🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-08-1443 ᴴ | 11-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-08-1443 ᴴ | 12-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-08-1443 ᴴ | 12-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-08-1443 ᴴ | 12-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from کتب فتاویٰ 📚 لائبریری (محمد جمال الدين خان قادری)
Majmua Fatawa Ahle Sunnat
مجموعہ فتاویٰ اہل سنت 📚
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.fatawarazviya_fatawaahlesunnat
اِس↑ایپلیکیشن میں شامل
مجموعہائے فتاویٰ اہل سنت:
Fatawa Razviya Mukammal
(فتاویٰ رضویہ شریف مکمل)
Fatawa Faizur Rasool
(فتاویٰ فیض الرسول مکمل)
Fatwa Barkatiya
( فتاویٰ برکاتیہ | فقیہ ملت)
Fatawa Sadarul Afazil
( فتاویٰ صدر الافاضل )
Fatawa Malikul Ulma
( فتاویٰ ملک العلماء )
Fatawa Tajush Shariya
(فتاویٰ تاج الشریعہ مکمل)
Habeebul Fatawa
( حبیب الفتاویٰ )
Fatawa idara e Shariya
( فتاویٰ ادارہ شرعیہ )
Fatawa Hafize Millat Ashrafiya
(فتاویٰ حافظ ملت فتاویٰ اشرفیہ)
Features In This App:
Copy | Bookmark | Search
فتاویٰ رضویہ مکمل pdf قدیم/جدید
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2820
مجموعہ فتاویٰ اہل سنت 📚
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.fatawarazviya_fatawaahlesunnat
اِس↑ایپلیکیشن میں شامل
مجموعہائے فتاویٰ اہل سنت:
Fatawa Razviya Mukammal
(فتاویٰ رضویہ شریف مکمل)
Fatawa Faizur Rasool
(فتاویٰ فیض الرسول مکمل)
Fatwa Barkatiya
( فتاویٰ برکاتیہ | فقیہ ملت)
Fatawa Sadarul Afazil
( فتاویٰ صدر الافاضل )
Fatawa Malikul Ulma
( فتاویٰ ملک العلماء )
Fatawa Tajush Shariya
(فتاویٰ تاج الشریعہ مکمل)
Habeebul Fatawa
( حبیب الفتاویٰ )
Fatawa idara e Shariya
( فتاویٰ ادارہ شرعیہ )
Fatawa Hafize Millat Ashrafiya
(فتاویٰ حافظ ملت فتاویٰ اشرفیہ)
Features In This App:
Copy | Bookmark | Search
فتاویٰ رضویہ مکمل pdf قدیم/جدید
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2820
Google Play
Majmua Fatawa Ahle Sunnat - Apps on Google Play
مجموعہ فتاوی اہل سنت Majmua Fatawa Ahle Sunnat
❤2
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم ❾
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ماہِ شَعبانُ المعظم میں پیش آنے والے اہم واقعات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304106488492064/
محترم قارئینِ کرام : ماہِ شَعبانُ المعظم اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے یہ اُن بارہ مہینوں میں سے ایک ہے ، جن کا تذکرہ قرآن میں مذکورہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ یوم خلق السموات والأرض ؛ یقیناً شمار مہینوں کا (جو کہ) کتاب الٰہی میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینہ (قمری) ہیں ، جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے تھے (اسی روز سے) ۔ (سورہ التوبہ)
