اشارہ ہے : والخشعین والخشعت والمتصدقین والمتصدقت والصآئمین والصمت ۔ (سورہ الاحزاب : ٣٥)
ترجمہ : اور نماز میں خشوع کرنے والے مرد اور نماز میں خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ۔

آیت کے آخر میں بتایا گیا کہ روزے کا مقصد تقویٰ و پرہیزگاری کا حصول ہے۔ روزے میں چونکہ نفس پر سختی کی جاتی ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں سے بھی روک دیا جاتا ہے تو اس سے اپنی خواہشات پر قابو پانے کی مشق ہوتی ہے جس سے ضبط ِنفس اور حرام سے بچنے پر قوت حاصل ہوتی ہے اور یہی ضبط ِ نفس اور خواہشات پر قابو وہ بنیادی چیز ہے جس کے ذریعے آدمی گناہوں سے رکتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ (۴۱) ۔ (نازعات: ۴۰،۴۱)
ترجمہ : اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے ۔

حضرت عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اے جوانو! تم میں جوکوئی نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی استطاعت نہیں وہ روزے رکھے کہ روزہ قاطعِ شہوت ہے۔(بخاری، کتاب النکاح، باب من لم یستطع الباء ۃ فلیصم، ۳ / ۴۲۲، الحدیث: ۵۰۶۶)

امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روزہ ڈھال ہے ‘ روزہ دار نہ جماع کرے ‘ نہ جہالت کی باتیں کرے ‘ اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اس کو گالی دے تو وہ دو مرتبہ یہ کہے میں روزہ دار ہوں ‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ اپنے کھانے ‘ پینے اور نفس کی خواہش کو میری وجہ سے ترک کرتا ہے ‘ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ‘ اور (باقی) نیکیوں کا اجر دس گنا ہے ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک دروازہ ہے ‘ جس کا نام ریان ہے ‘ اس دروازہ سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے ‘ ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا ‘ کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں ؟ پھر روزہ دار کھڑے ہوجائیں گے ‘ ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا ‘ کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں ؟ پھر روزہ دار کھڑے ہوجائیں گے ‘ ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا ‘ ان کے داخل ہونے کے بعد اس دروازہ کو بند کردیا جائے گا ‘ پھر اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ،چشتی)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب رمضان داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازہ کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دہئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک روایت میں جنت کے دروازوں کا ذکر کیا ہے اور دوسری روایت میں رحمت کے دروازوں کا ذکر کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٤٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر میں قیام کیا اس کے پہلے (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے روزہ رکھا اس کے پہلے (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
👍1
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : جس نے جھوٹی بات اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : روزے کے سوا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے ‘ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ‘ روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کوئی شخص روزہ سے ہو تو وہ نہ جماع کی باتیں کرے نہ شور وشغب کرے ‘ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ‘ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘ روزہ دار کےلیے دو خوشیاں ہیں ‘ ایک خوشی افطار کے وقت ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی ‘ اس وقت وہ اپنے روزہ سے خوش ہوگا ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصال کے روزے رکھے تو صحابہ نے بھی وصال کے روزے رکھے ‘ ان پر یہ روزے دشوار ہوئے آپ نے ان کو منع فرمایا : صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : تم میں میری مثل کون ہے ؟ مجھے تو کھلایا جاتا ہے اور پلایا جاتا ہے ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کا ایک روزہ بھی بغیر عذر یا بغیر مرض کے چھوڑا تو اگر وہ تمام دہر بھی روزے رکھے تو اس کا بدل نہیں ہو سکتا ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ایک دن اللہ کی راہ میں روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ کو جہنم سے ستر سال کی مسافت دور کردیتا ہے ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٦٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حافظ منذری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ نمازیں ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور ایک رمضان سے دوسرا رمضان ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں جب کہ گناہ کبیرہ سے بچا جائے ۔ (صحیح مسلم)

حضرت مالک بن حویرث (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے ‘ جب آپ نے پہلی سیڑھی پر پیر رکھا تو فرمایا : آمین ! جب دوسری سیڑھی پر پیر رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر جب تیسری سیڑھی پر پیر رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر آپ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد ! جس نے رمضان کو پایا اور اس کی بخشش نہیں کی گئی اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) دور کردے ‘ میں نے کہا : آمین ! اور کہا : جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اس کے باوجود دوزخ میں داخل ہوگیا ‘ اللہ اس کو اپنی رحمت سے دور کردے ‘ میں نے کہا : آمین ! اور کہا : جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا گیا اور وہ آپ درود نہ پڑھے اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) دور کردے ‘ میں نے کہا : آمین ۔ (صحیح ابن حبان)

حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شعبان کے آخری دن خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! تمہارے پاس ایک عظیم اور مبارک مہینہ آپہنچا ہے ‘ اس مہینہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ‘ اللہ نے اس مہینہ میں روزہ کو فرض کردیا ہے اور اس کی رات میں قیام کو نفل کردیا ہے ‘ جو شخص اس مہینہ میں فرض ادا کرے تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے مہینہ میں ستر فرض ادا کیے ‘ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ‘ یہ غمگساری کرنے کا مہینہ ہے ‘ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں زیادتی کی جاتی ہے ‘ اس مہینہ میں جو کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لیے گناہوں کی مغفرت ہے اور اس کی گردن کے لیے دوزخ سے آزادی ہے ‘ اور اس کو بھی روزہ دار کی مثل اجر ملے گا اور اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی ‘ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر شخص کی یہ استطاعت نہیں ہے کہ وہ روزہ دار کو افطار کرا سکے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو روزہ دار کو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ سے روزہ افطار کرائے ‘ یہ وہ مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے ‘ جس کا اوسط مغفرت ہے اور جس کا آخر جہنم سے آزادی ہے ‘ جس شخص نے اس مہینہ میں اپنے خادم سے کام لینے میں تخفیف کی اللہ اس کی مغفرت کر دے گا اور اس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔ اس مہینہ میں چار خصلتوں کو جمع کرو ‘
👍1
دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو اور دو خصلتوں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے ‘ جن دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے وہ کلمہ شہادت پڑھنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا ہے ‘ اور جن دو خصلتوں کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے وہ یہ ہیں کہ تم اللہ سے جنت کا سوال کرو اور اس سے دوزخ سے پناہ طلب کرو اور جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پلائے گا ‘ اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی حتی کہ وہ جنت میں چلا جائے گا ۔ (صحیح ابن خزیمہ ‘ بیہقی ‘ صحیح ابن حبان)

امام ابن حبان نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کے مہینہ میں اپنی حلال کمائی سے کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرایا تو رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور لیلۃ القدر میں جبریل (علیہ السلام) اس سے مصاحفہ کرتے ہیں اور جس سے جبریل (علیہ السلام) مصافحہ کرتے ہیں اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بہت آنسو نکلتے ہیں۔ حضرت سلمان نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک مٹھی طعام دے دے ‘ میں نے کہا : یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک گھونٹ دودھ دے دے ‘ میں نے عرض کیا : اگر اس کے پاس وہ بھی نہ ہو ؟ فرمایا : ایک گھونٹ پانی دے دے (امام ابن خزیمہ اور بیہقی نے بھی اس کو روایت کیا ہے)

حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں جب رمضان آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس رمضان آگیا ہے ‘ یہ برکت کا مہینہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں ڈھانپ لیتا ہے اس میں رحمت نازل ہوتی ہے اور گناہ جھڑ جاتے ہیں اور اس میں دعا قبول ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس مہینہ میں تمہاری رغبت کو دیکھتا ہے سو تم اللہ کو اس مہینہ میں نیک کام کرکے دکھاؤ کیونکہ وہ شخص بدبخت ہے جو اس مہینہ میں اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم رہا (اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ‘ البتہ اس کے ایک راوی محمد بن قیس کے متعلق مجھے کوئی جرح یا تعدیل مستحضر نہیں ہے)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے ‘ تو جنتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا ‘ اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا ‘ اور سرکش جنوں کے گلوں میں طوق ڈال دیا جاتا ہے اور ہر رات صبح تک ایک منادی آسمان سے ندا کرتا ہے : اے نیکی کے طلب کرنے والے ! نیکی کا قصد کر اور زیادہ نیکی کر ‘ اور اے برائی کے طلب کرنے والے ! برائی میں کمی کر اور آخرت میں غور وفکر کر ‘ کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے تو اس کی مغفرت کردی جائے اور کوئی توبہ کرنے کا والا ہے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور کوئی دعا کرنے والا ہے تو اس کی دعا قبول کی جائے اور کوئی سوال کرنے والا ہے تو اس پورا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ ماہ رمضان کی ہر رات میں ساٹھ ہزار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ‘ اور رمضان کی ہر رات میں جتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے عید کے دن اس سے تیس گنازیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ۔ (اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے)

