Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ *دیوبندی مسلک کی لڑکی کو اپنی بہو بنا کر لانا یا اپنی لڑکی کو دیوبندی کے نکاح میں دینا کیسا ہے ؟* کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیوبندی مسلک کی لڑکی لانے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ وہ اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں کے تابع رہے گی ۔ شریعت اسلامی کی روشنی میں حکم واضح فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا
فقط و السلام
المستفتی: حافظ عبد الوحید خان مالونی ملاڈ ممبئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* وہابی ، دیوبندی عقیدہ والی یا ان کو کافر و مرتد نہ ماننے والی یا سنی صحیح العقیدہ کو مشرک سمجھنے والی عورت کو اپنی بہو بنا کر لانا یا ایسے عقیدے رکھنے والے کو اپنی بیٹی دینا ہرگز جائز نہیں ہے -
کیونکہ وہابی ، دیوبندی اہل سنت و جماعت کی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ عز و جل و رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرکے یا گستاخیاں کرنے والوں کو دانستہ طور پر مسلمان جاننے ماننے کی وجہ سے کافر و مرتد ہو چکا ہو -
اور کسی بھی کافر و مرتد کے ساتھ کسی بھی مسلمان لڑکی لڑکا کا نکاح نہیں ہوسکتا -
اگر کسی مسلم لڑکی کا نکاح دیوبندی لڑکے سے یا کسی دیوبندی لڑکی کا نکاح سنی لڑکے سے ہوا تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے -
تو ان پر فرض ہے کہ ان سے فوراً جدا ہو، جدا ہونے میں طلاق کی حاجت نہیں جیسا کہ خدائے تعالیٰ کا اِرشاد ہے کہ " وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ " اھ یعنی مشرکہ عورت سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائے " اھ ( پ 2 سورہ بقرہ آیت 221 )
اور اسی آیت کے تحت تفسیر کبیر میں ہے کہ " و لا تنكحوا المشركت يدل على انه لا يجوز نكاح الكافر اصلا " اھ ( تفسیر کبیر ج 2 ص 410 )
اور تفسیرات احمدیہ میں ہے کہ " هذه الآية تدل على عدم جواز نكاح المؤمنين مع المشركات " اھ ( تفسیرات احمدیہ ص 79 )
اور در مختار میں ہے کہ " لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا " اھ ( در مختار ج 4 ص 376 : کتاب النکاح ، باب نکاح الکافر ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ و لا مسلمة و لا کافرۃ اصلیة و کذلك لا یجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذا فی المبسوط " اھ یعنی کسی مرتد مرد کے لئے جائز نہیں کو وہ کسی مرتد عورت سے یا کسی اصلی کافر عورت سے نکاح کرے ، اسی طرح کسی مرتد عورت کو بھی جائز نہیں کہ وہ کسی شخص سے نکاح کرے ، مبسوط میں یونہی ہے " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 282 : کتاب النکاح الباب الثالث القسم السابع )
اور اسی میں ہے کہ " منها ما ھو باطل بالاتفاق نحو النکاح لا یجوز له ان یتزوج امرأۃ مسلمة و لا مرتدۃ و لا ذمیة و لا حرۃ و لو مملوکة "اھ یعنی مرتد آدمی کے بعض تصرفات بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح کرنا ، لہذا مرتد شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان عورت یا اپنے جیسی کسی مرتد عورت یا ذمی کافرہ عورت چاہے آزاد ہو یا لونڈی سے نکاح کرے " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 255 : کتاب السیر الباب التاسع )
اور بہار شریعت میں ہے کہ " مسلمان عورت کا نکاح مسلمان مرد کے سوا کسی مذہب والے سے نہیں ہوسکتا " اھ ( بہار شریعت ج 2 ص 32 : محرمات کا بیان )
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/5309
واللہ اعلم بالصواب
