🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمۃ
یوم وصال 3 شعبان المعظم ¹⁶¹ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufyan-suri
آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور والد کا نام سعید تھا۔ کوفی الاصل تھے۔ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی توبہ کا آغاز اس واقعہ سے ہوا کہ ایک دن مسجد میں داخل ہوتے ہوئے لاپروائی سے بایاں قدم اندر رکھا غیب سے آواز آئی اے سفیان! کیا تم ثور ہو یعنی چوپایا ہو۔ یہ بات سنتے ہی بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو افسوس سے اپنے منہ پر طمانچہ مارتے اور کہتے تم نے چوپایوں کی طرح مسجد میں بایاں قدم رکھا تمہیں ادب نہیں تو تیرا نام انسانوں میں کیسے رکھا جاسکتا ہے۔ ایک دن خلیفہ وقت نماز کی جماعت کرا رہا تھا۔ مگر دوران نماز خلیفہ نے بے خیالی سے اپنے کپڑوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ آپ نے فرمایا: تمہاری یہ نماز تو نماز نہیں۔ قیامت کے دن ایسی نماز کو منہ پر مارا جائے گا۔ خلیفہ وقت نے کہا: بات آہستگی سے کریں مگر آپ نے فرمایا کہ میں ایسے کلمہ حق سے باز رہوں تو میرا پیشاب خون بن جائے گا۔ خلیفہ نے یہ بات بری جانی۔ دوسرے دن حکم دیا کہ سولی نصب کی جائے اور سفیان ثوری کو تختہ وار پر کھینچا جائے۔ تاکہ دوسرے گستاخوں کو عبرت ہو۔ حضرت سفیان نے سنا تو رونے لگے۔ اور کہا: اے اللہ ان ظالموں کو سزا دے۔ خلیفہ وقت اس وقت تخت پر بیٹھا تھا۔ اور اس کے وزراء اور امراء بھی حلقہ بنائے کھڑے تھے۔ اچانک چھت گری۔ اور خلیفہ اور اُس کے وزراء چھت  کے نیچے آکر ہلاک ہوگئے۔ آپ مخلوقِ خدا سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ایک دن بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک پنجرے میں پرندہ فریاد کر رہا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا اور آزاد کردیا۔ یہ پرندہ ہر روز حضرت سفیان کے گھر آتا آپ کو دیکھتا سر اور بازوؤں پر بیٹھتا۔ حضرت سفیان فوت ہوئے تو یہ پرندہ آپ کے جنازے پر اڑتا دکھائی دیا اس کی فریاد سے جنازے میں شریک لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے جب آپ کو دفن کردیا گیا تو وہ پرندہ آپ کی قبر پر تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ حضرت سفیان کی قبر سے آواز آئی کہ ہم نے سفیان کو خلق خدا کی محبت کے بدلے بخش دیا ہے۔ آپ کی وفات ۱۶۱ھ میں ہوئی۔ بعض تذکرہ نگاروں نے تاریخ سالِ وفات ۱۵۵ھ لکھا ہے۔

حضرت سفیان ثوری شیخ دیں
ہر دو سال وصل آں والا جناب
نیز با اق۔۔۔۔

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufyan-suri
Copyright © Zia-e-Taiba
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جلیل القدر تابعی، امیرالمؤمنین فی الحدیث، امام المسلمین، حضرت سیدنا ابو عبد اللہ سفیان بن سعید بن مسروق ثوری کوفی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ولادت 97ھ میں ہوئی۔ آپ علم حدیث و فقہ کے بہت بڑے عالم، محدثین و فقہائے کبار کے استاذ، صاحب زہد و تقوی، نہایت ذہین اور مضبوط حافظے کے مالک تھے۔ ایک قول کے مطابق آپ نے 600 اساتذہ سے کسب علم کیا۔ سیدنا عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے گیارہ سو شیوخ سے حدیث کا علم حاصل کیا، ان میں سب سے افضل سفیان ثوری کو پایا۔ آپ نے 3 شعبان المعظم 161ھ بروز جمعہ وصال فرمایا، مزار مبارک بصرہ میں بنی کلیب نامی قبرستان میں ہے۔ (سیر اعلام النبلاء، تاریخ بغداد، طبقات ابن سعد، وفیات الاخیار)

