🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-08-1443 ᴴ | 16-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-08-1443 ᴴ | 16-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
اسلام میں پردہ اور اس کے شرعی احکام
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310809121155134/
محترم قارئینِ کرام : بے پردگی دین کی کھلی بغاوت ہے : بے پردگی اعلانیہ گناہ ہے ۔ یعنی کھلی بغاوت ہے ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد ہے ۔ میری پوری امت معافی کے لائق ہے مگر اعلانیہ گناہ کرنے والے معافی کے لائق نہیں ۔

پردہ قرآن کی روشنی میں

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا. (الاحزاب، 33 : 59)
ترجمہ : اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے : وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ . (النور، 24 : 31)
ترجمہ : اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

دیوث جنت میں داخل نہیں ہو گا

حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے ۔
دیوث : مردوں کی طرح شکل بنانے والی عورتیں ، ہمیشہ شراب پینے والا ، صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین نے عرض کیا ”دیوث کون ہے ؟
فرمایا : وہ شخص جس کو اس کی پروا نہیں کہ اس کے گھر کی عورتوں کے پاس کون شخص آتا ہے اور کون جاتا ہے ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر مطولا)

ایک موقع پر حضرت سعد بن عبادہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بیوی کو کسی غیر مرد ( نامحرم) کے ساتھ دیکھوں تو اس کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : اے صحابہ ! کیا تمہیں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ کی غیرت پر تعجب (حیرت) ہے ۔ سنو! میں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے ۔ ( مشکوٰة)

عورتوں کے باہر نکلنے کا ضابطہ

سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے وہ نظر ہے ۔

قرآن پاک میں دونوں فریق کو حکم دیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں ۔ سورہ نور، رکوع نمبر چار میں اول مردوں کو حکم فرمایا : آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کےلیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے ۔ بے شک الله تعالیٰ اس سے خوب باخبر ہے ، جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔
1
اس کے بعد عورتوں کو خطاب فرمایا : اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر یہ کہ مجبوری سے خود کھل جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنے حسن و جمال کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں (سوائے ان کے جو شرعاَ محروم ہیں) اور مسلمانو (تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو تو) تم سب الله تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ ۔ (سورہ نور،آیت نمبر31)

الله عزوجل سورہ احزاب آیت 33 میں خواتین اسلام کو حکم فرماتا ہے : ﴿وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الاولی﴾ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمة الله علیہ اس آیت شریفہ کے ذیل میں لکھتے ہیں : اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرتیں اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا اعلانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بد اخلاقی اور بےحیائی کی روش کو مقدس اسلام کب برداشت کر سکتا ہے؟ اسلام نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر اپنے حسن وجمال کی نمائش نہ کرتی پھریں ۔

حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ، عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے اور بلاشبہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان دیکھنے لگتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ سے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے ۔ ( الترغیب والترہیب للمنذری 626 از طبرانی)

تشریح: اس حدیث میں اول تو عورت کا مقام بتایا ہے یعنی یہ کہ وہ چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ عورت کو بحیثیت عورت گھر کے اندر رہنا لازم ہے، جوعورت پردہ سے باہر پھرنے لگے وہ حدود نسوانیت سے باہر ہو گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔

مطلب یہ ہے کہ جب عورت باہر نکلے گی تو شیطان کی یہ کوشش ہو گی کہ لوگ اس کے خدوخال اور حسن وجمال اور لباس و پوشاک پر نظر ڈال ڈال کر لطف اندوز ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ کے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ گھر کے اندر ہوتی ہے جن عورتوں کو الله تعالیٰ کی نزدیکی کی طلب اور رغبت ہے وہ گھر کے اندر ہی رہنے کو پسند کرتی ہیں اور حتی الامکان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں ۔

اسلام نے عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عورتیں اپنے گھر کے اندر ہی رہیں کسی مجبوری سے باہر نکلنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں متعدد پابندیاں لگائی گئی ہیں ۔

مثلاً یہ کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

اور یہ بھی حکم فرمایا کہ عورت راستے کے درمیان نہ چلے بلکہ راستے کے کنارے پر چلے ،

مردوں کے ہجوم ( رش یا بھیڑ) میں داخل نہ ہو ۔

اگر اسے باہر جانا ہی پڑے تو پورے بدن پر برقعہ یا لمبی موٹی یا گہرے رنگ والی چادر لپیٹ کر چلے ( راستہ نظر آنے کے لیے ایک آنکھ کا کھلا رہنا کافی ہے ) یا برقعہ میں جو جالی آنکھوں کے سامنے استعمال کی جاتی ہے وہ لگا لیں یا برقعہ یا چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ ماتھے تک بال وغیرہ ڈھک جائے اور نیچے سے چہرہ ناک تک چھپ جائے۔ صرف دونوں آنکھیں (راستہ نظر آنے کےلیے) کھلی رہیں ۔

آج کل جوان لڑکیاں برائے نام چادر اوڑھ لیتی ہیں اور چادر بھی باریک چکن کی ہوتی ہے اور تنگ بھی ، اس سے ہرگز شرعی پردہ نہیں ہوتا اور ان کا اس چادر کے ساتھ باہر نکلنا بے پردہ نکلنے کی طرح ہے، جو سراسر ناجائز اور حرام ہے . قرآن کریم میں جس چادر کا ذکر ہے ، اس سے ہرگز ایسی چادر مراد نہیں ۔

عورتیں جب گھر سے کسی مجبوری کی وجہ سے نکلیں تو بجنے والا کوئی زیور نہ پہنا ہو ۔

کسی غیر محرم سے اگر ضروری بات کرنی پڑے تو بہت مختصر کریں، ہاں ناں کا جواب دے کر ختم کر ڈالیں ۔

گفتگو کے انداز میں نزاکت اور لہجہ میں جاذبیت کے طریقے پر بات نہ کریں ۔ جس طرح چال ڈھال اور رفتار کے انداز دل کھنچتے ہیں اسی طرح گفتار ( باتوں) کے نزاکت والے انداز کی طرف بھی کشش ہوتی ہے ۔ عورت کی آواز میں طبعی اور فطری طور پر نرمی اور لہجہ میں دل کشی ہوتی ہے ۔ پاک نفس عورتوں کی یہ شان ہے کہ غیر مردوں سے بات کرنے میں بتکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں خشونیت اور روکھا پن ہو، بقول مفتی رشید احمد صاحب رحمہ الله کے کہ ” بے تکلف ایسا لہجہ بنائے کہ سننے والا یوں محسوس کرے کہ کوئی چڑیل بول رہی ہے۔ (بحوالہ شرعی پردہ) تاکہ کسی بدباطن کا قلبی میلان نہ ہونے پائے۔

اور عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے، محرم بھی وہ ہو جس پر بھروسہ ہوط ۔ فاسق محرم جس پر اطمینان نہ ہو اس کے ساتھ سفر کرنا درست نہیں ہے ۔

