#فیضان_حضرت_امام_اعظم ❺
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ پنجم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جرح کی حقیقت غیر مقلدین کی جہالت کا جواب : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بعض سوانح نگاروں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف عقائد و فروعات سے متعلق بعض ایسی باتیں نقل کی ہیں جن سے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بالکل بری ہیں ، بہت سے منصف اہلِ قلم نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے دفاع کیا ہے اور اس کے جوابات لکھے ہیں ، امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف خلق قرآن ، قدر و ارجاء وغیرہ کے الزامات لگائے گئے ہیں ، شیخ طاہر پٹنی صاحب ”مجمع البحار“ اس کے متعلق فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف ایسے اقوال منسوب کیے گئے ہیں جن سے ان کی شان بالاتر ہے ،وہ اقوال خلق قرآن ، قدر ، ارجا ، وغیرہ ہیں ، ہم کو ضرورت نہیں کہ ان اقوال کے منسوب کرنے والوں کا نام لیں ، یہ ظاہر ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دامن ان سے پاک تھا ، الله تعالیٰ کا ان کو ایسی شریعت دینا جو سارے آفاق میں پھیل گئی اور جس نے روئے زمین کو ڈھک لیا اور ان کے مذہب وفقہ کو قبول عام دینا ان کی پاک دامنی کی دلیل ہے ، اگر اس میں الله تعالیٰ کا سر خفی نہ ہوتا نصف یا اس سے قریب اسلام ان کی تقلید کے جھنڈے کے نیچے نہ ہوتا ۔ (مجمع البحار)
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جس طرح کا بھی جرح کیا گیا ہے اس کی حقیقت معاصرانہ چپقلش ، غلط فہمی اور جہالت ، یا تعصب و حسد ہے ، ورنہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ان الزامات سے آئینہ کی طرف صاف و شفاف ہے ۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جن جن حضرات نے کلام کیا ہے یا تو وہ محض تعصب اور عناد وحسد کی پیداوار ہے ، جس کی ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں ہے اور بعض حضرات نے اگرچہ دیانةً کلام کیا ہے ، مگر اس رائے کے قائم کرنے میں جس اجتہاد سے انہوں نے کام لیا ہے وہ سرسرا باطل ہے ، کیوں کہ تاریخ ان تمام غلط فہمیوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ رہی ہے ، اس لیے ان حوالجات سے مغالطہ آفرینی میں مبتلا ہونا یا دوسروں کو دھوکہ دینا انصاف و دیانت کا جنازہ نکالنا اور محض تعصب اور حسد وغیبت جیسے گناہ میں آلودہ ہونا ہے ۔
خطیب بغدادی نے عبد بن داؤد کے حوالے سے نقل کیا ہے : ”الناس فی أبی حنیفة رجلان : جاھل بہ ، و حاسد لہ ۔ “امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں یا تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال سے ناواقف ہیں یا ان سے حسد کرتے ہیں ۔ (تاریخ بغداد:13/346،چشتی)
خطیب بغدادی کی جرح کی حقیقت : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جن لوگوں نے جرح کی ہے اور امام صاحب رضی اللہ عنہ کی طرف مطاعن و معایب کو منسوب کیا ہے اس میں سرِ فہرست خطیب بغدادی ہیں ، بعد میں زیادہ تر حضرات نے خطیب کی عبارتوں سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن خطیب کے جرح کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں بعض حضرات کی رائے تو یہ ہے کہ خطیب بغدادی نے مدح و ذم کی تمام روایات کو ذکر کر کے اپنے مؤرخانہ فریضہ کو انجام دیا ہے ، اس میں انہوں نے روایت کی صحت وغیرہ پر زور نہیں دیا ہے ، خود خطیب بغدادی ان کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے تھی ، بعض جرح کو نقل کر کے خطیب نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دفاع بھی کیا ہے ، مثلاً جنت و جہنم کے غیر موجود ہونے کی جرح نقل کرکے خطیب کہتے ہیں : قول بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ خودراوی ابو مطیع اس کا قائل تھا ، ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نہ تھے ، جب کہ بہت سے حضرات کی رائے یہ ہے کہ اگرچہ یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے نہیں ، لیکن خطیب کو ان اقوال کے نقل کرنے سے احتراز کرنا چاہیے تھا ، انہو ں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ان باتوں کو لکھ کر گویا اپنی کتاب کی استنادی حیثیت کو کم کر دیا ہے ۔
حافظ محمد بن یوسف الصالحی الشافعی ۔ (المتوفی942ھ) فرماتے ہیں : حافظ ابوبکر خطیب بغدادی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو مخل تعظیم باتیں نقل کی ہیں ان سے دھوکہ نہ کھانا ، خطیب بغدادی نے اگرچہ پہلے مدح کرنے والوں کی باتیں نقل کی ہیں ، مگر اس کے بعد دوسرے لوگوں کی باتیں بھی نقل کی ہیں ، سو اس وجہ سے انہوں نے اپنی کتاب کو بڑا دغ دار کر دیا ہے او ر بڑوں اور چھوٹوں کےلیے ایسا کرنے سے وہ ہدف ملامت بن گئے ہیں اور انہوں نے ایسی گندگی اچھالی ہے ، جو سمندر سے بھی نہ دھل سکے ۔ (عقودالجمان)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ پنجم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جرح کی حقیقت غیر مقلدین کی جہالت کا جواب : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بعض سوانح نگاروں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف عقائد و فروعات سے متعلق بعض ایسی باتیں نقل کی ہیں جن سے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بالکل بری ہیں ، بہت سے منصف اہلِ قلم نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے دفاع کیا ہے اور اس کے جوابات لکھے ہیں ، امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف خلق قرآن ، قدر و ارجاء وغیرہ کے الزامات لگائے گئے ہیں ، شیخ طاہر پٹنی صاحب ”مجمع البحار“ اس کے متعلق فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف ایسے اقوال منسوب کیے گئے ہیں جن سے ان کی شان بالاتر ہے ،وہ اقوال خلق قرآن ، قدر ، ارجا ، وغیرہ ہیں ، ہم کو ضرورت نہیں کہ ان اقوال کے منسوب کرنے والوں کا نام لیں ، یہ ظاہر ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دامن ان سے پاک تھا ، الله تعالیٰ کا ان کو ایسی شریعت دینا جو سارے آفاق میں پھیل گئی اور جس نے روئے زمین کو ڈھک لیا اور ان کے مذہب وفقہ کو قبول عام دینا ان کی پاک دامنی کی دلیل ہے ، اگر اس میں الله تعالیٰ کا سر خفی نہ ہوتا نصف یا اس سے قریب اسلام ان کی تقلید کے جھنڈے کے نیچے نہ ہوتا ۔ (مجمع البحار)
