کچھ دن پہلے ہم مدینے کے مسافر تھے ، کاش آج بھی وہیں ہوتے ؎
زندگانی وہیں کاش ہوتی بسر ، کاش بہزاؔد آتے نہ ہم لوٹ کر
اور پوری ہوئی ہر تمنا مگر ، یہ تمنائے قلبِ حَزیں رہ گئی 😢
آج جب باب المدینہ ( کراچی ) اتر رہا تھا تو ایئر پورٹ کی سیڑھیاں دیکھ کر مدینہ پاک کی ایسی یاد آئی کہ نڈھال کرگئی ۔
اللہ ، وہ کتنے خوش نصیب ہیں جن کارزق تو نے اپنے حبیب کے شہر میں لکھ رکھا ہے ۔ 😢
ہم مدینہ طیبہ صرف اور صرف رسول اللہ کے لیے جاتے ہیں ۔
اور یہ وہ محبت بھرا سفر ہوتاہے جو بار بار کیا ، ہزار بار کرنے کو جی چاہتاہے ۔
کہتے ہیں ایک محدث کو کسی سے محبت ہوگئی تھی تو وہ روزانہ اٹھارہ میل پیدل سفر کرکے اس کا صرف گھر دیکھنے جاتے تھے ۔
کاش ! یہ سرحدوں وغیرہ کے معاملات نہ ہوتے تو ہم پیدل درِ حضور کی طرف چلتے ۔۔۔۔۔۔ اور چلتے رہتے ، چلتے رہتے ، چلتے رہتے یہاں تک کہ دم نکل جاتا ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3386838961596269&id=100008105947430
زندگانی وہیں کاش ہوتی بسر ، کاش بہزاؔد آتے نہ ہم لوٹ کر
اور پوری ہوئی ہر تمنا مگر ، یہ تمنائے قلبِ حَزیں رہ گئی 😢
آج جب باب المدینہ ( کراچی ) اتر رہا تھا تو ایئر پورٹ کی سیڑھیاں دیکھ کر مدینہ پاک کی ایسی یاد آئی کہ نڈھال کرگئی ۔
اللہ ، وہ کتنے خوش نصیب ہیں جن کارزق تو نے اپنے حبیب کے شہر میں لکھ رکھا ہے ۔ 😢
ہم مدینہ طیبہ صرف اور صرف رسول اللہ کے لیے جاتے ہیں ۔
اور یہ وہ محبت بھرا سفر ہوتاہے جو بار بار کیا ، ہزار بار کرنے کو جی چاہتاہے ۔
کہتے ہیں ایک محدث کو کسی سے محبت ہوگئی تھی تو وہ روزانہ اٹھارہ میل پیدل سفر کرکے اس کا صرف گھر دیکھنے جاتے تھے ۔
کاش ! یہ سرحدوں وغیرہ کے معاملات نہ ہوتے تو ہم پیدل درِ حضور کی طرف چلتے ۔۔۔۔۔۔ اور چلتے رہتے ، چلتے رہتے ، چلتے رہتے یہاں تک کہ دم نکل جاتا ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3386838961596269&id=100008105947430
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مائکل وُلف نے اپنی کتاب One Thousand Roads to Mecca
میں نقل کیا ہے کہ:
بغداد کے خلفا کے عہد میں ایک حکمران نے مکے پر حملہ کر کے بہت سارے لوگوں کو اُس وقت مارڈالا تھا جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ۔
اُنھوں نے حجراسودکوا تار لیا اور اسے مقامِ لاہسہ لے آۓ تھے ۔
ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ ایک انسانی مقناطیس ہے جولوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنھیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت و بزرگی کے طفیل تھا ، کہ لوگ وہاں کِھچے چلے آتے تھے ؛ وگرنہ یہ پتھر تو اُس جگہ زمانوں سے رکھا ہوا تھا اور کوئی اِس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا ۔