اسی طرح شوہر یا محرم کے علاوہ کسی نامحرم مرد کے ساتھ تنہائی میں رہنے یا رات گزارنے کی بالکل اجازت نہیں ہے اور محرم بھی وہ جس پر اطمینان ہو ۔ یہ سب احکام درحقیقت عفت وعصمت محفوظ رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں ۔
1
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں

عورتوں کے گھر سے نکلنے کے لیے ایک ادب یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلیں ۔

حضرت معاذ رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ”جو عورت بھی الله اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ۔ اس کےلیے جائز نہیں ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں کسی کو آنے دے اور شوہر کی مرضی کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے اور اس بارے میں وہ کسی کی اطاعت نہ کرے ۔ ( مستدرک حاکم، طبرانی،چشتی)

فائدہ : حقیقت یہ ہے کہ گھر سے نکلنے کے لیے شوہر سے اجازت لینا ایک ایسا اصول ہے جو عورت کو عفیف و پاک دامن رہنے میں بڑی مدد دیتا ہے ۔ جو عورتیں اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر جہاں چاہے آتی جاتی ہیں اور جسے چاہے شوہر کی غیر موجودگی میں گھر بلا لیتی ہیں، ان کا اخلاق و کردار آہستہ آہستہ بگڑتا چلا جاتا ہے اور وہ گناہوں کی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں ۔

ایک حدیث میں حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت بھی گھر سے شوہر کی اجازت کے بغیر نکلتی ہے الله رب العزت اس سے ناراض رہتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ گھر واپس آجائے۔ یا شوہر اس سے راضی ہو جائے ۔ (کنزالعمال)

عورت کا خوشبو لگا کر نکلنا

برقعہ کے اوپر یا اندرونی لباس ( یعنی کپڑوں پر ) کسی قسم کی مہکنے والی، پھیلنے والی خوشبو لگا کر باہر نکلنا شریعت کے نزدیک اتنی بُری بات ہے کہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کرنے والی عورت کو زنا کار فرمایا ۔ (سنن نسائی)

اگر ایسی خوشبو لگی ہو جس کی مہک باہر نہ آئے، بلکہ اندر ہی محدود رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ چونکہ عورت کو صرف اپنے شوہر سے ہی قریب تر ہو کر رہنا ہے۔ اس لیے شوہر نزدیک تر ہو کرہلکی خوشبو کو سونگھ لے گا۔ شوہر کے علاوہ کسی اور کو جب خوشبو سونگھانی ہی نہیں ہے تو تیز مہکنے والی خوشبو کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ خوشبو اور وہ بھی عورت کی … جنسی جذبات بھڑکانے میں خاص اثر رکھتی ہے ۔

بغیر محرم کے عورت لمبا سفر نہ کرے

عورت کی عزت وناموس کی حفاظت کےلیے شریعت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جب عورت لمبا سفر کر ے تو اکیلی (تنہا) نہ کرے، بلکہ محرم کے ساتھ کرے۔ اس طرح وہ فتنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے اور محرم بھی وہ جس پر بھروسہ ہو۔ فاسق محرم جس پر اطمینان نہ ہو اس کے ساتھ سفر کرنا درست نہیں کیوں کہ ایسا محرم نامحرم کے حکم میں ہے ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت الله اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اسے چاہیے کہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر … باپ، بھائی شوہر، بیٹے یا کسی محرم کے بغیر نہ کرے ۔ (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

تین دین کے سفر سے مراد شرعاً وہ مقدار ہے جس پر نماز قصر کرنا جائز ہو۔ اگر عورت کا سفر کے لیے باہر نکلنا شہر کے اندر ہو تو اس کے ساتھ محرم ہونا بہتر ہے ۔ لیکن ضروری نہیں ۔ اسی طرح اگر وہ سفر (48 میل) یا تقریباً 77 کلو میٹر سے کم ہو تو بھی محرم کا ساتھ ہونا ضروری نہیں، بشرطیکہ اکیلے سفر کرنے میں کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور اگر کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو پھر اکیلے سفر سے بچنا چاہیے ، اگر عورت (48 میل) یا تقریباً 77 کلو میٹر سے زیادہ دور کہیں سفر میں جانا چاہتی ہے ۔ چاہے کراچی سے حیدر آباد یا سکھر یا لاہور تک کا سفر کرنا چاہتی ہے یا حج کے سفر پر جانا چاہتی ہے تو دیگر تمام پابندیوں کے ساتھ ساتھ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس سفر میں اس کے ساتھ اس کا محرم مرد یا شوہر ضرور ہو ۔

ایک اور حدیث میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی اجنبی (نامحرم) مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ ہی کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے۔ ایک شخص یہ سن کر کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا : یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرا نام فلاں فلاں غزوہ (جہاد) کے لیے لکھا جا چکا ہے ۔ حالانکہ میری بیوی حج کے لیے نکل چکی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : جاؤ! اپنی بیوی کے ساتھ حج ادا کرو ۔ (صحیح بخاری)

اتفاقی حادثات میں پردے کا حکم

اتفاقی حادثات مثلاً کسی کے گھر میں آگ لگ جائے یا کہیں سیلاب آجائے یا زلزلہ آجائے یا کوئی عورت ڈوب رہی ہو یا کسی وقت جنگ کے درمیان عورتوں کی خدمات کی ضرورت پڑ جائے تو ایسی صورتوں میں عورتوں سے ستر و حجاب (پردہ) ، استیذان (اجازت لے کر گھر میں جانا وغیرہ) اور اجازت شوہر کے احکام حسب ضرورت ختم ہو جائیں گے ۔

عورت کی آواز کا پردہ
1👍1
ایک مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح خواتین کے لیے اپنے جسم کو نامحرم مردوں سے چھپانا ضروری ہے ، اسی طرح اپنی آواز کو بھی نامحرم مردوں تک پہنچنے سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے ، البتہ جہاں ضرورت ہو وہاں نامحرم مرد سے پردہ کے پیچھے سے بات کرسکتی ہے ، اسی طرح ٹیلی فون پر بھی ضرورت کے وقت بات کر سکتی ہے ، البتہ ادب یہ ہے کہ نامحرم سے بات کرتے وقت عورت اپنی آواز کی قدرتی لچک اور نرمی کو ختم کرکے ذرا خشک لہجے میں بات کرے، تاکہ قدرتی لچک اور نرمی ظاہر نہ ہونے پائے اور نامحرم مرد کو عورت کے نرم انداز گفتگو سے بھی کسی گناہ کی لذت لینے کا موقع نہ مل سکے۔ اس سے شریعت کی احتیاط کا اندازہ لگائیے ۔

