🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#جامعۃ_الرضا 📜 پوسٹ نمبر⁸³
📇 مرکز الدراسات الاسلامیہ 💐
🌹 جامعۃ الرضا بریلی شریف❤️
#دینی_معلومات #اسلامک_نالج
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📇 مرکز الدراسات الاسلامیہ 💐
🌹 جامعۃ الرضا بریلی شریف❤️
#دینی_معلومات #اسلامک_نالج
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
جب فرانسیسی جنرل گورو نے شام (Syria) میں قدم رکھا تو صلاح الدین ایوبی کی قبر (kabir) پر گیا اور قبر کو لات مار کر کہا:
" اٹھو صلاح الدین ہم پھر آگئے "
جب فرانسیسی جنرل لیوتی نے مراکش(Morocco) میں قدم رکھا تو یوسف بن تاشفین کی قبر کے پاس گیا اور قبر (kabir) کو لات مار کر کہا: " اے تاشفین کے بیٹے اٹھو ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں "
جب صلیبیوں (Crusaders) نے دوبارہ اندلس (Spain) پر قبضہ کیا تو "الفونسو" نے حاجب منصور کی قبر پر سونے کی چارپائی بچھائی اور بیوی کو لے کر شراب (şarap) پی کر لیٹ گیا اور کہا:
"دیکھو میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے"
جب یونانی فوج ترکی (Türkiye) میں داخل ہوئی تو یونانی فوج کے سربراہ "سوفوکلس وینیزیلوس" خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر (kabir) کے پاس گیا اورکہا: " اٹھو اے بڑی پگڑی والے اٹھو اے عظیم عثمان اٹھو دیکھو اپنے پوتوں کی حالت دیکھوں ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا جس کی تم نے بنیاد رکھی تھی ہم تم سے لڑنے آئے ہیں". کیا اب بھی کسی کو اس بارے میں شبہ (şüphe) ہے کہ یہ صلیبی جنگجو ہیں۔
اب سلطان صلاح الدین ایوبی ، یوسف بن تاشفین ، حاجب منصور اور عثمان غازی کے ارواح(Ruhler) کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی کہ عالم اسلام کے نوجوان ان کے کارناموں کو بھول گئی اسے فراموش کردیا اور ٹک ٹاک یا اور کتنے نئے طریقوں سےاپنےآپ کو دنیا(dünya) کے سامنے تماشہ بنا رہے ہیں اور اگر کسی سے بات کرو تو وہ کہتے ہیں یہ تو ٹیلنٹ ہے۔ کیا ان مجاھدین اسلام کا یہ ٹیلنٹ نہیں تھا یا ٹیلنٹ صرف فحاشی اور عریانی کو عروج دینا ہے صرف اپنے آپ کو دنیا (dünya) کے سامنے رسوا کرنا ہے کیا امت مسلمہ کے نوجوانوں کے پاس اپنے اسلاف کے کارناموں کو زندہ کرنے یا اسے آگے بڑھانے کے لئے اور وقت نہیں؟ یا یہ صلیبیوں (Crusaders) کے بچھائے ہوئے وہ جال ہے جسمیں ہم بخوشی پھنسے جا رہے ہیں۔۔
مسلمان کیا ہم اب بھی نہیں سمجھیں گے؟
رہے نام اللہ کا۔۔۔..............
