🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/399531142002079/
روزہ اور خشیت الٰہی کا دل افروز نظارہ

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

گرمی کے ایام ہیں۔ سورج غروب ہو چکا ہے۔ شام کی تیرگی چھا گئی ہے۔ افق پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں… اچانک فضا میں ارتعاش پیدا ہوا۔ پوری فضا پاکیزہ ہو اُٹھی… ایک صدا ابھری… رمضان کا چاند نظر آگیا! مسرتوں کے دیپ جل اٹھے۔ مسجدوں میں نئی رونق۔ سحر و افطار کے پر کیف نظارے۔ عالَم ہی بدل گیا… چمن میں بہار آ گئی… روحانی بہار … ایمانی بہار… اللہ اللہ! کردار چمکنے لگے… جذبات مچلنے لگے… چھوٹے بڑے سبھی خوشی و مسرت سے جھومنے لگے…

موسم گرما میں ویسے بھی دن بڑے ہو جاتے ہیں اور راتیں چھوٹی… سخت گرمی ہے… تمازت کا عجب عالَم… شمالی ہند کا علاقہ روہیل کھنڈ کے شہر بریلی میں گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے… ایسے میں بریلی کے ایک معزز گھرانے میں ایک کم سِن بچہ بھی روزے سے ہے… گرمی کی شدت سے بڑوں کا بھی حال عجب ہے… آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب سے روشن ہے… شدتِ گرمی سے ہر شے متاثر ہے ایسے وقت میں اس روزہ دار بچہ کے والد؛ بچے کو ایک محفوظ کمرے میں لے جاتے ہیں… جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے… والد صاحب اندر سے دروازہ بند کر لیتے ہیں… والد صاحب کے ہاتھ میں ’’فیرنی‘‘ کا ایک پیالہ ہے… اور! بچے سے کہتے ہیں: ’’اسے کھا لو!‘‘… بچہ ادب سے کہتا ہے: ’’میرا تو روزہ ہے، کیسے کھاؤں؟‘‘… والد صاحب کہتے ہیں: ’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے‘‘… لو کھا لو! مَیں نے کواڑ بند کر دیے ہیں، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے!… بچہ کہتا ہے: ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا وہ تو دیکھ رہا ہے‘‘… یہ سُنتے ہی والد صاحب کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو بہہ نکلے… بات ایمان افروز تھی… یہ بچہ بڑا عظیم تھا… والد صاحب نے امتحان کے طور پر ایسا کیا تھا… اور! بچہ والد صاحب کے معیار پر پورا اُترا… اہلِ خاندان اس طرح کے واقعات کا پہلے بھی مشاہدہ کر چکے تھے…اس سے بچے کی ثابت قدمی دیکھنی تھی… اللہ کی ذات پاک پر یقین کامل دیکھنا تھا…

یہ بچہ کون تھا؟… جس کے ایمان کی تازگی کا یہ عالَم! جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن!… اس بچے نے بڑے ہو کر اسلام کی عظیم خدمت کی… مسلمانوں کو انگریزوں کی سازشوں سے با خبر کیا… ایمان کے لُٹیروں سے اسلام کی حفاظت کی… شرک کے طوفان سے مسلمانوں کے عقیدے کو بچایا… وہ مسلمانوں کا ہم درد اور خیر خواہ تھا… وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا… وہ علم و دانش کا سمندر تھا… اُس کی دینی بصیرت اپنے زمانے سے آگے دیکھتی تھی… اُس نے اسلام کی سرحد و سیما پر محبتِ رسول کی فصیل کھڑی کی… اُس نے بدعات کے خلاف سیکڑوں کتابیں لکھیں… اُس نے قرآن کریم کا ایمان افروز ترجمہ(بنام:کنزالایمان) کیا… اُس نے علم حدیث میں بہت سی کتابیں لکھیں… اُس نے علمِ تفسیر میں کام کیا… جانتے ہو وہ بچہ کون تھا؟ جس نے آگے چل کر عظیم کارنامے انجام دیے…اور ملتِ اسلامیہ کا سر فخر سے بُلند کیا… وہ بچہ ’’احمد رضا‘‘ تھا، جسے دُنیا ’’مفکر اسلام امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی‘‘ کے نام سے جانتی ہے… اور علماے عرب نے جسے ’’امام المحدثین‘‘ کہا… ’’مفسر شہیر‘‘ کہا…جس کی ریاضی میں مہارت کے جلوے دیکھ لینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے کہا تھا: ’’صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے‘‘… بے شک یہ عظمت خوفِ خدا، خشیتِ الٰہی کے سبب ہی تھی؛ جس کا اظہار بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔

سچ ہے اللہ والوں کا بچپن بھی شان والا ہوتا ہے… یہ خدائی اہتمام ہوتا ہے… اللہ جسے دین کی خدمت اور اسلام کی پاس بانی کو چُن لیتا ہے؛ اس کی ذات کو نکھار دیتا ہے… اُس کا بچپن بھی نرالا… شباب بھی نرالا… بڑھاپا بھی نرالا… اور زندگی نمونۂ عمل… اسوۂ نبوی پر عمل کی تصویر… اور وہ مردِ مومن… اقبالؔ نے ایسی ہی ذات کے لیے کہا تھا ؎

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

***
gmrazvi92@gmail.com

https://www.facebook.com/107640804524449/posts/399531142002079/
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯️روزے کے جسمانی و روحانی فوائد، اسلام و سائنس کی روشنی میں🕯️*


