من اول اللیل ثم قال یا محمد ان للہ تعالیٰ فیھا عتقاء من النار بعدد شعرغنم کلب ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیںکہ آپ نے ارشاد فرمایا :شعبان کی پندرھویں رات میرے پاس جبرئیل علیہ السلام نے حاضر ہوکر عرض کیا : اے پیکر حمدوثنا! اپنا سرانور آسمان کی جانب اٹھائیے ،میں نے کہا :واہ‘اس رات کے کیا کہنے! ،جبرئیل نے عرض کیا اس رات اللہ تعالیٰ رحمت کے تین سو دروازے کھولتا ہے اور ہر اس شخص کی بخشش فرمادیتا ہے جس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، سوائے یہ کہ وہ جادوگر ہو یا کاہن ہو یا شراب کا عادی ہو یا ہمیشہ کا سود خوار اور بدکار ہو کیونکہ ان لوگوں کو نہیں بخشا جائے گا یہاں تک کہ و ہ توبہ کرلیں ، پھر جب چوتھائی رات ہوئی تو جبرئیل نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا:اے پیکر حمد وثنا و لائق ہر ستائش و خوبی ! اپنا سرا نور اٹھائیے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرانور اٹھایا تو جنت کے دروازے کھلے ہیں، پہلے دروازہ پر ایک فرشتہ اعلان کررہا ہے: اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے اس رات رکوع کیا، دوسرے دروازہ پر ایک فرشتہ آواز دے رہا ہے: اس شخص کیلئے خوشخبری ہے جس نے اس رات سجدہ کیا ، تیسرے دروازہ پر ایک فرشتہ ندادے رہا ہے: بشارت ہے اس شخص کیلئے جس نے اس رات دعاکی ، چوتھے دروازہ پر ایک فرشتہ اعلان کررہا ہے :اس رات ذکر کرنے والوں کیلئے مژدہ ہے ، پانچویںدروازہ پر ایک فرشتہ آوازدے رہا ہے: خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو اس رات اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئے ، چھٹے دروازہ پرایک فرشتہ منادی ہے: اس رات اطاعت کرنے والوں کیلئے بشارت ہے ، ساتویں دروازہ پر ایک فرشتہ آوازدے رہا ہے: کیا کوئی مانگنے والاہے کہ اس کی مانگ پوری کی جائے! اورآٹھویں دروازہ پر ایک فرشتہ اعلان کررہا ہے: کیا کوئی بخشش کا طلبگارہے کہ اسے بخش دیا جائے! میں نے کہا: اے جبرئیل!یہ دروازے کب تک کھلے رہتے ہیں، جبرئیل نے عرض کیا: رات کے ابتدائی حصہ سے فجر طلوع ہونے تک پھر عرض کیا : اے پیکر حمدوثنا ولائق ہر ستائش وخوبی ! یقینااس رات اللہ تعالی قبیلۂ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی مقدار بندوں کو دوزخ سے آزاد فرماتاہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق ،ج:1 ،ص:191،چشتی)
وہ لوگ جن کی شب براء ت بخشش نہ ہوگی : مقام غورہے کہ سارے لوگ اللہ رب العزت کی رحمتوں کو حاصل کررہے ہونگے ، اس کی نعمتوں سے اپنی جھولیوں کو بھر رہے ہوں گے اور اس بخشش والی رات سعادتوں سے اپنے مقدر چمکارہے ہونگے ، ایسی انعام والی رات مغفرت نہ پانا یقینا محرومی کی بات ہے اوراپنے حال پر افسوس وندامت کرنے کی بات ہے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس رات کی فضیلت سے آگاہ فرمایا، اس رات بٹنے والی رحمتوں ‘برکتوں اور چھٹکارے کا تذکرہ بھی فرمادیا، بات یہیں ختم نہ ہوئی ‘بلکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم گنہگاروں کی بندہ پروری فرماتے ہوئے ؛اس رات محروم رہنے والوں کی تفصیل بھی بتلادی ، چنانچہ اس طرح کرم کا معاملہ فرمایاکہ اگر کوئی شرک وبدعقیدگی ‘قتل وغارت گری اور کینہ پروری میں مبتلا ہوتو شرک وبدعقیدگی کو بالکلیہ طورپرچھوڑے اوردیگر گناہوں پرصدق دل سے توبہ کرلے تواسے سایۂ رحمت میں جگہ دیدی جائیگی ، اگر کوئی ڈاکہ زنی وبدکاری اور سود خوری وشراب نوشی میں ملوث ہوتو ان برائیوں سے باز آجائے اور انہیں آئندہ نہ کرنے کا عہد کرے، متعلقہ افراد کے حقوق ادا کرے اور ان کے املاک واپس کردے تو اس کی کوتاہیوں کو درگزر کردیا جائے گااور اس کے گناہوں کو بھی بخش دیا جائے گا ۔
اسی طرح اگر کوئی جادو کررہا ہے ‘رشتہ داری کاٹ رہاہے اور والدین کی نافرمانی کررہاہے تو اپنے حال زار پر افسوس کرے ،رب العزت کے دربار میں ندامت کے آنسو بہائے اوراپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اہل حقوق کے حقوق ادا کرے تو اللہ تبارک وتعالی اسے بھی محروم نہیں فرمائے گااور اس رات کی برکتوں سے ضرور مالا مال فرمائے گا ۔
اگر سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم ان گناہوں کی تفصیل نہ بتلاتے ہوتے تو یہ تمام لوگ محروم رہ جاتے ، آپ نے اپنی شان رحمۃ للعالمینی کا صدقہ عطا فرمایا اور اپنے وسعت علم اور نگاہ نبوت کے مشاہدہ کے ذریعہ اُن تمام تر تفصیلات سے ہمیں باخبر فرمایا۔ چنانچہ شعب الایمان میں حدیث پاک ہے ،ام المو منین سید تنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے،وہ شب براء ت کے بارے میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان فرماتی ہیں : اتانی جبریل علیہ السلام فقال ھذہ اللیلۃ لیلۃ النصف من شعبان و للہ فیھا عتقاء من النار بعدد شعور غنم کلب لا ینظر اللہ فیھا الی مشرک ولا الی مشاحن ولا الی قاطع رحم ولا الی مسبل ولا الی عاق لوالدیہ ولا الی مدمن خمر۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیںکہ آپ نے ارشاد فرمایا :شعبان کی پندرھویں رات میرے پاس جبرئیل علیہ السلام نے حاضر ہوکر عرض کیا : اے پیکر حمدوثنا! اپنا سرانور آسمان کی جانب اٹھائیے ،میں نے کہا :واہ‘اس رات کے کیا کہنے! ،جبرئیل نے عرض کیا اس رات اللہ تعالیٰ رحمت کے تین سو دروازے کھولتا ہے اور ہر اس شخص کی بخشش فرمادیتا ہے جس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، سوائے یہ کہ وہ جادوگر ہو یا کاہن ہو یا شراب کا عادی ہو یا ہمیشہ کا سود خوار اور بدکار ہو کیونکہ ان لوگوں کو نہیں بخشا جائے گا یہاں تک کہ و ہ توبہ کرلیں ، پھر جب چوتھائی رات ہوئی تو جبرئیل نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا:اے پیکر حمد وثنا و لائق ہر ستائش و خوبی ! اپنا سرا نور اٹھائیے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرانور اٹھایا تو جنت کے دروازے کھلے ہیں، پہلے دروازہ پر ایک فرشتہ اعلان کررہا ہے: اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے اس رات رکوع کیا، دوسرے دروازہ پر ایک فرشتہ آواز دے رہا ہے: اس شخص کیلئے خوشخبری ہے جس نے اس رات سجدہ کیا ، تیسرے دروازہ پر ایک فرشتہ ندادے رہا ہے: بشارت ہے اس شخص کیلئے جس نے اس رات دعاکی ، چوتھے دروازہ پر ایک فرشتہ اعلان کررہا ہے :اس رات ذکر کرنے والوں کیلئے مژدہ ہے ، پانچویںدروازہ پر ایک فرشتہ آوازدے رہا ہے: خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو اس رات اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئے ، چھٹے دروازہ پرایک فرشتہ منادی ہے: اس رات اطاعت کرنے والوں کیلئے بشارت ہے ، ساتویں دروازہ پر ایک فرشتہ آوازدے رہا ہے: کیا کوئی مانگنے والاہے کہ اس کی مانگ پوری کی جائے! اورآٹھویں دروازہ پر ایک فرشتہ اعلان کررہا ہے: کیا کوئی بخشش کا طلبگارہے کہ اسے بخش دیا جائے! میں نے کہا: اے جبرئیل!یہ دروازے کب تک کھلے رہتے ہیں، جبرئیل نے عرض کیا: رات کے ابتدائی حصہ سے فجر طلوع ہونے تک پھر عرض کیا : اے پیکر حمدوثنا ولائق ہر ستائش وخوبی ! یقینااس رات اللہ تعالی قبیلۂ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی مقدار بندوں کو دوزخ سے آزاد فرماتاہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق ،ج:1 ،ص:191،چشتی)
وہ لوگ جن کی شب براء ت بخشش نہ ہوگی : مقام غورہے کہ سارے لوگ اللہ رب العزت کی رحمتوں کو حاصل کررہے ہونگے ، اس کی نعمتوں سے اپنی جھولیوں کو بھر رہے ہوں گے اور اس بخشش والی رات سعادتوں سے اپنے مقدر چمکارہے ہونگے ، ایسی انعام والی رات مغفرت نہ پانا یقینا محرومی کی بات ہے اوراپنے حال پر افسوس وندامت کرنے کی بات ہے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس رات کی فضیلت سے آگاہ فرمایا، اس رات بٹنے والی رحمتوں ‘برکتوں اور چھٹکارے کا تذکرہ بھی فرمادیا، بات یہیں ختم نہ ہوئی ‘بلکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم گنہگاروں کی بندہ پروری فرماتے ہوئے ؛اس رات محروم رہنے والوں کی تفصیل بھی بتلادی ، چنانچہ اس طرح کرم کا معاملہ فرمایاکہ اگر کوئی شرک وبدعقیدگی ‘قتل وغارت گری اور کینہ پروری میں مبتلا ہوتو شرک وبدعقیدگی کو بالکلیہ طورپرچھوڑے اوردیگر گناہوں پرصدق دل سے توبہ کرلے تواسے سایۂ رحمت میں جگہ دیدی جائیگی ، اگر کوئی ڈاکہ زنی وبدکاری اور سود خوری وشراب نوشی میں ملوث ہوتو ان برائیوں سے باز آجائے اور انہیں آئندہ نہ کرنے کا عہد کرے، متعلقہ افراد کے حقوق ادا کرے اور ان کے املاک واپس کردے تو اس کی کوتاہیوں کو درگزر کردیا جائے گااور اس کے گناہوں کو بھی بخش دیا جائے گا ۔
اسی طرح اگر کوئی جادو کررہا ہے ‘رشتہ داری کاٹ رہاہے اور والدین کی نافرمانی کررہاہے تو اپنے حال زار پر افسوس کرے ،رب العزت کے دربار میں ندامت کے آنسو بہائے اوراپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اہل حقوق کے حقوق ادا کرے تو اللہ تبارک وتعالی اسے بھی محروم نہیں فرمائے گااور اس رات کی برکتوں سے ضرور مالا مال فرمائے گا ۔
اگر سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم ان گناہوں کی تفصیل نہ بتلاتے ہوتے تو یہ تمام لوگ محروم رہ جاتے ، آپ نے اپنی شان رحمۃ للعالمینی کا صدقہ عطا فرمایا اور اپنے وسعت علم اور نگاہ نبوت کے مشاہدہ کے ذریعہ اُن تمام تر تفصیلات سے ہمیں باخبر فرمایا۔ چنانچہ شعب الایمان میں حدیث پاک ہے ،ام المو منین سید تنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے،وہ شب براء ت کے بارے میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان فرماتی ہیں : اتانی جبریل علیہ السلام فقال ھذہ اللیلۃ لیلۃ النصف من شعبان و للہ فیھا عتقاء من النار بعدد شعور غنم کلب لا ینظر اللہ فیھا الی مشرک ولا الی مشاحن ولا الی قاطع رحم ولا الی مسبل ولا الی عاق لوالدیہ ولا الی مدمن خمر۔
❤1