#وَتُعِزُّمَن_تَشَاءُوَتُذِلُّ_مَن_تَشَاء
طالبِ دعا عبد الجبار رضوی امجدی سنبھلی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=908979163113645&id=100020047083200
" اٹھو صلاح الدین ہم پھر آگئے "
جب فرانسیسی جنرل لیوتی نے مراکش(Morocco) میں قدم رکھا تو یوسف بن تاشفین کی قبر کے پاس گیا اور قبر (kabir) کو لات مار کر کہا: " اے تاشفین کے بیٹے اٹھو ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں "
جب صلیبیوں (Crusaders) نے دوبارہ اندلس (Spain) پر قبضہ کیا تو "الفونسو" نے حاجب منصور کی قبر پر سونے کی چارپائی بچھائی اور بیوی کو لے کر شراب (şarap) پی کر لیٹ گیا اور کہا:
"دیکھو میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے"
جب یونانی فوج ترکی (Türkiye) میں داخل ہوئی تو یونانی فوج کے سربراہ "سوفوکلس وینیزیلوس" خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر (kabir) کے پاس گیا اورکہا: " اٹھو اے بڑی پگڑی والے اٹھو اے عظیم عثمان اٹھو دیکھو اپنے پوتوں کی حالت دیکھوں ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا جس کی تم نے بنیاد رکھی تھی ہم تم سے لڑنے آئے ہیں". کیا اب بھی کسی کو اس بارے میں شبہ (şüphe) ہے کہ یہ صلیبی جنگجو ہیں۔
اب سلطان صلاح الدین ایوبی ، یوسف بن تاشفین ، حاجب منصور اور عثمان غازی کے ارواح(Ruhler) کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی کہ عالم اسلام کے نوجوان ان کے کارناموں کو بھول گئی اسے فراموش کردیا اور ٹک ٹاک یا اور کتنے نئے طریقوں سےاپنےآپ کو دنیا(dünya) کے سامنے تماشہ بنا رہے ہیں اور اگر کسی سے بات کرو تو وہ کہتے ہیں یہ تو ٹیلنٹ ہے۔ کیا ان مجاھدین اسلام کا یہ ٹیلنٹ نہیں تھا یا ٹیلنٹ صرف فحاشی اور عریانی کو عروج دینا ہے صرف اپنے آپ کو دنیا (dünya) کے سامنے رسوا کرنا ہے کیا امت مسلمہ کے نوجوانوں کے پاس اپنے اسلاف کے کارناموں کو زندہ کرنے یا اسے آگے بڑھانے کے لئے اور وقت نہیں؟ یا یہ صلیبیوں (Crusaders) کے بچھائے ہوئے وہ جال ہے جسمیں ہم بخوشی پھنسے جا رہے ہیں۔۔
مسلمان کیا ہم اب بھی نہیں سمجھیں گے؟
رہے نام اللہ کا۔۔۔..............
#وَتُعِزُّمَن_تَشَاءُوَتُذِلُّ_مَن_تَشَاء
طالبِ دعا عبد الجبار رضوی امجدی سنبھلی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=908979163113645&id=100020047083200
👍1
Shamim Bano
اسلامی پہلو سے کیا مراد ہے ؟
دیو کی جہالت کا جواب
❤️مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اپنی کتاب "تحقیقات" کے صفحہ نمبر 60 پر لکھتے ہیں " اعلحضرت قدس سرہ کو سلام کا پہلو نظر آیا اگرچہ وہ بعید ہو ضعیف ہو اس لیے اعلحضرت قدس سرہ نے کف لسان فرمایا"
😱اب کچھ جاہل قسم کے دیو والے اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ جی ہمارے امام دہلوی کی عبارات میں جن کو تم لوگ گستا۔خانہ کہتے ہو ان میں اسلامی پہلو کون سا ہے ؟
💫حالانکہ اسلامی پہلو سے مراد وہ نہیں ہے جو یہ جاہل دیو والے سمجھے رہے ہیں کہ اس بات کو ہم یوں سمجھاتے ہیں
