Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک ❼
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/399531142002079/
روزہ اور خشیت الٰہی کا دل افروز نظارہ
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
گرمی کے ایام ہیں۔ سورج غروب ہو چکا ہے۔ شام کی تیرگی چھا گئی ہے۔ افق پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں… اچانک فضا میں ارتعاش پیدا ہوا۔ پوری فضا پاکیزہ ہو اُٹھی… ایک صدا ابھری… رمضان کا چاند نظر آگیا! مسرتوں کے دیپ جل اٹھے۔ مسجدوں میں نئی رونق۔ سحر و افطار کے پر کیف نظارے۔ عالَم ہی بدل گیا… چمن میں بہار آ گئی… روحانی بہار … ایمانی بہار… اللہ اللہ! کردار چمکنے لگے… جذبات مچلنے لگے… چھوٹے بڑے سبھی خوشی و مسرت سے جھومنے لگے…
موسم گرما میں ویسے بھی دن بڑے ہو جاتے ہیں اور راتیں چھوٹی… سخت گرمی ہے… تمازت کا عجب عالَم… شمالی ہند کا علاقہ روہیل کھنڈ کے شہر بریلی میں گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے… ایسے میں بریلی کے ایک معزز گھرانے میں ایک کم سِن بچہ بھی روزے سے ہے… گرمی کی شدت سے بڑوں کا بھی حال عجب ہے… آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب سے روشن ہے… شدتِ گرمی سے ہر شے متاثر ہے ایسے وقت میں اس روزہ دار بچہ کے والد؛ بچے کو ایک محفوظ کمرے میں لے جاتے ہیں… جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے… والد صاحب اندر سے دروازہ بند کر لیتے ہیں… والد صاحب کے ہاتھ میں ’’فیرنی‘‘ کا ایک پیالہ ہے… اور! بچے سے کہتے ہیں: ’’اسے کھا لو!‘‘… بچہ ادب سے کہتا ہے: ’’میرا تو روزہ ہے، کیسے کھاؤں؟‘‘… والد صاحب کہتے ہیں: ’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے‘‘… لو کھا لو! مَیں نے کواڑ بند کر دیے ہیں، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے!… بچہ کہتا ہے: ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا وہ تو دیکھ رہا ہے‘‘… یہ سُنتے ہی والد صاحب کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو بہہ نکلے… بات ایمان افروز تھی… یہ بچہ بڑا عظیم تھا… والد صاحب نے امتحان کے طور پر ایسا کیا تھا… اور! بچہ والد صاحب کے معیار پر پورا اُترا… اہلِ خاندان اس طرح کے واقعات کا پہلے بھی مشاہدہ کر چکے تھے…اس سے بچے کی ثابت قدمی دیکھنی تھی… اللہ کی ذات پاک پر یقین کامل دیکھنا تھا…
یہ بچہ کون تھا؟… جس کے ایمان کی تازگی کا یہ عالَم! جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن!… اس بچے نے بڑے ہو کر اسلام کی عظیم خدمت کی… مسلمانوں کو انگریزوں کی سازشوں سے با خبر کیا… ایمان کے لُٹیروں سے اسلام کی حفاظت کی… شرک کے طوفان سے مسلمانوں کے عقیدے کو بچایا… وہ مسلمانوں کا ہم درد اور خیر خواہ تھا… وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا… وہ علم و دانش کا سمندر تھا… اُس کی دینی بصیرت اپنے زمانے سے آگے دیکھتی تھی… اُس نے اسلام کی سرحد و سیما پر محبتِ رسول کی فصیل کھڑی کی… اُس نے بدعات کے خلاف سیکڑوں کتابیں لکھیں… اُس نے قرآن کریم کا ایمان افروز ترجمہ(بنام:کنزالایمان) کیا… اُس نے علم حدیث میں بہت سی کتابیں لکھیں… اُس نے علمِ تفسیر میں کام کیا… جانتے ہو وہ بچہ کون تھا؟ جس نے آگے چل کر عظیم کارنامے انجام دیے…اور ملتِ اسلامیہ کا سر فخر سے بُلند کیا… وہ بچہ ’’احمد رضا‘‘ تھا، جسے دُنیا ’’مفکر اسلام امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی‘‘ کے نام سے جانتی ہے… اور علماے عرب نے جسے ’’امام المحدثین‘‘ کہا… ’’مفسر شہیر‘‘ کہا…جس کی ریاضی میں مہارت کے جلوے دیکھ لینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے کہا تھا: ’’صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے‘‘… بے شک یہ عظمت خوفِ خدا، خشیتِ الٰہی کے سبب ہی تھی؛ جس کا اظہار بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔
سچ ہے اللہ والوں کا بچپن بھی شان والا ہوتا ہے… یہ خدائی اہتمام ہوتا ہے… اللہ جسے دین کی خدمت اور اسلام کی پاس بانی کو چُن لیتا ہے؛ اس کی ذات کو نکھار دیتا ہے… اُس کا بچپن بھی نرالا… شباب بھی نرالا… بڑھاپا بھی نرالا… اور زندگی نمونۂ عمل… اسوۂ نبوی پر عمل کی تصویر… اور وہ مردِ مومن… اقبالؔ نے ایسی ہی ذات کے لیے کہا تھا ؎
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
***
gmrazvi92@gmail.com
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/399531142002079/
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/399531142002079/
روزہ اور خشیت الٰہی کا دل افروز نظارہ
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
گرمی کے ایام ہیں۔ سورج غروب ہو چکا ہے۔ شام کی تیرگی چھا گئی ہے۔ افق پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں… اچانک فضا میں ارتعاش پیدا ہوا۔ پوری فضا پاکیزہ ہو اُٹھی… ایک صدا ابھری… رمضان کا چاند نظر آگیا! مسرتوں کے دیپ جل اٹھے۔ مسجدوں میں نئی رونق۔ سحر و افطار کے پر کیف نظارے۔ عالَم ہی بدل گیا… چمن میں بہار آ گئی… روحانی بہار … ایمانی بہار… اللہ اللہ! کردار چمکنے لگے… جذبات مچلنے لگے… چھوٹے بڑے سبھی خوشی و مسرت سے جھومنے لگے…
موسم گرما میں ویسے بھی دن بڑے ہو جاتے ہیں اور راتیں چھوٹی… سخت گرمی ہے… تمازت کا عجب عالَم… شمالی ہند کا علاقہ روہیل کھنڈ کے شہر بریلی میں گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے… ایسے میں بریلی کے ایک معزز گھرانے میں ایک کم سِن بچہ بھی روزے سے ہے… گرمی کی شدت سے بڑوں کا بھی حال عجب ہے… آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب سے روشن ہے… شدتِ گرمی سے ہر شے متاثر ہے ایسے وقت میں اس روزہ دار بچہ کے والد؛ بچے کو ایک محفوظ کمرے میں لے جاتے ہیں… جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے… والد صاحب اندر سے دروازہ بند کر لیتے ہیں… والد صاحب کے ہاتھ میں ’’فیرنی‘‘ کا ایک پیالہ ہے… اور! بچے سے کہتے ہیں: ’’اسے کھا لو!‘‘… بچہ ادب سے کہتا ہے: ’’میرا تو روزہ ہے، کیسے کھاؤں؟‘‘… والد صاحب کہتے ہیں: ’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے‘‘… لو کھا لو! مَیں نے کواڑ بند کر دیے ہیں، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے!… بچہ کہتا ہے: ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا وہ تو دیکھ رہا ہے‘‘… یہ سُنتے ہی والد صاحب کی آنکھوں سے مسرت کے آنسو بہہ نکلے… بات ایمان افروز تھی… یہ بچہ بڑا عظیم تھا… والد صاحب نے امتحان کے طور پر ایسا کیا تھا… اور! بچہ والد صاحب کے معیار پر پورا اُترا… اہلِ خاندان اس طرح کے واقعات کا پہلے بھی مشاہدہ کر چکے تھے…اس سے بچے کی ثابت قدمی دیکھنی تھی… اللہ کی ذات پاک پر یقین کامل دیکھنا تھا…
یہ بچہ کون تھا؟… جس کے ایمان کی تازگی کا یہ عالَم! جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن!… اس بچے نے بڑے ہو کر اسلام کی عظیم خدمت کی… مسلمانوں کو انگریزوں کی سازشوں سے با خبر کیا… ایمان کے لُٹیروں سے اسلام کی حفاظت کی… شرک کے طوفان سے مسلمانوں کے عقیدے کو بچایا… وہ مسلمانوں کا ہم درد اور خیر خواہ تھا… وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا… وہ علم و دانش کا سمندر تھا… اُس کی دینی بصیرت اپنے زمانے سے آگے دیکھتی تھی… اُس نے اسلام کی سرحد و سیما پر محبتِ رسول کی فصیل کھڑی کی… اُس نے بدعات کے خلاف سیکڑوں کتابیں لکھیں… اُس نے قرآن کریم کا ایمان افروز ترجمہ(بنام:کنزالایمان) کیا… اُس نے علم حدیث میں بہت سی کتابیں لکھیں… اُس نے علمِ تفسیر میں کام کیا… جانتے ہو وہ بچہ کون تھا؟ جس نے آگے چل کر عظیم کارنامے انجام دیے…اور ملتِ اسلامیہ کا سر فخر سے بُلند کیا… وہ بچہ ’’احمد رضا‘‘ تھا، جسے دُنیا ’’مفکر اسلام امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی‘‘ کے نام سے جانتی ہے… اور علماے عرب نے جسے ’’امام المحدثین‘‘ کہا… ’’مفسر شہیر‘‘ کہا…جس کی ریاضی میں مہارت کے جلوے دیکھ لینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے کہا تھا: ’’صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے‘‘… بے شک یہ عظمت خوفِ خدا، خشیتِ الٰہی کے سبب ہی تھی؛ جس کا اظہار بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔
