🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
سبحان اللہ ، حضرت مجدد الف ثانی رحمہ‌اللہ نے کیسی عمدہ بات ارشاد فرمائی کہ:

" سرورعالم ﷺ کا سایہ نہ تھا ، کیوں کہ عالمِ شہادت میں ہر شخص کا سایہ اُس سے لطیف تر ہوتا ہے ، اورحضور ﷺ سے لطیف تر عالم میں کوئی چیز نہیں ہوسکتی ۔ "

( البرہان الانظف فی لطافت سیدالالطف )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3386247991655366&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیارے پیارے دوست ، ہم راز و دم ساز حضرت مولانا بالفضل اولانا Shahbaz Ahmad دامت برکاتہم العالیہ نے اتوار تحریر کا سلسلہ شروع کیا ہے ، جو جاری رہا تو ان شاءاللہ مفید ثابت ہوگا ۔

ویسے صحیح حدیث میں ہےکہ:

خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ ۔
اللہ پاک نے ہفتے کے دن زمین کو پیدا کیا ، اور اتوار والے دن اس میں پہاڑوں کو بنایا۔( رواہ مسلم )

زمین میں پہاڑ بنانے کی وجہ یہ بھی تھی کہ زمین حرکت نہ کرے ، ایک جگہ جمی رہے ، اور لوگ سکون پائیں ؛ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:
وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ ۔

بلاتمثیل و تشبیہ ، اتوار کو ہمارے ہاں چھٹی ہوتی‌ ہے ۔
چھٹی فراغت کی زمین ہے ، اِس پر اہلِ علم کو اچھی اچھی تحریروں کے پہاڑ رکھنے چاہییں ، تاکہ اس کی کسی اور طرف حرکت نہ ہو اور لوگ پرسکون رہ سکیں ۔

کیا ہی اچھا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ فراغت کے دن اوٹ پٹانگ کی طرف رخ کرنے والوں کو رحمت والے رب کی طرف پھیرا جائے ۔

✍️ لقمان شاہد
20-2-2022 ء اتوار

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3386603848286447&id=100008105947430
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ دن پہلے ہم‌ مدینے کے مسافر تھے ، کاش آج بھی وہیں ہوتے ؎

زندگانی وہیں کاش ہوتی بسر ، کاش بہزاؔد آتے نہ ہم لوٹ کر
اور پوری ہوئی ہر تمنا مگر ، یہ تمنائے قلبِ حَزیں رہ گئی 😢

آج جب باب المدینہ ( کراچی ) اتر رہا تھا تو ایئر پورٹ کی سیڑھیاں دیکھ کر مدینہ پاک کی ایسی یاد آئی کہ نڈھال کرگئی ۔

اللہ ، وہ کتنے خوش نصیب ہیں جن کارزق تو نے اپنے حبیب کے شہر میں لکھ رکھا ہے ۔ 😢

ہم مدینہ طیبہ صرف اور صرف رسول اللہ کے لیے جاتے ہیں ۔
اور یہ وہ محبت بھرا سفر ہوتاہے جو بار بار کیا ، ہزار بار کرنے کو جی چاہتاہے ۔

کہتے ہیں ایک محدث کو کسی سے محبت ہوگئی تھی تو وہ روزانہ اٹھارہ میل پیدل سفر کرکے اس کا صرف گھر دیکھنے جاتے تھے ۔

کاش ! یہ سرحدوں وغیرہ کے معاملات نہ ہوتے تو ہم پیدل درِ حضور کی طرف چلتے ۔۔۔۔۔۔ اور چلتے رہتے ، چلتے رہتے ، چلتے رہتے یہاں تک کہ دم نکل جاتا ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3386838961596269&id=100008105947430
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مائکل وُلف نے اپنی کتاب One Thousand Roads to Mecca
میں نقل کیا ہے کہ:

بغداد کے خلفا کے عہد میں ایک حکمران نے مکے پر حملہ کر کے بہت سارے لوگوں کو اُس وقت مارڈالا تھا جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ۔
اُنھوں نے حجراسودکوا تار لیا اور اسے مقامِ لاہسہ لے آۓ تھے ۔
ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ ایک انسانی مقناطیس ہے جولوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔

لیکن ۔۔۔۔۔‌‌‌‌‌‌۔۔۔۔

اُنھیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت و بزرگی کے طفیل تھا ، کہ لوگ وہاں کِھچے چلے آتے تھے ؛ وگرنہ یہ پتھر تو اُس جگہ زمانوں سے رکھا ہوا تھا اور کوئی اِس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا ۔