💢زید کا قول جو کفر صریح ہو لیکن اس میں ایک اسلامی پہلو یعنی کے اس *لازم کی طرف زید کا ذہن نا جانا اور وہ لازم اس کا مذہب نا ہونے کا بھی احتمال موجود ہے* لہذا اسمعیل کے اقوال بھی لزوم کفر ہے جس میں یہ ہی اسلامی پہلو موجود ہے نا کہ اس کے اقوال میں معنی کے اعتبار سے تاویل کا ہونا مراد ہے
🎉پس مفتی شریف الحق صاحب کی اسلامی پہلو نظر آیا سے یہ مراد ہے
🎃مگر اب دیوبندیوں نے دہلوی کی عبارات کا دفاع کر کے التزام اپنے سر پر لے لیا ہے
https://t.me/DeobandiScans/2000
اسلامی پہلو سے کیا مراد ہے ؟
دیو کی جہالت کا جواب
❤️مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اپنی کتاب "تحقیقات" کے صفحہ نمبر 60 پر لکھتے ہیں " اعلحضرت قدس سرہ کو سلام کا پہلو نظر آیا اگرچہ وہ بعید ہو ضعیف ہو اس لیے اعلحضرت قدس سرہ نے کف لسان فرمایا"
😱اب کچھ جاہل قسم کے دیو والے اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ جی ہمارے امام دہلوی کی عبارات میں جن کو تم لوگ گستا۔خانہ کہتے ہو ان میں اسلامی پہلو کون سا ہے ؟
💫حالانکہ اسلامی پہلو سے مراد وہ نہیں ہے جو یہ جاہل دیو والے سمجھے رہے ہیں کہ اس بات کو ہم یوں سمجھاتے ہیں
💢زید کا قول جو کفر صریح ہو لیکن اس میں ایک اسلامی پہلو یعنی کے اس *لازم کی طرف زید کا ذہن نا جانا اور وہ لازم اس کا مذہب نا ہونے کا بھی احتمال موجود ہے* لہذا اسمعیل کے اقوال بھی لزوم کفر ہے جس میں یہ ہی اسلامی پہلو موجود ہے نا کہ اس کے اقوال میں معنی کے اعتبار سے تاویل کا ہونا مراد ہے
🎉پس مفتی شریف الحق صاحب کی اسلامی پہلو نظر آیا سے یہ مراد ہے
🎃مگر اب دیوبندیوں نے دہلوی کی عبارات کا دفاع کر کے التزام اپنے سر پر لے لیا ہے
https://t.me/DeobandiScans/2000
👍1
؎ ’’ حیوان سے نکاح پر اعتراض کا جواب ‘‘
وہابی ، دیوبندی … جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کا تمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا، مسلم ہو، یا کافر اصلی ، یا مرتد انسان ہو یا حیوان محض باطل اور زنا خالص ہوا اور اولاد ولدالزنا ( ملفوظات ص ۱۰۵ حصہ دوم)
فائدہ!اس مجدد کا معیار تہذیب دیکھو کہ حیوان محض سے بھی نکاح تجویز کرتا ہے اور کیسے بد ترین الفاظ سے یاد کرتا ہے نیز معلوم رہے کہ حیوان سے نکاح کرنے کا ذکر اس مجدد نے اپنی دوسری کتاب احکام شریعت میں بھی کیا ہے۔ (چہل مسئلہ،ص،۴۴،مکتبہ صفدریہ)
یہ ہی اعتراض فیسبکی وہابی دیوبندی بھی کرتے نظر آتے ہیں
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے بلاغت کی وجہ سے ایک لفظ ( حیوان) کا اضافہ کیا ہے،ان بے چاروں کو علم سے کیا تعلق اور پھر علم بلاغت سے، لیکن افسوس تو دیوبندیوں کے نام نہاد امام اہلسنت سرفراز صاحب پر ہے کہ وہ ۵۵ سال بلکہ اس سے بھی زیادہ درسِ نظامی کی کتب کی تدریس کا دعویٰ کرتے ہیں اور بلاغت کاایک مسئلہ تک نہیں آتا،میں قارئین!! کی توجہ کے لیے عرض کردیتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے یہاں بلاغت کی ایک اصطلاح مبالغہ استعمال کی ہے، بلاغت میں مبالغہ کیا ہے اس کی کیا تعریف ہے اس کی اقسام کیا ہیں بجائے اس کے کہ میں عرض کروں، میں ایک دیوبندی ہی کی مبالغہ کی تعریف واقسام کی وضاحت کو آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں تاکہ حجت تام ہوجائے ۔