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جس طرح کا بھی جرح کیا گیا ہے اس کی حقیقت معاصرانہ چپقلش ، غلط فہمی اور جہالت ، یا تعصب و حسد ہے ، ورنہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ان الزامات سے آئینہ کی طرف صاف و شفاف ہے ۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جن جن حضرات نے کلام کیا ہے یا تو وہ محض تعصب اور عناد وحسد کی پیداوار ہے ، جس کی ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں ہے اور بعض حضرات نے اگرچہ دیانةً کلام کیا ہے ، مگر اس رائے کے قائم کرنے میں جس اجتہاد سے انہوں نے کام لیا ہے وہ سرسرا باطل ہے ، کیوں کہ تاریخ ان تمام غلط فہمیوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ رہی ہے ، اس لیے ان حوالجات سے مغالطہ آفرینی میں مبتلا ہونا یا دوسروں کو دھوکہ دینا انصاف و دیانت کا جنازہ نکالنا اور محض تعصب اور حسد وغیبت جیسے گناہ میں آلودہ ہونا ہے ۔
خطیب بغدادی نے عبد بن داؤد کے حوالے سے نقل کیا ہے : ”الناس فی أبی حنیفة رجلان : جاھل بہ ، و حاسد لہ ۔ “امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں یا تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال سے ناواقف ہیں یا ان سے حسد کرتے ہیں ۔ (تاریخ بغداد:13/346،چشتی)
خطیب بغدادی کی جرح کی حقیقت : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جن لوگوں نے جرح کی ہے اور امام صاحب رضی اللہ عنہ کی طرف مطاعن و معایب کو منسوب کیا ہے اس میں سرِ فہرست خطیب بغدادی ہیں ، بعد میں زیادہ تر حضرات نے خطیب کی عبارتوں سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن خطیب کے جرح کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں بعض حضرات کی رائے تو یہ ہے کہ خطیب بغدادی نے مدح و ذم کی تمام روایات کو ذکر کر کے اپنے مؤرخانہ فریضہ کو انجام دیا ہے ، اس میں انہوں نے روایت کی صحت وغیرہ پر زور نہیں دیا ہے ، خود خطیب بغدادی ان کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے تھی ، بعض جرح کو نقل کر کے خطیب نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دفاع بھی کیا ہے ، مثلاً جنت و جہنم کے غیر موجود ہونے کی جرح نقل کرکے خطیب کہتے ہیں : قول بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ خودراوی ابو مطیع اس کا قائل تھا ، ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نہ تھے ، جب کہ بہت سے حضرات کی رائے یہ ہے کہ اگرچہ یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے نہیں ، لیکن خطیب کو ان اقوال کے نقل کرنے سے احتراز کرنا چاہیے تھا ، انہو ں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ان باتوں کو لکھ کر گویا اپنی کتاب کی استنادی حیثیت کو کم کر دیا ہے ۔
حافظ محمد بن یوسف الصالحی الشافعی ۔ (المتوفی942ھ) فرماتے ہیں : حافظ ابوبکر خطیب بغدادی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو مخل تعظیم باتیں نقل کی ہیں ان سے دھوکہ نہ کھانا ، خطیب بغدادی نے اگرچہ پہلے مدح کرنے والوں کی باتیں نقل کی ہیں ، مگر اس کے بعد دوسرے لوگوں کی باتیں بھی نقل کی ہیں ، سو اس وجہ سے انہوں نے اپنی کتاب کو بڑا دغ دار کر دیا ہے او ر بڑوں اور چھوٹوں کےلیے ایسا کرنے سے وہ ہدف ملامت بن گئے ہیں اور انہوں نے ایسی گندگی اچھالی ہے ، جو سمندر سے بھی نہ دھل سکے ۔ (عقودالجمان)
❤1
قاضی القضاة شمس الدین ابن خلکان الشافعی (م861ھ) خطیب بغدادی کی اس غلط طرز گفتگو پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خطیب نے اپنی تاریخ میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بہت سے مناقب ذکر کیے ، اس کے بعد کچھ ایسی ناگفتہ بہ باتیں بھی لکھی ہیں جن کا ذکر نہ کرنا اور ان سے اعراض کرنا بہت ہی مناسب تھا ؛ کیوں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے متعلق نہ تو دیانت میں شبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ورع وحفظ میں ، آپ پر کوئی نکتہ چینی بجز قلت عربیت کے اور نہیں کی گئی ہے ۔ (تاریخ ابن خلکان 2/165،چشتی)
خطیب بغدادی اور چند دیگر حضرات کے علاوہ زیادہ تر مصنفین اور مؤرخین ائمہ جرح و تعدیل اور ائمہ حدیث نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کو انصاف کے ساتھ ذکر کیا ہے اور کسی قسم کی جرح کو ذکر نہیں کیا ، بلکہ صرف مناقب پر اکتفا کیا ہے ، نمونے کے طور پر چند اسماء الرجال کی کتابوں اور چند ائمہ حدیث کے اقوال کو یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے ، امام ذہبی نے تذکرہ الحفاظ میں ، حافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں ، حافظ صفی الدین خزرجی نے خلاصة تذہیب تہذیب الکمال میں ، علامہ نووی نے تہذیب الاسماء واللغات میں ، امام یافعی علیہم الرحمہ نے مرآة الجنان میں امام صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات اور مناقب کو ذکر کیا ہے ، لیکن کسی نے کوئی جرح نہیں کی ہے ، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک امام صاحب رضی اللہ عنہ پر جرح کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اب چند معتمد ترین اور ائمہ علم و فضل علیہم الرحمہ کے اقوال یہاں ذکر کیے جاتے ہیں ، تاکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی بے داغ اور تقویٰ و طہارت سے لبریز زندگی اور آپ کے فضل وکمال کی مختلف نوعیتیں ہمارے سامنے آسکیں ۔
