🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_سیدنا_امام_حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305579728344740/
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نواسے ہیں اس عظیم ہستی کے جن کے امتی ہونے کےلیے انبیاء کرام علیہم السلام دعائیں کرتے رہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کے واسطہ سے ہمیں ایمان و نعمت اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں فرمان الہی سنایا اور اسلام کے احکامات بتلانے کےلیے طائف کی ستم ظریفیا ں اور شعب ابی طالب کی مصیبتیں و سختیاں برداشت کیں ۔ ہر درد دینے والے کو دعادی پر کوئی عوض نہ چاہا سوائے اس کے کہ جسے اللہ تعالی نے یوں ارشاد فرمایا : لَا أَسْأَ لُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی ۔
ترجمہ : میں (محمدرسول اللہ) تم سے اس (تبلیغ اسلام)پر کوئی اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے ۔

جب یہ آیۃ نازل ہوئی تو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا ۔ اے اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن سے آپ نے محبت کرنیکا فرمایا ہے ان سے کون سی وہ اعلی شخصیات مرادہیں جن سے محبت کرنے پر خود رب کائنات نے بھی ارشاد فرما دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علی ، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے رضی اللہ عنہم ۔ (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر: 2575)

ایک اور مقام پر ان سے محبت کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےہدایت کی اساس قرار دیتےہوئے فرمایا حضرت زید بن ارقم اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فرمایا : اِنِّيْ تَارِکٌ فِيْکُمْ ثَقْلَيْن اِنْ اَخَذْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوْا کِتَابَ اللّٰه وَعِتْرَتِيْ اَهْلَ بَيْتِيْ فَانْظُرُوْا کَيْفَ تَخْلُفُوْنِيْ فِيْهِمَا ۔
ترجمہ : لوگو میں تم میں دو بھاری (نہایت اہمیت والی) چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ، اگر تم نے اِن دونوں کو تھامے رکھا (ہر عمل ان کی ہدایات کے مطابق کیا) تو ہر گزگمراہ نہ ہوں گے : کتاب اللہ اور میری اہل بیت ۔ دیکھنا ! میرے بعد تم اِن دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ۔ (جامع ترمذی، ج5، ص662، حديث نمبر 3786/3788،چشتی)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اتنے پیارے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ ۔
ترجمہ : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب منا قب الحسن والحسین علیہما السلام ج2 ص 218 حدیث نمبر 4144)

آپ کی ولادت کی خبر پیدائش سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دی گئی تھی جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چچی ام فضل بنت حارثہ کی روایت سے ثابت ہے کہ ایک دن انہوں نے ایک خواب دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آج رات میں نے ایک ڈرا دینے والا خواب دیکھا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اے چچی جان ! آپ نے ایسا کیا دیکھا ہے خواب میں ؟ عرض کرنے لگی بہت ہی فکر کاباعث ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ ہے کیا ؟ عرض کرنے لگی کہ میں نے دیکھا ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیاہے اور میری گو د میں رکھ دیا گیا ہے ۔ سننے کے بعد مسکراتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے کہ تم نے تو کتنا شاندار خواب دیکھا ہے ۔ فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا کو صاحبزادے تولد ہونگے اور وہ تمہاری گود میں پرورش پائیں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیان فرمائی ہوئی بشارت کے عین مطابق ہی بی بی فاطمۃالزھرا رضی اللہ عنا کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تولد ہوئے اور وہ میری گود میں آئے ۔ (مشکوۃ المصابیح،ج۱،ص572،چشتی)

آپ رضی اللہ عنہ جہاں نواسہ ختم الرسل ہیں وہاں ان خوش نصیبوں میں سے بھی ہیں جن کے نام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود تجویز فرمائے ۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے : عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالی عَنْہُ , أَنَّہُ سَمَّی ابْنَہُ الأَکْبَرَ حَمْزَۃَ ، وَسَمَّی حُسَیْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّہِ ، فَسَمَّاہُمَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَیْنًا ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے بیٹے حضرت حسن کا نام مبارک حمزہ اور چھوٹے بیٹے کا نام مبارک آپ کے چچا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کانام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا ۔ (معجم کبیر طبرانی حدیث نمبر2713،چشتی)

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ایک موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دونوں نام رکھنے کی وجہ بھی بیان فرما دی ۔ حسن اور حسین یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء ہیں اور اسلام سے پہلے عرب میں یہ دونوں نام نہیں رکھے گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر و شبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا انہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا۔ (صواعق محرقہ صفحہ 118)

اس لیے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو شبیر اور شبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ سریانی زبان میں شبیر و شبر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔ علامہ ابن حجر مکی ہیتمی نے الصواعق المحرقہ میں صفحہ 115 پر یہ روایت درج فرمائی ہے ۔

امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے اور القاب مبارکہ ریحانہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سید شباب اھل الجنۃ ، الرشید ، الطیب ، الزکی ، السید اور المبارک ہیں ۔

جب آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت ہوئی تو آپ کے کانوں میں آذان کہی گئی اور وہ آذان کی متبرک آواز حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تھی ۔ جیسا کہ روایت میں آتا ہے
عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ” أَذَّنَ فِی أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ حِینَ وُلِدَا ۔
ترجمہ : حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حسن اور حسین پیدا ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے کانوں میں آذان کہی ۔(معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر 2515)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہماکی ولادت پر عقیقہ کیا اور اس کے لئے ایک ایک دنبہ کو ذبح فرمایا جیسا کہ ابو داود شریف کی روایت ہے : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ کَبْشًا کَبْشًا ۔
ترجمہ : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فی العقیقۃ صفحہ 392 حدیث نمبر 2843،چشتی)سنن نسائی کتاب العقیقۃ حدیث نمبر 4230)(سنن بیہقی حدیث نمبر1900)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا : یَمْتَصُّ لُعَابَالْحُسَیْن کَمَا یَمْتَصُ الرَّجُلُ التَّمَرَۃَ ۔ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لعابِ دہن مبارک (رال ، تھوک) کو اس طرح چوستے ہیں جیسے کہ آدمی کھجور چوستا ہے ۔ (نور الابصار صفحہ 114)

کیا محبت کا عالم ہو گا ۔ اتنی محبت جہاں میں کسی نے بھی اپنے نواسوں سے نہیں کی ہو گی پر نواسوں نے بھی محبت کا حق ادا کیا ،خاندان لوٹا دیے ،گردنیں کٹوا دیں پر نانا کے دین پر حرف نہ آنے دیا ۔ ایک مرتبہ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں بٹھایا اور آپ کے لبوں کو بوسہ دے کر ان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح فرمایا اور ساتھ ساتھ جوان سے محبت کرے ان کو بھی دعا دی فرمایا : اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا ۔
ترجمہ : اے اللہ !میں ان (حسن و حسین) سے محبت رکھتا ہو ں تو بھی ان سے محبت رکھ اور جو ان سے محبت رکھے اس کو اپنا محبوب بنا لے ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام جلد 2 صفحہ 218،چشتی)

ایک اور مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن و حسین کی شان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : فَقَالَ ہَذَانِ ابْنَایَ وَابْنَا ابْنَتِی اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا ۔
ترجمہ : یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ تو ان دونوں سے محبت فرما اور جو ان سے محبت رکھے اسکو اپنا محبوب بنالے ۔ (جامع ترمذی باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام حدیث نمبر 4138)