📬 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ حدیث شریف میں: عن أبی عبد الرحمٰن عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطّاب قال:سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول بنی الاسلام علیٰ خمس شھادۃ ان لاّ ا لٰہ الّا اللّٰہ وانّ محمّدا رسول اللّٰہ ،واقام الصّلٰوۃ،وایتاء الزّکوٰۃ،وحجّ البیت ،وصوم رمضان۔
(رواہ البخاری و مسلم)
ابوعبد الرحمٰن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘
(بخاری و مسلم)
ان پانچوں ارکان کو دین اسلام میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔جس طرح عمارت کے استحکام کے لئے بنیادوں کی گہرائی اور مضبوطی ضروری ہے اسی طرح اسلام کی پختگی بھی گہرے اور مضبوط ایمان کے بغیر نا ممکن ہے۔ اور جس طرح عمارت کی تزئین وآرائش سجاوٹ کے سامان کے بغیر نہیں ہو سکتی اسی طرح اسلامی عمارت کی آرائش و زیبائش بھی اعمال صالحہ کے بغیر ناممکن ہے۔ بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک اعمال صالحہ کے بغیر ایمان کا وجود ہی عنقا ہے۔اسی لئے حضور ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا:’’اسلام کی بنیاد ان پانچ چیزوں پر ہے۔‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں عمارت ہی سرے سے غائب ہو جائے گی حتیٰ کہ دوستی ودشمنی کا معیار بھی رسول اللہ نے انہی ستونوں پر رکھا ہے ۔کہ جو ان پر عمل کرے گا اس کے جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی ورنہ اسلام کی نظر میں اس کا جان ومال غیر محفوظ ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں تاآنکہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، روزہ رکھیں، حج کریں جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کر لیں گے سو ائے کسی اسلامی حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا۔ (بخاری)

ارکان اسلام میں روزہ ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے سال بھر میں مسلمانوں پر رمضان المبارک کے ایک مہینے کا روزے رکھنا ضروری ہے ہر عاقل، بالغ، صحت مند اور باشعورمسلمان مرد وعورت پر روزہ فرض ہے۔صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات پر کنٹرول رکھنے کا نام روزہ ہے روزہ انسان کو متقی اور پرہیز گار بناتا ہے روزہ سے جفا کشی،صبرو تحمل اور ناداروں سے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں.
یہ محض ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں بلکہ یہ بے شمار جسمانی و روحانی فوائد بھی عطا کرتا ہے روزے کے اندر بدن انسانی کو صحت و تندرستی کے لئے زبردست حکمت عملی اور صلاحیت موجود ہے روزے کے عمل میں انسان کے لیے بے شمار جسمانی و روحانی فوائد کے باعث روزہ رکھنا ایمان و عمل کا جزو لاینفک قرار دیا گیا ہے خدائے پاک کی یہ حکمت عملی بنی نوع انسان سے محبت اور اس کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
روزہ کی فرضیت کے بارے میںﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة،2 :183)
’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘
دوسرے مقام پر حکمت و موعظت سے لبریز ارشادِ ربانی ہے: وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(البقرۃ :185)
اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

احادیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم میں بھی روزے کی فرضیت و فضیلت کو خوب خوب اجاگر کیا گیا ہے جو عمل کے لئے مہمیز اور زندگی کے لئے بندگی اور بندگی کے لئے تابندگی کا روشن باب ہے. اب ورق الٹئے اور روزے کی عظمت و اہمیت کے حوالے سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے کشت ایمان کو سیراب کیجئے۔
1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.
(بخاری، باب صوم رمضان احتسابا من اليمان،1 : 22،رقم :38)
’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.
(نسائی،کتاب الصيام، 2 : 637)
1
’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘

3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی:إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.
(ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305)
’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا ﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا.

قرآن و حدیث میں روزے کی اس قدر فضیلت واہمیت کے درج ذیل اسباب ہیں۔

پہلا سبب : روزہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسےﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جبکہ دوسری عبادتوں کا یہ حال نہیں ہے کیونکہ ان کا حال لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ خالص ﷲ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔

دوسرا سبب : روزے میں نفس کشی، مشقت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں بھوک، پیاس اور دیگر خواہشاتِ نفسانی پر صبر کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری عبادتوں میں اس قدر مشقت اور نفس کشی نہیں ہوتی ہے۔

تیسرا سبب : روزہ میں ریاکاری کا عمل دخل نہیں ہوتا جبکہ دوسری ظاہری عبادات مثلاً نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ریاکاری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔

چوتھا سبب : کھانے پینے سے استغناءﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ روزہ دار اگرچہ ﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے متشابہ نہیں ہو سکتا لیکن وہ ایک لحاظ سے اپنے اندر یہ خلق پیدا کر کے مقرب الٰہی بن جاتا ہے۔

پانچواں سبب : روزہ کے ثواب کا علم ﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں جبکہ باقی عبادات کے ثواب کو رب تعالیٰ نے مخلوق پر ظاہر کر دیا ہے۔

چھٹا سبب : روزہ ایسی عبادت ہے جسے ﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا حتی کہ فرشتے بھی معلوم نہیں کر سکتے۔

ساتواں سبب : روزہ دار اپنے اندر ملائکہ کی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے وہ ﷲ کو محبوب ہے۔

