🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
🌹 #فیضان_شعبان_المعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚فلاحی اداروں کا زکوٰۃ وصول کرنا، جمع شدہ مال زکوٰۃ سال گزرنے کے بعد بھی جمع رکھنا شرعاً کیسا ہے؟📚*


*السلامُ عليكم ورحمة الله وبركاته*
کیا فرماتےہیں مفتیان اسلام اس مسئلہ میـں
گاؤں میں بیت المال قائم ہے

بیت المال قائم کرنے کا مقصد غریب اور بیوہ کی مدد کرنا ہے کسی کا ماہانہ خرچ تو کسی کا علاج کرایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ
اس کے لئے ہر سال کمیٹی زکوٰۃ وصول کرتی ہے
تو کمیٹی کے ممبران کون کون ہو سکتے ہیں؟
اور جو ہر سال زکوٰۃ کا پیسہ وصولہ جاتا ہے کیا اس کو ایک سال کے دوران ختم کرنا ضروری ہے
مثلاً پچھلے رمضان میں 5 لاکھ چندہ ہوا تو کیا رمضان سے پہلے پہلے 5 لاکھ جو چندہ ہوا تھا اس کو پورا خرچ کرنا ضروری ہے یا اس کو آئندہ سال کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں؟ مدلل جواب عطا فرمائیں نوازش ہوگی
*المستفتی : محمد عثمان رضا ممبئی*


*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب:*
*ادائیگی زکوٰۃ میں بنیادی شرط " تملیک فقیر " یعنی فقیر کو مال زکوٰۃ کا مالک بنا دینا ہے ،*

چنانچہ امام شمس الدین محمد تمرتاشی حنفی متوفی۱۰۰۴ھ فرماتے ہیں
*🖋️" ھی تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر "*

*(📕تنویرالابصار ، کتاب الزکوۃ، ص۳۶ ، مطبوعۃ:مطبعۃالترقی مصر ، الطبعۃالاولی:۱۳۳۲ھ)*
یعنی، شارع کی طرف متعین کردہ مال کے حصے کا مسلمان فقیر کو مالک بنادینے کا نام زکوٰۃ ہے ،

*اسی لئے جن امور میں تملیک فقیر نہیں پائی جاتی ان میں زکوٰۃ صرف بھی نہیں ہوسکتی ،*

امام تمرتاشی فرماتےہیں
*🖋️" لا الی بناء مسجد و کفن میت وقضاء دینہ "*

*(📘ایضا ص۴۲)*

یعنی، تعمیرمسجد ، کفن میت اور ادائیگی قرض میت میں زکوٰۃ صرف نہیں کی جاسکتی،

*البتہ جہاں ضرورت ہو کہ بے اس کے کام چل نہ سکے تو بعد حیلہ شرعی صرف کرنے کی اجازت ہے*

چنانچہ علامہ علاؤالدین محمد بن علی حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ فرماتے ہیں
*🖋️" و حیلۃالتکفین بھا التصدق علی الفقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما و کذا فی تعمیر المسجد "*

*(📗درالمختار ، کتاب الزکوۃ ، باب المصرف ، ص۱۲۸ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ، الطبعۃالاولی:۱۴۲۳ھ)*
یعنی، کفن دینے کا حیلہ یہ ہےکہ مال زکوٰۃ فقیر کو صدقہ کردے پھر وہ کفن دے ، ثواب دونوں کو ملےگا ، یہی حکم تعمیرمسجد میں بھی ہے ،

دوسری جگہ فرماتےہیں
*🖋️" وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء "*

*(📙ایضا ص۱۳۷)*
یعنی،ہم نے پہلے بیان کیاکہ حیلہ یہ ہےکہ مال زکوٰۃ فقیرکوصدقہ کردے پھر اسے ان چیزوں میں خرچ کرنےکوکہے ،

