بیداری میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کرنا بالکل ممکن بلکہ کثیر اولیا و صالحین کے لئے ثابت بھی ہے۔ امام جلالُ الدّین سیوطی رحمۃُ اللہِ علیہ کے زمانے میں جب کچھ لوگوں نے اس کا انکار کیا تو آپ نے تَنویْرُ الْحَلَک نامی رسالہ لکھ کر نہ صرف اس مسئلے پر دلائل قائم فرمائے بلکہ مخالفین کا رد بھی فرمایا۔ امام ابنِ حجر مکی ، شارحِ بخاری امام سراجُ الدّین ابنِ ملقن ، امام زُرقانی ، شارحِ بخاری امام قَسطلانی ، امام محمد بن یوسف شامی ، امام ابنُ الحاج مالکی ، امام ابنِ ابی جمرہ مالکی وغیرہ جلیلُ القدر ائمہ رحمۃُ اللہِ علیہم نے اپنی اپنی کتابوں میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بیداری میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار ممکن ہے جبکہ بعض علما نے بیداری میں دیدارِ رسول کے واقعات بھی نقل فرمائے ہیں جیسا کہ
بیداری میں 75 بار دیدار کیا :
حضرت علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ کو جب ایک آدمی نے بادشاہ کے پاس سفارش کے لئے چلنے کی درخواست لکھی تو آپ نے اس کے جواب میں لکھا : میرے بھائی! اَلحمدُلِلّٰہ میں اِس وَقت تک رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں 75 بار بیداری کی حالت میں بِالمشافہ حاضِر ہو چکا ہوں۔ اگر مجھے بادشاہ و اُمَراء کے پاس جانے میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت سے محرومی کا خوف نہ ہوتا تو ضَرور قَلْعَہ میں جاتا اور بادشاہ سے تمہاری سِفارش کرتا۔ میں ایک خادمِ حدیث ہوں ، جن حدیثوں کو مُحَدِّثین کرام نے اپنی تحقیق میں ضعیف کہا ہے ان کی تصحیح کے لئے حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف محتاج ہوں اور بِلاشبہ اس کا نَفْع تمہارے ذاتی نفع سے کہیں زیادہ ہے۔ [4]
اللہ پاک کے ایک ولی کسی فقیہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے۔ اُس فقیہ نے ایک حدیث بیان کی تو وہاں موجود وَلِیُّ اللہ نے فرمایا : یہ حدیث باطل ہے۔ فقیہ نے کہا : آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ تو اُس اللہ کے ولی نے کہا : رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمہارے پاس کھڑے فرما رہے ہیں : یہ میرا فرمان نہیں ہے۔ اُس فقیہ کی آنکھوں سے پردے ہٹ گئے اور اُنہوں نے بھی رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار کر لیا۔ [5]
حضرت شیخ ابو العباس مُرْسِی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : اگر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لمحہ بھر کے لئے میری نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں تو میں اپنے آپ کو (خاص مقرب) مسلمانوں میں سے شمار نہ کروں۔ [6]
حضرت ابو اللطائف ابن فارس وفائی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : میرے شیخ حضرت علی رحمۃُ اللہِ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں پانچ سال کا تھا تو میں شیخ یعقوب رحمۃُ اللہِ علیہ کے پاس قراٰنِ پاک پڑھنے جاتا تھا۔ ایک دن جب میں ان کے پاس گیا تو میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نیند میں نہیں بلکہ بیداری میں دیکھا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سفید سوتی قمیص زیبِ تن کئے ہوئے ہیں ، پھر اس جیسی قمیص میں نے اپنے جسم پر بھی دیکھی۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : پڑھو! میں نے سُوْرَۃُ الضُّحٰی اور سُورَۃُ اَلَمْ نَشْرَحْ پڑھی۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ میں اکیس سال کا ہوا تو (ایک دن) جب مقامِ “ قَرَافہ “ میں فجر کی نماز شروع کی تو میں نے اپنے سامنے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا ، آپ نے مجھے سینے سے لگایا اور فرمایا : (وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) ) ترجَمۂ کنزُالایمان : اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو ، اس وقت سے مجھے گفتگو میں کمال حاصل ہوگیا۔ [7]
ان واقعات سے معلوم ہوا کہ جو رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قربِ خاص رکھتا ہے وہ بعض اوقات آقائے دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رُخِ روشن کا مشاہدہ بھی کرتا ہے اور حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے اُن غلاموں سے کلام بھی فرماتے ہیں ، مصافحہ و معانقہ کا شرف بھی عطا فرماتے ہیں۔ مگر اس مقامِ رفعت کو پانے کے لئے دل کاتزکیہ ، نگاہ کی پاکیزگی اور عشقِ رسول بے حد ضروری ہے۔