روزہ جہاں شرعی اعتبار سے روحانی پاکیزگی اور ایمانی تقدس کا ضامن و امین ہے وہیں طبی نقطۂِ نظر سے بھی روزہ انسانی جسم اور صحت کے لئے ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی نظیر نہیں. ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ روزے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع نہیں ہوتی بلکہ روزہ رکھنے سے صرف دو کھانوں کا درمیانی وقفہ ہی معمول سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور درحقیقت 24 گھنٹوں میں جسم کو مجموعی طور پر اتنے حرارے (Calories) اور مائع (پانی) کی مقدار مل جاتی ہے جتنی روزے کے علاوہ دنوں میں ملتی ہے۔ مزید برآں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی غذائیت عام دنوں کے مقابلے میں جسم کو زیادہ تعداد میں ملتی ہے اس کے علاوہ جسم فاضل مادوں کو بھی استعمال کرکے توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے میڈیکل سائنس کی روشنی میں روزہ رکھنے سے مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں :

(۱)روزے سے جسم میں موجود زہریلے مادوں کی صفائی ہوتی ہے.
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نظام ہضم ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعـضا پرمشتمل ہوتا ہے جیسے منہ ،جبڑے میں لعابی غدود ،زبان ،گلا ،مقوی نالی ،آنت و جگر وغیرہ تما م کے تمام نظام ہضم کے حصے ہیں ۔جب ہم کھاتے ہیں تو تمام نظام ہضم حرکت میں آجاتے ہیں اور ہر عضو اپنا مخصوص عمل کرتا ہے ،گویا کہ یہ چوبیس گھانٹے اپنی ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ ،جنک فوڈاور طرح طرح کے مضر صحت الم غلم کھانے کی وجہ سے متاثر ہو جاتا ہے ۔لیکن ایک ماہ کے روزے سے سارے نظام ہضم کو آرام ملتا ہے اور اس کا حیران کن اثر جگر پر ہوتا ہے جس سے اس کو ایک طاقت و توانائی مل جاتی ہے جیسا کہ مغربی عیسائی محقق ”ایلن کاٹ،،اپنی معروف کتاب ”fasting as way of life،، میں روزے کے بے شمار فوائد و ثمرات کے متعلق لکھتے ہیں کہ ”روزے سے انسان کے نظام انہضام (معدہ )اور دفاعی نظام کو مکمل آرام ملتا ہے اور غذا ہضم کرنے کا عمل نارمل حالت پر آجاتا ہے ،،(fasting as way of life/32)۔گویا کہ دوران روزہ جسم میں کوئی نئی خوراک نہیں جاتی اس وجہ سے زہریلے مادے پیدا نہیں ہوتے اور جگر پوری تند ہی سے پرانے زہریلے مادوں کو صاف کرکے اس میں تازگی و جدت پیدا کرتا ہے ۔سائنسی نقطہ نظر سے ماہرینِ طب کا دعویٰ ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ ضرور ہونا چاہیے۔
👍1
(٢)۔ روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے یہ اثر دل کو نہایت فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خلیوں کے درمیان (Inter Celluler) مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے خلیوں کا عمل بڑی حد تک پر سکون ہو جاتا ہے۔ لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں (Epitheliead) کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے ہی آرام اور سکون ملتا ہے۔ اسی طرح سے پٹھوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ پٹھوں پر یہ ڈائسٹالک دباؤ دل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل کو آرام ہوتا ہے۔ مزید برآں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ یا ٹینشن کا شکار رہتا ہے ان حالات میں رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطور خاص ڈائسٹالک پر یشر کو کم کرکے انسان کو بہت زیادہ فائدے پہنچاتے ہیں۔

(٣) پھیپھڑے براہِ راست خون صاف کرتے ہیں اس لئے ان پر بلاواسطہ روزے کے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر پھیپھڑوں میں خون منجمد ہو جائے تو روزے کی وجہ سے بہت جلد یہ شکایت رفع ہو جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ نالیاں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ کی حالت میں پھیپھڑے فضلات کو بڑی تیزی کے ساتھ خارج کرتے ہیں اس سے خون اچھی طرح صاف ہونے لگتا ہے اور خون کی صفائی سے تمام نظامِ جسمانی میں صحت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

(٤) روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے بآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے۔

(٥)۔ خون میں سرخ ذرات کی تعداد زیادہ اور سفید ذرات کی تعداد کم پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روزے میں حرارتِ جسمانی گر جاتی ہے لیکن جب اصلی بھوک عود کر آتی ہے۔ تو حالتِ جسمانی اصلی حالت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اسی طرح جب روزہ افطار کے وقت غذا استعمال ہوتی ہے تو حرارتِ جسمانی میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے روزہ رکھنے کے بعد خون کی صفائی کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ قلت الام (یمینا) کی حالت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں ترقی ہو جاتی ہے ایک مشاہدہ کے مطابق صرف 12 دن کے روزوں کے تسلسل کی وجہ سے خون کے خلیات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 36 لاکھ تک پہنچ گئی۔

(٦)روزے سے بڑھاپے کے عمل میں کمی اور عمر میں اضافہ.
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے صحت کمزور ہوجاتی ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس سے صحت انسانی کو مزید تقویت و توانائی حاصل ہوتی ہے ۔بلکہ روزہ رکھنے سے ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اس سے انسانی جسم کی جلد مـضبوط ہوتی ہے اور جھریاں کم ہو جاتی ہیں ۔جسم کو خوراک سے روکنے کی وجہ سے بہت سارے مہلک امراض جیسے کینسر ،دل کے امراض ،شوگر اور دماغی امراض کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔جیسا کہ ”world health net،،کی تحقیقات کی روشنی میں مذکورہ باتوں کے ساتھ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھنے سے کینسر کی بیماری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔سائنسداں کی آنکھیں آج کھلی ہیں لیکن نبی ﷺ اس چیز کو پہلے ہی دوآتشہ کر دیے کہ نفلی روزے میں ”داؤدی روزے ،،بہتر ہوتے ہیں یعنی ایک دن چھوڑکر دوسرے دن روزہ رکھنا ”کان یصوم یوما و یفطر یوما ،،(صحیح بخاری:۱۰۷۹)