( جب انھوں نے دیکھا کہ ادھر کوئی نہیں آرہا تو پھر ) حجر اسود کو وہاں سے واپس لا کر اسی جگہ رکھ دیا گیا جہاں سے اسےاتارا گیا تھا ۔ ؎

ہوتے کہاں خلیل و بِنا ، کعبہ و منیٰ
لولاک والے صَاحبی ! سب تیرے گھر کی ہے

کعبہ بھی ہے اِنھیں کی تَجلی کا ایک ظِل
روشن اِنھی کے عکس سے پُتلی حجر کی ہے

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3387759861504179&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک روشن چہرے والے شخص نے میرے ساتھ نماز پڑھی ، تو باتوں باتوں میں کہنے لگا:

کبھی میں ڈکیتوں کا سرغنہ ہوا کرتا تھا ، جہاں جاتا تباہی مچاکے رکھ دیتا ۔
جیسے ہی پتا چلتا کسی کی کمیٹی نکلی ہے یا کسی کے پاس مال اور زیور ہے تو تنِ تنہا اس‌ کے گھر جاگھستا اور سب کچھ لوٹ کر رفوچکر ہوجاتا۔

ایک دن مجھے فلاں سید صاحب نے مولانا محمد الیاس قادری صاحب کا بیان سنایا ، جسے سن کر میری چیخیں نکل گئیں ۔
میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی ، اور چہرے پر داڑھی شریف سجانے کی نیت کرلی ۔
لوگوں کا لوٹا ہوا مال بھی واپس کردیا ، ایک بندے کا تقریبا سوا پاؤ سونا لوٹا تھا وہ بھی اس کے گھر جاکر واپس کر آیا ۔

پھر مولانا الیاس قادری صاحب سے‌ملاقات کرنے کے لیے کراچی گیا اور ان سے عرض کی مجھے مدینہ پاک کی حاضری کے لیے دعا دے دیں ۔
انھوں نے دعا فرمائی ، تو اللہ‌پاک نے مدینہ پاک کی بار بار حاضری بھی نصیب فرما دی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹

یہ‌ ایک ہی نہیں اس طرح کے بے شمار لوگ حضرت کی تبلیغ سے تائب ہوئے ہیں ، اور کئی غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں ۔
رب تعالیٰ آپ دام ظلہ کو دائمی برکتوں سے نوازے !

آپ کا طریقۂ تبلیغ منفرد اور موثر ہے ۔
جس طرح لوگوں کے اعمال کی‌اصلاح کرتے‌ہیں اسی طرح عقیدے کی بھی اصلاح کرتے‌ رہتے ہیں ۔
کچھ عرصہ پہلے سنی مسلمان صحابہ و اہل بیت کے معاملے میں تشکیک کا شکار ہونے لگے تو آپ نےبڑے احسن انداز میں تبلیغ شروع فرمائی ، جس کی برکت سے بہت سارے مسلمانوں کے عقیدے اور عقیدتیں محفوظ ہوئیں ۔

آپ باقاعدہ اہل بیت پاک اور صحابہ کرام کے ایام مناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سیدنا صدیق‌اکبر ، سیدنا علی پاک ، سیدہ زہرا پاک ، حسنین کریمین ، حضرت جعفر صادق اور‌ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عن‌جمیعھم کے خصوصی دن منا کر ، اِن‌کے ذکرِ خیر سے مسلمانوں کے دل منور کرتے‌ ہیں ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3389070891373076&id=100008105947430
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہمارے ایک انتہائی محترم و مکرم عالم دین کا سوشل میڈیا پر کلپ چل رہا ہے جس میں وہ غنیۃ الطالبین کے حوالے سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کررہے ہیں کہ:
" اُن کے گھوڑے کی خاک بھی حضورغوث پاک پر پڑجاتی تو بقول غوث پاک میری مغفرت کا سبب تھی ۔۔۔۔۔۔۔ "
اور ساتھ یہ بھی کَہ رہے ہیں کہ اگر یہ غنیۃ الطالبین میں نہ‌ہو تو میں زبان کٹوا دوں گا ۔

یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود مجھے تو غنیۃ الطالبین کے کسی نسخے میں نہیں ملی ، اگر آپ میں سے کسی‌کے علم میں ہو تو ضرور ارشاد فرمائیں ۔

جھوٹی روایت بیان کرنا تو سید عالم ﷺ کے متعلق بھی جائز نہیں ، کسی صحابی کے متعلق کیسے روا سمجھ لیا لوگوں نے !!

