🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
فضائل مسائل اور دلائل تراویح ¹
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/318875723681807/
فضائل ، مسائل اور دلائل تراویح حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : رمضان المبارک میں نفل عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے ۔ اس ماہ مبارک میں دن میں روزے رکھے جاتے ہیں اور رات میں نماز تراویح ادا کی جاتی ہے ۔ ماہ رمضان کی راتوں میں ادا کی جانے والی بیس رکعات نماز باجماعت کا نام ’’تراویح‘‘ اس لیے رکھا گیا کہ جب لوگوں نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا شروع کی تو وہ ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر آرام کرتے تھے ، جتنی دیر میں چار رکعات پڑھی جاتی تھیں ، یعنی تراویح کے معنی آرام والی نماز ہے ۔ نماز تراویح بالاجماع سنت مؤکدہ ہے اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس کی اہمیت و فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نماز تراویح کی مداومت فرمائی ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اپنے اوپر لازم کرلو‘‘۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی نماز تراویح ادا فرمائی اور اسے پسند فرمایا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ’’جو رمضان میں قیام کرے ایمان کی وجہ اور طلب ثواب کےلیے ، اس کے اگلے سب گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘ یعنی صغائر ۔ پھر اس اندیشہ سے کہ امت پر فرض نہ ہو جائے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ترک فرمائی ۔ خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رمضان المبارک کی) ایک شب مسجد میں تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طورپر نماز پڑھتے دیکھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کردوں تو بہتر ہے‘‘۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہ نے ایک امام حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو اکٹھا کر دیا ۔ پھر دوسرے دن تشریف لے گئے تو ملاحظہ فرمایا کہ لوگ ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ اس وقت آپ نے فرمایا ’’یہ ایک اچھی بدعت ہے ۔ (بہار شریعت ۔ مصباح الفقہ اول)

واضح رہے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام بنایا تو تمام صحابۂ کرام نے اس پر اتفاق کیا اور کسی نے اعتراض نہیں کیا ، اس لیے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے بہتر قرآن مجید پڑھنے والے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو رَمضان میں ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے قیام کرے ، تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ (مسلم صفحہ ۳۸۲ حدیث ۷۵۹،چشتی)
حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : تراویح کی پابندی کی برکت سے سارے صغیرہ (یعنی چھوٹے) گناہ معاف ہو جائیں گے کیونکہ گناہ ِکبیرہ (یعنی بڑے گناہ) توبہ سے اور حقوق العباد (اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کے ساتھ) حق والے کے معاف کرنے سے معاف ہوتے ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد ۲ صفحہ ۲۸۸)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے رَمضان کے روزے تم پر فرض کیے اور میں نے تمہارے لیے رَمضان کے قیام کو سنت قرار دیا ہے لہٰذا جو شخص رَمضان میں روزے رکھے اور ایمان کے ساتھ اورحصولِ ثواب کی نیت سے قیام کرے (یعنی تراویح پڑھے) تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل گیا جیسے ولادت کے دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا ۔ (سنن نَسائی صفحہ ۳۶۹ حدیث ۲۲۰۷)

رَمَضانُ الْمبارَک میں جہاں ہمیں بے شمار نعمتیں میسر آتی ہیں انہی میں تراویح کی سنت بھی شامِل ہے اور سنت کی عظمت کے کیا کہنے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے : جس نے میری سنت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (ابن عساکر جلد ۹ صفحہ ۳۴۳،چشتی)

تراویح سنّتِ مُؤَکَّدَہ ہے اور اس میں کم از کم ایک بار ختم قراٰن بھی سنّتِ مُؤَکَّدَہ ۔

افسوس ! آج کل دینی مُعاملات میں سستی کادَور دورہ ہے،عموماً تراویح میں قراٰنِ کریم ایک بار بھی صحیح معنوں میں ختم نہیں ہو پاتا۔ قراٰنِ پاک ترتیل کے ساتھ یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے ، مگر حال یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا کرے تواکثر لوگ اُس کے ساتھ تراویح پڑھنے کےلیے تیار ہی نہیں ہوتے ! اب وُہی حافظ پسند کیا جاتا ہے جو تراویح سے جلد فارِغ کر دے ۔ یاد رکھئے ! تر اویح اور نمازکے علا وہ بھی تلاوت میں حرف چبا جا نا حرام ہے ۔ اگر تراویح میں حافظ صاحب پورے قرآنِ کریم میں سے صرف ایک حرف بھی چبا گئے تو ختم قران کی سنت ادا نہ ہو گی ۔ بلکہ دورانِ نماز حرف چب جانے کی وجہ سے معنیٰ فاسد ہونے یا مہمل یعنی بے معنیٰ ہو جانے کی صورت میں وہ نماز بھی فاسد ہو جائے گی ۔لہٰذاکسی آیت میں کوئی حرف
’’چب‘‘ گیا یا دُرست ’’مخرج‘‘ سے نہ نکلا اور بدل گیا تو لوگوں سے شرمائے بغیر پلٹ کر پھر پڑھیے اور دُرُست پڑھ کر پھر آگے بڑھئے ۔ ایک افسو س ناک اَمریہ بھی ہے کہ حفا ظ کی ایک تعداد ایسی ہوتی ہے جسے ترتیل کے ساتھ پڑھنا ہی نہیں آتا ! تیزی سے نہ پڑھیں تو بھو ل جا تے ہیں ! ایسوں کی خد متوں میں ہمدردانہ مشورہ ہے ، لوگوں سے نہ شر مائیں ، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کی ناراضی بہت بھاری پڑے گی لہٰذا بلا تاخیر تجوید کے ساتھ پڑھانے والے کسی قا ری صاحب کی مدد سے از اِبتدا تا اِنتہا اپنا حفظ دُرُست فر ما لیں ۔ مدولین (وؤا،ی اور الف ساکن اور قبل کی حرکت موافق ہوتو (یعنی واؤ کے پہلے پیش اور ی کے پہلے زیر اور الف کے پہلے زبر) اس کو مد اور واؤ اور ی ساکن ماقبل مفتوح کو لین کہتے ہیں) کا خیال رکھنا لا زِمی ہے نیز مد ، غنہ ، اظہار ، اِخفا وغیرہ کی بھی رعایت فرمائیں ۔

حضرت صدرُ الشَّریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں : فر ضو ں میں ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرے اور تراویح میں مُتَوَ سِّط (یعنی درمیانہ) انداز پر اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے ، مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم ’’مد‘‘ کا جو دَرَجہ قا رِیو ں نے رکھا ہے اُس کو ادا کرے ورنہ حرام ہے۔اس لئے کہ ترتیل سے (یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر) قراٰن پڑھنے کا حکم ہے ۔ (بہار شریعت جلد ۱ صفحہ ۵۴۷،چشتی)(دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۲ص۳۲۰)

پارہ 29 سُوْرَۃُ الْمُزَّمِّل کی چو تھی آیت میں ارشا د ِربّا نی ہے : وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ ۔
ترجمہ : اور قراٰن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ۔

ترتیل سے پڑھنا کسے کہتے ہیں !:
امام احمد رضا خان قادری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ’’ کمالین علیٰ حاشیہ جلالین‘‘ کے حوالے سے ’’ ترتیل ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں : ’’قراٰنِ مجید اِس طرح آہستہ اور ٹھہر کر پڑھو کہ سننے والا اِس کی آیات و الفاظ گن سکے ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۶ص۶ ۲۷)
نیز فرض نماز میں اس طرح تلاوت کرے کہ جدا جدا ہر حرف سمجھ آئے، تراویح میں مُتَوَسِّط (یعنی درمیانہ) طریقے پر اور رات کے نوافل میں اتنی تیز پڑھ سکتا ہے جسے وہ سمجھ سکے ۔(دُرِّمُختَار ج۲ص۳۲۰)
’’مدارِکُ التَّنْزِیل‘‘ میں ہے : ’’قراٰن کو آہستہ اور ٹھہر کر پڑھو ، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ ،حروف جدا جدا ، وقف کی حفاظت اور تمام حرکات کی ادائیگی کا خاص خیال رکھنا ہے،’’ تَرْتِیْلًا ‘‘اس مسئلے میں تاکید پیدا کر رہا ہے کہ یہ بات تلاوت کرنے والے کےلیے نہایت ہی ضَروری ہے ۔‘‘ (مدارکُ التّنزیل ص۱۲۹۲)(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۶ص۸ ۲۷،۲۷۹،چشتی)

قرآنِ کریم پڑھنے پڑھانے والوں کو اپنے اندر اِخلاص پیدا کرنا ضروری ہے اگر حافظ اپنی تیزی دکھانے ، خوش آوازی کی داد پانے اور نام چمکانے کےلیے قرآنِ کریم پڑھے گا تو ثواب تو دُور کی بات ہے ، اُلٹا حب جاہ اور ریاکاری کی تباہ کاری میں جا پڑے گا ! اِسی طرح اُجرت کا لین دین بھی نہ ہو ، طے کرنے ہی کو اُجرت نہیں کہتے بلکہ اگر یہاں تراویح پڑھانے آتے اِسی لیے ہیں کہ معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگرچِہ طے نہ ہوا ہو ، تو یہ بھی اُجرت ہی ہے۔اُجرت رقم ہی کا نام نہیں بلکہ کپڑے یا غلہ (یعنی اناج) وغیرہ کی صورت میں بھی اُجرت ، اُجرت ہی ہے۔ہاں اگر حافِظ صاحب نیت کے ساتھ صاف صاف کہہ دیں کہ میں کچھ نہیں لوں گا یا پڑھوانے والا کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا ۔ پھر بعد میں حافظ صاحب کی خدمت کردیں تو حرج نہیں کہ بخاری شریف کی پہلی حدیثِ مبارَک میں ہے : اِنّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات۔ یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔ (صحیح بُخاری جلد ۱ صفحہ ۶ حدیث ۱)