The Great Taabi’i, Imam al-Muslimeen, Ameer al-Mu’mineen fil Hadith, Sayyiduna Abu ‘Abdullah Sufyan bin Sa’eed bin Masrooq Sawri Kufi (Alayhir Rahmah) was born in 97 AH. He was incredibly eminent scholar of Hadith and Fiqh, teacher of prominent jurists and hadith masters, pious, ascetic, incredibly intelligent, and had a strong memory. According to one narration, he had acquired knowledge from 600 teachers. Sayyiduna ‘Abdullah bin Mubarak said: I acquired the knowledge of Hadith from 1100 teachers, and found Sayyiduna Sufyan Sawri most distinguished of all. He passed away on Friday, 3rd Shaban 161 AH and was laid to rest in Bani Kulayb cemetery in Basrah. [Siyar A’laam an-Nubala, Tarikh Baghdad, Tabaqat Ibn Sa’d, Wafiyat al-Akhyar]

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/1001151890607649/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی
یوم پیدائش 4 شعبان المعظم 1204
یوم وصال 3 شعبان المعظم 1350ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری وموعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے، آپ بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے، 4؍شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی،

تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی، حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بد ایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بد ایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی، دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے۔۔۔۔ دہلی سے واپس آکر والد بزرگوار کے قائم کردہ جامعہ شمسیہ کی ترقی کی اسکیم بنائی، چندہ کی فراہمی کے لیے اسفار کیے، نواب مزمل اللہ خاں رئیس بھیکم پور علی گڑھ، نواب سر حافظ احمد سعید خاں نواب چھتاری نے چندہ میں کافی رقم دی، اہلیان بمبئی وحیدر آباد نے بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا، مسٹر نگرام کلکڑ بد ایوں اور مسٹر لارڈ مسٹن گورنر مسٹن گورنر صوبہ یوپی نے وسط شہر میں خوش نما قطعہ آراضی مع عمارت دوامی پٹہ پر مدرسہ کے لیے دینا منظور کیا، مولوی ظہور حسین صاحب (ٹونک والا) نے علوہتمی سے شمس العلوم کا سری بقلک مینارہ اور دروازہ تعمیر کرایا، کتب خانہ کی خوشنما عمارت تیار ہوئی، دار الحدیث عثمانیہ کا نقشہ و تخمینہ تیار کر کے شاہ دکن کی خدمت میں پیش کردیا گیا، افسوس ہے کہ اسی زمانہ مسجد مچھلی بازار کان پور کا حادثہ اور خلافت کا مسئلہ پیش آگیا اور مولانا عبد الماجد کی توجہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی طرف سے ہٹ کر ملکی معاملات کی طرف مبذول ہوگئی ورنہ یہ مدرسہ باعتبار وسعت وعمدگی تعلیم ہندو پاک میں معیاری اور سب سے بڑا جامعہ ہوتا، مدرسہ کو ریاست رام پور سے مستقل ماہانہ امداد ملتی تھی۔  مولانا کی ملکی وقومی خدمات تادیر دلوں کو رُلائے گی، مولانا شاہ محمد عبد الباری فرنگی محلی نے حفاظت کعبہ کے لیے جب ‘‘خدام کعبہ’’ کے نام سے مجلس قائم کی تو سب سے پہلے بد ایوں حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر کی خدمت میں پہنچے اور تعاون وہمدردی کی درخواست کی، مولانا عبد الماجد بحکم پیر و مرشد خُدام کعبہ کی خدمت پر مامور ہوئے۔ 1919،22ھ میں لالہ لاج پت رائے اور شردھا نند کی کوششوں سے ملکانوں کی ارتداد کی مہم شروع ہوئی تو دیگر علمائے اہل سنت کے ساتھ آپ نے بھی رمضان المبارک میں جبکہ گرمی شباب پر ہوتی ملکانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے پیدل سفر کیے، عمر کا بیشتر حصہ سفر میں گذرا، پیر ومرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بد ایونی قدس سرہٗ کی معیت و ہمرکابی میں بغداد مقدس کا سفر کیا وفد خلافت کے ساتھ حجاز مقدس حاضر ہوئے، خلافت وکانگریس کے وفد میں موتی لعل نہر، حکیم اجمل خاں مولانا محمد علی جوہر اور مسٹر گاندھی کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا، آپ کے وعظ کا عجب حال تھا، نہایت ہی کیف بار اور وجد آگیں تقریر کرتے تھے، جوش تقریر میں عمامہ سر سے اُتر جاتا تھا، کان پور کے پیرڈ میدان کے رحبی شریف کے جلسہ کا آپ ہی کے ہاتھوں قیام ہوا، جہاں بھی ہوتے اس جلسہ میں ضرور تشریف لاتے، مولانا کے مواعظ کا ابتدائی دور تھا، کہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل بریلوی اور مولانا تھانوی کے درمیان مباحثہ تصفیہ کے لیے طے پایا، فاضل بریلوی نے حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ نے شوکت مذہب اہلسنت کے لیے شرکت کی درخواست کی حضرت نے آپ کو اور حضرت مولانا شاہ محب احمد قدس سرہٗ کو شرکت کے لیے بھیجا، وہاں بڑے بڑے علمائے اہل سنت تشریف فرماتھے، دس10بجے دن میں مولانا سید محمد فاخر کی تقریر کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب کا وعظ شروع ہوا، پہلے دیر تک منبر پر دوزانو بیٹھ کر دعا مانگی پھر کھڑے ہوکر آہستہ آہستہ خطبہ شروع کیا، مجمع سے آواز بلند کرنے کی درخواست ہوئی، ابھی دوچارہی جملے کہے تھے کہ بحر فصاحت موج آفریں ہوا، طبیعت روانی پر مائل ہوئی، جوش خطابت میں عباکے دامن لہرانے لگے، تھوڑی دیر میں عمامہ کے بل کھل گئے، اتنا مؤثر اور دل نشین وعظ تھا، کہ ہر طرف سے مرحبا صل علی ، جزاک اللہ کی صدا آرہی تھی، کوئی بے خودی میں اشک بارتھا، کسی طرف سے آہ وبکاکا شور تھا،مسئلہ علم غیب پر کلمہ الہی اور حدیث رسالت پناہی کے دلائل کے انبار پیش کرتے جارہے تھے مجمع بے خود دو ساکت تھا، کہ مولانا نے ایک بجے دھوپ کی تمازت اور پسینے سے شرابور ہونے کی وجہ سے دعا پر تقریر ختم کی، مجمع کےاصرار پر ظہر بعد پھر چار گھنٹہ تک تقریر فرمائی، 1931ء میں بمقام
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
لکھنؤ مسلم کانفرنس کا جلسہ تھا، اس میں شرکت کے لیے لکھنؤ گئے، راجہ صاحب سلیم پور کے مہمان ہوئے، نو9بجے شب رخصت ہوتے ہوئے مولانا حسرت موہانی مرحوم سے فرمایا ‘‘خدا حافظ’’ پھر اپنے ایک مُرید مولوی محمد نذیر صاحب کے یہاں جو صدر میں رہتے تھے اُن کے یہاں گئے، گیارہ بجے نماز عشاء پڑھی، اور دیر تک تلاوت قرآن پاک کی، اور اورادو وظائف سے فارغ ہوکر فرزند ارجمند حضرت مولانا عبد الواحد صاحب سے فرمایا، تم تنہا ہوگھبرانا نہیں، یہ کہہ کر سینے سے لگایاا ور فرمایا، آج روح بے چین ہے، دست وقےبار بار ہورہا ہے، تازہ وضو کرادو، نقاہت واناتوانی بے حد فزوں تھی، مولانا عبد الواحد صاحب کے کاندھے پر سر رکھ دیا اور یا غفور یا رحمان کہتے ہوئے دو شنبہ کی رات میں 3بجے 3؍شعبان المعظم 1350ھ موافق 14؍دسمبر 1931ء   کو واصل بحق ہوئے اور اس طرح عمر بھر کی بیقراری کو قرار آگیا، نو9بجے دن میں نعش بذریعہ موٹر روانہ ہوکر5بجے شام بد ایونی پہنچی 9؍بجے شب میں اسی جگہ پر غسل دیا گیا جہاں آپ کے مرشدان عظام کا غسل میت ہوتا تھا، ایک بجے شب میں مولانا قطب الدین عبد الوالی فرنگی محلی کے اصرار پر آخری زیارت کرائی ، صبح کے وقت جنازہ نانخانہ میں پہنچایا گیا توچند قطرے خون کے ناک سے جاری ہوئے، درگاہ قادری کی حاضری کے وقت تک بوقت رونمائی ناک سے تازہ خون اُپھن اُپھن کر بہہ رہا تھا، یہ مولانا کی اس دعا کا اثر تھا جو آپ اپنے والد ماجد کی طرح شہادت کی محافل میں شہید ہونے کے لیے مانگا کرتے تھے۔۔۔۔۔دس بجے دن میں عید گاہ شمسی میں حضرت شیخ الاسلام مولانا شاہ عبد القدیر بد ایونی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا ہوئی، درگاہ قادری میں اپنے مرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر قدس سرہٗ کے پائیں دفن کیے گئے، شکیل بد ایونی مرحوم کے والد ماجد مولانا جمیل احمد سوختہ مرحوم نے قطعۂ تاریخ وفات کہا ؎ شیخ کل حضرت عبد الماجد مقتدر عالم دیں، نیک مزاج یک بیک ہوگئے واصل بخدا ہوگئی علم کی دنیا تاراج رہبر دین، شہ دیں تھے حضور آپ تھے ملت حق کے سرتاج کہیئے یہ آپ کی تاریخ جمیل ’’ گل ہوا ہائے چراغ دین ‘‘ آج  (حیات طیّبہ، اکمل التاریخ، معارف، صدق جدید)