(٧) دماغی امراض سے دوری.
جو لوگ جوانی میں تسلسل کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرتے ہیں یہ جب عالم پیری میں پہنچتے ہیں تو دماغی امراض کے شکار کم ہوتے ہیں ۔جیسا کہ امریکی ڈاکٹر مارک مٹیسن کے مطابق ”روزے رکھنے سے انسانی دماغ الرائمز ز(Alzhemiers)پارکنس (parkinsons) اور اس کے علاوہ دیگردماغی امراض سے محفوظ رہتا ہے ،،مزید آگے لکھتے ہیں ” دماغ کو سب سے زیادہ فائدہ اس میں ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً روزہ رکھے۔

https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

از قلم✍️ محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی 9839171719
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/398680948753765/
رمضان اور رویتِ ہلال

رمضان شریف اور عید کے موقع پر چاند کے تعلق سے بڑی ہنگامہ آرائیاں ہوتی رہتی ہیں یہ کچھ تو عوام کی مسائل شریعت سے ناواقفی کی وجہ سے اور کچھ کم پڑھے لکھے اور غیر محتاط علماو ائمہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ علما و ائمہ کو خاص طور سے رمضان شریف قریب آتے ہی فقہی کتابوں میں رویت ہلال کے مسائل کو دیکھ لینا چاہیے اس سے بڑی آسانی ہوگی، یہ حقیقت ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ خاص طور سے موبائل فون نے بڑے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ فقہ و فتویٰ کے ماہرین کو چاہیے کہ اس سلسلے میں شرعی اصولوں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر بھی توجہ دے کر مسائل کا حل نکالیں، اور بہر صورت عوام الناس کو چاہیے کہ علما و مفتیانِ کرام کے فیصلوں کا احترام کریں، شریعت میں اپنی راے کو دخل دینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔

ماہِ شوال یعنی عید الفطر کے ثبوت کے لیے شریعت نے سخت اصول رکھا ہے لیکن ماہ رمضان کے ثبوت کے لیے تخفیف کا اصول ہے۔ اس کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ حضرت صدر الشریعہ اعظمی علیہ الرحمہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں:

ہر گواہی میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ’’گواہی دیتا ہوں‘‘ کہ بغیر اس کے شہادت نہیں۔ مگر ابر میں رمضان کے چاند کی گواہی میں اس کہنے کی ضرورت نہیں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اپنی آنکھ سے اس رمضان کا چاند آج یا کل یا فلاں دن دیکھا ہے۔ یوں ہی اس کی گواہی میں دعویٰ، مجلس قضا اور حاکم (قاضی) کا حکم بھی شرط نہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے حاکم کے یہاں گواہی دی تو جس نے اس کی گواہی سنی اور اس کو بظاہر معلوم ہوا کہ یہ عادل ہے۔ اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ حاکم کا حکم (یعنی قاضی کا فیصلہ) اس نے نہ سنا ہو مثلاً حکم دینے سے پہلے ہی چلا گیا۔

اور فرماتے ہیں: ابر اور غبار میں رمضان کا ثبوت ایک مسلمان، عاقل، بالغ، مستور یا عادل شخص سے ہو جاتا ہے۔ وہ مرد ہو خواہ عورت، آزاد ہو یا باندی، غلام یا اس پر تہمتِ زنا کی حد ماری گئی ہو جب کہ توبہ کر چکا ہو۔

عادل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ کم سے کم متقی ہو، یعنی کبائرِ گناہ سے بچتا ہو اور صغیرہ (چھوٹے گناہ) پر اصرار نہ کرتا ہو اور ایسا کام نہ کرتا ہو جو مروت کے خلاف ہو۔ مثلاً بازار میں کھانا۔

فاسق اگرچہ رمضان کے چاند کی گواہی دے اس کی گواہی قابل قبول نہیں۔ رہا یہ کہ اس کے ذمہ گواہی دینا لازم ہے یا نہیں۔ اگر امید ہے کہ اس کی گواہی قاضی قبول کر لے گا تو اسے لازم ہے کہ گواہی دے۔

مستور یعنی جس کا ظاہر حال، مطابق شرع ہے، مگر باطن کا حال معلوم نہیں، اس کی گواہی غیر رمضان میں قابل قبول نہیں۔ (در مختار)

جس عادل شخص نے رمضان کا چاند دیکھا، اس پر واجب ہے کہ اس رات میں شہادت ادا کردے۔ یہاں تک کہ اگر لونڈی یا پردہ نشین عورت نے چاند دیکھا تو اس پر گواہی دینے کے لئے اس رات میں جانا واجب ہے… یوں ہی آزاد عورت کو گواہی کے لئے جانا واجب ہے۔ اس کے لئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ حکم اس وقت ہے جب اس کی گواہی پر ثبوت موقوف ہو کہ بے اس کی گواہی کے کام نہ چلے ورنہ کیا ضرورت؟ (بہارِ شریعت: ۵/۱۰۷، فاروقیہ دہلی)