امام احمد رضاخان قادری عَلَیْہِ الرَّحْمہ کی بارگاہ میں اُجرت دے کر میت کے ایصالِ ثواب کےلیے خَتْمِ قرآن و ذِکرُ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کروانے سے مُتَعَلِّق جب اِستفتا پیش ہوا تو جواباً ارشاد فرمایا : تلاوتِ قراٰن وذکرِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ پر اُجرت لینا دینا دونوں حرام ہے، لینے دینے والے دونوں گناہ گار ہوتے ہیں اور جب یہ فعل حرام کے مرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اَموات (یعنی مرنے والوں) کو بھیجیں گے ؟ گناہ پر ثواب کی اُمید اور زیادہ سخت و اَشد (یعنی شدید ترین جرم) ہے ۔ اگر لوگ چاہیں کہ ایصالِ ثواب بھی ہو اور طریقۂ جائزہ شرعیہ بھی حاصل ہو (یعنی شرعاً جائز بھی رہے) تو اِس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دو گھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اُتنی دیر کی ہرشخص کی مُعَیَّن (مقرر) کر دیں ۔ مَثَلاً پڑھوانے والا کہے : ’’میں نے تجھے آج فلاں وَقت سے فلاں وَقت کےلیے اِ س اُجرت پر نوکر رکھا (کہ) جو کام چاہوں گا لوں گا ۔‘‘ وہ کہے : ’’میں نے قبول کیا ۔‘‘ اب وہ اُتنی دیر کے واسطے اَجیر (یعنی ملازِم) ہو گیا ، جو کام چاہے لے سکتا ہے اس کے بعد اُس سے کہے فلاں مَیت کے لئے اِتنا قراٰنِ عظیم یا اِس قدر کلِمۂ طیبہ یا دُرُود پاک پڑھ دو۔ یہ صورت
جواز (یعنی جائز ہونے) کی ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ ج۲۳ص۵۳۷)

اِس فتوے کی روشنی میں تراویح کےلیے حافظ صاحب کی بھی ترکیب ہو سکتی ہے ۔ مَثَلاً مسجد کمیٹی والے اُجرت طے کر کے حافظ صاحب کو ماہِ رَمَضانُ المبارَک میں نماز عشا کےلیے امامت پر رکھ لیں اور حافظ صاحب بِالتَّبَع یعنی ساتھ ہی ساتھ تراویح بھی پڑھا دیا کریں کیوں کہ رَمَضانُ المبارَک میں تراویح بھی نمازِ عشا کے ساتھ ہی شامل ہوتی ہے ۔ یا یوں کریں کہ ماہِ رَمَضان المبارَک میں روزانہ دویا تین گھنٹے کےلیے (مَثَلاً رات 8 تا 11) حافظ صاحب کو نوکری کی آفر کرتے ہوئے کہیں کہ ہم جو کام دیں گے وہ کرنا ہو گا ، تنخواہ کی رقم بھی بتادیں ، اگر حافظ صاحب منظور فرمالیں گے تو وہ ملازم ہو گئے ۔ اب روزانہ حافظ صاحب کی ان تین گھنٹوں کے اندر ڈیوٹی لگا دیں کہ وہ تراویح پڑھا دیا کریں ۔ یاد رکھیے ! چاہے امامت ہو یا مؤَذِّنی ہو یا کسی قسم کی مَزدوری جس کا م کےلیے بھی اِجارہ کرتے وقت یہ معلوم ہو کہ یہاں اُجرت یاتنخواہ کا لین دَین یقینی ہے توپہلے سے رقم طے کرنا واجِب ہے ، ورنہ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہوں گے ۔ ہاں جہاں پہلے ہی سے اُجرت کی مقررہ رقم معلوم ہو مَثَلاً بس کا کرایہ ، یا بازار میں بوری لادنے ، لے جانے کی فی بوری مزدوری کی رقم وغیرہ ۔ تواب باربارطے کرنے کی حاجت نہیں ۔ یہ بھی ذِہن میں رکھیے کہ جب حافظ صاحب کو (یاجس کوبھی جس کام کےلیے) نوکر رکھا اُس وقت یہ کہہ دینا جائز نہیں کہ ہم جو مناسب ہوگا دے دیں گے یا آپ کو راضی کر دیں گے ، بلکہ صَراحَۃً یعنی واضح طورپر رقم کی مقدار بتانی ہوگی ، مَثَلاًہم آپ کو 12ہزار روپے پیش کریں گے اور یہ بھی ضروری ہے کہ حافظ صاحب بھی منظور فرمالیں ۔ اب بارہ ہزار دینے ہی ہوں گے ۔ یاد رہے ! مسجد کے چندے سے دی جانے والی اُجرت وہاں کے عرف سے زائد نہیں ہونی چاہیے ، پہلے سے موجود امام صاحب دل برداشتہ نہ ہوں اِس کا بھی خیال رکھا جائے ، پورے ماہِ رَمضان میں نَمازِ عشا کی امامت کی چھٹی کے سبب امام صاحب کو مسجد کے چندے سے اُس ماہ کی عشا کی نمازوں کی تنخواہ دے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں اسی طرح کا عرف یعنی معمول جاری ہے ۔ ہاں حافظ صاحب کو مطالبے کے بغیر اپنی مرضی سے طۓ شدہ سے زائد مسجد کے چندے سے نہیں بلکہ اپنے پلے سے یا اسی مقصد کے لیے جمع کی ہوئی رقم دے دیں تب بھی جائز ہے ۔ جو حافظ صاحبان ، یا نعت خوان بغیر پیسوں کے تراویح ، قراٰن خوانی یا نعت خوانی میں حصہ نہیں لے سکتے وہ شرم کی وجہ سے ناجائز کام کا ارتکاب نہ کریں ۔ امام احمد رضا خان قادری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرکے پا ک روزی حاصل کریں ۔ اور اگر سخت مجبوری نہ ہو تو حیلے کے ذَرِیعے بھی رقم حاصِل کرنے سے گریز کریں کہ جس کاعمل ہوبے غرض اُس کی جزا کچھ اور ہے ۔ ایک امتحان سخت امتحان یہ ہے کہ جو رقم قبول نہیں کرتا اُس کی کافی واہ !واہ ! ہوتی ہے ۔ یہاں اپنے آپ کو حب جاہ اور ریاکاری سے بچاناضروری ہے ، بلا حاجت دوسروں سے تذکرہ کرنے سے بچنا اور دعائے اخلاص کرتے رہنا ایسے مواقع پر مفید ہوتا ہے ۔

جہاں تراویح میں ایک بار قراٰنِ پاک کی تلاوت کی جائے وہاں بہتر یہ ہے کہ ستائیسویں شب کو ختم کریں ، رقت و سوز کے ساتھ اِختتام ہو اور یہ اِحساس دل کو تڑپا کر رکھ دے کہ میں نے صحیح معنوں میں قراٰنِ پاک پڑھا یاسنا نہیں ، کوتاہیاں بھی ہوئیں ، دل جمعی بھی نہ رہی ، اِخلاص میں بھی کمی تھی ۔ صد ہزار افسوس ! دُنیوی شخصیت کا کلام تو توجہ کے ساتھ سنا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا پاکیزہ کلام دھیان سے نہ سنا ، ساتھ ہی یہ بھی غم ہو کہ افسوس ! اب ماہِ رَمَضانُ الْمُبارَک چند گھڑیوں کا مہمان رَہ گیا ، نہ جانے آیند ہ سال اس کی تشریف آوَری کے وَقت اس کی بہاریں لوٹنے کےلیے میں زندہ رہوں گایا نہیں ! اِس طرح کے تصورات جما کر اپنی غفلتوں پر خود کو شرمندہ کرے اور ہو سکے تو روئے اگر رونا نہ آئے تو رونے کی سی صورت بنائے کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہے ، اگر کسی کی آنکھ سے مَحَبَّتِ قراٰن و فراقِ رَمضان میں ایک آدھ قطرہ آنسو ٹپک کر مقبولِ بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ہو گیا تو کیا بعید کہ اُسی کے صدقے اللہ تعالیٰ سبھی حاضرین کو بخش دے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی تراویح ادا فرمائی اور اسے خوب پسند بھی فرمایا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے : جو ایمان و طلبِ ثواب کے سبب سے رَمضان میں قیام کرے اُس کے پچھلے گناہ (یعنی صغیرہ گناہ) بخش دیے جائیں گے ۔ (صحیح بخاری ج۱ص۶۵۸حدیث۲۰۰۹)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس اندیشے کی وجہ سے ترک فرمائی کہ کہیں امّت پر (تراویح) فرض نہ کر دی جائے ۔(صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۶۵۸ حدیث ۲۰۱۲،چشتی)
امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے (اپنے دورِ خِلافت میں) ماہِ رَمَضان المُبَارَک کی ایک رات مسجد میں دیکھا کہ لوگ جدا جدا انداز پر (تراویح) اداکر رہے ہیں ، کوئی اکیلا تو کچھ حضرات کسی کی اقتدا میں پڑھ رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا : میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کردوں ۔ لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے حضرت سیّدنا اُبَی بِن کَعْب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو سب کا امام بنا دیا، پھر جب دوسری رات تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ باجماعت (تراویح) ادا کر رہے ہیں (توبہت خوش ہوئے اور) فرمایا : نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ ۔ یعنی’’ یہ اچّھی بدعت ہے ۔ (بُخاری جلد ۱ صفحہ ۶۵۸ حدیث ۲۰۱۰،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمارا کتنا خیال ہے ! محض اِس خوف سیجماعتِ تراویح پر ہمیشگی نہ فرمائی کہ کہیں اُمّت پر فرض نہ کر دی جائے ۔ اِس حدیثِ پاک سے بعض وَساوِس کا علا ج بھی ہو گیا ۔ مثَلاً تراویح کی باقاعدہ جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی جاری فرما سکتے تھے مگر نہ فرمائی اور یوں اسلام میں اچھے اچھے طریقے رائج کرنے کا اپنے غلاموں کو موقع فراہم کیا ۔ جو کام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا وہ کام سیّدُِنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے محض اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تا قِیا مت ایسے اچھے اچھے کام جاری کرتے رہنے کی اپنی حیاتِ ظاہِری میں ہی اجازت مَرحمت فرمادی تھی ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے : جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اُس کو اس کا ثواب ملے گا اور اُس کا بھی جو (لوگ) اِس کے بعد اُس پر عمل کریں گے اور اُن کے ثواب سے کچھ کم نہ ہو گا اور جو شخص اِسلام میں برا طریقہ جار ی کرے اُس پر اِس کا گناہ بھی ہے اور ان (لوگوں) کا بھی جو اِس کے بعد اِس پر عمل کریں اور اُن کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ (صحیح مُسلم صفحہ ۵۰۸ حدیث ۱۰۱۷،چشتی)