ترجمہ : حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب براءت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اورعرض کیا: یہ رات شعبان کی پندرھویں رات ہے، اس رات اللہ تعالیٰ قبیلۂ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی مقدار میں دوزخ سے گنہگاروں کو آ زاد فرماتا ہے ، اور اس رات چند لوگوں کی طرف نظررحمت نہیں فر ماتا،(وہ یہ ہیں:) مشرک ، بدعقیدہ اورکینہ پرور، رشتہ داری کاٹنے والا،ٹخنوں کے نیچے لباس رکھنے والا،والدین کا نا فرمان، شراب کاعادی ۔ (شعب الایمان للبیھقی،اکنت تخافین ان یحیف اللہ ، حدیث: 3678) ۔ اس حدیث شریف کے علاوہ شب براءت میں رب العالمین کی رحمتوں سے محروم رہنے والے افراد سے متعلق احادیث مبارکہ میں تفصیلات ملتی ہیں ، جن کی تعداد تقریباً چودہ (14) ہے، وہ یہ ہیں : (1) مشرک ۔ (2) بدعقیدہ ۔ (3) کینہ پرور ۔ (4) قاتل ۔ (5) زانی وزانیہ ۔ (6) ماں باپ کا نافرمان ۔ (7)رشتہ داری کاٹنے والا ۔ (8) سود خور ۔ (9) شراب کا عادی ۔ (10) جادوگر ۔ (11) کاہن ۔ (12) ڈاکہ زنی کرنے والا ۔ (13) ناجائز طور پر محصول وصول کرنے والا ۔ (14) ازراہ تکبر ٹخنوں کے نیچے لباس رکھنے والا ۔ جب تک یہ لوگ توبہ نہ کریں ‘حق داروں کا حق ادا نہ کریں؛ان کی توبہ درجۂ قبولیت کو نہیں پہنچتی ۔
شب براء ت زیارت قبور کا اہتمام : احادیث شریفہ میں مزارات کی زیارت سے متعلق عام اجازت کے علاوہ بطورخاص شب براء ت میں زیارت کرنے کا ثبوت ملتا ہے، چنانچہ جامع ترمذی شریف ،سنن ابن ماجہ شریف ،مسند احمد ،الترغیب والترھیب ،الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں حدیث پاک ہے : عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیْلَۃً فَخَرَجْتُ فَإِذَا ہُوَ بِالْبَقِیعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِینَ أَنْ یَحِیفَ اللَّہُ عَلَیْکِ وَرَسُولُہ‘ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ ۔فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ ۔
ترجمہ : ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نے ایک رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا ،میں نکلی اور دیکھاکہ آپ بقیع میں تشریف فرما ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تم پر زیادتی کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے خیال کیا کہ آپ کسی اور زوجۂ مطہرہ کے پاس تشریف لے گئے ہوںگے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شب براء ت کو آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ابواب الصوم ،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان ج1 ص156، حدیث نمبر:744۔ سنن ابن ماجہ شریف،ابواب اقامۃ الصلوۃ و السنۃ فیہا ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان حدیث نمبر: 1379،ج1 ص99۔ مسند احمد حدیث نمبر24825۔ مسند الانصار ، حدیث نمبر: 2482۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ج7ص139۔ شعب الایمان للبیہقی ، حدیث نمبر: 3666،چشتی،کنزالعمال ، تابع لکتاب الفضائل ، حدیث نمبر: 35184۔ تفسیر الدرالمنثور :سورۃ الدخان۔1۔ الترغیب والترھیب ج2 ص119۔ الغنیۃ لطالبی طریق الحق ج1ص191)
خوشبوئے جانفزا وجود گرامی کا پتہ دیتی ہے : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے ساتھ رہنے کے لئے باری مقرر فرمایا کرتے تھے جس وقت سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دولت کدہ میں تشریف فرما تھے اس وقت رات کا کچھ حصہ گزار نے کے بعد ام المومنین کے پاس سے بقیع شریف زیارت کے لئے تشریف لے گئے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرہ شریفہ میں نہ پایا تو ابتدائًً خیال گذرا کہ شاید دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی زوجہ مبارکہ کے پاس تشریف لے گئے ہوں۔ پھر جب آپ نے حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مراقبہ کیا تو خوشبوئے جاں فزا نے دامن دل کھینچ کر بقیع شریف تک پہنچادیا۔ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے گلیاں، فضائیں معطر رہتیں اور عاشقوں کو پتہ دیتیں کہ محبوب کی سواری یہاں سے گذری ہے اور عاشقان گم گشتۂ ہوش و خرد،َنفَسِ رحمانی کی ہدایت پر حالت مراقبہ میں راہ طے کرتے ہوئے حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشاہدہ سے بہرہ مندہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ام المومنین نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بقیع شریف میں بحالت سجدہ دعا گو ہیں ۔
جیسا کہ حضرت ملا علی قاری مرقاۃ ،شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں : وفی روایۃ اخری۔ ۔ ۔ فاذاھو ساجد بالبقیع فأطال السجود حتی ظننت انہ قبض فلما سلم التفت الی ۔ اور دوسری روایت میں ہے:ام المومنین رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بقیع شریف میں سجدہ ریز ہیں، اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ میں سمجھی کہ آپ حضوریٔ حق سے
شب براء ت زیارت قبور کا اہتمام : احادیث شریفہ میں مزارات کی زیارت سے متعلق عام اجازت کے علاوہ بطورخاص شب براء ت میں زیارت کرنے کا ثبوت ملتا ہے، چنانچہ جامع ترمذی شریف ،سنن ابن ماجہ شریف ،مسند احمد ،الترغیب والترھیب ،الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں حدیث پاک ہے : عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیْلَۃً فَخَرَجْتُ فَإِذَا ہُوَ بِالْبَقِیعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِینَ أَنْ یَحِیفَ اللَّہُ عَلَیْکِ وَرَسُولُہ‘ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ ۔فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ ۔
ترجمہ : ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نے ایک رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا ،میں نکلی اور دیکھاکہ آپ بقیع میں تشریف فرما ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تم پر زیادتی کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے خیال کیا کہ آپ کسی اور زوجۂ مطہرہ کے پاس تشریف لے گئے ہوںگے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شب براء ت کو آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ابواب الصوم ،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان ج1 ص156، حدیث نمبر:744۔ سنن ابن ماجہ شریف،ابواب اقامۃ الصلوۃ و السنۃ فیہا ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان حدیث نمبر: 1379،ج1 ص99۔ مسند احمد حدیث نمبر24825۔ مسند الانصار ، حدیث نمبر: 2482۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ج7ص139۔ شعب الایمان للبیہقی ، حدیث نمبر: 3666،چشتی،کنزالعمال ، تابع لکتاب الفضائل ، حدیث نمبر: 35184۔ تفسیر الدرالمنثور :سورۃ الدخان۔1۔ الترغیب والترھیب ج2 ص119۔ الغنیۃ لطالبی طریق الحق ج1ص191)
خوشبوئے جانفزا وجود گرامی کا پتہ دیتی ہے : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے ساتھ رہنے کے لئے باری مقرر فرمایا کرتے تھے جس وقت سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دولت کدہ میں تشریف فرما تھے اس وقت رات کا کچھ حصہ گزار نے کے بعد ام المومنین کے پاس سے بقیع شریف زیارت کے لئے تشریف لے گئے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرہ شریفہ میں نہ پایا تو ابتدائًً خیال گذرا کہ شاید دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی زوجہ مبارکہ کے پاس تشریف لے گئے ہوں۔ پھر جب آپ نے حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مراقبہ کیا تو خوشبوئے جاں فزا نے دامن دل کھینچ کر بقیع شریف تک پہنچادیا۔ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے گلیاں، فضائیں معطر رہتیں اور عاشقوں کو پتہ دیتیں کہ محبوب کی سواری یہاں سے گذری ہے اور عاشقان گم گشتۂ ہوش و خرد،َنفَسِ رحمانی کی ہدایت پر حالت مراقبہ میں راہ طے کرتے ہوئے حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشاہدہ سے بہرہ مندہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ام المومنین نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بقیع شریف میں بحالت سجدہ دعا گو ہیں ۔
جیسا کہ حضرت ملا علی قاری مرقاۃ ،شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں : وفی روایۃ اخری۔ ۔ ۔ فاذاھو ساجد بالبقیع فأطال السجود حتی ظننت انہ قبض فلما سلم التفت الی ۔ اور دوسری روایت میں ہے:ام المومنین رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بقیع شریف میں سجدہ ریز ہیں، اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ میں سمجھی کہ آپ حضوریٔ حق سے
❤1
واپس نہ ہونگے ‘ وصال فرماگئے ہوں۔پھرجب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو میری طرف توجہ رحمت فرمائی ۔ (مرقاۃ المفاتیح ‘جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 171،چشتی)
اس مبارک رات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بقیع شریف قدم رنجہ فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات بھی زیارت قبورمسنون ومستحب ہے۔