( جب انھوں نے دیکھا کہ ادھر کوئی نہیں آرہا تو پھر ) حجر اسود کو وہاں سے واپس لا کر اسی جگہ رکھ دیا گیا جہاں سے اسےاتارا گیا تھا ۔ ؎
ہوتے کہاں خلیل و بِنا ، کعبہ و منیٰ
لولاک والے صَاحبی ! سب تیرے گھر کی ہے
کعبہ بھی ہے اِنھیں کی تَجلی کا ایک ظِل
روشن اِنھی کے عکس سے پُتلی حجر کی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3387759861504179&id=100008105947430
میں نقل کیا ہے کہ:
بغداد کے خلفا کے عہد میں ایک حکمران نے مکے پر حملہ کر کے بہت سارے لوگوں کو اُس وقت مارڈالا تھا جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ۔
اُنھوں نے حجراسودکوا تار لیا اور اسے مقامِ لاہسہ لے آۓ تھے ۔
ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ ایک انسانی مقناطیس ہے جولوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنھیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت و بزرگی کے طفیل تھا ، کہ لوگ وہاں کِھچے چلے آتے تھے ؛ وگرنہ یہ پتھر تو اُس جگہ زمانوں سے رکھا ہوا تھا اور کوئی اِس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا ۔
( جب انھوں نے دیکھا کہ ادھر کوئی نہیں آرہا تو پھر ) حجر اسود کو وہاں سے واپس لا کر اسی جگہ رکھ دیا گیا جہاں سے اسےاتارا گیا تھا ۔ ؎
ہوتے کہاں خلیل و بِنا ، کعبہ و منیٰ
لولاک والے صَاحبی ! سب تیرے گھر کی ہے
کعبہ بھی ہے اِنھیں کی تَجلی کا ایک ظِل
روشن اِنھی کے عکس سے پُتلی حجر کی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3387759861504179&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک روشن چہرے والے شخص نے میرے ساتھ نماز پڑھی ، تو باتوں باتوں میں کہنے لگا:
کبھی میں ڈکیتوں کا سرغنہ ہوا کرتا تھا ، جہاں جاتا تباہی مچاکے رکھ دیتا ۔
جیسے ہی پتا چلتا کسی کی کمیٹی نکلی ہے یا کسی کے پاس مال اور زیور ہے تو تنِ تنہا اس کے گھر جاگھستا اور سب کچھ لوٹ کر رفوچکر ہوجاتا۔
ایک دن مجھے فلاں سید صاحب نے مولانا محمد الیاس قادری صاحب کا بیان سنایا ، جسے سن کر میری چیخیں نکل گئیں ۔
میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی ، اور چہرے پر داڑھی شریف سجانے کی نیت کرلی ۔
لوگوں کا لوٹا ہوا مال بھی واپس کردیا ، ایک بندے کا تقریبا سوا پاؤ سونا لوٹا تھا وہ بھی اس کے گھر جاکر واپس کر آیا ۔
پھر مولانا الیاس قادری صاحب سےملاقات کرنے کے لیے کراچی گیا اور ان سے عرض کی مجھے مدینہ پاک کی حاضری کے لیے دعا دے دیں ۔
انھوں نے دعا فرمائی ، تو اللہپاک نے مدینہ پاک کی بار بار حاضری بھی نصیب فرما دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹
یہ ایک ہی نہیں اس طرح کے بے شمار لوگ حضرت کی تبلیغ سے تائب ہوئے ہیں ، اور کئی غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں ۔
رب تعالیٰ آپ دام ظلہ کو دائمی برکتوں سے نوازے !