اِس حدیثِ مبارَک سے معلو م ہوا ، قیامت تک اسلام میں اچھے اچھے نئے طریقے جاری کرنے کی اجازت ہے جیسا کہ {۱} امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے تراویح کی باقاعدہ جماعت کا اہتمام کیا اور اس کو خود ’’اچھی بدعت‘‘ بھی قرار دیا ۔ اِس سے یہ بھی معلو م ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وِصال ظاہری کے بعد صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی جونیا اچھا کام جاری کریں وہ بھی بدعت حَسَنہ کہلاتا ہے ۔ {۲}مسجِد میں امام کےلیے طاق نما محراب نہیں ہوتی تھی سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے مسجدُ النَّبَوِی الشّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں محراب بنانے کی سعادت حاصل کی اِس نئی ایجاد (بد عتِ حَسَنہ) کو اس قدر مقبولیت حاصل ہے کہ اب دنیابھر میں مسجد کی پہچان اِسی سے ہے ۔ {۳} اِسی طرح مساجِد پر گنبد و مینار بنانا بھی بعد کی ایجاد ہے ، یہاں تک کہ مسجد الحرام کے مَنارے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے دَور میں نہیں تھے ۔ {۴} ایمانِ مفصل ۔ {۵} ایمانِ مُجْمَل ۔ {۶} چھ کلمے اور ان کی تعداد و ترکیب کہ یہ پہلا یہ دوسرا اور ان کے نام ۔ {۷} قراٰنِ کریم کے تیس پارے بنانا ، اِعراب لگانا ، ان میں رُکوع بنانا ، رُموزِ اَوقاَف کی علامات لگانا ۔ بلکہ نقطے بھی بعدمیں لگائے گئے ، خوبصورت جِلدیں چھاپنا وغیرہ ۔ {۸} احادیثِ مبارَکہ کو کتابی شکل دینا ، اس کی اَسناد پر جرح کرنا ، ان کی صحیح ، حسن، ضعیف اور موضوع وغیرہ اَقسام بنانا ۔ {۹} فقہ ، اُصولِ فقہ و علم کلام۔ {۱۰}زکٰوۃ و فطر ہ سکۂ رائج الْوقت بلکہ با تصویر نوٹوں سے ادا کرنا ۔ {۱۱} اونٹوں وغیرہ کے بجائے سفینے یاہوائی جہازکے ذَرِیعے سفر حج کرنا ۔ {۱۲} شریعت و طریقت کے چاروں سلسلے یعنی حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اسی طرح قادِری، نقشبندی ، سہروردی اور چشتی۔

ہر بدعت گمراہی نہیں ہے : ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ ان دو احادیث مبارکہ (۱) کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَّکُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّار ۔ یعنی ہر بدعت (نئی بات) گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنَّم میں (لے جانے والی) ہے ۔ (صَحیح اِبن خُزَیمہ ج۳ ص۱۴۳حدیث۱۷۸۵) (۲) شَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلالۃ ۔ یعنی بدترین کام نئے طریقے ہیں ہر بدعت (نئی بات) گمراہی ہے ۔ (مسلم ص۴۳۰ حدیث۸۶۷) ۔ کے کیا معنیٰ ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں احادیثِ مبارَکہ حق ہیں ۔ یہاں بدعت سے مراد بدعتِ سَیِّـَٔہ (سَیْ ۔یِ ۔ ئَ ہْ) یعنی بری بدعت ہے اور یقینا ہر وہ بدعت بری ہے جو کسی سنت کے خلاف یا سنت کو مٹانے والی ہو ۔ جیسا کہ دیگر احادیثِ مقدسہ میں اس مسئلے کی وضاحت موجود ہے ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا : ہر وہ گمراہ کرنے والی بدعت جس سے اللہ عزوجل اور اس کا رسول راضی نہ ہو ، تو اُس گمراہی والی بدعت کو جاری کرنے والے پر اُس بدعت پر عمل کرنے والوں کی مثل گناہ ہے ، اُسے گناہ مل جانا لوگوں کے گناہوں میں کمی نہیں کرے گا ۔ ( تِرمذی ج ۴ ص۳۰۹ حدیث۲۶۸۶)
بخاری شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے : مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ہَذَا مَا لَیْسَ فِیْہِ فَہُوَ رَد ۔ (بخاری جلد ۲ صفحہ ۲۱۱ حدیث ۲۶۹۷) ۔ یعنی ’’جو ہمارے دین میں ایسی نئی بات نکالے جو اُس (کی اصل) میں سے نہ ہو وہ مردود ہے ۔
ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا ایسی نئی بات جو سنت سے دُور کر کے گمراہ کرنے والی ہو ، جس کی اَصْل دین میں نہ ہو وہ بدعتِ سَیِّـَٔہ یعنی بری بدعت ہے ، جبکہ دین میں ایسی نئی بات جو سنت پر عمل کرنے میں مدد کرنے والی ہو یا جس کی اصل دین سے ثابت ہو وہ بدعت ِحسنہ یعنی اچھی بدعت ہے ۔

حضرتِ سیِّدُ نا شیخ عبدالحق محدث دِہلوی رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ پاک ،’’ کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَّ کُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّار‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : جو بدعت اُصول اور قواعد سنت کے موافق اور اُس کے مطابق قیاس کی ہوئی ہے (یعنی شریعت و سنّت سے نہیں ٹکراتی) اُس کو بدعتِ حَسَنہ کہتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہو وہ بدعت گمراہی کہلاتی ہے ۔ (اَشِعَّۃُ اللَّمعات جلد ۱ صفحہ ۱۳۵،چشتی)

بدعت حسنہ کے بغیر گزارہ نہیں :
اچھی اور بری بدعات کی تقسیم ضروری ہے کیوں کہ کئی اچھی اچھی بدعتیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو صرف اس لئے ترک کر دیا جائے کہ قرونِ ثلاثہ یعنی (۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان (۲) تابعینِ عظام اور (۳) تبع تابعینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اَدوارِ پر انوارمیں نہیں تھیں ، تو دین کا موجود ہ نظام ہی نہ چل سکے ، جیسا کہ دینی مدارِس ، ان میں درسِ نظامی ، قراٰن و احادیث اور اسلامی کتابوں کی پریس میں چھپائی وغیرہ وغیرہ یہ تمام کام پہلے نہ تھے بعد میں جاری ہوئے اور بدعت حسنہ میں شا مل ہیں ۔

تراویح ہر عاقِل و بالغ مسلمان بھائی اور مسلمان بہن کےلیے سنَّت ِمُؤَکَّدہ ہے ۔ (دُرِّ مُخْتارج ۲ص۵۹۶) اس کا تَرْک جائز نہیں ۔ (بہار شریعت ج۱ص۶۸۸)

تراویح کی بیس رَکْعَتَیں ہیں ۔حضر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے عہد میں بیس رَکْعَتَیں ہی پڑھی جاتی تھیں ۔ (السُّنَن ُالکبرٰی للبیہقی ج۲ص۶۹۹حدیث۴۶۱۷)

تراویح کی جماعت سنّتِ مُؤَکَّدہ عَلَی الْکِفَایہ ہے ، اگر مسجد کے سارے لوگوں نے چھوڑ دی تو سب اِسائَت کے مرتکب ہوئے (یعنی بُرا کیا) اور اگرچند افراد نے با جماعت پڑھ لی تو تنہا پڑھنے والا جماعت کی فضیلت سے محروم رہا ۔ (ہِدایہ ج۱ص۷۰)

تراویح کا وقت عشا کے فرض پڑھنے کے بعد سے صبحِ صادِق تک ہے ۔ عشا کے فرض ادا کرنے سے پہلے اگر پڑھ لی تو نہ ہو گی ۔ (عالمگیری ج۱ص ۱۱۵ )

وترکے بعد بھی تراویح پڑھی جا سکتی ہے ۔ (دُرِّمُختار ج۲ ص۵۹۷) جیساکہ بعض اوقات 29 کو رویت ہلا ل کی شہادت (یعنی چاند نظر آنے کی گواہی) ملنے میں تاخیر کے سبب ایسا ہو جاتا ہے ۔