’’شعبان‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کے معنی ہیں پھیلانا اور شاخ در شاخ کرنا (القاموس الوحید) اہلِ علم نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ اس مہینہ میں اللہ کی طرف سے نفل روزے رکھنے اور نیک عمل کر نے والے کو شاخ در شاخ برابر بڑھتی رہنے والی نیکی میسر ہوتی ہے ، بعض حضرات یہ بیان کر تے ہیں کہ اُس کے معنی ظاہر ہونے کے ہیں ، اور یہ مہینہ یا اس مہینہ کا چاند رمضان کے بابرکت مہینہ سے پہلے ظاہر ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے رمضان کے بابرکت مہینہ کی آمدکا احساس ہوتا ہے ۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری)
شعبان کے ساتھ معظم لگا کر شعبان المعظم بولاجاتا ہے ، معظم کے معنی عظمت والی چیز کے ہیں اور حدیث کی روشنی میں یہ مہینہ عظمتوں والا ہے ۔ ۔ اس ماہِ مبارک میں جن صحابۂ کرام ، اَولیائے عُظَّام اور عُلَمائے اسلام کا یومِ وِصال یا عُرس اور دیگر اہم واقعات جو رونما ہوئے اُن کا مختصر تذکرہ پیشِ خدمت ہے :
ماہ شعبان ۲ھ میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے ، اس سے پہلے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلَّم عاشورا یعنی دس محرم اور ہر مہینے میں تین روزے رکھا کر تے تھے ۔ (عہد نبوت کے ماہ وسال)
ماہ شعبان ۴ھ میں غزوۂ بدر صفری پیش آیا ۔ (البدایۃ والنہایۃ)
نواسہ رسول سید الشہداء سیدنا و مولانا امام حسین رضی اللہ عنہ ولادت مبارک
امام حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ولد لخمس لیال خلون من شعبان سنۃ اربع من الہجرۃ ۔ (معرفۃ الصحابۃلابی نعیم الاصبھانی باب الحاء من اسمہ حسن)
آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت ہجرت کے چوتھے سال ، 5 شعبان کو مدینہ منورہ) میں ہوئی ۔ (سیراعلام النبلاء ، الذھبی ، باب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ (رضی اللہ عنہ)
ترجمہ : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت کے پچاس دن بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شکم مادر مہربان میں جلوہ گرہوئے آپ کی ولادت باسعادت روز سہ شنبہ 5 شعبان المعظم 4 ہجری مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔
علاّمہ مومن شبلنجی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 5 شعبان المعظم 4 ہجری مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔ آپ حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت کے پچاس دن بعد شکم مادر مہربان میں جلوہ گرہوئے یہی نقل صحیح اور درست ہے ۔ (نور الابصار مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 3 مطبوعہ فیصل آباد،چشتی)۔(معجم الصحابہ للبغوی ج۲ ص۱۴)
ماہ ِ شعبان ۵ ھ میں غزوۂ بنی مصطلق پیش آیا ۔ (عہد نبوت کے ماہ وسال)
ماہ شعبان ۱۱ھ میں جنت کی عورتوں کی سر دار اور حضور صلَّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلَّم کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا ۔ (الاصابہ)
ماہ شعبان ۱۰۵ھ میں خلیفہ یزید بن عبد الملک کی وفات ہوئی ۔ (تقویم تاریخی)
ماہ شعبان ۱۶۱ھ میں حضرت امام سفیان ثوری رحمۃُ اللہِ علیہ کی وفات ہوئی ۔
ماہ شعبان ۳۸۷ ھ میں فاتح ہندسلطان محمود غزنوی رحمۃُ اللہِ علیہ کے والد اور مسلمانوں کے عظیم بادشاہ سبگتگین رحمۃُ اللہِ علیہ کی وفات ہوئی ۔ (سیر اعلام النبلاء)
ماہ شعبان ۷۷۳ ھ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت ہوئی ۔ (ظفر المحصلین،چشتی)