کیا ہر سال شب براء ت کے موقع پر زیارت قبور سنت ہے ؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ شب براء ت میں زیارت قبور کے لئے تشریف لے گئے تھے ،اسی لئے زندگی میں صرف ایک بار زیارت کرلی جائے تو کوئی حرج نہیں، ہر سال شب براء ت کے موقع پر زیارت قبور کا اہتمام بدعت ہے‘‘ان کا یہ قول بغیر دلیل کے دعویٰ اوراستدلال کرنا ہے، جوازروئے شرع قابل قبول نہیں ہوسکتا،کیونکہ احادیث شریفہ کے ذخیرہ میں کہیں یہ صراحت نہیں آئی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یا ہر سال زیارت نہیں فرمائی بلکہ اس کے برعکس یہ شہادت موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عام دنوں میں بھی زیارت قبور کا التزام واہتمام فرمایا کرتے ،اور یہ بات حقیقت سے نہایت بعید ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک بار شب براء ت میں زیارت قبور کے لئے تشریف لے گئے ہوں کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی باری ہوتی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات بقیع شریف تشریف لے جاتے۔ جیساکہ صحیح مسلم شریف کتاب الجنائز،ج1ص313 میں حدیث مبارک ہے : عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم کُلَّمَا کَانَ لَیْلَتُہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ إِلَی الْبَقِیعِ فَیَقُولُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ وَأَتَاکُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّہُ بِکُمْ لاَحِقُونَ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأَہْلِ بَقِیعِ الْغَرْقَدِ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: جب بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی باری ہوتی تو آپ رات کے آخری حصہ میں بقیع مبارک تشریف لے جاتے اور فرماتے’’ تم پر سلامتی ہو اے ایمان والو!تمہارے پاس پہنچا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، روزمحشر ملنے والی نعمتیں تمہارے لئے تیار رکھی ہوئی ہیںاور یقیناً ہم تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! اہل بقیع کی بخشش فرمادے ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الجنائز،ج۱ص313کتاب الجنائز، حدیث نمبر2299!سنن النسائی، کتاب الجنائز، باب الامر بالاستغفار للمؤمنین، حدیث نمبر2012!مسندالامام احمد، مسند الانصار، حدیث نمبر:24297!صحیح ابن حبان ،فصل فی زیارۃالقبور، ج7 ، ص444، حدیث نمبر:3172۔زجاجۃ المصابیح،باب زیارۃ القبور، جلد 1 صفحہ 487،چشتی)
اگر کسی کو یہی اصرار ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک بار زیارت فرمائی ہے تب بھی نفس زیارت تو ثابت ہوئی، اگر کوئی امتی ایک بار یا ہر سال اہتمام کرے تو بہر طور وہ اللہ تعالی کے پاس محبوب و پسندیدہ ہی ہوگا ،کتب اسلامیہ کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ جو عمل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ یا چند مرتبہ فرمایا ہو اس پر امت کی پابندی و مواظبت سے وہ سنت بدعت نہیں ہوتی بلکہ بقدر پابندی عمل کرنے والا اجروثواب کا مستحق ہوتاہے۔
جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک میں ہے : وان احب الاعمال الی اللہ ادومھا وان قل ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مواظبت و پابندی کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑاہو ۔ (صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل،حدیث نمبر:6464!صحیح مسلم،،کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا ،حدیث نمبر783 !سنن نسائی،ابواب القبلۃ،باب المصلی یکون بینہ وبین الامام سترۃ،حدیث نمبر:754 )
اور صحیح مسلم شریف کی روایت میں ہے : وَکَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا عَمِلُوا عَمَلاً أَثْبَتُوہُ . حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کرام جب بھی کوئی عمل کرتے تو اس پر مواظبت کرتے۔(صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین و قصرھا حدیث نمبر 1863،چشتی)
شب براء ت میں آتش بازی کی قباحت : آتش بازی میں بلا کسی فائدہ کے مال ضائع ہو تا ہے ، یہ فضول خرچی اور اسراف ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیرًا . إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینْ ۔ اور فضول خرچی بالکل مت کرو ، بیشک فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں ۔ (سورۃ بنی اسرائیل،آیت:26/27) ۔ آتش بازی میں کسی عضوکے ہلاک ہونے کااندیشہ رہتا ہے جبکہ شریعت مطہرہ میں اپنے آپ کو ہلاکت میںڈالنے سے منع کیاگیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے : وَلَا تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ تم اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (سورۃ البقرۃ،آ یت:195)
اس مبارک رات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بقیع شریف قدم رنجہ فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات بھی زیارت قبورمسنون ومستحب ہے۔
کیا ہر سال شب براء ت کے موقع پر زیارت قبور سنت ہے ؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ شب براء ت میں زیارت قبور کے لئے تشریف لے گئے تھے ،اسی لئے زندگی میں صرف ایک بار زیارت کرلی جائے تو کوئی حرج نہیں، ہر سال شب براء ت کے موقع پر زیارت قبور کا اہتمام بدعت ہے‘‘ان کا یہ قول بغیر دلیل کے دعویٰ اوراستدلال کرنا ہے، جوازروئے شرع قابل قبول نہیں ہوسکتا،کیونکہ احادیث شریفہ کے ذخیرہ میں کہیں یہ صراحت نہیں آئی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یا ہر سال زیارت نہیں فرمائی بلکہ اس کے برعکس یہ شہادت موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عام دنوں میں بھی زیارت قبور کا التزام واہتمام فرمایا کرتے ،اور یہ بات حقیقت سے نہایت بعید ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک بار شب براء ت میں زیارت قبور کے لئے تشریف لے گئے ہوں کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی باری ہوتی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات بقیع شریف تشریف لے جاتے۔ جیساکہ صحیح مسلم شریف کتاب الجنائز،ج1ص313 میں حدیث مبارک ہے : عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم کُلَّمَا کَانَ لَیْلَتُہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ إِلَی الْبَقِیعِ فَیَقُولُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ وَأَتَاکُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّہُ بِکُمْ لاَحِقُونَ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأَہْلِ بَقِیعِ الْغَرْقَدِ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: جب بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی باری ہوتی تو آپ رات کے آخری حصہ میں بقیع مبارک تشریف لے جاتے اور فرماتے’’ تم پر سلامتی ہو اے ایمان والو!تمہارے پاس پہنچا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، روزمحشر ملنے والی نعمتیں تمہارے لئے تیار رکھی ہوئی ہیںاور یقیناً ہم تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! اہل بقیع کی بخشش فرمادے ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الجنائز،ج۱ص313کتاب الجنائز، حدیث نمبر2299!سنن النسائی، کتاب الجنائز، باب الامر بالاستغفار للمؤمنین، حدیث نمبر2012!مسندالامام احمد، مسند الانصار، حدیث نمبر:24297!صحیح ابن حبان ،فصل فی زیارۃالقبور، ج7 ، ص444، حدیث نمبر:3172۔زجاجۃ المصابیح،باب زیارۃ القبور، جلد 1 صفحہ 487،چشتی)
اگر کسی کو یہی اصرار ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک بار زیارت فرمائی ہے تب بھی نفس زیارت تو ثابت ہوئی، اگر کوئی امتی ایک بار یا ہر سال اہتمام کرے تو بہر طور وہ اللہ تعالی کے پاس محبوب و پسندیدہ ہی ہوگا ،کتب اسلامیہ کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ جو عمل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ یا چند مرتبہ فرمایا ہو اس پر امت کی پابندی و مواظبت سے وہ سنت بدعت نہیں ہوتی بلکہ بقدر پابندی عمل کرنے والا اجروثواب کا مستحق ہوتاہے۔
جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک میں ہے : وان احب الاعمال الی اللہ ادومھا وان قل ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مواظبت و پابندی کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑاہو ۔ (صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل،حدیث نمبر:6464!صحیح مسلم،،کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا ،حدیث نمبر783 !سنن نسائی،ابواب القبلۃ،باب المصلی یکون بینہ وبین الامام سترۃ،حدیث نمبر:754 )
اور صحیح مسلم شریف کی روایت میں ہے : وَکَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا عَمِلُوا عَمَلاً أَثْبَتُوہُ . حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کرام جب بھی کوئی عمل کرتے تو اس پر مواظبت کرتے۔(صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین و قصرھا حدیث نمبر 1863،چشتی)
شب براء ت میں آتش بازی کی قباحت : آتش بازی میں بلا کسی فائدہ کے مال ضائع ہو تا ہے ، یہ فضول خرچی اور اسراف ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیرًا . إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینْ ۔ اور فضول خرچی بالکل مت کرو ، بیشک فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں ۔ (سورۃ بنی اسرائیل،آیت:26/27) ۔ آتش بازی میں کسی عضوکے ہلاک ہونے کااندیشہ رہتا ہے جبکہ شریعت مطہرہ میں اپنے آپ کو ہلاکت میںڈالنے سے منع کیاگیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے : وَلَا تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ تم اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (سورۃ البقرۃ،آ یت:195)
❤1👍1
مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے وقت عزیز کو لایعنی اور بے فائدہ امور میں صرف کرے، جیسا کہ جامع ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 58 میں حدیث پاک ہے : من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ ۔ ترجمہ : انسان کے مسلمان ہونے کی خوبی یہ ہیکہ وہ بے فائدہ چیز چھوڑدے ۔ اسی لئے فقہاء کرام نے یہ صراحت کی ہے : (و)کرہ (کل لھو)لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام کل لھو المسلم حرام الا ثلاثۃ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مسلمان کیلئے ہر غافل کرنے والے کھیل مکروہ ہیں بجزتین کے ۔ ۔ ۔ ۔ (الدرالمختار، ج:5ص279)