مُستَحَب یہ ہے کہ تراویح میں تہائی رات تک تاخیر کریں ، اگر آدھی رات کے بعد پڑھیں تب بھی کراہت نہیں ۔ (لیکن عشا کے فرض اتنے مؤخّر (Late) نہ کئے جائیں ) (دُرِّمُختار ج۲ ص۵۹۸)

تراویح اگر فوت ہو ئی تو اس کی قضا نہیں ۔ (دُرِّمُختار ج۲ ص۵۹۸)

بِہتر یہ ہے کہ تراویح کی بیس رَکْعَتَیں دو دو کر کے دس سلام کے ساتھ ادا کر یں ۔ (دُرِّمُختار جلد ۲ صفحہ ۵۹۹)

تراویح کی بیس رَکْعَتَیں ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کی جا سکتی ہیں ، مگر ایسا کرنا مکروہِ (تنزیہی) ہے ۔ (دُرِّمُختار جلد ۲ صفحہ ۵۹۹،چشتی)
ہر دو رَکعت پر قعدہ کرنا فرض ہے ، ہر قعدے میں اَلتَّحِیَّاتُ کے بعد دُرُود شریف بھی پڑھے اور طاق رَکعت (یعنی پہلی ، تیسری ، پانچویں وغیرہ) میں ثَنا پڑھے اور امام تعوذ و تَسْمِیہ بھی پڑھے ۔

جب دو دو رَکعت کر کے پڑ ھ رہا ہے تو ہر دو رَکعت پر الگ الگ نیت کرے اور اگر بیس رَکْعَتوں کی ایک ساتھ نیت کر لی تب بھی جائز ہے ۔ (رَدُّالْمُحتار ج۲ص۵۹۷)

بلاعذر تراویح بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نز د یک تو ہوتی ہی نہیں ۔ (دُرِّمُختار جلد ۲ صفحہ ۶۰۳)

تراویح مسجِدمیں باجماعت ادا کرنا افضل ہے ، اگر گھر میں باجماعت ادا کی توترکِ جماعت کا گناہ نہ ہوا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا ۔(فتاویٰ عالمگیری ج۱ص۱۱۶)
عشا کے فرض مسجد میں باجماعت ادا کرکے پھر گھر یا ہال وغیرہ میں تراویح ادا کیجئے اگر بلا عذرِشرعی مسجد کے بجائے گھر یا ہال وغیرہ میں عشا کے فرض کی جماعت قائم کر لی تو ترک واجب کے گناہ گار ہوں گے ۔

نابالِغ امام کے پیچھے صرف نابالغان ہی تراویح پڑھ سکتے ہیں ۔

بالِغ کی تراویح (بلکہ کوئی بھی نماز حتی کہ نفل بھی) نابالغ کے پیچھے نہیں ہوتی ۔
تراویح میں پورا کلامُ اللہ شریف پڑھنا اور سننا سنَّتِ مُؤَکَّدہ عَلَی الْکِفَایہ ہے لہٰذا اگر چند لوگوں نے مل کر تراویح میں ختم قراٰن کا اہتما م کرلیا تو بقیہ علاقے والوں کےلیے کفایت کرے گا ۔ فتاوٰی رضویہ جلد 10 صفحہ 334 پر ہے : قرآن دَرْ تراویح خَتم کَرْ دَنْ نَہ فَرْضَ سْت وَ نَہ سُنَّتِ عین۔یعنی تراویح میں قراٰنِ کریم ختم کرنا نہ فرض نہ سنَّتِ عین ہے ۔ اور صفحہ 335 پر ہے : خَتْمِ قُرآن دَرْ تراویح سنّتِ کِفایہ اَسْت ۔ یعنی تراویح میں ختمِ قراٰن سنَّتِ کِفایہ ہے ۔

اگر با شرائط حافِظ نہ مل سکے یا کسی وجہ سے ختم نہ ہو سکے تو تراویح میں کوئی سی بھی سورَتیں پڑھ لیجیے اگر چاہیں تو اَلَمْ تَرَ سے وَالنَّاس دو بار پڑھ لیجیے ، اِس طرح بیس رَکْعَتَیں یا د رکھنا آسان رہے گا ۔ (فتاویٰ عالمگیری جلد ۱ صفحہ ۱۱۸)

ایک بار بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ جَہر کے ساتھ (یعنی اُونچی آواز سے) پڑھنا سنت ہے اور ہر سورت کی ابتدا میں آہستہ پڑھنا مُستَحَب ہے ۔ مُتَأَخِّرین (یعنی بعد میں آنے والے فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ علیہم) نے ختم تراویح میں تین بار قُل ھُوَ اللہ شریف پڑھنا مُسْتَحَب کہا نیز بہتریہ ہے کہ ختم کے دن پچھلی رَکعت میں الٓمّٓۚ سے مُفْلِحُوْن تک پڑھے ۔ (بہارِ شریعت جلد ۱ صفحہ ۶۹۴،۶۹۵،چشتی)

اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ہو جائے تو جتنا قراٰنِ پاک اُن رَکعتوں میں پڑھا تھا اُن کا اِعادہ کریں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے ۔ (عالمگیری ج۱ص۱۱۸)

امام غلطی سے کوئی آیت یا سورت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مُسْتَحَب یہ ہے کہ اُسے پڑھ کر پھر آگے بڑھے ۔ (عالمگیری ج۱ص۱۱۸)

الگ الگ مسجِد میں تراویح پڑھ سکتا ہے جبکہ ختم قراٰن میں نقصان نہ ہو ، مَثَلاً تین مساجد ایسی ہیں کہ ان میں ہر روزسوا پارہ پڑھا جا تا ہے تو تینوں میں روزانہ باری باری جا سکتا ہے ۔

دو رَکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسری کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جا ئے ، آخر میں سجدۂ سہو کر لے۔اور اگر تیسری کاسجدہ کر لیا توچارپوری کر لے مگر یہ دو شمار ہوں گی۔ہاں دو پر قعدہ کیا تھا تو چار ہوئیں ۔ (عالمگیری ج۱ص۱۱۸)

تین رَکْعَتَیں پڑھ کر سلام پھیرا اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رَکْعَتَیں دوبارہ پڑھے ۔ (عالمگیری جلد ۱ صفحہ ۱۱۸)

سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ہے دو ہوئیں کوئی کہتا ہے تین، تو امام کو جو یاد ہو اُس کا اعتبار ہے، اگر امام خود بھی تذبذب (یعنی شک و شبہ) کا شکار ہو تو جس پر اعتماد ہو اُس کی بات مان لے (عالمگیری ج ۱ ص۱۱۷)

اگرلوگوں کوشک ہوکہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ ؟ تو دو رَکْعَت تنہا تنہا پڑھیں ۔ (عالمگیری ج۱ص۱۱۸)

افضل یہ ہے کہ تمام شفعوں میں قرائَ ت برابر ہو اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں ،اِسی طرح ہر شفع (کہ دو رکعت پر مشتمل ہوتا ہے اس) کی پہلی اور دوسری رَکعت کی قرائَ ت مساوی (یعنی یکساں) ہو ، دوسری کی قرائَ ت پہلی سے زائد نہیں ہونی چاہیے ۔ (عالمگیری ج۱ص۱۱۸)

امام و مقتدی ہر دو رَکعت کی پہلی میں ثنا پڑھیں (امام اَعُوْذ اور بِسْمِ اللّٰہ بھی پڑھے) اور اَلتَّحِیَّاتُ کے بعد دُرُودِابراہیم اور دعابھی ۔ (دُرِّمُختار و رَدُّالْمُحتار جلد ۲ صفحہ ۶۰۲،چشتی)

اگر مقتدیوں پر گِرانی (دشواری) ہوتی ہو تو تشہد کے بعد اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ پر اکتفا کرے ۔ (بہارِ شریعت جلد ۱ صفحہ ۶۹۰،چشتی)(دُرِّمُختار و رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۰۲)

اگر ستائیسویں کویا اس سے قبل قراٰنِ پاک ختم ہو گیا تب بھی آخرِ رَمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنّتِ مُؤَکَّدہ ہے ۔ (عالمگیری جلد ۱ صفحہ ۱۱۸)

ہر چاررَکْعَتَوں کے بعد اُتنی دیر بیٹھنا مُستَحَبْ ہے جتنی دیر میں چاررَکعات پڑھی ہیں ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۰،چشتی)(عالمگیری ج۱ص۱۱۵)

اس بیٹھنے میں اسے اختیار ہے کہ چپ بیٹھا رہے یا ذِکر و دُرُود اور تلاوت کرے یا چار رَکعتیں تنہا نفل پڑھے ۔ (دُرِمُخْتار ج۲ص۶۰۰)(بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۰)

یہ تسبیح بھی پڑھ سکتے ہیں :

سُبْحٰنَ ذِی الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ، سُبْحٰنَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْعَظَمَۃِ وَالْہَيْبَۃِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْكِبْرِيَآءِ وَالْجَبَرُوْتِ ، سُبْحٰنَ الْمَلِكِ الْحَیِّ الَّذِی لَا يَنَامُ وَلَا يَمُوْتُ ، سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلٰٓئِكَۃِ وَالرُّوْحِ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْرُ ۔بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ ۔

