🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سرخ دھاری دار قمیص مبارک زیب تن کئے لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ منبر شریف سے نیچے تشریف لائے امام حسن وامام حسین رضی ا للہ عنہما کو گود میں اٹھا لیا پھر (منبر مقدس پر رونق افروز ہوکر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا،تمہارے مال اورتمہاری اولادایک امتحان ہے میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا سنبھل سنبھل کرچلتے ہوئے آرہے تھے لڑکھڑا رہے تھے مجھ سے صبر نہ ہوسکا یہاں تک کہ میں نے اپنے خطبہ کو موقوف کر کے انہیں اٹھالیا ہے ۔ (جا مع ترمذی شریف ج2،ابواب المناقب ص 218حدیث نمبر3707،چشتی)(سنن ابوداؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر935)(سنن نسائی کتاب الجمعۃحدیث نمبر:1396 زجاجۃ المصابیح ج 5ص333)

اس حدیث مبارک سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شہزادوں کی قدر و منزلت اور ان سے اپنے کامل قلبی تعلق کو واشگاف کر دیا کہ بچپن میں شہزادوں کے زمین پر گِرجانے کا محض احتمال بھی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےلیے ناگوار خاطر مبارک ہے ۔

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کرم نوازی کی انتہاء فرما دی کہ شہزادوں کی خاطر خطبہ کو موقوف فرما دیا منبرشریف سے نیچے تشریف لاکر انہیں اٹھالیا ، اپنے اس عمل مبارک کے ذریعہ روزِروشن کی طرح آشکار کر دیا کہ ان کا وجود باجود سراسر دین و شریعت ہے ، کیونکہ دنیوی امر کےلیے خطبہ موقوف نہیں کیا جا سکتا ، پھر منبر شریف پر قیام فرما ہو کر ان کے چلنے کی حسین اداؤں کا ذکرمبارک کرتے ہوئے یہ امر بھی واضح فرمادیا کہ ان کی ہر ہراداء دین وشریعت ہے ۔

امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کمال قربت کی یہ شان کہ گہوارہ میں آپ کے رونے سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تکلیف ہوتی : عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ زِیَادَۃَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ فَمَرَّعَلَی بَیْتِ فَاطِمَۃَ فَسَمِعَ حُسَیْنًا یَبْکِیْ فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَہُ یُؤْذِیْنِیْ ۔
ترجمہ : سیدنا زید بن ابی زیادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کے دولت خانہ سے گزر ہوا امام حسین رضی اللہ عنہ کی رونے کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا : بیٹی کیا آپ کو معلوم نہیں ان کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے ۔(نورالابصارفی مناقب ال بیت النبی المختار صفحہ 139)

بچپن میں امام حسین رضی للہ عنہ کا رونا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اذیت کا باعث ہے تو غور کرنا چاہئیے کہ جن ظالموں نے معرکۂ کربلامیں امام عالی مقام رضی اللہ عنہ پر مظالم کی انتہا کردی ، دیگر اہل بیت کرام و جانثاران امام رضی اللہ عنہم کو بے پناہ تکالیف پہونچا کر انہیں شہید کیا ان بدبختوں کے ظالمانہ و بہیمانہ حرکات اور اندوہناک واقعات سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس قدر تکلیف ہوئی ہوگی ، کیا یہ ایذاء رسانی خالی جائیگی ؟ ہرگز نہیں ! اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : إِنَّ الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآَخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُہِینًا ۔
ترجمہ : بیشک جولوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تکلیف دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت کی ہے اور ان کےلیے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃ الاحزاب:57)

کچھ لو گ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا کربلا تشریف لے جانا اور آپ کی شہادت عظمی نعوذ باللہ سیاسی اور حصول اقتدار کیلئے لڑی جانے والی جنگ ہے !

جبکہ نبیوں کے تاجدار احمد مختار حبیب کردگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے امت کے افراد کو معرکۂ کربلا کے وقت امام حسین رضی اللہ عنہ کی تائید و نصرت کرنے کےلیے حکم فرمایا ، کیا کوئی صاحب ایمان یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حب منصب اور دنیا طلبی میں کسی کی مدد کرنے کےلیے فرمایا ہو ؟ العیاذباللہ ۔
کنزالعمال شریف میں حدیث پاک ہے : إِنَّ اِبْنِیْ ہَذَا یَعْنِی الْحُسَیْنَ یُقْتَلُ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِ الْعِرَاقِ یُقَالُ لَہَا کَرْبَلَاء ، فَمَنْ شَہِدَ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَلْیَنْصُرْہُ ۔ (البغوی وابن السکن والباوردی وابن مندہ وابن عساکر عن أنس بن الحارث بن منبہ ۔
ترجمہ : یقینا میرا یہ بیٹا یعنی حسین رضی اللہ عنہ عراق کے ایک علاقہ میں شہید کیا جائے گا ، جسے کربلا کہا جائے گا ، تو افرادِ امت میں سے جو اس وقت موجود ہو اسے چاہیے کہ ان کی نصرت و حمایت میں کھڑا ہوجائے ۔ (کنز العمال،حدیث نمبر34314،چشتی)

امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کو کس طرح دنیا کے ناپائدار اقتدار کی طلب ہو سکتی ہے ، جبکہ آپ ہی کے گھرانہ سے ساری خلقت کو زہد وورع ، تقوی و پرہیزگاری اور قناعت کی دولت ملی ہے ۔ سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کو اس دنیائے فانی کی کس طرح حرص و طمع ہو سکتی ہے جبکہ آپ کے سامنے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد مبارک ہے : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَوْضِعُ سَوْطٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا ۔
ترجمہ : ایک کوڑا برابرجنت کی جگہ دینا اور اس کی ساری چیزوں سے بہترہے ۔ (صحیح بخاری شریف باب ماجاء فی صفۃ الجنۃحدیث نمبر 3250)

جس جنت میں ایک چابک برابر جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ، آپ رضی اللہ عنہ تو اسی جنت میں رہنے والے جوانوں کے سردار ہیں جیسا کہ جامع ترمذی شریف کی روایت ہے : الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ۔
ترجمہ : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔ (جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام .حدیث نمبر4136)