۱۸۱۷ھ میں مشہور ومعروف بزرگ اور عالم دین ’’ملا عبدالرحمٰن جامی رحمۃُ اللہِ علیہ‘‘ کی ولادت ہوئی ۔
حضرت عبدُاللہ بن مربع انصاری حارثی رضی اللہُ عنہ غزوۂ احد سمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے ، آپ سے کئی احادیث مروی ہیں ، آپ نے اپنے بھائی حضرت عبدالرّحمٰن انصاری کے ہمراہ شعبان13ھ کو جنگ جسر ابی عبید میں شہادت پائی ۔ حضرت زید اور حضرت مُرارہ رضی اللہُ عنہما آپ کے بھائی اور صحابیِ رسول ہیں ۔ (اسد الغابۃ ، 3 / 391 ، تاریخ طبری ، 3 / 152)
حضرت سیّدُنا اُسید بن حُضیر انصاری رضی اللہُ عنہ جلیلُ القدر صحابی ، مدنی ، قبیلۂ بنی عبدُالاشہل کے چشم و چراغ ، ذہین و فطین ، صاحبُ الرائے ، خوش الحان قاریِ قراٰن ، بہترین کاتب (لکھنے کی صلاحیت رکھنے والے) اور جرأت مند مجاہد تھے ، اعلانِ نبوت کے بارھویں سال اسلام لائے ، تمام غزوات میں شریک ہوئے ۔ شعبان 20ھ کو وصال فرمایا۔ جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے ۔ (معجم کبیر ، 1 / 203تا208 ، سیر اعلام
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ماہِ شَعبانُ المعظم میں پیش آنے والے اہم واقعات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304106488492064/
محترم قارئینِ کرام : ماہِ شَعبانُ المعظم اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے یہ اُن بارہ مہینوں میں سے ایک ہے ، جن کا تذکرہ قرآن میں مذکورہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ یوم خلق السموات والأرض ؛ یقیناً شمار مہینوں کا (جو کہ) کتاب الٰہی میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینہ (قمری) ہیں ، جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے تھے (اسی روز سے) ۔ (سورہ التوبہ)
’’شعبان‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کے معنی ہیں پھیلانا اور شاخ در شاخ کرنا (القاموس الوحید) اہلِ علم نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ اس مہینہ میں اللہ کی طرف سے نفل روزے رکھنے اور نیک عمل کر نے والے کو شاخ در شاخ برابر بڑھتی رہنے والی نیکی میسر ہوتی ہے ، بعض حضرات یہ بیان کر تے ہیں کہ اُس کے معنی ظاہر ہونے کے ہیں ، اور یہ مہینہ یا اس مہینہ کا چاند رمضان کے بابرکت مہینہ سے پہلے ظاہر ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے رمضان کے بابرکت مہینہ کی آمدکا احساس ہوتا ہے ۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری)
شعبان کے ساتھ معظم لگا کر شعبان المعظم بولاجاتا ہے ، معظم کے معنی عظمت والی چیز کے ہیں اور حدیث کی روشنی میں یہ مہینہ عظمتوں والا ہے ۔ ۔ اس ماہِ مبارک میں جن صحابۂ کرام ، اَولیائے عُظَّام اور عُلَمائے اسلام کا یومِ وِصال یا عُرس اور دیگر اہم واقعات جو رونما ہوئے اُن کا مختصر تذکرہ پیشِ خدمت ہے :
ماہ شعبان ۲ھ میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے ، اس سے پہلے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلَّم عاشورا یعنی دس محرم اور ہر مہینے میں تین روزے رکھا کر تے تھے ۔ (عہد نبوت کے ماہ وسال)
ماہ شعبان ۴ھ میں غزوۂ بدر صفری پیش آیا ۔ (البدایۃ والنہایۃ)
نواسہ رسول سید الشہداء سیدنا و مولانا امام حسین رضی اللہ عنہ ولادت مبارک