بیس رَکْعَتَیں ہو چکنے کے بعد پانچواں ترویحہ بھی مُسْتَحَب ہے ، اگر لوگوں پر گراں ہو تو پانچویں بار نہ بیٹھے ۔ (عالمگیری جلد ۱ صفحہ ۱۱۵)
مقتدی کو جائز نہیں کہ بیٹھا رہے ، جب امام رکوع کرنے والا ہو تو کھڑا ہو جائے ، یہ مُنافقین سے مشابہت ہے ۔ سُوْرَۃُ النِّسَآء کی آیت نمبر 142 میں ہے : وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ ۔
ترجَمہ : اور (منافِق ) جب نَماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے) ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۳)(غُنیہ ص۴۱۰)
فرض کی جماعت میں بھی اگر امام رُکوع سے اُٹھ گیا تو سجدوں وغیرہ میں فورًا شریک ہو جائیں نیز امام قعدۂ اُولیٰ میں ہو تب بھی اُس کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کریں بلکہ شامل ہو جائیں ۔ اگر قعدے میں شامل ہو گئے اور امام کھڑا ہو گیا تو اَلتَّحِیَّاتُُ پوری کیے بغیر نہ کھڑے ہوں ۔

رَمضان شریف میں وِتر جماعت سے پڑھنا افضل ہے ، مگر جس نے عشا کے فرض بغیر جماعت کے پڑھے وہ وِتر بھی تنہا پڑھے ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۶۹۲،۶۹۳) ۔ بعض علما نے لکھا وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے ۔

یہ جائز ہے کہ ایک شخص عشا و وِتر پڑھائے اور دوسرا تراویح ۔

حضرت سیّدُنا عمرِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرض و وِتر کی جماعت کرواتے تھے اور حضرتِ سیِّدُنا اُبَیِّ بِنْ کَعْب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ تراویح پڑھاتے ۔ (عالمگیری جلد ۱ صفحہ ۱۱۶) ۔

(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/318875723681807/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
فضائل مسائل اور دلائل تراویح ²
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/319064233662956/
فضائل ، مسائل اور دلائل تراویح حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : نمازِ تراویح کی بڑی ہی فضیلت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو سنت قرار دیا ہے ، اس لیے حضرات فقہا فرماتے ہیں کہ ہر عاقل بالغ مرد اور عورت کے ذمے تراویح سنت مؤکدہ ہے ۔ (سنن نسائی حدیث: ۲۲۱۰)(فیض القدیر حدیث: ۱۶۶۰)(ردالمحتار مع درالمختار)

اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح مردوں کے لیے تراویح پڑھنے کا اہتمام ضروری ہے اسی طرح خواتین کےلیے بھی تراویح کا اہتمام ضروری ہے ، بعض خواتین تراویح کو اہمیت نہیں دیتیں بلکہ اس کو ترک کرنے کےلیے معمولی بہانوں کا بھی سہارا لیتی ہیں ، ان کا یہ طرز عمل ہرگز درست نہیں ۔ تراویح چونکہ سنت مؤکدہ ہے، اس لیے بلاعذر تراویح چھوڑتے رہنا گناہ ہے ۔ (ردالمحتار)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح ادا فرماتے تھے

رمضان المبارک کے مہینہ میں نمازِ عشاء کے بعد بیس 20 رکعت نماز تراویح پڑھنی صحیح مذہب میں سنت مؤکدہ ہے اور تمام آئمہ دین یعنی امام اعظم ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ ، امام مالک اور ان کے تلامذہ ، امام شافعی اور ان کے تلامذہ، امام احمد بن حنبل اور ان کے تلامذہ کے علاوہ وہ دیگر مجتہدین بھی (جن کے مقلدین آج دنیا میں نہیں ہیں) اس کے سنت ہونے اور بیس رکعات ہونے پر متفق ہیں ۔ رافضیوں کے علاوہ کوئی جماعت ِتراویح کامنکر نہیں ہے ۔ غیر مقلدین (نام نہاد اہلحدیث یا اہل الظواہر) بیس رکعات پر کمزور اعتراض کرتے ہیں اور اپنی ہٹ دھرمی کے باعث آٹھ رکعات پڑھتے ہیں ، جو ثابت نہیں ۔ آٹھ رکعات کوتراویح کہنا بھی غلط اور باطل ہے ، کیونکہ ”تراویح” جمع ہے ”ترویحہ ”واحد ہے ، ایک ترویحہ چار رکعات کا ہوتا ہے توعربی قواعد کے اصولو ں کے مطابق آٹھ رکعات ادا کرنے کے نتیجے میں دو ترویحہ بنتے ہیں جس پرتثنیہ کا اطلاق ہوتا ہے اور لغت کے حساب سے ”ترویحتان” کہا جاتا ہے ۔ عربی میںکسی بھی لفظ کی جمع کا اطلاق دو سے زائد پر ہوتا ہے لہٰذا آٹھ رکعات کو کبھی بھی تراویح قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ حضوراکرم نے کبھی بھی رمضان میں آٹھ رکعات تراویح کے طور پر ادا نہیں فرمائیں ۔ اور نہ ہی آٹھ رکعات ادا کرنے کی ہدایت فرمائی ۔ امام بیہقی علیہ الرحمۃ نے بسند صحیح حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سے روایت کی کہ” لوگ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں بھی ایسا ہی تھا ”اور ”موطا ”میں یزید بن رومان سے روایت ہے کہ ”عمر رضی اللہ عنہ، کے زمانہ میں لوگ تئیس 23 رکعات پڑھتے ”۔ بیہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں اور مولیٰ علی رضی اللہ عنہ ، نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ ”رمضان میں لوگوں کو بیس ٢٠ رکعتیں پڑھائے ۔” نیز اس کے بیس رکعت میںیہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجبات کی ہر روز بیس رکعتیں ہیں (یعنی فجر 2 + ظہر 4 + عصر 4 + مغرب 4 + عشاء فرض 4 + وتر 3 = 20رکعات) لہٰذا مناسب تھا کہ یہ بھی بیس ہوں ۔ (بہار شریعت حصہ چہارم ، صفحہ نمبر 30،چشتی)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم رمضان المبارک میں بیس رکعات ( تراویح) اور وتر ادا فرماتے تھے ۔ (مصنف شیبہ مترجم اردو جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 669 حدیث نمبر 7774،چشتی)

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے لوگوں ۔کو بیس (20) رکعات نماز تراویح اور وتر پڑھائے رمضان المبارک میں ۔ ( تاریخ جرجان صفحہ نمبر 276)

حدیث : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے رمضان المبارک میں دو راتیں لوگوں کو بیس رکعات (20) نماز تراویح پڑھائی۔(تلخیص الجبیر جلد 2 صفحہ نمبر 45)

منکرین بیس (20) غیر مقلد وھابی حضرات کو چیلنج ہے کہ آٹھ رکعات نماز تراویح پر ایک حدیث پیش کرو جس میں لفظ تراویح اور رمضان المبارک کا ذکر ہو اور جسے محدثین کرام علیہم الرّحمہ نے لکھا اور قبول کیا ہو نماز تہجد والی روایت سے دھوکہ دے کر لوگوں کا بابرکت مہینے میں عبادت سے مت روکو وقت تا قیامت ہے ہم بحوالہ جواب کے منتظر رہیں گے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بیس رکعات نماز تراویح پڑھنا متعدد حوالہ جات کے ساتھ ثابت کر دیا ہے الحمد للہ ۔

بیس رکعت تراویح پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا تھا
محترم قارئینِ کرام : غیر مقلدین کے شیخ الکل جناب نذیر حسین دہلوی کے فتاویٰ نذریہ میں ہے : بیس (20) رکعات نماز تراویح پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوگیا اور یہ اجماع صحابہ رضی عنہم کا ہے ۔ بیس رکعت تراویح اس حدیث سے ثابت ہیں ﻋﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﺑﻦ ﺭﻭﻣﺎﻥ ﺍﻧﮧ ﻗﺎﻝ ﮐﺎﻥ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﯾﻘﻮﻣﻮﻥ ﻓﯽ ﺯﻣﺎﻥ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﻓﯽ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺑﺜﻠﺚ ﻭﻋﺸﺮﯾﻦ رکعۃ ۔ ‏(ﻣﻮﻃﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺎﻟﮏ ﺹ 98‏) ، (ﺍﺳﻨﺎﺩﮦ ﺻﺤﯿﺢ ﻋﻠﯽ ﺷﺮﻁ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ،چشتی) ۔
ترجمہ : یزید بن رومان سے مروی ہے انھوں نے فرمایا کہ لوگ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں تیئیس رکعت (بیس تراویح اور تین وتر) پڑھتے تھے ۔ (ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺷﺮﻁ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ) ۔ (فتاویٰ نذیریہ جلد نمبر 1 صفحہ 634)

کیا کہتے ہیں منکرین بیس رکعات تراویح اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم کو مانیں یا غیر مقلدین کی مانیں ؟

بیس (20) رکعات نماز تراویح پر علمائے امت کا اجماع ہے
محترم قارئینِ کرام : امام ترمذی رحمۃ ﷲ کا ارشاد : ترمذی شریف میں بابُ مَاجَاءَ فِي قِیَامِ شَھْرِ رَمضان کے تحت امام ترمذی رحمۃ ﷲ نے قیام رمضان یعنی تراویح کے باب میں احادیث پیش کرتے ہوئے فرمایا ” واختلف اھل العلم فی قیام رمضان فرأی بعضھم ان یصلی احدی واربعین رکعة مع الوتر وھو قول اھل المدینة والعمل علی ھٰذا عندھم بالمدینة وَأ کْثرُ أھلِ العِلْمِ عَلٰی مَا رُوِيَ عَن عَلِّيٍ وَ عُمَرَ وَغَیْرِھِمَا مِنْ أصحابِ النبيِّ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عِشْرِینَ رَکْعَۃً وَ ھُوَ قَولُ الثَّوريِّ وَ ابْنِ المبارَکِ و الشَّافَعيِّ وقالَ الشافِعيُّ وَ ھَکذا أدْرکْتُ بِبَلَدِنَا مَکَّۃَ یُصَلُّونَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ۔ (ترمذی صفحہ 104)
ترجمہ : تراویح میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، بعض وتر سمیت اکتالیس رکعت کے قائل ہیں، اہلِ مدینہ کا یہی قول ہے اور ان کے یہاں مدینہ طیبہ میں اسی پر عمل ہے، اور اکثر اہلِ علم بیس رکعت کے قائل ہیں، جو حضرت علی، حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ کا یہی قول ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعات ہی پڑھتے پایا ہے ۔