معجم کبیر طبرانی،جامع الاحادیث اورکنز العمال میں حدیث مبارک ہے : عَنْ فَاطِمَۃَ بنتِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّہَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَکْوَاہُ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ! ہَذَانِ ابْنَاکَ فَوَرِّثْہُمَا شَیْئًا، فَقَالَ:أَمَّا الْحَسَنُ فَلَہُ ہَیْبَتِی وَسُؤْدُدِی، وَأَمَّا حُسَیْنٌ فَلَہُ جُرْأَتِی وَجُودِی ۔
ترجمہ : حضرت خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مرضِ وصال کے دوران حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یا رسول ﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! یہ آپ کے شہزادے ہیں ، انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ! تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : حسن' میرے جاہ وجلال اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات و سخاوت کا ۔ (معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر 18474)(جامع الاحادیث للسیوطی مسانید النساء ، مسند فاطمۃ رضی اللہ تعالی عنہا حدیث نمبر: -43493)(کنز العمال،باب فضل الحسنین رضی اللہ عنہما حدیث نمبر 37712)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ جلد 8 لکھتے ہیں : بخاری و مسلم و نسائی و ابن ماجہ بطُرُقِ عدیدہ سیدنا ابو ہریرہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی وھذا لفظ مؤلَّف منھا دخل حدیث بعضھم فی بعض (آئندہ الفاظ ان متعدد روایات کا مجموعہ ہے، بعض کی احادیث بعض میں داخل ہیں۔ ت)
قال خرج النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجلس بفناء بیت فاطمۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہا فقال اُدعی الحسن بن علی فحبستہ شیئا فظننت انھا تلبسہ سخابا او تغسلہ فجاء یشتد وفی عنقہ السخاب فقال النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ ھکذا فقال الحسن بیدہ ھکذا حتی اعتنق کل منھما صاحبہ فقال صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللھم اِنیّ اُحبُّہ، فَاَحِبَّہ، وَاَحِبَّ مَنْ یُّحِبُّہ ۔ (الصحیح للمسلم باب فضل الحسن والحسین مطبوعہ راولپنڈی ۲/ ۲۸۲)
یعنی ایک بارسید عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت بتول زہرا رضی ﷲ تعالٰی عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور سید نا امام حسن رضی ﷲ تعالٰی عنہ کو بلایا، حضرتِ زہرا نے بھیجنے میں کچھ دیر کی، میں سمجھا انھیں ہار پہناتی ہوں گی یا نہلا ررہی ہوں گی، اتنے میں دوڑتے ہوئے حاضر آئے ، گلے میں ہار پڑا تھا، سید عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دست مبارک بڑھائے حضور کو دیکھ کر امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلائے ، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو لپٹ گئے ، حضور نے گلے لگا کر دعا کی : الہٰی ! میں اسے دوست رکھتا ہوں تو اسے دوست رکھ اور جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ۔ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی حِبِّہٖ و بارک وسلم ۔
صحیح بخاری میں امام حسن رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے مروی : کان النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا خُذ بیدی فیُقعدنی علی فخِذِہٖ ویقعد الحسین علٰی فخِذِہ الاُخرٰی ویَضُمُّناَ ثم یقول رب انی ارحمھما فار حمھما ۔ (الصحیح البخاری باب وضع الصبی فی الحجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۸،چشتی)

نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر ایک ران پر مجھے بٹھا لیتے اور دوسری ران پر امام حسین کو ، اور ہمیں لپٹا لیتے پھر دعا فرماتے : الہٰی ! میں ان پر رحم کرتا ہوں تو ان پر رحم فرما ۔
اسی میں حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے : ضَمَّنیِ النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم الٰی صدرہ ۔ فقال اللھم علمہ الحکمۃ ۔ (الصیح البخاری مناقب ابن عباس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۵۳۱)

سید عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے سینے سے لپٹایا پھر دُعا فرمائی : الہٰی ! اسے حکمت سکھا دے ۔

امام احمد اپنی مُسْنَد میں یعلٰی رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی : ان حسناً وحُسینا رضی ﷲ تعالٰی عنہما یستبقا الٰی رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فضمّھما الیہ ۔ (مسند احمد بن حنبل مناقب ابن عباس مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴/ ۱۷۲)
ایک بار دونوں صاحبزادے حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آپس میں دوڑ کرتے ہوئے آئے حضور نے دونوں کو لپٹا لیا ۔

جامع ترمذی میں انس رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث ہے : سُئِلَ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ای اھل بیتک احبّ الیک قال الحسن والحسین وکان یقول لفاطمۃ ادعی لی ابنی فیشمھما ویضمھما ۔ (جامع ترمذی مناقب الحسن والحسین مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۴۰ ۔ ۵۳۹،چشتی)
سید عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پوچھا گیا حضور کو اپنے اہل بیت میں زیادہ پیارا کون ہے؟ فرمایا : حسن اور حسین ۔ اور حضور دونوں صاحبزادوں کو حضرت زہرا رضی اللہ عنہا سے بلوا کر سینے سے لگالیتے اور ان کی خوشبوُ سُونگھتے ، صلی ﷲ تعالٰی علیہ و علیہم و بارک وسلم ۔

ابن سعد نے طبقات الکبریٰ میں بیان کیا ہے کہ امام محمد (الباقر) بن علی (زین العابدین) بن حسین بن علی(رضی اللہ عنہم) سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہم) کو بیعت فرمایا اس حال کہ وہ صِغر سنی میں ( یعنی عمر میں چھوٹے) تھے اور ابھی باریش نہیں ہوئے تھے اورنہ سن بلوغ کو پہنچے تھے- مزیدفرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے صرف ہمیں ہی چھوٹی عمرمیں بیعت فرمایا تھا-( طبقات الکبریٰ)

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ کھجور کے درختوں سے کھجوریں اتارتے وقت رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے پاس کھجوریں لائی جاتیں،سویہ شخص کھجوریں لاتا اور وہ شخص کھجوریں لاتاحتی کہ آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پاس کھجوروں کا ڈھیر لگ جاتا پس حضرت حسن اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہما) ان کھجوروں کے ساتھ کھیل رہے تھے،توان میں ایک نے کھجور اپنے منہ میں ڈال لی ۔ پس رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے ان کی طرف دیکھا اور آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے وہ کھجور ان کے منہ سے نکال لی اور ارشادفرمایا:’’أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ‘‘ ’’کیا تم کو معلوم نہیں کہ (سیدنا) محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی آل صدقہ نہیں کھاتی - (صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ،چشتی)

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) اپنے بچپن کی زندگی بسرکررہے تھے ،اگر کھجور تناول بھی فرما لیتے تو کوئی ذی شعور اس بات پہ اعتراض نہ کرتا،کیونکہ بچپن کا عالم تھالیکن قربان جائیں،حضور خاتم الانبیاء (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے اندازِ تربیت پہ کہ آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے اس عمرمیں ان کے حلقوم مبارکہ سے خلاف شرع چیز داخل ہونے کو ناپسند فرمایا- اس سے ہر صاحبِ اولاد اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کئی اسباق اخذ کر سکتا ہے -

اِنصاف کی بات یہ ہے کہ جن کے والدِ ماجد ’’شہرِ علم کا دروازہ‘‘ اور ’’ امام المتقین‘‘ ہوں اُن کا علم و تقویٰ اپنی رفعت و بلندی اور وسعت و جلالت میں ہمارے فہم و ادراک سے ماوریٰ ہے ، مگر صرف بنیادی سی معلومات کیلئے چند روایات نقل کی جاتی ہیں-آپ (رضی اللہ عنہ) نے حضورنبی کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اورحضرت علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) سے روایات لیں اور آپ (رضی اللہ عنہ) سے آپ (رضی اللہ عنہ) کے صاحبزادے علی بن حسین،آپ (رضی اللہ عنہ) کی شہزادی فاطمہ اور آپ (رضی اللہ عنہ) کے بھتیجے زید بن حسن اور شعیب
بن خالد، طلحہ بن عبید اللہ العقیلی، یوسف الصباغ، عبید بن حنین، ھمام بن غالب الفرزدق اور ابوہشام (رضی اللہ عنہم)نے روایات نقل کیں-( تاریخ دمشق لابن عساکر،باب:الحسين بن علی بن أبی طالب)

جنگ کے دوران حالانکہ ایک ایک فرد قیمتی ہوتا ہے اور کئی لوگ جنگ میں سب تمام اصولوں کوبالائے طاق رکھ دیتے ہیں جبکہ آپ (رضی اللہ عنہ) اس نازک موقع پہ بھی نہ صرف شریعت کا معاشی و معاشرتی اصول قائم رکھا بلکہ حقو ق العباد کا بھی خاص خیال رکھا - جیسا کہ روایت میں ہے : حضرت ابو جحاف (رضی اللہ عنہ) اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ)سے عرض کی کہ مجھ پرقرض ہے تو آپ (رضی اللہ عنہ) نے ارشاد فرمایا:’’ لَا يُقَاتِلْ مَعِيَ مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ‘‘ ’’ وہ شخص میرے ساتھ شریک ِ جنگ نہ ہو جس پر قرض ہو‘‘ ۔ (الطبقات الکبرٰی کتاب الحسين بن علی)

