آج سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وفات ہے ۔
آپ رضی اللہ عنہ نے 25 رجب 183 ھ میں وصال فرمایا تھا ۔
آپ رضی اللہ عنہ بڑی شان کے مالک تھے ، حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
ایک دفعہ آپ کنویں سے پانی پینے لگے تو دستِ مبارک سے برتن کنویں میں گر گیا ۔
آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
جب مجھے پانی کی پیاس لگتی ہے تو میرا پالنے والا تُو ہوتا ہے ، اور جب میں کھانے کا ارادہ کرتا ہوں تو تیری ذات ہی میری طاقت ہوتی ہے ۔
اے میرے اللہ ، اے میرے آقا ﷻ اِس برتن کے علاوہ میرے پاس دوسرا برتن نہیں ہے ، مجھے اِس سے محروم نہ فرما ۔۔۔۔۔۔۔ !
( مشہور ولی اللہ ) حضرت شَقِیق بَلخی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ کی قسم ، میں نے دیکھا کہ کنویں کا پانی اوپر آگیا اور آپ نے ہاتھ بڑھا کراپنا برتن پکڑ لیا ۔
پھر آپ نے وضو کرکے نماز ادا کی اور اُس برتن میں مٹی ڈالی اور ہلا کر پی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے طلب کیا ( کہ جو پی رہیں مجھے بھی عنایت فرمائیں ) تو آپ نے میری طرف برتن بڑھا دیا ۔
میں نے جب اس سے پیا تو وہ ( مٹی نہیں تھی ، بلکہ ) شکر اور سَتُو تھے ۔
بخدا میں نے آج تک ایسی لذیذ چیز نوش نہیں کی ۔
( وہ اتنی لذیذ اور برکت والی چیز تھی کہ ) میں نے سیر ہوکر پی تو کئی روز تک مجھے کھانے کی طلب نہ ہوئی ۔
( ملخصاً: مثیر الغرام الساکن الی اشرف الاماکن ، ت امام ابن جوزی رحمہ اللہ ، ص 402 ، 403 ، ط دارالحدیث القاہرہ ، س 1994ء )
آپ رضی اللہ عنہ کا مزار شریف آج بھی مرجع خلائق ہے ، وہاں حاضر ہو کر مانگی گئیں دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔
علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اہل عراق کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ اللہ کے ہاں حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ ہیں ۔
( الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ ، ص 172 ، ر 185 )
علامہ دمیری اور مفتی نقی علی خان رحمھمااللہ نے امام شافعی کایہ قول نقل کیاہے کہ:
امام موسی کاظم کی قبر دعا کی قبولیت کے لیے تریاق مجرب ہے ۔
( حیاۃ الحیوان الکبری ، ت علامہ دمیری رحمہ اللہ ، ج 1 ، ص 160 ، دار احیاءالتراث العربی بیروت ۔ احسن الوعا لآداب الدعاء ص 32 ، م رضا اکیڈمی بمبئ )
اللہ کریم ہمیں اہل بیت پاک کی برکتوں سے کبھی محروم نہ کرے ، ان کے طفیل ہمارے دین و دنیا آباد رہیں ۔
اللہ نےچاہا تو جلد امام پاک کی بارگاہ میں ہماری حاضری ہوگی اور وہاں جاکر اپنے رب کے حضور دعائیں کریں گے ۔
✍️ لقمان شاہد
27-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3391497521130413&id=100008105947430
آپ رضی اللہ عنہ نے 25 رجب 183 ھ میں وصال فرمایا تھا ۔
آپ رضی اللہ عنہ بڑی شان کے مالک تھے ، حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
ایک دفعہ آپ کنویں سے پانی پینے لگے تو دستِ مبارک سے برتن کنویں میں گر گیا ۔
آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
جب مجھے پانی کی پیاس لگتی ہے تو میرا پالنے والا تُو ہوتا ہے ، اور جب میں کھانے کا ارادہ کرتا ہوں تو تیری ذات ہی میری طاقت ہوتی ہے ۔
اے میرے اللہ ، اے میرے آقا ﷻ اِس برتن کے علاوہ میرے پاس دوسرا برتن نہیں ہے ، مجھے اِس سے محروم نہ فرما ۔۔۔۔۔۔۔ !