رویت کے باقی مسائل بہار شریعت حصہ پنجم میں دیکھیں۔

(ماخوذ: ماہ رمضان اور ھماری ذمہ داریاں از مولانا محمد عبدالمبین نعمانی، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)

ترسیل : نوری مشن، اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں@
***

https://www.facebook.com/107640804524449/posts/398680948753765/
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1😢1
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
فضائل مسائل اور دلائل تراویح ⁶
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322343253335054/
فضائل ، مسائل اور دلائل تراویح حصّہ ششم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : ائمہ احناف آٹھ تراویح کے قائل تھے کا جواب : فقیر کی ایک پوسٹ پر ایک پُر جوش کاپی پیسٹر غیر مقلد وہابی نے وہابیہ کے ایک فورم سے ایک مضمون کاپی کر کے کمنٹ میں پیسٹ کیا ہوا تھا جسے فقیر نے دیکھا وہ یہ کہ : امام اعظم ابو حنیفہ ، امام ابن ہمام ، علامہ ابن نجیم حنفی ، امام طحطاوی ، ملا علی قاری ، علامہ سیوطی علیہم الرّحمہ یہ تمام حضرات آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے ۔ ان غیر مقلدین کے مکّاری اور جھوٹ کا پردہ ہم کئی بار چاک کر چکے ہیں مگر یہ لوگ یہودیانہ فطرت سے باز نہیں آتے آدھے حوالے دینا حوالہ جات میں کتر و بیونت کرنا جھوٹ بولنا غیر مقلد وہابی مذہب کی کی گھٹی میں شامل کیا جاتا ہے اگر یہ لوگ جھوٹ نہ بولیں تو غیر مقلدیت اپنی موت آپ مر جائے گی آیئے ان کے جھوٹ و مکّاری کے پرخچے اڑتے اور منافقت عیاں ہوتے دیکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں اصل حقائق و دلائل ۔

غیر مقلدین کے اعتراض جھوٹ اور مکر و فریب کا جواب
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک : مسند امام اعظم سے جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کی ہے وہ تہجد کے متعلق ہے نہ کہ تراویح کے ۔خود حدیث میں صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باللیل کے الفاظ موجود ہیں جن کا معنیٰ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی اور رات کی نماز سے مراد تہجد ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز تہجد تیرہ رکعات ہوتی تھی وتر بھی اس میں شامل ہوتے تھے ۔

حدیث مبارک میں لفظ صلوۃالنبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باللیل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام صاحب تو نماز تہجد کی رکعات ثابت کر رہے ہیں نہ کہ نماز تراویح کی ۔

مناسب ہے کہ آپ کے سامنے امام صاحب رحمہ اللہ کا مسلک بھی نقل کر دیا جائے تاکہ بات کھل کر سامنے آجائے ۔ کتاب الآثار لابی یوسف میں روایت موجود ہےابو حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان الناس کا نو ایصلون خمس ترویحات فی رمضان ۔
ترجمہ : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ حماد سے وہ ابراھیم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک لوگ رمضان میں پانچ ترویحے یعنی بیس رکعات پڑھاتے ۔

فتاوی قاضی خان میں ہے : التراویح سنۃ مؤکدۃ للرجال والنساء توارثھا الخلف عن السلف من لدن تاریخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیٰ یومنا و ہٰکذا رویَ الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ انہا سنۃ لاینبغی ترکھا ۔۔۔۔وقد واظب علیھا الخلفاء الراشدون رضی اللہ عنہم وقال علیہ السلام علیکم بسنتی وسنۃالخلفاء من بعدی ۔ (فتاویٰ قاضی خان برھامش فتاویٰ عالمگیریہ جلد 1 صفحہ 332،چشتی)
ترجمہ: نماز تراویح مردوں اور عورتوں کےلیے سنت مؤکدہ ہےحضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک ہر دور کے اخلاف) بعد والوں (نے اپنے اسلاف) پہلے والوں (سے اس کو توارث سے پایا ہے اور اسی طرح حسن رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ بے شک تراویح سنت ہے اس کو چھوڑنا ، نا مناسب ہے ، پھر لکھتے ہیں : مقدار التراویح عند اصحابنا والشافعی رحمہ اللہ ماروی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ قال القیام فی شھر رمضان سنۃ لاینبغی ترکھا یصلی اھل کل مسجد فی مسجد ھم کل لیلۃ سوی الوتر عشرین رکعۃ خمس ترویحات بعشر تسلیمات یسلم فی کل رکعتین ۔ (فتاویٰ قاضی خان ص234)
ترجمہ : تراویح کی مقدار ہمارے اصحاب وامام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ ہے جو حسن رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کی ہے فرمایا قیام رمضان (تراویح) سنت ہے اس کو ترک کرنا، نا مناسب ہے ۔ہر مسجد والے اپنی مسجد میں ہر رات وتروں کے علاوہ بیس رکعات تراویح پڑھیں ۔پانچ ترویحے ۔دس سلاموں کے ساتھ اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیں ۔

بدایۃ المجتہد میں ہے : فاختار مالک فی احد قولیہ وابو حنیفۃ والشافعی و احمد وداؤد رحمہم اللہ القیام بعشرین رکعۃ سوی الوتر ۔ (بدایۃ المجتہد جلد نمبر 1 صفحہ 210،چشتی)
ترجمہ : امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے دو قولوں میں سے ایک میں اور امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام احمد اور داؤد ظاہری نے بیس رکعات تراویح کا قیام پسند کیا ہے ، سوائے وتر کے ۔