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
Copyright © Zia-e-Taiba
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_سیدنا_امام_حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/305361635033216/
محترم قارئینِ کرام : اللہ تعالی نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذریعہ ہمیں دولت ایمان ونعمت اسلام سے مالا مال و سرفراز فرمایا ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں اسلام کے احکام بتلائے قرآنی آیات سنائیں دین کی تمام تر تفصیلات بتلادیں لیکن آپ نے احکام کی تبلیغ پر کوئی بدلہ وعوض نہ چاہا البتہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت کا حکم فرمایا جیسا کہ ارشاد الہی ہے : قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی ۔
ترجمہ : تم فرماؤ : میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابت کی محبت ۔ (سورہ شوریٰ آیت نمبر 23)

یعنی اے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ فرما دیں کہ اے لوگو ، میں رسالت کی تبلیغ پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ، (جیسے دوسرے کسی نبی نے تبلیغِ دین پر کوئی معاوضہ نہیں مانگا) اس کے بعد جداگانہ طور پر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفار کو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ظلم و ستم کرنے سے باز رکھنے کیلئے فرمایا کہ تمہیں کم از کم میرے ساتھ اپنی قرابَتداری یعنی رشتے داری کا خیال کرنا چاہیے ، یعنی چونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے ہیں اور کفارِ مکہ بھی اپنی مختلف شاخوں کے اعتبار سے قریش سے تعلق رکھتے تھے تو انہیں کہا گیا کہ اگر تم ایمان قبول نہیں بھی کرتے تو کم از کم رشتے داری کا لحاظ کرتے ہوئے ایذاء رسانی سے تو باز رہو ۔

جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت بابرکت میں عرض کیا کہ وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر ضروری ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : عَنِ ابْنٍ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : "قُلْ لا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی" قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ، وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا ۔ علی فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے (رضی اللہ تعالی عنہم) ۔ (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر2575)

اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کرنے کا مطالبہ بظاہر تبلیغ اسلام کا بدلہ معلوم ہوتا ہے لیکن بات ایسی نہیں ہے بلکہ ایمان کے حصول کے بعد اس کی حفاظت کا انتظام انتہائی ضروری ہوتا ہے شیطان ہروقت ایمان کو تاراج کرنے کے مواقع ڈھونڈتاہے حفاظت ایمان کی خاطر اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم کی محبت ومودت کا حکم دیاگیا ،ان پاکباز ہستیوں سے تعلق ووابستگی باعث نجات اور ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے ۔

جنتی جوانوں کے سردار ، جگر گوشۂ بتول ، نواسۂ رسول ، سید الشہداء ، امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ فضائل و کمالات متعدد احادیث شریفہ سے ظاہر ہیں ، آپ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے محبوب نواسہ و لخت جگر اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چہیتی صاحبزادی ، سیدۃ نساء اہل الجنۃ سیدہ بتول زہراء رضی اللہ عنہا کے پارہ دل ہیں ۔

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ کی دائمی نسبت اور کمال قربت کو ظاہر کرتے ہوئے بیان فرمایا : حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ ۔
ترجمہ : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما جلد 2 صفحہ 218 حدیث نمبر 4144)