[1] بخاری ، 4 / 406 ، حدیث : 6993
[2] بہجۃ النفوس ، 4 / 237ملخصاً
[3] فتوح الشام ، 2 / 8
[4] میزان الشریعۃ الکبریٰ ، ص 55
[5] الحاوی للفتاوٰی ، 2 / 314
[6] الحاوی للفتاوٰی ، 2 / 312
[7] الحاوی للفتاوٰی ، 2 / 314
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلــم✍🏻 مولانا عــدنان چشــتی عطّــاری مـدنی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
بیداری میں 75 بار دیدار کیا :
حضرت علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ کو جب ایک آدمی نے بادشاہ کے پاس سفارش کے لئے چلنے کی درخواست لکھی تو آپ نے اس کے جواب میں لکھا : میرے بھائی! اَلحمدُلِلّٰہ میں اِس وَقت تک رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں 75 بار بیداری کی حالت میں بِالمشافہ حاضِر ہو چکا ہوں۔ اگر مجھے بادشاہ و اُمَراء کے پاس جانے میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت سے محرومی کا خوف نہ ہوتا تو ضَرور قَلْعَہ میں جاتا اور بادشاہ سے تمہاری سِفارش کرتا۔ میں ایک خادمِ حدیث ہوں ، جن حدیثوں کو مُحَدِّثین کرام نے اپنی تحقیق میں ضعیف کہا ہے ان کی تصحیح کے لئے حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف محتاج ہوں اور بِلاشبہ اس کا نَفْع تمہارے ذاتی نفع سے کہیں زیادہ ہے۔ [4]
اللہ پاک کے ایک ولی کسی فقیہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے۔ اُس فقیہ نے ایک حدیث بیان کی تو وہاں موجود وَلِیُّ اللہ نے فرمایا : یہ حدیث باطل ہے۔ فقیہ نے کہا : آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ تو اُس اللہ کے ولی نے کہا : رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمہارے پاس کھڑے فرما رہے ہیں : یہ میرا فرمان نہیں ہے۔ اُس فقیہ کی آنکھوں سے پردے ہٹ گئے اور اُنہوں نے بھی رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار کر لیا۔ [5]
حضرت شیخ ابو العباس مُرْسِی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : اگر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لمحہ بھر کے لئے میری نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں تو میں اپنے آپ کو (خاص مقرب) مسلمانوں میں سے شمار نہ کروں۔ [6]
حضرت ابو اللطائف ابن فارس وفائی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : میرے شیخ حضرت علی رحمۃُ اللہِ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں پانچ سال کا تھا تو میں شیخ یعقوب رحمۃُ اللہِ علیہ کے پاس قراٰنِ پاک پڑھنے جاتا تھا۔ ایک دن جب میں ان کے پاس گیا تو میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نیند میں نہیں بلکہ بیداری میں دیکھا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سفید سوتی قمیص زیبِ تن کئے ہوئے ہیں ، پھر اس جیسی قمیص میں نے اپنے جسم پر بھی دیکھی۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : پڑھو! میں نے سُوْرَۃُ الضُّحٰی اور سُورَۃُ اَلَمْ نَشْرَحْ پڑھی۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ میں اکیس سال کا ہوا تو (ایک دن) جب مقامِ “ قَرَافہ “ میں فجر کی نماز شروع کی تو میں نے اپنے سامنے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا ، آپ نے مجھے سینے سے لگایا اور فرمایا : (وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) ) ترجَمۂ کنزُالایمان : اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو ، اس وقت سے مجھے گفتگو میں کمال حاصل ہوگیا۔ [7]
ان واقعات سے معلوم ہوا کہ جو رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قربِ خاص رکھتا ہے وہ بعض اوقات آقائے دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رُخِ روشن کا مشاہدہ بھی کرتا ہے اور حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے اُن غلاموں سے کلام بھی فرماتے ہیں ، مصافحہ و معانقہ کا شرف بھی عطا فرماتے ہیں۔ مگر اس مقامِ رفعت کو پانے کے لئے دل کاتزکیہ ، نگاہ کی پاکیزگی اور عشقِ رسول بے حد ضروری ہے۔
[1] بخاری ، 4 / 406 ، حدیث : 6993
[2] بہجۃ النفوس ، 4 / 237ملخصاً
[3] فتوح الشام ، 2 / 8
[4] میزان الشریعۃ الکبریٰ ، ص 55
[5] الحاوی للفتاوٰی ، 2 / 314
[6] الحاوی للفتاوٰی ، 2 / 312
[7] الحاوی للفتاوٰی ، 2 / 314
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلــم✍🏻 مولانا عــدنان چشــتی عطّــاری مـدنی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
👍1