علامہ ابن تیمیہ کا فتویٰ : علامہ ابن تیمیہ رقمطراز ہیں قَدْ ثَبَتَ أنَّ اُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ رضی اللہ عنہ کانَ یَقُوْمُ بِالنَّاسِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً فِي قِیَامِ رَمَضانَ یُوتِرُ بِثَلاثٍ فَرَأی کَثِیْرٌ مِنْ العُلَمَاءِ أنَّ ذَلِکَ ھُوَ السُنَّۃُِ لأنَّہُ أقَامَہُ بَیْنَ المُھَاجِرِیْنَ وَالأنْصَارِ وَلَمْ یُنْکِرْہُ مُنْکِرٌ ۔
ترجمہ : علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ (صحابی) لوگوں کو قیام رمضان ( نماز تراویح) کے بیس (20) رکعات پڑھاتے اور وتر تین رکعات پڑھاتے تھے ، کثرت سے علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ بیس رکعات ہی سنت ہیں کیوں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کرام اور انصار صحابہ کے درمیان بیس (20) رکعات تراویح پڑھائی اور ان میں سے کسی نے بھی اسکا انکار نہیں کیا ۔(فتاوی ابن تیمیہ ص 112 ج 23)
علامہ ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں : اگرکوئی نماز تراویح امام ابوحنیفہ ، امام شافعی ، اورامام احمد رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق بیس رکعت یا امام مالک رحمہ اللہ تعالی کے مسلک کے مطابق چھتیس رکعات ادا کرے یا گیارہ رکعت ادا کرے تو اس نے اچھا کیا ، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے عدم توقیف کی بنا پر تصریح کی ہے ، تورکعات کی کمی اورزیادتی قیام لمبا یا چھوٹا ہونے کے اعتبار سے ہوگی ۔ (الاختیارات 64 ،چشتی)

غنیۃ الطالبین یں ہے : وَصَلاۃُ التَراویْحِ سُنَّۃُ النَّبيِّ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، وَھِيَ عِشْرُونَ رَکْعَۃً یَجْلِسُ عَقِبَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَ یُسَلِّمُ ۔
ترجمہ : نماز تراویح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت ہے اور یہ بیس رکعات ہے ہر دو رکعت کے بعد بیٹھے اور سلام پھیرے ۔ (غنیۃالطالبین صفحہ 567)

امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام صاحب کے مایہ ناز شاگرد امام ابو یوسف رحمۃ اللہ نے امام صاحب سے دریافت کیا ۔ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بیس رکعات کے بارے میں کو ئی بات معلوم تھی ۔ امام صاحب نے فر مایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بدعت کو ایجاد کر نے والے نہ تھے (یعنی بلا شبہ حضرت عمر کو بیس رکعت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے کوئی بات ضرور معلوم تھی ورنہ وہ اپنی طرف سے بیس کی تعین نہ کر دیتے ) ۔ (فیض الباری شرح بخاری ،العرف الشذی ، بحر الرائق ، طحاوی)
آثار امام ابو یوسف میں ہے ۔ یوسف اپنے والد امام ابو یوسف سے وہ امام ابو حنیفہ سے وہ حماد سے وہ ابرا ہیم نخعی رحمہم اللہ سے وایت کر تے ہیں کہ لوگ (صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم) رمضان میں پانچ ترویحات پڑھتے تھے (واضح ہو ہر ترویحہ چار رکعت کا ہوتا ہے ، اس طرح پانچ ترویحات ، بیس رکعتں ہوگئیں)
امام شمس الائمہ سر خسی رحمۃ اللہ علیہ امام سرخسی اپنی شہرہ آفاق کتاب “ مبسوط “ جو کہ امام محمد رحمہ اللہ علیہ کی ظاہر الروایات پر مشتمل ہے ۔میں فر ماتے ہیں ۔

تراویح ہمارے نزدیک وتر کے علاوہ بیس رکعتیں ہیں اور مام مالک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سنت اس میں چھتیس رکعتیں ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ جو شخص امام مالک کے قول اور مسلک پر عمل کر نا چاہے ، اسے مناسب ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے بیان کے مطابق عمل کرے ۔ یعنی جماعت کے ساتھ بیس رکعتیں پڑھے کیونکہ یہی سنت ہے ، پھر (16 رکعتیں) تنہا پڑھے ، ہر چار رکعات میں دو سلام ہوں (یعنی دو دو رکعتیں کر کے) اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے فر مایا کہ کل کی کل 36 رکعتیں جماعت کے ساتھ ادا کر نے میں کوئی حرج نہیں ۔ (کتاب المبسوط جلد 2)

ملک العلماء علامہ علاء الدین ابی بکر بن مسعود کاسانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : تراویح کی مقدار بیس رکعات ہے دس سلاموں سے ، پانچ ترویحات میں ، ہر دو سلام میں ایک ترویحہ ہوگا، یہی عالم علماء کا قول ہے ۔ اور امام مالک نے ایک قول میں چھتیس رکعات اور ایک قول میں چھبیس رکعات بیان فر مائی ہے ۔اور صحیح عام علماء کا ہی قول ہے اس لئے کہ روایت کیا گیا ہے حضرت عمر نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو رمضان المبارک میں حضرت ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا ، پس انہوں نے ان کو ہر رات میں بیس رکعتیں پڑھائیں اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا ۔ پس صحابہ کرام کی طرف سے بیس رکعات پر اجماع ہو گیا ۔ (بدائع الصنائع جلد 1،چشتی)

علامہ بر ہان الدین مر غینانی رحمۃ اللہ علیہ صاحب ہدایہ علامہ بر ہان الدین مر غینای نے بھی بیس رکعات تراویح کو سنت قرار دیا ہے اور یہ بھی فر مایا کہ امام حسن بن زیاد نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے بیس رکعات تراویح کا مسنون ہو نا روایت کیا ہے ۔ والاصح انھا سنۃ کذا روی الحسن عن ابی حنیفہ ۔ ( ہدایہ ج1 ص 151،چشتی)
علامہ ابن رشد قرطبی مالکی رحمة الله علیه لکھتے ہیں کہ امام مالک رحمة الله علیه کے ایک قول کے مطابق اور امام ابوحنیفہ رحمة الله علیه، امام شافعی رحمة الله علیه ، امام احمد بن حنبل رحمة الله علیه اور امام داؤد ظاہری رحمة الله علیه کے نزدیک وتر کے علاوہ بیس (20) رکعات تراویح سنت ہے ۔ (بدایة المجتہد)
علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمة الله علیه لکھتے ہیں کہ : تراویح کی بیس (20) رکعات سنت موکدہ ہے، سب سے پہلے اس سنت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ادا فرمایا ۔ (کتاب المغنی)
علامہ نووی شافعی رحمة الله علیه لکھتے ہیں ۔ تراویح کی رکعات کے متعلق ہمارا (شوافع) کا مسلک وتر کے علاوہ بیس (20) رکعات کا ہے، دس سلاموں کے ساتھ، اور بیس (20) رکعات پانچ ترویحات ہیں اور ایک ترویحہ چار (4) رکعات کا دو سلاموں کے ساتھ، یہی امام ابوحنیفہ رحمة الله علیه اور ان کے اصحاب اور امام احمد بن حنبل رحمة الله علیه اورامام داؤد ظاہری رحمة الله علیه کا مسلک ہے اور قاضی عیاض رحمة الله علیه نے بیس (20) رکعات تراویح کو جمہور علماء سے نقل کیا ہے ۔ (المجموع)

جب کبار صحابہ اور خلفاء راشدین بیس (20) رکعات تراویح پر متفق ہوگئے ، تو اس سے بڑھ کر کونسی قوی ترین دلیل ہوسکتی ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اقوال وافعال کو سب سے زیادہ جاننے والے وہی حضرا ت تھے ۔ جب انھوں نے بیس (20) رکعات کے علاوہ کے قول وعمل کو ترک کیاتو معلوم ہوا کہ بیس (20) رکعات کے سلسلہ میں ان کے پاس قوی ترین ثبوت موجود تھا اور اہل حدیث حضرات جو آٹھ (8) رکعات تراویح کہتے ہیں، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، یہ ان کی غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ تہجد اور تراویح میں فرق نہیں کرتے ، حالانکہ تہجد اور تراویح میں بہت بڑا فرق ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تہجد پوری رات پڑھنے کی نفی کرتی ہیں جب کہ تراویح سحری تک پڑھی گئی ہے ۔

امام سرخسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : ہمارے ہاں وتر کے علاوہ بیس رکعات ہیں ۔ (المبسوط 2 / 145)

اورابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں ابوعبداللہ (یعنی امام احمد) رحمہ اللہ تعالی کے ہاں بیس رکعت ہی مختار ہیں ، امام ثوری ، ابوحنیفہ ، امام شافعی ، کا بھی یہی کہنا ہے ، اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ چھتیس رکعت ہیں ۔ (المغنی لابن قدامہ المقدسی 1 / 457)