رحمۃالامۃ میں ہے : فالمسنون عند ابی حنیفۃ والشافعی و احمد رحمہم اللہ عشرون رکعۃً ۔ (رحمۃالامۃ صفحہ 23)
ترجمہ : امام ابو حنیفہ ، امام شافعی اور احمد رحمہم اللہ کے نزدیک مسنون تراویح بیس رکعات ہیں ۔
👍31
محترم قارئینِ کرام : فقہ حنفیہ کے تمام متون اور شروحات میں التراویح عشرون رکعات اور خمس ترویحات کی تصریح موجود ہے لیکن اتنی بڑی تصریحات کے باوجود معترضین کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نام پر عوام الناس کو دھوکہ دینا اور ان کی طرف آٹھ رکعات تراویح کی جھوٹی نسبت کرنا نہایت تعجب خیز ہے اور حیران کن ۔

امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ کا شاذ قول : محترم قارئین مذکرہ بالا امام ابن ہمام کے قول کی حیثیت شاذ اور مرجوح ہے اور ان کا ذاتی تفرد ہے ہمارے علماء اہل السنت اس کی تصریح بارہا کر چکے ہیں کہ شاذ اور تفرادت کا کوئی اعتبار نہیں چنانچہ امام ابن ہمام رحمہ اللہ کے عظیم شاگرد علامہ قاسم بن قطلوبغا فرماتے ہیں: لاعبرۃ بابحاث شیخنا یعنی ابن الہمام التی خالفت المنقول یعنی فی المذہب ۔ (شامی جلد 1 صفحہ 225،چشتی)
ترجمہ : ہمارے شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ کی وہ بحثیں جن میں منقول فی المذہب مسائل کی مخالفت ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔

باقی معترضین کا یہ کہنا کہ امام ابن رحمۃ اللہ علیہ ہمام آٹھ رکعات تراویح کے قائل ہیں یہ بات سراسر بددیانتی ہے ہے کیونکہ امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل نہیں بلکہ وہ بھی پوری امت کی طرح بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں : چنانچہ لکھتے ہیں :ثم استقر الامر علی العشرین فانہ المتوارث ۔ (فتح القدیر جلد 1 صفحہ 407)
یعنی بالآخر تراویح کے مسئلہ نے بیس رکعات پر استقرار پکڑا پس عمل توارث کے ساتھ چلا آرہاہے ۔

امام ابن ہمام رحمہ اللہ بیس رکعات تراویح کے ہی قائل ہیں البتہ ان کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کو مستحب سمجھنا او رتہجد وتراویح کی الگ الگ حدیثوں کو ایک دوسرے کا معارض سمجھنا شاذ، خلافِ اجماع ہے اور تفرد ہے۔

اہل سنت و جماعت کا اصول ہے:وان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع . (درمختارج1ص31،چشتی)
یعنی قاضی کا حکم کرنا یا مفتی کا فتویٰ دینا مرجوح قول پر جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے ۔ یعنی باطل اور حرام ہے ۔

امام ابنِ نجیم حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک : ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ کے بارے میں بھی معترضین ان کی ایک عبارت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں کہ وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے حالانکہ امام ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:قولہ عشرون رکعۃ‘‘بیان لکمیتھا وھو قول الجمھور لما فی المؤطا عن یزید بن رومان قال کان الناس یقومون فی زمن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بثلاث وعشرین رکعۃ و علیہ عمل الناس شرقاً و غرباً۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق جلد 2 صفحہ 66،چشتی)
ترجمہ : مصنف کا قول ہے کہ تراویح بیس رکعات ہےیہ نماز تراویح کے عدد کا بیان ہے کہ وہ بیس رکعات ہے اور یہی جمہور کا قول ہے اس لئے کہ مؤطا امام مالک رحمہ اللہ میں یزید بن رومان رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ 23رکعات پڑھتے تھے (بیس رکعات تراویح اورتین رکعات وتر) مشرق اور مغرب میں لوگوں کا اسی پر عمل ہے۔

امام طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک : امام طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ آٹھ رکعات تراویح کےقائل نہیں بلکہ وہ بھی دوسرے علماء احناف کی طرح بیس کے قائل ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ بیس رکعات تراویح پر توارث کے ساتھ اجماع ہے ۔ (طحطاوی جلد 1 صفحہ 468)
ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک : ملا علی قاری رحمہ اللہ کے نام سے جو عبارت پیش کی گئی وہ عبارت ملاعلی قاری رحمہ اللہ کی نہیں بلکہ انہوں نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے۔ ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ بذات خود بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں : لکن اجمع الصحابۃ علی ان التراویح عشرون رکعۃً ۔ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بیس رکعات تراویح پر اجماع ہے ۔ (مرقاۃ جلد 3 صفحہ 194،چشتی)
اسی طرح ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح نقایہ صفحہ 104 میں بھی بیس رکعات تراویح پر اجماع نقل کیا ہے ۔