سچ ہے اللہ والوں کا بچپن بھی شان والا ہوتا ہے… یہ خدائی اہتمام ہوتا ہے… اللہ جسے دین کی خدمت اور اسلام کی پاس بانی کو چُن لیتا ہے؛ اس کی ذات کو نکھار دیتا ہے… اُس کا بچپن بھی نرالا… شباب بھی نرالا… بڑھاپا بھی نرالا… اور زندگی نمونۂ عمل… اسوۂ نبوی پر عمل کی تصویر… اور وہ مردِ مومن… اقبالؔ نے ایسی ہی ذات کے لیے کہا تھا ؎
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
***
gmrazvi92@gmail.com
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/399531142002079/
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک ❼ #رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza https://www.facebook.com/107640804524449/posts/399531142002079/ روزہ اور خشیت الٰہی کا دل افروز نظارہ غلام مصطفیٰ رضوی نوری مشن مالیگاؤں گرمی کے ایام ہیں۔ سورج غروب ہو چکا ہے۔ شام کی تیرگی چھا گئی…
روزہ اور خشیت الٰہی
کا دل افروز نظارہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/28840
✍ غلام مصطفیٰ رضوی
📇 نوری مشن مالیگاؤں
کا دل افروز نظارہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/28840
✍ غلام مصطفیٰ رضوی
📇 نوری مشن مالیگاؤں
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯️روزے کے جسمانی و روحانی فوائد، اسلام و سائنس کی روشنی میں🕯️*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ حدیث شریف میں: عن أبی عبد الرحمٰن عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطّاب قال:سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول بنی الاسلام علیٰ خمس شھادۃ ان لاّ ا لٰہ الّا اللّٰہ وانّ محمّدا رسول اللّٰہ ،واقام الصّلٰوۃ،وایتاء الزّکوٰۃ،وحجّ البیت ،وصوم رمضان۔
(رواہ البخاری و مسلم)
ابوعبد الرحمٰن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘
(بخاری و مسلم)
ان پانچوں ارکان کو دین اسلام میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔جس طرح عمارت کے استحکام کے لئے بنیادوں کی گہرائی اور مضبوطی ضروری ہے اسی طرح اسلام کی پختگی بھی گہرے اور مضبوط ایمان کے بغیر نا ممکن ہے۔ اور جس طرح عمارت کی تزئین وآرائش سجاوٹ کے سامان کے بغیر نہیں ہو سکتی اسی طرح اسلامی عمارت کی آرائش و زیبائش بھی اعمال صالحہ کے بغیر ناممکن ہے۔ بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک اعمال صالحہ کے بغیر ایمان کا وجود ہی عنقا ہے۔اسی لئے حضور ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا:’’اسلام کی بنیاد ان پانچ چیزوں پر ہے۔‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں عمارت ہی سرے سے غائب ہو جائے گی حتیٰ کہ دوستی ودشمنی کا معیار بھی رسول اللہ نے انہی ستونوں پر رکھا ہے ۔کہ جو ان پر عمل کرے گا اس کے جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی ورنہ اسلام کی نظر میں اس کا جان ومال غیر محفوظ ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں تاآنکہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، روزہ رکھیں، حج کریں جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کر لیں گے سو ائے کسی اسلامی حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا۔ (بخاری)
ارکان اسلام میں روزہ ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے سال بھر میں مسلمانوں پر رمضان المبارک کے ایک مہینے کا روزے رکھنا ضروری ہے ہر عاقل، بالغ، صحت مند اور باشعورمسلمان مرد وعورت پر روزہ فرض ہے۔صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات پر کنٹرول رکھنے کا نام روزہ ہے روزہ انسان کو متقی اور پرہیز گار بناتا ہے روزہ سے جفا کشی،صبرو تحمل اور ناداروں سے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں.