حضرت عبدالرحمان بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا ذکر کیا اور تمام مہینوں پر اس کی فضیلت بیان کی ‘ پس فرمایا : جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح آج ہی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو (اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے)

حضرت عمرہ بن مرہ جہنی (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بتائیے اگر میں اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے اور آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دوں ‘ اور پانچوں نمازیں پڑھوں اور زکوۃ ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور قیام کروں تو میرا کن لوگوں میں شمار ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : صدیقین اور شہداء میں ۔ (مسندبزار ‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ صحیح ابن حبان)(الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٠٦۔ ٩٢‘ ملتقطا مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ)

امام بخاری علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : نہ کرو ‘ روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو (بغیر روزہ
👍1
کے رہو) قیام بھی کرو اور سوؤ بھی ‘ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ‘ اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے ‘ اور تمہارے لیے یہ کافی ہے تم پر مہینہ کے تین دن روزے رکھو ‘ اور تمہیں نیکی کا دس گنا اجر ملے گا اور یہ تمہارے پورے دہر کے روزے ہوجائیں گے ‘ میں نے شدت کی اور کہا : یارسول اللہ ! میں قوت پاتا ہوں تو آپ نے فرمایا : اللہ کے نبی داؤد کے روزے کس طرح تھے ؟ آپ نے فرمایا : نصف دہر (ایک دن روزہ ایک دن افطار) ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٦٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوداؤد علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : ابن ملحان قیسی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایام بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے تیرھویں ‘ چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے کا اور فرماتے : ان روزوں سے پورے دہر کے روزوں کا اجر ملے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣٢ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)

تین روزوں کا دس گنا اجر ملے گا جیسا کہ ” صحیح بخاری “ کی روایت میں ہے تو ہر ماہ تین روزے رکھنے سے پورے ماہ کے روزوں کا اجر ملے گا اور جو شخص ہمیشہ یہ روزے رکھے گا اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا ۔

امام مسلم علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ‘ پھر اس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

ہر نیکی کا دس گنا اجر ہوتا ہے تو چھتیس روزوں کا اجر ٣٦٠ روزوں کے برابر ہوا ‘ گویا وہ پورا سال روزہ دار رہا ۔

حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا اور دس محرم کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٦٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابوداؤد علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : قدامہ بن مظعون بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت اسامہ بن زید (رض) کے ساتھ وادی القری میں اپنے مال کی طلب میں گئے ‘ حضرت اسامہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ قدامہ نے کہا : آپ بوڑھے آدمی ہیں ‘ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا پیر اور جمعرات کو بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ (سنن ابوداؤد جلد ١ صفحہ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مسلسل) روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ افطار (روزہ ترک کرنا) نہیں کریں گے ‘ اور آپ روزے نہ رکھتے حتی کہ ہم کہتے : اب آپ روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رمضان کے علاوہ آپ کو کسی ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣١۔ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابوداؤد علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا : عید الاضحی کے دن کیونکہ اس دن تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو اور عید الفطر کے دن کیونکہ اس دن تم اپنے روزوں سے افطار کرتے ہو ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : یوم عرفہ ‘ یوم نحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩۔ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)

میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے اور دوسری جگہوں میں اس دن روزہ رکھنا کار ثواب ہے اور عیدین میں روزہ رکھنا ممنوع ہے ۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٣١ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص (صرف) جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے ‘ الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ رکھے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٢٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)۔ابوداؤد نے کہا : یہ حدیث منسوخ ہے ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩ مطبوعہ مطبع
👍1
مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

یہود ہفتہ کے دن کی تعظیم کی وجہ سے اس دن کا روزہ رکھتے تھے ‘ ان کی مشابہت کی وجہ سے اس دن کے روزہ سے منع فرمایا ۔