امام سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک : امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ، چنانچہ امام موصوف ؛ علامہ سبکی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں : ومذھبنا ان التراویح عشرون رکعۃلما روی البیہقی وغیرہ بالا سناد الصحیح عن السائب بن یزید الصحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال کنا نقوم علی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعشرین رکعۃ والوتر ۔ (الحاوی للفتاویٰ ج1ص350)
اور ہمارا مذہب یہ ہے کہ نماز تراویح بیس رکعات ہے اس لیے کہ بیہقی وغیرہ نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت سائب بن یزید صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم لوگ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیس رکعات تراویح اور وتر پڑھتے تھے ۔پھر لکھا ہے :استقر العمل علی ہذا ۔یعنی بالآخر بیس رکعات تراویح پر عمل پختہ ہوا یعنی خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیس رکعات پر اتفاق اور اجماع کیا ہے ۔
👍1
اور پھربعض لوگ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا ہم خیال سمجھ کر ان کی یہ عبارت نقل کر دیتےہیں : واما ما رواہ ابن ابی شیبۃمن حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی رمضان عشرین رکعۃً والوترفاسنادہ ضعیف وقد عارضہ حدیث عائشۃ ھذاالذی فی الصحیحین مع کو نھا اعلم بحال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلامن غیرھا واللہ اعلم۔ (فتح الباری جلد 4 صفحہ 319)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ مسئلہ تراویح میں امام شافعی رحمہ اللہ کے سچے پیروکار تھے اور شافیعہ کا بیس رکعات تراویح پر اتفاق چلاآرہا ہے ۔
امام موصوف رحمۃ اللہ علیہ ؛ امام رافعی رحمۃ اللہ علیہ کے واسطے سے نقل کرتے ہیں : انہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی بالناس عشرین رکعۃ لیلتین فلما کان فی اللیلۃالثالثۃ اجتمع الناس فلم یخرج الیھم ثم قال من الغد خشیت ان تفرض علیکم فلا تطیقو نہا ۔
اس کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ”متفق علی صحتہ“اس کی صحت پر تمام محدثین کا اتفاق ہے ۔ (تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافع الکبیر ج1ص540)

معلوم ہوا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جس روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیس رکعات تراویح پڑھنا ثابت ہے اس کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

علامہ عبد الحئی لکھنوی حنفی کا مسلک : آپ کے مجموعہ فتاویٰ سے سوال اور جواب ملاحظہ فرمائیں ۔

سوال : حنفیہ بست رکعت تراویح سوائے وتر میخوانند و در حدیث صحیح از عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وارد شدہ ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ پس سند بست رکعت چیست ؟

جواب : روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا محمول بر نماز تہجد است کہ در رمضان و غیر رمضان یکساں بود و غالباً بعد یازدہ رکعت مع الوتر بر سند و دلیل بریں محل آنست کہ راوی ایں حدیث ابو سلمہ است درنیہ ایں حدیث میگویدقالت عائشہ رضی اللہ عنہا فقلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنام قبل ان توتر قال یا عائشۃ ان عینی تنامان ولا ینام قلبیکذا رواہ البخاری ومسلم و نماز تراویح در عرف آں وقت قیام رمضان مےگفتند و حد صحاح ستہ بروایات صحیحہ مرفوعہ الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعین عدد قیام رمضان مصرح نشدہ این قدر ہست کہقالت عائشہ کان رسول اللہ یجتہد فی رمضان مالا یجتہد فی غیرہ رواہ مسلم لیکن در مصنف ابن ابی شیبہ و سنن بیہقی بروایت ابن عباس وارد شدہکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یصلی فی رمضان جماعۃ بعشرین رکعۃ والوتر و رواہ البیہقی فی سننہ باسناد صحیح عن السائب بن یزید قال کانو ا یقومون فی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ ۔ (مجموعہ فتاوی مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ ص 59,58،چشتی)

اس عبارت میں وضاحت کے ساتھ مولانا عبد الحئی لکھنوی فرما رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح صحیح اسناد کے ساتھ ثابت ہے اور امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت تہجد پر محمول ہے پھر بھی ان کے نام لے کر یہ کہنا کے وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے بہر حال ہماری سمجھ سے دور ہے ۔

علامہ موصوف اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں : ان مجموع عشرین رکعۃ فی التراویح سنۃ موکدۃ لانہ مما واظب علیہ الخلفاء وان لم یواظب علیہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقد سبق ان سنۃ الخلفاء ایضاً لازم الاتباع وتارکھا آثم و ان کان اثمہ دون اثم تارک السنۃ النبویۃ فمن اکتفٰی علی ثمان رکعات یکون مسیئاً لترکہ سنۃ الخلفاء وان شِئت ترتیبہ علی سبیل القیاس فقل عشرون رکعۃ فی التراویح مما واظب علیہ الخلفاء الراشدون وکل ما واظب علیہ الخلفاء سنۃ موکدۃ ثم تضمہ مع ان کل سنۃ موکدۃ یاثم تارکھا فینتبع عشرون رکعۃ یا ثم تارکھا و مقدمات ھذا القیاس قدا ثبتنا ھا فی الاصول السابقہ ۔ (تحفۃ الاخیار فی احیاء سنۃ سید الابرار صفحہ 209،چشتی)
ترجمہ : تراویح میں بیس رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس لئے کہ اس پر خلفائے راشدین نے مداومت کی ہے اگرچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مداومت نہیں کی اور پہلے بتایا جا چکا ہے کہ خلفاء راشدین کی سنت بھی واجب الاتباع ہے اور اس کاچھوڑنے والا گنہگار ہے اگرچہ اس کا گناہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ترک کرنے والے سے کم ہے لہٰذا جو شخض آٹھ رکعات پر اکتفاء کرے وہ برا کام کرنے والا ہے کیونکہ اس نے خلفا راشدین کی سنت ترک کر دی اگر تم قیاس کے طریقے پر اس کی ترتیب سمجھنا چاہو تو یوں کہو بیس رکعات تراویح پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی اور جس پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی ہو وہ سنت مؤکدہ ہے لہٰذا بیس رکعات تراویح بھی سنت مؤکدہ ہے پھر اس کے ساتھ یہ بھی ملاؤ کہ سنت مؤکدہ کا تارک گنہگار ہوتا ہے لہٰذا بیس رکعات کا تارک بھی گنہگار ہو گا۔ اس قیاس کے مقدمات ہم اصول سابقہ میں ثابت کر چکے ہیں ۔
1👍1
محترم قارئینِ کرام : علامہ عبد الحئی لکھنوی تو فرماتے ہیں کہ آٹھ رکعات تراویح پڑھ کر باقی رکعتوں کو چھوڑنے والا گناہ گار ہے کیونکہ بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہے ۔ علامہ عبد الحئی لکھنوی رقمطراز ہیں : فمودی ثمان رکعات یکون تارکا للسنۃ المؤکدہ ۔ (حاشیہ ہدایہ جلد 1 صفحہ 131مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان،چشتی)