✍️ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ *دیوبندی مسلک کی لڑکی کو اپنی بہو بنا کر لانا یا اپنی لڑکی کو دیوبندی کے نکاح میں دینا کیسا ہے ؟* کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیوبندی مسلک کی لڑکی لانے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ وہ اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں کے تابع رہے گی ۔ شریعت اسلامی کی روشنی میں حکم واضح فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا
فقط و السلام
المستفتی: حافظ عبد الوحید خان مالونی ملاڈ ممبئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*جواب* وہابی ، دیوبندی عقیدہ والی یا ان کو کافر و مرتد نہ ماننے والی یا سنی صحیح العقیدہ کو مشرک سمجھنے والی عورت کو اپنی بہو بنا کر لانا یا ایسے عقیدے رکھنے والے کو اپنی بیٹی دینا ہرگز جائز نہیں ہے -
کیونکہ وہابی ، دیوبندی اہل سنت و جماعت کی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ عز و جل و رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرکے یا گستاخیاں کرنے والوں کو دانستہ طور پر مسلمان جاننے ماننے کی وجہ سے کافر و مرتد ہو چکا ہو -
اور کسی بھی کافر و مرتد کے ساتھ کسی بھی مسلمان لڑکی لڑکا کا نکاح نہیں ہوسکتا -
اگر کسی مسلم لڑکی کا نکاح دیوبندی لڑکے سے یا کسی دیوبندی لڑکی کا نکاح سنی لڑکے سے ہوا تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے -
تو ان پر فرض ہے کہ ان سے فوراً جدا ہو، جدا ہونے میں طلاق کی حاجت نہیں جیسا کہ خدائے تعالیٰ کا اِرشاد ہے کہ " وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ " اھ یعنی مشرکہ عورت سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائے " اھ ( پ 2 سورہ بقرہ آیت 221 )
اور اسی آیت کے تحت تفسیر کبیر میں ہے کہ " و لا تنكحوا المشركت يدل على انه لا يجوز نكاح الكافر اصلا " اھ ( تفسیر کبیر ج 2 ص 410 )
اور تفسیرات احمدیہ میں ہے کہ " هذه الآية تدل على عدم جواز نكاح المؤمنين مع المشركات " اھ ( تفسیرات احمدیہ ص 79 )
اور در مختار میں ہے کہ " لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا " اھ ( در مختار ج 4 ص 376 : کتاب النکاح ، باب نکاح الکافر ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ و لا مسلمة و لا کافرۃ اصلیة و کذلك لا یجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذا فی المبسوط " اھ یعنی کسی مرتد مرد کے لئے جائز نہیں کو وہ کسی مرتد عورت سے یا کسی اصلی کافر عورت سے نکاح کرے ، اسی طرح کسی مرتد عورت کو بھی جائز نہیں کہ وہ کسی شخص سے نکاح کرے ، مبسوط میں یونہی ہے " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 282 : کتاب النکاح الباب الثالث القسم السابع )
اور اسی میں ہے کہ " منها ما ھو باطل بالاتفاق نحو النکاح لا یجوز له ان یتزوج امرأۃ مسلمة و لا مرتدۃ و لا ذمیة و لا حرۃ و لو مملوکة "اھ یعنی مرتد آدمی کے بعض تصرفات بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح کرنا ، لہذا مرتد شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان عورت یا اپنے جیسی کسی مرتد عورت یا ذمی کافرہ عورت چاہے آزاد ہو یا لونڈی سے نکاح کرے " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 255 : کتاب السیر الباب التاسع )
اور بہار شریعت میں ہے کہ " مسلمان عورت کا نکاح مسلمان مرد کے سوا کسی مذہب والے سے نہیں ہوسکتا " اھ ( بہار شریعت ج 2 ص 32 : محرمات کا بیان )
https://t.me/Makhdoomiya_Darulifta/5309
واللہ اعلم بالصواب
✍️ کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-08-1443 ᴴ | 09-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-08-1443 ᴴ | 10-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2