*فی زمانہ جو فلاحی ادارے ، تنظیمیں اور تحریکیں مال زکوٰۃ وصول کرتی ہیں ان میں سے اکثر شرعی تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں ، ان کے ممبران نہ پابند شرع ہوتے ہیں نہ متدین ، نہ امانتدار ، نہ صاحب علم ۔*
*اگر کہیں ہوں بھی تو وہ حیلہ شرعی کے بعد مال زکوٰۃ اسکولوں ، کالجوں ، اسپتالوں اور دنیوی تعلیم گاہوں میں زیرتعلیم طلبہ و طالبات ، لڑکیوں کی شادی وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں ، جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے*

فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے

*🖋️" دینی اور دنیوی تعلیم گاہوں اور لڑکیوں کی شادی بیاہ کیلئے فلاحی تنظیموں کا زکوۃ وصول کرنا اور اس کو مذکورہ فنڈ میں صرف کرنے کے لئے حیلہ شرعیہ کر نامنع ہے کہ اس میں ایجاب زکوۃ کی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے ۔ اگر کوئی انفرادی طور پر مال زکوۃ محتاج بچیوں کی شادی و بیاہ پر بعد حیلہ شرعیہ خرچ کرے تو اس کی اجازت ہے۔ یا وہ مال زکوۃ مز کی خود مستحق بچیوں کو دیدے۔"*

*(📔فیصلہ جات شرعی کونسل ، ص۳۱۰ ، مطبوعہ: جامعۃالرضا بریلی شریف ، طبع:۱۴۳۶ھ)*

*یہ تو بعد حیلہ شرعی کا حکم تھا ، اگر حیلہ شرعی کے بنا ہی اس طرح خرچ کرتےہوں تو اگر خالص مستحقین پر مالک بنا کر خرچ کریں تو فبھا ورنہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ کمیٹی والے بیمار غریب کی فیس وغیرہ غریب کو بنا مالک بنائے اسپتال والوں کے پاس جمع کردیتےہیں ، ایسی صورت میں تملیک فقیر مفقود ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ، یونہی بلا حیلہ شرعی شادی بیاہ یا دیگر سماجی و رفاہی کاموں خرچ سے بھی ادائیگی زکوٰۃ نہیں ہوگی ،*
*یہ ادارے ، تنظیمیں اور تحریکیں کئی مفاسد کا پلندہ ہوتی ہیں ، فلہذا مسلمان پر لازم ہےکہ از خود مال زکوٰۃ مستحقین تک پہونچائیں اور ان تنظیموں پر اعتماد نہ کریں ،*
*صورت مسئولہ میں گاؤں والوں کا بیت المال قائم کرکے مال زکوٰۃ وصول کرنے کا مقصد اگر واقعی مستحقین تک زکوٰۃ کی رقم انہیں پہونچا کر مالک بنانا ہے تو بڑی اچھی بات ہے ، ورنہ اگر خرچ بلا تملیک فقیر ہوتو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اور بعد حیلہ شرعی شادی بیاہ ، اسکول و کالج وغیرہ کی تعلیم پر صرف ہوتو ابطال حکمت زکوٰۃ کی بنا پر ممنوع ہے ، اور اگر مقصود فقراء تک پہونچا کر مالک بنانا ہی ہے مگر بلاوجہ عذر و مصلحت شرعی کے بغیر بیت المال میں جمع کر رکھاہے تو بھی درست نہیں کہ محض بیت المال کے آفس میں رقم جمع کردینے سے آدمی برئ الذمہ نہیں ہوتا ،*

چنانچہ علامہ علاؤالدین حصکفی فرماتےہیں

*🖋️" ولایخرج عن العھدۃ بالعزل ، بل بالاداء للفقیر "*

*(📕الدرالمختار ، کتاب الزکوۃ، ص۱۲۷)*
یعنی ، مال زکوٰۃ صرف الگ دینے سے عہدہ برآ نہیں ہوگا بلکہ فقیر کو ادا کرنے سے ہوگا ،

*اور اگر مستحقین تک پہونچانے میں سال دو سال تک کی تاخیر ہوجائے تو پھر گناہگار بھی ہونگے ۔*

علامہ ابن عابدین شامی فرماتےہیں

*🖋️" المراد أن لا يؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بـ «النون، إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم "*