آج کل ہمارے معاشرے میں جن گھروں میں کچھ پردہ کا اہتمام ہوتا ہے ، وہاں بھی عورت کی آواز کے سلسلے میں عموماً کوئی احتیاط نہیں کی جاتی، بلکہ نامحرم مردوں سے بلاضرورت بات چیت ہوتی رہتی ہے اور ان سے گفتگو میں ایسا انداز ہوتا ہے جیسے اپنے محرم کے ساتھ گفتگو کا انداز ہوتا ہے، مثلاً جس بے تکلفی سے انسان اپنی ماں کے ساتھ، اپنی بیٹی کے ساتھ، اپنی بیوی کے ساتھ اوراپنی سگی بہن کے ساتھ بات چیت کرتا ہے اور ہنستا بولتا ہے اوراس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، لیکن بعض اوقات یہ انداز نامحرم عورتوں کے ساتھ گفتگو کے وقت بھی ہوتا ہے ۔ اور نامحرم عورتیں نامحرم مردوں کے ساتھ یہی انداز اختیار کر لیتی ہیں اور گفتگو کے دوران ہنسی مذاق، دل لگی اور چھیڑ چھاڑ سبھی کچھ ہوتا ہے ، آج یہ باتیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں ۔ یاد رکھیے! جس طرح عورت کے جسم کا پردہ ہے، اسی طرح اس کی آواز کا بھی پردہ ہے، جس طرح عورت کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو نامحرم مرد کے سامنے آنے سے بچائے ، اسی طرح اس کے ذمہ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی آواز کو بھی بلاضرورت نامحرم مردوں تک جانے سے روکے ، البتہ جہاں ضرورت ہے وہاں بقدر ضرورت (ضرورت کی حد تک) گفتگو کرنا جائز ہے۔ اور اسی طرح نامحرم مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ بلا ضرورت نامحرم عورت کی آواز کی طرف کان نہ لگائیں ۔ ( یعنی نہ سنیں)

اور نامحرم عورت کی آواز یا نامحرم مرد کی آواز کو خواہش نفس (شہوت ) کی تسکین کی خاطر سننا یقینا ناجائز اور گناہ ہے ۔ حج جو کہ فرض ہے اورحج میں زور سے تلبیہ ( یعنی لبیک اللھم لبیک) پڑھا جاتا ہے، لیکن عورتوں کے لیے حکم یہ ہے کہ عورتیں تلبیہ زور سے نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ آواز میں پڑھیں۔

بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کی دینی تقریات ، اجتماعات وغیرہ میں اسپیکر لگے ہوتے ہیں ۔ جن کے ذریعے عورتوں کی تقاریر ، نعتوں وغیرہ کی آواز دور دور تک سنائی دیتی ہے ۔ یہ بھی ناجائز ہے ، کیوں کہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی بند مکان میں عورتوں کا اجتماع ہو اور اگر عورتوں کے رش یا کثرت کی وجہ سے ان سب تک بات پہنچانے کے لیے اسپیکر بھی لگانے پڑیں تو عورتوں کی آواز باہر نہ جائے ۔

فیشنی برقعہ کا حکم

موجودہ دور میں فیشنی برقعہ رائج ہے ، اگر وہ تنگ ہو کہ جسم کے ساتھ چپکا ہوا ہو اور اس سے جسم کی ساخت اور ہیئت ظاہر ہوتی ہو یا اتنا باریک ہو کہ اس سے سر کے بال یا چہرہ اور دیگر اعضا نظر آتے ہوں یا برقعہ کا نقاب اتنا چھوٹا رکھا کہ دونوں طرف کے رخسار صاف نظر آسکیں یا ایسا باریک نقاب برقعہ میں لگایا جو خدوخال اور حسن وجمال کو اور بھی نمایاں کر دے اور خود برقعہ ہی بجائے پردے کے کشش کا سامان بن گیا ہو ۔ نیز برقعہ پھولوں کا بنانا ، چمک دار یا باریک کپڑے کا برقعہ ہونا یا کڑھائی وغیرہ سے برقعے کو مزین کرنا بدنفس لوگوں کو برقعہ والی کی طرف متوجہ کر دیتا ہے، برقعے کیا ہوئے پردے کے بجائے نظروں کو کھینچنے کا سامان بن گئے اور وہی مثل ہو گئی کہ جو نہ دیکھے وہ بھی دیکھے ۔ العیاذ بالله۔ شرعاً ایسے برقعے استعمال کرنا جائز نہیں ۔

چادر اور برقعہ کیسا ہونا چاہیے ؟

شریعت میں برقع اور چادر کےلیے کوئی خاص وضع قطع یا رنگ منقول نہیں ہے ، بلکہ جس رنگ کا بھی ہو درست ہے، البتہ اس کےلیے چند شرائط ہیں اور جس برقعہ میں ذیل میں ذکر کردہ یہ شرائط موجود ہوں وہ شرعی برقعہ ہے ، اسی طرح جس چادر میں یہ شرائط موجود ہوں اس سے پردہ کا حکم پورا ہو جائے گا ۔ شرائط یہ ہیں :

پورے بدن کو چھپائے ہوئے ہو ۔
برقعہ یا چادر بذات خود سادہ اور باوقار ہو ، پُرزینت نہ ہو اور جاذب نظر رنگوں سے یا کڑھائی وغیرہ سے مزین نہ ہو۔
برقعہ یا چادر اتنا دبیز ( موٹا یا گہرارنگ) ہو کہ اس میں جسم کے اعضا نہ نظر آتے ہوں۔
برقعہ یا چادر اتنا کشادہ اور فراخ ہو ( کُھلا ہو) جس سے جسم کے نشیب وفراز اور اعضا کی بناوٹ وہیئت ظاہر نہ ہو۔

راستہ دیکھنے کےلیے ایک آنکھ یا بوقت ضرورت دونوں آنکھیں کھلی رکھنے کی گنجائش ہے ، لیکن واضح رہے کہ ہر ممکن کوشش کریں کہ آنکھوں کے علاوہ چہرہ یا اُس کا کچھ حصہ (رخسار ، ماتھا وغیرہ) بالکل ظاہر نہ ہو او راگر آنکھوں کے آگے جالی وغیرہ لگالی جائے، جو برقعہ میں لگائی جاتی ہے کہ آنکھیں چھپ جائیں تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔ اور
1
بدن پر موجود کپڑوں کو چھپانا بھی ضروری ہے۔

دونوں ہاتھ گٹوں تک اور دونوں پیر اگر کھلے رہیں ، یعنی ظاہر ہوں تو کوئی حرج نہیں، البتہ انہیں بھی دستانوں اور موزوں سے اگر چھپا لیا جائے تو بہت ہی بہتر ہے۔

