🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
سوانح حضرت مولانا شاہ محمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ برادر و تلمیذِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نام ونسب: محمد رضا خان بن نقی علی خان، بن رضا علی خان، بن کاظم علی خان، علیہم الرحمہ۔ ولادت: آپ مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے سب سے چھوٹے فرزندِ ارجمند تھے۔…
حضرت علامہ مفتی محمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ برادر و تلمیذِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ
نام و نسب:
محمد رضا خان بن نقی علی خان، بن رضا علی خان، بن کاظم علی خان، علیہم الرحمہ۔
نام و نسب:
محمد رضا خان بن نقی علی خان، بن رضا علی خان، بن کاظم علی خان، علیہم الرحمہ۔
👍2❤1
سوانح حیات:
امام المحدثین حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن محمود بن احمد بن احمد بن کنانی، عسقلانی، مصری، شافعی۔ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
22 شعبان المعظّم 773ھ کو مصر میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
پانچ سال کی عمر میں مدرسے میں داخل ہوئے اور نو سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ شیخ عفیف الدین عبداللہ بن محمد نشاوری ، شیخ جمال الدین بن ظھیرہ، علامہ امام زین الدین عراقی اور دیگر تقریباً 730 اساتذہ مختلف فنون کا علم حاصل کیا۔ نیز آپاسکندریہ، قاہرہ، یمن، تعز، زبید، عدن ،مکۂ مکرمہ، مدینۂ منورہ، شام، غزہ، نابلس، رملہ، دمشق اور حلب ہجرت کرکے علومِ دینیہ کی تحصیل فرماتے رہے۔
سیرت و خصائص:
امیر المؤمنین فی الحدیث، حافظ الحدیث، شیخ الاسلام، امام المحدثین، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بڑے بلند پایہ عالمِ ربانی تھے آپ کی صورت و سیرت ہی ایسی تھی اس میں احادیث کے مختلف رنگ ظاہر ہوتے۔ آپ کے زمانے کے سب علماء کا اس بات پر اتفاق تھا علم میں، احادیث کی یاد داشت میں، دیگر علوم و فنون کی مہارت میں آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔ علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی جس اخلاص اور انہماک سے علوم دینیہ حاصل فرماتے رہے وہ قابلِ تقلید ہے اور اس سبب سے وہ علم و فضل کے بحرِ ذخّار ٹھہرے ۔ اپنے معاصرین پر سبقت لے گئے بلکہ علمِ حدیث میں ان کا یہ مقام ٹھہرا کہ ان کے پائے کا محدّث چند صدیوں تک پیدا نہ ہو سکا ۔ آپ کے قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ اکثر کتب آپ کو حفظ ہو گئیں تھی، پڑھنے میں اتنی تیز رفتاری تھی کہ صرف چار چار مجلس میں سنن ابن ماجہ اور صحیح مسلم کو ختم کر دیتے تھے، معجم صغیر طبرانی کو صرف ظہر اور عصر کے درمیان ختم کر لیتے، کتابت بھی اسی سرعت سے فرماتے۔علامہ حافظ ابنِ حجر رضی اللہ عنہ اپنے دور کے مرجع العلماء تھے آپ کے بحرِ علمی کا چرچا ہر سو پھیل چکا تھا اسی وجہ سے طلباء جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضری دیتے اور علم کی دولت سے مالا مال ہوتے۔ آپ نے اپنے زمانے میں کئی علمی مراکز میں دروسِ حدیث دِیـے، خانقاہ بیرسیہ میں آپ نے بیس سال درس دیا۔ اس کے علاوہ شیخونیہ، بدریہ، صاتحیہ، فخریہ، نجمیہ، جامع ابن طولان، حسینیہ، جمالیہ میں منصبِ تدریس پر فائز رہے۔
وفات:
آپ کا وصال 79 سال کی عمر میں ذوالحجہ 852 ھ قاھرہ میں ہوا ۔ جب جنازہ تیار ہوچکا تو اس وقت شدید بارش ہوئی اور نمازِ جنازہ میں اتنی بھیڑ تھی کہ لوگوں نے اس سے پہلے نہ دیکھی تھی۔ امام شافعی اور شیخ مسلم سلمی کے مزار کے درمیان مقام قرافہ صفری میں آپ کی تدفین ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مزارِ پرانوار پر رحمتوں کی بارش نازل فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے۔