یعنی صرف آٹھ رکعات تراویح ادا کرنے والا سنت مؤکدہ کا تارک (گناہ گار) ہے کیونکہ سنت مؤکدہ کو ترک کرنا گناہ ہے ۔

علاوہ ازیں علامہ عبدالحئی لکھنوی نے مؤطا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے حاشیہ پر لکھا : بیس رکعات تراویح پر اجماع ہے اور نمازتراویح سنت مؤکدہ ہے ۔

مندرجہ بالا دلائل سے یہ معلوم ہوا کہ علمائے اہل سنت و جماعت بالخصوص علمائے احناف کو آٹھ رکعات تراویح کا قائل ماننا سراسر نا انصافی ہے ۔ تمام علمائے احناف کثراللہ سوادھم امت مرحومہ کی اجماعیت کو تسلیم کرتے ہوئے 20 رکعات تراویح ہی ادا کرتے ہیں ۔

(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/322343253335054/
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
Roza Kyun Rakha Jaata Hai?

Allama Habeebullah Nayeemi Ashrafi Bhagalpuri Likhte Hain :

Roza Isliye Rakhte Hain Ke Hukme Ilaahi Par Amal Kar Ke Aakhirat Ki Zindagi Ko Kamyaab Banayein Aur Nafs Ke Hukm Ko Hukme Ilahi Ke Muqable Mein Tod Daalein
Shahwaat Wa Khwahishaat Ki Mukhalifat Karein Aur In Ko Kamzor Karein
Jin Logon Ko Ba Aasani Khana Muyassar Aata Hai, Unhein Roza Rakhne Se Bhook Aur Pyaas Ki Kaifyat Aur Takleef Maloom Ho To Wo Bhooko Aur Pyaaso Ki Haalato Par Taras Kha Kar Unki Imdaad Wa Iaanat Karein Aur Jin Logon Ko Khana Muyassar Nahin Aata Unhein Bhook Aur Pyaas Par Sabr Karne Ki Aadat Ho Jaaye

(Habeebul Fatawa, Safa612)

Abde Mustafa Official
1👍1
रोज़ा क्यूं रखा जाता है?

अल्लामा हबीबुल्लाह नइमी अशरफी भागलपुरी लिखते हैं :
रोज़ा इसलिये रखते हैं के हुक्मे इलाही पर अमल कर के आखिरत की जिंदगी को कामयाब बनाएं और नफ्स के हुक्म को हुक्मे इलाही के मुकाबले में तोड़ डालें।
शहवात व ख्वाहिशात की मुखालिफत करें और इन को कमजोर करें।
जिन लोगों को बा आसानी खाना मुयस्सर आता है, उन्हें रोज़ा रखने से भूख और प्यास की कैफियत और तकलीफ़ मालूम हो तो वो भूखे और प्यासो की इमदाद व इआनत करें और जिन लोगों को खाना मुयस्सर नहीं आता उन्हें भूख और प्यास पर सब्र करने की आदत हो जाये।

(हबीबुल फतावा, सफ़ा612)

अ़ब्दे मुस्तफ़ा ऑफिशियल
1👍1
روزہ کیوں رکھا جاتا ہے؟

علامہ حبیب اللہ نعیمی اشرفی بھاگلپوری لکھتے ہیں:
روزہ اس لیے رکھتے ہیں کہ حکمِ الٰہی پر عمل کر کہ آخرت کی زندگی کو کامیاب بنائیں اور نفس کے حکم کو حکمِ الٰہی کے مقابلے میں توڑ دیں،
شہوات و خواہشات کی مخالفت کریں اور ان کو کمزور کریں۔

جن لوگوں کو بآسانی کھانا میسر آتا ہے، انھیں روزہ رکھنے بھوک اور پیاس کی کیفیت اور تکلیف معلوم ہو تو وہ بھوکوں اور پیاسوں کی حالتوں پر ترس کھا کر ان کی امداد و اعانت کریں اور جن لوگوں کو کھانا میسر نہیں آتا انھیں بھوک اور پیاس پر صبر کرنے کی عادت ہو جائے۔

(حبیب الفتاوی، ص612)

عبد مصطفیٰ آفیشل
1👍1😁1
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
روزہ کیوں رکھا جاتا ہے ؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/28859
عبد مصطفیٰ آفیشل
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
रोज़ा क्यूं रखा जाता है ?
https://t.me/islaamic_Knowledge/28858
अ़ब्दे मुस्तफ़ा ऑफिशियल
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Roza Kyun Rakha Jaata Hai?
https://t.me/islaamic_Knowledge/28857
Abde Mustafa Official
👍1