ولادت باسعادت کی بشارت

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چچی جان صاحبہ نے ایک فکر انگیز خواب دیکھا اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیں تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کی فرحت آفریں تعبیر بیان فرمائی اور امام عالی مقام کی ولادت کی بشارت دی جیساکہ امام بیہقی کی دلائل النبوۃ میں مذکور ہے : عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّہَا دَخَلَتْ عَلَی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہَ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَاَلَتْ : یَا رَسُوْلَ اللہِ ، إِنِّیْ رَأَیْتُ حُلْمًا مُنْکَرًا اَللَّیْلَۃَ . قَالَ : وَمَا ہُوَ ؟ قَالَتْ : إِنَّہُ شَدِیْدٌ . قَالَ : وَمَا ہُوَ ؟ قَالَتْ : رَأَیْتُ کَأَنَّ قِطْعَۃً مِنْ جَسَدِکَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِیْ حِجْرِیْ .
فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہَ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَأَیْتِ خَیْرًا ، تَلِدُ فَاطِمَۃُ إِنْ شَاءَ اللہُ غُلَامًا فَیَکُوْنُ فِیْ حِجْرِکِ . فَوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ الْحُسَیْنَ فَکَانَ فِیْ حِجْرِیْ کَمَا قَالَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہَ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلْتُ یَوْمًا عَلَی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہَ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُہَ فِیْ حِجْرِہِ ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّیْ اِلْتِفَاتَۃٌ ، فَإِذَا عَیْنَا رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہَ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُہْرِیْقَانِ الدُّمُوْعَ . قَالَتْ : فَقُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْ ، مَا لَکَ ؟ قَالَ : أَتَانِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِیْ أَنَّ أُمَّتِیْ سَتَقْتُلُ اِبْنِیْ ہَذَا ، فَقُلْتُ : ہَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَأَتَانِیْ بِتُرْبَۃٍ مِنْ تُرْبَتِہِ حَمْرَاء - رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ ۔
ترجمہ : حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیں یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں نے آج رات ایک خوف ناک خواب دیکھا ہے ، سرکار نے ارشاد فرمایا آپ نے کیا خواب دیکھا ؟ عرض کرنے لگیں وہ بہت ہی فکر کا باعث ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا وہ کیا ہے ؟ عرض کرنے لگیں : میں نے دیکھا گویا آپ کے جسد اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیا اور میری گود میں رکھ دیا گیا ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے ، ان شاء اللہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صاحبزادے تو لد ہونگے اور وہ آپ کی گود میں آئیں گے چنانچہ ایساہی ہوا ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ تولد ہوئے اور وہ میری گود میں آئے جیسا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بشارت دی تھی ، پھر ایک روز میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئی او رحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آپ کی خدمت بابرکت میں پیش کیا پھر اسکے بعد کیا دیکھتی ہوں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چشمان اقدس اشکبار ہیں ، یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے ماں باپ آپ پر قربان اشکباری کا سبب کیاہے ؟ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جبرئیل علیہ السلام نے میری خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : عنقریب میری امت کے کچھ لوگ میرے اس بیٹے کو شہید کرینگے ۔ میں نے عرض کیا سرکار کیا وہ اس شہزادے کو شہید کرینگے ؟ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ہاں ! او رجبرئیل امین علیہ السلام نے اس مقام کی سرخ مٹی میری خدمت میں پیش کی ۔ (دلائل النبوۃللبیہقی حدیث نمبر 2805 ،چشتی)(مشکوۃ المصابیح ،ج1 ص 572، زجاجۃ المصابیح ج 5ص227/228: باب مناقب اہل بیت النبی رضی اللہ عنہم)

حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کی حدیث پاک میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارک کی بھی بشارت ہے اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی غیب دانی کی شان بھی آشکار ہے کہ آپ اللہ کی عطا سے ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے جانتے ہیں ، سورۂ لقمان کی اخیر آیت ’’وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ ‘‘ (سورۃ لقمان:34)میں جو ذکر ہے اس سے مراد ذاتی علم ہے وہ صرف اللہ علیم و خبیر کی صفت ہے چنانچہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عطائے خداوندی سے نہ صر ف ولادت مبارک کی بشارت دی بلکہ جنس کا تعین بھی فرما دیا ارشاد فرمایا غلاماً لڑکا تو لد ہوگا و نیز یہ بھی فرما دیا کہ وہ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کی گود میں آئینگے ۔