وَ قَالَ مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ : حجَّ الحُسَيْنُ خَمْساً وَ عِشْرِيْنَ حَجَّةً ماشيًا‘‘ ۔ حضرت مصعب الزبیری (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ)نے پچیس حج پیدل ادا فرمائے ‘‘-(تہذيب الكمال فی أسماء الرجال،الحسين بن عَلِی بن الحسين بْن علی بْن أَبی طَالِب)
صوفیاء کرام ہمیشہ استقامت کو کرامت پہ ترجیح دیتے ہیں بلاشبہ میدان استقامت میں بھی آپ (رضی اللہ عنہ) اپنی مثال آپ ہیں اور جہاں تک کرامت کاتعلق ہے آپ (رضی اللہ عنہ)کی پوری حیات مبارکہ کرامت ہے- ہم صرف دو کرامات کو زیب قرطاس کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں- ایک کا تعلق بچپن سے ہے (اِسے امام طبرانی نے روایت فرمایا) اور دوسری کا تعلق جوانی کی عمر مبارک سے ہے جسے علامہ ابن سعد (رحمۃ اللہ علیہ) نے طبقات الکبریٰ میں نقل کیا ہے -

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام حسین (رضی اللہ عنہ) حضورنبی کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے پاس تھے اور رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) امام حسین (رضی اللہ عنہ) سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے-حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: مَیں اپنی والدہ ماجدہ کے پاس جانا چاہتا ہوں-حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) عرض کرتے ہیں کہ (یا رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)! کیامیں ان کے ساتھ چلاجاؤں ؟
’’فجاءت برقة من السماء فمشى في ضوئها حتى بلغ‘‘ ’’پس (اسی اثناء میں)آسمان سے ایک نور آیا اور حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) اس کی روشنی میں چلتے رہے،یہاں تک کہ (اپنی والدہ ماجدہ کے پاس) پہنچ گئے -(المعجم الكبير للطبرانی، باب الحاء،چشتی)

حضرت ابوعون (رضی اللہ عنہ) سےمروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ (رضی اللہ عنہ) مکہ مکرمہ تشریف لے جارہے تھے اور راستے میں ابن مطیع کے پاس سے گزرے جو اس وقت کنواں کھود رہے تھے-اور اس دن کنویں سے کوئی پانی نہ نکلا انہوں نے عرض کی (میرے والدین آپ پہ قربان) اگر آپؓ دعا فرمائیں توآپؓ نے فرمایا کہ ا س کاپانی لے آؤ ، تومیں پانی لے آیا،’’فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ مَضْمَضَ ثُمَّ رَدَّهُ فِي الْبِئْرِ فَأَعْذَبَ وَأَمْهَى‘‘ ’’آپ (رضی اللہ عنہ) نے پانی نوش فرمایا ، پھرکلی فرمائی اور اس کا پانی کنویں میں ڈال دیا تو وہ کنواں میٹھابھی ہو گیا اور اس کا پانی بھی بڑھ گیا‘‘-(الطبقات الکبرٰی لابن سعد(المتوفی:230،باب: عَبْدُ حوالہ:الله بْنُ مُطِيعِؓ)

حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اس حال میں کہ امام حسن وحسین (رضی اللہ عنہما) آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے سینہ مبارک پہ کھیل رہے تھے،تو مَیں نے عرض کی یارسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)!’’أَتُحِبُّهُمَا؟قَالَ:كَيْفَ لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا‘‘ ’’کیا آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ان دونوں سے محبت کرتے ہیں؟ توآپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمایا : میں ان سے محبت کیسے نہ کروں، یہ دونوں دنیاکے میرے دوپھول ہیں‘‘- (سیراعلام النبلاء ،الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ)

ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمایا : ’’مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبّ هَذَيْنِ‘‘’’جو مجھ سے محبت کرنا چاہتا ہے وہ ان دونوں (شہزادوں سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہما) سے محبت کرے‘‘-(مسند أبی يعلى،باب :مسند عبداللہ بن مسعود،چشتی)
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَهُوَ حَامِلُهُمَا عَلَى مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نِعْمَتِ الْمَطِيَّةُ قَالَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبَانِ‘‘ ’’حضرت ابوجعفر (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہےکہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) انصار کی مجلس سے گزرے اس حال میں کہ آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) دونوں شہزادوں کو (اپنے کندھوں پہ) اٹھائے ہوئے تھے،تو لوگوں نے عرض کی:کتنی اتنی اچھی سواری ہے! تو آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمایا : دونوں سوار بھی کتنے اچھے ہیں-(مصنف ابن ابی شیبہ،باب: مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا)

حضرت یعلیٰ عامری (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ ہم حضور نبی کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے ساتھ ایک دعوت میں شرکت کے لیے نکلے راستے میں حضرت امام حسین بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے،پس آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) باقی لوگوں سے آگے تشریف لے گئے اور (حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو پکڑنے کے لیے) آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے اپنا دستِ اقدس بڑھایا، لیکن آپ (رضی اللہ عنہ) کبھی اِدھر بھاگ جاتے کبھی اُدھر اور حضور نبی کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) خوش ہو رہے تھے یہاں تک حضور نبی کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے آپ کو پکڑ لیا اور آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے اپنا ایک ہاتھ مبارک آپؓ کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا گردن پہ رکھا پھر آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے اپنا سرمبارک جھکاکر اپنا دہن مبارک حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے دہن پہ رکھا اور انہیں بوسہ دیا اور پھر آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمایا:’’حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ‘‘
’’حسین مجھ سے ہیں اورمیں حسین سے ہوں یااللہ تواُس سے محبت فرما جوحسین سے محبت کرے،حسین (میرے) نواسوں میں ایک نواسہ ہے‘‘ -(مسند أبی يعلى،باب :مسند عبداللہ بن مسعود)

حضرت سلمان (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ابْنَايَ، مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي أَحَبَّهُ اللهُ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اللهُ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا أَبْغَضَنِي، وَمَنْ أَبْغَضَنِي أَبْغَضَهُ اللهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اللهُ أَدْخَلَهُ النَّارَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ‘‘
’’(حضرت) حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) میرے بیٹے ہیں جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی اللہ اس سے محبت فرمائے گا اور جس سے اللہ فرمائے گا اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اللہ اس سے ناراض ہوگا اور جس سے اللہ ناراض ہوگا اسے جہنم میں داخل کرےگا‘‘۔(المستدرك حاکم ،وَمِنْ مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنِي بِنْتِ رَسُولِ اللہِ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ۔ امام حاکم نے کہا کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے ۔

امام ترمذی نے روایت کیا ہے کہ ’’حضرت علی المرتضیٰرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہما) کے ہاتھ کو پکڑا اور ارشاد فرمایا:’’مَنْ أَحَبَّنِي وَ أَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ‘‘
’’جس نے مجھ سے، ان دونوں سے،ان دونوں کے والد سے اور ان کی والدہ (محترمہ) سے محبت کی تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا‘‘- (سنن الترمذی، کتاب المناقب)