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں: علماء کرام کے اجماع میں نماز تراویح سنت ہیں ، اورہمارے مذہب میں یہ دس سلام کے ساتھ دو دو رکعت کرکے بیس رکعات ہیں ، ان کی ادائیگی باجماعت اورانفرادی دونوں صورتوں میں ہی جائز ہیں ۔ (المجموع للنووی 4 / 31)
قاضی ابوالولید ابن رشد مالکی (متوفی 595ھ) بدایة المجتہد میں لکھتے ہیں : واختلفوا فی المختار من عدد الرکعات التی یقوم بھا الناس فی رمضان فاختار مالک فی احد قولیہ وابوحنیفة والشافعی واحمد وداود القیام بعشرین رکعة سوی الوتر، وذکر ابن القاسم عن مالک انہ کان یستحسن ستًا وثلاثین رکعة والوتر ثلاث۔” رمضان میں کتنی رکعات پڑھنا مختار ہے ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے ، امام مالک رحمہ اللہ نے ایک قول میں اور امام ابوحنیفہ، شافعی، احمد رحمہم اللہ اور داوٴد رحمہ اللہ نے وتر کے علاوہ بیس رکعات کو اختیار کیا ہے، اور ابنِ قاسم رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ وہ تین وتر اور چھتیس رکعات تراویح کو پسند فرماتے تھے ۔ (بدایة المجتہد ص 156، مکتبہ علمیہ لاہور)

مختصر خلیل کے شارح علامہ شیخ احمد الدردیر المالکی (متوفی 1201ھ) لکھتے ہیں : وھی (ثلاث وعشرون) رکعة بالشفع والوتر کما کان علیہ العمل (ای عمل الصحابة والتابعین، الدسوقی)۔(ثم جعلت) فی زمن عمر بن عبدالعزیز (ستًا وثلاثین) بغیر الشفع والوتر لٰکن الذی جری علیہ العمل سلفًا وخلفًا الأوّل ۔
ترجمہ : اور تراویح ، وتر سمیت 23 رکعتیں ہیں ، جیسا کہ اسی کے مطابق (صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کا) عمل تھا ، پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے زمانے میں وتر کے علاوہ چھتیس کردی گئیں، لیکن جس تعداد پر سلف و خلف کا عمل ہمیشہ جاری رہا وہ اوّل ہے (یعنی بیس تراویح اور تین وتر) ۔ (شرح الکبیر الدردیر مع حاشیة الدسوقی ص 315،چشتی)

امام محی الدین نووی رحمہ اللہ (متوفی 676ھ) المجموع شرح مہذب میں لکھتے ہیں(فرع) فی مذاھب العلماء فی عدد رکعات التراویح مذھبنا انھا عشرون رکعة بعشر تسلیمات غیر الوتر وذالک خمس ترویحات والترویحة اربع رکعات بتسلیمتین ھذا مذھبنا وبہ قال ابوحنیفة واصحابہ واحمد وداوٓد وغیرھم ونقلہ القاضی عیاض عن جمھور العلماء وحکی ان الأسود بنیزید رضی الله عنہ کان یقوم بأربعین رکعة یوتر بسبع وقال مالک التراویح تسع ترویحات وھی ستة وثلاثون رکعة غیر الوتر ۔
ترجمہ : رکعاتِ تراویح کی تعداد میں علماء کے مذاہب کا بیان، ہمارا مذہب یہ ہے کہ تراویح بیس رکعتیں ہیں، دس سلاموں کے ساتھ ، علاوہ وتر کے ۔ یہ پانچ ترویحے ہوئے، ایک ترویحہ چار رکعات کا دو سلاموں کے ساتھ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب ، امام احمد رحمہ اللہ اور امام داوٴد رحمہ اللہ وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں ، اور قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اسے جمہور علماء سے نقل کیا ہے ۔ نقل کیا گیا ہے کہ اسود بن یزید اکتالیس تراویح اور سات وتر پڑھا کرتے تھے، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تراویح نو ترویحے ہیں، اور یہ وتر کے علاوہ چھتیس رکعتیں ہوئیں ۔ (مجموع شرح مہذب جلد 4 صفحہ 32،چشتی)

حافظ ابنِ قدامہ المقدسی الحنبلی (متوفی 620ھ) المغنی میں لکھتے ہیں : والمختار عند ابی عبدالله رحمہ الله فیھا عشرون رکعة وبھٰذا قال الثوری وابوحنیفة والشافعی، وقال مالک ستة وثلاثون ۔” امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک تراویح میں بیس رکعتیں مختار ہیں ۔ امام ثوری ، ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، اور امام مالک رحمہ اللہ چھتیس کے قائل ہیں ۔ (مغنی ابنِ قدامہ ج ص 798، 799، مع الشرح الکبیر)

تراویح کی ابتدا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہوئی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس اندیشہ سے کہ یہ فرض نہ ہوجائیں تین دن سے زیادہ جماعت نہیں کرائی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرداً فرداً پڑھا کرتے تھے اور کبھی دو دو ، چار چار آدمی جماعت کرلیتے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے عام جماعت کا رواج ہوا ، اور اس وقت سے تراویح کی بیس ہی رکعات چلی آرہی ہیں ، اور بیس رکعات ہی سنتِ مٶکدہ ہیں ۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دن کی عبادت روزہ ہے اور رات کی عبادت تراویح، اور حدیث شریف میں دونوں کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، چنانچہ ارشاد ہےجعل الله صیامہ فریضة وقیام لیلہ تطوعًا اللہ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کے روزے کو فرض کیا ہے اور اس میں رات کے قیام کو نفلی عبادت بنایا ہے ۔ (مشکوٰة صفحہ 173،چشتی)

اس لئے دونوں عبادتیں کرنا ضروری ہیں، روزہ فرض ہے، اور تراویح سنتِ موٴکدہ ہے ۔ تہجد الگ نماز ہے، جو کہ رمضان اور غیرِ رمضان دونوں میں مسنون ہے ، تراویح صرف رمضان مبارک کی عبادت ہے، تہجد اور تراویح کو ایک نماز نہیں کہا جا سکتا ، تہجد کی رکعات چار سے بارہ تک ہیں ، درمیانہ درجہ آٹھ رکعات ہیں ، اس لیے آٹھ رکعتوں کو ترجیح دی گئی ہے ۔

جو شخص روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ بھی تراویح پڑھے۔جو شخص بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، تندرست ہونے کے بعد روزوں کی قضا رکھ لے، اور اگر بیماری ایسی ہو کہ اس سے اچھا ہونے کی اُمید نہیں، تو ہر روزے کے بدلے صدقہٴ فطر کی مقدار فدیہ دے دیا کرے، اور تراویح پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے
تراویح ضرور پڑھنی چاہئے، تراویح مستقل عبادت ہے، یہ نہیں کہ جو روزہ رکھے وہی تراویح پڑھے۔رمضان شریف میں مسجد میں تراویح کی نماز ہونا سنتِ کفایہ ہے، اگر کوئی مسجد تراویح کی جماعت سے خالی رہے گی تو سارے محلے والے گناہگار ہوں گے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تراویح کی باقاعدہ جماعت کا اہتمام نہیں تھا، بلکہ لوگ تنہا یا چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھا کرتے تھے، سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک امام پر جمع کیا ۔ (صحیح بخاری ج ص 269، باب فضل من قام رمضان) ۔ اور یہ خلافتِ فاروقی رضی اللہ عنہ کے دُوسرے سال یعنی 14ھ کا واقعہ ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ص 121، تاریخ ابنِ اثیر ج ص 189) ۔

(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/319064233662956/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_ماہ_رمضان_المبارک
فضائل مسائل اور دلائل تراویح ³
#رمضان ᴿᵃᵐᶻᵃⁿ #روزہ Roza
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/320108476891865/
فضائل ، مسائل اور دلائل تراویح حصّہ سوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : قیام رمضان (تراویح) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس رکعت فرمایا ۔ اسی پر حضرات خلفاءِ راشدین میں سے حضرت عمررضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ ، دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، ائمہ مجتہدین و حضرات مشائخ رحمہم اللہ عمل پیرا رہے ، بلادِ اسلامیہ میں چودہ سو سال سے اسی پر عمل ہوتا رہا ہے اورامت کا اسی پر اجماع ہے ۔ اس کی مزید وضاحت آ رہی ہے ان شاء اللہ ۔

لفظ تراویح

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : وَالتَّرَاوِيحُ جَمْعُ تَرْوِيحَةٍ وَهِيَ الْمَرَّۃُ الْوَاحِدَ ۃُ مِنَ الرَّاحَۃِ کَتَسْلِیْمَۃِ مِنَ السَّلَامِ ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری ج4ص317)
ترجمہ : تراویح ”ترویحہ‘‘ کی جمع ہے اور ترویحہ ایک دفعہ آرام کرنے کو کہتے ہیں ، جیسے ”تسلیمہ‘‘ ایک بار سلام کرنے کو کہتے ہیں ۔
تراویح کسے کہتے ہیں ؟ ”ترویحہ‘‘ وہ نشست ہے جس میں کچھ راحت لی جائے ۔ چونکہ تراویح کی چاررکعتوں پر سلام پھیرنے کے بعد کچھ دیر راحت لی جاتی ہے ، اس لیے تراویح کی چار رکعت کو ایک ”ترویحہ‘‘ کہا جانے لگا اورچونکہ پوری تراویح میں پانچ ترویحے ہیں ، اس لیے پانچوں کامجموعہ ”تراویح‘‘ کہلاتاہے ۔
علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمہة اللہ علیہ فرماتے ہیں : سُمِّیَتِ الصَّلٰوۃُ فِی الْجَمَاعَۃِ فِی لَیَالِی رَمَضَانَ التَّرَاوِیْحَ ؛ لِاَنَّھُمْ اَول مااجتمعواعلیھا کانوا یستریھون بین کل تسلیمتین ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری: جلد 4 صفحہ 317،چشتی)
ترجمہ : جونماز رمضان کی راتوں میں باجماعت اداکی جاتی ہے اس کانام ”تروایح“ رکھا گیا ہے ، اس لیے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پہلی بار اس نماز پر مجتمع ہوئے تو وہ ہر دو سلام (چاررکعتوں) کے بعدآرام کیاکرتے تھے ۔

