🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-08-1443 ᴴ | 06-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمۃ
یوم وصال 3 شعبان المعظم ¹⁶¹ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufyan-suri
آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور والد کا نام سعید تھا۔ کوفی الاصل تھے۔ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی توبہ کا آغاز اس واقعہ سے ہوا کہ ایک دن مسجد میں داخل ہوتے ہوئے لاپروائی سے بایاں قدم اندر رکھا غیب سے آواز آئی اے سفیان! کیا تم ثور ہو یعنی چوپایا ہو۔ یہ بات سنتے ہی بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو افسوس سے اپنے منہ پر طمانچہ مارتے اور کہتے تم نے چوپایوں کی طرح مسجد میں بایاں قدم رکھا تمہیں ادب نہیں تو تیرا نام انسانوں میں کیسے رکھا جاسکتا ہے۔ ایک دن خلیفہ وقت نماز کی جماعت کرا رہا تھا۔ مگر دوران نماز خلیفہ نے بے خیالی سے اپنے کپڑوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ آپ نے فرمایا: تمہاری یہ نماز تو نماز نہیں۔ قیامت کے دن ایسی نماز کو منہ پر مارا جائے گا۔ خلیفہ وقت نے کہا: بات آہستگی سے کریں مگر آپ نے فرمایا کہ میں ایسے کلمہ حق سے باز رہوں تو میرا پیشاب خون بن جائے گا۔ خلیفہ نے یہ بات بری جانی۔ دوسرے دن حکم دیا کہ سولی نصب کی جائے اور سفیان ثوری کو تختہ وار پر کھینچا جائے۔ تاکہ دوسرے گستاخوں کو عبرت ہو۔ حضرت سفیان نے سنا تو رونے لگے۔ اور کہا: اے اللہ ان ظالموں کو سزا دے۔ خلیفہ وقت اس وقت تخت پر بیٹھا تھا۔ اور اس کے وزراء اور امراء بھی حلقہ بنائے کھڑے تھے۔ اچانک چھت گری۔ اور خلیفہ اور اُس کے وزراء چھت کے نیچے آکر ہلاک ہوگئے۔ آپ مخلوقِ خدا سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ایک دن بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک پنجرے میں پرندہ فریاد کر رہا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا اور آزاد کردیا۔ یہ پرندہ ہر روز حضرت سفیان کے گھر آتا آپ کو دیکھتا سر اور بازوؤں پر بیٹھتا۔ حضرت سفیان فوت ہوئے تو یہ پرندہ آپ کے جنازے پر اڑتا دکھائی دیا اس کی فریاد سے جنازے میں شریک لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے جب آپ کو دفن کردیا گیا تو وہ پرندہ آپ کی قبر پر تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ حضرت سفیان کی قبر سے آواز آئی کہ ہم نے سفیان کو خلق خدا کی محبت کے بدلے بخش دیا ہے۔ آپ کی وفات ۱۶۱ھ میں ہوئی۔ بعض تذکرہ نگاروں نے تاریخ سالِ وفات ۱۵۵ھ لکھا ہے۔
حضرت سفیان ثوری شیخ دیں
ہر دو سال وصل آں والا جناب
نیز با اق۔۔۔۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufyan-suri
Copyright © Zia-e-Taiba
یوم وصال 3 شعبان المعظم ¹⁶¹ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufyan-suri
آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور والد کا نام سعید تھا۔ کوفی الاصل تھے۔ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی توبہ کا آغاز اس واقعہ سے ہوا کہ ایک دن مسجد میں داخل ہوتے ہوئے لاپروائی سے بایاں قدم اندر رکھا غیب سے آواز آئی اے سفیان! کیا تم ثور ہو یعنی چوپایا ہو۔ یہ بات سنتے ہی بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو افسوس سے اپنے منہ پر طمانچہ مارتے اور کہتے تم نے چوپایوں کی طرح مسجد میں بایاں قدم رکھا تمہیں ادب نہیں تو تیرا نام انسانوں میں کیسے رکھا جاسکتا ہے۔ ایک دن خلیفہ وقت نماز کی جماعت کرا رہا تھا۔ مگر دوران نماز خلیفہ نے بے خیالی سے اپنے کپڑوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ آپ نے فرمایا: تمہاری یہ نماز تو نماز نہیں۔ قیامت کے دن ایسی نماز کو منہ پر مارا جائے گا۔ خلیفہ وقت نے کہا: بات آہستگی سے کریں مگر آپ نے فرمایا کہ میں ایسے کلمہ حق سے باز رہوں تو میرا پیشاب خون بن جائے گا۔ خلیفہ نے یہ بات بری جانی۔ دوسرے دن حکم دیا کہ سولی نصب کی جائے اور سفیان ثوری کو تختہ وار پر کھینچا جائے۔ تاکہ دوسرے گستاخوں کو عبرت ہو۔ حضرت سفیان نے سنا تو رونے لگے۔ اور کہا: اے اللہ ان ظالموں کو سزا دے۔ خلیفہ وقت اس وقت تخت پر بیٹھا تھا۔ اور اس کے وزراء اور امراء بھی حلقہ بنائے کھڑے تھے۔ اچانک چھت گری۔ اور خلیفہ اور اُس کے وزراء چھت کے نیچے آکر ہلاک ہوگئے۔ آپ مخلوقِ خدا سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ایک دن بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک پنجرے میں پرندہ فریاد کر رہا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا اور آزاد کردیا۔ یہ پرندہ ہر روز حضرت سفیان کے گھر آتا آپ کو دیکھتا سر اور بازوؤں پر بیٹھتا۔ حضرت سفیان فوت ہوئے تو یہ پرندہ آپ کے جنازے پر اڑتا دکھائی دیا اس کی فریاد سے جنازے میں شریک لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے جب آپ کو دفن کردیا گیا تو وہ پرندہ آپ کی قبر پر تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ حضرت سفیان کی قبر سے آواز آئی کہ ہم نے سفیان کو خلق خدا کی محبت کے بدلے بخش دیا ہے۔ آپ کی وفات ۱۶۱ھ میں ہوئی۔ بعض تذکرہ نگاروں نے تاریخ سالِ وفات ۱۵۵ھ لکھا ہے۔
حضرت سفیان ثوری شیخ دیں
ہر دو سال وصل آں والا جناب
نیز با اق۔۔۔۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sufyan-suri
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-08-1443 ᴴ | 07-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جلیل القدر تابعی، امیرالمؤمنین فی الحدیث، امام المسلمین، حضرت سیدنا ابو عبد اللہ سفیان بن سعید بن مسروق ثوری کوفی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ولادت 97ھ میں ہوئی۔ آپ علم حدیث و فقہ کے بہت بڑے عالم، محدثین و فقہائے کبار کے استاذ، صاحب زہد و تقوی، نہایت ذہین اور مضبوط حافظے کے مالک تھے۔ ایک قول کے مطابق آپ نے 600 اساتذہ سے کسب علم کیا۔ سیدنا عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے گیارہ سو شیوخ سے حدیث کا علم حاصل کیا، ان میں سب سے افضل سفیان ثوری کو پایا۔ آپ نے 3 شعبان المعظم 161ھ بروز جمعہ وصال فرمایا، مزار مبارک بصرہ میں بنی کلیب نامی قبرستان میں ہے۔ (سیر اعلام النبلاء، تاریخ بغداد، طبقات ابن سعد، وفیات الاخیار)
The Great Taabi’i, Imam al-Muslimeen, Ameer al-Mu’mineen fil Hadith, Sayyiduna Abu ‘Abdullah Sufyan bin Sa’eed bin Masrooq Sawri Kufi (Alayhir Rahmah) was born in 97 AH. He was incredibly eminent scholar of Hadith and Fiqh, teacher of prominent jurists and hadith masters, pious, ascetic, incredibly intelligent, and had a strong memory. According to one narration, he had acquired knowledge from 600 teachers. Sayyiduna ‘Abdullah bin Mubarak said: I acquired the knowledge of Hadith from 1100 teachers, and found Sayyiduna Sufyan Sawri most distinguished of all. He passed away on Friday, 3rd Shaban 161 AH and was laid to rest in Bani Kulayb cemetery in Basrah. [Siyar A’laam an-Nubala, Tarikh Baghdad, Tabaqat Ibn Sa’d, Wafiyat al-Akhyar]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/1001151890607649/