ماخذ و مراجع:
الجواہر والدرر، لخط الالحاظ، شذرات الذھب، ذیل طبقات الحفاظ
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-allama-hafiz-ibn-e-hajar-asqalani
Copyright © Zia-e-Taiba
امام المحدثین حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن محمود بن احمد بن احمد بن کنانی، عسقلانی، مصری، شافعی۔ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
22 شعبان المعظّم 773ھ کو مصر میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
پانچ سال کی عمر میں مدرسے میں داخل ہوئے اور نو سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ شیخ عفیف الدین عبداللہ بن محمد نشاوری ، شیخ جمال الدین بن ظھیرہ، علامہ امام زین الدین عراقی اور دیگر تقریباً 730 اساتذہ مختلف فنون کا علم حاصل کیا۔ نیز آپاسکندریہ، قاہرہ، یمن، تعز، زبید، عدن ،مکۂ مکرمہ، مدینۂ منورہ، شام، غزہ، نابلس، رملہ، دمشق اور حلب ہجرت کرکے علومِ دینیہ کی تحصیل فرماتے رہے۔
سیرت و خصائص:
امیر المؤمنین فی الحدیث، حافظ الحدیث، شیخ الاسلام، امام المحدثین، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بڑے بلند پایہ عالمِ ربانی تھے آپ کی صورت و سیرت ہی ایسی تھی اس میں احادیث کے مختلف رنگ ظاہر ہوتے۔ آپ کے زمانے کے سب علماء کا اس بات پر اتفاق تھا علم میں، احادیث کی یاد داشت میں، دیگر علوم و فنون کی مہارت میں آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔ علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی جس اخلاص اور انہماک سے علوم دینیہ حاصل فرماتے رہے وہ قابلِ تقلید ہے اور اس سبب سے وہ علم و فضل کے بحرِ ذخّار ٹھہرے ۔ اپنے معاصرین پر سبقت لے گئے بلکہ علمِ حدیث میں ان کا یہ مقام ٹھہرا کہ ان کے پائے کا محدّث چند صدیوں تک پیدا نہ ہو سکا ۔ آپ کے قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ اکثر کتب آپ کو حفظ ہو گئیں تھی، پڑھنے میں اتنی تیز رفتاری تھی کہ صرف چار چار مجلس میں سنن ابن ماجہ اور صحیح مسلم کو ختم کر دیتے تھے، معجم صغیر طبرانی کو صرف ظہر اور عصر کے درمیان ختم کر لیتے، کتابت بھی اسی سرعت سے فرماتے۔علامہ حافظ ابنِ حجر رضی اللہ عنہ اپنے دور کے مرجع العلماء تھے آپ کے بحرِ علمی کا چرچا ہر سو پھیل چکا تھا اسی وجہ سے طلباء جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضری دیتے اور علم کی دولت سے مالا مال ہوتے۔ آپ نے اپنے زمانے میں کئی علمی مراکز میں دروسِ حدیث دِیـے، خانقاہ بیرسیہ میں آپ نے بیس سال درس دیا۔ اس کے علاوہ شیخونیہ، بدریہ، صاتحیہ، فخریہ، نجمیہ، جامع ابن طولان، حسینیہ، جمالیہ میں منصبِ تدریس پر فائز رہے۔
وفات:
آپ کا وصال 79 سال کی عمر میں ذوالحجہ 852 ھ قاھرہ میں ہوا ۔ جب جنازہ تیار ہوچکا تو اس وقت شدید بارش ہوئی اور نمازِ جنازہ میں اتنی بھیڑ تھی کہ لوگوں نے اس سے پہلے نہ دیکھی تھی۔ امام شافعی اور شیخ مسلم سلمی کے مزار کے درمیان مقام قرافہ صفری میں آپ کی تدفین ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مزارِ پرانوار پر رحمتوں کی بارش نازل فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے۔
ماخذ و مراجع:
الجواہر والدرر، لخط الالحاظ، شذرات الذھب، ذیل طبقات الحفاظ
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-allama-hafiz-ibn-e-hajar-asqalani
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-08-1443 ᴴ | 25-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-08-1443 ᴴ | 26-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1