ولادت مبارک

حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت کے پچاس دن بعد حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ شکم مادر مہربان میں جلوہ گر ہوئے آپ کی ولادت باسعادت روز سہ شنبہ 5 شعبان المعظم 4 ھجری مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔ ولد لخمس لیال خلون من شعبان سنۃاربع من الہجرۃ ۔ (معرفۃ الصحابۃلابی نعیم الاصبھانی، باب الحاء من اسمہ حسن)

القاباتِ مبارکہ

امام عالی مقام سید الشہداء حضر ت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ہے اور القاب مبارکہ ، ریحانۂ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، سیدشباب اہل الجنۃ ، الرشید ، الطیب ، الزکی ، السید ، المبارک ، ہیں ۔
جب آپ کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ کے کان میں اذان کہی جیساکہ روایت ہے : عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : " أَذَّنَ فِی أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ حِینَ وُلِدَا ۔ (معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر 2515،چشتی)

معجم کبیر طبرانی میں روایت ہے : عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ , أَنَّہُ سَمَّی ابْنَہُ الأَکْبَرَ حَمْزَۃَ ، وَسَمَّی حُسَیْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّہِ ، فَسَمَّاہُمَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَیْنًا ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے شہزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا نام مبارک حمزہ اور سید نا حسین رضی اللہ عنہ کا نام مبارک ان کے چچا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا ، پھر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کا نام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا ۔ (معجم کبیر طبرانی ، حد یث نمبر2713)

حسن و حسین جنتی نام

حسن اور حسین یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء سے ہیں اور قبل اسلام عرب نے یہ دونوں نام نہ رکھے ۔ علامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے الصواعق المحرقۃ ص:115، میں روایت درج کی ہے : أَخْرَجَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَیْمَانَ قَالَ : " اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ " اِسْمَانِ مِنْ أَسْمَاءِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، مَا سَمَّتِ الْعَرَبُ بِہِمَا فِیْ الْجَاہِلِیَّۃِ ۔ (الصواعق المحرقہ، صفحہ 115،چشتی)(تاریخ الخلفاء ،ج1ص149)

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ فرمایا : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ کَبْشًا کَبْشًا ۔
ترجمہ : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا ۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فی العقیقۃ ، ص392، حدیث نمبر2843)(سنن نسائی،کتاب العقیقۃ ، حدیث نمبر- 4230،چشتی)(سنن بیہقی، حدیث نمبر 1900)

امام طبرانی کی معجم اوسط اورکنزالعمال میں روایت ہے : لَمَّا اِسْتَقَرَّ أَہْلَ الْجَنَّۃِ قَالَتْ الْجَنَّۃُ: یَا رَبِّ أَلَیْسَ وَعَدتَّنِیْ أَنْ تُزَیِّنَنِیْ بِرُکْنَیْنِ مِنْ أَرْکَانِکَ ؟ قَالَ : أَلَمْ أُزَیِّنْکِ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ ؟ فَمَاسَتِ الْجَنَّۃُ مَیْسًا کَمَا یَمِیْسَ الْعَرُوْسُ ۔
ترجمہ : جب جنتی حضرات جنت میں سکونت پذیر ہونگے تو جنت معروضہ کریگی پروردگار ! ازراہ کرم کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ تو، دو ارکان سے مجھے آراستہ فرمائیگا ؟ تو رب العزت ارشاد فرمائیگا : کیا میں نے تجھے حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے مزین نہیں کیا ؟ یہ سن کر جنت دلہن کی طرح فخر و ناز کرنے لگے گی ۔ ( معجم اوسط طبرانی،حدیث نمبر343)(جامع الاحادیث للسیوطی حدیث نمبر 1331 ، چشتی)(الجامع الکبیر للسیوطی، حدیث نمبر-1342)(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر 15096کنزالعمال، ج13ص106، حدیث نمبر34290)

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہماسے مروی حدیث شریف میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے متعلق ارشادفرمایا : فَقَالَ ہَذَانِ ابْنَایَ وَابْنَا ابْنَتِی اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا ۔
ترجمہ : یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ ! تو ان دونوں سے محبت فرما اور جو ان سے محبت رکھے اس کو اپنا محبوب بنالے ۔ (جامع ترمذی، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام،حدیث نمبر 4138)