مروجہ لباس کی خرابی

آج کل ایسے کپڑوں کا رواج ہو گیا ہے کہ کپڑوں کے اندر سے جسم نظر آتا ہے، بہت سے مرد اور عورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ ایسے کپڑوں کی شلوار بنا کر پہن لیتے ہیں جس میں پوری ٹانگ نظر آتی ہے ایسے کپڑے کا پہننا نہ پہننا برابر ہے اور اس سے نماز بھی نہیں ہوتی ،عورت کی نماز درست ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کے چہرے اور گٹوں تک دونوں ہاتھ اور دونوں قدموں کے علاوہ پورا جسم ڈھکا (چھپا) ہوا ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر عورتوں کی نماز اس لیے نہیں ہوتی کہ سر پر ایسا باریک دوپٹہ ہوتا ہے جس سے بال نظر آتے ہیں اور بعض عورتوں کی نماز اس لیے نہیں ہوتی کہ بانہیں کھلی ہوتی ہیں ، اگر ڈھانکی ہوئی ہیں تو اسی باریک دوپٹے سے ڈھانک لیتی ہیں جس سے سب کچھ نظر آتا ہے ، بعض عورتیں ساڑھی باندھتی ہیں اور بلاؤزر اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ناف پر ختم ہو جاتا ہے اور آدھا پیٹ نظر آتا ہے۔ اس سے نماز نہیں ہوتی۔

سنن ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ عورت کو ایسا باریک دوپٹا نہ اوڑھنا چاہیے کہ سر کے بال اور جسم نظر آئے۔

عورتو ں کےلیے ضروری ہے کہ وہ ایسا کپڑا پہنیں جس کی آستینیں پور ی ہوں۔ آدھی آستین کا کرتہ یا قمیض پہننا سخت گناہ ہے اور ایسا باریک لباس بھی پہننا منع ہے جس سے بدن نظر آتا ہو، ایسی عورتیں قیامت میں برہنہ (ننگی) اٹھائی جائیں گی۔

اس کو خوب سمجھ لیں اور دنیا کے رواج کو نہ دیکھیں، دین کو دیکھیں ، دنیا میں تھوڑی سی گرمی کی تکلیف ہو ہی گئی اور فیشن والوں نے کچھ کہہ ہی دیا تو اس سے کیا ہوتا ہے ۔ جنت کے عمدہ کپڑے اور طر ح طرح کی نعمتیں تو نصیب ہوں گی۔ جہاں سب کچھ ہی ہماری خواہش کے مطابق ہو گا۔

سسرال والے مردوں سے پردے کی خاص تاکید

حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ (نامحرم) عورتوں کے پاس مت جایا کرو۔ ایک شخص نے عرض کی ، یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عورت کے سسرال کے مردوں کے متعلق کیا حکم ہے ؟ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سسرالی رشتہ دار تو موت ہیں ۔ (بخاری ومسلم) ۔ اس حدیث میں جو سب سے زیادہ قابل توجہ بات ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عورت کے سسرال کے مردوں کو موت سے تشبیہ دی ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے جیٹھ، دیور اور نندوئی وغیرہ سے اور اسی طرح سسرال کے دوسرے مردوں سے گہرا پردہ کرے، یوں تو ہر نامحرم سے پردہ کرنا لازم ہے، لیکن جیٹھ، دیور او ران کے رشتہ داروں کے سامنے آنے سے اسی طرح بچنا ضروری ہے جیسے موت سے بچنے کو ضروری خیال کرتے ہیں ۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنا سمجھ کر بلا لیا جاتا ہے اور بلا تکلف جیٹھ، دیور اور شوہر کے عزیز واقارب اندر چلے جاتے ہیں ۔اور بہت زیادہ گھل مل جاتے ہیں ۔ اور ہنسی دل لگی تک نوبتیں آجاتی ہیں ۔ شوہر یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو اپنے لوگ ہیں ۔ ان سے کیا روک ٹوک کی جائے ۔ لیکن جب کسی کی طبیعت بھاوج ( بھابھی) پر آجاتی ہے تو! افسوسناک حالات وجود میں آجاتے ہیں ۔ اور جب دونوں طرف سے یگانگت کے جذبات ہوں، کثرت سے آنا جانا ہو، بھرپور نظریں پڑتی ہوں اور شوہر گھر سے غائب ہو تو پھر نہ ہونے والے کام تک ہو جاتے ہیں ۔ ایک پڑوسی کسی عورت کو اتنی جلدی اغوا نہیں کر سکتا ۔ جتنی جلدی اور با آسانی دیور یا جیٹھ اپنی بھابھی کو اغوا کرنے اور برُے کام پر آمادہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ انہیں حالات کے پیشِ نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سسرال کے مردوں سے بچنے اور پردہ کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے اور ان لوگوں کوموت بتا کر یہ سمجھایا ہے کہ ان سے ایسا پرہیز کرو ، جیسے موت سے بچنے کو طبیعت چاہتی ہے ۔ اور ان لوگوں کو بھی حکم ہے کہ اپنی بھاوج ( بھابھی) اور سالے کی بیوی سے میل جول نہ رکھیں اور اس پر نظر نہ ڈالیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلامی احکام کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310809121155134/
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
عورت ایک پردہ ہے اور پردے کی چیز پردے میں ہی بھلی معلوم ہوتی ہے
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310830534486326/
محترم قارئینِ کرام : لغت میں عورت کامعنی پردہ ہے،لیکن پردے کا نام آتے ہی بعض عورتیں اس طرح بدک جاتی ہیں کہ مانواس کے ساتھ بڑا ظلم کیا جارہا ہے جبکہ پردہ ان کےلیے نہ صرف عزت و شرافت کی علامت ہے بلکہ بری نگاہوں سے انہیں بچاتا بھی ہے ۔ یوں تو پردے کا تصور ہر مذہب میں کسی نہ کسی طورپر مل جاتا ہے مگر مذہب اسلام میں پردے کا جو خیال رکھا گیا ہے وہ سب سے بہترطریقہ ہے،اس تعلق سے قرآن مقدس میں کئی آیتیں نازل ہوئی ہیں جس کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ پردہ ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے ۔

معاشرے میں تمام برائیوں کی جڑ بد نگاہی ہے ، کیونکہ بدنگاہی اور اِدھر اُدھر تاک جھانک ہی انسان کو بدکاری کی راہ دکھاتی ہے اور آخرکار انسان گمراہی اور بدنامی کے جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔پردے کاحکم آج سے نہیں ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے ہے،کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علم تھا کہ پردہ نہ ہونے کی وجہ سے دنیامیں ہزاروں فتنے پیدا ہوں گے،یہی سبب ہے کہ احادیث میں پردے کی سخت تاکید کی گئی ہے،امام ترمذی کی ایک حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایاہے : عورت عورت ہے، یعنی چھپانے کی چیزہے،جب یہ نکلتی ہے تواُسے شیطان جھانک کردیکھتا ہے ۔ گویا اُسے دیکھنا شیطانی کام ہے،لیکن دنیا اس فتنے میں جان بوجھ کر مبتلا ہے ، جس فتنے کی وجہ سے بے شرمی اوربے حیائی عام ہوگئی ہے ،جب کہ قرآن مقدس میں آیاہے کہ: مسلمان عورتوں کوحکم دوکہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی پارسائی کی حفاظت کریں اوراپنابنائوسنگارنہ دکھائیں مگرجتنا خودہی ظاہر ہوں اوردوپٹے اپنے گریبانوں پرڈالے رہیں اوراپنا سنگار نہ ظاہرکریں مگر اپنے شوہروں پر یااپنے باپ یااپنے شوہروں کے باپ یااپنے بیٹے یااپنے شوہروں کے بیٹے یااپنے بھائی یااپنے بھتیجے یااپنے بھانجے یااپنے دین کی عورتیں یااپنی کنزیں جواپنے ہاتھ کی ملک ہوں یااپنے نوکر، بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یاوہ بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبرنہیں اورزمین پرپاؤں زورسے نہ رکھیں کہ جاناجائے ان کاچھپاہوا سنگار ۔(چشتی)