( مشہور ولی اللہ ) حضرت شَقِیق بَلخی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ کی قسم ، میں نے دیکھا کہ کنویں کا پانی اوپر آگیا اور آپ نے ہاتھ بڑھا کراپنا برتن پکڑ لیا ۔
پھر آپ نے وضو کرکے نماز ادا کی اور اُس برتن میں مٹی ڈالی اور ہلا کر پی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے طلب کیا ( کہ جو پی رہیں مجھے بھی عنایت فرمائیں ) تو آپ نے میری طرف برتن بڑھا دیا ۔
میں نے جب اس سے پیا تو وہ ( مٹی نہیں تھی ، بلکہ ) شکر اور سَتُو تھے ۔
بخدا میں نے آج تک ایسی لذیذ چیز نوش نہیں کی ۔
( وہ اتنی لذیذ اور برکت والی چیز تھی کہ ) میں نے سیر ہوکر پی تو کئی روز تک مجھے کھانے کی طلب نہ ہوئی ۔
( ملخصاً: مثیر الغرام الساکن الی اشرف الاماکن ، ت امام ابن جوزی رحمہ اللہ ، ص 402 ، 403 ، ط دارالحدیث القاہرہ ، س 1994ء )
آپ رضی اللہ عنہ کا مزار شریف آج بھی مرجع خلائق ہے ، وہاں حاضر ہو کر مانگی گئیں دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔
علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اہل عراق کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ اللہ کے ہاں حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ ہیں ۔
( الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ ، ص 172 ، ر 185 )
علامہ دمیری اور مفتی نقی علی خان رحمھمااللہ نے امام شافعی کایہ قول نقل کیاہے کہ:
امام موسی کاظم کی قبر دعا کی قبولیت کے لیے تریاق مجرب ہے ۔
( حیاۃ الحیوان الکبری ، ت علامہ دمیری رحمہ اللہ ، ج 1 ، ص 160 ، دار احیاءالتراث العربی بیروت ۔ احسن الوعا لآداب الدعاء ص 32 ، م رضا اکیڈمی بمبئ )
اللہ کریم ہمیں اہل بیت پاک کی برکتوں سے کبھی محروم نہ کرے ، ان کے طفیل ہمارے دین و دنیا آباد رہیں ۔
اللہ نےچاہا تو جلد امام پاک کی بارگاہ میں ہماری حاضری ہوگی اور وہاں جاکر اپنے رب کے حضور دعائیں کریں گے ۔
✍️ لقمان شاہد
27-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3391497521130413&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بزرگ فرمارہے تھے "حضرت معاویہ بادشاہ ہیں " ۔
بزرگو ! آپ نے صحیح فرمایا ، واقعی حضرت معاویہ بادشاہ ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ کہتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ سلطنت محمدیہ کے بادشاہ ہیں !
بادشاہ ہونا کوئی کمی والی بات نہیں ، اللہ کے نبی سیدنا داود علیہ السلام بادشاہ تھے ، آپ کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی بادشاہ تھے ۔۔۔۔۔ بلکہ آپ علیہ السلام تو ایسے بادشاہ تھے کہ بادشاہ ہونے کے باوجود " هَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ " کَہہ کر ، اللہ پاک سے بے مثال بادشاہی مانگتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔
بھولے بادشاہو! اچھی نیت سے حضرت معاویہ کو بے شک بادشاہ کہا کرو ، کوئی ہرج نہیں ؛ بس نیت کو فتور سے محفوظ رکھو ۔
دیکھو ، ہم اہلسنت نورٌ علی نور نبی ﷺ کو بشر سمجھتے ہیں ، لیکن اُس طرح کا بشر نہیں سمجھتے جیسے وہابی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ !!