(فضیل بن عیاض م187ھ) فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ مشہور صوفیاء میں ہیں ، ان کی زندگی زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی ، وہ فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ مرد فقیہ تھے ، فقہ میں معروف ، پارسائی میں مشہور ، بڑے دولت مند ، ہر صادر و وارد کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنے والے ، شب وروز صبر کے ساتھ تعلیم میں مصروف ، رات اچھی گزارنے والے ، خاموشی پسند ، کم سخن تھے ، جب کوئی مسئلہ حلال و حرام کا پیش آتا تو کلام کرتے اور ہدایت کا حق ادا کر دیتے ، سلطانی مال سے بھاگنے والے تھے ۔ ( امام ابوحنیفہ او ران کے ناقدین صفحہ 44،چشتی)
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م161ھ ابوبکر بن عیاش کا قول ہے کہ سفیان کے بھائی عمرو بن سعید کا انتقال ہوا تو سفیان کے پاس ہم لوگ تعزیت کےلیے گئے مجلس لوگوں سے بھری ہوئی تھی ، عبدالله بن ادریس بھی وہاں تھے ، اسی عرصہ میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اپنے رفقاء کے ساتھ وہاں پہنچے ، سفیان نے ان کو دیکھا تو اپنی جگہ خالی کر دی اور کھڑے ہو کر معانقہ کیا ، اپنی جگہ ان کو بٹھایا ، خود سامنے بیٹھے ، یہ دیکھ کہ مجھ کو بہت غصہ آیا ، میں نے سفیان سے کہا ابوعبد الله ! آج آپ نے ایسا کام کیا جو مجھ کو برا معلوم ہوا ، نیز ہمارے دوسرے ساتھیوں کو بھی ، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا آپ کے پاس ابوحنیفہ آئے ، آپ ان کےلیے کھڑے ہوئے ، اپنی جگہ بٹھایا ، ان کے ادب میں مبالغہ کیا ، یہ ہم لوگوں کو ناپسند ہوا ، سفیان ثوری نے کہا تم کو یہ کیوں ناپسند ہوا ؟ وہ علم میں ذی مرتبہ شخص ہیں ، اگر میں ان کے علم کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے سن و سال کےلیے اٹھتا اور اگر ان کے سن و سال کےلیے نہ اٹھتا تو ان کی فقہ کے واسطہ اٹھتا اور اگر ان کے فقہ کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے تقویٰ کے واسطے اٹھتا ۔ (اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ صفحہ 73)
علامہ محمد بن اثیر الشافعی متوفی 606ھ : علامہ محمد بن اثیر الشافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر الله تعالیٰ کا کوئی خاص لطف اور بھید اس میں مضمر نہ ہوتا تو امت محمدیہ کا تقریباً نصف حصہ کبھی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی پیروی نہ کرتا اور اس جلیل القدر کے مسلک پر عامل ہو کر اور ان کی تقلید کرکے کبھی قربِ خدا وندوی حاصل کرنے پر آمادہ نہ ہوتا ۔ (حامل الاصول بحوالہ مقام ابی حنیفہ صفحہ 73،چشتی)
علامہ ابن ہارون متوفی 206ھ : علامہ بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ کو شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، اپنے وقت کے عابد وزاہد حضرات میں شمار ہوتے تھے، علم حدیث میں بڑی شان کے مالک تھے ، ان سے پوچھا گیا آدمی فتوی دینے کا کب مجاز ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایاجب ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مثل اور ان کی طرح فقیہ ہو جائے ۔ ان سے سوال کیا گیا اے ابو خالد ! آپ ایسی بات کہتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! اس سے بھی زیادہ کہتا ہوں ، کیوں کہ میں نے ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑا فقیہ اور متورع نہیں دیکھا ، میں نے ان کو دھوپ میں ایک شخص کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں نے سوال کیا آپ دیوار کے سائے میں کیوں نہیں چلے جاتے ؟ وہ کہنے لگے کہ مالک مکان پر میرا قرضہ ہے
خطیب بغدادی اور چند دیگر حضرات کے علاوہ زیادہ تر مصنفین اور مؤرخین ائمہ جرح و تعدیل اور ائمہ حدیث نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کو انصاف کے ساتھ ذکر کیا ہے اور کسی قسم کی جرح کو ذکر نہیں کیا ، بلکہ صرف مناقب پر اکتفا کیا ہے ، نمونے کے طور پر چند اسماء الرجال کی کتابوں اور چند ائمہ حدیث کے اقوال کو یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے ، امام ذہبی نے تذکرہ الحفاظ میں ، حافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں ، حافظ صفی الدین خزرجی نے خلاصة تذہیب تہذیب الکمال میں ، علامہ نووی نے تہذیب الاسماء واللغات میں ، امام یافعی علیہم الرحمہ نے مرآة الجنان میں امام صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات اور مناقب کو ذکر کیا ہے ، لیکن کسی نے کوئی جرح نہیں کی ہے ، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک امام صاحب رضی اللہ عنہ پر جرح کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اب چند معتمد ترین اور ائمہ علم و فضل علیہم الرحمہ کے اقوال یہاں ذکر کیے جاتے ہیں ، تاکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی بے داغ اور تقویٰ و طہارت سے لبریز زندگی اور آپ کے فضل وکمال کی مختلف نوعیتیں ہمارے سامنے آسکیں ۔
(فضیل بن عیاض م187ھ) فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ مشہور صوفیاء میں ہیں ، ان کی زندگی زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی ، وہ فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ مرد فقیہ تھے ، فقہ میں معروف ، پارسائی میں مشہور ، بڑے دولت مند ، ہر صادر و وارد کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنے والے ، شب وروز صبر کے ساتھ تعلیم میں مصروف ، رات اچھی گزارنے والے ، خاموشی پسند ، کم سخن تھے ، جب کوئی مسئلہ حلال و حرام کا پیش آتا تو کلام کرتے اور ہدایت کا حق ادا کر دیتے ، سلطانی مال سے بھاگنے والے تھے ۔ ( امام ابوحنیفہ او ران کے ناقدین صفحہ 44،چشتی)