آپ کا طریقۂ تبلیغ منفرد اور موثر ہے ۔
جس طرح لوگوں کے اعمال کیاصلاح کرتےہیں اسی طرح عقیدے کی بھی اصلاح کرتے رہتے ہیں ۔
کچھ عرصہ پہلے سنی مسلمان صحابہ و اہل بیت کے معاملے میں تشکیک کا شکار ہونے لگے تو آپ نےبڑے احسن انداز میں تبلیغ شروع فرمائی ، جس کی برکت سے بہت سارے مسلمانوں کے عقیدے اور عقیدتیں محفوظ ہوئیں ۔
آپ باقاعدہ اہل بیت پاک اور صحابہ کرام کے ایام مناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سیدنا صدیقاکبر ، سیدنا علی پاک ، سیدہ زہرا پاک ، حسنین کریمین ، حضرت جعفر صادق اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنجمیعھم کے خصوصی دن منا کر ، اِنکے ذکرِ خیر سے مسلمانوں کے دل منور کرتے ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3389070891373076&id=100008105947430
کبھی میں ڈکیتوں کا سرغنہ ہوا کرتا تھا ، جہاں جاتا تباہی مچاکے رکھ دیتا ۔
جیسے ہی پتا چلتا کسی کی کمیٹی نکلی ہے یا کسی کے پاس مال اور زیور ہے تو تنِ تنہا اس کے گھر جاگھستا اور سب کچھ لوٹ کر رفوچکر ہوجاتا۔
ایک دن مجھے فلاں سید صاحب نے مولانا محمد الیاس قادری صاحب کا بیان سنایا ، جسے سن کر میری چیخیں نکل گئیں ۔
میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی ، اور چہرے پر داڑھی شریف سجانے کی نیت کرلی ۔
لوگوں کا لوٹا ہوا مال بھی واپس کردیا ، ایک بندے کا تقریبا سوا پاؤ سونا لوٹا تھا وہ بھی اس کے گھر جاکر واپس کر آیا ۔
پھر مولانا الیاس قادری صاحب سےملاقات کرنے کے لیے کراچی گیا اور ان سے عرض کی مجھے مدینہ پاک کی حاضری کے لیے دعا دے دیں ۔
انھوں نے دعا فرمائی ، تو اللہپاک نے مدینہ پاک کی بار بار حاضری بھی نصیب فرما دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹
یہ ایک ہی نہیں اس طرح کے بے شمار لوگ حضرت کی تبلیغ سے تائب ہوئے ہیں ، اور کئی غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں ۔
رب تعالیٰ آپ دام ظلہ کو دائمی برکتوں سے نوازے !
آپ کا طریقۂ تبلیغ منفرد اور موثر ہے ۔
جس طرح لوگوں کے اعمال کیاصلاح کرتےہیں اسی طرح عقیدے کی بھی اصلاح کرتے رہتے ہیں ۔
کچھ عرصہ پہلے سنی مسلمان صحابہ و اہل بیت کے معاملے میں تشکیک کا شکار ہونے لگے تو آپ نےبڑے احسن انداز میں تبلیغ شروع فرمائی ، جس کی برکت سے بہت سارے مسلمانوں کے عقیدے اور عقیدتیں محفوظ ہوئیں ۔
آپ باقاعدہ اہل بیت پاک اور صحابہ کرام کے ایام مناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سیدنا صدیقاکبر ، سیدنا علی پاک ، سیدہ زہرا پاک ، حسنین کریمین ، حضرت جعفر صادق اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنجمیعھم کے خصوصی دن منا کر ، اِنکے ذکرِ خیر سے مسلمانوں کے دل منور کرتے ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3389070891373076&id=100008105947430
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارے ایک انتہائی محترم و مکرم عالم دین کا سوشل میڈیا پر کلپ چل رہا ہے جس میں وہ غنیۃ الطالبین کے حوالے سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کررہے ہیں کہ:
" اُن کے گھوڑے کی خاک بھی حضورغوث پاک پر پڑجاتی تو بقول غوث پاک میری مغفرت کا سبب تھی ۔۔۔۔۔۔۔ "
اور ساتھ یہ بھی کَہ رہے ہیں کہ اگر یہ غنیۃ الطالبین میں نہہو تو میں زبان کٹوا دوں گا ۔
یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود مجھے تو غنیۃ الطالبین کے کسی نسخے میں نہیں ملی ، اگر آپ میں سے کسیکے علم میں ہو تو ضرور ارشاد فرمائیں ۔
جھوٹی روایت بیان کرنا تو سید عالم ﷺ کے متعلق بھی جائز نہیں ، کسی صحابی کے متعلق کیسے روا سمجھ لیا لوگوں نے !!