حضرت مدرک بن عمارہ (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہما) کو دیکھا وہ حضرت حسن اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہما)کی سواری کی لگام پکڑئے ہوئے ہیں- آپ (رضی اللہ عنہ) سے عرض کئی گئی :کیا آپؓ حسنین کریمین (رضی اللہ عنہما) کی سواری کی لگامیں تھامے ہوئے ہیں حالانکہ آپ (رضی اللہ عنہ) ان سے بڑے ہیں ؟توآپ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:’’ان هذين ابنا رسول الله (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) أو ليس من سعادتي أن آخذ بركابهما ‘‘ ’’بے شک یہ دونوں رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے نواسے ہیں تو کیا یہ میرے لیے سعادت نہیں کہ میں ان
کے سواری کی لگام کو تھاموں‘‘-( تاریخ دمشق لابن عساکر،باب: الحسين بن علی بن أبی طالب)

حضرت عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے جب آپ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کو آتے ہوئے دیکھاتو آپ (رضی اللہ عنہ)نے فرمایا:’’هذا أحب أهل الأرض إلى أهل السماء اليوم‘‘’’یہ ہستی آج مجھے زمین و آسمان میں سب سے زیادہ محبوب ہے‘‘- ( تہذیب التہذیب للعسقلانیؒ،باب:الحاء)

حضرت ابوالمہزم (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) اپنے کپڑے کے کنارے سے سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے قدمین شریفین سے مٹی جھاڑ رہے تھے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اے ابوھریرہ! آپ یہ کیاکررہے ہیں؟ تو حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)نے فرمایا:’’دعني فو الله لو يعلم الناس منك ما أعلم لحملوك على رقابهم‘‘ ’’مجھے چھوڑدو، اللہ کی قسم !اگر لوگوں کو تمہارے بارے میں وہ علم ہوجائے جو میں جانتاہوں تو وہ تم کو اپنے کندھوں پہ اٹھا لیں -(الطبقات الکبرٰی کتاب الحسين بن علی) ۔

(مزید حصہ دوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305361635033216/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_سیدنا_امام_حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305448631691183/
محترم قارئینِ کرام : تخلیق کائنات سے لیکر آج تک کی تاریخ کو اگر بغور دیکھا جائے تو بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں، لیکن جس طرح سرزمین کربلا میں امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اپنے جان نثاروں کے ساتھ ہوئی ہے اس طرح کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ کی ولادت سے لے کر شہادت تک کے واقعات کو پڑھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کے بچپن کے حالات کو دیکھتے ہیں احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں :

عن ابی رافع رضی اللہ عنہ ان النبی صلّی اللہ علیہ وسلم اَذَّنَ فی اذن الحسن والحسین علیہم السلام حین ولدا ۔ (مجمع الزوائد)
حضرت ابی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت امام حسن و حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے خود ان دونوں کے کانوں میں آذان دی ۔

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ان رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم عق عن الحسن و الحسین کبشا کبشا ۔ (سنن ابوداؤد شریف)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے خود امام حسن اور امام حسین کی طرف سے عقیقے میں ایک ایک دنبہ ذبح کیا ۔

عن المفضل قال ان اللہ تعالیٰ حجب اسم الحسن و الحسین حتیٰ سمی بہما النبی صلّی اللہ علیہ وسلم ابنیہ الحسن و الحسین ۔ (البدایہ والنہایہ ابن کثیر)
ترجمہ : حضرت مفضل سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن اور حسین کے ناموں کو حجاب میں رکھا یہاں تک حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹوں کا نام حسن اور حسین رکھا ۔

عن یحییٰ بن ابی کثیر ان النبی صلّی اللہ علیہ وسلم سمع بکاء الحسن و الحسین فقام زعما فقال ان الولد لفتنۃ لقد قمت الیہما وما اعقل۔ (ابن ابی کثیر البدایہ والنہایہ،چشتی)
ترجمہ : حضرت یحییٰ بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا رونا سنا تو آپ پریشان ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا بیشک اولاد آزمائش ہے میں بغیر غور کرنے کے کھڑا ہوگیا ہوں ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے تو حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہوگئے تو لوگوں نے ان کو منع کیا تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو چھوڑدو، ان پر میرے ماں باپ قربان ہیں ۔

حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی ۔ (سنن ابن ماجہ)

حضرت ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی و فاطمہ و حسن و حسین رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھا اور فرمایا جس نے تم سے جنگ کی اس نے مجھ سے جنگ کی ۔(مشکوٰۃ المصابیح)

شہادت سے قبل شہات کی خبریں
مذکورہ روایت کی طرح اور بھی کئی روایات موجود ہیں جن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کس طرح امام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کرتے تھے، کس طرح امام حسین کو اپنے کندھوں پر سوار کرتے تھے ، کس طرح امام حسین کا رونا آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا تھا۔ کس طرح امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہ کےلیے جنت سے کپڑے آتے تھے ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہید کربلا امام عالی مقام میرے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے تھے اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اس معرکہ عظیم کے دن کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خود تربیت بھی فرماتے تھے ۔ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں صراحۃ فرماتے تھے کہ میرے اس بیٹے کو میری امت کے اوباش حاکم شہید کریں گے ۔ اور کبھی فرماتے تھے کہ ”یا ام سلمۃ اذا تحولت ہٰذہ التربۃ دما فاعلمی ان ابنی قد قتل“۔ (معجم الکبیر عربی،چشتی)
ترجمہ : اے ام سلمہ جب یہ مٹی خون میں تبدیل ہوجائے تو یقین کرلینا کہ میرا لخت جگر شہید کیا گیا۔میرے محبوب نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی وفات کی جگہ بھی بیان فرمادی تھی کہ ”انہ تقتل بکربلائ“ یہ میرا نواسہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کربلاء کی زمین میں شہید کیا جائے گا ۔

ایسے دور میں جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ رونما ہونے والا تھا تو اس دور کےلیے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ : تعوذوا باللہ من سنۃ سنین و امارۃ الصبیان ۔ (البدایہ والنہایہ جلد نمبر ۸،چشتی)
ترجمہ : یعنی ساٹھ ہجری کے سال اور لڑکوں کی حکومت سے پناہ مانگو۔ اس مذکورہ حدیث کو سامنے رکھ کر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دعا کرتے تھے کہ ”اللّٰہم انی اعوذبک من رأس الستین وامارۃ الصبیان“ اے اللہ میں ساٹھ ہجری اور لڑکوں کی حکومت سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”ان ہلاک امتی او فساد امتی رؤس امراء اغیلمۃ سمہاء من قریش“ بیشک میری امت کی ہلاکت یا فساد قریشوں کے بیوقوف اور اوباش حکمرانوں کے ہاتھوں ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل،چشتی)

مذکورہ صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح امام حسین رضی اللہ عنہ سے میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے محبت اور پیار کیا تھا اس کا مثال ملنا محال ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اپنے محبوب نواسے کو یہ سب کچھ سمجھادیا کہ تیری شہادت کب، کہاں اور کیوں ہوگی ۔ اب ہم اگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے آپ نے کس طرح اپنے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی شریعت و سنت کو اپنی جان سے عزیز تر سمجھا تھا کہ کبھی پوری رات نماز میں ہوتے تھے، کبھی تلاوت میں، کبھی مخلوق کی خدمت میں، کبھی سخاوت میں، ہر وقت اوامر و نواہی پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