*(📗ردالمحتار ، کتاب الزکوۃ ، ۳/۱۹۲)*
یعنی تاخیر سے مراد یہ ہےکہ آنے والے سال تک مؤخر نہ کرے جیساکہ بدائع میں منتقے سے منقول ہے ، کہ جب ادا نہیں کیا یہانتک کہ دو س گزر گئے تو برا کیا اور گناہگار ہوا ،

*البتہ اگر حیلہ شرعی کے بعد جمع کر رکھاہے تو گناہگار ہونے کی کوئی وجہ نہیں ، کماھو ظاھر*

*یہاں کوئی مدارس اسلامیہ پر عدم اعتماد کا خیال نہ کرے اسلئے کہ مدارس کے مھتمم غریب طلبہ کے وکیل ہوتے ہیں کیونکہ جب مدارس کے طلبہ نے ان کے اہتمام کو تسلیم کرلیا تو گویا یہ کہہ دیا کہ آپ ہمارے لئے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے ہماری ضروریات میں صرف کریں ، لہذا زکوٰۃ کی رقم مہتمم کے پاس یا مدرسے کے دفتر میں جمع ہوتے ہی زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوجائےگی ،*

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں

*🖋️" قوله (إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئاً ملكوه وصار خالطا مالهم بعضهم ببعض، ووقع زكاة عن الدافع "*

*(📙ردالمحتار ، کتاب الزکوۃ ، تحت شرط صحۃ اداء ، ۳/۱۸۸ ، دارعالم الکتب ریاض ، طبعۃخاصۃ:۱۴۲۳ھ)*
یعنی،شارح کاقول کہ مگر جبکہ فقراء نے اسے وکیل بنایا ہو: اسلئےکہ جب وہ وکیل کسی چیز پر قبضہ کرےگا فقراء مالک ہوجائیں گے اور خلط انہی کے بعض مال کا بعض مال کےساتھ ہوگا اور زکوۃ دینے والے کی طرف سے ادا ہوجائےگی ،

*جبکہ فلاحی اداروں ، تنظیموں کے اراکین فقراء کے وکیل نہیں ہوتے بلکہ زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے وکیل ہوتے ہیں ، وکیل کے ہاتھ میں آتے ہی مؤکل برئ الذمہ نہیں ہوتا جب تک کہ وکیل مستحق تک نہ پہونچا دے جیساکہ ابھی درمختار کے حوالے سے گزرا ۔*

*ھذا ماظھرلی والعلم الحقیقی عندربی*
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*


*✍🏻کتبــــــــــه:*
*محمد شکیل اختر قادری برکاتی، شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلی حضرت، ہبلی کرناٹک الہند۔*

*الجواب صحیح: محمد شبیر احمد صدیقی، قاضی شرع احمدآباد،گجرات۔*
*الجواب صحیح: عطا محمد مشاہدی، دارالافتاء دارالعلوم حشمت الرضا پیلی بھیت شریف یوپی۔*
*الجواب صحیح والمجیب نجیح: محمدشرف الدین رضوی، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیہ قادریہ فیلخانہ ہوڑہ کلکتہ۔*
*الجواب صحیح: محمدصادق رضا، شاہی جامع مسجد پٹنہ بہار۔*
*الجواب صواب والمجیب مثاب واللہ تعالٰی اعلم: شمیم القادری نعیمی خادم مسجد کنزالایمان ومدرس دارالعلوم صمدیہ محمدیہ داونگیرے کرناٹک۔*
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯بنت رسولﷺ حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا🕯*


نام و نسب:
اسمِ گرمی: سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰه عنھا۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: سیدہ امِ کلثوم بنتِ سید المرسلین حضرت محمدﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک۔
(رضی اللّٰه عنہم اجمعین)

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا نبی مکرمﷺ کی تیسری بیٹی ہیں یہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں۔ یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں۔ نبی کریمﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں ہوش سنبھالا اور آغوش رسات میں پرورش پائی۔

نکاح اوّل اور طلاق: اعلان نبوت سے پہلے نبی کریم نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ابو لہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا۔لیکن جب نبی کریمﷺ نے اعلان نبوت فرمایا۔ اور قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ اور قرآن کریم میں "سورہ لہب" نازل ہوئی جس میں ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت کی گئی۔ تو ابولہب نے اپنے بیٹے عتیبہ سے کہا۔ محمدﷺ کی بیٹی کو طلاق دے دو۔ تو عتیبہ نے طلاق دے دی۔