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م161ھ ابوبکر بن عیاش کا قول ہے کہ سفیان کے بھائی عمرو بن سعید کا انتقال ہوا تو سفیان کے پاس ہم لوگ تعزیت کےلیے گئے مجلس لوگوں سے بھری ہوئی تھی ، عبدالله بن ادریس بھی وہاں تھے ، اسی عرصہ میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اپنے رفقاء کے ساتھ وہاں پہنچے ، سفیان نے ان کو دیکھا تو اپنی جگہ خالی کر دی اور کھڑے ہو کر معانقہ کیا ، اپنی جگہ ان کو بٹھایا ، خود سامنے بیٹھے ، یہ دیکھ کہ مجھ کو بہت غصہ آیا ، میں نے سفیان سے کہا ابوعبد الله ! آج آپ نے ایسا کام کیا جو مجھ کو برا معلوم ہوا ، نیز ہمارے دوسرے ساتھیوں کو بھی ، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا آپ کے پاس ابوحنیفہ آئے ، آپ ان کےلیے کھڑے ہوئے ، اپنی جگہ بٹھایا ، ان کے ادب میں مبالغہ کیا ، یہ ہم لوگوں کو ناپسند ہوا ، سفیان ثوری نے کہا تم کو یہ کیوں ناپسند ہوا ؟ وہ علم میں ذی مرتبہ شخص ہیں ، اگر میں ان کے علم کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے سن و سال کےلیے اٹھتا اور اگر ان کے سن و سال کےلیے نہ اٹھتا تو ان کی فقہ کے واسطہ اٹھتا اور اگر ان کے فقہ کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے تقویٰ کے واسطے اٹھتا ۔ (اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ صفحہ 73)
علامہ محمد بن اثیر الشافعی متوفی 606ھ : علامہ محمد بن اثیر الشافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر الله تعالیٰ کا کوئی خاص لطف اور بھید اس میں مضمر نہ ہوتا تو امت محمدیہ کا تقریباً نصف حصہ کبھی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی پیروی نہ کرتا اور اس جلیل القدر کے مسلک پر عامل ہو کر اور ان کی تقلید کرکے کبھی قربِ خدا وندوی حاصل کرنے پر آمادہ نہ ہوتا ۔ (حامل الاصول بحوالہ مقام ابی حنیفہ صفحہ 73،چشتی)
علامہ ابن ہارون متوفی 206ھ : علامہ بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ کو شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، اپنے وقت کے عابد وزاہد حضرات میں شمار ہوتے تھے، علم حدیث میں بڑی شان کے مالک تھے ، ان سے پوچھا گیا آدمی فتوی دینے کا کب مجاز ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایاجب ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مثل اور ان کی طرح فقیہ ہو جائے ۔ ان سے سوال کیا گیا اے ابو خالد ! آپ ایسی بات کہتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! اس سے بھی زیادہ کہتا ہوں ، کیوں کہ میں نے ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑا فقیہ اور متورع نہیں دیکھا ، میں نے ان کو دھوپ میں ایک شخص کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں نے سوال کیا آپ دیوار کے سائے میں کیوں نہیں چلے جاتے ؟ وہ کہنے لگے کہ مالک مکان پر میرا قرضہ ہے
❤1
، میں نہیں پسند کرتا کہ مدیون کے مکان اور دیوار کے سائے کے نیچے بیٹھ کر اس سے منتفع ہوں ، اس سے زیادہ تقویٰ اور ورع کیا ہو گا ؟ ۔ ( مناقب موفق1/141)
ان کا ہی بیان ہے میں نے ایک ہزار اساتذہ سے علم لکھا اور حاصل کیا ہے ، لیکن خدا کی قسم ! میں نے ان سب میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر صاحب ورع اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا او رکوئی نہیں دیکھا ۔ (مناقب موفق1/195،چشتی)
وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ متوفی 198ھ : علم حدیث کے بڑے اماموں میں ان کا شمار ہوتا ہے، امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور امام شافعی کے استاذ ہیں ، ان کی مجلس میں کسی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی غلطی بیان کی ، اس پر وکیع نے کہا امام صاحب رضی اللہ عنہ کس طرح غلطی کر سکتے ہیں ؟ حالانکہ امام ابویوسف اور زفر جیسے صاحب قیاس اور یحییٰ بن ابی زائدہ اور حفص بن غیاث اور حبان و مندل جیسے حفاظ حدیث اور قاسم بن معن جیسا لغت و ادب کا جاننے والا اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسا زاہد و پارسا ان کے ساتھ ہیں ، جن کے ایسے ہم نشین ہوں وہ غلطی نہیں کر سکتا ، اگر کبھی غلطی کر جائے تو اس کے جلیس ان کو رد کر دیں گے ۔ (امام ابوحنیفہ اور ان کے ناقدین صفحہ 48،چشتی)
علامہ الخوارزمی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 665ھ پوری روایت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں : پھر امام وکیع نے فرمایا جو شخص امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہتا ہے وہ تو جانوروں کی مانندیا اس سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہے ۔ (جامع المسانید 1/23) ۔
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
ان کا ہی بیان ہے میں نے ایک ہزار اساتذہ سے علم لکھا اور حاصل کیا ہے ، لیکن خدا کی قسم ! میں نے ان سب میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر صاحب ورع اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا او رکوئی نہیں دیکھا ۔ (مناقب موفق1/195،چشتی)
وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ متوفی 198ھ : علم حدیث کے بڑے اماموں میں ان کا شمار ہوتا ہے، امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور امام شافعی کے استاذ ہیں ، ان کی مجلس میں کسی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی غلطی بیان کی ، اس پر وکیع نے کہا امام صاحب رضی اللہ عنہ کس طرح غلطی کر سکتے ہیں ؟ حالانکہ امام ابویوسف اور زفر جیسے صاحب قیاس اور یحییٰ بن ابی زائدہ اور حفص بن غیاث اور حبان و مندل جیسے حفاظ حدیث اور قاسم بن معن جیسا لغت و ادب کا جاننے والا اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسا زاہد و پارسا ان کے ساتھ ہیں ، جن کے ایسے ہم نشین ہوں وہ غلطی نہیں کر سکتا ، اگر کبھی غلطی کر جائے تو اس کے جلیس ان کو رد کر دیں گے ۔ (امام ابوحنیفہ اور ان کے ناقدین صفحہ 48،چشتی)