امام حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ولد لخمس لیال خلون من شعبان سنۃ اربع من الہجرۃ ۔ (معرفۃ الصحابۃلابی نعیم الاصبھانی باب الحاء من اسمہ حسن)
آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت ہجرت کے چوتھے سال ، 5 شعبان کو مدینہ منورہ) میں ہوئی ۔ (سیراعلام النبلاء ، الذھبی ، باب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ (رضی اللہ عنہ)
ترجمہ : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت کے پچاس دن بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شکم مادر مہربان میں جلوہ گرہوئے آپ کی ولادت باسعادت روز سہ شنبہ 5 شعبان المعظم 4 ہجری مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔
علاّمہ مومن شبلنجی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 5 شعبان المعظم 4 ہجری مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔ آپ حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت کے پچاس دن بعد شکم مادر مہربان میں جلوہ گرہوئے یہی نقل صحیح اور درست ہے ۔ (نور الابصار مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 3 مطبوعہ فیصل آباد،چشتی)۔(معجم الصحابہ للبغوی ج۲ ص۱۴)
ماہ ِ شعبان ۵ ھ میں غزوۂ بنی مصطلق پیش آیا ۔ (عہد نبوت کے ماہ وسال)
ماہ شعبان ۱۱ھ میں جنت کی عورتوں کی سر دار اور حضور صلَّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلَّم کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا ۔ (الاصابہ)
ماہ شعبان ۱۰۵ھ میں خلیفہ یزید بن عبد الملک کی وفات ہوئی ۔ (تقویم تاریخی)
ماہ شعبان ۱۶۱ھ میں حضرت امام سفیان ثوری رحمۃُ اللہِ علیہ کی وفات ہوئی ۔
ماہ شعبان ۳۸۷ ھ میں فاتح ہندسلطان محمود غزنوی رحمۃُ اللہِ علیہ کے والد اور مسلمانوں کے عظیم بادشاہ سبگتگین رحمۃُ اللہِ علیہ کی وفات ہوئی ۔ (سیر اعلام النبلاء)
ماہ شعبان ۷۷۳ ھ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت ہوئی ۔ (ظفر المحصلین،چشتی)
۱۸۱۷ھ میں مشہور ومعروف بزرگ اور عالم دین ’’ملا عبدالرحمٰن جامی رحمۃُ اللہِ علیہ‘‘ کی ولادت ہوئی ۔
حضرت عبدُاللہ بن مربع انصاری حارثی رضی اللہُ عنہ غزوۂ احد سمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے ، آپ سے کئی احادیث مروی ہیں ، آپ نے اپنے بھائی حضرت عبدالرّحمٰن انصاری کے ہمراہ شعبان13ھ کو جنگ جسر ابی عبید میں شہادت پائی ۔ حضرت زید اور حضرت مُرارہ رضی اللہُ عنہما آپ کے بھائی اور صحابیِ رسول ہیں ۔ (اسد الغابۃ ، 3 / 391 ، تاریخ طبری ، 3 / 152)
حضرت سیّدُنا اُسید بن حُضیر انصاری رضی اللہُ عنہ جلیلُ القدر صحابی ، مدنی ، قبیلۂ بنی عبدُالاشہل کے چشم و چراغ ، ذہین و فطین ، صاحبُ الرائے ، خوش الحان قاریِ قراٰن ، بہترین کاتب (لکھنے کی صلاحیت رکھنے والے) اور جرأت مند مجاہد تھے ، اعلانِ نبوت کے بارھویں سال اسلام لائے ، تمام غزوات میں شریک ہوئے ۔ شعبان 20ھ کو وصال فرمایا۔ جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے ۔ (معجم کبیر ، 1 / 203تا208 ، سیر اعلام
❤1👍1
النبلا ، 3 / 212 ، 213،چشتی)