موضوعات کی ریت اب ختم ہونی چاہیے ، صحیح ، حسن ، یا کم ازکم ضعیف پر اکتفا کریں ، موضوعات کو بالکل ترک کر دیں ؛ انھی موضوعات نے عقائد و نظریات کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے ۔
عوام اہل سنت کا فرض ہے کہ کوئی خطیب جب بیان کرے تو اس سے استفسار بھی کیا کریں ، کہ آپ کے اس بیان کا مآخذ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ آئندہ محتاط رہے ، اور آپ تک درست معلومات پہنچیں ۔
✍️ لقمان شاہد
25-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3389806204632878&id=100008105947430
" اُن کے گھوڑے کی خاک بھی حضورغوث پاک پر پڑجاتی تو بقول غوث پاک میری مغفرت کا سبب تھی ۔۔۔۔۔۔۔ "
اور ساتھ یہ بھی کَہ رہے ہیں کہ اگر یہ غنیۃ الطالبین میں نہہو تو میں زبان کٹوا دوں گا ۔
یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود مجھے تو غنیۃ الطالبین کے کسی نسخے میں نہیں ملی ، اگر آپ میں سے کسیکے علم میں ہو تو ضرور ارشاد فرمائیں ۔
جھوٹی روایت بیان کرنا تو سید عالم ﷺ کے متعلق بھی جائز نہیں ، کسی صحابی کے متعلق کیسے روا سمجھ لیا لوگوں نے !!
موضوعات کی ریت اب ختم ہونی چاہیے ، صحیح ، حسن ، یا کم ازکم ضعیف پر اکتفا کریں ، موضوعات کو بالکل ترک کر دیں ؛ انھی موضوعات نے عقائد و نظریات کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے ۔
عوام اہل سنت کا فرض ہے کہ کوئی خطیب جب بیان کرے تو اس سے استفسار بھی کیا کریں ، کہ آپ کے اس بیان کا مآخذ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ آئندہ محتاط رہے ، اور آپ تک درست معلومات پہنچیں ۔
✍️ لقمان شاہد
25-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3389806204632878&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وفات ہے ۔
آپ رضی اللہ عنہ نے 25 رجب 183 ھ میں وصال فرمایا تھا ۔
آپ رضی اللہ عنہ بڑی شان کے مالک تھے ، حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
ایک دفعہ آپ کنویں سے پانی پینے لگے تو دستِ مبارک سے برتن کنویں میں گر گیا ۔
آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
جب مجھے پانی کی پیاس لگتی ہے تو میرا پالنے والا تُو ہوتا ہے ، اور جب میں کھانے کا ارادہ کرتا ہوں تو تیری ذات ہی میری طاقت ہوتی ہے ۔
اے میرے اللہ ، اے میرے آقا ﷻ اِس برتن کے علاوہ میرے پاس دوسرا برتن نہیں ہے ، مجھے اِس سے محروم نہ فرما ۔۔۔۔۔۔۔ !
( مشہور ولی اللہ ) حضرت شَقِیق بَلخی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ کی قسم ، میں نے دیکھا کہ کنویں کا پانی اوپر آگیا اور آپ نے ہاتھ بڑھا کراپنا برتن پکڑ لیا ۔
پھر آپ نے وضو کرکے نماز ادا کی اور اُس برتن میں مٹی ڈالی اور ہلا کر پی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے طلب کیا ( کہ جو پی رہیں مجھے بھی عنایت فرمائیں ) تو آپ نے میری طرف برتن بڑھا دیا ۔
میں نے جب اس سے پیا تو وہ ( مٹی نہیں تھی ، بلکہ ) شکر اور سَتُو تھے ۔
بخدا میں نے آج تک ایسی لذیذ چیز نوش نہیں کی ۔
( وہ اتنی لذیذ اور برکت والی چیز تھی کہ ) میں نے سیر ہوکر پی تو کئی روز تک مجھے کھانے کی طلب نہ ہوئی ۔
( ملخصاً: مثیر الغرام الساکن الی اشرف الاماکن ، ت امام ابن جوزی رحمہ اللہ ، ص 402 ، 403 ، ط دارالحدیث القاہرہ ، س 1994ء )
آپ رضی اللہ عنہ کا مزار شریف آج بھی مرجع خلائق ہے ، وہاں حاضر ہو کر مانگی گئیں دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔
علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اہل عراق کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ اللہ کے ہاں حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ ہیں ۔
( الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ ، ص 172 ، ر 185 )