(١) روزہ رکھنے سے کھانے پینے اور شہوانی لذات میں کمی ہوتی ہے ‘ اس سے حیوانی قوت کم ہوتی ہے اور روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔
(٢) کھانے پینے اور شہوانی عمل کو ترک کرکے انسان بعض اوقات میں اللہ عزوجل کی صفت صمدیہ سے متصف ہوجاتا ہے اور بہ قدرامکان ملائکہ مقربین کے مشابہ ہوجاتا ہے ۔
(٣) بھوک اور پیاس پر صبر کرنے سے انسان کو مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے کی عادت پڑتی ہے اور مشقت برداشت کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔
(٤) خود بھوکا اور پیاسا رہنے سے انسان کو دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے اور پھر اس کا دل غرباء کی مدد کی طرف مائل ہوتا ہے ۔
(٥) بھوک پیاس کی وجہ سے انسان گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے ۔
(٦) بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کا تکبر ٹوٹتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی معمولی مقدار کا کس قدر محتاج ہے ۔
(٧) بھوکا رہنے سے ذہن تیز ہوتا ہے اور بصیرت کام کرتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جس کا پیٹ بھوکا ہو اس کی فکر تیز ہوتی ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢١٨،چشتی)

اور پیٹ (بھر کر کھانا) بیماری کی جڑ ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے ۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢٢١)

اور لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی: اے بیٹے ! جب معدہ بھرجاتا ہے تو فکر سو جاتی ہے اور حکمت گونگی ہوجاتی ہے اور عبادت کرنے کے لیے اعضاء سست پڑجاتے ہیں ‘ دل کی صفائی میں کمی آجاتی ہے اور مناجات کی لذت اور ذکر میں رقت نہیں رہتی ۔

(٨) روزہ کسی کام کے نہ کرنے کا نام ہے ‘ یہ کسی ایسے عمل کا نام نہیں ہے جو دکھائی دے اور اس کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات میں ریا ہوسکتا ہے روزہ میں نہیں ہوسکتا ‘ یہ اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں ۔

(٩) شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور بھوک پیاس سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اسی طرح روزہ سے شیطان پر ضرب پڑتی ہے ۔

(١٠) روزہ امیر اور غریب ‘ شریف اور خیس سب فرض ہے ‘ اس سے اسلام کی مساوات مؤکد ہوجاتی ہے ۔

(١١) روزانہ ایک وقت پر سحری اور افطار کرنے سے انسان کو نظام الاوقات کی پابندی کرنے کی مشق ہوتی ہے ۔

(١٢) فربہی ‘ تبخیر اور بسیار خوری ایسے امراض میں روزہ رکھنا صحت کےلیے بہت مفید ہے ۔

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر روزہ دار بھولے سے کھالے یا پی لے یا جماع کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی یا دھواں داخل ہو خواہ اس کو روزہ یاد ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ان سے بچنا مشکل ہے ‘ تیل لگانے سے یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو ‘ فصد لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ بوسہ لینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بہ شرطی کہ اس سے انزال نہ ہو ‘ احتلام سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کلی کرنے کے بعد جو تری منہ میں رہ گئی اس کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کان میں پانی داخل ہونے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر دانتوں کے درمیان سے خون نکلا اور اس کو نگل لیا تو اگر خون غالب تھا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ‘ استمنا بالید سے اگر انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ ورنہ نہیں۔ اگر ناک (رینٹ) کو اندر کھینچ لیا اور وہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کسی چیز کے چھکنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگر رات سمجھ کر سحری کی اور صبح ہوچکی تھی یا غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کیا اور آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر صرف قضاء ہے اور کفارہ نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ میں عمدا جماع کرے یا عمدا دوا یا غذا کھائے یا پئے تو ان تمام صورتوں میں قضا اور کفارہ ہے ‘ اور اگر از خود قے آئے اور وہ اس کو واپس حلق میں نہ لوٹائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ قے منہ بھر کر آئے یا منہ بھر کر نہ آئے اور اگر خود بخود واپس حلق میں چلی جائے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اور اگر عمدا قے لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا بہ شرطی کہ منہ بھر کر قے آئی ہو یہ مختار مذہب ہے اور اگر از خود قے کی تو اگر منہ بھر کر قے کی ہے تو اجماعا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس میں صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے ۔
👍1
روزہ میں کسی چیز کو بلاعذر چکھنا مکروہ ہے ‘ دنداسہ چبانا مکروہ ہے ‘ بوسہ لینا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے مونچھوں پر تیل لگانا اور سرمہ لگانا مکروہ نہیں ہے ‘ مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے خواہ شام کے وقت کی جائے ۔ (درمختار علی ھامش رد المختار جلد ٢ صفحہ ١١٤۔ ١٠٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ، چشتی)

طالبِ دعا و دعا گو
ڈاکٹر فیض احمد چشتی

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322631466639566/
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-09-1443 ᴴ | 04-04-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1443 ᴴ | 05-04-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1