موضوعات کی ریت اب ختم ہونی چاہیے ، صحیح ، حسن ، یا کم ازکم ضعیف پر اکتفا کریں ، موضوعات کو بالکل ترک کر دیں ؛ انھی موضوعات نے عقائد و نظریات کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے ۔

عوام اہل سنت کا فرض ہے کہ کوئی خطیب جب بیان کرے تو اس سے استفسار بھی کیا کریں ، کہ آپ کے اس بیان کا مآخذ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ آئندہ محتاط رہے ، اور آپ تک درست معلومات پہنچیں ۔

✍️ لقمان شاہد
25-2-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3389806204632878&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وفات ہے ۔
آپ رضی اللہ عنہ نے 25 رجب 183 ھ میں وصال فرمایا تھا ۔

آپ رضی اللہ عنہ بڑی شان کے مالک تھے ، حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

ایک دفعہ آپ کنویں سے پانی پینے لگے تو دستِ مبارک سے برتن کنویں میں گر گیا ۔

آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:

جب مجھے پانی کی پیاس لگتی ہے تو میرا پالنے والا تُو ہوتا ہے ، اور جب میں کھانے کا ارادہ کرتا ہوں تو تیری ذات ہی میری طاقت ہوتی ہے ۔
اے میرے اللہ ، اے میرے آقا ﷻ اِس برتن کے علاوہ میرے پاس دوسرا برتن نہیں ہے ، مجھے اِس سے محروم نہ فرما ۔۔۔۔۔۔۔ !

( مشہور ولی اللہ ) حضرت شَقِیق بَلخی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

اللہ کی قسم ، میں نے دیکھا کہ کنویں کا پانی اوپر آگیا اور آپ نے ہاتھ بڑھا کراپنا برتن پکڑ لیا ۔
پھر آپ نے وضو کرکے نماز ادا کی اور اُس برتن میں مٹی ڈالی اور ہلا کر پی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے طلب کیا ( کہ جو پی رہیں مجھے بھی عنایت فرمائیں ) تو آپ نے میری طرف برتن بڑھا دیا ۔
میں نے جب اس سے پیا تو وہ ( مٹی نہیں تھی ، بلکہ ) شکر اور سَتُو تھے ۔
بخدا میں نے آج تک ایسی لذیذ چیز نوش نہیں کی ۔
( وہ اتنی لذیذ اور برکت والی چیز تھی کہ ) میں نے سیر ہوکر پی تو کئی روز تک مجھے کھانے کی طلب نہ ہوئی ۔

( ملخصاً: مثیر الغرام الساکن الی اشرف الاماکن ، ت امام ابن جوزی رحمہ اللہ ، ص 402 ، 403 ، ط دارالحدیث القاہرہ ، س 1994ء )

آپ رضی اللہ عنہ کا مزار شریف آج بھی مرجع خلائق ہے ، وہاں حاضر ہو کر مانگی گئیں دعائیں قبول‌ ہوتی ہیں ۔

علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

اہل عراق کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ اللہ کے ہاں حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ ہیں ۔

( الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ ، ص 172 ، ر 185 )

علامہ دمیری اور مفتی نقی علی خان رحمھمااللہ نے امام شافعی کایہ قول نقل کیاہے کہ:

امام موسی کاظم کی قبر دعا کی قبولیت کے لیے تریاق مجرب ہے ۔

( حیاۃ الحیوان الکبری ، ت علامہ دمیری رحمہ اللہ ، ج 1 ، ص 160 ، دار احیاءالتراث العربی بیروت ۔ احسن الوعا لآداب الدعاء ص 32 ، م رضا اکیڈمی بمبئ )

اللہ کریم‌ ہمیں اہل بیت پاک کی برکتوں سے کبھی محروم نہ کرے ، ان کے طفیل ہمارے دین و دنیا آباد رہیں ۔

اللہ نےچاہا تو جلد امام پاک کی بارگاہ میں ہماری حاضری ہوگی اور وہاں جاکر اپنے رب کے حضور دعائیں کریں گے ۔

✍️ لقمان شاہد
27-2-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3391497521130413&id=100008105947430