ان مفاسد و خرابیوں کی وجہ سے آتش بازی شریعت اسلامیہ میں فی نفسہ درست نہیں بالخصوص اس مبارک و باعظمت رات میں اللہ تعالی کی رضاجوئی اور توبہ و استغفارکرنے کے بجائے آتش بازی میں مشغول رہنا رحمت الٰہی سے روگردانی اختیار کرنے اور نعمت خداوندی کی ناقدری کرنے کے برابر ہے ۔
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے : ومن البدع الشنیعۃ ما تعارف الناس فی اکثر بلا دالھند من.......و اجتما عھم اللھوواللعب بالنار واحتراق الکبریت ۔ ان بری بدعتوں میں جو ہندوستان کے باشندوں میں رواج پکڑی ہے آتشبازی، پٹاخے چھوڑنا اور گندہک جلانا ہے ۔ (ما ثبت بالسنۃ،ص:87)
مسلمان اس متبرک اور رحمت والی رات میں آتش بازی جیسے لا یعنی اوربے فائدہ امور سے احتراز کریں اور اللہ تعالی کی رحمتوں سے اپنے دامن مراد کو بھرلیں۔
شب براء ت بطور خاص غیر شرعی امور سے باز رہیں : اسلام ‘امن و سلامتی عطا کرنے والا تہذیب وشائستگی کی تعلیم دینے والامقدس دین ہے، جس کے احکام وقوانین اقوام عالم کے ہر فرد و ہر قبیلہ، ہر رنگ و نسل، ہر زماں و مکاں کیلئے امن و شانتی ‘راحت و اطمینان فراہم کرتے ہیں، جس کا پیغامِ امن اپنے ماننے والوں تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کےلیے ہے ۔
زمین پر کسی بھی قسم کا فتنہ وفساد، نقصان و خسران،قتل و غارتگری اس دین متین میںبالکل ناجائز و ممنوع ہے، ارشاد باری تعالی ہے : وَلَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِہَا ۔ ترجمہ:تم زمین میں اصلاح کے بعد فساد مت کرو!۔(سورۃالاعراف،آیت:65)
مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے طرز عمل اور گفتار سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور سارے لوگ اس سے محفوظ و مامون رہیں، مشکوۃ ، ج1’ص15‘ میںجامع ترمذی اور سنن نسائی کے حوالہ سے منقول ہے : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمؤمن من امنہ الناس علی دمائھم واموالھم۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مؤمن وہ ہے جس سے سارے لوگ اپنی جان ومال سے متعلق بے خوف رہیں ۔
اسلامی قانون میں اس بات کی صراحت ہے کہ غیر مسلم سے بھی تکلیف کودور کرنا اور اس کی ایذاء رسانی سے احتراز کرنا ضروری ہے،در مختار میں ہے : ویجب کف الاذی عنہ وتحریم غیبتہ کالمسلم ۔ غیر مسلم کی تکلیف دور کرنا لازم اور اس کی غیبت کرنا حرام ہے جس طرح کسی مسلمان کو تکلیف دینا اور اس کی غیبت کرنا حرام ہے ۔ ( درمختار ’ج3ص272،چشتی)
رات دیر گئے نوجوانوں کا گروہوں کی شکل میں ٹوویلر اور فور ویلر پر سوار ہو کر راہرووں کو ایذاء پہنچانا،سواریوں، دفاتر ‘دکانوں اور لوگوں کی دیگر املاک پر سنگباری کرنا اور راستے مسدود کر کے سواریوں پر مختلف کرتب دکھانا،آتش بازی کے ذریعہ پرُامن فضامیں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنا‘اسلامی احکام و قوانین کے بھی متضاد اور مخالف ہے اور بتقاضۂ انسانیت بھی قابل مذمت ہے۔ خاص طور پر مقدس راتوں میں اس طرح کا عمل سخت ترین گناہ ہے۔ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے کے حقوق و آداب بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب تم کوبیٹھنا ہی ہوتو راستے کا حق دیا کرو! صحابہ کرام نے عرض کیا: راستہ کا حق کیا ہے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو آپ نے ارشاد فرمایا:نظر نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کو دور کرنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنااور برائی سے روکنا ۔ (صحیح البخاری کتاب المظالم،باب افنیۃ الدور والجلوس فیھا،حدیث نمبر2465-صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ،باب النھی عن الجلوس فی الطرقات حدیث نمبر 5685۔زجاجۃ المصابیح ج4ص 7،چشتی)
لہٰذاان مقدس راتوں میں ہر طرح کے غیر شرعی امور سے اجتناب کریں، عبادت و اطاعت کے ذریعہ رحمت و سعادت حاصل کرنے کی سعی کریں ۔
شب معراج‘ شب براء ت اور دیگر مقدس راتوںاور ایام میں زندگی کواللہ تعالی اوراس کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت اور ان کی رضا و خوشنودی میں گزاریں ۔
ان مفاسد و خرابیوں کی وجہ سے آتش بازی شریعت اسلامیہ میں فی نفسہ درست نہیں بالخصوص اس مبارک و باعظمت رات میں اللہ تعالی کی رضاجوئی اور توبہ و استغفارکرنے کے بجائے آتش بازی میں مشغول رہنا رحمت الٰہی سے روگردانی اختیار کرنے اور نعمت خداوندی کی ناقدری کرنے کے برابر ہے ۔
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے : ومن البدع الشنیعۃ ما تعارف الناس فی اکثر بلا دالھند من.......و اجتما عھم اللھوواللعب بالنار واحتراق الکبریت ۔ ان بری بدعتوں میں جو ہندوستان کے باشندوں میں رواج پکڑی ہے آتشبازی، پٹاخے چھوڑنا اور گندہک جلانا ہے ۔ (ما ثبت بالسنۃ،ص:87)
مسلمان اس متبرک اور رحمت والی رات میں آتش بازی جیسے لا یعنی اوربے فائدہ امور سے احتراز کریں اور اللہ تعالی کی رحمتوں سے اپنے دامن مراد کو بھرلیں۔
شب براء ت بطور خاص غیر شرعی امور سے باز رہیں : اسلام ‘امن و سلامتی عطا کرنے والا تہذیب وشائستگی کی تعلیم دینے والامقدس دین ہے، جس کے احکام وقوانین اقوام عالم کے ہر فرد و ہر قبیلہ، ہر رنگ و نسل، ہر زماں و مکاں کیلئے امن و شانتی ‘راحت و اطمینان فراہم کرتے ہیں، جس کا پیغامِ امن اپنے ماننے والوں تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام عالم انسانیت کےلیے ہے ۔
زمین پر کسی بھی قسم کا فتنہ وفساد، نقصان و خسران،قتل و غارتگری اس دین متین میںبالکل ناجائز و ممنوع ہے، ارشاد باری تعالی ہے : وَلَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِہَا ۔ ترجمہ:تم زمین میں اصلاح کے بعد فساد مت کرو!۔(سورۃالاعراف،آیت:65)
مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے طرز عمل اور گفتار سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور سارے لوگ اس سے محفوظ و مامون رہیں، مشکوۃ ، ج1’ص15‘ میںجامع ترمذی اور سنن نسائی کے حوالہ سے منقول ہے : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمؤمن من امنہ الناس علی دمائھم واموالھم۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مؤمن وہ ہے جس سے سارے لوگ اپنی جان ومال سے متعلق بے خوف رہیں ۔
اسلامی قانون میں اس بات کی صراحت ہے کہ غیر مسلم سے بھی تکلیف کودور کرنا اور اس کی ایذاء رسانی سے احتراز کرنا ضروری ہے،در مختار میں ہے : ویجب کف الاذی عنہ وتحریم غیبتہ کالمسلم ۔ غیر مسلم کی تکلیف دور کرنا لازم اور اس کی غیبت کرنا حرام ہے جس طرح کسی مسلمان کو تکلیف دینا اور اس کی غیبت کرنا حرام ہے ۔ ( درمختار ’ج3ص272،چشتی)
رات دیر گئے نوجوانوں کا گروہوں کی شکل میں ٹوویلر اور فور ویلر پر سوار ہو کر راہرووں کو ایذاء پہنچانا،سواریوں، دفاتر ‘دکانوں اور لوگوں کی دیگر املاک پر سنگباری کرنا اور راستے مسدود کر کے سواریوں پر مختلف کرتب دکھانا،آتش بازی کے ذریعہ پرُامن فضامیں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنا‘اسلامی احکام و قوانین کے بھی متضاد اور مخالف ہے اور بتقاضۂ انسانیت بھی قابل مذمت ہے۔ خاص طور پر مقدس راتوں میں اس طرح کا عمل سخت ترین گناہ ہے۔ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے کے حقوق و آداب بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب تم کوبیٹھنا ہی ہوتو راستے کا حق دیا کرو! صحابہ کرام نے عرض کیا: راستہ کا حق کیا ہے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو آپ نے ارشاد فرمایا:نظر نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کو دور کرنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنااور برائی سے روکنا ۔ (صحیح البخاری کتاب المظالم،باب افنیۃ الدور والجلوس فیھا،حدیث نمبر2465-صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ،باب النھی عن الجلوس فی الطرقات حدیث نمبر 5685۔زجاجۃ المصابیح ج4ص 7،چشتی)
لہٰذاان مقدس راتوں میں ہر طرح کے غیر شرعی امور سے اجتناب کریں، عبادت و اطاعت کے ذریعہ رحمت و سعادت حاصل کرنے کی سعی کریں ۔
شب معراج‘ شب براء ت اور دیگر مقدس راتوںاور ایام میں زندگی کواللہ تعالی اوراس کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت اور ان کی رضا و خوشنودی میں گزاریں ۔
❤1
چودہ 14 رکعات نمازکی خصوصی فضیلت : شب براء ت میں کس طرح عبادت کی جائے اس سے متعلق امام بیہقی نے شعب الایمان میں حدیث پاک نقل کی ہے : عن ابراہیم ، قال ، قال علی ، رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ النصف من شعبان قام فصلی أربع عشرۃ رکعۃ ۔ثم جلس بعد الفراغ، فقرأبأم القرآن أربع عشرۃ مرۃ ، وقل ہو اللہ أحد أربع عشرۃ مرۃ وقل أعوذبرب الفلق أربع عشرۃ مرۃ وقل أعوذبرب الناس أربع عشرۃ مرۃ ،وآیۃ الکرسی مرۃ و’’لقد جاء کم رسول من انفسکم ، الآیۃ ‘‘، فلمافرغ من صلاتہ سألتہ عما رایت من صنیعہ قال : (من صنع مثل الذی رایت کان لہ کعشرین حجۃ مبرورۃ ،وصیام عشرین سنۃ مقبولۃ ، فان اصبح فی ذلک الیوم صائماکان لہ کصیام سنتین سنۃ ماضیۃ ، وسنۃ مستقبلۃ ۔
ترجمہ : حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کی پندرھویں رات قیام فرما دیکھا او رآپ نے چودہ 14 رکعت نماز ادا فرمائی ۔ پھر بعد فراغت نماز آپ تشریف فرما ہوئے اور چودہ مرتبہ سورۃ الفاتحہ ، چودہ مرتبہ سورۃ الاخلاص ، چودہ مرتبہ سورۃ الفلق ،چودہ مرتبہ سورۃ الناس اور ایک مرتبہ آیۃ الکرسی او ر(سورہ توبہ کی آیت128) لقد جاء کم رسول من انفسکم تلاوت فرمائی۔جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا سے فارغ ہوئے تو میں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے اس مبارک عمل سے متعلق دریافت کیا جس کو میںنے دیکھا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی شخص اس طرح عمل کرے گا جس طرح تم نے دیکھا ہے تو اس شخص کیلئے بیس 20 مقبول حج اوربیس 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ہے۔اگر وہ اس دن (پندرھویں تاریخ کو)روزہ رکھے گا تو اس کیلئے دو سال ،ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا ۔ ( شعب الایمان للبیھقی ،کتاب الصوم حدیث نمبر:3683، الدرالمنثور سورۃ الدخان۔جامع الاحادیث ، مسند العشرۃ،حدیث نمبر:33372،چشتی)
گوکہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے تاہم فضیلت عمل کے باب میں ضعیف اور متکلم فیہ روایت کو بھی قبولیت حاصل ہے‘ جس طرح ماہ رمضان کی فضیلت کے بارے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت مروی ہے ،جس کو امام بیہقی نے شعب الایمان(حدیث نمبر:3455) میں نقل کیا ہے، اُس حدیث کو دیگر مکاتب فکر کے علماء بھی بیان کرتے ہیں ‘حالانکہ اس کی سند میں بھی کلام ہے ، علامہ بدرالدین عینی ودیگر شارحین حدیث نے تو فضائل رمضان سے متعلق حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت کو ’’منکر‘‘ کہا ہے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی عظیم شرح’’عمدۃ القاری ‘‘میں علامہ عینی لکھتے ہیں : ولا یصح إسنادہ وفی سندہ إیاس قال شیخنا الظاہر أنہ ابن أبی إیاس قال صاحب (المیزان) إیاس بن أبی إیاس عن سعید بن المسیب لا یعرف والخبر منکر . اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے اور اس سند میں’’ایاس‘‘ ہیں،ہمارے شیخ نے کہا:ظاہر بات ہے کہ اس سند میں’’ابن ابی ایاس‘‘ ہیں، صاحب المیزان نے کہاکہ’’ ایاس ابن ابی ایاس‘‘کا حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا معروف نہیں!لہذا یہ روایت منکر ہے ۔ (عمدۃ القاری ، باب ھل یقال رمضان او شھر رمضان ومن رای کلہ واسعا،حدیث نمبر:9981،چشتی)
فضائل رمضان والی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت منکر ہونے کے باوجوددیگر مکاتب فکرکے علماء بھی عملی طور پر اُسے قبول کرتے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں تو پھر شب براء ت میں چودہ رکعت نماز والی اس روایت کو قبول کرنے میں کیا امر مانع ہے ‘ اگر عمل نہ بھی کریں تو کم ازکم اتنا تو کریں کہ جو عمل کر رہے ہیں ان پر ردوانکار نہ کریں ۔
شب براء ت کی مسنون دعائیں : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: شب براء ت میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَاَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ جَلَّ وَجْھُکَ لا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ ۔
ترجمہ : ائے اللہ! میں تیری سزا سے تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں‘ تیرے غضب سے تیری رضا کی پناہ میں آتاہوں اورتجھ سے تیری ہی پناہ میں آتاہوں‘ تیری ذات بزرگی والی ہے اے اللہ! میں تیری مکمل تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا‘ تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے خود اپنی کی تعریف وثناء کی ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : یا عائشۃ تعلمتھن فقلت نعم فقال تعلمیھن و علمیھن ۔اے عائشہ !کیا تم نے ان (کلمات) کویادکرلیاہے؟ (حضرت عائشہ فرماتی ہیں:) میں نے عرض کیا: ہاں! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے یاد رکھو اور دوسروں کو سکھاؤ ۔ (شعب الایمان للبیھقی‘ حدیث نمبر:3678،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کی پندرھویں رات قیام فرما دیکھا او رآپ نے چودہ 14 رکعت نماز ادا فرمائی ۔ پھر بعد فراغت نماز آپ تشریف فرما ہوئے اور چودہ مرتبہ سورۃ الفاتحہ ، چودہ مرتبہ سورۃ الاخلاص ، چودہ مرتبہ سورۃ الفلق ،چودہ مرتبہ سورۃ الناس اور ایک مرتبہ آیۃ الکرسی او ر(سورہ توبہ کی آیت128) لقد جاء کم رسول من انفسکم تلاوت فرمائی۔جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا سے فارغ ہوئے تو میں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے اس مبارک عمل سے متعلق دریافت کیا جس کو میںنے دیکھا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی شخص اس طرح عمل کرے گا جس طرح تم نے دیکھا ہے تو اس شخص کیلئے بیس 20 مقبول حج اوربیس 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ہے۔اگر وہ اس دن (پندرھویں تاریخ کو)روزہ رکھے گا تو اس کیلئے دو سال ،ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا ۔ ( شعب الایمان للبیھقی ،کتاب الصوم حدیث نمبر:3683، الدرالمنثور سورۃ الدخان۔جامع الاحادیث ، مسند العشرۃ،حدیث نمبر:33372،چشتی)
گوکہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے تاہم فضیلت عمل کے باب میں ضعیف اور متکلم فیہ روایت کو بھی قبولیت حاصل ہے‘ جس طرح ماہ رمضان کی فضیلت کے بارے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت مروی ہے ،جس کو امام بیہقی نے شعب الایمان(حدیث نمبر:3455) میں نقل کیا ہے، اُس حدیث کو دیگر مکاتب فکر کے علماء بھی بیان کرتے ہیں ‘حالانکہ اس کی سند میں بھی کلام ہے ، علامہ بدرالدین عینی ودیگر شارحین حدیث نے تو فضائل رمضان سے متعلق حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت کو ’’منکر‘‘ کہا ہے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی عظیم شرح’’عمدۃ القاری ‘‘میں علامہ عینی لکھتے ہیں : ولا یصح إسنادہ وفی سندہ إیاس قال شیخنا الظاہر أنہ ابن أبی إیاس قال صاحب (المیزان) إیاس بن أبی إیاس عن سعید بن المسیب لا یعرف والخبر منکر . اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے اور اس سند میں’’ایاس‘‘ ہیں،ہمارے شیخ نے کہا:ظاہر بات ہے کہ اس سند میں’’ابن ابی ایاس‘‘ ہیں، صاحب المیزان نے کہاکہ’’ ایاس ابن ابی ایاس‘‘کا حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا معروف نہیں!لہذا یہ روایت منکر ہے ۔ (عمدۃ القاری ، باب ھل یقال رمضان او شھر رمضان ومن رای کلہ واسعا،حدیث نمبر:9981،چشتی)
فضائل رمضان والی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت منکر ہونے کے باوجوددیگر مکاتب فکرکے علماء بھی عملی طور پر اُسے قبول کرتے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں تو پھر شب براء ت میں چودہ رکعت نماز والی اس روایت کو قبول کرنے میں کیا امر مانع ہے ‘ اگر عمل نہ بھی کریں تو کم ازکم اتنا تو کریں کہ جو عمل کر رہے ہیں ان پر ردوانکار نہ کریں ۔
شب براء ت کی مسنون دعائیں : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: شب براء ت میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَاَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ جَلَّ وَجْھُکَ لا اُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ ۔
ترجمہ : ائے اللہ! میں تیری سزا سے تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں‘ تیرے غضب سے تیری رضا کی پناہ میں آتاہوں اورتجھ سے تیری ہی پناہ میں آتاہوں‘ تیری ذات بزرگی والی ہے اے اللہ! میں تیری مکمل تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا‘ تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے خود اپنی کی تعریف وثناء کی ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : یا عائشۃ تعلمتھن فقلت نعم فقال تعلمیھن و علمیھن ۔اے عائشہ !کیا تم نے ان (کلمات) کویادکرلیاہے؟ (حضرت عائشہ فرماتی ہیں:) میں نے عرض کیا: ہاں! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے یاد رکھو اور دوسروں کو سکھاؤ ۔ (شعب الایمان للبیھقی‘ حدیث نمبر:3678،چشتی)
❤1
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں محبوبیت کے اعلی مقام پر متمکن ہیں وہیں بارگاہ ایزدی میں عبدیت ونیازمندی کے بھی اعلی مدارج پر فائز ہیں‘ چنانچہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بارگاہ الہی میں نیازمندیوں کا نذرانہ پیش کرنے کی تعلیم دی اوریہ کلمات ادا کئے ‘جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پندرھویں شعبان کی رات یہ دعا فرمائی : سَجَدَ لَکَ خَیَالِیْ وَ سَوَادِیْ وَ آمَنَ بِکَ فُؤادِیْ فَھٰذِہِ یَدِیْ وَمَا جَنَیْتُ بِھَا عَلٰی نَفْسِیْ، یَا عَظِیْمُ یُرْجٰی لِکُلِّ عَظِیْم، اِغْفِرِ الذَّنْبَ العَظِیْمَ، سَجَدَ وَجْھِیْ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ وَ شَقَّ سَمْعَہُ وَ بَصَرَہُ ۔ ترجمہ : تجھ کو میرے باطن و ظاہر نے سجدہ کیا اور میرا دل تجھ پر ایمان رکھتا ہے تو یہ میرا ہاتھ ہے اور جو کچھ میں نے اس سے اعمال کئے ہیں‘ اے بزرگ و برتر جس کی ہر بڑے مقصد کےلیے امید کی جاتی ہے (میری امت کے) بڑے گناہ کو معاف فرمادے‘ میرے چہرہ نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیااور اس میں کان اور آنکھ بنائے ۔ (شعب الایمان للبیھقی‘ حدیث نمبر :3680) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310330557869657/
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310330557869657/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم ⓬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شبِ برأت احادیث مبارکہ کی روشنی میں
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310336424535737/
محترم قارئینِ کرام : ماہ شعبان کی پندرہویں رات کوشب برأت کہاجاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے اورقطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کوشب برأت کہتے ہیں‘ اس رات کو لیلتہ المبارکہ یعنی برکتوں والی رات لیلتہ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلتہ الرحمة رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہاجاتا ہے ۔
جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یساررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں’’لیلتہ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے افضل کوئی رات نہیں‘‘ ۔ (لطائف المعارف صفحہ 145)