حضرت سیّدُنا عثمان بن مظعونرضی اللہ عنہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےرضاعی بھائی،قدیمُ الاسلام،حبشہ و مدینہ دونوں جانب ہجرت کرنے والے، سادہ و نیک طبیعت کے مالک، کثرت سے عبادت کرنے اورروزے رکھنے والے، اصحابِ صُفَّہ اور بَدری صَحابہ میں سےتھے ۔ شعبانُ المعظّم3ھ میں فوت ہوئے اور مُہاجرین میں سب سے پہلے جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔ (حلیۃ الاولیاء،ج 1،ص147تا151، جامع الاصول ج13،ص313،314،چشتی)
جلیلُ القدر صحابی حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعْبہ ثقفیرضی اللہ عنہ کی ولادت طائف میں ہوئی اور شعبانُ المعظّم50ھ میں کُوفہ میں وفات پائی،آپ پانچویں (5) سنِ ہجری میں اسلام قبول کرنے والے، عاشقِ رسول، مجاہدِاسلام، کئی احادیث کے راوی، سحرُالبیان خطیب، صاحبِ رائے، بہترین منتظم، متعدد شہروں کے گورنر اور ذہانت میں ضربُ المثل تھے۔(اعلام للزرکلی،ج7،ص277، تاریخ ابن عساکر،ج 60،ص13تا62)
حضرت سیِّدُنا سَلِیط بن قیس خَزْرَجی انصاری رضی اللہ عنہ بنوعدی بن نَجار کے چشم و چراغ ، بَدْرْ سمیت تمام غَزوات اور جنگوں میں شرکت کرنے والے ، نِڈر اور شجاعت کے پیکر تھے ، آپ سے ایک حدیث بھی مروی ہے ، آپ نے جنگ جِسرابوعبید (جسے جنگ قُسُّ النَّاطِف اور جنگِ مروَحَہ بھی کہتے ہیں ، یہ مقام کُوفہ کے قریب دریائے فرات کے پاس ہے) میں شعبان 13ھ میں شہادت پائی ۔ (الاصابۃ ، 3 / 136 ، تاریخ طبری ، 3 / 146تا155 ، معجم البلدان ، 7 / 50،چشتی)
حضرت سیّدُنا ابوعبيد بن مسعود ثَقفی رضی اللہ عنہ اَجَلّہ صحابہ میں سے ہیں ، امیرُالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتدائے خلافت میں جب جنگِ عراق کے لئے مسلمانوں کو اُبھارا تو یہ فوراً تیار ہوگئے ، بہادری اورشجاعت کی وجہ سے انہیں امیر ِلشکر بنایا گیا ، اس لشکر نے جنگِ نمارق اور جنگ کَسْکر میں فتح حاصل کی اور جنگِ جِسْرابوعبید میں شعبان 13ھ میں شہید ہوئے ۔ (تاریخ طبری ، 3 / 146تا155 ، اسدالغابہ ، 6 / 217 ، الکامل فی التاریخ ، 2 / 282)
اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا حَفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہما کی ولادت اعلانِ نبوت سے 5سال قبل مکّہ شریف میں ہوئی اور وصال شعبان 45ھ میں مدینۂ منوّرہ میں فرمایا، تدفین جنّتُ البقیع میں ہوئی۔ آپ کثرت سے روزے رکھنے والی، بہت عبادت کرنے والی، علمِ حدیث و فقہ سے شغف رکھنے والی، بلند ہمت اور حق گوخاتون تھیں ۔ آپ سے مروی احادیث کی تعداد 60ہے ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 65 تا 69)
حضرت سیّدتنا اُمِّ ایمن برکۃ بنت ثعلبہ حبشیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا، نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضاعی والدہ، آپ علیہ السَّلام سے بہت محبت کرنے اور خدمت کی سعادت پانے والی، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجہ اور حضرت اُسامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدۂ محترمہ اور قدیم الاسلام تھیں، حبشہو مدینہ دونوں جانب ہجرت فرمائی، وصال شعبان یا رمضان 10ھ یا محرم 23ھ کو ہوا ۔ (زرقانی علی المواھب جلد 1 صفحہ 308،چشتی)