جب حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی سے آپ کو محبوب حقیقی کی طرف سے وصال کا پیغام آیا اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم برقعہ پوش ہوگئے تو اس وقت عالم اسلام کے لیے قیامت کا منظر تھا۔ لیکن اس کے بعد گلشن توحید کی آبیاری کے لیے خلفائے راشدین اس گلشن کو اپنے محبوب قائد صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے بڑھاتے رہے۔ حتیٰ کہ وہ ساٹھ ہجری کا وقت آگیا جس کے متعلق حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”یہ میری امت کو قریش کے اوباش حکمران تباہ کریں گے ۔

اب ایک ظالم و جابر حکمران سامنے آتا ہے اور شریعت کی حدود کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے۔ شراب پینا شروع کردیا، زنا عام ہوگئی، قتل و غارت عام ہوگئی، ظلم بڑھنے لگا ۔ اب یہ وقت تھا جب شہید کربلا امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے محبوب آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہر طرف نظر آنے لگا ”کہ میری امت کو اوباش حکمران ہلاک کریں گے ۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ جب عربستان کی سر زمین پر معصوم بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا، بت پرستی عام تھی، ویاج خوری عام تھی، زنا کو زندگی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، جہالت و ظلم کی انتہا تھی ۔ ایسے پرفتن دور میں میرے محبوب آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح توحید کا اعلان کیا تھا، میرے محبوب آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کے بعد کس طرح ابولہب نے ناشائستہ کلمات کہے تھے جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورہ لہب نازل فرمائی تھی۔ میرے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کو طائف کے میدان میں کس طرح لہولہاں کردیا گیا تھا۔ میرے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کی پہلی غلام عورت حضرت بیبی سمیہ رضی اللہ عنہا کو کس طرح ظالموں نے سرعام شہید کردیا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو کس درخت کے ساتھ باندھ کر اور تیروں سے آپ کے جسم کو خون میں نہلایا گیا تھا۔ میرے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح اپنے صحابہ کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور کیا گیا تھا۔ اور ان تین سالوں میں کتنے معصوم بچے اسلام کی آبیاری کے لیے بھوکے پیاسے شہید ہوگئے تھے، کتنی معصوم بچیاں پانی کے ایک گھونٹ کے لیے چلاتی چلاتی تڑپتی ہوئی حالت میں دم توڑ چلی تھیں۔ میرے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح جنگ احد میں اپنے رب کریم کی توحید کی بلندی کے لیے اپنے دانت مبارک شہید کروادیے تھے ۔

یہ وہ منظر تھا جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات کے سامنے ہر وقت طواف کررہا تھا، اب جب ایک ظالم نے اس گلشن اسلام کی ویرانی کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی تو حضرت امام حسین کی روح تڑپ اٹھی، آنکھوں کے سامنے محبوب آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک تھا کہ عنقریب قریش کے اوباش حکمران میری امت کو ہلاک کردیں گے ۔

اس دینِ محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا تن من دھن، اپنا وطن، اولاد، مال، دولت ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ جب تاریخ عالم نے دیکھا کہ ایک طرف ہزاروں لوگ جو بظاہر مسلمان تھے اپنے محبوب نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے کو بھوکا اور پیاسا دیکھتے خوشی محسوس کررہے تھے ۔ لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ کو اور ان کے جان نثاروں کو پانی کا ایک گھونٹ پلانا ان کی نظر میں بڑا جرم تھا ۔ در حقیقت یہ مقام رضا تھا جہاں بڑے بڑے اولیاء اللہ بھی ڈگمگاتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا فیصلہ ہے کہ انسان کو بھوک، خوف، مال، ثمرات وغیرہ کی کمی سے آزمایا جاتا ہے کہ دیکھا جائے کہ انسان اپنے مالک حقیقی کی رضا پر راضی رہتا ہے یا نہیں ۔ لیکن تاریخ عالم نے دیکھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس مقام پر بھی رضا کا دامن نہیں چھوڑا اور جابر و ظالم کے سامنے اپنی گردن نہ جھکائی۔ اب وہ آخری مرحلہ مقام رضا بھی آ پہنچا جب حضرت امام عالی مقام کے سامنے آپ کے جان نثاروں کو ایک ایک کرکے شہید کیا گیا۔
اور آخر وہ گھڑی بھی آگئی جب معصوم علی اصغر کی شہادت واقع ہوئی۔ لیکن اس صبر کے پہاڑ نے اپنے نانا محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مضبوطی کے ساتھ سنبھال کر رکھا۔ اور پھر یہ مرد مجاہد مرد غازی جس نے 72 نفوس قدسیہ کے ساتھ بالآخر خود بھی شہادت کا جام پی لیا۔ اور اپنے نانا کے دین کے ساتھ ایسا رشتہ جوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملا جس کا مثال تاریخ عالم میں ملنا محال ہے ۔

حضرت امام عالی مقام کی شہادت کا پہلا پیغام عملی جدوجہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ کو فقط رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اپنے عمل و حال و قال میں شامل کرلیا جائے اور اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، یعنی معلوم کیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے ۔

یزید نے کھلم کھلا اسلام کا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی، مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں۔ وہ اسلام کا نام بھی لیتا تھا، وہ یہ بھی کہتا تھا کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، میں مسلمان بھی ہوں، میں موحد بھی ہوں، میں حکمران بھی ہوں، میں آپ کا خیر خواہ بھی ہوں۔ اسلام کا انکار یہ تو ابوجہلی ہے، ابولہبی ہے۔ یزیدی کردار یہ ہے کہ مسلمان بھی ہو اور اسلام سے دھوکہ بھی کیا جائے، امانت کی دعویٰ بھی ہو اور خیانت بھی کی جائے، نام اسلام کا لیا جائے اور آمریت بھی مسلط کی جائے۔ اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو کچلا جائے۔ اسلام سے دھوکہ فریب یزیدیت کا نام ہے۔ بیت المال میں خیانت کرنا، دولت کو اپنی عیش پرستی پر خرچ کرنا یزیدیت کا نام ہے۔ معصوم بچوں اور بچیوں کے مال کو ہڑپ کرنا یزیدیت کا نام ہے۔ مخالف کو کچلنا اور جبراً بیعت اور ووٹ لینا یزیدیت کا نام ہے ۔

آج روحِ حسین رضی اللہ عنہ ہم سے پکار پکار کر کہتی ہے کہ ”میری محبت کا دم بھرنے والوں میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میری محبت رسمی ہے یا پھر آج تم کوئی معرکہ کربلا برپا کرتے ہو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میری محبت میں پھر تم آج کے وقت یزیدیوں کو للکارتے ہو یا نہیں۔ روح حسین رضی اللہ عنہ آج پھر دریائے فرات کو رنگین دیکھنا چاہتی ہے، آج تمہارے صبر و استقامت کا امتحان لینا چاہتی ہے۔ کہ کون اسلام کا جھنڈا سربلند کرتے ہوئے تن من دھن کی بازی لگاتا ہے، کون ہے جو مجھ سے حقیقی پیار کرتا ہے ۔

حسینیت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں جہاں تمہیں یزیدیت کے کردار کا نام و نشان نظر آئے حسینی لشکر کے غلام و فرد بن کر یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کردو۔ اس کے لیے اگر تمہیں مال، جان، اور اپنی اولاد ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے ۔