حدیث شریف میں ہے : أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ اس کو اپنا محبوب بنالے جس نے حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھی ۔ (جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام جلد 2 صفحہ 218 حدیث نمبر 4144)

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی گود مبارک میں بٹھا یا اور آپ کے لبوں کو بوسہ دے کر دعاء فرمائی : اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا ۔
ترجمہ : الہی میں ان سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ اورجو ان سے محبت رکھے اس کو اپنا محبوب بنا لے ۔ (جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام ج2ص218 حدیث نمبر4138)
سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث مبارک ہے : عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِی وَمَنْ أَبْغَضَہُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِی ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کی ، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا ۔ ( سنن ابن ماجہ شریف، باب فضل الحسن و الحسین ابنی علی رضی اللہ عنہم حدیث نمبر 148)

امام حسین رضی اللہ عنہ کی خاطر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سجدہ کو دراز فرما دیا : سنن نسائی ، مسند امام أحمد ، مصنف ابن أبی شیبۃ ، مستدرک علی الصحیحین ، معجم کبیرطبرانی ، مجمع الزوائد ، سنن الکبری للبیہقی ، سنن کبری للنسائی ، المطالب العالیۃ ، مسند أبی یعلی اور کنز العمال وغیرہ میں حدیث مبارک ہے : عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی إِحْدَی صَلَاتَیْ الْعِشَاءِ وَہُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَیْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَہُ ثُمَّ کَبَّرَ لِلصَّلَاۃِ فَصَلَّی فَسَجَدَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْ صَلَاتِہِ سَجْدَۃً أَطَالَہَا قَالَ أَبِی فَرَفَعْتُ رَأْسِی وَإِذَا الصَّبِیُّ عَلَی ظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَی سُجُودِی فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلَاۃَ قَالَ النَّاسُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ سَجَدْتَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْ صَلَاتِکَ سَجْدَۃً أَطَلْتَہَا حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّہُ یُوحَی إِلَیْکَ قَالَ کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ وَلَکِنَّ ابْنِی ارْتَحَلَنِی فَکَرِہْتُ أَنْ أُعَجِّلَہُ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَہ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عشاء کی نماز کےلیے ہمارے پاس تشریف لائے،اس حال میں کہ آپ حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنھما کواٹھائے ہوئے تھے ،پھر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آگے تشریف لے گئے اور انہیں بٹھادیا،پھرآپ نے نماز کےلیے تکبیر فرمائی اور نمازادافرمانے لگے ، اثناء نماز آپ نے طویل سجدہ فرمایا، میرے والد کہتے ہیں :میں نے سر اٹھاکر دیکھا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سجدہ میں ہیں اور شہزادے رضی اللہ عنہ آپ کی پشت انور پر ہیں ، تو میں پھر سجدہ میں چلاگیا، جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نمازسے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ نے نمازمیں سجدہ اتنا دراز فرمایا کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی واقعہ پیش تو نہیں آیا، یا آپ پروحی الہی کا نزول ہورہا ہے ،تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی سوائے یہ کہ میرا بیٹا مجھ پرسوار ہوگیا تھا،اور جب تک وہ اپنی خواہش سے نہ اترتے مجھے عجلت کرنا ناپسند ہوا ۔ (سنن نسائی ،حدیث نمبر-1129)(مسند امام أحمد، حدیث نمبر-15456)(مصنف ابن أبی شیبۃ ، ج7،ص514،چشتی)(مستدرک علی الصحیحین ، حدیث نمبر-4759/6707)(معجم کبیرطبرانی، حدیث نمبر-6963)(مجمع الزوائد ، ج9،ص-181)(سنن الکبری للبیہقی،حدیث نمبر-3558)(سنن کبری للنسائی ، ج1،ص243، حدیث نمبر-727)(المطالب العالیۃ ، حدیث نمبر-4069((مسند أبی یعلی، حدیث نمبر-3334)(کنز العمال، حدیث نمبر (34380/37705/ 37706)