چنانچہ دیوبندی رشید احمد صاحب لکھتے ہیں:
معنی کلام کو مزین کرنے کا اٹھارہواں طریقہ’’ مبالغہ‘‘ہے اور وہ کسی شئی کے وصف کے شدت یا ضعف میں اس حد تک پہنچنے کا دعوی کرنے کوکہا جاتا ہے جو بعید از عقل یا محال ہو ،اس کی تین قسمیں ہیں
(۳) غلو
تیسری قسم’’ غلو‘‘ہے اور وہ ایسے مبالغہ کو کہا جاتا ہے جس کا وقوع عقلا اور عادتا دونوں طرح ممتنع و محال ہو جیسے ابو العلاء معری کا یہ شعر ہے
تکاد قسیہ من غیر رام تمکن فی قلوبھم النبالا
(قریب ہے کہ اس کی کمانیں تیر چلائے بغیر ہی دشمنوں کے دلوں میں تیروں کو پیوست کر دے)
یہ شاعر کمانوں کی عمدگی کی تعریف میں اس قدر مبالغہ کر رہا ہے کہ بغیر تیر چلائے ہی خود بخود تیر اس سے نکل کر سیدھے دشمنوں کے سینوں میں جاگزیں ہو جائے یہ صفت عقلا بھی ممتنع ہے اور عادتا بھی ۔
(مفتاح البلاغہ،ص،۳۶۶،مکتبہ رحمانیہ لاہور)
قارئین! دیکھا آپ نے کہ اعلیٰ حضرت نے مبالغہ کی تیسری قسم بیان فرمائی ہے یعنی مبالغہ غلو جو نہ عادۃ ممکن ہوتا ہے نہ عقلاً اور یہ مسئلہبھی ایسا ہی ہے کہ حیوان سے نکاح نہ عقلا ممکن نہ عادۃ لیکن ان جہلا دیوبند کے علمی یتیم ہونے کی بہترین عکاسی کرتا ہے کہ ایک آسان سا مسئلہ اور درس ِ نظامی کی ابتدائی کتابوں میں پڑھایا جانے والا مسئلہ بھی ان کو یاد نہیں اور اپنی اس علمی یتیمی کی وجہ سے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت پر اعتراض کرکے انتشار پھیلاتے ہیں۔
امین صفدر اوکاڑوی کے نزدیک حیوان سے نکاح جائز ہے:
قارئین! مجھے معلوم ہے کہ میں نے جو سیدھا سا جواب دیا ہے یہ جواب دیوبندیوں کی الٹی عقل میں نہیں آئے گا اور کوئی نہ کوئی دیوبندی پھر سے الٹے الٹے اعتراضات کرے گا کیونکہ جتنے بھی بڑے بڑے علماء و فقہاء کے کلام سے ان دیوبندیوں کو جواب دیا جائے تو یہ دیوبندی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن جب ان کو ان کے اپنے دیوبندی علماء کاحوالہ دے دیا جائے تو پھر ان کو سکون آتا ہے ۔
دیوبندیوں کے امام الکذابین جن کو یہ دیوبندی وکیل احناف ورئیس المناظرین کہتے ہیںیعنی ماسٹر امین صفدر اوکاڑی صاحب لکھتے ہیں:
ہماری طرف سے ترتیب یہ ہوگی کہ احمد رضا خان اپنی کتابوں کی روشنی میں گستاخ ، گستاخِ رسول تھا گستاخ اہل بیت تھا، گستاخ صحابہ کرام تھا، فقہاء کا منکر اور اولیاء کا گستاخ تھا وہ اپنے فتوی حسام الحرمین کے مطابق ایسا کافر اور مرتد تھا کہ جو اس کو پرلے درجہ کا فاسق فاجر مسلمان سمجھے وہ بھی کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کا نکاح کسی حیوان سے جائز نہیں اس کی ساری اولاد ولد الحرام ہے۔
(تریاق اکبر بزبان صفدر،ص، ۴۵۹ مکتبۃ الامین بہاولپور پاکستان)
یہ دیوبندیوں کے رئیس المناظرین کی عبارت ہے جس میں اس نے کوئی الزامی جواب نہیں دیا بلکہ اپنی طرف سے دعویٰ پیش کیا ہے کہ ہماری طرف سے ترتیب یہ ہوگی… تو اس دیوبندی نے لکھا ہے کہ’’ اس کا نکاح کسی حیوان سے جائز نہیں ‘‘، اس سے بالکل واضح معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے نزدیک حیوانوں سے نکاح جائز ہے اور یہاں کسی قسم کی تاویل بھی نہیں ہوسکتی کہ کوئی دیوبندی کہے یہاں بھی مبالغہ مراد ہے کیونکہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے پہلے ان کا ذکر کیا ہے جن سے نکاح ممکن ہے اور پھر بطور مبالغہ غلو کے حیوان کا لفظ استعمال کیا ہے جب کہ اس دیوبندی مناظر نے ڈائریکٹ حیوان کا لفظ استعمال کیا ہے کسی انسان کا ذکر نہیں کیاکہ اس کو مبالغہ پر محمول کیا جائے تو اب میں ان تمام دیوبندی جہلاء کو