کیا کمال شخصیت ہیں خود تو اللہ کو محبو ب ہیں جو ان سے محبت کرے وہ بھی اللہ کے محبوبوں میں شامل ہو جاتا ہے ۔کیونکہ ایسے انسان کےلیے جو حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت کرتاہے خود رسول خدا دعا فرما رہے ہیں : أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ اس کو اپنا محبوب بنالے جس نے حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھی ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام جلد 2 صفحہ 218 حدیث نمبر 4144،چشتی)

ایک لحاظ سے تو اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کو جو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ان سے محبت کرے کو ایک نسخہ بتا دیا کہ ہر وقت امامین حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے قصیدے پڑھیں ، ان کی شان کو بیان کریں کیونکہ ان کی شان کو بیان کرنا سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور سنت بھی ایسی کہ جو نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کے عالم کا اندازہ تو کریں کہ نہ صرف اس کےلیے دعا فرمائی جو ان سے محبت کرتاہے بلکہ جو ان سے بغض رکھتا ہے اس کےلیے وعید بھی بیا ن فرما دی اس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس نے کفار کے ظلم پر بھی بارگاہِ خداوندی میں یہ کہا کہ اے اللہ ان کو ہدایت عطا فرما یہ نہیں پہچانتے مجھ کو کہ جو حسنین کریمین سے بغض رکھتا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض رکھتا ہے جیسا کہ فرمان ہے : عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِی وَمَنْ أَبْغَضَہُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِی ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا ۔ (سنن ابن ماجہ شریف باب فضل الحسن والحسین ابنی علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہم حدیث نمبر148)

یہ شہزادے تو وہ ہیں جن کا رونا بھی محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نا گوار گزرتا ہے

عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ زِیَادَۃَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ فَمَرَّعَلَی بَیْتِ فَاطِمَۃَ فَسَمِعَ حُسَیْنًا یَبْکِیْ فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَہُ یُؤْذِیْنِیْ ۔
ترجمہ : سیدنازید بن ابی زیادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دولت خانہ سے گزر ہوا ، امام حسین رضی اللہ عنہ کی رونے کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا : بیٹی کیا آپ کو معلوم نہیں ان کارونا مجھے تکلیف دیتا ہے ۔ (نورالابصارفی مناقب ال بیت النبی المختار ص139،چشتی)

کیوں نہ ایسی حالت ہوتی جن کے بارے میں میرے پیارے مصطفی کا یہ فرمان ہو : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ۔ اِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنُ ھُمٰا رُ یُحَانِیْ مِنَ الدُنْیَا حسن اور حسین ضی اللہ عنہما دنیا کے میرے دو پھول ہیں ۔ (مشکوٰۃ شریف صفحہ 570)

ایک بار تو ایسا ہو ا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی خاطر منبر سے خطبہ فرماتے وقت خطبہ کو موقوف کر دیا ، منبر سے نیچے تشریف لائے اور ان کو اپنی گود میں لے لیا جیسا کہ جامع ترمذی شریف سنن ابوداؤد شریف ، سنن نسائی شریف میں حدیث مبارک ہے : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی : بُرَیْدَۃَ یَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا وَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ) فَنَظَرْتُ إِلَی ہَذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سرخ دھاری دار قمیص مبارک زیب تن کیے لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر شریف سے نیچے تشریف لائے امام حسن و امام حسین رضی ا للہ عنہما کو گود میں اٹھا لیا پھر (منبر مقدس پر رونق افروز ہوکر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ، تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان ہے میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا سنبھل سنبھل کر چلتے ہوئے آرہے تھے لڑکھڑا رہے تھے مجھ سے صبر نہ ہو سکا یہاں تک کہ میں نے اپنے خطبہ کو موقوف کرکے انہیں اٹھالیا ہے ۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے ہی فرما دیا تھا : إِنَّ اِبْنِیْ ہَذَا یَعْنِی الْحُسَیْنَ یُقْتَلُ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِ الْعِرَاقِ یُقَالُ لَہَا کَرْبَلَاء ، فَمَنْ شَہِدَ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَلْیَنْصُرْہُ - (البغوی وابن السکن والباوردی وابن مندہ وابن عساکر عن أنس بن الحارث بن منبہ ۔
ترجمہ : یقینا میرا یہ بیٹا یعنی حسین رضی اللہ عنہ عراق کے ایک علاقہ میں شہیدکیا جائے گا ، جسے کربلا کہا جائے گا ، توافراد امت میں سے جو اس وقت موجود ہو اسے چاہیے کہ ان کی نصرت و حمایت میں کھڑا ہو جائے ۔ (کنز العمال حدیث نمبر 34314،چشتی)

جبکہ شہید کرنے اور مخالفت کرنے والوں نے اس ارشاد کو بھولا دیا : الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ۔
ترجمہ : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب مناقب الحسن و الحسین علیہما السلام حدیث نمبر 4136)

اور سردار اپنی شاہی میں اپنے فرمانبرداروں کو ہی ساتھ رکھتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں اور منبروں پر سمجھاتے ہیں کہ وہ سیاست کےلیے وہاں گئے تھے وہ خود اندازہ کر لیں کہ کس منہ سے وہاں حاضر ہوں گے ۔

اس کو بھی و ہ بھول گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ا ن کو اپنے جاہ و جلال ، سرداری اور جرات و سخاوت کا وارث بنایا تھا : عَنْ فَاطِمَۃَ بنتِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنَّہَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَکْوَاہُ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ! ہَذَانِ ابْنَاکَ فَوَرِّثْہُمَا شَیْئًا، فَقَالَ:أَمَّا الْحَسَنُ فَلَہُ ہَیْبَتِی وَسُؤْدُدِی، وَأَمَّا حُسَیْنٌ فَلَہُ جُرْأَتِی وَجُودِی ۔
ترجمہ : خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرضِ وصال کے دوران حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ آپ کے شہزادے ہیں ، انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن’ میرے جاہ وجلال اور سرداری کا وارث ہے اور حسین’ میری جرات و سخاوت کا ۔ (معجم کبیر طبرانی حدیث نمبر 18474)(جامع الاحادیث للسیوطی مسانید النساء مسند فاطمۃ رضی اللہ تعالی عنہا حدیث نمبر 43493،چشتی)(کنز العمال باب فضل الحسنین رضی اللہ عنہما حدیث نمبر 37712)

آپ کی شہادت عظمی روز عاشورہ دس (10) محرم الحرام سنہ اکسٹھ(61) ہجری میں ہوئی ، جیساکہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں نقل فرمایا ہے : قال الزبیر بن بکار : قتل الحسین یوم عاشوراء سنۃ إحدی وستین وکذا قال الجمہور ۔
سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی شہرت بھی عام ہو گئی تھی ۔ حضرت علی ، حضرت فاطمۃالزہرا اور دیگر صحابہ کبار و اہلِ بیت کے جان نثار رضی اللہ عنہم سبھی لوگ آپ کے زما نۂ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور ان کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا ۔ جیسا کہ ان احادیث کریمہ سے ثابت ہے جو آپ کی شہادت کے بارے میں وارد ہیں ۔جیسا کہ روایت میں مذکور ہے : حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ اِنَّ اُمَّتِیْ سَتَقْتُلْ اِبْنِی میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی حضرت اُم الفضل کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! (امام حسین اس وقت گودِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں تھے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کیا اس فرزند کو شہید کرے گی ! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں پھر حضرت جبرئیل میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سرخ مٹّی بھی لائے ۔ (مشکوٰۃ صفحہ 572)
اور ابن سعد اور طبرانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اِنَّ اِبْنِیْ اَلْحُسَیْنُ یُقْتَلْ بَعْدِ بِاَرْضِ الطَّفِ میرا بیٹا میرے بعد ارضِ طِف میں قتل کیا جائے گا ۔ اور جبرائیل میرے پاس وہاں کی مٹی بھی لائے اور مجھ سے کہا کہ یہ حسین کی خوابگاہ (متقل) کی مٹی ہے ۔ (الصواعق المحرقہ، صفحہ 118)

طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں ۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دینے کےلیے اللہ سے اجازت طلب کی جب وہ فرشتہ اجازت ملنے پر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ ان کو چومنے اور پیار کرنے لگے ۔ فرشتے نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ حسین سے پیار کرتے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا اِنَّ اُمَّتَکَ سَتَقْتُلْہ’ آپ کی امت حسین کو قتل کر دے گی ۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان کی قتل گاہ کی (مٹی) آپ کو دکھا دوں ۔ پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے میں لے لیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام سلمہ ! جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس مٹی کو ایک شیشی میں بند کر لیا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن خون ہو جائے گی ۔ (الصواعق المحرقہ، صفحہ 118) ۔ (تفصیل آنے والے مضمون میں ان شاء اللہ)

اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ عنہ کو چھ شہزاد ے اور تین شہزادیاں عطا فرمائیں (1) حضرت علی اکبررضی اللہ عنہ (2) حضرت علی اوسط (امام زین العابدین رضی اللہ عنہ) (3) حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ (4) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ(5) حضرت محمد رضی اللہ عنہ (6) حضرت جعفررضی اللہ عنہ (1) حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (2) حضرت سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا (3) حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ (نورالابصار فی مناقب اٰل بیت النبی المختار صفحہ 52 للعلامہ شبلنجی مولود 1250ھ) ۔

(مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305579728344740/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_سیدنا_امام_حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ چہارم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305597765009603/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر دے دی تھی اور آپ کی شہادت پر صدمہ ہوا اور بوقت شہادت کربلا میں موجود تھے سابقہ مضامین میں مختصراً عرض کیا گیا تھا مکمل و مفصّل حوالہ جات درج ذیل ہیں :

اہلحدیث حضرات کے محقق علماء لکھتے ہیں : شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دی تھی اور بوقت شہادت امام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کربلا میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صدمہ ہوا ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 104 تحقیق حافظ زبیر علی زئی غیر مقلد اہلحدیث وہابی)

عن ام سلمة قالت قال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقتل حسين بن علي علي رأس سيتن من المهاجري ۔ (مجمع، 9 : 190)۔(بحواله طبراني في الاوسط)
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حسین بن علی کو ساٹھ ہجری کے اختتام پر شہید کر دیا جائے گا ۔

غیب کی خبریں بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کی نشاندہی کردی کہ یہ عراق کا میدان کربلا ہوگا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ یہ عظیم سانحہ 61 ہجری کے اختتام پر رونما ہوگا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر دعا فرمایا کرتے : اللهم انی اعوذبک من رائس الستين وامارة الصبيان ۔
ترجمہ : اے اللہ میں ساٹھ ہجری کی ابتدا اور (گنوار) لڑکوں کی حکومت سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ (الصواعق الحرقه : 221)
60 ہجری کی ابتدا میں ملوکیت کی طرف قدم بڑھایا جاچکا تھا اور یہی ملوکیت وجہ نزاع بنی ۔ اور اصولوں کی پاسداری اور اسلامی امارت کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خاطر نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا کے میدان میں حق کا پرچم بلند کرتے ہوئے اپنی اور اپنے جان نثاروں کی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ اہل حق کٹ تو سکتے ہیں کسی یزید کے دست پلید پر بیعت کرکے باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ وہ نیزے کی انی پر چڑھ کر بھی قرآن سناتے ہیں۔ ان کے بے گور و کفن لاشوں پر گھوڑے تو دوڑائے جاسکتے ہیں لیکن انہیں باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا، یہی لوگ تاریخ کے چہرے کی تابندگی کہلاتے ہیں اور محکوم و مظلوم اقوام کی جدوجہد آزادی انہی نابغان عصر کے عظیم کارناموں کی روشنی میں جاری رکھتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 60 ہجری کی ابتدا سے پناہ مانگتے تھے کہ خلفائے راشدین کے نقش قدم سے انحراف کی راہ نکالی جا رہی تھی، لڑکوں کے ہاتھ میں عنان اقتدار دے کر اسلامی ریاست کو تماشا بنایا جا رہا تھا۔ کہ اب سنجیدگی کی جگہ لا ابالی پن نے لے لی تھی ۔

حضرت یحیٰ حضرمی کا ارشاد ہے کہ سفر صفین میں مجھے شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔ جب ہم نینوا کے قریب پہنچے تو داماد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو عبداللہ! فرات کے کنارے صبر کرنا میں نے عرض کیا ’’یہ کیا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبرئیل نے خبر دی ہے : ان الحسين يقتل بشط الفرات و اراني قبضة من تربته ۔
ترجمہ : حسین رضی اللہ عنہ فرات کے کنارے قتل ہوگا اور مجھے وہاں کی مٹی بھی دکھائی ۔ (الخصائص الکبریٰ 2 : 12،چشتی)

حضرمی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی شیر خدا رک کر اس زمین کو دیکھنے لگے تو اچانک بلند آواز میں گویا ہوئے۔ ابو عبداللہ! حسین رضی اللہ عنہ بر کرنا۔ ہم سہم گئے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے، آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ اس میدان کربلا میں میرا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگا ۔

حضرت اصبغ بن بنانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اتينا مع علي موضع قبر الحسين فقال ههنا مناخ رکابهم و موضع رحالهم و مهراق دمائهم فئة من ال محمد صلي الله عليه وآله وسلم يقتلون بهذه العرصة تبکی عليهم السماء والارض ۔
ترجمہ : ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبر حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ان کے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ اور یہ ان کے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ان کے خون بہنے کا مقام ہے۔ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک گروہ اس میدان میں شہید ہوگا جس پر زمین و آسمان روئیں گے ۔ (الخصائص الکبری، 2 : 126،چشتی)(سر الشهادتين : 13)

گویا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کا پورا نقشہ کھینچ دیا کہ یہاں پر وہ شہادت کے درجہ پر فائز ہوگا اور یہاں خاندان رسول ہاشمی کا خون بہے گا ۔
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا ذکر پہلے ہوچکا ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسین کو عراق میں قتل کردیا جائے۔ اور یہ کہ جبرئیل نے کربلا کی مٹی لاکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : يا ام سلمه اذا تحولت هذه الترته دما فاعلمي ان ابني قد قتل فجعلتها ام سلمة في قارورة ثم جعلت تنظر اليها کل يوم و تقول ان يوما تحولين دما ليوم عظيم ۔
ترجمہ : اے ام سلمہ رضی اللہ عنہاجب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو جان لینا کہ میرا یہ بیٹا قتل ہوگیا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے اس مٹی کو بوتل میں رکھ دیا تھا اور وہ ہرروز اس کو دیکھتیں اور فرماتیں اے مٹی! جس دن تو خون ہوجائے گی وہ دن عظیم ہوگا ۔ (الخصائص الکبری، 2 : 125،چشتی)۔(سر الشهادتين، 28)۔( المعجم الکبير للطبرانی، 3 : 108)

حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ و زاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی اکرم صلی الله عليه وآله وسلم کی زیارت کی ہے۔ آپ صلی الله عليه وآله وسلم کا سر انور اور ریش مبارک گرد آلود تھی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم ، آپ صلی الله عليه وآله وسلم کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ آپ صلی الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ابھی ابھی حُسین (رضی اللہ عنہ) کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ حدیث ان کتب میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں ۔ (جامع ترمذی صفحہ نمبر 1028 حدیث نمبر3771 باب مناقب حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) طبع الاولیٰٰ 1426ھ، دار الکتب العربی بیروت)۔(مستدرک امام حاکم تلخیص :علامہ ذہبی جلد 4 صفحہ 387 حدیث نمبر 6895 باب ذکر ام المومنین ام سلمہ //طبع قدیمی کتب خانہ پاکستان ، جز :5 ،چشتی)(تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی جلد 2 صفحہ 356 طبع الاولی ھند)(البدایہ والنھایہ ابن کثیر محقق:عبدالمحسن ترکی جلد 11 صفحہ 574 طبع الاولیٰٰ 1418 ھ، جز:21 الھجر بیروت)

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ صلی الله عليه وآله وسلم غبار آلود دوپہر کے وقت خون سے بھری ہوئی ایک شیشی لیے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم فداک ابی و امی، یہ کیا ہے ؟ آپ صلی الله عليه وآله وسلم نے فرمایا، یہ حسین (رضی اللہ عنہما) اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے جسے میں آج صبح سے اکٹھا کر رہاہوں ۔ عمار کہتے ہیں کہ ہم نے حساب لگایا تو ٹھیک وہی دن شہادت امام حسینؑ کا روز تھا ۔ علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس روایت کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد قوی ہیں۔ (البدایۃ والنھایۃ)

ابن ابی الدنیا نے عبداللہ بن محمد بن ہانی ابو عبد الرحمن نحوی سے، انہوں نے مہدی بن سلیمان سے اور انہوں نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس سو کر اٹھے تو “انا للہ و انا الیہ راجعون ” کہا اور کہنے لگے اللہ کی قسم امام حسین شہید کر دیے گئے ہیں۔ ان کے اصحاب نے پوچھا کہ اے ابن عباس ! کیوں کر؟ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم کو خون کی ایک شیشی لیے ہوئے خواب میں دیکھا ہے ۔ آپ صلی الله عليه وآله وسلم نے فرمایا کہ اے ابن عباس ! کیا تم جانتے ہو کہ میرے بعد میری امت کے اشقیاء نے کیا کیا؟ انہوں نے امام حسینؑ نے شہید کر دیا ہے۔ اور یہ اس کا اور اس کے اصحاب کا خون ہے جسے میں اللہ تعالی کے حضور پیش کروں گا۔ چنانچہ وہ دن اور گھڑی لکھ لی گئی۔ اس کے بعد چوبیس دن بعد مدینہ شریف میں یہ خبر آئی کہ امام حسین کو اسی دن اور اسی وقت میں شہید کیا گیا ۔ حمزہ بن زیارت نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ دونوں پیغمبر امام حسینؑ کے روضہ پر نماز پڑھ رہے ہیں۔ شیخ ابو نصر نے بالاسناد حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا کہ حضرت حسین ؑ کی شہادت کے بعد آپ کی قبر انور پر ستر ہزار فرشتے اترے اور قیامت تک آپ کے کے لیے اشکباری کرتے رہیں گے۔ (البدایۃ والنھایۃ،چشتی)

عن ام سلمه قالت قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أخبرني جبرئيل ان ابني الحسين يقتل بأرض العراق فقلت لجبرئيل ارني تربة الارض التي يقتل فيها، فجاء فهذه تربتها ۔ (البدايه والنهايه، 8 : 196 - 200)۔(کنز العمال، 12 : 126، ح : 34313)
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے جبرئیل امین نے (عالم بیداری میں) بتایا کہ میرا یہ بیٹا حسین عراق کی سرزمین میں قتل کر دیا جائیگا میں نے کہا جبرئیل مجھے اس زمین کی مٹی لا کر دکھا دو جہاں حسین کو قتل کر دیا جائے گا پس جبرئیل گئے اور مٹی لا کر دکھا دی کہ یہ اس کے مقتل کی مٹی ہے۔

عن عائشة عنه انه قال أخبرنی جبرئيل ان ابني الحسين يقتل بعدي بأرض الطف ۔
ترجمہ : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل امین نے مجھے خبر دی کہ میرا یہ بیٹا حسین میرے بعد مقام طف میں قتل کر دیا جائے گا ۔ (المعجم الکبير، 3 : 107، حدیث نمبر 2814)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی روایت بھی کم و بیش وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے، یہ بھی قتل حسین رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہے۔ یہ روح فرسا اطلاع پا کر قلب اطہر پر کیا گزری ہوگی اس کا تصور بھی روح کے در و بام کو ہلا دیتا ہے، پلکوں پر آنسوؤں کی کناری سجنے لگتی ہے اور گلشن فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تباہی کا دلخراش منظر دیکھ کر چشم تصور بھی اپنی پلکیں جھکا لیتی ہے ۔

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ آقا علیہ السلام کے چشمان مقدس سے آنسو رواں تھے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج کیا بات ہے چشمان مقدس سے آنسو رواں ہیں ؟ فرمایا کہ مجھے ابھی ابھی جبرئیل خبر دے گیا ہے کہ : ان امتک ستقتل هذا بأرض يقال لها کربلاء ۔ ترجمہ : آپ کی امت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس بیٹے حسین کو اس سر زمین پر قتل کر دے گی جس کو کربلا کہا جاتا ہے ۔ (المعجم الکبير، 3 : 109، ح : 2819) ۔

(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305597765009603/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_سیدنا_امام_حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ پنجم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305616648341048/
محترم قارئینِ کرام : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اذیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔ یحیٰ بن ابوکثیر روایت کرتے ہیں : خَرَجَ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم مِنْ بَيْتٍ عَائشةَ فَمَرَّ عَلَی فَاطِمَةَ فَسَمِعَ حُسَيْنًا يُبْکِيْ رضی الله عنه فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِيْ اَنَّ بَکَاءَ هُ يُؤْذِيْنِيْ.(طبرانی، المعجم الکبير، 3، 116، رقم : 2847)
ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے ، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا (کے گھر کے پاس سے) گزرے تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : فاطمہ کیا تو نہیں جانتی کہ مجھے اس کا رونا تکلیف دیتا ہے ۔

جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا رونا آج برداشت نہیں کرسکتے تو کربلا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کی تکلیف کب برداشت کی ہوگی ۔ اور کیسے برداشت کی ہوگی ؟ یہی وجہ تھی کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ۔ سیدنا مولیٰ علی المرتضی بھی شہید ہوئے ۔ سب شہادتیں اکبر و اعظم ہیں مگر کسی کی شہادت کے دن اس کے مشہد پر خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نہیں تشریف لے گئے ۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ میری شہادت سے ایک رات قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عثمان آج روزہ رکھ لینا اور افطار میرے پاس آ کر کرلینا جو شہید ہوا وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں خود پہنچا اور دوسری طرف یہ عالم کہ کربلا کا دن ہے۔ ادھر شہادتیں ہورہی ہیں اور ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بنفس نفیس صبح سے آخری شہادت تک میدان کربلا میں خود موجود ہیں ۔ مشہدِ حسین رضی اللہ عنہ اور میدانِ کربلا میں خود موجود رہنا یہ شرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کسی اور کو نہیں دیا ۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ۔ ام المومنین حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کو مٹی دی اور فرمایا کہ جب یہ سرخ ہوجائے تو سمجھ لینا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں حتی کہ میدان کربلا اور سن شہادت کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دی ، کتب حدیث میں کثرت سے اس پر احادیث موجود ہیں ۔ صحیح بخاری کتاب العلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دو طرح کی خبریں اور علم سیکھے ۔ ایک قسم اس علم کی ہے جو میں مجمع عام میں ہرکس و ناکس کے سامنے بیان کرتا رہتا ہوں۔ وہ علم احکام شریعت اور احکام طریقت کا ہے ۔ دوسرا علم ایسے حقائق و واقعات اور خبریں ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے بیان کردوں تو میری گردن حلق سے کاٹ دی جائے ۔ صحیح بخاری کی یہ حدیث کتاب العلم میں ہے اس پر امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ وہ علم جو سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سیکھا اور جسے عوام الناس کے سامنے بیان کرتے کتراتے اور خواص کے سامنے بیان کرتے تھے اس علم میں سے یہ بھی تھا کہ جب دس ہجری کا سن قریب آگیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھا لینا ۔

امام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں : یزید کے حکومت پر بیٹھنے سے ایک سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول کی اور انہیں اپنے پاس بلالیا ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں اس علم میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں مروان بن حکم سے خطاب فرمایا : اے مروان! میں نے صادق المصدوق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان ، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی ۔ گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پوری امت کی ہلاکت قرار دیا ہے ۔ اس وقت تو مروان نے یہ سن کر کہا کہ ان لونڈوں پر خدا کی لعنت ہو لیکن اسے خبر نہ تھی کہ اس کے ہی خاندان کے لونڈوں کی بات ہورہی ہے ۔ امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قریش کے وہ بیوقوف لونڈے جنہوں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دین کو تباہ کیا تھا ان میں سے پہلا لونڈا یزید تھا ۔ صحیح ترمذی میں سیدنا امام حسین رضی
1
اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خواب دیکھا کہ بنو امیہ کے لوگ میری قبر پر کھیل رہے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قلب اطہر مغموم ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم لیٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکوثر اور سورۃ القدر نازل کی اور فرمایا کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینے سے افضل ہے ۔ یعنی میدان کربلا میں جو اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم نے ایک رات گزاری وہ مثل لیلۃ القدر تھی ۔

حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا عبرتناک انجام

بد بخت قاتلانِ حسین کے حالات ان لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہوں گے جنہوں نے کتبِ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے قتل حسین میں شریک تھا یا اس پر راضی اور خوش تھا ۔عذاب اخروی جس کا وہ مستحق ٹھہرا،سے قطعِ نظر اس دنیائے ناپائیدار میں بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا ۔

ہر وہ شخص جو معرکۂ کربلا میں حضرت سید الشہداء کے مقابلہ کی غرض سے آیا تھا اس دنیا سے عذاب دیکھے بغیر اور اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہیں گیا۔بعض قتل کر دیے گئے۔کچھ نابینا ہو گئے ، بعض کا چہرہ سیاہ ہو گیا ،کچھ شدت پیاس سے ہلاک ہوئے اوربعض کی دولت و حکومت قلیل مدت میں جاتی رہی۔بعض دیگر عقوبات میں مبتلا ہوئے ۔

حضرت علامہ ابن جوزی نے سدّی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی دعوت کی مجلس میں یہ ذکر چلاکہ حضرت حسینؓ کے قتل میں جوبھی شریک ہوااس کو دنیا ہی میں جلد سزا مل گئی اس شخص نے کہاکہ بالکل غلط ہے میں خود ان کے قتل میں شریک تھا میرا کچھ بھی نہیں ہوا،اتنا کہہ کریہ شخص مجلس سے اٹھ کر گھرگیا جاتے ہی چراغ کی بتی درست کرنے لگا اتنے میں اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اوروہیں جل بھن کررہ گیا ۔ سدّی کہتے ہیں کہ میں نے خود اس کو صبح دیکھا تو کوئلہ ہو چکا تھا ۔ (اسوۂ حسینی صفحہ ۱۰۱ ، ۱۰۲،چشتی)

قہرِ الہٰی کی بھڑکائی ہوئی آگ

روایت ہے کہ ایک جماعت آپس میں گفتگو کر رہی تھی کہ دشمنانِ حسین میں سے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اس دنیا سے مصیبت و بلاء میں مبتلاء ہوئے بغیر چلا گیا ہو۔اس جماعت میں سے ایک بوڑھے نے کہا کہ میں بھی قتلِ حسین بن علی میں شریک تھا۔مجھ پر تو ابھی تک کوئی مصیبت نازل نہیں ہوئی۔ابھی یہ بات کر رہی رہا تھا کہ چراغ کے فتیلہ کو درست کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھا ۔اچانک شعلۂ چراغ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس بری طرح سے جلا کہ اچھلتا کودتا واپس آیا اور چلانے لگا:میں جل گیا ۔میں جل گیا۔یہاں تک کہ اس کی یہ سوزش اس درجہ بڑھی کہ اس نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔مگریہ آگ تو قہرِ الہٰی نے بھڑکائی تھی دریا اسے کیا ٹھنڈا کرتا؟وہ تو اس کے لیے تیل کا کام کر گیا اور وہ اس انداز سے جلا کہ اس کا وجود جہنم کا ایندھن بن گیا ۔ )تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

ایک پری چہرہ سیاہ رو ہو گیا

مزید روایت ہے کہ ابن زیاد کے لشکریوں میں سے ایک شخص جس نے امام عالی مقام کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا خوبصورتی کے اعتبار سے بہت زیادہ شہرت یافتہ تھا۔بعد میں جب اسے دیکھا گیا تو اس کا چہرہ سیاہ ہو چکاتھا۔اس سے پوچھا گیا :تو تو بڑا خوب رو اور صاحبِ حسن و جمال تھا۔ کیا وجہ ہے کہ تیرے چہرے پرسیاہی اور کالک نے ڈیرہ جما لیا ہے۔کہنے لگا: جس روز میں نے حسین کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا اسی دن سے روزانہ دو آدمی آتے ہیں مجھے دونوں بازؤں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے آگ کے پاس لے جاتے ہیں اور پھر مجھے اس آگ پر الٹا لٹکا دیتے ہیںبعد ازاں اتار لاتے ہیں۔اس دن سے میرا چہرہ سیاہ اور حال تباہ ہے۔یہ شخص اسی عذاب میں مبتلا رہایہاں تک کہ راہی جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی

واقدی سے منقول ہے:مقتلِ حسین کے حاضرین میں سے ایک بوڑھا آدمی نابینا ہو گیاتھا۔جب اس سے نابینا ہونے کا سبب پوچھا گیاتو کہنے لگا : میں نے خواب میں رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا : انہوں نے بازو تک آستین چڑھائی ہوئی تھی اور دستِ مبارک میں ننگی تلوار تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رو بروزمین پر فرش بچھایا گیا تھا یہ فرش دس قاتلانِ حسین کو ذبح کر کے ان کے سروں پر بچھایا گیا تھا۔جوں ہی آں جناب کی نظرمجھ پر پڑی ۔آپ نے مجھے نفرین کی اور میری آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی جس کے سببمیں اندھا ہوگیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

ڈاڑھی خنزیر کی دم بن گئی

کہتے ہیں شام میں ایک شخص تھا جو قتلِ حسین میں شریک تھا اس کی داڑھی خنزیر کی دم بن کر لوگوں کےلیے نشانِ عبرت بن گئی تھی ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

سینے میں آتش جہنم
1👍1
روایت ہے کہ وہ شخص جس نے حضرت عبداللہ علی اصغرؑ کے تشنہ حلقوم پر تیر چلایا تھاایک ایسے مرض میں مبتلا ہوگیا جس سے اس کے سینہ میں حرارت اور گرمی جب کہ پشت میں ٹھنڈک پیدا ہو گئی۔ہر چند کہ اس کے سامنے پنکھا جھلتے تھے اور اس کی پشت کی جانب آگ روشن کرتے تھے وہ واویلا کرتا تھا۔نہ تو اس کی آتشِ سینہ سرد ہوتی اور نہ ہی پشت کی ٹھنڈک کو افاقہ ہوتا تھا۔پیاس کی شدت اس درجہ بڑھ گئی کہ مٹکوں کے مٹکے پانی پی لیتا تھا اور پھر بھی ۔ العطش ۔ العطش ۔ کی صدائیں بلند کرتا۔یہاں تک کہ اس کا پیٹ پانی پی پی کر پھول گیا اور بالآخر پھٹ گیا ۔ اسی عقوبت کی وجہ سے واصل جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

یہ تھی ان لوگوں کے حالات کی مختصر سی جھلک جو معرکۂ کربلا میں حاضر تھے۔اس کے بعدہم چند خواص جن میں ابن زیاد بد نہاد،ابن سعد ، شمرذی الجوشن وغیرہ شامل ہیں کا مختصراً ذکر کرتے ہیں ۔

ابن سعدکا انجام

جب مختار ثقفی (یہ وہی مختار ثقفی ہے جو بعد میں دعویٰ نبوت کر کےمرتد ہو گیا تھا ۔ تاریخ الخلفا) نے کوفہ پر اپنے تسلط کو مضبوط کر لیا تو اس نے فرمان جاری کیا کہ وہ تمام لوگ جو ابن سعد کے لشکر میں شامل تھے اور حسین رضی اللہ عنہ کے قتال میں شریک تھے ان کو ایک ایک کر کے میرے پاس لایا جائے چناں چہ چند سو لوگ لائے گئے جن تمام کی گردن مار کر انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا ۔

مختار ثقفی نے اپنے خاص غلام کو حکم دیا کہ وہ ابن سعد کو حاضر کرے ۔ حفص بن سعد حاضر ہوا ۔ مختار نے پوچھا تمہارا باپ کہاں ہے ۔ بولا گھر میں بیٹھا ہے ۔ مختار نے کہا : ’’اب وہ ’’رے‘‘ کی حکومت اور اس کے اختیارات سے دست بردار ہو کر کس طرح اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے ۔ اس نے قتلِ حسین کے دن خانہ نشینی کیوں اختیار نہ کی‘‘ یہ کہہ کر حکم دیا کہ ابن سعد کا سر کاٹ لیا جائے اور اس کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا جائے ۔

شمر ذی الجوشنکی گردن زدنی
پھر شمر کو طلب کیا اور اس کی گردن زدنی کا حکم جاری کیا ۔
اس کے بعد مختارثقفی نے ان ملعونوں کے سروں کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیا اور حکم دیا کہ معرکہ ٔکربلا میں ابن سعد کے ساتھ شریک ہونے والے باقی ماندہ لوگوں میں سے جس کو بھی پائیں قتل کر دیں۔جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ مختارثقفی امام عالی مقام کا قصاص لے رہا ہے تو انہوں نے بصرہ بھاگ جانے کا ارادہ کر لیا۔لیکن مختار ثقفی کے لشکریوں نے ان کا تعاقب کیا اور جو جو دستیاب ہوتے انہیں قتل کر کے لاشوں کو جلا دیا جاتا اور ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

خولی بن یزید کا انجام

جب خولی بن یزید کو اسیر کر کے مختار ثقفی کے سامنے لایا گیاتو اس نے حکم جاری کیا:پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور پھر اسے سولی پر چڑھا دیا جائے۔اس کے بعد اسے آگ میں جلادیا گیا۔اسی طرح دوسرے لشکریانِ ابن زیاد جو دستیاب ہوئے انہیں دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

قتل ابن زیادبدنہاد کی مزید تفصیلات

مختصر یہ کہ جب مختار ثقفی ابن سعد، شمراور خولی بن یزید علیہم اللعنۃ کے قتل سے فارغ ہو کر مطمئن ہوا تو ابن زیاد کے قتل کے درپے ہوا۔چناں چہ ابراہیم بن مالک اشتر کو سپاہیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ابن زیاد کے مقابلہ کے لیے بھیجا ۔ جوں ہی ابراہیم موصل کی سرحد پر پہنچے ابن زیاد موصل سے پانچ فرسنگ کے فاصلے پر واقع ایک دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کے لیے تیار ہوگیا۔صبح کے وقت طرفین میں مقابلہ کا آغاز ہوا۔شام کے قریب ابراہیم بن مالک اشتر نے ابن زیاد کے لشکر کو شکست دی ۔ابن زیاد کی شکست خوردہ فوج نے راہِ فرار اختیار کی ۔ابراہیم اپنی فوج کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور حکم جاری کیا کہ مخالف فوج میں سے کسی کو بھی پائیں تو زندہ نہ چھوڑیں۔چناں چہ ابن زیاد کے بہت سے ہم راہی جان سے گئے اور ابن زیاد بھی قتل کر دیا گیا۔اس کا سر کاٹ کر ابراہیم بن مالک اشتر کے سامنے پیش کیا گیا اور ابراہیم نے اسے مختار ثقفی کے پاس کوفہ بھیج دیا۔ ابن زیاد کا سرجب کوفہ پہنچا تو اسی وقت مختار ثقفی نے دارالامارۃ میں اہلیانِ کوفہ کو جمع کر کے ایک بزم آراستہ کی اور حکم جاری کیا کہ ابن زیاد کا سر پیش کیا جائے۔جب ابن زیاد کا سر پیش کیا گیا تو مختار ثقفی نے کہا : یہ ابن زیاد کا سر ہے۔اے کوفہ کے لوگو! دیکھ لو کہ خونِ حسین کے قصاص نے ابن زیاد کو زندہ نہ چھوڑا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

مختار ثقفی نے قصاص میں ستر ہزار افراد کو قتل کیا

مفتاح النجاء میں منقول ہے کہ مختار ثقفی کے واقعہ میں اہل شام کے ستر ہزار افراد قتل کیے گئے اور یہ واقعہ دس محرم ۶۷ ہجری (واقعۂ کربلا کے ۶ سال بعد) رونما ہوا ۔

ابن زیاد کے نتھنوں میں تین بار سانپ کا گھسنا
1
روایاتِ صحیحہ میں مروی ہے کہ جب ابن زیاد اور اس کے دوسرے سرداروں کے سر مختار ثقفی کے سامنے لائے گئے تو اچانک ایک سانپ ظاہر ہوا اور سروں کے درمیان سے گزرتا ہواابن زیاد کے سر کے قریب آیا اور اس کے ناک کے سوراخ میں داخل ہو گیا۔کچھ دیر سر کے اندر رہا اور پھر منہ کے راستے باہر نکل آیااور غائب ہوگیا۔کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ سانپ تین مرتبہ ظاہر ہوا اور ناک کے سوراخ سے داخل ہو کر منہ کے راستے باہر نکلا ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

