🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-08-1443 ᴴ | 26-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1443 ᴴ | 27-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے میں کہ خواتین مخصوص ایام میں امتحان میں قرآن مجید کا ترجمہ لکھ سکتی ہے یا نہیں ؟
المستفتی :- محمد صغیر احمد رضوی مقیم حال کیج ضلع بیڑ مہاراشٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* خواتین ایام مخصوصہ میں امتحان کے پیپر میں قرآن مجید کی کسی آیت کا چھونا اور پڑھنا اسی طرح اس کا ترجمہ پڑھنا بھی ممنوع و حرام ہے جیسا کہ در مختار میں ہے کہ " ( و قراءة القرآن ) بقصده ( و مسه ) و لو مكتوبا بالفارسية فی الاصح " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 1 ص 488 : دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور النہر الفائق میں ہے کہ " ( و ) يمنع أيضا حل ( مسه ) أى : القرآن و لو مكتوبا بالفارسية اجماعا هو الصحيح " اھ ( النهر الفائق شرح كنز الدقائق ج 1 ص 134 : دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآن مجید ہی کا سا حکم ہے " اھ (بہار شریعت ج 1 ص 327 : مکتبۃ المدينہ ) لیکن حرج کی وجہ سے امام ابو یوسف کے قول پر عمل کرتے ہوئے امتحان کے پیپر اور کاپی وغیرہ پر قرآن مجید کے ترجمہ کو اس طور پر لکھا جائے کہ اس حروف پر ہاتھ نہ لگے تو اس کا لکھنا جائز ہے جیسا کہ حاشیۂ طحطاوی میں ہے کہ " و اما كتابة القرآن فلا بأس بها اذا كانت الصحيفة علی الارض عند ابی يوسف لانه ليس بحامل للصحيفة ، و كره ذلك محمد و به أخذ مشائخ بخارى . قال الكمال : و قول ابی يوسف أقيس لان الصحيفة اذا كانت على الارض كان مسها بالقلم و هو واسطة منفصلة فصار كثوب منفصل إلا ان يكون يمسه بيده " اھ ( حاشية الطحطاوى على مراقی الفلاح ص 144 : كتاب الطهارة ، دار الكتب العلمية ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " و لو كان القرآن مكتوبا بالفارسية يكره لهم مسه عند ابی حنيفة ، و يكره للجنب و الحائض ان يكتبا الكتاب الذی فی بعض سطوره آية من القرآن و إن كانا لا يقرآن القرآن " اھ ( فتاوى عالمگیری ج 1 ص 43 : دار الكتب العلمية بیروت )
مذکورہ تصریحات سے واضح ہوا کہ خواتین کے لئے حالت جنابت ( ایام حیض و نفاس ) میں قرآن شریف کا ترجمہ چھونا اور پڑھنا ممنوع و حرام ہے ، اور اگر اس کے ترجمہ کو کسی صفحہ پر اس طرح لکھا جائے کہ اس کو ہاتھ نہ لگائے تو اس کا لکھنا جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے میں کہ خواتین مخصوص ایام میں امتحان میں قرآن مجید کا ترجمہ لکھ سکتی ہے یا نہیں ؟
المستفتی :- محمد صغیر احمد رضوی مقیم حال کیج ضلع بیڑ مہاراشٹر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* خواتین ایام مخصوصہ میں امتحان کے پیپر میں قرآن مجید کی کسی آیت کا چھونا اور پڑھنا اسی طرح اس کا ترجمہ پڑھنا بھی ممنوع و حرام ہے جیسا کہ در مختار میں ہے کہ " ( و قراءة القرآن ) بقصده ( و مسه ) و لو مكتوبا بالفارسية فی الاصح " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 1 ص 488 : دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور النہر الفائق میں ہے کہ " ( و ) يمنع أيضا حل ( مسه ) أى : القرآن و لو مكتوبا بالفارسية اجماعا هو الصحيح " اھ ( النهر الفائق شرح كنز الدقائق ج 1 ص 134 : دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآن مجید ہی کا سا حکم ہے " اھ (بہار شریعت ج 1 ص 327 : مکتبۃ المدينہ ) لیکن حرج کی وجہ سے امام ابو یوسف کے قول پر عمل کرتے ہوئے امتحان کے پیپر اور کاپی وغیرہ پر قرآن مجید کے ترجمہ کو اس طور پر لکھا جائے کہ اس حروف پر ہاتھ نہ لگے تو اس کا لکھنا جائز ہے جیسا کہ حاشیۂ طحطاوی میں ہے کہ " و اما كتابة القرآن فلا بأس بها اذا كانت الصحيفة علی الارض عند ابی يوسف لانه ليس بحامل للصحيفة ، و كره ذلك محمد و به أخذ مشائخ بخارى . قال الكمال : و قول ابی يوسف أقيس لان الصحيفة اذا كانت على الارض كان مسها بالقلم و هو واسطة منفصلة فصار كثوب منفصل إلا ان يكون يمسه بيده " اھ ( حاشية الطحطاوى على مراقی الفلاح ص 144 : كتاب الطهارة ، دار الكتب العلمية ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " و لو كان القرآن مكتوبا بالفارسية يكره لهم مسه عند ابی حنيفة ، و يكره للجنب و الحائض ان يكتبا الكتاب الذی فی بعض سطوره آية من القرآن و إن كانا لا يقرآن القرآن " اھ ( فتاوى عالمگیری ج 1 ص 43 : دار الكتب العلمية بیروت )
مذکورہ تصریحات سے واضح ہوا کہ خواتین کے لئے حالت جنابت ( ایام حیض و نفاس ) میں قرآن شریف کا ترجمہ چھونا اور پڑھنا ممنوع و حرام ہے ، اور اگر اس کے ترجمہ کو کسی صفحہ پر اس طرح لکھا جائے کہ اس کو ہاتھ نہ لگائے تو اس کا لکھنا جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1443 ᴴ | 27-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-08-1443 ᴴ | 28-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1