پہلے حسینی کردار کی تجلی اپنے اندر پیدا کرو، سیرت حسین کو اپنے سینے پہ سجالو، پھر اس قوت حسینی سے یزیدی کردار کی مخالفت کرو اور اس کا مقابلہ کرو۔ کاش ہمیں وہ دل نصیب ہوجائے جس میں عمل و محبت حسین رضی اللہ عنہ ہو۔ کیوں کہ یہ دنیا تو ہر کسی کو چھوڑنی ہے، جس نے اقتدار کے نشے میں اگر لوگوں کا قتل عام کیا، معصوموں کا خون بہایا، ظلم کے پہاڑ گرائے وہ بھی مرگیا، جس نے اپنے سینے پر تیروں کو جگہ دی، شریعت کی پیروی کی، مخلوق کی خدمت کی وہ بھی چلا گیا۔ لیکن یزیدیت تباہی و بربادی کا نام ہے، اور حسینیت محبت و اخوت و بہادری کا نام ہے۔ جو ظالم ہوکر مرتا ہے وہ خالق و مخلوق کی نظر میں مردود ہے۔ جو عادل ہوکر اپنی جان رب کریم کے حوالے کرتا ہے وہ مقبول ہو جاتا ہے ۔ یہی شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا فلسفہ تھا ۔ یہی آپ کا جذبہ تھا کہ حسینیت کبھی کسی ظالم و جابر کے سامنے سرخم نہیں کرتی اور کبھی مصیبت میں نہیں گھبراتی ۔ وہ مصیبت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہے تو خوشی میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پیغام و مقصد کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔

(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305448631691183/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_سیدنا_امام_حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305579728344740/
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نواسے ہیں اس عظیم ہستی کے جن کے امتی ہونے کےلیے انبیاء کرام علیہم السلام دعائیں کرتے رہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کے واسطہ سے ہمیں ایمان و نعمت اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں فرمان الہی سنایا اور اسلام کے احکامات بتلانے کےلیے طائف کی ستم ظریفیا ں اور شعب ابی طالب کی مصیبتیں و سختیاں برداشت کیں ۔ ہر درد دینے والے کو دعادی پر کوئی عوض نہ چاہا سوائے اس کے کہ جسے اللہ تعالی نے یوں ارشاد فرمایا : لَا أَسْأَ لُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی ۔
ترجمہ : میں (محمدرسول اللہ) تم سے اس (تبلیغ اسلام)پر کوئی اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے ۔

جب یہ آیۃ نازل ہوئی تو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا ۔ اے اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن سے آپ نے محبت کرنیکا فرمایا ہے ان سے کون سی وہ اعلی شخصیات مرادہیں جن سے محبت کرنے پر خود رب کائنات نے بھی ارشاد فرما دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علی ، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے رضی اللہ عنہم ۔ (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر: 2575)

ایک اور مقام پر ان سے محبت کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےہدایت کی اساس قرار دیتےہوئے فرمایا حضرت زید بن ارقم اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فرمایا : اِنِّيْ تَارِکٌ فِيْکُمْ ثَقْلَيْن اِنْ اَخَذْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوْا کِتَابَ اللّٰه وَعِتْرَتِيْ اَهْلَ بَيْتِيْ فَانْظُرُوْا کَيْفَ تَخْلُفُوْنِيْ فِيْهِمَا ۔
ترجمہ : لوگو میں تم میں دو بھاری (نہایت اہمیت والی) چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ، اگر تم نے اِن دونوں کو تھامے رکھا (ہر عمل ان کی ہدایات کے مطابق کیا) تو ہر گزگمراہ نہ ہوں گے : کتاب اللہ اور میری اہل بیت ۔ دیکھنا ! میرے بعد تم اِن دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ۔ (جامع ترمذی، ج5، ص662، حديث نمبر 3786/3788،چشتی)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اتنے پیارے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ ۔
ترجمہ : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب منا قب الحسن والحسین علیہما السلام ج2 ص 218 حدیث نمبر 4144)

آپ کی ولادت کی خبر پیدائش سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دی گئی تھی جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چچی ام فضل بنت حارثہ کی روایت سے ثابت ہے کہ ایک دن انہوں نے ایک خواب دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آج رات میں نے ایک ڈرا دینے والا خواب دیکھا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اے چچی جان ! آپ نے ایسا کیا دیکھا ہے خواب میں ؟ عرض کرنے لگی بہت ہی فکر کاباعث ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ ہے کیا ؟ عرض کرنے لگی کہ میں نے دیکھا ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیاہے اور میری گو د میں رکھ دیا گیا ہے ۔ سننے کے بعد مسکراتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے کہ تم نے تو کتنا شاندار خواب دیکھا ہے ۔ فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنہا کو صاحبزادے تولد ہونگے اور وہ تمہاری گود میں پرورش پائیں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیان فرمائی ہوئی بشارت کے عین مطابق ہی بی بی فاطمۃالزھرا رضی اللہ عنا کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تولد ہوئے اور وہ میری گود میں آئے ۔ (مشکوۃ المصابیح،ج۱،ص572،چشتی)

آپ رضی اللہ عنہ جہاں نواسہ ختم الرسل ہیں وہاں ان خوش نصیبوں میں سے بھی ہیں جن کے نام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود تجویز فرمائے ۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے : عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالی عَنْہُ , أَنَّہُ سَمَّی ابْنَہُ الأَکْبَرَ حَمْزَۃَ ، وَسَمَّی حُسَیْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّہِ ، فَسَمَّاہُمَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَیْنًا ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے بیٹے حضرت حسن کا نام مبارک حمزہ اور چھوٹے بیٹے کا نام مبارک آپ کے چچا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کانام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا ۔ (معجم کبیر طبرانی حدیث نمبر2713،چشتی)

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ایک موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دونوں نام رکھنے کی وجہ بھی بیان فرما دی ۔ حسن اور حسین یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء ہیں اور اسلام سے پہلے عرب میں یہ دونوں نام نہیں رکھے گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر و شبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا انہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا۔ (صواعق محرقہ صفحہ 118)

اس لیے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو شبیر اور شبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ سریانی زبان میں شبیر و شبر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔ علامہ ابن حجر مکی ہیتمی نے الصواعق المحرقہ میں صفحہ 115 پر یہ روایت درج فرمائی ہے ۔

امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے اور القاب مبارکہ ریحانہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سید شباب اھل الجنۃ ، الرشید ، الطیب ، الزکی ، السید اور المبارک ہیں ۔

جب آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت ہوئی تو آپ کے کانوں میں آذان کہی گئی اور وہ آذان کی متبرک آواز حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تھی ۔ جیسا کہ روایت میں آتا ہے
عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ” أَذَّنَ فِی أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ حِینَ وُلِدَا ۔
ترجمہ : حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حسن اور حسین پیدا ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے کانوں میں آذان کہی ۔(معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر 2515)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہماکی ولادت پر عقیقہ کیا اور اس کے لئے ایک ایک دنبہ کو ذبح فرمایا جیسا کہ ابو داود شریف کی روایت ہے : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ کَبْشًا کَبْشًا ۔
ترجمہ : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فی العقیقۃ صفحہ 392 حدیث نمبر 2843،چشتی)سنن نسائی کتاب العقیقۃ حدیث نمبر 4230)(سنن بیہقی حدیث نمبر1900)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا : یَمْتَصُّ لُعَابَالْحُسَیْن کَمَا یَمْتَصُ الرَّجُلُ التَّمَرَۃَ ۔ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لعابِ دہن مبارک (رال ، تھوک) کو اس طرح چوستے ہیں جیسے کہ آدمی کھجور چوستا ہے ۔ (نور الابصار صفحہ 114)