جس طرح مسلمانوں کےلیے زمین میں دوعیدیں ہیں اسی طرح فرشتوں کے لئے آسمان میں دوعیدیں ہیں ایک شب برأت اوردوسری شب قدر جس طرح مومنوں کی عیدیں عیدالفطر اورعیدالاضحی ہیں فرشتوں کی عیدیں رات کواس لئے ہیں کہ وہ رات کوسوتے نہیں جب کہ آدمی سوتے ہیں اس لئے ان کی عیدیں دن کو ہیں ۔ (غنیتہ الطالبین صفحہ 449،چشتی)
تقسیم امور کی رات
ارشادباری تعالیٰ ہوا’’قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتاراہے‘ بے شک ہم ڈرسنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیاجاتا ہے ہرحکمت والا کام ۔ (سورہ الدخان: 2-4)
’’اس رات سے مرادشب قدر ہے یا شب برأت‘‘ ۔ (خزائن العرفان)
ان آیات کی تفسیر میں حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ’’لیلة مبارکہ‘‘ سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے۔اس رات میں زندہ رہنے والے ‘فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اس روایت کوابن جریر‘ابن منذر اورابن ابی حاتم نے بھی لکھا ہے‘اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ نمبر 194،چشتی)
علامہ قرطبی مالکی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوح محفوظ سے نقل کرنے کاآغاز شب برأت سے ہوتا ہے اوراختتام لیلتہ القدر میں ہوتاہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 128)
یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر ان شب میں ان کے لکھے جانے کا کیامطلب ہے ؟
جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ میں تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کر کے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ فرمائیے ۔ ارشادہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اورجتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کامقررہ رزق اتاراجاتاہے ۔ (مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277،چشتی)
حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ ملک الموت کوایک فہرست دے کر حکم فرماتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس میں لکھے ہیں ان کی روحوں کو آئندہ سال مقررہ وقتوں پر قبض کرنا ‘ تواس شب میں لوگوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ کوئی باغوں میں درخت لگانے کی فکر میں ہوتا ہے کوئی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے‘ کوئی کوٹھی بنگلہ بنوا رہا ہوتا ہے حالانکہ ان کے نام مردوں کی فہرست میں لکھے جاچکے ہوتے ہیں ۔ (مصنف عبدالرزاق‘جلد 4 صفحہ 317،چشتی)(ماثبت من السنہ صفحہ193)
حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی زندگی منقطع کرنے کا وقت اس رات میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کانام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔(الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 126،چشتی)(شعب الایمان بیہقی جلد 3 صفحہ 386)
چونکہ یہ رات گزشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہ الہٰی میں پیش ہونے اور آئندہ سال ملنے واالی زندگی اور رزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لیے اس رات میںعبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کاباعث ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے ۔
شب برأت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بے شمار لوگوں کی بخشش فرمادیتا ہے اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔ : ⬇
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شبِ برأت احادیث مبارکہ کی روشنی میں
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310336424535737/
محترم قارئینِ کرام : ماہ شعبان کی پندرہویں رات کوشب برأت کہاجاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے اورقطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کوشب برأت کہتے ہیں‘ اس رات کو لیلتہ المبارکہ یعنی برکتوں والی رات لیلتہ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلتہ الرحمة رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہاجاتا ہے ۔
جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یساررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں’’لیلتہ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے افضل کوئی رات نہیں‘‘ ۔ (لطائف المعارف صفحہ 145)
جس طرح مسلمانوں کےلیے زمین میں دوعیدیں ہیں اسی طرح فرشتوں کے لئے آسمان میں دوعیدیں ہیں ایک شب برأت اوردوسری شب قدر جس طرح مومنوں کی عیدیں عیدالفطر اورعیدالاضحی ہیں فرشتوں کی عیدیں رات کواس لئے ہیں کہ وہ رات کوسوتے نہیں جب کہ آدمی سوتے ہیں اس لئے ان کی عیدیں دن کو ہیں ۔ (غنیتہ الطالبین صفحہ 449،چشتی)
تقسیم امور کی رات
ارشادباری تعالیٰ ہوا’’قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتاراہے‘ بے شک ہم ڈرسنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیاجاتا ہے ہرحکمت والا کام ۔ (سورہ الدخان: 2-4)
’’اس رات سے مرادشب قدر ہے یا شب برأت‘‘ ۔ (خزائن العرفان)
ان آیات کی تفسیر میں حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ’’لیلة مبارکہ‘‘ سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے۔اس رات میں زندہ رہنے والے ‘فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اس روایت کوابن جریر‘ابن منذر اورابن ابی حاتم نے بھی لکھا ہے‘اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ نمبر 194،چشتی)
علامہ قرطبی مالکی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوح محفوظ سے نقل کرنے کاآغاز شب برأت سے ہوتا ہے اوراختتام لیلتہ القدر میں ہوتاہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 128)
یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر ان شب میں ان کے لکھے جانے کا کیامطلب ہے ؟
جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ میں تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کر کے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ فرمائیے ۔ ارشادہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اورجتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کامقررہ رزق اتاراجاتاہے ۔ (مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277،چشتی)
حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ ملک الموت کوایک فہرست دے کر حکم فرماتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس میں لکھے ہیں ان کی روحوں کو آئندہ سال مقررہ وقتوں پر قبض کرنا ‘ تواس شب میں لوگوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ کوئی باغوں میں درخت لگانے کی فکر میں ہوتا ہے کوئی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے‘ کوئی کوٹھی بنگلہ بنوا رہا ہوتا ہے حالانکہ ان کے نام مردوں کی فہرست میں لکھے جاچکے ہوتے ہیں ۔ (مصنف عبدالرزاق‘جلد 4 صفحہ 317،چشتی)(ماثبت من السنہ صفحہ193)
حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی زندگی منقطع کرنے کا وقت اس رات میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کانام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔(الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 126،چشتی)(شعب الایمان بیہقی جلد 3 صفحہ 386)
چونکہ یہ رات گزشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہ الہٰی میں پیش ہونے اور آئندہ سال ملنے واالی زندگی اور رزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لیے اس رات میںعبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کاباعث ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے ۔
شب برأت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بے شمار لوگوں کی بخشش فرمادیتا ہے اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔ : ⬇
❤2
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کواپنے پاس نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کارسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گرہوتا ہے اور قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ (ترمذی جلد 1 صفحہ 156،چشتی)(سنن ابن ماجہ صفحہ 100)(مسند احمد جلد 6 صفحہ 238)(مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277)(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 1 صفحہ 237)(شعب الایمان للبیہقی جلد 3 صفحہ 379)
شارحین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پاک اتنی زیادہ اسناد سے مروی ہے کہ درجہ صحت کوپہنچ گئی ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ’’شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور اس شب میں ہرکسی کی مغفرت فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور بغض رکھنے والے کے ۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد 3 صفحہ 380،چشتی)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں اپنے رحم وکرم سے تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے ۔
سنن ابن ماجہ صفحہ 101)(شعب الایمان جلد 3 صفحہ 382)(مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277)
حضرت ابوہریرہ ‘حضرت معاذ بن جبل‘ حضرت ابوثعلبة اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی ایسا ہی مضمون مروی ہے ۔ (مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 65)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دو اشخاص کے سوا سب مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ایک کینہ پرور اوردوسرا کسی کوناحق قتل کرنے والا ۔ (مسند احمد جلد 2 صفحہ 176)(مشکوۃ جلد1صفحہ278)