دیگر اعیانِ یزیدپلید کا عبرتناک انجام

بالجملہ ابن زیاد، ابن سعد، شمر ذی الجوشن، عمر بن الحجاج،قیس بن اشعث کندی، خولی بن یزید، سنان بن انس نخعی، عبداللہ بن قیس، حکم بن طفیل اور یزید بن مالک کے علاوہ دیگر اعیان یزیدکو طرح طرح کے عذاب دے کر ہلاک کیا گیااور ان کے لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے۔یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں چور چور ہو گئیں ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

قاتلان حسین مختار ثقفی کے ہاتھوں انجام کو پہنچے
مخفی نہ رہے کہ کتب تاریخ میں اختلاف ہے ۔بعض کتب میں ابن سعد اور شمر کا قتل ابن زیاد کی ہلاکت سے پہلے مذکور ہے اور بعض کتب میں ابن زیاد کے بعدذکر کیا گیا ہے۔اور جیسا کہ منتقم حقیقی کا وعدہ تھا جس کاذکر واقعہ کربلا سے متعلق روایات کے ضمن میں بہ روایت حاکم مذکور ہو چکا ہے پورا ہوا اور قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ مختار ثقفی کے ہاتھوں اپنے انجام کوپہنچے ۔ گو کہ آخر کار مختار ثقفی کے اعتقادات میں بھی شقاوتِ ازلی کا ظہور ہوا یعنی اس نے ساتھ ساتھ دعویٰ نبوت بھی کر لیا ۔ جس کی تفصیل کتبِ تاریخ میں مسطور ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305616648341048/
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
سید الاتقیاء حضرت علامہ مولانا تحسین رضا قادری 🌹 یوم پیدائش 4 شعبان المعظم 1349ھ 💐 یوم وصال 18 رجب المرجب 1428ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-tehseen-raza-khan
سید الاتقیاء حضرت علامہ مولانا تحسین رضا قادری ولادت ماہر علوم عقلیہ نقلیہ حضرت مولانا تحسین رضا خاں قادری رضوی بن حضرت مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بن مولانا مفتی نقی علی خاں (والد ماجد امام احمد رضا بریلوی) کی ولادت ۴؍شعبان المعظم ۱۹۳۰ء کو محلہ سوداگران رضا نگر بریلی شریف میں ہوئی۔ خاندانی حالات حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی کے ج امجد مولانا حسن رضا بریلوی ۱۳۷۶ھ میں پیدا ہوئے فضل وکمال اور فقر و تصوف کو آپ کے خاندانی خصوصیات میں سمجھنا چاہیے۔ مولانا حسن رضا بریلوی نے اپنے برادر اکبر امام احمد رضا فاضل بریلوی اور پدر بزرگوار مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے خزائن علم و عقل سے مستفیض تھے۔ اور جواہر معافی وفضل سے بہرہ ور تھے۔ علاوہ ازیں بریلی میں اپنے اخی معظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض معنوی حاصل کیا۔ استاد زمن مولانا حسن رضا کو شعر و شاعری کا شوق ابتداء ہی سے تھا۔ کچھ روز بطور خود مشق کرتے رہے، اس کے بعد مرز داغ دہلوی کو اپنا کلام سُنانا شروع کردیا اور ایک مدت تک رامپور میں رہ کر اُستاد کے گلشن سخن سے گلچیں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ بجائے خود اُستاد مستند قرار پائے۔ ۱۳۲۶ھ میں انتقال ہوا [1] ۔

علامہ تحسین رضا کے والد مولانا حسین رضا علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم سے صرف چھ ماہ بڑےتھے۔ تقریباً اکیانوے برس کی عمر پائی۔ تعلیم اسلام بریلی میں حاصل کی۔ اور امام احمد رضا قادری بریلوی سے شرف تلمذ واجازت وخلافت حاصل تھی۔ نیز معقولات کی کچھ کتابیں رامپور جاکر وہاں کے مشہور عالم مولانا ابو الوقت محمد ہدایت رسول نوری رضوی رام پوری سے پڑھیں، مولانا مفتی ارشاد حسین مجددی رامپوری کے حلقۂ درس میں بھی شامل ہوئے۔ فراغت کے بعد کچھ عرصہ تک دارالعلوم منظر اسلام میں درس بھی دیا۔ آپ سے اکتساب فیض کرنے والوں میں مشاہیر علما اور فضلاءہیں [2] ۔

جماعت رجائے مصطفیٰ کی شاندار خدمات میںمولانا حسنین رضا کا نما یاں حصہ ہے آپ نے جماعت انصار الاسلام بھی قائم کی۔ حضور مفتی اعظم کے دوش بدوش رہ کر شدھی تحریک کا سد باب کیا اور سردھڑ کی بازی لگادی۔ تعلیم وتربیت حضرت علامہ تحسین رضا خاں کےوالدماجدنے اپنی خسرال محلہ کا نکرٹولہ پرانا شہر بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ آپ نے اپنی ننہال ہی میں بچپن اور جوانی کا زمانہ گزارا اور اب بھی وہیں قیام پذیر ہیں۔ علامہ تحسین رضا نے ابتداً سید شبیر علی بریلوی مرحوم سے قاعدہ بغدادی پڑھا پھر ایک مکتب میں قرآن کریم اور اردو حساب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ فارسی کی ابتدائی کتابیں پرانے شہر کےایک مدرسہ میں پڑھیں جو اکبری مسجد واقع محلہ گھیر جعفر خاں میں قائم تھا۔ عربی کی تعلیم کےلیے والد بزگوار نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی اور بعد منظر اسلام میں داخہ کرادیا، دورۂ حدیث شریف کے لیے والد ماجد کی خواہش کےمطابق علامہ تحسین رضا جامعہ رضویہ مظہریہ اسلام فیصل آباد (پاکستان) تشریف لے گئے۔ اور وہاں دورۂ حدیث کی کتابیں مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔

فراغت:
حضرت مولانا تحسین رضا خاں شعبان المعظم ۱۳۷۵ھ میں جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے سند فراغت حاصل کر کے بریلی شریف واپس ہوئے۔ ۱۹۴۹ء میں مولوی، ۱۹۵۰ء میں عالم، ۱۹۵۱ء میں منشی، ۱۹۵۲ء میں فاضل ادب، ۱۹۵۴ء میں کامل کے امتحانات دیئے۔

اساتذہ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ مولانا امجدعلی رضوی اعظمی [3] ۲۔ حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضانوری بریلوی ۳۔ محدث اعظم پاکستا مولانامحمد سردار احمد رضوی فیصل آباد ۴۔ شمس العلماء مفتی قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری ۵۔ شیخ المعقولات مولانا سردار علی خاں رضوی بریلوی ۶۔ حضرت مولانا غلام یٰسین رضوی بریلوی ۷۔ حضرت مولانا مفتی وقار الدین رضوی، دارالعلوم امجدیہ کراچی ۸۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی

تدریسی زندگی کا آغاز:
حضرت علامہ تحسین رضا نے حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے حکم پر فراغت سے قبل ۱۹۵۲ء میں دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں تدریسی سلسلہ کا آغاز کردیا۔ پھر اگست ۱۹۵۶ء مین فیصل آبا (پاکستان) چلےگئے اور تقریباً آٹھ ماہ رہکر دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ فیصل آباد سےآنے کے بعد دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں درس دینا شروع کیا۔ علامہ تحسین رضا نے مظہر اسلام میں ۱۹۷۲ء تک درس نظامیہ کی تعلیم دی۔ پھر و سال اسی مظہر اسلام بریلی میں صدر المدرسین کے فرائض انجام دیئے۔ علامہ تحسین رضا بعض حالات کی بناء پر ۱۹۷۵ء میں مظہر اسلام سے ملازمت ترک کرکے دارالعلوم منظر اسلام میں بحیثیت صدر مدرس مقرر ہوئے۔ منظر اسلام میں سات سال تدریسی فرائض انجام دیئے۔ ہزاروں طلبہ نے علمی استفادہ کیا۔ بعض ان میں لائق وفائق عالم وفاضل، محدث وفقیہہ اور مفتی ہوئے جن سے ملک و
1
بیرون ملک کی علمی دانش گاہیں اور درس گاہیں آج بھی آباد اور فیض بار ہیں۔ ۱۹۸۲ء میں جامعہ نوریہ رضویہ بریلی کا قیام عمل میں آیا تو اس کے چلانے کی ساری ذمہ داری علامہ تحسین رضا کے سپد کردی گئی۔ تادم تحریر جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف میں شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز ہیں۔

حج وزیارت:
حضرت علامہ تحسین رضا رضوی نوری بریلوی ۱۹۸۶ء میں زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔

عقد مسنون:
علامہ تحسین رضا کا عقد مسنون جناب سعید اللہ خاں بریلوی کی صاحبزادی سے ۱۵؍ذی قعدہ ۱۳۸۶ھ؍ ۲۶؍فروری ۱۹۶۷ء بروز اتوار ہوا۔

اولاد امجاد کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ مولانا حسان رضا خاں رضوی ۲۔ رضوان رضا خاں رضوی ۳۔ حبیب رضا خاں رضوی ۴۔ عارفہ بیگم رضویہ

بیعت وخلافت:
مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو ۱۹۴۳ء میں عرس رضوی کے موقع پر حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیوت کرادیا تھا۔ ۲۵؍صفر المظفر ۱۳۸۰ھ کو جلسہ عام میں مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفی رضا نوری بریلوی نے اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ اسٹیچ پر سید العلماء سید آل مصطفیٰ برکاتی مارہروی، برہان الملت مفتی برہان الحق رضوی جبل پوری اورمجاہد ملت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی اڑیسوی وغیرہ اکابر علماء ومشائخ نے خرقہ پوشی کرائی۔ اور حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے عمامہ باندھا۔

مفتی اعظم کے متعلق حضرت مولانا تحسین رضا راقم کے نام ایک مکتوب میں مفتی اعطم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ‘‘حضور مفتی اعظم کا زہد وتقویٰ، بزرگانہ شفقت میرے لیے سب سے زیادہ باعث کشش ہوئی۔’’ مفتی اعظم کی بزرگانہ علامہ تحسین رضا کے والد ماجد کو خاندان رضا کے افراد ‘‘صاحب’’ کہتے، اسی وجہ سے کبھی کبھی صاحبزادگان بھی صاحب کہتے۔ نیز حضور مفتی اعظم کو بھی صاحب کہتے، آپ تین بھائی ہیں اور سبھی بحمد تعالیٰ اپنے اپنے مقام پر مایۂ ناز افتخار علماء میں سے ہیں۔ مفتی اعظم قدس سرہے فرماتے تھے کہ: ‘‘صاحب کےجتنے لڑکے ہیں سب ہی خوب ہیں۔ باصلاحیات وبالیاقت ہیں۔ مگر ان میں تحسین رضا کا جواب نہیں [4] ۔’’

حضرت مولانا حسنین رجا علیہ الرحمہ مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری کا بہت ادب کرتے تھے۔

نمونۂ کلام:
علامہ تحسین رضا ایک باکمال مفسر، محدث اور کہنہ مشق اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ کہنہ مشق شاعر بھی ہیں۔ آپ تحسین تخلص فرماتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے دیوانوں کا جشن عام ہے

عظمت فرق شہہ کونین کیا جانے کوئی
جس نے چومے پائے اقدس عرش اُس کا نام ہے

آرہے ہیں وہ سر محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ مرا انجام ہے

روئے انور کا تصوف زلفیں مشکیں کا خیال
کیسی پاکیزہ سحر ہے کیا مبارک شام ہے

تو اگر چاہے تو بھر جائیں سیہ کاروں کے دل
ہاتھ میں تیرے عنانِ گردش، ایام ہے

ساقئ کوثر کا نام پاک ہے ورد زباں
کون کہتا ہےکہ تحسینؔ آج تشنہ کام ہے

قطعہ:
علم غیب رسول کے منکر
ایک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانان کہ راز ہے لیکن
راز اپنے سب کب چھپاتے ہیں

چند تلامذہ:
حضرت مولانا تحسین رضا سے اکتساب فیض کرنے والوں کے چند اسماء مندرجہ ذیل ہیں [5] ۔
۱۔ ملک اللہ ریس مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی شیخ الادب دارالعلوم منظر اسلام بریلی ۲۔ مولانا مفتی محمد مطیع الرحمٰن رضوی مدیر عام الادارۃ الحنفیہ کشن گنج بہار ۳۔ مولانا صغیر احمد رضوی جوکھن پوری ناظم اعلیٰ الجامعۃ القادریہ رچھابہیڑی ۴۔ مولانا محمد حنیف خاں رضوی مدیر ماہنامہ رضائےمصطفیٰ بہڑی ۵۔ مولانا تطہیر احمد رضوی مدرس الجامعۃ القادریہ بہیڑی ۶۔ مولانا محمد ہاشم نعیمی مدرس جامعہ نعیمیہ ۷۔ مولانا محمد حسین رضوی ابو الحقانی بہاری ۸۔ مولانا عبدالرشید رضوی ابو الحقانی بہاری ۹۔ مولانا جید القادری مظفر پوری ۱۰۔ مولانا سعید اختر نعیمی بھوجپور مراد آباد ۱۱۔ مولانا ایوب عالم مظہری پور نوی ۱۲۔ مولانا امام الدین دیوریاوی ۱۳۔ مولانا امام الدین دیوریاوی ۱۴۔ مولانا ایوب عالم رضوی پور نوی مدرس منظر اسلام ۱۵۔ مولانا شرف عالم رضوی سیتا مڑھی۔۔۔ بہار ۱۶۔ مولانامحمد یامین مراد آبادی مدرس جامعہ حمیدیہ بنارس

[1] ۔ اردوئے معلی علی گڑھ، بابت جون ۱۹۱۴ء، مضمون مولانا حسرت موہانی

[2] ۔ حسین رضا بریلوی، مولانا: سیر اعلیٰ حضرت ص ۱۹، ۲۰، بحوالہ ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور ص ۴۰تا ۴۲ ملخصاً بابت اپریل ۱۹۸۱ء ، مضمون از مولانا سبطین رضا خاں قادری بریلوی مدظلہٗ

[3] ۔ حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی نے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تفسیر جلالین پڑھی، ۱۲رضوی غفرلہٗ
[4] ۔ حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی سے راقم کی گفتگو ۱۲رضوی غفرلہٗ

[5] ۔ مکتوب حضرت مولانا تحسین رضا بریلوی بنام راقم ۱۲غفرلہٗ کم کریں منظومات مزيد مناقب مضامین
1