یہ محض ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں بلکہ یہ بے شمار جسمانی و روحانی فوائد بھی عطا کرتا ہے روزے کے اندر بدن انسانی کو صحت و تندرستی کے لئے زبردست حکمت عملی اور صلاحیت موجود ہے روزے کے عمل میں انسان کے لیے بے شمار جسمانی و روحانی فوائد کے باعث روزہ رکھنا ایمان و عمل کا جزو لاینفک قرار دیا گیا ہے خدائے پاک کی یہ حکمت عملی بنی نوع انسان سے محبت اور اس کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
روزہ کی فرضیت کے بارے میںﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة،2 :183)
’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘
دوسرے مقام پر حکمت و موعظت سے لبریز ارشادِ ربانی ہے: وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(البقرۃ :185)
اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
احادیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم میں بھی روزے کی فرضیت و فضیلت کو خوب خوب اجاگر کیا گیا ہے جو عمل کے لئے مہمیز اور زندگی کے لئے بندگی اور بندگی کے لئے تابندگی کا روشن باب ہے. اب ورق الٹئے اور روزے کی عظمت و اہمیت کے حوالے سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے کشت ایمان کو سیراب کیجئے۔
1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.
(بخاری، باب صوم رمضان احتسابا من اليمان،1 : 22،رقم :38)
’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.
(نسائی،کتاب الصيام، 2 : 637)
-----------------------------------------------------------
*🕯️روزے کے جسمانی و روحانی فوائد، اسلام و سائنس کی روشنی میں🕯️*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ حدیث شریف میں: عن أبی عبد الرحمٰن عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطّاب قال:سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول بنی الاسلام علیٰ خمس شھادۃ ان لاّ ا لٰہ الّا اللّٰہ وانّ محمّدا رسول اللّٰہ ،واقام الصّلٰوۃ،وایتاء الزّکوٰۃ،وحجّ البیت ،وصوم رمضان۔
(رواہ البخاری و مسلم)
ابوعبد الرحمٰن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘
(بخاری و مسلم)
ان پانچوں ارکان کو دین اسلام میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔جس طرح عمارت کے استحکام کے لئے بنیادوں کی گہرائی اور مضبوطی ضروری ہے اسی طرح اسلام کی پختگی بھی گہرے اور مضبوط ایمان کے بغیر نا ممکن ہے۔ اور جس طرح عمارت کی تزئین وآرائش سجاوٹ کے سامان کے بغیر نہیں ہو سکتی اسی طرح اسلامی عمارت کی آرائش و زیبائش بھی اعمال صالحہ کے بغیر ناممکن ہے۔ بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک اعمال صالحہ کے بغیر ایمان کا وجود ہی عنقا ہے۔اسی لئے حضور ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا:’’اسلام کی بنیاد ان پانچ چیزوں پر ہے۔‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں عمارت ہی سرے سے غائب ہو جائے گی حتیٰ کہ دوستی ودشمنی کا معیار بھی رسول اللہ نے انہی ستونوں پر رکھا ہے ۔کہ جو ان پر عمل کرے گا اس کے جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی ورنہ اسلام کی نظر میں اس کا جان ومال غیر محفوظ ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں تاآنکہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، روزہ رکھیں، حج کریں جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کر لیں گے سو ائے کسی اسلامی حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا۔ (بخاری)
ارکان اسلام میں روزہ ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے سال بھر میں مسلمانوں پر رمضان المبارک کے ایک مہینے کا روزے رکھنا ضروری ہے ہر عاقل، بالغ، صحت مند اور باشعورمسلمان مرد وعورت پر روزہ فرض ہے۔صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات پر کنٹرول رکھنے کا نام روزہ ہے روزہ انسان کو متقی اور پرہیز گار بناتا ہے روزہ سے جفا کشی،صبرو تحمل اور ناداروں سے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں.
یہ محض ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں بلکہ یہ بے شمار جسمانی و روحانی فوائد بھی عطا کرتا ہے روزے کے اندر بدن انسانی کو صحت و تندرستی کے لئے زبردست حکمت عملی اور صلاحیت موجود ہے روزے کے عمل میں انسان کے لیے بے شمار جسمانی و روحانی فوائد کے باعث روزہ رکھنا ایمان و عمل کا جزو لاینفک قرار دیا گیا ہے خدائے پاک کی یہ حکمت عملی بنی نوع انسان سے محبت اور اس کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
روزہ کی فرضیت کے بارے میںﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة،2 :183)
’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘
دوسرے مقام پر حکمت و موعظت سے لبریز ارشادِ ربانی ہے: وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(البقرۃ :185)
اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
احادیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم میں بھی روزے کی فرضیت و فضیلت کو خوب خوب اجاگر کیا گیا ہے جو عمل کے لئے مہمیز اور زندگی کے لئے بندگی اور بندگی کے لئے تابندگی کا روشن باب ہے. اب ورق الٹئے اور روزے کی عظمت و اہمیت کے حوالے سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے کشت ایمان کو سیراب کیجئے۔
1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.
(بخاری، باب صوم رمضان احتسابا من اليمان،1 : 22،رقم :38)
’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.
(نسائی،کتاب الصيام، 2 : 637)
❤1