علامہ الخوارزمی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 665ھ پوری روایت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں : پھر امام وکیع نے فرمایا جو شخص امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہتا ہے وہ تو جانوروں کی مانندیا اس سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہے ۔ (جامع المسانید 1/23) ۔
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
#فیضان_حضرت_امام_اعظم ❻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ ششم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304837271752319/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنا پر غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب : غیر مقلدین امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنے کا واقعہ بیان کرکے احناف پہ اعتراض کرتے ہیں کہ احناف نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غُلو کیا ہے لیکن غیر مقلدین یہاں بھی ہمیشہ کی طرح دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ واقعہ بیان کرنے والے صرف احناف نہیں بلکہ اسکو بیان کرنے میں شافعی ، حنبلی اور مالکی علماء بھی شامل ہیں ۔ ان اکابرین میں سے 8 علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے ۔
امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب الاسماء صفحہ 704 پہ،علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حیات الحیوان جلد 1 صفحہ 122 پہ،حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ450 پہ،علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تبیض الصحیفہ صفحہ 15 پہ،قاضی حسین بن محمد دیار مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 366 پہ ،(چشتی) عبد الوہاب شعرانی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب المیزان جلد 1 صفحہ 61 پہ،ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے الخیرات الحسان صفحہ 36 پہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ واقعہ بیان کیا ہےکہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ۔
اس کے علاوہ یہ واقعہ صرف امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہی نہیں بلکہ کئی اکابرین سے بھی وقوع ہوا جو کہ مختلف کتابوں میں موجود ہے ۔
حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے کہ چالیس تابعین سے کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور اسکی سند صحیح ہے ۔ (غنیۃ الطالبین، صفحہ 496 بتحقیق مبشر لاہوری غیر مقلد)
غیر مقلدین سے گذارش ہے کہ لگائیں ان اکابرین علماء پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کرنے کا اور لگائیں ان چالیس اکابرین پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے پہ ۔
کیا حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان چالیس اکابرین کا عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے کا واقعہ بیان کر کے غُلو کیا ؟ غیر مقلد عالم نے حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہ فتوی کیوں نہیں لگایا ؟ کیا یہ سب حنبلی ، مالکی اور شافعی علماء اور اکابرین علیہم الرّحمہ بھی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کر رہے ہیں ؟ غیر مقلدو! آؤ، ہمت کرو اور ان اکابرین علیہم الرّحمہ پہ وہی فتوی لگاٶ جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مقلدین احناف پہ لگاتے ہو ؟
ختم قرآن مجید میں حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے معمولات
جليل القدر محدث وإمام و حافظ و اسلامى مؤرخ شمس الدّين الذَّهَبِيّ ( 673 ھـ – 748 ھ
الوفاة 3 ذو القعدة 748 ھ ) فقہ شافعی کے پیرو ہیں ۔۔ ابن تیمیہ بھی ان کے پسندیدہ شیوخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ایک کتاب ہے ۔
مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن ۔
یعنی امام ابو حنیفہ اور آپ کے دو ممتاز شاگردوں ابو یوسف اور محمد بن حسن کے فضائل ۔
حضرت ذھبی نے اس میں سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے تلاوت کے معمولات لکھے ہیں ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الْقَاضِي فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ : ثَنَا الطَّحَاوِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : ” رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حِزْبَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
ابن ابی العوام القاضی نے فضائل ابی حنیفہ میں لکھا ہے ۔ ہمیں ( ہمارے شیخ امام ) طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ ابو حنیفہ کا اپنا ارشاد بتایا کہ کئی بار میں نے صبح کی دو سنتوں میں قرآن مجید کے دو حزب (منزلیں) پڑھے ہیں ۔
یہ کتاب فضائل ابي حنيفة نیٹ پر دستیاب ہے لیکن فقیر خالد محمود نے امام ذھبی کی تائید کو شامل کرنے کے لیئے ان کی کتاب ” مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن” سے خوشہ چینی کی ہے ۔