علامہ دمیری اور مفتی نقی علی خان رحمھمااللہ نے امام شافعی کایہ قول نقل کیاہے کہ:
امام موسی کاظم کی قبر دعا کی قبولیت کے لیے تریاق مجرب ہے ۔
( حیاۃ الحیوان الکبری ، ت علامہ دمیری رحمہ اللہ ، ج 1 ، ص 160 ، دار احیاءالتراث العربی بیروت ۔ احسن الوعا لآداب الدعاء ص 32 ، م رضا اکیڈمی بمبئ )
اللہ کریم ہمیں اہل بیت پاک کی برکتوں سے کبھی محروم نہ کرے ، ان کے طفیل ہمارے دین و دنیا آباد رہیں ۔
اللہ نےچاہا تو جلد امام پاک کی بارگاہ میں ہماری حاضری ہوگی اور وہاں جاکر اپنے رب کے حضور دعائیں کریں گے ۔
✍️ لقمان شاہد
27-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3391497521130413&id=100008105947430
آپ رضی اللہ عنہ نے 25 رجب 183 ھ میں وصال فرمایا تھا ۔
آپ رضی اللہ عنہ بڑی شان کے مالک تھے ، حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
ایک دفعہ آپ کنویں سے پانی پینے لگے تو دستِ مبارک سے برتن کنویں میں گر گیا ۔
آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
جب مجھے پانی کی پیاس لگتی ہے تو میرا پالنے والا تُو ہوتا ہے ، اور جب میں کھانے کا ارادہ کرتا ہوں تو تیری ذات ہی میری طاقت ہوتی ہے ۔
اے میرے اللہ ، اے میرے آقا ﷻ اِس برتن کے علاوہ میرے پاس دوسرا برتن نہیں ہے ، مجھے اِس سے محروم نہ فرما ۔۔۔۔۔۔۔ !
( مشہور ولی اللہ ) حضرت شَقِیق بَلخی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ کی قسم ، میں نے دیکھا کہ کنویں کا پانی اوپر آگیا اور آپ نے ہاتھ بڑھا کراپنا برتن پکڑ لیا ۔
پھر آپ نے وضو کرکے نماز ادا کی اور اُس برتن میں مٹی ڈالی اور ہلا کر پی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے طلب کیا ( کہ جو پی رہیں مجھے بھی عنایت فرمائیں ) تو آپ نے میری طرف برتن بڑھا دیا ۔
میں نے جب اس سے پیا تو وہ ( مٹی نہیں تھی ، بلکہ ) شکر اور سَتُو تھے ۔
بخدا میں نے آج تک ایسی لذیذ چیز نوش نہیں کی ۔
( وہ اتنی لذیذ اور برکت والی چیز تھی کہ ) میں نے سیر ہوکر پی تو کئی روز تک مجھے کھانے کی طلب نہ ہوئی ۔
( ملخصاً: مثیر الغرام الساکن الی اشرف الاماکن ، ت امام ابن جوزی رحمہ اللہ ، ص 402 ، 403 ، ط دارالحدیث القاہرہ ، س 1994ء )
آپ رضی اللہ عنہ کا مزار شریف آج بھی مرجع خلائق ہے ، وہاں حاضر ہو کر مانگی گئیں دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔
علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اہل عراق کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ اللہ کے ہاں حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ ہیں ۔
( الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ ، ص 172 ، ر 185 )
علامہ دمیری اور مفتی نقی علی خان رحمھمااللہ نے امام شافعی کایہ قول نقل کیاہے کہ:
امام موسی کاظم کی قبر دعا کی قبولیت کے لیے تریاق مجرب ہے ۔
( حیاۃ الحیوان الکبری ، ت علامہ دمیری رحمہ اللہ ، ج 1 ، ص 160 ، دار احیاءالتراث العربی بیروت ۔ احسن الوعا لآداب الدعاء ص 32 ، م رضا اکیڈمی بمبئ )
اللہ کریم ہمیں اہل بیت پاک کی برکتوں سے کبھی محروم نہ کرے ، ان کے طفیل ہمارے دین و دنیا آباد رہیں ۔
اللہ نےچاہا تو جلد امام پاک کی بارگاہ میں ہماری حاضری ہوگی اور وہاں جاکر اپنے رب کے حضور دعائیں کریں گے ۔
✍️ لقمان شاہد
27-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3391497521130413&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بزرگ فرمارہے تھے "حضرت معاویہ بادشاہ ہیں " ۔
بزرگو ! آپ نے صحیح فرمایا ، واقعی حضرت معاویہ بادشاہ ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ کہتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ سلطنت محمدیہ کے بادشاہ ہیں !