وہابی ، دیوبندی … جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کا تمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا، مسلم ہو، یا کافر اصلی ، یا مرتد انسان ہو یا حیوان محض باطل اور زنا خالص ہوا اور اولاد ولدالزنا ( ملفوظات ص ۱۰۵ حصہ دوم)
فائدہ!اس مجدد کا معیار تہذیب دیکھو کہ حیوان محض سے بھی نکاح تجویز کرتا ہے اور کیسے بد ترین الفاظ سے یاد کرتا ہے نیز معلوم رہے کہ حیوان سے نکاح کرنے کا ذکر اس مجدد نے اپنی دوسری کتاب احکام شریعت میں بھی کیا ہے۔ (چہل مسئلہ،ص،۴۴،مکتبہ صفدریہ)
یہ ہی اعتراض فیسبکی وہابی دیوبندی بھی کرتے نظر آتے ہیں
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے بلاغت کی وجہ سے ایک لفظ ( حیوان) کا اضافہ کیا ہے،ان بے چاروں کو علم سے کیا تعلق اور پھر علم بلاغت سے، لیکن افسوس تو دیوبندیوں کے نام نہاد امام اہلسنت سرفراز صاحب پر ہے کہ وہ ۵۵ سال بلکہ اس سے بھی زیادہ درسِ نظامی کی کتب کی تدریس کا دعویٰ کرتے ہیں اور بلاغت کاایک مسئلہ تک نہیں آتا،میں قارئین!! کی توجہ کے لیے عرض کردیتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے یہاں بلاغت کی ایک اصطلاح مبالغہ استعمال کی ہے، بلاغت میں مبالغہ کیا ہے اس کی کیا تعریف ہے اس کی اقسام کیا ہیں بجائے اس کے کہ میں عرض کروں، میں ایک دیوبندی ہی کی مبالغہ کی تعریف واقسام کی وضاحت کو آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں تاکہ حجت تام ہوجائے ۔
چنانچہ دیوبندی رشید احمد صاحب لکھتے ہیں:
معنی کلام کو مزین کرنے کا اٹھارہواں طریقہ’’ مبالغہ‘‘ہے اور وہ کسی شئی کے وصف کے شدت یا ضعف میں اس حد تک پہنچنے کا دعوی کرنے کوکہا جاتا ہے جو بعید از عقل یا محال ہو ،اس کی تین قسمیں ہیں
(۳) غلو
تیسری قسم’’ غلو‘‘ہے اور وہ ایسے مبالغہ کو کہا جاتا ہے جس کا وقوع عقلا اور عادتا دونوں طرح ممتنع و محال ہو جیسے ابو العلاء معری کا یہ شعر ہے
تکاد قسیہ من غیر رام تمکن فی قلوبھم النبالا
(قریب ہے کہ اس کی کمانیں تیر چلائے بغیر ہی دشمنوں کے دلوں میں تیروں کو پیوست کر دے)
یہ شاعر کمانوں کی عمدگی کی تعریف میں اس قدر مبالغہ کر رہا ہے کہ بغیر تیر چلائے ہی خود بخود تیر اس سے نکل کر سیدھے دشمنوں کے سینوں میں جاگزیں ہو جائے یہ صفت عقلا بھی ممتنع ہے اور عادتا بھی ۔
(مفتاح البلاغہ،ص،۳۶۶،مکتبہ رحمانیہ لاہور)
قارئین! دیکھا آپ نے کہ اعلیٰ حضرت نے مبالغہ کی تیسری قسم بیان فرمائی ہے یعنی مبالغہ غلو جو نہ عادۃ ممکن ہوتا ہے نہ عقلاً اور یہ مسئلہبھی ایسا ہی ہے کہ حیوان سے نکاح نہ عقلا ممکن نہ عادۃ لیکن ان جہلا دیوبند کے علمی یتیم ہونے کی بہترین عکاسی کرتا ہے کہ ایک آسان سا مسئلہ اور درس ِ نظامی کی ابتدائی کتابوں میں پڑھایا جانے والا مسئلہ بھی ان کو یاد نہیں اور اپنی اس علمی یتیمی کی وجہ سے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت پر اعتراض کرکے انتشار پھیلاتے ہیں۔