کیا محبت کا عالم ہو گا ۔ اتنی محبت جہاں میں کسی نے بھی اپنے نواسوں سے نہیں کی ہو گی پر نواسوں نے بھی محبت کا حق ادا کیا ،خاندان لوٹا دیے ،گردنیں کٹوا دیں پر نانا کے دین پر حرف نہ آنے دیا ۔ ایک مرتبہ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں بٹھایا اور آپ کے لبوں کو بوسہ دے کر ان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح فرمایا اور ساتھ ساتھ جوان سے محبت کرے ان کو بھی دعا دی فرمایا : اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا ۔
ترجمہ : اے اللہ !میں ان (حسن و حسین) سے محبت رکھتا ہو ں تو بھی ان سے محبت رکھ اور جو ان سے محبت رکھے اس کو اپنا محبوب بنا لے ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام جلد 2 صفحہ 218،چشتی)

ایک اور مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن و حسین کی شان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : فَقَالَ ہَذَانِ ابْنَایَ وَابْنَا ابْنَتِی اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا ۔
ترجمہ : یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ تو ان دونوں سے محبت فرما اور جو ان سے محبت رکھے اسکو اپنا محبوب بنالے ۔ (جامع ترمذی باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام حدیث نمبر 4138)

کیا کمال شخصیت ہیں خود تو اللہ کو محبو ب ہیں جو ان سے محبت کرے وہ بھی اللہ کے محبوبوں میں شامل ہو جاتا ہے ۔کیونکہ ایسے انسان کےلیے جو حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت کرتاہے خود رسول خدا دعا فرما رہے ہیں : أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ اس کو اپنا محبوب بنالے جس نے حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھی ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام جلد 2 صفحہ 218 حدیث نمبر 4144،چشتی)

ایک لحاظ سے تو اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کو جو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ان سے محبت کرے کو ایک نسخہ بتا دیا کہ ہر وقت امامین حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے قصیدے پڑھیں ، ان کی شان کو بیان کریں کیونکہ ان کی شان کو بیان کرنا سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور سنت بھی ایسی کہ جو نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کے عالم کا اندازہ تو کریں کہ نہ صرف اس کےلیے دعا فرمائی جو ان سے محبت کرتاہے بلکہ جو ان سے بغض رکھتا ہے اس کےلیے وعید بھی بیا ن فرما دی اس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس نے کفار کے ظلم پر بھی بارگاہِ خداوندی میں یہ کہا کہ اے اللہ ان کو ہدایت عطا فرما یہ نہیں پہچانتے مجھ کو کہ جو حسنین کریمین سے بغض رکھتا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض رکھتا ہے جیسا کہ فرمان ہے : عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِی وَمَنْ أَبْغَضَہُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِی ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا ۔ (سنن ابن ماجہ شریف باب فضل الحسن والحسین ابنی علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہم حدیث نمبر148)

یہ شہزادے تو وہ ہیں جن کا رونا بھی محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نا گوار گزرتا ہے

عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ زِیَادَۃَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ فَمَرَّعَلَی بَیْتِ فَاطِمَۃَ فَسَمِعَ حُسَیْنًا یَبْکِیْ فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَہُ یُؤْذِیْنِیْ ۔
ترجمہ : سیدنازید بن ابی زیادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دولت خانہ سے گزر ہوا ، امام حسین رضی اللہ عنہ کی رونے کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا : بیٹی کیا آپ کو معلوم نہیں ان کارونا مجھے تکلیف دیتا ہے ۔ (نورالابصارفی مناقب ال بیت النبی المختار ص139،چشتی)

کیوں نہ ایسی حالت ہوتی جن کے بارے میں میرے پیارے مصطفی کا یہ فرمان ہو : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ۔ اِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنُ ھُمٰا رُ یُحَانِیْ مِنَ الدُنْیَا حسن اور حسین ضی اللہ عنہما دنیا کے میرے دو پھول ہیں ۔ (مشکوٰۃ شریف صفحہ 570)

ایک بار تو ایسا ہو ا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی خاطر منبر سے خطبہ فرماتے وقت خطبہ کو موقوف کر دیا ، منبر سے نیچے تشریف لائے اور ان کو اپنی گود میں لے لیا جیسا کہ جامع ترمذی شریف سنن ابوداؤد شریف ، سنن نسائی شریف میں حدیث مبارک ہے : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی : بُرَیْدَۃَ یَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا وَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ) فَنَظَرْتُ إِلَی ہَذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سرخ دھاری دار قمیص مبارک زیب تن کیے لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر شریف سے نیچے تشریف لائے امام حسن و امام حسین رضی ا للہ عنہما کو گود میں اٹھا لیا پھر (منبر مقدس پر رونق افروز ہوکر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ، تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان ہے میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا سنبھل سنبھل کر چلتے ہوئے آرہے تھے لڑکھڑا رہے تھے مجھ سے صبر نہ ہو سکا یہاں تک کہ میں نے اپنے خطبہ کو موقوف کرکے انہیں اٹھالیا ہے ۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے ہی فرما دیا تھا : إِنَّ اِبْنِیْ ہَذَا یَعْنِی الْحُسَیْنَ یُقْتَلُ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِ الْعِرَاقِ یُقَالُ لَہَا کَرْبَلَاء ، فَمَنْ شَہِدَ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَلْیَنْصُرْہُ - (البغوی وابن السکن والباوردی وابن مندہ وابن عساکر عن أنس بن الحارث بن منبہ ۔
ترجمہ : یقینا میرا یہ بیٹا یعنی حسین رضی اللہ عنہ عراق کے ایک علاقہ میں شہیدکیا جائے گا ، جسے کربلا کہا جائے گا ، توافراد امت میں سے جو اس وقت موجود ہو اسے چاہیے کہ ان کی نصرت و حمایت میں کھڑا ہو جائے ۔ (کنز العمال حدیث نمبر 34314،چشتی)

جبکہ شہید کرنے اور مخالفت کرنے والوں نے اس ارشاد کو بھولا دیا : الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ۔
ترجمہ : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب مناقب الحسن و الحسین علیہما السلام حدیث نمبر 4136)

اور سردار اپنی شاہی میں اپنے فرمانبرداروں کو ہی ساتھ رکھتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں اور منبروں پر سمجھاتے ہیں کہ وہ سیاست کےلیے وہاں گئے تھے وہ خود اندازہ کر لیں کہ کس منہ سے وہاں حاضر ہوں گے ۔

اس کو بھی و ہ بھول گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ا ن کو اپنے جاہ و جلال ، سرداری اور جرات و سخاوت کا وارث بنایا تھا : عَنْ فَاطِمَۃَ بنتِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنَّہَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَکْوَاہُ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ! ہَذَانِ ابْنَاکَ فَوَرِّثْہُمَا شَیْئًا، فَقَالَ:أَمَّا الْحَسَنُ فَلَہُ ہَیْبَتِی وَسُؤْدُدِی، وَأَمَّا حُسَیْنٌ فَلَہُ جُرْأَتِی وَجُودِی ۔
ترجمہ : خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرضِ وصال کے دوران حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ آپ کے شہزادے ہیں ، انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن’ میرے جاہ وجلال اور سرداری کا وارث ہے اور حسین’ میری جرات و سخاوت کا ۔ (معجم کبیر طبرانی حدیث نمبر 18474)(جامع الاحادیث للسیوطی مسانید النساء مسند فاطمۃ رضی اللہ تعالی عنہا حدیث نمبر 43493،چشتی)(کنز العمال باب فضل الحسنین رضی اللہ عنہما حدیث نمبر 37712)