بادشاہ ہونا کوئی کمی والی بات نہیں ، اللہ کے نبی سیدنا داود علیہ السلام بادشاہ تھے ، آپ کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی بادشاہ تھے ۔۔۔۔۔ بلکہ آپ علیہ السلام تو ایسے بادشاہ تھے کہ بادشاہ ہونے کے باوجود " هَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ " کَہہ کر ، اللہ پاک سے بے مثال بادشاہی مانگتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔
بھولے بادشاہو! اچھی نیت سے حضرت معاویہ کو بے شک بادشاہ کہا کرو ، کوئی ہرج نہیں ؛ بس نیت کو فتور سے محفوظ رکھو ۔
دیکھو ، ہم اہلسنت نورٌ علی نور نبی ﷺ کو بشر سمجھتے ہیں ، لیکن اُس طرح کا بشر نہیں سمجھتے جیسے وہابی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ !!
" پیر سید عرفان شاہ صاحب " فرماتے تھے:
اگر کوئی شخص تنقیص کی نیت سے رسول اللہ کو " بشر " بھی کہے گا تو اس پر حکم کفر ہو گا ۔
اس لیے بزرگو ! سچی بات کے پیچھے اگر جھوٹی نیت کار فرما ہو تو وہ بات کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے ۔؎
بات سے ، بات کی گہرائی چلی جاتی ہے
جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے
رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں
چاند کے عشق میں " بینائی " چلی جاتی ہے
ہم اپنے لیے ، اور آپ کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ کریم ہمیں اصحاب رسول کا ہمیشہ مودب رکھے ، ہم مولا علی پاک سے بے لوث اور بے حد و انتہا محبت کریں ۔۔۔۔۔۔ مگر سیدنا معاویہ سمیت کسی صحابی رسول کی تنقیص کا کبھی سوچیں بھی ناں ۔
وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ !
✍️ لقمان شاہد
28-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3392397764373722&id=100008105947430
بزرگو ! آپ نے صحیح فرمایا ، واقعی حضرت معاویہ بادشاہ ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ کہتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ سلطنت محمدیہ کے بادشاہ ہیں !
بادشاہ ہونا کوئی کمی والی بات نہیں ، اللہ کے نبی سیدنا داود علیہ السلام بادشاہ تھے ، آپ کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی بادشاہ تھے ۔۔۔۔۔ بلکہ آپ علیہ السلام تو ایسے بادشاہ تھے کہ بادشاہ ہونے کے باوجود " هَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ " کَہہ کر ، اللہ پاک سے بے مثال بادشاہی مانگتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔
بھولے بادشاہو! اچھی نیت سے حضرت معاویہ کو بے شک بادشاہ کہا کرو ، کوئی ہرج نہیں ؛ بس نیت کو فتور سے محفوظ رکھو ۔
دیکھو ، ہم اہلسنت نورٌ علی نور نبی ﷺ کو بشر سمجھتے ہیں ، لیکن اُس طرح کا بشر نہیں سمجھتے جیسے وہابی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ !!
" پیر سید عرفان شاہ صاحب " فرماتے تھے:
اگر کوئی شخص تنقیص کی نیت سے رسول اللہ کو " بشر " بھی کہے گا تو اس پر حکم کفر ہو گا ۔
اس لیے بزرگو ! سچی بات کے پیچھے اگر جھوٹی نیت کار فرما ہو تو وہ بات کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے ۔؎
بات سے ، بات کی گہرائی چلی جاتی ہے
جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے
رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں
چاند کے عشق میں " بینائی " چلی جاتی ہے
ہم اپنے لیے ، اور آپ کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ کریم ہمیں اصحاب رسول کا ہمیشہ مودب رکھے ، ہم مولا علی پاک سے بے لوث اور بے حد و انتہا محبت کریں ۔۔۔۔۔۔ مگر سیدنا معاویہ سمیت کسی صحابی رسول کی تنقیص کا کبھی سوچیں بھی ناں ۔
وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ !
✍️ لقمان شاہد
28-2-2022 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3392397764373722&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM