#فیضان_سیدنا_امام_حسین ❺
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ پنجم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305616648341048/
محترم قارئینِ کرام : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اذیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔ یحیٰ بن ابوکثیر روایت کرتے ہیں : خَرَجَ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم مِنْ بَيْتٍ عَائشةَ فَمَرَّ عَلَی فَاطِمَةَ فَسَمِعَ حُسَيْنًا يُبْکِيْ رضی الله عنه فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِيْ اَنَّ بَکَاءَ هُ يُؤْذِيْنِيْ.(طبرانی، المعجم الکبير، 3، 116، رقم : 2847)
ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے ، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا (کے گھر کے پاس سے) گزرے تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : فاطمہ کیا تو نہیں جانتی کہ مجھے اس کا رونا تکلیف دیتا ہے ۔
جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا رونا آج برداشت نہیں کرسکتے تو کربلا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کی تکلیف کب برداشت کی ہوگی ۔ اور کیسے برداشت کی ہوگی ؟ یہی وجہ تھی کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا مولیٰ علی المرتضی بھی شہید ہوئے ۔ سب شہادتیں اکبر و اعظم ہیں مگر کسی کی شہادت کے دن اس کے مشہد پر خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نہیں تشریف لے گئے ۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ میری شہادت سے ایک رات قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عثمان آج روزہ رکھ لینا اور افطار میرے پاس آ کر کرلینا جو شہید ہوا وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں خود پہنچا اور دوسری طرف یہ عالم کہ کربلا کا دن ہے۔ ادھر شہادتیں ہورہی ہیں اور ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بنفس نفیس صبح سے آخری شہادت تک میدان کربلا میں خود موجود ہیں ۔ مشہدِ حسین رضی اللہ عنہ اور میدانِ کربلا میں خود موجود رہنا یہ شرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کسی اور کو نہیں دیا ۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ۔ ام المومنین حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کو مٹی دی اور فرمایا کہ جب یہ سرخ ہوجائے تو سمجھ لینا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں حتی کہ میدان کربلا اور سن شہادت کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ، کتب حدیث میں کثرت سے اس پر احادیث موجود ہیں ۔ صحیح بخاری کتاب العلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دو طرح کی خبریں اور علم سیکھے ۔ ایک قسم اس علم کی ہے جو میں مجمع عام میں ہرکس و ناکس کے سامنے بیان کرتا رہتا ہوں۔ وہ علم احکام شریعت اور احکام طریقت کا ہے ۔ دوسرا علم ایسے حقائق و واقعات اور خبریں ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے بیان کردوں تو میری گردن حلق سے کاٹ دی جائے ۔ صحیح بخاری کی یہ حدیث کتاب العلم میں ہے اس پر امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ وہ علم جو سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیکھا اور جسے عوام الناس کے سامنے بیان کرتے کتراتے اور خواص کے سامنے بیان کرتے تھے اس علم میں سے یہ بھی تھا کہ جب دس ہجری کا سن قریب آگیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھا لینا ۔
امام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں : یزید کے حکومت پر بیٹھنے سے ایک سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول کی اور انہیں اپنے پاس بلالیا ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اس علم میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں مروان بن حکم سے خطاب فرمایا : اے مروان! میں نے صادق المصدوق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان ، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی ۔ گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پوری امت کی ہلاکت قرار دیا ہے ۔ اس وقت تو مروان نے یہ سن کر کہا کہ ان لونڈوں پر خدا کی لعنت ہو لیکن اسے خبر نہ تھی کہ اس کے ہی خاندان کے لونڈوں کی بات ہورہی ہے ۔ امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قریش کے وہ بیوقوف لونڈے جنہوں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دین کو تباہ کیا تھا ان میں سے پہلا لونڈا یزید تھا ۔ صحیح ترمذی میں سیدنا امام حسین رضی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ پنجم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305616648341048/
محترم قارئینِ کرام : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اذیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔ یحیٰ بن ابوکثیر روایت کرتے ہیں : خَرَجَ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم مِنْ بَيْتٍ عَائشةَ فَمَرَّ عَلَی فَاطِمَةَ فَسَمِعَ حُسَيْنًا يُبْکِيْ رضی الله عنه فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِيْ اَنَّ بَکَاءَ هُ يُؤْذِيْنِيْ.(طبرانی، المعجم الکبير، 3، 116، رقم : 2847)
ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے ، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا (کے گھر کے پاس سے) گزرے تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : فاطمہ کیا تو نہیں جانتی کہ مجھے اس کا رونا تکلیف دیتا ہے ۔
جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا رونا آج برداشت نہیں کرسکتے تو کربلا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کی تکلیف کب برداشت کی ہوگی ۔ اور کیسے برداشت کی ہوگی ؟ یہی وجہ تھی کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا مولیٰ علی المرتضی بھی شہید ہوئے ۔ سب شہادتیں اکبر و اعظم ہیں مگر کسی کی شہادت کے دن اس کے مشہد پر خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نہیں تشریف لے گئے ۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ میری شہادت سے ایک رات قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عثمان آج روزہ رکھ لینا اور افطار میرے پاس آ کر کرلینا جو شہید ہوا وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں خود پہنچا اور دوسری طرف یہ عالم کہ کربلا کا دن ہے۔ ادھر شہادتیں ہورہی ہیں اور ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بنفس نفیس صبح سے آخری شہادت تک میدان کربلا میں خود موجود ہیں ۔ مشہدِ حسین رضی اللہ عنہ اور میدانِ کربلا میں خود موجود رہنا یہ شرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کسی اور کو نہیں دیا ۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ۔ ام المومنین حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کو مٹی دی اور فرمایا کہ جب یہ سرخ ہوجائے تو سمجھ لینا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں حتی کہ میدان کربلا اور سن شہادت کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ، کتب حدیث میں کثرت سے اس پر احادیث موجود ہیں ۔ صحیح بخاری کتاب العلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دو طرح کی خبریں اور علم سیکھے ۔ ایک قسم اس علم کی ہے جو میں مجمع عام میں ہرکس و ناکس کے سامنے بیان کرتا رہتا ہوں۔ وہ علم احکام شریعت اور احکام طریقت کا ہے ۔ دوسرا علم ایسے حقائق و واقعات اور خبریں ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے بیان کردوں تو میری گردن حلق سے کاٹ دی جائے ۔ صحیح بخاری کی یہ حدیث کتاب العلم میں ہے اس پر امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ وہ علم جو سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیکھا اور جسے عوام الناس کے سامنے بیان کرتے کتراتے اور خواص کے سامنے بیان کرتے تھے اس علم میں سے یہ بھی تھا کہ جب دس ہجری کا سن قریب آگیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھا لینا ۔
امام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں : یزید کے حکومت پر بیٹھنے سے ایک سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول کی اور انہیں اپنے پاس بلالیا ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اس علم میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں مروان بن حکم سے خطاب فرمایا : اے مروان! میں نے صادق المصدوق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان ، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی ۔ گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پوری امت کی ہلاکت قرار دیا ہے ۔ اس وقت تو مروان نے یہ سن کر کہا کہ ان لونڈوں پر خدا کی لعنت ہو لیکن اسے خبر نہ تھی کہ اس کے ہی خاندان کے لونڈوں کی بات ہورہی ہے ۔ امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قریش کے وہ بیوقوف لونڈے جنہوں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دین کو تباہ کیا تھا ان میں سے پہلا لونڈا یزید تھا ۔ صحیح ترمذی میں سیدنا امام حسین رضی
❤1
اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خواب دیکھا کہ بنو امیہ کے لوگ میری قبر پر کھیل رہے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قلب اطہر مغموم ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم لیٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکوثر اور سورۃ القدر نازل کی اور فرمایا کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینے سے افضل ہے ۔ یعنی میدان کربلا میں جو اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم نے ایک رات گزاری وہ مثل لیلۃ القدر تھی ۔
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا عبرتناک انجام
بد بخت قاتلانِ حسین کے حالات ان لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہوں گے جنہوں نے کتبِ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے قتل حسین میں شریک تھا یا اس پر راضی اور خوش تھا ۔عذاب اخروی جس کا وہ مستحق ٹھہرا،سے قطعِ نظر اس دنیائے ناپائیدار میں بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا ۔
ہر وہ شخص جو معرکۂ کربلا میں حضرت سید الشہداء کے مقابلہ کی غرض سے آیا تھا اس دنیا سے عذاب دیکھے بغیر اور اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہیں گیا۔بعض قتل کر دیے گئے۔کچھ نابینا ہو گئے ، بعض کا چہرہ سیاہ ہو گیا ،کچھ شدت پیاس سے ہلاک ہوئے اوربعض کی دولت و حکومت قلیل مدت میں جاتی رہی۔بعض دیگر عقوبات میں مبتلا ہوئے ۔
حضرت علامہ ابن جوزی نے سدّی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی دعوت کی مجلس میں یہ ذکر چلاکہ حضرت حسینؓ کے قتل میں جوبھی شریک ہوااس کو دنیا ہی میں جلد سزا مل گئی اس شخص نے کہاکہ بالکل غلط ہے میں خود ان کے قتل میں شریک تھا میرا کچھ بھی نہیں ہوا،اتنا کہہ کریہ شخص مجلس سے اٹھ کر گھرگیا جاتے ہی چراغ کی بتی درست کرنے لگا اتنے میں اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اوروہیں جل بھن کررہ گیا ۔ سدّی کہتے ہیں کہ میں نے خود اس کو صبح دیکھا تو کوئلہ ہو چکا تھا ۔ (اسوۂ حسینی صفحہ ۱۰۱ ، ۱۰۲،چشتی)
قہرِ الہٰی کی بھڑکائی ہوئی آگ
روایت ہے کہ ایک جماعت آپس میں گفتگو کر رہی تھی کہ دشمنانِ حسین میں سے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اس دنیا سے مصیبت و بلاء میں مبتلاء ہوئے بغیر چلا گیا ہو۔اس جماعت میں سے ایک بوڑھے نے کہا کہ میں بھی قتلِ حسین بن علی میں شریک تھا۔مجھ پر تو ابھی تک کوئی مصیبت نازل نہیں ہوئی۔ابھی یہ بات کر رہی رہا تھا کہ چراغ کے فتیلہ کو درست کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھا ۔اچانک شعلۂ چراغ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس بری طرح سے جلا کہ اچھلتا کودتا واپس آیا اور چلانے لگا:میں جل گیا ۔میں جل گیا۔یہاں تک کہ اس کی یہ سوزش اس درجہ بڑھی کہ اس نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔مگریہ آگ تو قہرِ الہٰی نے بھڑکائی تھی دریا اسے کیا ٹھنڈا کرتا؟وہ تو اس کے لیے تیل کا کام کر گیا اور وہ اس انداز سے جلا کہ اس کا وجود جہنم کا ایندھن بن گیا ۔ )تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
ایک پری چہرہ سیاہ رو ہو گیا
مزید روایت ہے کہ ابن زیاد کے لشکریوں میں سے ایک شخص جس نے امام عالی مقام کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا خوبصورتی کے اعتبار سے بہت زیادہ شہرت یافتہ تھا۔بعد میں جب اسے دیکھا گیا تو اس کا چہرہ سیاہ ہو چکاتھا۔اس سے پوچھا گیا :تو تو بڑا خوب رو اور صاحبِ حسن و جمال تھا۔ کیا وجہ ہے کہ تیرے چہرے پرسیاہی اور کالک نے ڈیرہ جما لیا ہے۔کہنے لگا: جس روز میں نے حسین کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا اسی دن سے روزانہ دو آدمی آتے ہیں مجھے دونوں بازؤں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے آگ کے پاس لے جاتے ہیں اور پھر مجھے اس آگ پر الٹا لٹکا دیتے ہیںبعد ازاں اتار لاتے ہیں۔اس دن سے میرا چہرہ سیاہ اور حال تباہ ہے۔یہ شخص اسی عذاب میں مبتلا رہایہاں تک کہ راہی جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی
واقدی سے منقول ہے:مقتلِ حسین کے حاضرین میں سے ایک بوڑھا آدمی نابینا ہو گیاتھا۔جب اس سے نابینا ہونے کا سبب پوچھا گیاتو کہنے لگا : میں نے خواب میں رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا : انہوں نے بازو تک آستین چڑھائی ہوئی تھی اور دستِ مبارک میں ننگی تلوار تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رو بروزمین پر فرش بچھایا گیا تھا یہ فرش دس قاتلانِ حسین کو ذبح کر کے ان کے سروں پر بچھایا گیا تھا۔جوں ہی آں جناب کی نظرمجھ پر پڑی ۔آپ نے مجھے نفرین کی اور میری آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی جس کے سببمیں اندھا ہوگیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
ڈاڑھی خنزیر کی دم بن گئی
کہتے ہیں شام میں ایک شخص تھا جو قتلِ حسین میں شریک تھا اس کی داڑھی خنزیر کی دم بن کر لوگوں کےلیے نشانِ عبرت بن گئی تھی ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
سینے میں آتش جہنم
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا عبرتناک انجام
بد بخت قاتلانِ حسین کے حالات ان لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہوں گے جنہوں نے کتبِ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے قتل حسین میں شریک تھا یا اس پر راضی اور خوش تھا ۔عذاب اخروی جس کا وہ مستحق ٹھہرا،سے قطعِ نظر اس دنیائے ناپائیدار میں بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا ۔
ہر وہ شخص جو معرکۂ کربلا میں حضرت سید الشہداء کے مقابلہ کی غرض سے آیا تھا اس دنیا سے عذاب دیکھے بغیر اور اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہیں گیا۔بعض قتل کر دیے گئے۔کچھ نابینا ہو گئے ، بعض کا چہرہ سیاہ ہو گیا ،کچھ شدت پیاس سے ہلاک ہوئے اوربعض کی دولت و حکومت قلیل مدت میں جاتی رہی۔بعض دیگر عقوبات میں مبتلا ہوئے ۔
حضرت علامہ ابن جوزی نے سدّی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی دعوت کی مجلس میں یہ ذکر چلاکہ حضرت حسینؓ کے قتل میں جوبھی شریک ہوااس کو دنیا ہی میں جلد سزا مل گئی اس شخص نے کہاکہ بالکل غلط ہے میں خود ان کے قتل میں شریک تھا میرا کچھ بھی نہیں ہوا،اتنا کہہ کریہ شخص مجلس سے اٹھ کر گھرگیا جاتے ہی چراغ کی بتی درست کرنے لگا اتنے میں اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اوروہیں جل بھن کررہ گیا ۔ سدّی کہتے ہیں کہ میں نے خود اس کو صبح دیکھا تو کوئلہ ہو چکا تھا ۔ (اسوۂ حسینی صفحہ ۱۰۱ ، ۱۰۲،چشتی)
قہرِ الہٰی کی بھڑکائی ہوئی آگ
روایت ہے کہ ایک جماعت آپس میں گفتگو کر رہی تھی کہ دشمنانِ حسین میں سے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اس دنیا سے مصیبت و بلاء میں مبتلاء ہوئے بغیر چلا گیا ہو۔اس جماعت میں سے ایک بوڑھے نے کہا کہ میں بھی قتلِ حسین بن علی میں شریک تھا۔مجھ پر تو ابھی تک کوئی مصیبت نازل نہیں ہوئی۔ابھی یہ بات کر رہی رہا تھا کہ چراغ کے فتیلہ کو درست کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھا ۔اچانک شعلۂ چراغ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس بری طرح سے جلا کہ اچھلتا کودتا واپس آیا اور چلانے لگا:میں جل گیا ۔میں جل گیا۔یہاں تک کہ اس کی یہ سوزش اس درجہ بڑھی کہ اس نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔مگریہ آگ تو قہرِ الہٰی نے بھڑکائی تھی دریا اسے کیا ٹھنڈا کرتا؟وہ تو اس کے لیے تیل کا کام کر گیا اور وہ اس انداز سے جلا کہ اس کا وجود جہنم کا ایندھن بن گیا ۔ )تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
ایک پری چہرہ سیاہ رو ہو گیا
مزید روایت ہے کہ ابن زیاد کے لشکریوں میں سے ایک شخص جس نے امام عالی مقام کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا خوبصورتی کے اعتبار سے بہت زیادہ شہرت یافتہ تھا۔بعد میں جب اسے دیکھا گیا تو اس کا چہرہ سیاہ ہو چکاتھا۔اس سے پوچھا گیا :تو تو بڑا خوب رو اور صاحبِ حسن و جمال تھا۔ کیا وجہ ہے کہ تیرے چہرے پرسیاہی اور کالک نے ڈیرہ جما لیا ہے۔کہنے لگا: جس روز میں نے حسین کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا اسی دن سے روزانہ دو آدمی آتے ہیں مجھے دونوں بازؤں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے آگ کے پاس لے جاتے ہیں اور پھر مجھے اس آگ پر الٹا لٹکا دیتے ہیںبعد ازاں اتار لاتے ہیں۔اس دن سے میرا چہرہ سیاہ اور حال تباہ ہے۔یہ شخص اسی عذاب میں مبتلا رہایہاں تک کہ راہی جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی
واقدی سے منقول ہے:مقتلِ حسین کے حاضرین میں سے ایک بوڑھا آدمی نابینا ہو گیاتھا۔جب اس سے نابینا ہونے کا سبب پوچھا گیاتو کہنے لگا : میں نے خواب میں رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا : انہوں نے بازو تک آستین چڑھائی ہوئی تھی اور دستِ مبارک میں ننگی تلوار تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رو بروزمین پر فرش بچھایا گیا تھا یہ فرش دس قاتلانِ حسین کو ذبح کر کے ان کے سروں پر بچھایا گیا تھا۔جوں ہی آں جناب کی نظرمجھ پر پڑی ۔آپ نے مجھے نفرین کی اور میری آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی جس کے سببمیں اندھا ہوگیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
ڈاڑھی خنزیر کی دم بن گئی
کہتے ہیں شام میں ایک شخص تھا جو قتلِ حسین میں شریک تھا اس کی داڑھی خنزیر کی دم بن کر لوگوں کےلیے نشانِ عبرت بن گئی تھی ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
سینے میں آتش جہنم
❤1👍1
روایت ہے کہ وہ شخص جس نے حضرت عبداللہ علی اصغرؑ کے تشنہ حلقوم پر تیر چلایا تھاایک ایسے مرض میں مبتلا ہوگیا جس سے اس کے سینہ میں حرارت اور گرمی جب کہ پشت میں ٹھنڈک پیدا ہو گئی۔ہر چند کہ اس کے سامنے پنکھا جھلتے تھے اور اس کی پشت کی جانب آگ روشن کرتے تھے وہ واویلا کرتا تھا۔نہ تو اس کی آتشِ سینہ سرد ہوتی اور نہ ہی پشت کی ٹھنڈک کو افاقہ ہوتا تھا۔پیاس کی شدت اس درجہ بڑھ گئی کہ مٹکوں کے مٹکے پانی پی لیتا تھا اور پھر بھی ۔ العطش ۔ العطش ۔ کی صدائیں بلند کرتا۔یہاں تک کہ اس کا پیٹ پانی پی پی کر پھول گیا اور بالآخر پھٹ گیا ۔ اسی عقوبت کی وجہ سے واصل جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
یہ تھی ان لوگوں کے حالات کی مختصر سی جھلک جو معرکۂ کربلا میں حاضر تھے۔اس کے بعدہم چند خواص جن میں ابن زیاد بد نہاد،ابن سعد ، شمرذی الجوشن وغیرہ شامل ہیں کا مختصراً ذکر کرتے ہیں ۔
ابن سعدکا انجام
جب مختار ثقفی (یہ وہی مختار ثقفی ہے جو بعد میں دعویٰ نبوت کر کےمرتد ہو گیا تھا ۔ تاریخ الخلفا) نے کوفہ پر اپنے تسلط کو مضبوط کر لیا تو اس نے فرمان جاری کیا کہ وہ تمام لوگ جو ابن سعد کے لشکر میں شامل تھے اور حسین رضی اللہ عنہ کے قتال میں شریک تھے ان کو ایک ایک کر کے میرے پاس لایا جائے چناں چہ چند سو لوگ لائے گئے جن تمام کی گردن مار کر انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا ۔
مختار ثقفی نے اپنے خاص غلام کو حکم دیا کہ وہ ابن سعد کو حاضر کرے ۔ حفص بن سعد حاضر ہوا ۔ مختار نے پوچھا تمہارا باپ کہاں ہے ۔ بولا گھر میں بیٹھا ہے ۔ مختار نے کہا : ’’اب وہ ’’رے‘‘ کی حکومت اور اس کے اختیارات سے دست بردار ہو کر کس طرح اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے ۔ اس نے قتلِ حسین کے دن خانہ نشینی کیوں اختیار نہ کی‘‘ یہ کہہ کر حکم دیا کہ ابن سعد کا سر کاٹ لیا جائے اور اس کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا جائے ۔
شمر ذی الجوشنکی گردن زدنی
پھر شمر کو طلب کیا اور اس کی گردن زدنی کا حکم جاری کیا ۔
اس کے بعد مختارثقفی نے ان ملعونوں کے سروں کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیا اور حکم دیا کہ معرکہ ٔکربلا میں ابن سعد کے ساتھ شریک ہونے والے باقی ماندہ لوگوں میں سے جس کو بھی پائیں قتل کر دیں۔جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ مختارثقفی امام عالی مقام کا قصاص لے رہا ہے تو انہوں نے بصرہ بھاگ جانے کا ارادہ کر لیا۔لیکن مختار ثقفی کے لشکریوں نے ان کا تعاقب کیا اور جو جو دستیاب ہوتے انہیں قتل کر کے لاشوں کو جلا دیا جاتا اور ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
خولی بن یزید کا انجام
جب خولی بن یزید کو اسیر کر کے مختار ثقفی کے سامنے لایا گیاتو اس نے حکم جاری کیا:پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور پھر اسے سولی پر چڑھا دیا جائے۔اس کے بعد اسے آگ میں جلادیا گیا۔اسی طرح دوسرے لشکریانِ ابن زیاد جو دستیاب ہوئے انہیں دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
قتل ابن زیادبدنہاد کی مزید تفصیلات
مختصر یہ کہ جب مختار ثقفی ابن سعد، شمراور خولی بن یزید علیہم اللعنۃ کے قتل سے فارغ ہو کر مطمئن ہوا تو ابن زیاد کے قتل کے درپے ہوا۔چناں چہ ابراہیم بن مالک اشتر کو سپاہیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ابن زیاد کے مقابلہ کے لیے بھیجا ۔ جوں ہی ابراہیم موصل کی سرحد پر پہنچے ابن زیاد موصل سے پانچ فرسنگ کے فاصلے پر واقع ایک دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کے لیے تیار ہوگیا۔صبح کے وقت طرفین میں مقابلہ کا آغاز ہوا۔شام کے قریب ابراہیم بن مالک اشتر نے ابن زیاد کے لشکر کو شکست دی ۔ابن زیاد کی شکست خوردہ فوج نے راہِ فرار اختیار کی ۔ابراہیم اپنی فوج کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور حکم جاری کیا کہ مخالف فوج میں سے کسی کو بھی پائیں تو زندہ نہ چھوڑیں۔چناں چہ ابن زیاد کے بہت سے ہم راہی جان سے گئے اور ابن زیاد بھی قتل کر دیا گیا۔اس کا سر کاٹ کر ابراہیم بن مالک اشتر کے سامنے پیش کیا گیا اور ابراہیم نے اسے مختار ثقفی کے پاس کوفہ بھیج دیا۔ ابن زیاد کا سرجب کوفہ پہنچا تو اسی وقت مختار ثقفی نے دارالامارۃ میں اہلیانِ کوفہ کو جمع کر کے ایک بزم آراستہ کی اور حکم جاری کیا کہ ابن زیاد کا سر پیش کیا جائے۔جب ابن زیاد کا سر پیش کیا گیا تو مختار ثقفی نے کہا : یہ ابن زیاد کا سر ہے۔اے کوفہ کے لوگو! دیکھ لو کہ خونِ حسین کے قصاص نے ابن زیاد کو زندہ نہ چھوڑا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
مختار ثقفی نے قصاص میں ستر ہزار افراد کو قتل کیا
مفتاح النجاء میں منقول ہے کہ مختار ثقفی کے واقعہ میں اہل شام کے ستر ہزار افراد قتل کیے گئے اور یہ واقعہ دس محرم ۶۷ ہجری (واقعۂ کربلا کے ۶ سال بعد) رونما ہوا ۔
ابن زیاد کے نتھنوں میں تین بار سانپ کا گھسنا
یہ تھی ان لوگوں کے حالات کی مختصر سی جھلک جو معرکۂ کربلا میں حاضر تھے۔اس کے بعدہم چند خواص جن میں ابن زیاد بد نہاد،ابن سعد ، شمرذی الجوشن وغیرہ شامل ہیں کا مختصراً ذکر کرتے ہیں ۔
ابن سعدکا انجام
جب مختار ثقفی (یہ وہی مختار ثقفی ہے جو بعد میں دعویٰ نبوت کر کےمرتد ہو گیا تھا ۔ تاریخ الخلفا) نے کوفہ پر اپنے تسلط کو مضبوط کر لیا تو اس نے فرمان جاری کیا کہ وہ تمام لوگ جو ابن سعد کے لشکر میں شامل تھے اور حسین رضی اللہ عنہ کے قتال میں شریک تھے ان کو ایک ایک کر کے میرے پاس لایا جائے چناں چہ چند سو لوگ لائے گئے جن تمام کی گردن مار کر انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا ۔
مختار ثقفی نے اپنے خاص غلام کو حکم دیا کہ وہ ابن سعد کو حاضر کرے ۔ حفص بن سعد حاضر ہوا ۔ مختار نے پوچھا تمہارا باپ کہاں ہے ۔ بولا گھر میں بیٹھا ہے ۔ مختار نے کہا : ’’اب وہ ’’رے‘‘ کی حکومت اور اس کے اختیارات سے دست بردار ہو کر کس طرح اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے ۔ اس نے قتلِ حسین کے دن خانہ نشینی کیوں اختیار نہ کی‘‘ یہ کہہ کر حکم دیا کہ ابن سعد کا سر کاٹ لیا جائے اور اس کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا جائے ۔
شمر ذی الجوشنکی گردن زدنی
پھر شمر کو طلب کیا اور اس کی گردن زدنی کا حکم جاری کیا ۔
اس کے بعد مختارثقفی نے ان ملعونوں کے سروں کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیا اور حکم دیا کہ معرکہ ٔکربلا میں ابن سعد کے ساتھ شریک ہونے والے باقی ماندہ لوگوں میں سے جس کو بھی پائیں قتل کر دیں۔جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ مختارثقفی امام عالی مقام کا قصاص لے رہا ہے تو انہوں نے بصرہ بھاگ جانے کا ارادہ کر لیا۔لیکن مختار ثقفی کے لشکریوں نے ان کا تعاقب کیا اور جو جو دستیاب ہوتے انہیں قتل کر کے لاشوں کو جلا دیا جاتا اور ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
خولی بن یزید کا انجام
جب خولی بن یزید کو اسیر کر کے مختار ثقفی کے سامنے لایا گیاتو اس نے حکم جاری کیا:پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور پھر اسے سولی پر چڑھا دیا جائے۔اس کے بعد اسے آگ میں جلادیا گیا۔اسی طرح دوسرے لشکریانِ ابن زیاد جو دستیاب ہوئے انہیں دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
قتل ابن زیادبدنہاد کی مزید تفصیلات
مختصر یہ کہ جب مختار ثقفی ابن سعد، شمراور خولی بن یزید علیہم اللعنۃ کے قتل سے فارغ ہو کر مطمئن ہوا تو ابن زیاد کے قتل کے درپے ہوا۔چناں چہ ابراہیم بن مالک اشتر کو سپاہیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ابن زیاد کے مقابلہ کے لیے بھیجا ۔ جوں ہی ابراہیم موصل کی سرحد پر پہنچے ابن زیاد موصل سے پانچ فرسنگ کے فاصلے پر واقع ایک دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کے لیے تیار ہوگیا۔صبح کے وقت طرفین میں مقابلہ کا آغاز ہوا۔شام کے قریب ابراہیم بن مالک اشتر نے ابن زیاد کے لشکر کو شکست دی ۔ابن زیاد کی شکست خوردہ فوج نے راہِ فرار اختیار کی ۔ابراہیم اپنی فوج کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور حکم جاری کیا کہ مخالف فوج میں سے کسی کو بھی پائیں تو زندہ نہ چھوڑیں۔چناں چہ ابن زیاد کے بہت سے ہم راہی جان سے گئے اور ابن زیاد بھی قتل کر دیا گیا۔اس کا سر کاٹ کر ابراہیم بن مالک اشتر کے سامنے پیش کیا گیا اور ابراہیم نے اسے مختار ثقفی کے پاس کوفہ بھیج دیا۔ ابن زیاد کا سرجب کوفہ پہنچا تو اسی وقت مختار ثقفی نے دارالامارۃ میں اہلیانِ کوفہ کو جمع کر کے ایک بزم آراستہ کی اور حکم جاری کیا کہ ابن زیاد کا سر پیش کیا جائے۔جب ابن زیاد کا سر پیش کیا گیا تو مختار ثقفی نے کہا : یہ ابن زیاد کا سر ہے۔اے کوفہ کے لوگو! دیکھ لو کہ خونِ حسین کے قصاص نے ابن زیاد کو زندہ نہ چھوڑا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
مختار ثقفی نے قصاص میں ستر ہزار افراد کو قتل کیا
مفتاح النجاء میں منقول ہے کہ مختار ثقفی کے واقعہ میں اہل شام کے ستر ہزار افراد قتل کیے گئے اور یہ واقعہ دس محرم ۶۷ ہجری (واقعۂ کربلا کے ۶ سال بعد) رونما ہوا ۔
ابن زیاد کے نتھنوں میں تین بار سانپ کا گھسنا
❤1
روایاتِ صحیحہ میں مروی ہے کہ جب ابن زیاد اور اس کے دوسرے سرداروں کے سر مختار ثقفی کے سامنے لائے گئے تو اچانک ایک سانپ ظاہر ہوا اور سروں کے درمیان سے گزرتا ہواابن زیاد کے سر کے قریب آیا اور اس کے ناک کے سوراخ میں داخل ہو گیا۔کچھ دیر سر کے اندر رہا اور پھر منہ کے راستے باہر نکل آیااور غائب ہوگیا۔کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ سانپ تین مرتبہ ظاہر ہوا اور ناک کے سوراخ سے داخل ہو کر منہ کے راستے باہر نکلا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
دیگر اعیانِ یزیدپلید کا عبرتناک انجام
بالجملہ ابن زیاد، ابن سعد، شمر ذی الجوشن، عمر بن الحجاج،قیس بن اشعث کندی، خولی بن یزید، سنان بن انس نخعی، عبداللہ بن قیس، حکم بن طفیل اور یزید بن مالک کے علاوہ دیگر اعیان یزیدکو طرح طرح کے عذاب دے کر ہلاک کیا گیااور ان کے لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے۔یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں چور چور ہو گئیں ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
قاتلان حسین مختار ثقفی کے ہاتھوں انجام کو پہنچے
مخفی نہ رہے کہ کتب تاریخ میں اختلاف ہے ۔بعض کتب میں ابن سعد اور شمر کا قتل ابن زیاد کی ہلاکت سے پہلے مذکور ہے اور بعض کتب میں ابن زیاد کے بعدذکر کیا گیا ہے۔اور جیسا کہ منتقم حقیقی کا وعدہ تھا جس کاذکر واقعہ کربلا سے متعلق روایات کے ضمن میں بہ روایت حاکم مذکور ہو چکا ہے پورا ہوا اور قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ مختار ثقفی کے ہاتھوں اپنے انجام کوپہنچے ۔ گو کہ آخر کار مختار ثقفی کے اعتقادات میں بھی شقاوتِ ازلی کا ظہور ہوا یعنی اس نے ساتھ ساتھ دعویٰ نبوت بھی کر لیا ۔ جس کی تفصیل کتبِ تاریخ میں مسطور ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305616648341048/
دیگر اعیانِ یزیدپلید کا عبرتناک انجام
بالجملہ ابن زیاد، ابن سعد، شمر ذی الجوشن، عمر بن الحجاج،قیس بن اشعث کندی، خولی بن یزید، سنان بن انس نخعی، عبداللہ بن قیس، حکم بن طفیل اور یزید بن مالک کے علاوہ دیگر اعیان یزیدکو طرح طرح کے عذاب دے کر ہلاک کیا گیااور ان کے لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے۔یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں چور چور ہو گئیں ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)
قاتلان حسین مختار ثقفی کے ہاتھوں انجام کو پہنچے
مخفی نہ رہے کہ کتب تاریخ میں اختلاف ہے ۔بعض کتب میں ابن سعد اور شمر کا قتل ابن زیاد کی ہلاکت سے پہلے مذکور ہے اور بعض کتب میں ابن زیاد کے بعدذکر کیا گیا ہے۔اور جیسا کہ منتقم حقیقی کا وعدہ تھا جس کاذکر واقعہ کربلا سے متعلق روایات کے ضمن میں بہ روایت حاکم مذکور ہو چکا ہے پورا ہوا اور قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ مختار ثقفی کے ہاتھوں اپنے انجام کوپہنچے ۔ گو کہ آخر کار مختار ثقفی کے اعتقادات میں بھی شقاوتِ ازلی کا ظہور ہوا یعنی اس نے ساتھ ساتھ دعویٰ نبوت بھی کر لیا ۔ جس کی تفصیل کتبِ تاریخ میں مسطور ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305616648341048/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
سید الاتقیاء حضرت علامہ مولانا تحسین رضا قادری 🌹 یوم پیدائش 4 شعبان المعظم 1349ھ 💐 یوم وصال 18 رجب المرجب 1428ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-tehseen-raza-khan
سید الاتقیاء حضرت علامہ مولانا تحسین رضا قادری ولادت ماہر علوم عقلیہ نقلیہ حضرت مولانا تحسین رضا خاں قادری رضوی بن حضرت مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بن مولانا مفتی نقی علی خاں (والد ماجد امام احمد رضا بریلوی) کی ولادت ۴؍شعبان المعظم ۱۹۳۰ء کو محلہ سوداگران رضا نگر بریلی شریف میں ہوئی۔ خاندانی حالات حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی کے ج امجد مولانا حسن رضا بریلوی ۱۳۷۶ھ میں پیدا ہوئے فضل وکمال اور فقر و تصوف کو آپ کے خاندانی خصوصیات میں سمجھنا چاہیے۔ مولانا حسن رضا بریلوی نے اپنے برادر اکبر امام احمد رضا فاضل بریلوی اور پدر بزرگوار مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے خزائن علم و عقل سے مستفیض تھے۔ اور جواہر معافی وفضل سے بہرہ ور تھے۔ علاوہ ازیں بریلی میں اپنے اخی معظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض معنوی حاصل کیا۔ استاد زمن مولانا حسن رضا کو شعر و شاعری کا شوق ابتداء ہی سے تھا۔ کچھ روز بطور خود مشق کرتے رہے، اس کے بعد مرز داغ دہلوی کو اپنا کلام سُنانا شروع کردیا اور ایک مدت تک رامپور میں رہ کر اُستاد کے گلشن سخن سے گلچیں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ بجائے خود اُستاد مستند قرار پائے۔ ۱۳۲۶ھ میں انتقال ہوا [1] ۔
علامہ تحسین رضا کے والد مولانا حسین رضا علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم سے صرف چھ ماہ بڑےتھے۔ تقریباً اکیانوے برس کی عمر پائی۔ تعلیم اسلام بریلی میں حاصل کی۔ اور امام احمد رضا قادری بریلوی سے شرف تلمذ واجازت وخلافت حاصل تھی۔ نیز معقولات کی کچھ کتابیں رامپور جاکر وہاں کے مشہور عالم مولانا ابو الوقت محمد ہدایت رسول نوری رضوی رام پوری سے پڑھیں، مولانا مفتی ارشاد حسین مجددی رامپوری کے حلقۂ درس میں بھی شامل ہوئے۔ فراغت کے بعد کچھ عرصہ تک دارالعلوم منظر اسلام میں درس بھی دیا۔ آپ سے اکتساب فیض کرنے والوں میں مشاہیر علما اور فضلاءہیں [2] ۔
جماعت رجائے مصطفیٰ کی شاندار خدمات میںمولانا حسنین رضا کا نما یاں حصہ ہے آپ نے جماعت انصار الاسلام بھی قائم کی۔ حضور مفتی اعظم کے دوش بدوش رہ کر شدھی تحریک کا سد باب کیا اور سردھڑ کی بازی لگادی۔ تعلیم وتربیت حضرت علامہ تحسین رضا خاں کےوالدماجدنے اپنی خسرال محلہ کا نکرٹولہ پرانا شہر بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ آپ نے اپنی ننہال ہی میں بچپن اور جوانی کا زمانہ گزارا اور اب بھی وہیں قیام پذیر ہیں۔ علامہ تحسین رضا نے ابتداً سید شبیر علی بریلوی مرحوم سے قاعدہ بغدادی پڑھا پھر ایک مکتب میں قرآن کریم اور اردو حساب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ فارسی کی ابتدائی کتابیں پرانے شہر کےایک مدرسہ میں پڑھیں جو اکبری مسجد واقع محلہ گھیر جعفر خاں میں قائم تھا۔ عربی کی تعلیم کےلیے والد بزگوار نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی اور بعد منظر اسلام میں داخہ کرادیا، دورۂ حدیث شریف کے لیے والد ماجد کی خواہش کےمطابق علامہ تحسین رضا جامعہ رضویہ مظہریہ اسلام فیصل آباد (پاکستان) تشریف لے گئے۔ اور وہاں دورۂ حدیث کی کتابیں مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔
فراغت:
حضرت مولانا تحسین رضا خاں شعبان المعظم ۱۳۷۵ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس ہوئے۔ ۱۹۴۹ء میں مولوی، ۱۹۵۰ء میں عالم، ۱۹۵۱ء میں منشی، ۱۹۵۲ء میں فاضل ادب، ۱۹۵۴ء میں کامل کے امتحانات دیئے۔
اساتذہ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ مولانا امجدعلی رضوی اعظمی [3] ۲۔ حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضانوری بریلوی ۳۔ محدث اعظم پاکستا مولانامحمد سردار احمد رضوی فیصل آباد ۴۔ شمس العلماء مفتی قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری ۵۔ شیخ المعقولات مولانا سردار علی خاں رضوی بریلوی ۶۔ حضرت مولانا غلام یٰسین رضوی بریلوی ۷۔ حضرت مولانا مفتی وقار الدین رضوی، دارالعلوم امجدیہ کراچی ۸۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی
تدریسی زندگی کا آغاز:
حضرت علامہ تحسین رضا نے حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے حکم پر فراغت سے قبل ۱۹۵۲ء میں دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں تدریسی سلسلہ کا آغاز کردیا۔ پھر اگست ۱۹۵۶ء مین فیصل آبا (پاکستان) چلےگئے اور تقریباً آٹھ ماہ رہکر دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ فیصل آباد سےآنے کے بعد دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں درس دینا شروع کیا۔ علامہ تحسین رضا نے مظہر اسلام میں ۱۹۷۲ء تک درس نظامیہ کی تعلیم دی۔ پھر و سال اسی مظہر اسلام بریلی میں صدر المدرسین کے فرائض انجام دیئے۔ علامہ تحسین رضا بعض حالات کی بناء پر ۱۹۷۵ء میں مظہر اسلام سے ملازمت ترک کرکے دارالعلوم منظر اسلام میں بحیثیت صدر مدرس مقرر ہوئے۔ منظر اسلام میں سات سال تدریسی فرائض انجام دیئے۔ ہزاروں طلبہ نے علمی استفادہ کیا۔ بعض ان میں لائق وفائق عالم وفاضل، محدث وفقیہہ اور مفتی ہوئے جن سے ملک و
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-tehseen-raza-khan
سید الاتقیاء حضرت علامہ مولانا تحسین رضا قادری ولادت ماہر علوم عقلیہ نقلیہ حضرت مولانا تحسین رضا خاں قادری رضوی بن حضرت مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بن مولانا مفتی نقی علی خاں (والد ماجد امام احمد رضا بریلوی) کی ولادت ۴؍شعبان المعظم ۱۹۳۰ء کو محلہ سوداگران رضا نگر بریلی شریف میں ہوئی۔ خاندانی حالات حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی کے ج امجد مولانا حسن رضا بریلوی ۱۳۷۶ھ میں پیدا ہوئے فضل وکمال اور فقر و تصوف کو آپ کے خاندانی خصوصیات میں سمجھنا چاہیے۔ مولانا حسن رضا بریلوی نے اپنے برادر اکبر امام احمد رضا فاضل بریلوی اور پدر بزرگوار مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے خزائن علم و عقل سے مستفیض تھے۔ اور جواہر معافی وفضل سے بہرہ ور تھے۔ علاوہ ازیں بریلی میں اپنے اخی معظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض معنوی حاصل کیا۔ استاد زمن مولانا حسن رضا کو شعر و شاعری کا شوق ابتداء ہی سے تھا۔ کچھ روز بطور خود مشق کرتے رہے، اس کے بعد مرز داغ دہلوی کو اپنا کلام سُنانا شروع کردیا اور ایک مدت تک رامپور میں رہ کر اُستاد کے گلشن سخن سے گلچیں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ بجائے خود اُستاد مستند قرار پائے۔ ۱۳۲۶ھ میں انتقال ہوا [1] ۔
علامہ تحسین رضا کے والد مولانا حسین رضا علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم سے صرف چھ ماہ بڑےتھے۔ تقریباً اکیانوے برس کی عمر پائی۔ تعلیم اسلام بریلی میں حاصل کی۔ اور امام احمد رضا قادری بریلوی سے شرف تلمذ واجازت وخلافت حاصل تھی۔ نیز معقولات کی کچھ کتابیں رامپور جاکر وہاں کے مشہور عالم مولانا ابو الوقت محمد ہدایت رسول نوری رضوی رام پوری سے پڑھیں، مولانا مفتی ارشاد حسین مجددی رامپوری کے حلقۂ درس میں بھی شامل ہوئے۔ فراغت کے بعد کچھ عرصہ تک دارالعلوم منظر اسلام میں درس بھی دیا۔ آپ سے اکتساب فیض کرنے والوں میں مشاہیر علما اور فضلاءہیں [2] ۔
جماعت رجائے مصطفیٰ کی شاندار خدمات میںمولانا حسنین رضا کا نما یاں حصہ ہے آپ نے جماعت انصار الاسلام بھی قائم کی۔ حضور مفتی اعظم کے دوش بدوش رہ کر شدھی تحریک کا سد باب کیا اور سردھڑ کی بازی لگادی۔ تعلیم وتربیت حضرت علامہ تحسین رضا خاں کےوالدماجدنے اپنی خسرال محلہ کا نکرٹولہ پرانا شہر بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ آپ نے اپنی ننہال ہی میں بچپن اور جوانی کا زمانہ گزارا اور اب بھی وہیں قیام پذیر ہیں۔ علامہ تحسین رضا نے ابتداً سید شبیر علی بریلوی مرحوم سے قاعدہ بغدادی پڑھا پھر ایک مکتب میں قرآن کریم اور اردو حساب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ فارسی کی ابتدائی کتابیں پرانے شہر کےایک مدرسہ میں پڑھیں جو اکبری مسجد واقع محلہ گھیر جعفر خاں میں قائم تھا۔ عربی کی تعلیم کےلیے والد بزگوار نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی اور بعد منظر اسلام میں داخہ کرادیا، دورۂ حدیث شریف کے لیے والد ماجد کی خواہش کےمطابق علامہ تحسین رضا جامعہ رضویہ مظہریہ اسلام فیصل آباد (پاکستان) تشریف لے گئے۔ اور وہاں دورۂ حدیث کی کتابیں مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔
فراغت:
حضرت مولانا تحسین رضا خاں شعبان المعظم ۱۳۷۵ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس ہوئے۔ ۱۹۴۹ء میں مولوی، ۱۹۵۰ء میں عالم، ۱۹۵۱ء میں منشی، ۱۹۵۲ء میں فاضل ادب، ۱۹۵۴ء میں کامل کے امتحانات دیئے۔
اساتذہ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ مولانا امجدعلی رضوی اعظمی [3] ۲۔ حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضانوری بریلوی ۳۔ محدث اعظم پاکستا مولانامحمد سردار احمد رضوی فیصل آباد ۴۔ شمس العلماء مفتی قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری ۵۔ شیخ المعقولات مولانا سردار علی خاں رضوی بریلوی ۶۔ حضرت مولانا غلام یٰسین رضوی بریلوی ۷۔ حضرت مولانا مفتی وقار الدین رضوی، دارالعلوم امجدیہ کراچی ۸۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی
تدریسی زندگی کا آغاز:
حضرت علامہ تحسین رضا نے حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے حکم پر فراغت سے قبل ۱۹۵۲ء میں دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں تدریسی سلسلہ کا آغاز کردیا۔ پھر اگست ۱۹۵۶ء مین فیصل آبا (پاکستان) چلےگئے اور تقریباً آٹھ ماہ رہکر دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ فیصل آباد سےآنے کے بعد دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں درس دینا شروع کیا۔ علامہ تحسین رضا نے مظہر اسلام میں ۱۹۷۲ء تک درس نظامیہ کی تعلیم دی۔ پھر و سال اسی مظہر اسلام بریلی میں صدر المدرسین کے فرائض انجام دیئے۔ علامہ تحسین رضا بعض حالات کی بناء پر ۱۹۷۵ء میں مظہر اسلام سے ملازمت ترک کرکے دارالعلوم منظر اسلام میں بحیثیت صدر مدرس مقرر ہوئے۔ منظر اسلام میں سات سال تدریسی فرائض انجام دیئے۔ ہزاروں طلبہ نے علمی استفادہ کیا۔ بعض ان میں لائق وفائق عالم وفاضل، محدث وفقیہہ اور مفتی ہوئے جن سے ملک و
❤1
بیرون ملک کی علمی دانش گاہیں اور درس گاہیں آج بھی آباد اور فیض بار ہیں۔ ۱۹۸۲ء میں جامعہ نوریہ رضویہ بریلی کا قیام عمل میں آیا تو اس کے چلانے کی ساری ذمہ داری علامہ تحسین رضا کے سپد کردی گئی۔ تادم تحریر جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف میں شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز ہیں۔
حج وزیارت:
حضرت علامہ تحسین رضا رضوی نوری بریلوی ۱۹۸۶ء میں زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔
عقد مسنون:
علامہ تحسین رضا کا عقد مسنون جناب سعید اللہ خاں بریلوی کی صاحبزادی سے ۱۵؍ذی قعدہ ۱۳۸۶ھ؍ ۲۶؍فروری ۱۹۶۷ء بروز اتوار ہوا۔
اولاد امجاد کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ مولانا حسان رضا خاں رضوی ۲۔ رضوان رضا خاں رضوی ۳۔ حبیب رضا خاں رضوی ۴۔ عارفہ بیگم رضویہ
بیعت وخلافت:
مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو ۱۹۴۳ء میں عرس رضوی کے موقع پر حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیوت کرادیا تھا۔ ۲۵؍صفر المظفر ۱۳۸۰ھ کو جلسہ عام میں مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفی رضا نوری بریلوی نے اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ اسٹیچ پر سید العلماء سید آل مصطفیٰ برکاتی مارہروی، برہان الملت مفتی برہان الحق رضوی جبل پوری اورمجاہد ملت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی اڑیسوی وغیرہ اکابر علماء ومشائخ نے خرقہ پوشی کرائی۔ اور حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے عمامہ باندھا۔
مفتی اعظم کے متعلق حضرت مولانا تحسین رضا راقم کے نام ایک مکتوب میں مفتی اعطم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ‘‘حضور مفتی اعظم کا زہد وتقویٰ، بزرگانہ شفقت میرے لیے سب سے زیادہ باعث کشش ہوئی۔’’ مفتی اعظم کی بزرگانہ علامہ تحسین رضا کے والد ماجد کو خاندان رضا کے افراد ‘‘صاحب’’ کہتے، اسی وجہ سے کبھی کبھی صاحبزادگان بھی صاحب کہتے۔ نیز حضور مفتی اعظم کو بھی صاحب کہتے، آپ تین بھائی ہیں اور سبھی بحمد تعالیٰ اپنے اپنے مقام پر مایۂ ناز افتخار علماء میں سے ہیں۔ مفتی اعظم قدس سرہے فرماتے تھے کہ: ‘‘صاحب کےجتنے لڑکے ہیں سب ہی خوب ہیں۔ باصلاحیات وبالیاقت ہیں۔ مگر ان میں تحسین رضا کا جواب نہیں [4] ۔’’
حضرت مولانا حسنین رجا علیہ الرحمہ مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری کا بہت ادب کرتے تھے۔
نمونۂ کلام:
علامہ تحسین رضا ایک باکمال مفسر، محدث اور کہنہ مشق اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ کہنہ مشق شاعر بھی ہیں۔ آپ تحسین تخلص فرماتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے دیوانوں کا جشن عام ہے
عظمت فرق شہہ کونین کیا جانے کوئی
جس نے چومے پائے اقدس عرش اُس کا نام ہے
آرہے ہیں وہ سر محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ مرا انجام ہے
روئے انور کا تصوف زلفیں مشکیں کا خیال
کیسی پاکیزہ سحر ہے کیا مبارک شام ہے
تو اگر چاہے تو بھر جائیں سیہ کاروں کے دل
ہاتھ میں تیرے عنانِ گردش، ایام ہے
ساقئ کوثر کا نام پاک ہے ورد زباں
کون کہتا ہےکہ تحسینؔ آج تشنہ کام ہے
قطعہ:
علم غیب رسول کے منکر
ایک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانان کہ راز ہے لیکن
راز اپنے سب کب چھپاتے ہیں
چند تلامذہ:
حضرت مولانا تحسین رضا سے اکتساب فیض کرنے والوں کے چند اسماء مندرجہ ذیل ہیں [5] ۔
۱۔ ملک اللہ ریس مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی شیخ الادب دارالعلوم منظر اسلام بریلی ۲۔ مولانا مفتی محمد مطیع الرحمٰن رضوی مدیر عام الادارۃ الحنفیہ کشن گنج بہار ۳۔ مولانا صغیر احمد رضوی جوکھن پوری ناظم اعلیٰ الجامعۃ القادریہ رچھابہیڑی ۴۔ مولانا محمد حنیف خاں رضوی مدیر ماہنامہ رضائےمصطفیٰ بہڑی ۵۔ مولانا تطہیر احمد رضوی مدرس الجامعۃ القادریہ بہیڑی ۶۔ مولانا محمد ہاشم نعیمی مدرس جامعہ نعیمیہ ۷۔ مولانا محمد حسین رضوی ابو الحقانی بہاری ۸۔ مولانا عبدالرشید رضوی ابو الحقانی بہاری ۹۔ مولانا جید القادری مظفر پوری ۱۰۔ مولانا سعید اختر نعیمی بھوجپور مراد آباد ۱۱۔ مولانا ایوب عالم مظہری پور نوی ۱۲۔ مولانا امام الدین دیوریاوی ۱۳۔ مولانا امام الدین دیوریاوی ۱۴۔ مولانا ایوب عالم رضوی پور نوی مدرس منظر اسلام ۱۵۔ مولانا شرف عالم رضوی سیتا مڑھی۔۔۔ بہار ۱۶۔ مولانامحمد یامین مراد آبادی مدرس جامعہ حمیدیہ بنارس