امام بیہقی نے شعب الایمان جلد نمبر3صفحہ 384 میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ان لوگوں کابھی ذکر ہے: رشتے ناتے توڑنے والا ، بطور تکبر ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا ‘ ماں باپ کانافرمان ‘ شراب نوشی کرنے والے ۔
غنیتہ الطالبین صفحہ 449 پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میںان لوگوں کابھی ذکر ہے جادوگر‘کاہن ‘سودخور اوربدلہ کار‘یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر ان کی مغفرت نہیں ہوتی‘ پس ایسے لوگوں کوچاہئے کہ اپنے اپنے گناہوں سے جلد ازجلد سچی توبہ کرلیں تاکہ یہ بھی شب برأت کی رحمتوں اوربخشش ومغفرت کے حق دارہوجائیں ۔
ارشادباری تعالیٰ ہوا : اے ایمان والو ! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے ۔ (التحریم 8)
یعنی توبہ ایسی ہونی چاہئے جس کااثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اوراس کی زندگی گناہوں سے پاک اورعبادتوں سے معمور ہو جائے ‘ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم توبتہ النصوح کسے کہتے ہیں ارشاد ہوا بندہ اپنے گناہ پر سخت نادم اور شرمسار ہو ‘ پھر بارگاہ الہٰی میں گڑ گڑا کر مغفرت مانگے اور گناہوں سے بچنے کا پختہ عزم کرے تو جس طرح دودھ دوبارہ تھنوں میں داخل نہیں ہوسکتا اسی طرح اس بندے سے یہ گناہ کبھی سرزدنہ ہوگا ۔
رحمت کی رات
شب برأت فرشتوں کو بعض امور دیے جانے اورمسلمانوں کی مغفرت کی رات ہے اس کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ رب کریم کی رحمتوں کے نزول کی اور دعاٶں کے قبول ہونے کی رات ہے ۔
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاارشاد ہے‘جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کے گناہ بخش دوں‘ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں۔اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتاہے۔وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔سوائے بدکارعورت اورمشرک کے ۔ (شعب الایمان للبیہقی‘ جلد 3 صفحہ 383)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پر نازل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ‘ہے کوئی مغفرت کاطلب کرنے والاکہ میں اسے بخش دوں‘ ہے کوئی رزاق مانگنے والاکہ میں اس کو رزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ
شارحین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پاک اتنی زیادہ اسناد سے مروی ہے کہ درجہ صحت کوپہنچ گئی ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ’’شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور اس شب میں ہرکسی کی مغفرت فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور بغض رکھنے والے کے ۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد 3 صفحہ 380،چشتی)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں اپنے رحم وکرم سے تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے ۔
سنن ابن ماجہ صفحہ 101)(شعب الایمان جلد 3 صفحہ 382)(مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277)
حضرت ابوہریرہ ‘حضرت معاذ بن جبل‘ حضرت ابوثعلبة اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی ایسا ہی مضمون مروی ہے ۔ (مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 65)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دو اشخاص کے سوا سب مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ایک کینہ پرور اوردوسرا کسی کوناحق قتل کرنے والا ۔ (مسند احمد جلد 2 صفحہ 176)(مشکوۃ جلد1صفحہ278)
امام بیہقی نے شعب الایمان جلد نمبر3صفحہ 384 میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ان لوگوں کابھی ذکر ہے: رشتے ناتے توڑنے والا ، بطور تکبر ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا ‘ ماں باپ کانافرمان ‘ شراب نوشی کرنے والے ۔
غنیتہ الطالبین صفحہ 449 پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میںان لوگوں کابھی ذکر ہے جادوگر‘کاہن ‘سودخور اوربدلہ کار‘یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر ان کی مغفرت نہیں ہوتی‘ پس ایسے لوگوں کوچاہئے کہ اپنے اپنے گناہوں سے جلد ازجلد سچی توبہ کرلیں تاکہ یہ بھی شب برأت کی رحمتوں اوربخشش ومغفرت کے حق دارہوجائیں ۔
ارشادباری تعالیٰ ہوا : اے ایمان والو ! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے ۔ (التحریم 8)
یعنی توبہ ایسی ہونی چاہئے جس کااثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اوراس کی زندگی گناہوں سے پاک اورعبادتوں سے معمور ہو جائے ‘ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم توبتہ النصوح کسے کہتے ہیں ارشاد ہوا بندہ اپنے گناہ پر سخت نادم اور شرمسار ہو ‘ پھر بارگاہ الہٰی میں گڑ گڑا کر مغفرت مانگے اور گناہوں سے بچنے کا پختہ عزم کرے تو جس طرح دودھ دوبارہ تھنوں میں داخل نہیں ہوسکتا اسی طرح اس بندے سے یہ گناہ کبھی سرزدنہ ہوگا ۔
رحمت کی رات
شب برأت فرشتوں کو بعض امور دیے جانے اورمسلمانوں کی مغفرت کی رات ہے اس کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ رب کریم کی رحمتوں کے نزول کی اور دعاٶں کے قبول ہونے کی رات ہے ۔
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاارشاد ہے‘جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کے گناہ بخش دوں‘ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں۔اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتاہے۔وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔سوائے بدکارعورت اورمشرک کے ۔ (شعب الایمان للبیہقی‘ جلد 3 صفحہ 383)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پر نازل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ‘ہے کوئی مغفرت کاطلب کرنے والاکہ میں اسے بخش دوں‘ ہے کوئی رزاق مانگنے والاکہ میں اس کو رزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ
❤1
کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں‘یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتارہتاہے ۔ (سنن ابن ماجہ صفحہ 100،چشتی)(شعب الایمان للبیہقی جلد 3 صفحہ 378)(مشکوۃ جلد 1صفحہ 278)
یہ ندا ہر رات میں ہوتی ہے لیکن رات کے آخری حصے میں جیسا کہ اس سے پہلے حدیث پاک تحریرکی گئی شب برأت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں یہ ندا غروب آفتاب ہی سے شروع ہو جاتی ہے گویا صالحین اور شب بیدار مومنوں کےلیے تو ہر رات شب برأت ہے مگریہ رات خطا کاروں کےلیے رحمت و عطا اور بخشش و مغفرت کی رات ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیں اور رب کریم سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیں‘ اس شب رحمت خداوند ہر پیاسے کو سیراب کر دینا چاہتی ہے اور ہر منگتے کی جھولی گوہر مراد سے بھر دینے پر مائل ہوتی ہے‘ بقول اقبال‘ رحمت الہٰی یہ ندا کرتی ہے ۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسی راہرو منزل ہی نہیں
شب برأت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی شب بیداری کی اور دوسروں کوبھی شب بیداری کی تلقین فرمائی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان عالیشان اوپر مذکور ہوا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو شب بیداری کرو اور دن کو روزہ رکھو ‘ اس فرمان جلیل کی تعمیل میں اکابر علماءِ اہلسنّت اور عوام اہلسنّت کا ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ اس رات میں شب بیداری کااہتمام کرتے چلے آئے ہیں ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’تابعین میں سے جلیل القدر حضرات مثلاً حضرت خالدبن معدان‘حضرت مکحول‘حضرت لقمان بن عامر اورحضرت اسحٰق بن راہویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد میں جمع ہوکر شعبان کی پندرہویں شب میں شب بیداری کرتے تھے اوررات بھر مسجد میں عبادات میں مصروف رہتے تھے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ 202،چشتی)(لطائف المعارف صفحہ 144)
علامہ ابن الحاج مالکی رحمة اللہ علیہ شب برأت کے متعلق رقمطراز ہیں’’ اور کوئی شک نہیں کہ یہ رات بڑی بابرکت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت والی ہے‘ ہمارے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کی بہت تعظیم کرتے اوراس کے آنے سے قبل اس کےلیے تیاری کرتے تھے ۔ پھرجب یہ رات آتی تو وہ خوش و جذبہ سے اس کا استقبال کرتے اور مستعدی کے ساتھ اس رات میں عبادت کیا کرتے تھے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے اسلاف شعائر اللہ کا بہت احترام کیا کرتے تھے ۔ (المدخل جلد 1 صفحہ 392)
مذکورہ بالاحوالوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس مقدس رات میں مسجد میں جمع ہو کر عبادات میں مشغول رہنا اور اس رات شب بیداری کا اہتمام کرنا تابعین کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ رہا ہے ‘ شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں اب جوشخص شعبان کی پندرہویں رات میں شب بیداری کرے تویہ فعل احادیث کی مطابقت میں بالکل مستحب ہے ‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کایہ عمل بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شب برأت میں آپ مسلمانوں کی دعائے مغفرت کےلیے قبرستان تشریف لے گئے تھے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ 205)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زیارت قبورکی ایک بڑی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس سے موت یاد آتی ہے اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے ۔ شب برأت میں زیارت قبور کا واضح مقصد یہی ہے کہ اس مبارک شب میں ہم اپنی موت کویاد رکھیں تاکہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے میں آسانی ہو ‘ یہی شب بیداری کا اصل مقصد ہے ۔