تقلید و فقہ کی اس عداوت کو کیا کہیں کہ ویسے تو ذھبی بہت بڑے عالم ہیں ان کی کتب زبردست ہیں ۔ ان کی وہ تنقیدیں جو اپنے من کو پسند ہیں وہ قطعی حجت ہیں لیکن ان کی ابو حنیفہ اور ان کے دونوں شاگردوں کے مناقب والی یہ کتاب درست نہیں ۔ سیر اعلام النبلاء باقی ساری قابل استناد ہے لیکن امام ابو حنیفہ کی تعریف والے جملے قابل اعتماد نہیں ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ ششم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304837271752319/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنا پر غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب : غیر مقلدین امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنے کا واقعہ بیان کرکے احناف پہ اعتراض کرتے ہیں کہ احناف نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غُلو کیا ہے لیکن غیر مقلدین یہاں بھی ہمیشہ کی طرح دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ واقعہ بیان کرنے والے صرف احناف نہیں بلکہ اسکو بیان کرنے میں شافعی ، حنبلی اور مالکی علماء بھی شامل ہیں ۔ ان اکابرین میں سے 8 علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے ۔
امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب الاسماء صفحہ 704 پہ،علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حیات الحیوان جلد 1 صفحہ 122 پہ،حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ450 پہ،علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تبیض الصحیفہ صفحہ 15 پہ،قاضی حسین بن محمد دیار مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 366 پہ ،(چشتی) عبد الوہاب شعرانی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب المیزان جلد 1 صفحہ 61 پہ،ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے الخیرات الحسان صفحہ 36 پہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ واقعہ بیان کیا ہےکہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ۔
اس کے علاوہ یہ واقعہ صرف امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہی نہیں بلکہ کئی اکابرین سے بھی وقوع ہوا جو کہ مختلف کتابوں میں موجود ہے ۔
حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے کہ چالیس تابعین سے کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور اسکی سند صحیح ہے ۔ (غنیۃ الطالبین، صفحہ 496 بتحقیق مبشر لاہوری غیر مقلد)
غیر مقلدین سے گذارش ہے کہ لگائیں ان اکابرین علماء پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کرنے کا اور لگائیں ان چالیس اکابرین پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے پہ ۔
کیا حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان چالیس اکابرین کا عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے کا واقعہ بیان کر کے غُلو کیا ؟ غیر مقلد عالم نے حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہ فتوی کیوں نہیں لگایا ؟ کیا یہ سب حنبلی ، مالکی اور شافعی علماء اور اکابرین علیہم الرّحمہ بھی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کر رہے ہیں ؟ غیر مقلدو! آؤ، ہمت کرو اور ان اکابرین علیہم الرّحمہ پہ وہی فتوی لگاٶ جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مقلدین احناف پہ لگاتے ہو ؟
ختم قرآن مجید میں حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے معمولات
جليل القدر محدث وإمام و حافظ و اسلامى مؤرخ شمس الدّين الذَّهَبِيّ ( 673 ھـ – 748 ھ
الوفاة 3 ذو القعدة 748 ھ ) فقہ شافعی کے پیرو ہیں ۔۔ ابن تیمیہ بھی ان کے پسندیدہ شیوخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ایک کتاب ہے ۔
مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن ۔
یعنی امام ابو حنیفہ اور آپ کے دو ممتاز شاگردوں ابو یوسف اور محمد بن حسن کے فضائل ۔
حضرت ذھبی نے اس میں سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے تلاوت کے معمولات لکھے ہیں ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الْقَاضِي فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ : ثَنَا الطَّحَاوِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : ” رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حِزْبَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
ابن ابی العوام القاضی نے فضائل ابی حنیفہ میں لکھا ہے ۔ ہمیں ( ہمارے شیخ امام ) طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ ابو حنیفہ کا اپنا ارشاد بتایا کہ کئی بار میں نے صبح کی دو سنتوں میں قرآن مجید کے دو حزب (منزلیں) پڑھے ہیں ۔
یہ کتاب فضائل ابي حنيفة نیٹ پر دستیاب ہے لیکن فقیر خالد محمود نے امام ذھبی کی تائید کو شامل کرنے کے لیئے ان کی کتاب ” مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن” سے خوشہ چینی کی ہے ۔
تقلید و فقہ کی اس عداوت کو کیا کہیں کہ ویسے تو ذھبی بہت بڑے عالم ہیں ان کی کتب زبردست ہیں ۔ ان کی وہ تنقیدیں جو اپنے من کو پسند ہیں وہ قطعی حجت ہیں لیکن ان کی ابو حنیفہ اور ان کے دونوں شاگردوں کے مناقب والی یہ کتاب درست نہیں ۔ سیر اعلام النبلاء باقی ساری قابل استناد ہے لیکن امام ابو حنیفہ کی تعریف والے جملے قابل اعتماد نہیں ۔
❤1
ابن حجر حافظ حدیث اور شارح بخاری ہیں ۔ فتح الباری ، الإصابة اور تہذیب التھذیب قابل استناد ہیں لیکن تہذیب کے وہ حصے قابل اعتماد نہیں جو ابو حنیفہ کی تعریف میں ہیں ۔ ملاحظہ ہو کلید التحقیق از حافظ زبیر علی زئی اور لقب لکھا ہوا ہے محدث العصر ۔ اس تحریر کو نیٹ پر پڑھیں تو آپ یقینا حیران ہوں گے کہ خطیب بغدادی کی کتاب میں تشنیع زیادہ ہے اور کچھ بھلے جملے بھی امام اعظم کے متعلق نکل ہی گئے ہیں سو ان ” محدث صاحب ” نے لکھا ہے کہ کچھ باتیں {طنز و تشنیع والی} ٹھیک بھی ہیں اور کچھ {تعریف والی} غلط)
امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا فجر کی سنتوں میں دو حزب تلاوت والا ارشاد ” عمدة القاري ” میں امام عینی نے بھی لکھا ہے .