سیدہ ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کی شادی: حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔
ما انا ازواجّ بناتی ولکن اللہ تعالی ٰیزوجھن۔
میں اپنی بیٹیوں کو اپنی مرضی سی کسی کی تزویج میں نہیں دیتا۔ بلکہ اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے ان کے نکاحوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔
(المستدرک للحاکم ج۴ ص۹۴)

جب حضرت رقیہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا۔ تو حضر ت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت صدمہ پہنچا۔ وہ ہر وقت غم میں ڈوبے رہتے تھے۔چناچہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے انہیں غمگین دیکھا تو فرمایا۔مالی اراک مغموما؟ عثمان تمیں کیوں غمزدہ دیکھ رہا ہوں ؟سیدنا عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ عرض کرتے ہیں۔
آقا مصیبت کا جو پہاڑ مجھ پر گرا ہے کسی اور پر نہیں گرا۔
اللّٰه کے رسولﷺ کی بیٹی جو میرے نکاح میں تھی۔ انتقال کر فرما گئیں۔ جس سے میری کمر ٹوٹ گئی۔ اور وہ رشتہ مصاحبت بھی ختم ہوگیا جو میرے اور آپﷺ کے درمیان تھا۔ نبی کریمﷺ نے تسلی دی اور فرمایا کہ یہ جبرئیل میرے پاس آے ہیں اور مجھے خبر دی ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کو آپ کے نکاح میں دوں اور جو مہر رقیہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کے لیے مقرر ہوا تھا اُسی کے موافق ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر ہو۔
(ابن ماجہ ۔اسدالغابہ ج۵ ص۳۱۶۔کنزالعمال ج۶ص۵۷۳)

چنانچہ حضرت ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے ساتھ ربیع ا لاوّل 2 ہجری میں ہوا۔ اور جمادی الاخریٰ میں رخصتی ہوئی۔
(طبقات ابن سعد ج ۸ ص۵۲ ۔اسد الاغابہ لابن اثیر الجزری ج۵ ص۳۱۶)

سیدنا عثمان رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ بے مثال شوہر: ایک دن حضورﷺ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف گئے اور فرمایا: بیٹی : عثمان کہاں ہیں؟
حضرت ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ کسی کام سے گئے ہیں پھر آپﷺ نے ان سے فرمایا تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ حضرت ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا نے عرض کیا۔ ابا جان وہ بہت اچھےاخلاق والے اور بلند مرتبہ شوہر ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: بیٹی ایسا کیوں نہ ہوتا۔ وہ دنیا میں تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمہارے باپ حضرت محمدﷺ سے بہت مشابہ ہیں۔
ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی ﷲ عنہ میرے صحابہ میں سب سے زیادہ میر ے اخلاق اور عادات سے مشابہ ہیں۔

حضرت ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کا انتقال: حضور نبی کریمﷺ کی شہزادی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شعبان 9ھ کو انتقال ہوا۔ حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا چھ سال تک حضرت عثمان غنی رضی ﷲ عنہ کے نکاح میں رہیں۔
(طبقات ابن سعد ج۸ ص۵۲)

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد اُن کے غُسل و کفن کے انتظامات نبی کریمﷺ نے خود فرمائے۔سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو غسل حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا، سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، لیلیُ بنت قانف رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اور ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیا۔
(طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲،اسد الغابہ ج۵ ص۲۱۶)

جب حضرت ام کلثوم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کا غسل اور کفن ہو چکا تو ان کے جنازہ کے لیے حضور نبی کریمﷺ تشریف لائے۔ اور آپﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی تھے۔ حضور نبی کریمﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ جنت البقیع میں دفن فرمایا۔
(طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲ ،شرح مواھب اللدنیہ للزرقانی ج۳ص٢٠٠)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-08-1443 ᴴ | 12-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-08-1443 ᴴ | 13-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-08-1443 ᴴ | 13-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-08-1443 ᴴ | 13-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1