" پیر سید عرفان شاہ صاحب " فرماتے تھے:
اگر کوئی شخص تنقیص کی نیت سے رسول اللہ کو " بشر " بھی کہے گا تو اس پر حکم کفر ہو گا ۔
اس لیے بزرگو ! سچی بات کے پیچھے اگر جھوٹی نیت کار فرما ہو تو وہ بات کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے ۔؎
بات سے ، بات کی گہرائی چلی جاتی ہے
جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے
رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں
چاند کے عشق میں " بینائی " چلی جاتی ہے
ہم اپنے لیے ، اور آپ کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ کریم ہمیں اصحاب رسول کا ہمیشہ مودب رکھے ، ہم مولا علی پاک سے بے لوث اور بے حد و انتہا محبت کریں ۔۔۔۔۔۔ مگر سیدنا معاویہ سمیت کسی صحابی رسول کی تنقیص کا کبھی سوچیں بھی ناں ۔
وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ !
✍️ لقمان شاہد
28-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3392397764373722&id=100008105947430
بزرگو ! آپ نے صحیح فرمایا ، واقعی حضرت معاویہ بادشاہ ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ کہتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ سلطنت محمدیہ کے بادشاہ ہیں !
بادشاہ ہونا کوئی کمی والی بات نہیں ، اللہ کے نبی سیدنا داود علیہ السلام بادشاہ تھے ، آپ کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی بادشاہ تھے ۔۔۔۔۔ بلکہ آپ علیہ السلام تو ایسے بادشاہ تھے کہ بادشاہ ہونے کے باوجود " هَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ " کَہہ کر ، اللہ پاک سے بے مثال بادشاہی مانگتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔
بھولے بادشاہو! اچھی نیت سے حضرت معاویہ کو بے شک بادشاہ کہا کرو ، کوئی ہرج نہیں ؛ بس نیت کو فتور سے محفوظ رکھو ۔
دیکھو ، ہم اہلسنت نورٌ علی نور نبی ﷺ کو بشر سمجھتے ہیں ، لیکن اُس طرح کا بشر نہیں سمجھتے جیسے وہابی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ !!
" پیر سید عرفان شاہ صاحب " فرماتے تھے:
اگر کوئی شخص تنقیص کی نیت سے رسول اللہ کو " بشر " بھی کہے گا تو اس پر حکم کفر ہو گا ۔
اس لیے بزرگو ! سچی بات کے پیچھے اگر جھوٹی نیت کار فرما ہو تو وہ بات کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے ۔؎
بات سے ، بات کی گہرائی چلی جاتی ہے
جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے
رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں
چاند کے عشق میں " بینائی " چلی جاتی ہے
ہم اپنے لیے ، اور آپ کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ کریم ہمیں اصحاب رسول کا ہمیشہ مودب رکھے ، ہم مولا علی پاک سے بے لوث اور بے حد و انتہا محبت کریں ۔۔۔۔۔۔ مگر سیدنا معاویہ سمیت کسی صحابی رسول کی تنقیص کا کبھی سوچیں بھی ناں ۔
وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ !
✍️ لقمان شاہد
28-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3392397764373722&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بنی اسرائیل میں ایک عبادت گزار رہتا تھا جس نے اپنے صومعے ( عبادت خانے ) میں ساٹھ سال عبادت الہی کی ۔
ایک دن بارش برسی تو زمین پر سبزہ اگ آیا ۔۔۔۔۔ وہ دیکھ کر کہنے لگا:
اگر میں صومعے سے اتر ( کر باہر نکل ) جاؤں اور اللہ کا ذکر کرتا رہوں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔
وہ ایک دو روٹیاں لے کر صومعے سے اتر پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو زمین پر اس کی ملاقات ایک عورت سے ہوگئی ۔
وہ اس سے باتیں کرنے لگ گیا اور عورت اس سے ۔۔۔۔۔۔۔ حتیٰ کہ وہ گناہ میں مبتلا ہوگیا ۔
وہ غسل کر رہا تھا کہ ایک سوالی آگیا تو اُس نے اشارے سے کہا کہ یہ روٹیاں ( جو میں اپنے کھانے کے لیے لایا تھا ) تم لے لو ۔
پھر اُس کا انتقال ہوگیا تو اس کی ساٹھ سالہ عبادت کا اُس کے گناہ کے ساتھ وزن کیا گیا تو گناہ کا پلڑابھاری ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کی روٹیوں کو ( جو سائل کو دی تھیں ) نیکیوں کے پلڑے میں رکھا گیا تو نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اور اسے بخش دیا گیا ۔
( الترغیب والترھیب ، کتاب الحدود ، باب الترھیب من الزنا ۔۔۔۔۔۔۔ص 426 ، ر 3534 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ )
🌸 بندہ چاہے جتنا بھی نیک ہو ، اپنے نفس پر کبھی اعتماد نہ کرے ، یہ ظالم کسی وقت بھی بہکا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بس اپنے رب سے عافیت کا سوال کرتا رہے ، اُس ﷻ کی مدد شامل حال رہی توہی بچ سکے گا ۔
🌸 غیر محرم عورت سے گپ شپ سے ہمیشہ پرہیز کرے ، ایسا نہ ہو کہ برسوں کی اطاعت و عبادت پل بھر میں جاتی رہے ۔
🌸 اگر شامت نفس سے کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کرکے ، ساتھ ہی کوئی نیکی کرلے ؛ ہوسکتا ہے ارحم الرحمین اس نیکی کو گناہ کا کفارہ بنادے ۔
🌸 ہمارا رب بڑا مہربان ہے ، بے حد رحم فرمانے والا ہے ۔۔۔۔۔۔ گناہ کیسے ہی بڑے کیوں نہ ہوں وہ پل بھر میں محو فرما سکتا ہے ، کیوں کہ وہ ہم سے بہت محبت فرماتا ہے ؛ بس ہمیں جلدی توبہ کرلینی چاہیے ؎
جب کہا عِصیاں سے میں نے ، سخت لاچاروں میں ہوں
جن کے پَلّے کچھ نہیں ہے اُن خریداروں میں ہوں
تیری رَحمت کے لیے شامِل گنہگاروں میں ہوں
بول اُٹّھی رَحمت نہ گھبرا ، میں مَدد گاروں میں ہوں !
✍️ لقمان شاہد عفی عنہ
2-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3394033357543496&id=100008105947430
ایک دن بارش برسی تو زمین پر سبزہ اگ آیا ۔۔۔۔۔ وہ دیکھ کر کہنے لگا:
اگر میں صومعے سے اتر ( کر باہر نکل ) جاؤں اور اللہ کا ذکر کرتا رہوں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔
وہ ایک دو روٹیاں لے کر صومعے سے اتر پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو زمین پر اس کی ملاقات ایک عورت سے ہوگئی ۔