لیکن آج دیکھاجارہاہے کہ عورتوں کاحال ذرہ بھر بھی قرآن وحدیث کے مطابق نہیں ہے، بلکہ وہ مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے اور جہاں دیکھوبے حیائی اوربے شرمی ہے ،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بے حیائی اوربے شرمی میں سب سے بڑا ہاتھ عورتوں کاہی ہاتھ ہے۔معاشرے میں تبدیلی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ہم عورتیں اپنے آپ کونہیں بدلیں گے،کیوںکہ عورت اگرپارسااورنیک ہے توگھر اورمعاشرے کے لیے اچھاشگون ہے اوراگر یہی عورت بے حیا اوربے شرم ہے تودونوں کے لیے وبال ہے ۔

اس کے باوجودآج جدھر بھی نظر اٹھاکردیکھا جارہاہے تو پردے کے بجائے عریانیت کاماحول ہے،لباس کے نام پرایسے ایسے کپڑے استعمال کیے جارہے ہیں کہ جس سے پردے کی تکمیل تو دورخود بدن صحیح سے نہیں ڈھک پاتا ہے ۔

اسلام کویہ بے ہودگی اوریہ بدتہذیبی ایک لمحے کے لیے بھی گوارانہیں ہے، اسی لیے اس نے عورتوں کوایسالباس پہننے سے منع کیاہے جس سے جسم کی رنگت یابناوٹ ظاہرہوں، کیونکہ عورت، عفت وعصمت اورپارسائی کی چلتی پھرتی تصویر ہوتی ہے اورشرم وحیا کی جیتی جاگتی دیوی بھی ۔

اسلام عورتوں کو پاکیزگی، حرمت اور عزت وشرافت کے ساتھ زندگی گزارنے کاڈھنگ سکھاتاہے اوربنیادی طورپر یہ ہدایتیں دیتاہے کہ :

1 ۔ عورتیں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔

2 ۔ اپنی پارسائی اورعزت وعظمت کی حفاظت کریں اور اس پرداغ نہ آنے دیں ۔

3 ۔ اپنی زیبائش اورآرائش اوراپنا بنائو سنگار اجنبی کی نگاہوںمیںنہ آنے دیں ۔

4 ۔ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پرڈالے رکھیں تاکہ ان کاسراورسینہ کھلانہ رہے ۔

5 ۔ زمین پراس طرح اپنے پائوں زورسے نہ رکھیں کہ ان کے زیوروں کی جھنکار غیرمردوں کے کان میں پڑے ۔

ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت ام سلمہ اورحضرت ام میمونہ رضی اللہ عنہما حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرتھیں کہ عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انھیں پردہ کرنے کاحکم دیا ، انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو نابینا ہیں ، اس پر فرمایا:تم تونابینانہیں ہو۔(چشتی)

اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ برائی کی جڑنگاہیں ہیں اس لیے اس کاخیال رکھناچاہیے، اگر ضرورت پڑنے پرغیرمحرم سے مخاطب ہونا پڑے یاکوئی کام ہوتوبھی نگاہیں نیچی رکھیں ۔
1
پردہ صرف لباس یانگاہ تک نہیں ہے،بلکہ آوازکابھی خیال رکھناچاہیے کہ زیادہ زورزورسے اورچلاکر نہ بولیں، کیوں کہ عورتوںکی آواز میں ایک کشش ہوتی ہے جوانسان کے دلوں میں برے خیالات پیداکرسکتے ہیں اورعورت کویہ بھی چاہیے کہ وہ اپنے بنائوسنگارمیں کسی ایسی خوشبوکا استعمال نہ کریں جومردوں کوان کی جانب متوجہ کردے اورایسے زیوربھی پہننے سے گریز کریں جس میں آواز ہو،کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں مردوں کولبھانے اوراپنی جانب متوجہ رکھنے کےلیے عورتوں میں یہ بات بڑی پسندیدہ مانی جاتی تھی کہ:جب اُن کاگزراجنبی مردوں کے سامنے یاکسی مجمع سے ہوتا تووہ اپنے پائوں کوزورسے زمین پر رکھتی تھیں تاکہ مرداُن کے زیوروں کی آواز سن کر اُن کی طرف متوجہ ہوں اوراُن کے دل میں اُن کا خیال پیداہو۔آج بھی کچھ عورتیں اپنا سنگار ظاہر کرنے کے لیے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ایسی اوچھی حرکت کرتی ہیں،شریعت مطہرہ نے ایسی ذلیل حرکتوں سے سختی کے ساتھ روکاہے کہ زورسے قدم زمین پرنہ رکھیں کہ ُان کے زیوروں کی جھنکار غیروں کے کانوں تک پہنچے اوروہ ان کی جانب متوجہ ہوں ۔

اگر کبھی کسی ضرورت کے تحت عورت کو گھر سے نکلنا بھی پڑے توحکم ہے کہ شرافت اور سنجیدگی سے اپناقدم بڑھائیں اورپردے کاخاص خیال رکھیں، کیوں کہ یہی وہ ساری صفات اور عادات ہیں جنھیں چھوڑدینے سے انسان غلط راستہ اختیار کرلیتاہے اورگناہوں کے دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے ۔

عورت کی آواز بھی عورت ہے اس کا بھی پردہ کریں

ایک مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح خواتین کے لیے اپنے جسم کو نامحرم مردوں سے چھپانا ضروری ہے ، اسی طرح اپنی آواز کو بھی نامحرم مردوں تک پہنچنے سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ جہاں ضرورت ہو وہاں نامحرم مرد سے پردہ کے پیچھے سے بات کرسکتی ہے، اسی طرح ٹیلی فون پر بھی ضرورت کے وقت بات کر سکتی ہے ، البتہ ادب یہ ہے کہ نامحرم سے بات کرتے وقت عورت اپنی آواز کی قدرتی لچک اور نرمی کو ختم کرکے ذرا خشک لہجے میں بات کرے، تاکہ قدرتی لچک اور نرمی ظاہر نہ ہونے پائے اور نامحرم مرد کو عورت کے نرم انداز گفتگو سے بھی کسی گناہ کی لذت لینے کا موقع نہ مل سکے۔ اس سے شریعت کی احتیاط کا اندازہ لگائیے آج کل ہمارے معاشرے میں جن گھروں میں کچھ پردہ کا اہتمام ہوتا ہے ، وہاں بھی عورت کی آواز کے سلسلے میں عموماً کوئی احتیاط نہیں کی جاتی، بلکہ نامحرم مردوں سے بلاضرورت بات چیت ہوتی رہتی ہے اور ان سے گفتگو میں ایسا انداز ہوتا ہے جیسے اپنے محرم کے ساتھ گفتگو کا انداز ہوتا ہے، مثلاً جس بے تکلفی سے انسان اپنی ماں کے ساتھ، اپنی بیٹی کے ساتھ، اپنی بیوی کے ساتھ اوراپنی سگی بہن کے ساتھ بات چیت کرتا ہے اور ہنستا بولتا ہے اوراس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، لیکن بعض اوقات یہ انداز نامحرم عورتوں کے ساتھ گفتگو کے وقت بھی ہوتا ہے ۔ اور نامحرم عورتیں نامحرم مردوں کے ساتھ یہی انداز اختیار کر لیتی ہیں اور گفتگو کے دوران ہنسی مذاق، دل لگی اور چھیڑ چھاڑ سبھی کچھ ہوتا ہے ، آج یہ باتیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں ۔ یاد رکھیے! جس طرح عورت کے جسم کا پردہ ہے، اسی طرح اس کی آواز کا بھی پردہ ہے، جس طرح عورت کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو نامحرم مرد کے سامنے آنے سے بچائے ، اسی طرح اس کے ذمہ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی آواز کو بھی بلاضرورت نامحرم مردوں تک جانے سے روکے ، البتہ جہاں ضرورت ہے وہاں بقدر ضرورت (ضرورت کی حد تک) گفتگو کرنا جائز ہے ۔ اور اسی طرح نامحرم مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ بلا ضرورت نامحرم عورت کی آواز کی طرف کان نہ لگائیں ۔ (یعنی نہ سنیں)
اور نامحرم عورت کی آواز یا نامحرم مرد کی آواز کو خواہش نفس (شہوت) کی تسکین کی خاطر سننا یقینا ناجائز اور گناہ ہے ۔ حج جو کہ فرض ہے اورحج میں زور سے تلبیہ (یعنی لبیک اللھم لبیک) پڑھا جاتا ہے، لیکن عورتوں کےلیے حکم یہ ہے کہ عورتیں تلبیہ زور سے نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ آواز میں پڑھیں ۔(چشتی)

بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کی دینی تقریات، اجتماعات وغیرہ میں اسپیکر لگے ہوتے ہیں ۔ جن کے ذریعے عورتوں کی تقاریر ، نعتوں وغیرہ کی آواز دور دور تک سنائی دیتی ہے ۔ یہ بھی ناجائز ہے ، کیوں کہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی بند مکان میں عورتوں کا اجتماع ہو اور اگر عورتوں کے رش یا کثرت کی وجہ سے ان سب تک بات پہنچانے کے لیے اسپیکر بھی لگانے پڑیں تو عورتوں کی آواز باہر نہ جائے ۔

اب جبکہ عورت خود ایک پردہ ہے اورپردے کی چیز پردے میں ہی بھلی معلوم ہوتی ہے تو ہرحال میں عورتوں کو پردے کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اورشریعت مطہرہ پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ نبی الکریم الامین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310830534486326/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2
Forwarded from شکیل احمد قاضی برکاتی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ.
حضراتِ مفتیانِ محترم و علمائے مکرم اس مسئلہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ ھندہ کو طلاق ہونے کے بعد دورانِ عدت کیا دوسری جگہ رشتہ مقرر کر سکتی ہے...؟ کہ عدت کے بعد فوراً نئے شوہر سے نکاح کر لے.
کیا دورانِ عدت شادی کے پہلے کے معاملات طے کرنا مثلاً لڑکا و لڑکی کا دیکہ لینا اور منگنی، سگائی، نکاح کے لئے تاریخ مقرر کرنا. یہ سب از روئے شرع کیسا ہے. مع دلائل و حوالہ جواب مزین فرما کر جلد از جلد رہنمائی فرمائیں.
بینوا توجروا.
سائل :- شکیل احمد قاضی برکاتی. راجکوٹ. گجرات. الھند
Forwarded from ✰عــــــزیـــــز مـصبــاحی✰
مجدد ملت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ١٣٤٠ھ علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :

عدت میں نکاح حرام قطعی ہے بلکہ نکاح تو بڑی چیز ہے قرآن عظیم نے عدت میں نکاح کے صریح پیام کو بھی حرام فرمایا۔ نکاح بعدِ عدت کر لینے کے وعدہ کو بھی حرام فرمایا صرف اس کی اجازت دی ہے کہ دل میں خیال رکھو یا کوئی پہلو دار بات ایسی کہو جس سے بعدِ عدت ارادۂ نکاح کا اشارہ نکلتا ہو۔ صاف صاف یہ ذکر نہ ہو کہ میں بعدِ عدت تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، یہاں تک کہنا بھی حرام ہے تو خود نکاح کرلینا کیوں کر حلال ہوگا، پھر پہلو دار بات بھی عدتِ وفات والی سے کہنا جائز ہے، عدتِ طلاق والی سے بَاِجماعِ امت وہ بھی جائز نہیں (فتاوی رضویہ، ج١١، ص٤٤٠، مسئلہ ٢٣٥)

اور لکھتے ہیں :
عدت میں نکاح کا پیام دینا بھی حرام ہے اور اگر پیام نہیں، مثلا اس کے گھر والے دریافت کریں کہ نکاح ثانی کا ارادہ ہے یا کیا، تو حرج نہیں (ایضاً، ج١٣، ص٣٣٢، مسئلہ ١٠٢)
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شبِ برات کی اہمیت و فضیلت اور احادیث کو ضعیف کہنے والوں کو جواب
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310483941187652/
محترم قارئینِ کرام : شب برات کے متعلق دس (10) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ہیں ۔ اللہ رب العزت نے بعض دنوں کو عام دنوں پرفضیلت دی ہے ، یومِ جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر ، ماہ رمضان کو تمام مہینوں پر ، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر ، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر ۔

احادیثِ مبارکہ سے اس بابرکت رات کی جو فضیلت و خصوصیت ثابت ہے اس سے مسلمانوں کے اندر اس رات اتباع و اطاعت اور کثرتِ عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ترغیب ملتی ہے ۔

احادیث مبارکہ میں ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ یعنی شعبان کی 15ویں رات کو شب برات قرار دیا گیا ہے ، اس رات کو براۃ سے اس وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس رات عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا کردیتا ہے ۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس کی فضیلت میں روایت موجود ہیں لہٰذا اس رات کی فضیلت و اہمیت کو رد نہیں کیا جاسکتا ان میں سے چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں :

شب برات میں تمام لوگوں کی بخشش مگر کچھ لوگوں کی مغفرت نہیں ہوتی

پندرہ شعبان کی رات یعنی شبِ برات کو اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے ۔ (سِلسِلہ الاحادیث صحیحہ صفحہ نمبر 135 محدث الوہابیہ شیخ ناصر البانی لکھتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے)