تروایح سنت مؤکدہ ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام رمضان کو سنت قرار دیا ہے جیسا کہ باحوالہ عرض کیا جا چکا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرات خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اس پر مواظبت فرمائی اور یہی مواظبت دلیل ہے کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے ۔

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد روایت فرماتے ہیں : فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِى وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ۔ (سنن ابی داؤد: ج2،ص290، باب فی لزوم السنۃ،چشتی)
ترجمہ : تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔

اس حدیث مبارک میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت پر لفظ ’’علیکم‘‘ (تم پر لازم ہے) اور عضوا علیھا بالنواجذ (مضبوطی سے تھام لو) سے عمل کرنے کی تاکید فرمائی اسی طرح حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت پر بھی عمل کرنے کی تاکید فرمائی جوکہ تراویح کے سنت موکدہ ہونے کی دلیل ہے ۔

با جماعت نمازتراویح ؛ تین راتیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تراویح کی جماعت صرف تین دن ثابت ہے ، پورا مہینہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو کوئی نماز نہ پڑھائی جیسا کہ احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے ۔ چنانچہ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِىَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ. قَالَ فَقَالَ « إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ». قَالَ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ . . . . ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ ۔ (سنن ابی داؤد جلد 1 صفحہ 204، باب فى قيام شهر رمضان،چشتی)
ترجمہ : فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے پورا مہینہ ہمیں رات میں نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ سات دن باقی رہ گئے تو (تیئسویں رات میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازپڑھائی یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی جب چھ دن رہ گئے تو نماز نہیں پڑھائی پھر جب پانچ دن رہ گئے
تو نماز پڑھائی (یعنی پچیسویں رات میں) یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ اس رات کے باقی حصے میں بھی ہمیں نفل پڑھا دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ! آپ نے فرمایا : جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز (عشاء) پڑھے پھر اپنے گھر واپس جائے تو اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا ۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب چار دن باقی رہ گئے توآپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی ، جب تین دن باقی رہ گئے توآپ نے اپنے گھر والوں ، عورتوں اور دیگر لوگوں کوجمع کیا اور نماز پڑھائی (یعنی ستائیسویں رات) اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ ہم سے سحری رہ جائے گی ، پھر باقی ایام بھی آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی ۔

بیس رکعت تراویح کا صحیح احادیث اور تابعین کے اقوال سے ثبوت

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تراویح کے بارے میں مختلف روایات ہیں ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمین کا اس پر اتفاق ہےکہ تراویح بیس رکعت پڑھی جائیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عمل کو صحابہ کرام سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا ، لہٰذا تراویح بیس رکعت ہی پڑھنی چاہئیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بیس رکعت تراویح سے متعلق جو روایات منقول ہے ، اسے ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے :

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں رمضان المبارک کے مہینے میں حضرات صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم بیس (20) رکعات تراویح پڑھتے تھے ، اور وہ سو سو آیتیں پڑھا کرتے تھے ، اور امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شدت قیام یعنی طول قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگایا کرتے تھے ۔
(السنن الکبری للبیھقی جلد 2 صفحہ 698 رقم الحدیث : 4288، ط: دارالکتب العلمیۃ،چشتی)

علامہ محمد بن علی نیموی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں : میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ( معتبر ) ہیں ، اس حدیث کی سند کو امام نووی نے اپنی کتاب " الخلاصہ" میں ، امام ابن العراقی نے "شرح التقریب " میں ، اور امام سیوطی نے " المصابیح" میں صحیح کہا ہیں ۔ (التعلیق الحسن علی آثار السنن : ص 246 ، ط: مکتبۃ البشری،چشتی)

امام مالک نے یزید بن رومان علیہما الرحمہ سے روایت کیا ہے کہ لوگ (یعنی صحابہ و تابعین) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان المبارک کے مہینے میں تئیس رکعات (تین رکعت وتر سمیت) تراویح پڑھا کرتے تھے ۔ (مؤطّا الامام مالك بروايۃ يحيي بن يحيي الليثي ، ص 60 ، رقم الحدیث : 249 ، ط: مکتبۃ دارالکتب العلمیۃ،چشتی)

اس حدیث کی سند اگرچہ مرسل ہے ، لیکن مرسل روایت جمہور (جن میں حنفیہ بھی شامل ہیں) کے نزدیک حجت ہے ، نیز مرسل روایت کی تائید جب دوسرے صحیح مرسل روایت سے ہو جاتی ہے تو وہ قابل حجت ہوتی ہے ، ذیل کی روایت بھی مرسل ہے ، لہذا وہ اس کی مؤید ہے ۔

یحیی ابن سعید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھائیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 2 صفحہ 163، رقم الحدیث 7682 ط مكتبة الرشد)

اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں ، اور مرسل ہونے کی وجہ سے ماقبل روایت کےلیے مؤید ہے ۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المومین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے رمضان المبارک میں رات کو تراویح پڑھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ تو رکھ لیتے ہیں، مگر قرآن (یاد نہ ہونے کی وجہ سے) تراویح نہیں پڑھ سکتے ، اس لیے ان لوگوں کو رات میں تراویح پڑھاؤ ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے امیرالمومنین ! آپ نے ایک ایسی بات کا حکم دیا ہے ، جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں عمل نہیں رہا ہے (یعنی باجماعت تراویح پڑھنا) ، حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں ، لیکن یہی بہتر ہے ، تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیس (20) رکعات تراویح پڑھائی ۔ (الأحاديث المختارة لضياءالدين المقدسي: ج3، ص 367، رقم الحدیث : 1161، ط: دار خضر)

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے عمل کی بنا پر اکثر علماء کے نزدیک تراویح بیس (20) رکعات ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھتے پایا ہے ۔ (جامع الترمذی : ج 3، ص 160، ط: مطبعۃ مصطفى البابي الحلبي – مصر،چشتی)

حضرات تابعین رضی اللہ عنہم کے چند مشاہدات بھی ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں :

جلیل القدر تابعی حضرت عطاء رضی الکہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں (صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہم) کو بیس (20) رکعات تراویح اور تین (3) رکعات وتر پڑھتے پایا ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ بحوالہ آثار السنن،ص 247،ط : مکتبۃ البشری)
امام نیموی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کی سند حسن (صحیح کی ایک قسم ) ہے ۔

ابوالخصیب علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ سوید بن غفلہ ہمیں تراویح پانچ ترویحے پڑھاتے تھے ، جو کہ بیس رکعات بنتی ہیں ۔ (السنن للبیھقی بحوالہ آثار السنن، ص 247، ط : مکتبۃ البشری،چشتی)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کی سند بھی حسن ہے ۔

ان صحیح روایات سے ثابت ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام اور حضرات تابعین کو بیس رکعت تراویح پر جمع فرمایا تھا ، اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام میں سے کسی سے بھی اس تعداد کی مخالفت اور تبدیلی بھی ثابت نہیں ہے ، لہٰذا بیس رکعت تراویح خلفائے راشدین ، بلکہ موجود تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا متفقہ سنت طریقہ ثابت ٹھہرا ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد صرف دو سال بعد شروع ہوا ہے ، لہٰذا بیس رکعت کا فیصلہ بالکل دورِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مزاج نبوی کے موافق تھا ۔

نیز جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سنت کی اتباع کا حکم دیا ہے ، ویسے ہی حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اتباع کا حکم بھی دیا ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے : تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم میری سنت اور میرے بعد آنے والے خلفائے راشدین کی سنت پر چلو ، اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو ، اور (دین میں) نئی چیزوں کی ایجاد سے بچو، کیونکہ دین میں (اپنی طرف سے) ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ (سنن ابی داود،ج4، ص 200 رقم الحدیث 4607 ط المکتبۃ العصریۃ)

ائمہ اربعہ یعنی امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہم کا بیس رکعت تراویح کے سنت ہونے پر اتفاق ہے ۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ : ج 27، ص 141، ط : مطابع دار الصفوة مصر،چشتی)

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ :
اگر لوگ زیادہ دیر تک کھڑے ہونے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ، تو ایسی صورت میں بیس رکعت تراویح پڑھنا افضل ہوگا ۔ اسی تعداد پر اکثر مسلمانوں کا عمل ہے ، اور یہی تعداد دس اور چالیس رکعت کے درمیان معتدل طریقہ ہے ۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ : ج 27، ص 144، ط : مطابع دار الصفوة – مصر)

سعودی وہابیوں کے مشہور عالم علامہ ابن باز کہتے ہیں کہ : اگر کوئی شخص بیس رکعات تراویح پڑھتا ہے ، جیسا کہ حضرت عمر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے رمضان کی بعض راتوں میں منقول ہے ، تو ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، کیونکہ تراویح کا معاملہ وسعت والا ہے ۔ (مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز،ج 11، ص 322، ط: مکتبۃ الشاملۃ)

(مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/320108476891865/