🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-08-1443 ᴴ | 24-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-08-1443 ᴴ | 24-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
سوانح حضرت لعل شہباز قلندر
یومِ وصال: 21 شعبان المعظم
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-lal-shahbaz-qalandar

حافظ سید محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید محمد عثمان مروندی۔
لقب: لعل شہباز قلندر۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے:
حافظ سید محمد عثمان بن سید کبیر الدین بن سید شمس الدین الیٰ آخرہِ ۔علیہم الرحمہ۔

آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ با سعادت مشہور قول کے مطابق، 538ھ بمطابق 1143ء کو آذر بائیجان کے ایک قصبہ "مروند"میں ہوئی۔ علاقے کی نسبت سے "مروندی" کہلاتے ہیں۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم وتربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ حاصل ہوئی، گھر کے قریبی مسجد میں سات سال کی عمر میں حفظِ قرآن مکمل کرلیا۔ پھر اس کے بعد دیگر علومِ دینیہ کے حصول میں مصروف ہوگئے۔ بہت جلد ہی علومِ نقلیہ وعقلیہ اور عربی وفارسی ادب  میں مہارتِ تامہ حاصل کرلی، آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علمائے کرام میں ہوتا تھا۔

بیعت و خلافت:
صحیح قول کے مطابق آپ حضرت ابو اسحاق محمد ابراہیم قادری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے۔ بعض مؤلفین کے قول کے مطابق آپ شیخ الاسلام غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے۔ اس میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ حضرت بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے آپ کو خلافت سے نوازا ہو جیسا کہ مشائخ کا طریقہ ہے۔

سیرت وخصائص:
امام العلماء والعارفین، رئیس المدرسین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین ، عارف بااللہ، فنا فی اللہ ، بقا بااللہ حضرت سید حافظ محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ کی ولادت کی بشارت حضرت شیر خدا علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ نے بایں الفاظ  ارشاد فرمائی: اے احمد کبیر: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹا عطا فرمائے گا! مگر میری ایک بات یاد رکھنا کہ جب فرزند تولد ہو تو اس کا نام ،محمد عثمان، رکھنا اور جب وہ تین سو چوراسی دن کا ہو جائے تو اس کولے کر مدینہ منورہ حاضری دینا اور حضور ﷺ کے حضور سلام کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے مزار پر لے جانا اور سلام عرض کرنا، چنانچہ والد صاحب نے حسب وصیت ایسا ہی کیا (شہباز ِ ولایت، صفحہ 8)۔

آپ بہت ہی حسین وجمیل تھے۔ آپ کا چہرہ انور ایسے چمکتا تھا جیسے "لعل" اس لئے آپ کو لعل شہباز کہتے ہیں ۔ لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ جس پایہ کے صاحب علم و فضل اور صاحب تصوف و معر فت تھے، اسی پایہ کے معلم و مقر ر اور ادیب و شاعر بھی تھے، عربی و فارسی علوم و ادبیات پر کامل دسترس رکھتے تھے، قرآن و حدیث و فقہ کا وسیع مطالعہ تھا، ماہر لسانیات اور ماہر قواعد زبان بھی تھے، آپ صاحبِ تصانیف بزرگ تھے، اور بالخصوص صرف و نحو اور عربی ادب کے شائقین دور دراز علاقوں سے سفر کر کے آپ کے ہاں تحصیلِ علم کیلئے حاضر ہوتے ۔ آپ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ کے مدرسہ جو حقیقۃً اس وقت ایشیا کی عظیم یونیورسٹی تھی، میں صدر المدرسین کے منصب پر فائز تھے۔

قلندر ی طریقت:
بعض مؤلفین کا خیال ہے کہ آپ"قلندری طریقت" رکھتے تھےملنگوں نے قلندروں کو شریعت سے آزاد سمجھ رکھا ہے اور قلندری طریقے کو بے نمازی اور غیر شرعی کاموں سے روشناس کراتے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ قلندری طریقت پر وضاحت پیش کی جائے۔۔۔

تارک الدنیا، تہجد گزار اور نفسانی لذتوں سے پاک شخص کو قلندر کہتے ہیں۔ صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے۔

حضرت خواجہ عبید اللہ احرار (متو فی 895ھ) نے فرمایا: اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات سے مجرد رکھنے اور نفس کو معبود (اللہ تعالیٰ) کے تابع کر دینے کو قلند ری طریقت کہا جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے نزدیک قلندر وہ ہے جس کے دل میں دنیا کے مضرات اور مشکلات کا خوف و ہراس بالکل نہ ہو۔
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلند روں کا طریق

عرس کی آڑ میں بدعات کا فروغ:
عرس شریف کے مبارک و مقدس پروگرام کو اخلاق و کردار سے آزاد لوگوں کا میلہ، ناچ گانا، کھیل و تماشا، خواتین کا بے پردہ ہونا، محفلِ موسیقی، دھمال اور دھمال پر عورتوں کا رقص، رنڈیوں کا تماشا، طوائفوں کی بھر مار، شور و ہنگامہ، بھنگ و چرس کا دھندا، مزار میں مہندی لے جانا، قلندر کی شادی کرانا۔ ملنگوں کی عجیب و غریب حرکتیں، شیعہ روافض کا عَلَم کو پو جنا ان پر منتیں مانگنا اور اصحابِ کرام کی شان میں گستاخی اور خلفائے ثلاثہ پر تبرا بازی سمیت حیا سوز خرافات اور بَد رسموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان تمام خرافات کا حضرت شہباز قلندر کے عقیدہ و مسلک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، نفس کے غلاموں، شیطان کے پیر و کاروں اور خدا کے نا فرمانوں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے ان بے ہودہ رسموں اور حیا سوز حرکات کو رواج دیا ہے۔
1👍1
اگرملنگوں کو حضرت لعل شہباز قلندر کی پیر وی کرنے کا شوق ہے تو پر ہیز گاری کریں، پنج وقتہ نماز کی پابندی معمول بنا لیں، شب بیداری کی عادت ڈالیں، ذکر شریف و درود شریف کا کثرت سے وِرد کریں، اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں، حرام سے اجتناب اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں۔

حضرت لعل شہباز قلندر فرماتے ہیں: ؎
عثمان چو شد غلامِ نبی و چہار یار
امید شاز مکارم عربی محمد ﷺ است

وصال:
آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673ھ بمطابق 1274ء کو ہوا۔

مزار:
آپ کا مزار سیہون شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-lal-shahbaz-qalandar
1👍1