آپ کی شہادت عظمی روز عاشورہ دس (10) محرم الحرام سنہ اکسٹھ(61) ہجری میں ہوئی ، جیساکہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں نقل فرمایا ہے : قال الزبیر بن بکار : قتل الحسین یوم عاشوراء سنۃ إحدی وستین وکذا قال الجمہور ۔
سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی شہرت بھی عام ہو گئی تھی ۔ حضرت علی ، حضرت فاطمۃالزہرا اور دیگر صحابہ کبار و اہلِ بیت کے جان نثار رضی اللہ عنہم سبھی لوگ آپ کے زما نۂ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور ان کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا ۔ جیسا کہ ان احادیث کریمہ سے ثابت ہے جو آپ کی شہادت کے بارے میں وارد ہیں ۔جیسا کہ روایت میں مذکور ہے : حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ اِنَّ اُمَّتِیْ سَتَقْتُلْ اِبْنِی میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی حضرت اُم الفضل کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! (امام حسین اس وقت گودِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں تھے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کیا اس فرزند کو شہید کرے گی ! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں پھر حضرت جبرئیل میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سرخ مٹّی بھی لائے ۔ (مشکوٰۃ صفحہ 572)
اور ابن سعد اور طبرانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اِنَّ اِبْنِیْ اَلْحُسَیْنُ یُقْتَلْ بَعْدِ بِاَرْضِ الطَّفِ میرا بیٹا میرے بعد ارضِ طِف میں قتل کیا جائے گا ۔ اور جبرائیل میرے پاس وہاں کی مٹی بھی لائے اور مجھ سے کہا کہ یہ حسین کی خوابگاہ (متقل) کی مٹی ہے ۔ (الصواعق المحرقہ، صفحہ 118)

طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں ۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دینے کےلیے اللہ سے اجازت طلب کی جب وہ فرشتہ اجازت ملنے پر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ ان کو چومنے اور پیار کرنے لگے ۔ فرشتے نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ حسین سے پیار کرتے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا اِنَّ اُمَّتَکَ سَتَقْتُلْہ’ آپ کی امت حسین کو قتل کر دے گی ۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان کی قتل گاہ کی (مٹی) آپ کو دکھا دوں ۔ پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے میں لے لیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام سلمہ ! جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس مٹی کو ایک شیشی میں بند کر لیا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن خون ہو جائے گی ۔ (الصواعق المحرقہ، صفحہ 118) ۔ (تفصیل آنے والے مضمون میں ان شاء اللہ)

اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ عنہ کو چھ شہزاد ے اور تین شہزادیاں عطا فرمائیں (1) حضرت علی اکبررضی اللہ عنہ (2) حضرت علی اوسط (امام زین العابدین رضی اللہ عنہ) (3) حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ (4) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ(5) حضرت محمد رضی اللہ عنہ (6) حضرت جعفررضی اللہ عنہ (1) حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (2) حضرت سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا (3) حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ (نورالابصار فی مناقب اٰل بیت النبی المختار صفحہ 52 للعلامہ شبلنجی مولود 1250ھ) ۔

(مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305579728344740/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_سیدنا_امام_حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ چہارم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305597765009603/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر دے دی تھی اور آپ کی شہادت پر صدمہ ہوا اور بوقت شہادت کربلا میں موجود تھے سابقہ مضامین میں مختصراً عرض کیا گیا تھا مکمل و مفصّل حوالہ جات درج ذیل ہیں :

اہلحدیث حضرات کے محقق علماء لکھتے ہیں : شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دی تھی اور بوقت شہادت امام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کربلا میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صدمہ ہوا ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 104 تحقیق حافظ زبیر علی زئی غیر مقلد اہلحدیث وہابی)

عن ام سلمة قالت قال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقتل حسين بن علي علي رأس سيتن من المهاجري ۔ (مجمع، 9 : 190)۔(بحواله طبراني في الاوسط)
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حسین بن علی کو ساٹھ ہجری کے اختتام پر شہید کر دیا جائے گا ۔

غیب کی خبریں بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کی نشاندہی کردی کہ یہ عراق کا میدان کربلا ہوگا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ یہ عظیم سانحہ 61 ہجری کے اختتام پر رونما ہوگا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر دعا فرمایا کرتے : اللهم انی اعوذبک من رائس الستين وامارة الصبيان ۔
ترجمہ : اے اللہ میں ساٹھ ہجری کی ابتدا اور (گنوار) لڑکوں کی حکومت سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ (الصواعق الحرقه : 221)
60 ہجری کی ابتدا میں ملوکیت کی طرف قدم بڑھایا جاچکا تھا اور یہی ملوکیت وجہ نزاع بنی ۔ اور اصولوں کی پاسداری اور اسلامی امارت کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خاطر نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا کے میدان میں حق کا پرچم بلند کرتے ہوئے اپنی اور اپنے جان نثاروں کی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ اہل حق کٹ تو سکتے ہیں کسی یزید کے دست پلید پر بیعت کرکے باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ وہ نیزے کی انی پر چڑھ کر بھی قرآن سناتے ہیں۔ ان کے بے گور و کفن لاشوں پر گھوڑے تو دوڑائے جاسکتے ہیں لیکن انہیں باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا، یہی لوگ تاریخ کے چہرے کی تابندگی کہلاتے ہیں اور محکوم و مظلوم اقوام کی جدوجہد آزادی انہی نابغان عصر کے عظیم کارناموں کی روشنی میں جاری رکھتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 60 ہجری کی ابتدا سے پناہ مانگتے تھے کہ خلفائے راشدین کے نقش قدم سے انحراف کی راہ نکالی جا رہی تھی، لڑکوں کے ہاتھ میں عنان اقتدار دے کر اسلامی ریاست کو تماشا بنایا جا رہا تھا۔ کہ اب سنجیدگی کی جگہ لا ابالی پن نے لے لی تھی ۔

حضرت یحیٰ حضرمی کا ارشاد ہے کہ سفر صفین میں مجھے شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔ جب ہم نینوا کے قریب پہنچے تو داماد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو عبداللہ! فرات کے کنارے صبر کرنا میں نے عرض کیا ’’یہ کیا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبرئیل نے خبر دی ہے : ان الحسين يقتل بشط الفرات و اراني قبضة من تربته ۔
ترجمہ : حسین رضی اللہ عنہ فرات کے کنارے قتل ہوگا اور مجھے وہاں کی مٹی بھی دکھائی ۔ (الخصائص الکبریٰ 2 : 12،چشتی)

حضرمی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی شیر خدا رک کر اس زمین کو دیکھنے لگے تو اچانک بلند آواز میں گویا ہوئے۔ ابو عبداللہ! حسین رضی اللہ عنہ بر کرنا۔ ہم سہم گئے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے، آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ اس میدان کربلا میں میرا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوگا ۔

حضرت اصبغ بن بنانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اتينا مع علي موضع قبر الحسين فقال ههنا مناخ رکابهم و موضع رحالهم و مهراق دمائهم فئة من ال محمد صلي الله عليه وآله وسلم يقتلون بهذه العرصة تبکی عليهم السماء والارض ۔
ترجمہ : ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبر حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ان کے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ اور یہ ان کے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ان کے خون بہنے کا مقام ہے۔ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک گروہ اس میدان میں شہید ہوگا جس پر زمین و آسمان روئیں گے ۔ (الخصائص الکبری، 2 : 126،چشتی)(سر الشهادتين : 13)

گویا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کا پورا نقشہ کھینچ دیا کہ یہاں پر وہ شہادت کے درجہ پر فائز ہوگا اور یہاں خاندان رسول ہاشمی کا خون بہے گا ۔