اس سلسلے میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان افروز واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں منقول ہے کہ جب آپ شب برأت میں گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کاچہرہ یوں دکھائی دیتا تھا جس طرح کسی کو قبر میں دفن کرنے کے بعد باہر نکالا گیا ہو ۔ آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم میری مثال ایسی ہے جیسے کسی کی کشتی سمندر میں ٹوٹ چکی ہو اور وہ ڈوب رہا ہو اور بچنے کی کوئی امید نہ ہو ‘ پوچھا گیا آپ کی ایسی حالت کیوں ہے ؟ فرمایا میرے گناہ یقینی ہیں‘ لیکن اپنی نیکیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے قبول کی جائیں گی یا پھر رد کر دی جائیں گی ۔ (غنیتہ الطالبین صفحہ 250،چشتی)
اللہ اکبر نیک و متقی لوگوں کایہ حال ہے جو ہر رات شب بیداری کرتے ہیں اور تمام دن اطاعت الہٰی میں گزارتے ہیں جب کہ اس کے بر عکس بعض لوگ ایسے کم نصیب ہیں جو اس مقدس رات میں فکر آخرت اور عبادت و دعا میں مشغول ہونے کی بجائے مزید لہو و لعب میں مبتلا ہو جاتی ہیں آتش بازی پٹاخے اور دیگر ناجائز امور میں مبتلا ہو کر وہ اس مبارک رات کا تقدس پامال کرتے ہیں‘ حالانکہ آتش بازی اور پٹاخے نہ صرف ان لوگوں اور ان کے بچوں کی جان کیلئے خطرہ ہیں بلکہ اردگرد کے لوگوں کی جان کےلیے بھی خطرے کا باعث بنتے ہیں ‘ ایسے لوگ ’’ مال برباد اور گناہ لازم ‘‘ کا مصداق ہیں ۔
یہ ندا ہر رات میں ہوتی ہے لیکن رات کے آخری حصے میں جیسا کہ اس سے پہلے حدیث پاک تحریرکی گئی شب برأت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں یہ ندا غروب آفتاب ہی سے شروع ہو جاتی ہے گویا صالحین اور شب بیدار مومنوں کےلیے تو ہر رات شب برأت ہے مگریہ رات خطا کاروں کےلیے رحمت و عطا اور بخشش و مغفرت کی رات ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیں اور رب کریم سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیں‘ اس شب رحمت خداوند ہر پیاسے کو سیراب کر دینا چاہتی ہے اور ہر منگتے کی جھولی گوہر مراد سے بھر دینے پر مائل ہوتی ہے‘ بقول اقبال‘ رحمت الہٰی یہ ندا کرتی ہے ۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسی راہرو منزل ہی نہیں
شب برأت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی شب بیداری کی اور دوسروں کوبھی شب بیداری کی تلقین فرمائی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان عالیشان اوپر مذکور ہوا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو شب بیداری کرو اور دن کو روزہ رکھو ‘ اس فرمان جلیل کی تعمیل میں اکابر علماءِ اہلسنّت اور عوام اہلسنّت کا ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ اس رات میں شب بیداری کااہتمام کرتے چلے آئے ہیں ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’تابعین میں سے جلیل القدر حضرات مثلاً حضرت خالدبن معدان‘حضرت مکحول‘حضرت لقمان بن عامر اورحضرت اسحٰق بن راہویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد میں جمع ہوکر شعبان کی پندرہویں شب میں شب بیداری کرتے تھے اوررات بھر مسجد میں عبادات میں مصروف رہتے تھے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ 202،چشتی)(لطائف المعارف صفحہ 144)
علامہ ابن الحاج مالکی رحمة اللہ علیہ شب برأت کے متعلق رقمطراز ہیں’’ اور کوئی شک نہیں کہ یہ رات بڑی بابرکت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت والی ہے‘ ہمارے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کی بہت تعظیم کرتے اوراس کے آنے سے قبل اس کےلیے تیاری کرتے تھے ۔ پھرجب یہ رات آتی تو وہ خوش و جذبہ سے اس کا استقبال کرتے اور مستعدی کے ساتھ اس رات میں عبادت کیا کرتے تھے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے اسلاف شعائر اللہ کا بہت احترام کیا کرتے تھے ۔ (المدخل جلد 1 صفحہ 392)
مذکورہ بالاحوالوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس مقدس رات میں مسجد میں جمع ہو کر عبادات میں مشغول رہنا اور اس رات شب بیداری کا اہتمام کرنا تابعین کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ رہا ہے ‘ شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں اب جوشخص شعبان کی پندرہویں رات میں شب بیداری کرے تویہ فعل احادیث کی مطابقت میں بالکل مستحب ہے ‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کایہ عمل بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شب برأت میں آپ مسلمانوں کی دعائے مغفرت کےلیے قبرستان تشریف لے گئے تھے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ 205)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زیارت قبورکی ایک بڑی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس سے موت یاد آتی ہے اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے ۔ شب برأت میں زیارت قبور کا واضح مقصد یہی ہے کہ اس مبارک شب میں ہم اپنی موت کویاد رکھیں تاکہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے میں آسانی ہو ‘ یہی شب بیداری کا اصل مقصد ہے ۔
اس سلسلے میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان افروز واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں منقول ہے کہ جب آپ شب برأت میں گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کاچہرہ یوں دکھائی دیتا تھا جس طرح کسی کو قبر میں دفن کرنے کے بعد باہر نکالا گیا ہو ۔ آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم میری مثال ایسی ہے جیسے کسی کی کشتی سمندر میں ٹوٹ چکی ہو اور وہ ڈوب رہا ہو اور بچنے کی کوئی امید نہ ہو ‘ پوچھا گیا آپ کی ایسی حالت کیوں ہے ؟ فرمایا میرے گناہ یقینی ہیں‘ لیکن اپنی نیکیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے قبول کی جائیں گی یا پھر رد کر دی جائیں گی ۔ (غنیتہ الطالبین صفحہ 250،چشتی)
اللہ اکبر نیک و متقی لوگوں کایہ حال ہے جو ہر رات شب بیداری کرتے ہیں اور تمام دن اطاعت الہٰی میں گزارتے ہیں جب کہ اس کے بر عکس بعض لوگ ایسے کم نصیب ہیں جو اس مقدس رات میں فکر آخرت اور عبادت و دعا میں مشغول ہونے کی بجائے مزید لہو و لعب میں مبتلا ہو جاتی ہیں آتش بازی پٹاخے اور دیگر ناجائز امور میں مبتلا ہو کر وہ اس مبارک رات کا تقدس پامال کرتے ہیں‘ حالانکہ آتش بازی اور پٹاخے نہ صرف ان لوگوں اور ان کے بچوں کی جان کیلئے خطرہ ہیں بلکہ اردگرد کے لوگوں کی جان کےلیے بھی خطرے کا باعث بنتے ہیں ‘ ایسے لوگ ’’ مال برباد اور گناہ لازم ‘‘ کا مصداق ہیں ۔
❤1
ہمیں چاہیے کہ ایسے گناہ کے کاموں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور بچوں کو سمجھائیں کہ ایسے لغو کاموں سے اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناراض ہوتے ہیں‘ مجدد برحق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ‘ آتشبازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے ‘ بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے ‘ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا ‘ ارشا ہوا ’’ اور فضول نہ اڑابے شک (مال) اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ۔ (سورہ بنی اسرائیل)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441،چشتی)
ایک اور روایت میں فرمایا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چند دن چھوڑ کر پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے ‘‘ ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441)
آپ ہی سے مروی ہے کہ سرکاردعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ188)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’ جن لوگوں کی روحیں قبض کرنی ہوتی ہیں ان کے ناموں کی فہرست ماہ شعبان میں ملک الموت کودی جاتی ہے اس لیے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرا نام اس وقت فہرست میں لکھا جائے جب کہ میں روزے کی حالت میں ہوں ‘‘ یہ حدیث پہلے مذکور ہوچکی ہے کہ مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پندرہویں شعبان کی رات کو تیار کی جاتی ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اس کے باوجود روزہ دار لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بوقت کتابت (شب) اللہ تعالیٰ روزہ کی برکت کو جاری رکھتا ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ192) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310336424535737/
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441،چشتی)
ایک اور روایت میں فرمایا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چند دن چھوڑ کر پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے ‘‘ ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441)
آپ ہی سے مروی ہے کہ سرکاردعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ188)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’ جن لوگوں کی روحیں قبض کرنی ہوتی ہیں ان کے ناموں کی فہرست ماہ شعبان میں ملک الموت کودی جاتی ہے اس لیے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرا نام اس وقت فہرست میں لکھا جائے جب کہ میں روزے کی حالت میں ہوں ‘‘ یہ حدیث پہلے مذکور ہوچکی ہے کہ مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پندرہویں شعبان کی رات کو تیار کی جاتی ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اس کے باوجود روزہ دار لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بوقت کتابت (شب) اللہ تعالیٰ روزہ کی برکت کو جاری رکھتا ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ192) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/310336424535737/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3