امین صفدر اوکاڑوی کے نزدیک حیوان سے نکاح جائز ہے:
قارئین! مجھے معلوم ہے کہ میں نے جو سیدھا سا جواب دیا ہے یہ جواب دیوبندیوں کی الٹی عقل میں نہیں آئے گا اور کوئی نہ کوئی دیوبندی پھر سے الٹے الٹے اعتراضات کرے گا کیونکہ جتنے بھی بڑے بڑے علماء و فقہاء کے کلام سے ان دیوبندیوں کو جواب دیا جائے تو یہ دیوبندی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن جب ان کو ان کے اپنے دیوبندی علماء کاحوالہ دے دیا جائے تو پھر ان کو سکون آتا ہے ۔
دیوبندیوں کے امام الکذابین جن کو یہ دیوبندی وکیل احناف ورئیس المناظرین کہتے ہیںیعنی ماسٹر امین صفدر اوکاڑی صاحب لکھتے ہیں:
ہماری طرف سے ترتیب یہ ہوگی کہ احمد رضا خان اپنی کتابوں کی روشنی میں گستاخ ، گستاخِ رسول تھا گستاخ اہل بیت تھا، گستاخ صحابہ کرام تھا، فقہاء کا منکر اور اولیاء کا گستاخ تھا وہ اپنے فتوی حسام الحرمین کے مطابق ایسا کافر اور مرتد تھا کہ جو اس کو پرلے درجہ کا فاسق فاجر مسلمان سمجھے وہ بھی کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کا نکاح کسی حیوان سے جائز نہیں اس کی ساری اولاد ولد الحرام ہے۔
(تریاق اکبر بزبان صفدر،ص، ۴۵۹ مکتبۃ الامین بہاولپور پاکستان)
یہ دیوبندیوں کے رئیس المناظرین کی عبارت ہے جس میں اس نے کوئی الزامی جواب نہیں دیا بلکہ اپنی طرف سے دعویٰ پیش کیا ہے کہ ہماری طرف سے ترتیب یہ ہوگی… تو اس دیوبندی نے لکھا ہے کہ’’ اس کا نکاح کسی حیوان سے جائز نہیں ‘‘، اس سے بالکل واضح معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے نزدیک حیوانوں سے نکاح جائز ہے اور یہاں کسی قسم کی تاویل بھی نہیں ہوسکتی کہ کوئی دیوبندی کہے یہاں بھی مبالغہ مراد ہے کیونکہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے پہلے ان کا ذکر کیا ہے جن سے نکاح ممکن ہے اور پھر بطور مبالغہ غلو کے حیوان کا لفظ استعمال کیا ہے جب کہ اس دیوبندی مناظر نے ڈائریکٹ حیوان کا لفظ استعمال کیا ہے کسی انسان کا ذکر نہیں کیاکہ اس کو مبالغہ پر محمول کیا جائے تو اب میں ان تمام دیوبندی جہلاء کو
👍2
کہتا ہوں جو آج تک اعلی حضرت امام اہلسنت کے بارے میں بکواس پہ بکواس کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے لیے کوئی … ( ہر ایک دیوبندی اپنی شان کے مطابق عبارت نکال لے) ڈھونڈے اور اپنے رئیس المناظرین کے فتوے پر عمل کرکے اس کو راحت پہنچائے۔
ایک دیوبندی نے اپنی طرف سے جواب دینے کی کوشش کی مگر جواب بنا نہیں
ہم نے پہلے "مفتاح البلاغہ " سے کسی کلام مزین کرنے کے "مبالغہ" کے استعمال کا حوالہ دیا ۔مگر دیوبندی کہتا ہے کہ وہاں استعمال شاعری کے حوالہ سے ہے تو اس کو ایک اور مثال دیتے ہیں کہ حدیث مبارکہ ہے
عن جابر بن عبد الله ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" من بنى مسجدا لله كمفحص قطاة او اصغر، بنى الله له بيتا في الجنة".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا
گھونسلے جتنی مسجد کا وجود محال ھے اور ترغیب وترھیب کے لئے اس محال کا استعمال مبالغہ ھے۔
امید دیوبندی کے دماغ میں مبالغہ کا استعمال گھس گیا ہوگا ۔
باقی حیوان والی عبارت اس کے مولوی نے بطور دعوی پیش کی نہ بطور الزام
مرتب ۔ غلام غوث قادری
ماخوذ۔ چالیس اعتراضات کے جوابات
ایک دیوبندی نے اپنی طرف سے جواب دینے کی کوشش کی مگر جواب بنا نہیں
ہم نے پہلے "مفتاح البلاغہ " سے کسی کلام مزین کرنے کے "مبالغہ" کے استعمال کا حوالہ دیا ۔مگر دیوبندی کہتا ہے کہ وہاں استعمال شاعری کے حوالہ سے ہے تو اس کو ایک اور مثال دیتے ہیں کہ حدیث مبارکہ ہے
عن جابر بن عبد الله ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" من بنى مسجدا لله كمفحص قطاة او اصغر، بنى الله له بيتا في الجنة".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا
گھونسلے جتنی مسجد کا وجود محال ھے اور ترغیب وترھیب کے لئے اس محال کا استعمال مبالغہ ھے۔
امید دیوبندی کے دماغ میں مبالغہ کا استعمال گھس گیا ہوگا ۔
باقی حیوان والی عبارت اس کے مولوی نے بطور دعوی پیش کی نہ بطور الزام
مرتب ۔ غلام غوث قادری
ماخوذ۔ چالیس اعتراضات کے جوابات
👍2
https://t.me/DeobandiScans/2010
سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ
پر دیوبندیوں کے اعتراض کا جواب
https://t.me/islaamic_Knowledge/27718
سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ
پر دیوبندیوں کے اعتراض کا جواب
https://t.me/islaamic_Knowledge/27718
👍1
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کا حکمت بھرا کلام
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1097054870872081/
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا مشہور وَلِیَّہ ہیں ، بڑی نیک ، عِبَادت گزار تھیں ، حضرت محمد بن عَمْرو رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے گھر کا کُل ساز و سامان 6 چیزیں تھیں :
(1) : ایک چٹائی
(2) : ایک مٹکا
(3) : ایک پیالہ اور
(4) : ایک موٹا اُونی کپڑا تھا، اسی پر آپ نماز پڑھا کرتیں اور اسی پر آرام فرماتی تھیں
(5-6) : تقریباً 2 گز لمبی بانس کی ایک کھونٹی تھی ، جس پر کفن لٹکا رہتا تھا۔
ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہۡ نے حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کی غُرْبت اور تنگ حالی کو دیکھا تو عرض کیا :
اے اُمِّ عَمْرو! میں آپ کی قابلِ رحم حالت دیکھ رہا ہوں ، اگر آپ اپنے فلاں پڑوسی کے پاس جائیں تو وہ آپ کو ایسے حال پر نہ رہنے دے گا (یعنی وہ آپ کی مالی خدمت کو اپنے لیے باعثِ شرف سمجھے گا)۔
اس پر حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا نے فرمایا :
سفیان! تم نے میرے حال میں کیا کمی دیکھی! کیا میں مسلمان نہیں ہوں...؟ اسلام وہ عزت ہے جس کے ساتھ ذِلّت نہیں ، اسلام وہ مالداری ہے جس کے ساتھ محتاجی نہیں ، اسلام وہ محبت ہے ، جس کے ساتھ وحشت نہیں۔ اللہ کی قسم! میں دُنیا کے حقیقی مالک (یعنی اللہ پاک) سے بھی دُنیا مانگتے حیا کرتی ہوں تو جو دُنیا کامالِک ہی نہیں (مثلاً مالدار لوگ ، اِن) سے دُنیا کیسے مانگوں؟ ۔
(وفیات الاعیان ، جلد : 1 ، صفحہ : 328)