The Great Taabi’i, Imam al-Muslimeen, Ameer al-Mu’mineen fil Hadith, Sayyiduna Abu ‘Abdullah Sufyan bin Sa’eed bin Masrooq Sawri Kufi (Alayhir Rahmah) was born in 97 AH. He was incredibly eminent scholar of Hadith and Fiqh, teacher of prominent jurists and hadith masters, pious, ascetic, incredibly intelligent, and had a strong memory. According to one narration, he had acquired knowledge from 600 teachers. Sayyiduna ‘Abdullah bin Mubarak said: I acquired the knowledge of Hadith from 1100 teachers, and found Sayyiduna Sufyan Sawri most distinguished of all. He passed away on Friday, 3rd Shaban 161 AH and was laid to rest in Bani Kulayb cemetery in Basrah. [Siyar A’laam an-Nubala, Tarikh Baghdad, Tabaqat Ibn Sa’d, Wafiyat al-Akhyar]
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/1001151890607649/
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی
یوم پیدائش 4 شعبان المعظم 1204
یوم وصال 3 شعبان المعظم 1350ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری وموعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے، آپ بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے، 4؍شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی،
تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی، حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بد ایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بد ایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی، دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے۔۔۔۔ دہلی سے واپس آکر والد بزرگوار کے قائم کردہ جامعہ شمسیہ کی ترقی کی اسکیم بنائی، چندہ کی فراہمی کے لیے اسفار کیے، نواب مزمل اللہ خاں رئیس بھیکم پور علی گڑھ، نواب سر حافظ احمد سعید خاں نواب چھتاری نے چندہ میں کافی رقم دی، اہلیان بمبئی وحیدر آباد نے بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا، مسٹر نگرام کلکڑ بد ایوں اور مسٹر لارڈ مسٹن گورنر مسٹن گورنر صوبہ یوپی نے وسط شہر میں خوش نما قطعہ آراضی مع عمارت دوامی پٹہ پر مدرسہ کے لیے دینا منظور کیا، مولوی ظہور حسین صاحب (ٹونک والا) نے علوہتمی سے شمس العلوم کا سری بقلک مینارہ اور دروازہ تعمیر کرایا، کتب خانہ کی خوشنما عمارت تیار ہوئی، دار الحدیث عثمانیہ کا نقشہ و تخمینہ تیار کر کے شاہ دکن کی خدمت میں پیش کردیا گیا، افسوس ہے کہ اسی زمانہ مسجد مچھلی بازار کان پور کا حادثہ اور خلافت کا مسئلہ پیش آگیا اور مولانا عبد الماجد کی توجہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی طرف سے ہٹ کر ملکی معاملات کی طرف مبذول ہوگئی ورنہ یہ مدرسہ باعتبار وسعت وعمدگی تعلیم ہندو پاک میں معیاری اور سب سے بڑا جامعہ ہوتا، مدرسہ کو ریاست رام پور سے مستقل ماہانہ امداد ملتی تھی۔ مولانا کی ملکی وقومی خدمات تادیر دلوں کو رُلائے گی، مولانا شاہ محمد عبد الباری فرنگی محلی نے حفاظت کعبہ کے لیے جب ‘‘خدام کعبہ’’ کے نام سے مجلس قائم کی تو سب سے پہلے بد ایوں حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر کی خدمت میں پہنچے اور تعاون وہمدردی کی درخواست کی، مولانا عبد الماجد بحکم پیر و مرشد خُدام کعبہ کی خدمت پر مامور ہوئے۔ 