سلطانُ الاولیاء حضرت شیخ برہانُ الدّین رازِ الہٰی قادری شطاری رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت موضع راجھی (بود وڈ خان دیس)میں 998ھ کو ہوئی اور وفات 15شعبان 1083ھ کو برہان پور (مدھیہ پردیش) ہند میں ہوئی ، یہیں عالیشان مزار موجود ہے۔ آپ عالمِ باعمل ، عربی ادب پر دسترس رکھنے والے اور فنِ شاعری کی واقفیت رکھنے والے تھے ، بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرسمیت کثیر خلقت نے آپ سے فیض پایا ۔ (برہان پور کے سندھی اولیاء ، ص263 ، 266 ، 328،چشتی)
قطب الآفاق حضرت سید شاہ اسحاق قادری رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت خوشاب (پنجاب ، پاکستان) میں ہوئی اور11شعبان 1086ھ کو جُنّیر (حیدرآباد ، دکن) ہند میں وفات پائی ، آپ خاندانِ غوثیہ رزاقیہ کے شیخِ طریقت اور کئی اولیائے ہند کے جدِّ اعلیٰ ہیں ۔ (تذکرۃ الانساب ، ص109)
حضرت سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 70ھ یا 80ھ کو کوفہ(عراق) میں ہوئی اور وصال بغداد میں 2شعبان 150ھ کو ہوا۔ مزار مبارک بغداد (عراق) میں مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ تابعی بزرگ، مجتہد، محدث، عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت، فقہِ حنفی کے بانی اور کروڑوں حنفیوں کے امام ہیں ۔ (نزہۃ القاری مقدمہ جلد 1 ص164،110، خیرات الحسان، ص31، 92) (4)
شیخ الاسلام حضرت سیّدنا امام لیث بن سعد مصری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 94ھ قَرْقَشَنْدَہ (القلَج صوبہ قلیوبیہ) مصر میں ہوئی۔ آپ محدثِ زمانہ اور مفتی اہلِ مصر تھے۔ 15شعبان 175ھ کو مصر میں وصال فرمایا، مزار مبارک قَرافہ صُغریٰ (شارع امام لیث، قاہرہ) مصر میں ہے۔ (حدائق الحنفیہ، ص140، تاریخ ابن عساکر،ج50،ص349،347)
حضرت سیّدُنا عثمان بن مظعونرضی اللہ عنہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےرضاعی بھائی،قدیمُ الاسلام،حبشہ و مدینہ دونوں جانب ہجرت کرنے والے، سادہ و نیک طبیعت کے مالک، کثرت سے عبادت کرنے اورروزے رکھنے والے، اصحابِ صُفَّہ اور بَدری صَحابہ میں سےتھے ۔ شعبانُ المعظّم3ھ میں فوت ہوئے اور مُہاجرین میں سب سے پہلے جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔ (حلیۃ الاولیاء،ج 1،ص147تا151، جامع الاصول ج13،ص313،314،چشتی)
جلیلُ القدر صحابی حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعْبہ ثقفیرضی اللہ عنہ کی ولادت طائف میں ہوئی اور شعبانُ المعظّم50ھ میں کُوفہ میں وفات پائی،آپ پانچویں (5) سنِ ہجری میں اسلام قبول کرنے والے، عاشقِ رسول، مجاہدِاسلام، کئی احادیث کے راوی، سحرُالبیان خطیب، صاحبِ رائے، بہترین منتظم، متعدد شہروں کے گورنر اور ذہانت میں ضربُ المثل تھے۔(اعلام للزرکلی،ج7،ص277، تاریخ ابن عساکر،ج 60،ص13تا62)
حضرت سیِّدُنا سَلِیط بن قیس خَزْرَجی انصاری رضی اللہ عنہ بنوعدی بن نَجار کے چشم و چراغ ، بَدْرْ سمیت تمام غَزوات اور جنگوں میں شرکت کرنے والے ، نِڈر اور شجاعت کے پیکر تھے ، آپ سے ایک حدیث بھی مروی ہے ، آپ نے جنگ جِسرابوعبید (جسے جنگ قُسُّ النَّاطِف اور جنگِ مروَحَہ بھی کہتے ہیں ، یہ مقام کُوفہ کے قریب دریائے فرات کے پاس ہے) میں شعبان 13ھ میں شہادت پائی ۔ (الاصابۃ ، 3 / 136 ، تاریخ طبری ، 3 / 146تا155 ، معجم البلدان ، 7 / 50،چشتی)