چند اوصاف جناب بغدادی کی اسی تاریخ بغداد سے اگرچہ اور متعدد کتب میں بھی ہیں ۔
(1) خارجة بن مصعب کا قول ہے : ختم القرآن في الكعبة أربعة من الأئمة عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير وأبو حنيفة .
یعنی کعبہ مقدسہ میں 4 ائمہ نے قرآن مجید ختم کیا ہے ۔
عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير و أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ 13 صـ 356 )
كتاب الآثار از امام محمد
(2) مشہور محدث و امام سفيان بن عيينة کا قول ۔: رحم الله أبا حنيفة كان من المصلين ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
اللہ کی رحمت ہو ابو حنیفہ پر آپ نمازیوں میں سے تھے ۔
(3) محمد بن فضيل نے أبو مطيع سے بیان کیا ہے ۔ كنت بمكة فما دخلت الطواف في ساعة من ساعات الليل إلا رأيت أبا حنيفة وسفيان في الطواف ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
میں مکہ مکرمہ میں تھا رات کے جس لمحے بھی طواف کے لیئے گیا ابو حنیفہ اور سفیان کو طواف میں ہی پایا ۔
(4) يحيى بن أيوب الزاهد کا قول ہے : كان أبو حنيفة لا ينام الليل ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
ابو حنیفہ رات کو سوتے نہیں تھے ۔
(5) أسد بن عمر کا قول ہے : صلى أبو حنيفة الفجر بوضوء صلاة العشاء أربعين سنة، فكان عامة الليل يقرأ جميع القرآن في ركعة واحدة وكان يُسمع بكاؤه بالليل حتى يرحمه جيرانه ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ363 )
ابو حنیفہ نے 40 برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ۔ اکثر راتوں میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرماتے ۔ رات کو آپ کے رونے کی آواز آپ کے پڑوسیوں کے کانوں میں بھی پہنچتی تو وہ اس درد بھرے رونے کی وجہ سے آپ پر بڑا ترس کرتے ۔
(6) قال مسعر بن كِدَام : دخلت المسجد فرأيت رجلاً يصلي فاستحليت قراءته فقرأ سبعاً، فقلت: يركع، ثم قرأ الثلث ثم قرأ النصف فلم يزل يقرأ القرآن حتى ختمه كله في ركعة، فنظرت فإذا هو أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356)(كتاب الآثار از امام محمد)(سير أعلام النبلاء للذهبي جـ4 صـ602)
حضرت مسعر بن کدام کہتے ہیں کہ میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا اور ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان کی قرأت مجھے بڑی شیریں لگی اور دل کو لُبھائی جب وہ ساتواں حصہ پڑھ چُکے میں نے کہا رکوع کریں گے پھر وہ قرآن کریم کے ثلث پر آگئے پھر نصف پر آ گئے اسی طرح قرآن کریم پڑھتے رہے یہاں تک کہ سارا قرآن کریم ایک رکعت میں پورا کر دیا میں نے جو آگے بڑھ کر دیکھا وہ امام ابوحنیفہ تھے ۔
(7) و قال يحيى بن نصر : ربما ختم أبو حنيفة القرآن في رمضان ستين مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356) ۔ مناقب الإمام أبي حنيفة و صاحبيه از ذھبی ۔ یحیٰ بن نصر بھی یہی کہتے ہیں کہ بہت مرتبہ حضرت ابو حنیفہ نے 60 بار ختم قرآن کریم کیے ہیں ۔
(8) و روى ابن إسحاق السمرقندي عن القاضي أبي يوسف، قال: كان أبو حنيفة يختم القرآن كل ليلة في ركعة ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 صفحہ 602،چشتی)
ابن اسحاق سمرقندی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے شاگرد قاضی ابو یوسف کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ہمارے استاد امام ابوحنیفہ ہر رکعت میں قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے ۔
(9) وعن يحيى بن عبد الحميد الحماني عن أبيه: أنه صحب أبا حنيفة ستة أشهر، قال : فما رأيته صلى الغداة إلا بوضوء عشاء الآخرة، وكان يختم كل ليلة عند السحر ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 ص602،چشتی)(مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، الذهبي، ص21)
یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی اپنے والد عبدالحمید الحمانی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ ماہ امام ابوحنیفہ کے ساتھ رہے ہیں، کہتے ہیں ان 6 ماہ کے اندر میں نے نہیں دیکھا آپ کو مگر صرف اس حال میں کہ آپ نے عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور آپ ہر رات سحری تک ایک ختم قرآن کریم کیا کرتے تھے ۔
(10) و حُفظ عليه أنه ختم القرآن في الموضع الذي توفي فيه سبعة آلاف مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي،چشتی)(کتاب الاثار از امام محمد)(مرقاة المفاتيح)(الخيرات الحسان)(تهذيب الكمال)(وفيات الأعيان)
آپ کے متعلق یہ بات محفوظ ہے کہ آپ نے اپنے مقام وفات میں 7 ہزار ختم قرآن مجید کیئے ہیں ۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا فجر کی سنتوں میں دو حزب تلاوت والا ارشاد ” عمدة القاري ” میں امام عینی نے بھی لکھا ہے .
چند اوصاف جناب بغدادی کی اسی تاریخ بغداد سے اگرچہ اور متعدد کتب میں بھی ہیں ۔
(1) خارجة بن مصعب کا قول ہے : ختم القرآن في الكعبة أربعة من الأئمة عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير وأبو حنيفة .