مکمل حدیث پاک یہ ہے : عَنْ اَبِیْ مُوسیٰ الاشْعَرِیِّ عَنْ رسولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اِنَّ اللّٰہَ لَیَطَّلِعُ فی لَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِہ اِلاَّ لِمُشْرِکٍ او مُشَاحِنٍ ۔ (سنن ابن ماجہ ص۹۹)(شعب الایمان للبیہقی ۳/۳۸۲)
ترجمہ : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نظر فرماتا ہے نصف شعبان کی رات میں ، پس اپنی تمام مخلوق کی مغفرت فرمادیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے ۔

”مشاحن“ کی ایک تفسیر اس شخص سے بھی کی گئی ہے جو مسلمانوں کی جماعت سے الگ راہ اپنائے ۔ (مسند اسحاق بن راہویہ ۳/۹۸۱، حاشیہ ابن ماجہ ص۹۹) حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں ”زانیہ“ بھی آیا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت میں ”رشتہ داری توڑنے والا، ٹخنوں سے نیچے ازار لٹکانے والا ، ماں باپ کا نافرمان اور شراب کا عادی“ بھی آیا ہے اور بعض روایات میں عشّار، ساحر، کاہن، عرّاف اور طبلہ بجانے والا بھی آیا ہے ۔ گویا احادیث شریفہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ عام مغفرت کی اس مبارک رات میں چودہ (14) قسم کے آدمیوں کی مغفرت نہیں ہوتی ؛ لہٰذا ان لوگوں کو اپنے احوال کی اصلاح کرنی چاہیے : (1) مشرک، کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو (2) بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی سے کینہ اور دشمنی رکھنے والا (3) اہل حق کی جماعت سے الگ رہنے والا (4) زانی وزانیہ (5) رشتے داری توڑنے والا (6) ٹخنوں سے نیچے اپنا کپڑا لٹکانے والا (7) ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا (8) شراب یا کسی دوسری چیز کے ذریعے نشہ کرنے والا (9) اپنا یا کسی دوسرے کا قاتل (10) جبراً ٹیکس وصول کرنے والا (11) جادوگر (12) ہاتھوں کے نشانات وغیرہ دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے والا (13) ستاروں کو دیکھ کر یا فال کے ذریعے خبر دینے والا (14) طبلہ اور باجا بجانے والا ۔ (شعب الایمان ۳/۳۸۲، ۳۸۳)(الترغیب والترہیب ۲/۷۳،چشتی)(مظاہر حق جدیث ۲/۲۲۱، ۲۲۲)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تلاش میں میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کیا تمھیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تمھارے ساتھ زیادتی کریں گے میں عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا مولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بال سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ (ترمذی جلد صفحہ 156)(ابن ماجہ صفحہ 100،چشتی)(مسند احمد جلد 6 صفحہ 238)(مشکو جلد صفحہ 277)(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 1 صفحہ 237)(شعب الایمان للبقیہی جلد 3 صفحہ 379)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ماہ رمضان کے علاوہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روز رکھتے نہیں دیکھا ۔ (بخاری مسلم مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441) ۔ ایک اور روایت میں فرمایا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چند دن چھوڑ کر پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے ۔
آپ ہی مروی ہے کہ سرکار عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے ۔ (ماثبت من السنہ ، صفحہ 188)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا’’ کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟‘‘ میں نےعرض کی کی یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ فرمایئے ۔ ارشاد ہوا کہ ’’آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کے (سال بھر کے) اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کو مقررہ رزق اتاراجاتا ہے ۔ (مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277

ایک روایت کے مطابق حضرت مولا علی کرم ﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، ’’جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو تم اس کی رات کو قیام کیا کرو اور اس کے دن روزہ رکھا کرو، بے شک ﷲ تعالیٰ اس رات اپنے حسبِ حال غروب آفتاب کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ (ابن ماجه، السنن، 1: 444، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی ليلة النصف من شعبان، رقم: 1388،چشتی)

محترم قارئینِ کرام : اس شب میں نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نمازیں پڑھیں قرآن کریم تلاوت کریں ، تسبیح کریں دعائیں کریں یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں ۔

جب کہ اس کے برعکس بعض لوگ ایسے کم نصیب ہیں جو اسی مقدس رات میں فکر آخرت اور عبادت ودعا میں مشغول ہونے کے بجائے مزید لہو ولعب میں مبتلا ہوجاتے ہیں آتش بازی اور پٹاخے اور دیگر نا جائز امور میں مبتلا ہوکر وہ اس مبارک رات کا تقدس پامال کرتے ہیں ، حالانکہ آتش بازی اور پٹاخے نہ صرف ان لوگوں اور ان کے بچوں کی جان کا خطرہ ہیں بلکہ اردگرد کے لوگوں کی جان کی بازی کیلئے بھی خطرے کا باعث بنتا ہے ، ایسے لوگ ’‘مال برباد گناہ لازم ‘ کا مصداق ہیں ۔ ہمیں چاہیئے کہ ایسے گناہ سے خود بھی بچیں اور دوسروں کا بھی بچائیں ، حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، آتشبازی بے شک حرام ہے اس میں مال کا ضیاع ہے ۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا ہے ارشاد ہوا ’’اور فضول نہ اڑا بے شک مال اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں’’ (بنی اسرائیل) (فتاویٰ رضویہ) ۔ ان احادیث سے جس طرح اس مبارک رات کے بیش بہا فضائل و برکات معلوم ہوئے اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کےلیے اس رات کی بے پناہ فضیلت ہے ، اس رات مسلمانوں کو چاہیئے اپنے گناہوں سے توبہ استغفار کے لئے اللہ عزّ و جل کے حضور سر بسجود ہوں اور دعائیں کریں ۔

شب برات کی احادیث کو ضعیف کہنے والوں کو جواب

محترم قارئینِ کرام : ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے کہ لوگ ضعیف حدیث کو من گھڑت کے معنی میں لیتے ہیں اور اسکو حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ جملے بھی کانوں میں پڑتے رہتے ہیں کہ بھائی فلاں مسئلہ میں تمام احادیث ضعیف ہیں ا س لیے چھوڑو اس پر عمل کرنا، افسوس ہوتا ہے لوگ بغیر علم کے احادیث پر تبصرہ ایسے کرجاتے ہیں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں کسی راہ چلتے کی بات ہے یا اخبار میں چھپی کسی کی بات ہے ۔

ضروری وضاحت ضعیف نا کہ من گھڑت

پہلی بات یہ کہ ضعیف حدیث بھی حدیث رسول ہی ہوتی ہے یہ لازمی من گھڑت نہیں ہوتی بلکہ راوی میں کچھ کمیوں ، کمزوریوں کی وجہ سے اسکو ضعیف کہا جاتا ہے ، یہ بحرحال ممکن ہوتا ہے کہ اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو اس لیے اسکو بالکل چھوڑا نہیں جاتا بلکہ فضائل کے باب میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ علماء نے اس لفظ 'ضعیف' کی مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں مثلا یہ وہ حدیث کہلاتی ہے جومنکر اور باطل نہ ہو اور اس کےراوی متہم بالکذب نہ ہو، اس حدیث کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہ ہو ۔ ایسی حدیث جس میں حدیث صحیح وحسن کی شرائط نہ پائی جائیں، اس میں ایسے اسباب ہوں جو کسی حدیث کوضعیف قرار دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں، اس کے راوی غیرعادل یامتہم بالکذب، یامستورالحال ہوں ، یہ متعدد طرق سے مروی بھی نہ ہو ۔ (اعلاء السنن ، احکام القرآن للجصاص)