1919،22ھ میں لالہ لاج پت رائے اور شردھا نند کی کوششوں سے ملکانوں کی ارتداد کی مہم شروع ہوئی تو دیگر علمائے اہل سنت کے ساتھ آپ نے بھی رمضان المبارک میں جبکہ گرمی شباب پر ہوتی ملکانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے پیدل سفر کیے، عمر کا بیشتر حصہ سفر میں گذرا، پیر ومرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بد ایونی قدس سرہٗ کی معیت و ہمرکابی میں بغداد مقدس کا سفر کیا وفد خلافت کے ساتھ حجاز مقدس حاضر ہوئے، خلافت وکانگریس کے وفد میں موتی لعل نہر، حکیم اجمل خاں مولانا محمد علی جوہر اور مسٹر گاندھی کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا، آپ کے وعظ کا عجب حال تھا، نہایت ہی کیف بار اور وجد آگیں تقریر کرتے تھے، جوش تقریر میں عمامہ سر سے اُتر جاتا تھا، کان پور کے پیرڈ میدان کے رحبی شریف کے جلسہ کا آپ ہی کے ہاتھوں قیام ہوا، جہاں بھی ہوتے اس جلسہ میں ضرور تشریف لاتے، مولانا کے مواعظ کا ابتدائی دور تھا، کہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل بریلوی اور مولانا تھانوی کے درمیان مباحثہ تصفیہ کے لیے طے پایا، فاضل بریلوی نے حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ نے شوکت مذہب اہلسنت کے لیے شرکت کی درخواست کی حضرت نے آپ کو اور حضرت مولانا شاہ محب احمد قدس سرہٗ کو شرکت کے لیے بھیجا، وہاں بڑے بڑے علمائے اہل سنت تشریف فرماتھے، دس10بجے دن میں مولانا سید محمد فاخر کی تقریر کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب کا وعظ شروع ہوا، پہلے دیر تک منبر پر دوزانو بیٹھ کر دعا مانگی پھر کھڑے ہوکر آہستہ آہستہ خطبہ شروع کیا، مجمع سے آواز بلند کرنے کی درخواست ہوئی، ابھی دوچارہی جملے کہے تھے کہ بحر فصاحت موج آفریں ہوا، طبیعت روانی پر مائل ہوئی، جوش خطابت میں عباکے دامن لہرانے لگے، تھوڑی دیر میں عمامہ کے بل کھل گئے، اتنا مؤثر اور دل نشین وعظ تھا، کہ ہر طرف سے مرحبا صل علی ، جزاک اللہ کی صدا آرہی تھی، کوئی بے خودی میں اشک بارتھا، کسی طرف سے آہ وبکاکا شور تھا،مسئلہ علم غیب پر کلمہ الہی اور حدیث رسالت پناہی کے دلائل کے انبار پیش کرتے جارہے تھے مجمع بے خود دو ساکت تھا، کہ مولانا نے ایک بجے دھوپ کی تمازت اور پسینے سے شرابور ہونے کی وجہ سے دعا پر تقریر ختم کی، مجمع کےاصرار پر ظہر بعد پھر چار گھنٹہ تک تقریر فرمائی، 1931ء میں بمقام
یوم پیدائش 4 شعبان المعظم 1204
یوم وصال 3 شعبان المعظم 1350ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-abdul-majid-badayuni
مولانا شاہ عبد الماجد قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کی کیف بار اور ولولہ انگیز خوش خطابت سے معمور تقریری وموعظہ کی یاد دلوں میں اب بھی باقی ہے، آپ بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان کے گوہر شب چراغ تھے، 4؍شعبان المکرم 1204ھ میں ولادت ہوئی،
تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی قدس سرہٗ کے زیر سایہ تربیت اور پرورش پائی، حضرت مولانا الحاج شاہ عبدالمجید قادری مقتدری اور مولانا مفتی محمدی ابراہیم قادری بد ایونی سے ابتدائی درسیات پڑھیں، اور شاہ محب احمد بد ایونی قدس سرہٗ سے درس نظامی پڑھ کر 1320ھ میں سندِ فراغت حاصل کی1321،22ھ میں دہلی میں قیام کر کے حکیم اجمل خاں دہلوی نے دستخط کر کے مہر لگائی، دھلی کی اقامت کے دوران زینت محل وغیرہ میں آپ کی تقریریں ہوئیں، یہاں عیسائیوں آریوں، غیر مقلدوں اور قادیانیوں سے آپ کے مناظرے ہوئے۔۔۔۔ دہلی سے واپس آکر والد بزرگوار کے قائم کردہ جامعہ شمسیہ کی ترقی کی اسکیم بنائی، چندہ کی فراہمی کے لیے اسفار کیے، نواب مزمل اللہ خاں رئیس بھیکم پور علی گڑھ، نواب سر حافظ احمد سعید خاں نواب چھتاری نے چندہ میں کافی رقم دی، اہلیان بمبئی وحیدر آباد نے بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا، مسٹر نگرام کلکڑ بد ایوں اور مسٹر لارڈ مسٹن گورنر مسٹن گورنر صوبہ یوپی نے وسط شہر میں خوش نما قطعہ آراضی مع عمارت دوامی پٹہ پر مدرسہ کے لیے دینا منظور کیا، مولوی ظہور حسین صاحب (ٹونک والا) نے علوہتمی سے شمس العلوم کا سری بقلک مینارہ اور دروازہ تعمیر کرایا، کتب خانہ کی خوشنما عمارت تیار ہوئی، دار الحدیث عثمانیہ کا نقشہ و تخمینہ تیار کر کے شاہ دکن کی خدمت میں پیش کردیا گیا، افسوس ہے کہ اسی زمانہ مسجد مچھلی بازار کان پور کا حادثہ اور خلافت کا مسئلہ پیش آگیا اور مولانا عبد الماجد کی توجہ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی طرف سے ہٹ کر ملکی معاملات کی طرف مبذول ہوگئی ورنہ یہ مدرسہ باعتبار وسعت وعمدگی تعلیم ہندو پاک میں معیاری اور سب سے بڑا جامعہ ہوتا، مدرسہ کو ریاست رام پور سے مستقل ماہانہ امداد ملتی تھی۔ مولانا کی ملکی وقومی خدمات تادیر دلوں کو رُلائے گی، مولانا شاہ محمد عبد الباری فرنگی محلی نے حفاظت کعبہ کے لیے جب ‘‘خدام کعبہ’’ کے نام سے مجلس قائم کی تو سب سے پہلے بد ایوں حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر کی خدمت میں پہنچے اور تعاون وہمدردی کی درخواست کی، مولانا عبد الماجد بحکم پیر و مرشد خُدام کعبہ کی خدمت پر مامور ہوئے۔ 1919،22ھ میں لالہ لاج پت رائے اور شردھا نند کی کوششوں سے ملکانوں کی ارتداد کی مہم شروع ہوئی تو دیگر علمائے اہل سنت کے ساتھ آپ نے بھی رمضان المبارک میں جبکہ گرمی شباب پر ہوتی ملکانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے پیدل سفر کیے، عمر کا بیشتر حصہ سفر میں گذرا، پیر ومرشد حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بد ایونی قدس سرہٗ کی معیت و ہمرکابی میں بغداد مقدس کا سفر کیا وفد خلافت کے ساتھ حجاز مقدس حاضر ہوئے، خلافت وکانگریس کے وفد میں موتی لعل نہر، حکیم اجمل خاں مولانا محمد علی جوہر اور مسٹر گاندھی کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا، آپ کے وعظ کا عجب حال تھا، نہایت ہی کیف بار اور وجد آگیں تقریر کرتے تھے، جوش تقریر میں عمامہ سر سے اُتر جاتا تھا، کان پور کے پیرڈ میدان کے رحبی شریف کے جلسہ کا آپ ہی کے ہاتھوں قیام ہوا، جہاں بھی ہوتے اس جلسہ میں ضرور تشریف لاتے، مولانا کے مواعظ کا ابتدائی دور تھا، کہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل بریلوی اور مولانا تھانوی کے درمیان مباحثہ تصفیہ کے لیے طے پایا، فاضل بریلوی نے حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ نے شوکت مذہب اہلسنت کے لیے شرکت کی درخواست کی حضرت نے آپ کو اور حضرت مولانا شاہ محب احمد قدس سرہٗ کو شرکت کے لیے بھیجا، وہاں بڑے بڑے علمائے اہل سنت تشریف فرماتھے، دس10بجے دن میں مولانا سید محمد فاخر کی تقریر کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب کا وعظ شروع ہوا، پہلے دیر تک منبر پر دوزانو بیٹھ کر دعا مانگی پھر کھڑے ہوکر آہستہ آہستہ خطبہ شروع کیا، مجمع سے آواز بلند کرنے کی درخواست ہوئی، ابھی دوچارہی جملے کہے تھے کہ بحر فصاحت موج آفریں ہوا، طبیعت روانی پر مائل ہوئی، جوش خطابت میں عباکے دامن لہرانے لگے، تھوڑی دیر میں عمامہ کے بل کھل گئے، اتنا مؤثر اور دل نشین وعظ تھا، کہ ہر طرف سے مرحبا صل علی ، جزاک اللہ کی صدا آرہی تھی، کوئی بے خودی میں اشک بارتھا، کسی طرف سے آہ وبکاکا شور تھا،مسئلہ علم غیب پر کلمہ الہی اور حدیث رسالت پناہی کے دلائل کے انبار پیش کرتے جارہے تھے مجمع بے خود دو ساکت تھا، کہ مولانا نے ایک بجے دھوپ کی تمازت اور پسینے سے شرابور ہونے کی وجہ سے دعا پر تقریر ختم کی، مجمع کےاصرار پر ظہر بعد پھر چار گھنٹہ تک تقریر فرمائی، 1931ء میں بمقام
❤1