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی خاطر خطبہ کو موقوف فرما دیا جیسا کہ جامع ترمذی شریف سنن ابوداؤدشریف ، سنن نسائی شریف میں حدیث مبارک ہے : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی: بُرَیْدَۃَ یَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا وَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ) فَنَظَرْتُ إِلَی ہَذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی
قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سرخ دھاری دار قمیص مبارک زیب تن کئے لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ منبر شریف سے نیچے تشریف لائے امام حسن وامام حسین رضی ا للہ عنہما کو گود میں اٹھا لیا پھر (منبر مقدس پر رونق افروز ہوکر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا،تمہارے مال اورتمہاری اولادایک امتحان ہے میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا سنبھل سنبھل کرچلتے ہوئے آرہے تھے لڑکھڑا رہے تھے مجھ سے صبر نہ ہوسکا یہاں تک کہ میں نے اپنے خطبہ کو موقوف کر کے انہیں اٹھالیا ہے ۔ (جا مع ترمذی شریف ج2،ابواب المناقب ص 218حدیث نمبر3707،چشتی)(سنن ابوداؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر935)(سنن نسائی کتاب الجمعۃحدیث نمبر:1396 زجاجۃ المصابیح ج 5ص333)

اس حدیث مبارک سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شہزادوں کی قدر و منزلت اور ان سے اپنے کامل قلبی تعلق کو واشگاف کر دیا کہ بچپن میں شہزادوں کے زمین پر گِرجانے کا محض احتمال بھی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےلیے ناگوار خاطر مبارک ہے ۔

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کرم نوازی کی انتہاء فرما دی کہ شہزادوں کی خاطر خطبہ کو موقوف فرما دیا منبرشریف سے نیچے تشریف لاکر انہیں اٹھالیا ، اپنے اس عمل مبارک کے ذریعہ روزِروشن کی طرح آشکار کر دیا کہ ان کا وجود باجود سراسر دین و شریعت ہے ، کیونکہ دنیوی امر کےلیے خطبہ موقوف نہیں کیا جا سکتا ، پھر منبر شریف پر قیام فرما ہو کر ان کے چلنے کی حسین اداؤں کا ذکرمبارک کرتے ہوئے یہ امر بھی واضح فرمادیا کہ ان کی ہر ہراداء دین وشریعت ہے ۔

امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کمال قربت کی یہ شان کہ گہوارہ میں آپ کے رونے سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تکلیف ہوتی : عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ زِیَادَۃَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ فَمَرَّعَلَی بَیْتِ فَاطِمَۃَ فَسَمِعَ حُسَیْنًا یَبْکِیْ فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَہُ یُؤْذِیْنِیْ ۔
ترجمہ : سیدنا زید بن ابی زیادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کے دولت خانہ سے گزر ہوا امام حسین رضی اللہ عنہ کی رونے کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا : بیٹی کیا آپ کو معلوم نہیں ان کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے ۔(نورالابصارفی مناقب ال بیت النبی المختار صفحہ 139)

بچپن میں امام حسین رضی للہ عنہ کا رونا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اذیت کا باعث ہے تو غور کرنا چاہئیے کہ جن ظالموں نے معرکۂ کربلامیں امام عالی مقام رضی اللہ عنہ پر مظالم کی انتہا کردی ، دیگر اہل بیت کرام و جانثاران امام رضی اللہ عنہم کو بے پناہ تکالیف پہونچا کر انہیں شہید کیا ان بدبختوں کے ظالمانہ و بہیمانہ حرکات اور اندوہناک واقعات سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس قدر تکلیف ہوئی ہوگی ، کیا یہ ایذاء رسانی خالی جائیگی ؟ ہرگز نہیں ! اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : إِنَّ الَّذِینَ یُؤْذُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآَخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُہِینًا ۔
ترجمہ : بیشک جولوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تکلیف دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت کی ہے اور ان کےلیے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃ الاحزاب:57)

کچھ لو گ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا کربلا تشریف لے جانا اور آپ کی شہادت عظمی نعوذ باللہ سیاسی اور حصول اقتدار کیلئے لڑی جانے والی جنگ ہے !

جبکہ نبیوں کے تاجدار احمد مختار حبیب کردگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے امت کے افراد کو معرکۂ کربلا کے وقت امام حسین رضی اللہ عنہ کی تائید و نصرت کرنے کےلیے حکم فرمایا ، کیا کوئی صاحب ایمان یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حب منصب اور دنیا طلبی میں کسی کی مدد کرنے کےلیے فرمایا ہو ؟ العیاذباللہ ۔