وہ اس سے باتیں کرنے لگ گیا اور عورت اس سے ۔۔۔۔۔۔۔ حتیٰ کہ وہ گناہ میں مبتلا ہوگیا ۔
وہ غسل کر رہا تھا کہ ایک سوالی آگیا تو اُس نے اشارے سے کہا کہ یہ روٹیاں ( جو میں اپنے کھانے کے لیے لایا تھا ) تم لے لو ۔
پھر اُس کا انتقال ہوگیا تو اس کی ساٹھ سالہ عبادت کا اُس کے گناہ کے ساتھ وزن کیا گیا تو گناہ کا پلڑابھاری ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کی روٹیوں کو ( جو سائل کو دی تھیں ) نیکیوں کے پلڑے میں رکھا گیا تو نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اور اسے بخش دیا گیا ۔
( الترغیب والترھیب ، کتاب الحدود ، باب الترھیب من الزنا ۔۔۔۔۔۔۔ص 426 ، ر 3534 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ )
🌸 بندہ چاہے جتنا بھی نیک ہو ، اپنے نفس پر کبھی اعتماد نہ کرے ، یہ ظالم کسی وقت بھی بہکا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بس اپنے رب سے عافیت کا سوال کرتا رہے ، اُس ﷻ کی مدد شامل حال رہی توہی بچ سکے گا ۔
🌸 غیر محرم عورت سے گپ شپ سے ہمیشہ پرہیز کرے ، ایسا نہ ہو کہ برسوں کی اطاعت و عبادت پل بھر میں جاتی رہے ۔
🌸 اگر شامت نفس سے کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کرکے ، ساتھ ہی کوئی نیکی کرلے ؛ ہوسکتا ہے ارحم الرحمین اس نیکی کو گناہ کا کفارہ بنادے ۔
🌸 ہمارا رب بڑا مہربان ہے ، بے حد رحم فرمانے والا ہے ۔۔۔۔۔۔ گناہ کیسے ہی بڑے کیوں نہ ہوں وہ پل بھر میں محو فرما سکتا ہے ، کیوں کہ وہ ہم سے بہت محبت فرماتا ہے ؛ بس ہمیں جلدی توبہ کرلینی چاہیے ؎
جب کہا عِصیاں سے میں نے ، سخت لاچاروں میں ہوں
جن کے پَلّے کچھ نہیں ہے اُن خریداروں میں ہوں
تیری رَحمت کے لیے شامِل گنہگاروں میں ہوں
بول اُٹّھی رَحمت نہ گھبرا ، میں مَدد گاروں میں ہوں !
✍️ لقمان شاہد عفی عنہ
2-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3394033357543496&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اللہ پاک ہمیں اپنے گھر بلائے تو وہاں سے خالی ہاتھ نہیں آناچاہیے ، کچھ نہ کچھ نیکیوں کی عادت بناکے آنا چاہیے ، اور پھر وہ عادت قبر تک ساتھ جانی چاہیے ۔
الحمدللہ اس دفعہ کے سفر مکہ مدینہ کی برکت سے میں نے نیت کی کہ:
" زندگی بھر نہ کسی مسلمان کی غیبت کرنی ہے ، نہ غیبت سننی ہے ۔"
دعا کریں اللہ پاک مجھے اس نیت پر استقامت دے !
امام بخاری رحمہ اللہ کے بارے میں سناہے کہ آپ کہتے تھے:
امید ہے میری ایک نیکی کی وجہ سے میرا رب مجھے بخش دے گا ، میری پُرسش نہیں فرمائے گا ۔۔۔۔۔ اوروہ نیکی یہ ہے کہ میں نے کبھی کسی مسلمان کی غیبت نہیں کی ۔
✍️ لقمان شاہد
3-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3394681490812016&id=100008105947430
الحمدللہ اس دفعہ کے سفر مکہ مدینہ کی برکت سے میں نے نیت کی کہ:
" زندگی بھر نہ کسی مسلمان کی غیبت کرنی ہے ، نہ غیبت سننی ہے ۔"
دعا کریں اللہ پاک مجھے اس نیت پر استقامت دے !