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے اس مبارک انداز پر غور فرمائیے! ایک تو یہ ہے کہ آپ نے قناعت اِختیار فرمائی ، لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پسند نہ فرمایا ، دوسرا اِس بات پر غور فرمائیے کہ حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے سامنے جب آپ کی غُربت کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فوراً فرمایا:
اے سفیان! تم نے میرے حال میں کیا کمی دیکھی؟ کیا میں مسلمان نہیں ہوں...؟ اسلام وہ عزت ہے جس کے ساتھ ذِلّت نہیں ، اسلام وہ مالداری ہے جس کے ساتھ محتاجی نہیں۔
اللہ پاک ہمیں بھی حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے صدقے ہر وقت نعمتوں کا شُکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1097054870872081/
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا مشہور وَلِیَّہ ہیں ، بڑی نیک ، عِبَادت گزار تھیں ، حضرت محمد بن عَمْرو رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے گھر کا کُل ساز و سامان 6 چیزیں تھیں :
(1) : ایک چٹائی
(2) : ایک مٹکا
(3) : ایک پیالہ اور
(4) : ایک موٹا اُونی کپڑا تھا، اسی پر آپ نماز پڑھا کرتیں اور اسی پر آرام فرماتی تھیں
(5-6) : تقریباً 2 گز لمبی بانس کی ایک کھونٹی تھی ، جس پر کفن لٹکا رہتا تھا۔
ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہۡ نے حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کی غُرْبت اور تنگ حالی کو دیکھا تو عرض کیا :
اے اُمِّ عَمْرو! میں آپ کی قابلِ رحم حالت دیکھ رہا ہوں ، اگر آپ اپنے فلاں پڑوسی کے پاس جائیں تو وہ آپ کو ایسے حال پر نہ رہنے دے گا (یعنی وہ آپ کی مالی خدمت کو اپنے لیے باعثِ شرف سمجھے گا)۔
اس پر حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا نے فرمایا :
سفیان! تم نے میرے حال میں کیا کمی دیکھی! کیا میں مسلمان نہیں ہوں...؟ اسلام وہ عزت ہے جس کے ساتھ ذِلّت نہیں ، اسلام وہ مالداری ہے جس کے ساتھ محتاجی نہیں ، اسلام وہ محبت ہے ، جس کے ساتھ وحشت نہیں۔ اللہ کی قسم! میں دُنیا کے حقیقی مالک (یعنی اللہ پاک) سے بھی دُنیا مانگتے حیا کرتی ہوں تو جو دُنیا کامالِک ہی نہیں (مثلاً مالدار لوگ ، اِن) سے دُنیا کیسے مانگوں؟ ۔
(وفیات الاعیان ، جلد : 1 ، صفحہ : 328)
حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے اس مبارک انداز پر غور فرمائیے! ایک تو یہ ہے کہ آپ نے قناعت اِختیار فرمائی ، لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پسند نہ فرمایا ، دوسرا اِس بات پر غور فرمائیے کہ حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے سامنے جب آپ کی غُربت کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فوراً فرمایا:
اے سفیان! تم نے میرے حال میں کیا کمی دیکھی؟ کیا میں مسلمان نہیں ہوں...؟ اسلام وہ عزت ہے جس کے ساتھ ذِلّت نہیں ، اسلام وہ مالداری ہے جس کے ساتھ محتاجی نہیں۔
اللہ پاک ہمیں بھی حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہَا کے صدقے ہر وقت نعمتوں کا شُکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
❤1👍1