کیا اس حدیث کا ضعف ختم ہوسکتا ہے ؟
اگرحدیث ضعیف کئی سندوں سے مروی ہو اور ضعف کی بنیاد راوی کا فسق یا کذب نہ ہو تواس کی وجہ سے وہ ضعف سے نکل جاتی ہے اور اسے قوی ومعتبر اور لائق عمل قرار دیا جاتا ہے، محدثین کی اصطلاح میں اس کو "حسن لغیرہ" کہتے ہیں، حافظ بن حجر رحمہ اللہ کی تفصیل کے مطابق یہ حدیث مقبول ومعتبر کی چار اقسام میں سے ایک ہیں۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حسن لغیرہ بھی اصل میں ضعیف ہی ہے؛ مگرکسی قوت پہنچانے والے امر کی وجہ سے اس میں حسن پیدا ہو جاتاہے ۔ (فتح المغیث:۳۵/۳۶)
اسی طرح اگر حدیث نص قرآنی ہویاقولِ صحابی ہو یاشریعت کےکسی قاعدہ وضابطہ کے مطابق ہو تو اسکا ضعف نکل جاتا ہے ۔ (نزھۃ النظر صفحہ نمبر ۲۹،چشتی)

ضعیف حدیث کی اقسام

ضعیف روایات کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر ایک کے ضعف میں راویوں کی کمزوری کی شدت یا کمی کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے ۔ مشہور قسمیں ضعیف، متوسط ضعیف، شدید ضعیف اور موضوع ہیں۔ موضوع یعنی گھڑی ہوئی حدیث۔ یہ ضعیف حدیث کا کم ترین درجہ ہے ۔

ضعیف حدیث پر عمل

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے کی تین شرطیں بیان کی ہیں ۔ ایک یہ کہ حدیث شدید ضعیف نہ ہو مطلب اسکا راوی جھوٹا اور دروغ گوئی میں مشہور نہ ہو اور نہ فحش غلطیوں کا مرتکب ہو۔ دوسری اس پر عمل کرنا اسلام کے ثابت اور مقرر ومعروف قواعد کے خلاف نہ ہو ۔ تیسری یہ کہ عمل کرتے ہوئے اسے صحیح حدیث کی طرح قبول نہ کیا جائے بلکہ اس بناء پر عمل کیا جائے کہ ممکن ہے کہ حقیقت میں اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو ۔ (اعلاء السنن:۱/۵۸)

جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ عقائد کے ثبوت کے لیے مشہور یامتواتر حدیث ضروری ہے ، حدیث ضعیف اور خبرواحد اثبات عقائد کےلیے کافی نہیں ہے ، ضعیف حدیث اور فضائل کے متعلق لکھتے ہوئے علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد مذاہب کو نقل کیا ہے، جن میں سے ایک امام مسلم اور دیگرمحدثین علیہم الرّحمہ اور ابنِ حزم کا ہے کہ ضعیف حدیث کسی بھی باب میں حجت نہیں بن سکتی ، چاہے وہ فضائل کا باب ہی کیوں نہ ہو ۔ (نووی علی مسلم :۱/۶۰،چشتی)

دوسرا مذہب جس کو علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کا مذہب کہہ کر بیان کیاہے اور حافظ ابنِ حجر مکی اور ملا علی قاری نے بھی جسے جمہور کا اجماعی مسلک قرار دیا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے ۔ (الفتاویٰ الحدیثیہ :۱۱۰)

آئمہ حدیث میں عبداللہ بن مبارک ، عبدالرحمن بن مہدی ، امام احمد وغیرہ سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے ۔ (اصول امام احمد بن حنبل:۲۷۴)

شیخ تقی الدین تحریر فرماتے ہیں کہ یہ گنجائش اس لیے ہے کہ اگرایسی حدیث نفس الامر اور واقع میں صحیح ہے تواس پر عمل کرنا اس کا حق تھا اور اگرواقع میں صحیح نہ تھی توبھی فضائل کے باب میں اس پر عمل کرنے کی وجہ سے دین میں کوئی فساد لازم نہیں آئےگا، اس لیے کہ یہ صورت تحلیل وتحریم اور کسی کے حق سے متعلق نہیں ہے اور پھریہ جواز مطلق نہیں ہے؛ بلکہ ماقبل میں ذکرکردہ شرائط کے ساتھ ہے ۔ (شرح الکوکب المنیر:۲/۵۷۱)

ضعیف احادیث اور اقوال صحابہ

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ و امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ضعیف حدیث کے بالمقابل فتاویٰ اور اقوالِ صحابہ کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین درس رسالت کے چراغ ہیں ، ان کا ہرقول وعمل سنت کے مطابق ہوا کرتا تھا ، ان کے کلام سے کلام رسالت کی بومہکتی ہے اور انھوں نے دین کوپہلو رسالت میں رہ کر جتنا سمجھا اور سیکھا ہے دوسرا ان کی خاک تک بھی نہیں پہنچ سکتا، ان کے اقوال وافعال میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے اورحدیث ضعیف کی صحت وعدم صحت مشتبہ ہے ؛ لہٰذا صحابہ کرام کے فتاویٰ واقوال کو ضعیف حدیث پر ترجیح دی گئی ۔

شب برات کے متعلق ضعیف احادیث

مشہور دیوبندی عالم جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے شب برات کی احادیث کے متعلق لکھا کہ : " شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماء نے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے ، لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہو جائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے ، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے ۔ امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور ، تبع تابعین رضی اللہ عنہم کا دور ، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ،
لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں ، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے ، اس رات میں عبادت کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے ۔ اس پیرہ گراف سے تین باتیں واضح ہورہی ہیں ۔
1 : شب برات کے متعلق احادیث ضعیف لیکن کئی سندوں سے مروی ہیں ایسی حدیث کے متعلق اوپر بیان کیا جاچکا ۔
2 : یہ احادیث نا عقائد کے باب میں استعمال ہورہی ہیں اور نا شریعت کے کسی حکم کے خلاف ہیں ۔
3 : اس رات کی فضیلت کے متعلق نہ صرف اقوال صحابہ بلکہ اعمال صحابہ بھی موجود ہیں ۔ ایسی احادیث کا انکار کرنا یا ان سے ثابت فضیلت کا انکار کرنا دونوں باتیں زیادتی ہی ہے ۔ (رسالہ شبِ براء ت کی حقیقت از مفتی محمد تقی عثمانی دیوبندی) ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310483941187652/