امام بخاری رحمہ اللہ کے بارے میں سناہے کہ آپ کہتے تھے:
امید ہے میری ایک نیکی کی وجہ سے میرا رب مجھے بخش دے گا ، میری پُرسش نہیں فرمائے گا ۔۔۔۔۔ اوروہ نیکی یہ ہے کہ میں نے کبھی کسی مسلمان کی غیبت نہیں کی ۔
✍️ لقمان شاہد
3-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3394681490812016&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رافضیوں نے فضائل حضرت علی اور اہل بیت میں تین لاکھ جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں ، اور بعض جاہل سُنیوں نے حضرت معاویہ کے فضائل میں جھوٹی حدیثیں گھڑی ہے ، اور بعض جھوٹوں نے امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کے نام کی حدیثیں وضع کی ہیں ۔
( انظر: اسرارالمرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ ، للقاری رحمہ اللہ ص 343 ، ت ر 1307 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
عوام اہل سنت جب کوئی نئی روایت یا واقعہ سنیں تو اسے آگے بیان کرنے سے پہلے محقق علما سے ضرور پوچھ لیا کریں کہ یہ بات سچی ہے ، یا جھوٹی ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ محبت محبت میں کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوتے رہیں ۔
آج کل ہمارے بعض خطبا ، مبلغین اور واعظین بغیر تحقیق کیے ہی روایات بیان کردیتے ہیں ، انھیں ایسے الفاظ سے غرض ہوتی ہے جو مجمعے میں جان ڈال دیں اور لوگ واہ واہ ، سبحان اللہ ، ماشاءاللہ کہیں ۔
انھیں اس چیز کا ادراک نہیں ہوتا کہ موضوع روایتیں دنیا آخرت میں کیسی تباہی کا سبب بنتی ہیں ۔
یہ من گھڑت روایتیں مسلمانوں میں انتشار کو ہوا دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ نئے عقیدے اور نظریے جنم لیتے ہیں ، نئے نئے فرقے وجود میں آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ باہمی محبت و مودت ختم ہو جاتی ہے ، لوگ خود ہی مُنصف ، مفتی ، قاضی بن کر ایک دوسرے کو گمراہ قرار دینا شروع کردیتے ہیں ۔
ہماری ترجیحات متواتر ، صحیح اور حسن روایات ہونی چاہییں ۔۔۔۔۔۔۔ ضعیف روایات بیان کریں لیکن شرائط محدثین کے ساتھ ۔
اور موضوع روایتیں کیسے ہی خوب صورت الفاظ میں کیوں نہ ہوں ، انھیں بالکل ترک کردیں ۔
" دھوکا خوب صورت ہوتا ہے " اس لیے لوگ جلدی کھاجاتے ہیں ، مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کھانے والوں کو بدصورت بنادیتا ہے ۔
اس لیے آپ اپنے دین کا حُسن برقرار رکھیں ، اور کبھی دھوکا نہکھائیں ۔۔۔۔۔ اللہ آپ کوہمیشہ خوب صورت رکھے !
✍️لقمان شاہد
4-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3395427847404047&id=100008105947430
( انظر: اسرارالمرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ ، للقاری رحمہ اللہ ص 343 ، ت ر 1307 ، دارالکتب العلمیۃ بیروت )
عوام اہل سنت جب کوئی نئی روایت یا واقعہ سنیں تو اسے آگے بیان کرنے سے پہلے محقق علما سے ضرور پوچھ لیا کریں کہ یہ بات سچی ہے ، یا جھوٹی ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ محبت محبت میں کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوتے رہیں ۔
آج کل ہمارے بعض خطبا ، مبلغین اور واعظین بغیر تحقیق کیے ہی روایات بیان کردیتے ہیں ، انھیں ایسے الفاظ سے غرض ہوتی ہے جو مجمعے میں جان ڈال دیں اور لوگ واہ واہ ، سبحان اللہ ، ماشاءاللہ کہیں ۔
انھیں اس چیز کا ادراک نہیں ہوتا کہ موضوع روایتیں دنیا آخرت میں کیسی تباہی کا سبب بنتی ہیں ۔
یہ من گھڑت روایتیں مسلمانوں میں انتشار کو ہوا دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ نئے عقیدے اور نظریے جنم لیتے ہیں ، نئے نئے فرقے وجود میں آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ باہمی محبت و مودت ختم ہو جاتی ہے ، لوگ خود ہی مُنصف ، مفتی ، قاضی بن کر ایک دوسرے کو گمراہ قرار دینا شروع کردیتے ہیں ۔
ہماری ترجیحات متواتر ، صحیح اور حسن روایات ہونی چاہییں ۔۔۔۔۔۔۔ ضعیف روایات بیان کریں لیکن شرائط محدثین کے ساتھ ۔
اور موضوع روایتیں کیسے ہی خوب صورت الفاظ میں کیوں نہ ہوں ، انھیں بالکل ترک کردیں ۔
" دھوکا خوب صورت ہوتا ہے " اس لیے لوگ جلدی کھاجاتے ہیں ، مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کھانے والوں کو بدصورت بنادیتا ہے ۔
اس لیے آپ اپنے دین کا حُسن برقرار رکھیں ، اور کبھی دھوکا نہکھائیں ۔۔۔۔۔ اللہ آپ کوہمیشہ خوب صورت رکھے !