حضرت سیّدُنا ابوعبيد بن مسعود ثَقفی رضی اللہ عنہ اَجَلّہ صحابہ میں سے ہیں ، امیرُالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتدائے خلافت میں جب جنگِ عراق کے لئے مسلمانوں کو اُبھارا تو یہ فوراً تیار ہوگئے ، بہادری اورشجاعت کی وجہ سے انہیں امیر ِلشکر بنایا گیا ، اس لشکر نے جنگِ نمارق اور جنگ کَسْکر میں فتح حاصل کی اور جنگِ جِسْرابوعبید میں شعبان 13ھ میں شہید ہوئے ۔ (تاریخ طبری ، 3 / 146تا155 ، اسدالغابہ ، 6 / 217 ، الکامل فی التاریخ ، 2 / 282)
اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا حَفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہما کی ولادت اعلانِ نبوت سے 5سال قبل مکّہ شریف میں ہوئی اور وصال شعبان 45ھ میں مدینۂ منوّرہ میں فرمایا، تدفین جنّتُ البقیع میں ہوئی۔ آپ کثرت سے روزے رکھنے والی، بہت عبادت کرنے والی، علمِ حدیث و فقہ سے شغف رکھنے والی، بلند ہمت اور حق گوخاتون تھیں ۔ آپ سے مروی احادیث کی تعداد 60ہے ۔ (طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 65 تا 69)
حضرت سیّدتنا اُمِّ ایمن برکۃ بنت ثعلبہ حبشیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا، نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضاعی والدہ، آپ علیہ السَّلام سے بہت محبت کرنے اور خدمت کی سعادت پانے والی، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجہ اور حضرت اُسامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدۂ محترمہ اور قدیم الاسلام تھیں، حبشہو مدینہ دونوں جانب ہجرت فرمائی، وصال شعبان یا رمضان 10ھ یا محرم 23ھ کو ہوا ۔ (زرقانی علی المواھب جلد 1 صفحہ 308،چشتی)
سلطانُ الاولیاء حضرت شیخ برہانُ الدّین رازِ الہٰی قادری شطاری رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت موضع راجھی (بود وڈ خان دیس)میں 998ھ کو ہوئی اور وفات 15شعبان 1083ھ کو برہان پور (مدھیہ پردیش) ہند میں ہوئی ، یہیں عالیشان مزار موجود ہے۔ آپ عالمِ باعمل ، عربی ادب پر دسترس رکھنے والے اور فنِ شاعری کی واقفیت رکھنے والے تھے ، بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرسمیت کثیر خلقت نے آپ سے فیض پایا ۔ (برہان پور کے سندھی اولیاء ، ص263 ، 266 ، 328،چشتی)
قطب الآفاق حضرت سید شاہ اسحاق قادری رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت خوشاب (پنجاب ، پاکستان) میں ہوئی اور11شعبان 1086ھ کو جُنّیر (حیدرآباد ، دکن) ہند میں وفات پائی ، آپ خاندانِ غوثیہ رزاقیہ کے شیخِ طریقت اور کئی اولیائے ہند کے جدِّ اعلیٰ ہیں ۔ (تذکرۃ الانساب ، ص109)
حضرت سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 70ھ یا 80ھ کو کوفہ(عراق) میں ہوئی اور وصال بغداد میں 2شعبان 150ھ کو ہوا۔ مزار مبارک بغداد (عراق) میں مرجعِ خلائق ہے ۔ آپ تابعی بزرگ، مجتہد، محدث، عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت، فقہِ حنفی کے بانی اور کروڑوں حنفیوں کے امام ہیں ۔ (نزہۃ القاری مقدمہ جلد 1 ص164،110، خیرات الحسان، ص31، 92) (4)
شیخ الاسلام حضرت سیّدنا امام لیث بن سعد مصری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 94ھ قَرْقَشَنْدَہ (القلَج صوبہ قلیوبیہ) مصر میں ہوئی۔ آپ محدثِ زمانہ اور مفتی اہلِ مصر تھے۔ 15شعبان 175ھ کو مصر میں وصال فرمایا، مزار مبارک قَرافہ صُغریٰ (شارع امام لیث، قاہرہ) مصر میں ہے۔ (حدائق الحنفیہ، ص140، تاریخ ابن عساکر،ج50،ص349،347)
❤1