[1] ۔ اردوئے معلی علی گڑھ، بابت جون ۱۹۱۴ء، مضمون مولانا حسرت موہانی
[2] ۔ حسین رضا بریلوی، مولانا: سیر اعلیٰ حضرت ص ۱۹، ۲۰، بحوالہ ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور ص ۴۰تا ۴۲ ملخصاً بابت اپریل ۱۹۸۱ء ، مضمون از مولانا سبطین رضا خاں قادری بریلوی مدظلہٗ
[3] ۔ حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی نے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تفسیر جلالین پڑھی، ۱۲رضوی غفرلہٗ
[4] ۔ حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی سے راقم کی گفتگو ۱۲رضوی غفرلہٗ
[5] ۔ مکتوب حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی بنام راقم ۱۲غفرلہٗ کم کریں منظومات مزيد مناقب مضامین
حج وزیارت:
حضرت علامہ تحسین رضا رضوی نوری بریلوی ۱۹۸۶ء میں زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔
عقد مسنون:
علامہ تحسین رضا کا عقد مسنون جناب سعید اللہ خاں بریلوی کی صاحبزادی سے ۱۵؍ذی قعدہ ۱۳۸۶ھ؍ ۲۶؍فروری ۱۹۶۷ء بروز اتوار ہوا۔
اولاد امجاد کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ مولانا حسان رضا خاں رضوی ۲۔ رضوان رضا خاں رضوی ۳۔ حبیب رضا خاں رضوی ۴۔ عارفہ بیگم رضویہ
بیعت وخلافت:
مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو ۱۹۴۳ء میں عرس رضوی کے موقع پر حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیوت کرادیا تھا۔ ۲۵؍صفر المظفر ۱۳۸۰ھ کو جلسہ عام میں مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفی رضا نوری بریلوی نے اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ اسٹیچ پر سید العلماء سید آل مصطفیٰ برکاتی مارہروی، برہان الملت مفتی برہان الحق رضوی جبل پوری اورمجاہد ملت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی اڑیسوی وغیرہ اکابر علماء ومشائخ نے خرقہ پوشی کرائی۔ اور حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے عمامہ باندھا۔
مفتی اعظم کے متعلق حضرت مولانا تحسین رضا راقم کے نام ایک مکتوب میں مفتی اعطم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ‘‘حضور مفتی اعظم کا زہد وتقویٰ، بزرگانہ شفقت میرے لیے سب سے زیادہ باعث کشش ہوئی۔’’ مفتی اعظم کی بزرگانہ علامہ تحسین رضا کے والد ماجد کو خاندان رضا کے افراد ‘‘صاحب’’ کہتے، اسی وجہ سے کبھی کبھی صاحبزادگان بھی صاحب کہتے۔ نیز حضور مفتی اعظم کو بھی صاحب کہتے، آپ تین بھائی ہیں اور سبھی بحمد تعالیٰ اپنے اپنے مقام پر مایۂ ناز افتخار علماء میں سے ہیں۔ مفتی اعظم قدس سرہے فرماتے تھے کہ: ‘‘صاحب کےجتنے لڑکے ہیں سب ہی خوب ہیں۔ باصلاحیات وبالیاقت ہیں۔ مگر ان میں تحسین رضا کا جواب نہیں [4] ۔’’
حضرت مولانا حسنین رجا علیہ الرحمہ مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری کا بہت ادب کرتے تھے۔
نمونۂ کلام:
علامہ تحسین رضا ایک باکمال مفسر، محدث اور کہنہ مشق اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ کہنہ مشق شاعر بھی ہیں۔ آپ تحسین تخلص فرماتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے دیوانوں کا جشن عام ہے
عظمت فرق شہہ کونین کیا جانے کوئی
جس نے چومے پائے اقدس عرش اُس کا نام ہے
آرہے ہیں وہ سر محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ مرا انجام ہے
روئے انور کا تصوف زلفیں مشکیں کا خیال
کیسی پاکیزہ سحر ہے کیا مبارک شام ہے
تو اگر چاہے تو بھر جائیں سیہ کاروں کے دل
ہاتھ میں تیرے عنانِ گردش، ایام ہے
ساقئ کوثر کا نام پاک ہے ورد زباں
کون کہتا ہےکہ تحسینؔ آج تشنہ کام ہے
قطعہ:
علم غیب رسول کے منکر
ایک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانان کہ راز ہے لیکن
راز اپنے سب کب چھپاتے ہیں
چند تلامذہ:
حضرت مولانا تحسین رضا سے اکتساب فیض کرنے والوں کے چند اسماء مندرجہ ذیل ہیں [5] ۔
۱۔ ملک اللہ ریس مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی شیخ الادب دارالعلوم منظر اسلام بریلی ۲۔ مولانا مفتی محمد مطیع الرحمٰن رضوی مدیر عام الادارۃ الحنفیہ کشن گنج بہار ۳۔ مولانا صغیر احمد رضوی جوکھن پوری ناظم اعلیٰ الجامعۃ القادریہ رچھابہیڑی ۴۔ مولانا محمد حنیف خاں رضوی مدیر ماہنامہ رضائےمصطفیٰ بہڑی ۵۔ مولانا تطہیر احمد رضوی مدرس الجامعۃ القادریہ بہیڑی ۶۔ مولانا محمد ہاشم نعیمی مدرس جامعہ نعیمیہ ۷۔ مولانا محمد حسین رضوی ابو الحقانی بہاری ۸۔ مولانا عبدالرشید رضوی ابو الحقانی بہاری ۹۔ مولانا جید القادری مظفر پوری ۱۰۔ مولانا سعید اختر نعیمی بھوجپور مراد آباد ۱۱۔ مولانا ایوب عالم مظہری پور نوی ۱۲۔ مولانا امام الدین دیوریاوی ۱۳۔ مولانا امام الدین دیوریاوی ۱۴۔ مولانا ایوب عالم رضوی پور نوی مدرس منظر اسلام ۱۵۔ مولانا شرف عالم رضوی سیتا مڑھی۔۔۔ بہار ۱۶۔ مولانامحمد یامین مراد آبادی مدرس جامعہ حمیدیہ بنارس
[1] ۔ اردوئے معلی علی گڑھ، بابت جون ۱۹۱۴ء، مضمون مولانا حسرت موہانی
[2] ۔ حسین رضا بریلوی، مولانا: سیر اعلیٰ حضرت ص ۱۹، ۲۰، بحوالہ ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور ص ۴۰تا ۴۲ ملخصاً بابت اپریل ۱۹۸۱ء ، مضمون از مولانا سبطین رضا خاں قادری بریلوی مدظلہٗ
[3] ۔ حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی نے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تفسیر جلالین پڑھی، ۱۲رضوی غفرلہٗ
[4] ۔ حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی سے راقم کی گفتگو ۱۲رضوی غفرلہٗ
[5] ۔ مکتوب حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی بنام راقم ۱۲غفرلہٗ کم کریں منظومات مزيد مناقب مضامین
❤1
انجمن ضیائے طیبہ اسلامی تعلیمات کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور سمٹتے ہوئے ذرائع ہر دردمند مسلمان کو افسردہ کر رہے ہیں۔ خدمات شعبہ جات مطبوعات اپیلی کیشن ماہنامہ دارالافتاء مدارس رابطہ بلاک 7-8، شادمان اپارٹمنٹ، شبیر آباد، KCHS کراچی- پاکستان۔ info@scholars.pk :ای ميل +92-308-0874786 :فون Copyright © 2014-2022 SCHOLARS.PK All rights Reserved | Powered By Find Tech
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-tehseen-raza-khan
Copyright © Zia-e-Taiba
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-tehseen-raza-khan
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-08-1443 ᴴ | 08-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1