✍️لقمان شاہد
4-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3395427847404047&id=100008105947430
❤1
استاذ العلما ، شیخ الحدیث علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری رحمہ اللہ فرماتے تھے:
بہت سے حضرات دعا مانگتے ہوۓ کہتے ہیں:
یا اللہ ، ہمیں اپنے حبیب کی محبت عطا فرما !
سوچنے کی بات یہ ہے کہ محبت دل کے میلان اور تعلقِ خاطر کا نام ہے ، جو کسی ہستی سے متعلق ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے حبیب پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دو ہستیاں ہیں ۔
ایک ہستی واجب الوجود ، اور دوسری ہستی ممکن الوجود ۔
تو دونوں کی محبت ایک کیسے ہوگئی ؟
اس لیے دعایوں مانگنی چاہیے جس طرح پہلے بزرگ دعا مانگتے تھے کہ:
اے اللہ ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما ، اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت عطافرما ، اپنے پیاروں کی محبت عطا فرما ، اوراُن اعمال کی محبت عطا فرما جو ہمیں تیری بارگاہ کا قرب عطا کردیں ۔
اللهم ارزقـنـاحبك وحب حبيبك الكريم صلى الله تعالى عليه وسلم وحب من يحبك وحب عمل يقربنا إليك
( مقالات شرف قادری ، خدا کو یاد کر پیارے ، ص 232 ، مکتبہ قادریہ لاہور )
حضرت کے مقالات کا حصہ " خدا کو یاد کر پیارے " ہمیں پہلی فرصت میں پڑھنا چاہیے ، بلکہ آج ہی پڑھ لینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں عوام و خواص میں مروج کچھ چیزوں کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔
یہ مقالات میں بھی شائع ہوا ہے ، اور الگ سے بھی ۔
✍️ لقمان شاہد
5-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3396334223980076&id=100008105947430
بہت سے حضرات دعا مانگتے ہوۓ کہتے ہیں:
یا اللہ ، ہمیں اپنے حبیب کی محبت عطا فرما !
سوچنے کی بات یہ ہے کہ محبت دل کے میلان اور تعلقِ خاطر کا نام ہے ، جو کسی ہستی سے متعلق ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے حبیب پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دو ہستیاں ہیں ۔
ایک ہستی واجب الوجود ، اور دوسری ہستی ممکن الوجود ۔
تو دونوں کی محبت ایک کیسے ہوگئی ؟
اس لیے دعایوں مانگنی چاہیے جس طرح پہلے بزرگ دعا مانگتے تھے کہ:
اے اللہ ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما ، اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت عطافرما ، اپنے پیاروں کی محبت عطا فرما ، اوراُن اعمال کی محبت عطا فرما جو ہمیں تیری بارگاہ کا قرب عطا کردیں ۔
اللهم ارزقـنـاحبك وحب حبيبك الكريم صلى الله تعالى عليه وسلم وحب من يحبك وحب عمل يقربنا إليك
( مقالات شرف قادری ، خدا کو یاد کر پیارے ، ص 232 ، مکتبہ قادریہ لاہور )
حضرت کے مقالات کا حصہ " خدا کو یاد کر پیارے " ہمیں پہلی فرصت میں پڑھنا چاہیے ، بلکہ آج ہی پڑھ لینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں عوام و خواص میں مروج کچھ چیزوں کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔
یہ مقالات میں بھی شائع ہوا ہے ، اور الگ سے بھی ۔
✍️ لقمان شاہد
5-3-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3396334223980076&id=100008105947430