یعنی کعبہ مقدسہ میں 4 ائمہ نے قرآن مجید ختم کیا ہے ۔
عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير و أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ 13 صـ 356 )
كتاب الآثار از امام محمد
(2) مشہور محدث و امام سفيان بن عيينة کا قول ۔: رحم الله أبا حنيفة كان من المصلين ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
اللہ کی رحمت ہو ابو حنیفہ پر آپ نمازیوں میں سے تھے ۔
(3) محمد بن فضيل نے أبو مطيع سے بیان کیا ہے ۔ كنت بمكة فما دخلت الطواف في ساعة من ساعات الليل إلا رأيت أبا حنيفة وسفيان في الطواف ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
میں مکہ مکرمہ میں تھا رات کے جس لمحے بھی طواف کے لیئے گیا ابو حنیفہ اور سفیان کو طواف میں ہی پایا ۔
(4) يحيى بن أيوب الزاهد کا قول ہے : كان أبو حنيفة لا ينام الليل ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
ابو حنیفہ رات کو سوتے نہیں تھے ۔
(5) أسد بن عمر کا قول ہے : صلى أبو حنيفة الفجر بوضوء صلاة العشاء أربعين سنة، فكان عامة الليل يقرأ جميع القرآن في ركعة واحدة وكان يُسمع بكاؤه بالليل حتى يرحمه جيرانه ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ363 )
ابو حنیفہ نے 40 برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ۔ اکثر راتوں میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرماتے ۔ رات کو آپ کے رونے کی آواز آپ کے پڑوسیوں کے کانوں میں بھی پہنچتی تو وہ اس درد بھرے رونے کی وجہ سے آپ پر بڑا ترس کرتے ۔
(6) قال مسعر بن كِدَام : دخلت المسجد فرأيت رجلاً يصلي فاستحليت قراءته فقرأ سبعاً، فقلت: يركع، ثم قرأ الثلث ثم قرأ النصف فلم يزل يقرأ القرآن حتى ختمه كله في ركعة، فنظرت فإذا هو أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356)(كتاب الآثار از امام محمد)(سير أعلام النبلاء للذهبي جـ4 صـ602)
حضرت مسعر بن کدام کہتے ہیں کہ میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا اور ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان کی قرأت مجھے بڑی شیریں لگی اور دل کو لُبھائی جب وہ ساتواں حصہ پڑھ چُکے میں نے کہا رکوع کریں گے پھر وہ قرآن کریم کے ثلث پر آگئے پھر نصف پر آ گئے اسی طرح قرآن کریم پڑھتے رہے یہاں تک کہ سارا قرآن کریم ایک رکعت میں پورا کر دیا میں نے جو آگے بڑھ کر دیکھا وہ امام ابوحنیفہ تھے ۔
(7) و قال يحيى بن نصر : ربما ختم أبو حنيفة القرآن في رمضان ستين مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356) ۔ مناقب الإمام أبي حنيفة و صاحبيه از ذھبی ۔ یحیٰ بن نصر بھی یہی کہتے ہیں کہ بہت مرتبہ حضرت ابو حنیفہ نے 60 بار ختم قرآن کریم کیے ہیں ۔
(8) و روى ابن إسحاق السمرقندي عن القاضي أبي يوسف، قال: كان أبو حنيفة يختم القرآن كل ليلة في ركعة ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 صفحہ 602،چشتی)
ابن اسحاق سمرقندی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے شاگرد قاضی ابو یوسف کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ہمارے استاد امام ابوحنیفہ ہر رکعت میں قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے ۔
(9) وعن يحيى بن عبد الحميد الحماني عن أبيه: أنه صحب أبا حنيفة ستة أشهر، قال : فما رأيته صلى الغداة إلا بوضوء عشاء الآخرة، وكان يختم كل ليلة عند السحر ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 ص602،چشتی)(مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، الذهبي، ص21)
یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی اپنے والد عبدالحمید الحمانی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ ماہ امام ابوحنیفہ کے ساتھ رہے ہیں، کہتے ہیں ان 6 ماہ کے اندر میں نے نہیں دیکھا آپ کو مگر صرف اس حال میں کہ آپ نے عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور آپ ہر رات سحری تک ایک ختم قرآن کریم کیا کرتے تھے ۔
(10) و حُفظ عليه أنه ختم القرآن في الموضع الذي توفي فيه سبعة آلاف مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي،چشتی)(کتاب الاثار از امام محمد)(مرقاة المفاتيح)(الخيرات الحسان)(تهذيب الكمال)(وفيات الأعيان)
آپ کے متعلق یہ بات محفوظ ہے کہ آپ نے اپنے مقام وفات میں 7 ہزار ختم قرآن مجید کیئے ہیں ۔
👍1
(11) اور تقریبا ان ساری کتب میں ہے کہ آپ رحمة الله عليه کے صاحبزادے حضرت حماد بن أبي حنيفة کا بیان ہے : لما غسَّل الحسن بن عمارة أبي، قال : “غفر الله لك! لم تفطر منذ ثلاثين سنة، ولم تتوسد يمينك بالليل منذ أربعين سنة، ولقد أتعبت من بعدك، وفضحت القراء ۔ (مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، الذهبي)
جب حسن بن عمارہ نے میرے ابو جی کو غسل دیا تو بول اٹھے ۔ اللہ کی رحمت ہو آپ پر ، 30 سال ہوئے آپ روزے رکھتے ہیں اور 40 سال ہوئے کہ رات کو آپ نے اپنی دائیں طرف میں تکیہ نہیں رکھا ۔ بعد میں آنے والوں کو آپ نے مشکل میں ڈال دیا ۔
اس قدر عبادت و ورع و تقوی سے زندگی بسر کرنا تو بہت بلند ماننے سے بھی لوگ گریزاں ہوں گے ۔
(12) مليح اپنے والد سے راوی ہیں کہ : حدثني أبو حنيفة رضي الله عنه قال : “ما في القرآن سورة إلا قد أوترت بها ۔
مجھے ابو حنیفہ نے بتایا کہ قرآن مجید کی کوئی سورت ایسی نہیں جو میں نے وتر میں نہ پڑھی ہو ۔ (أخبار أبي حنيفة وأصحابه صفحہ 54 المؤلف : الحسين بن علي بن محمد بن جعفر، أبو عبد الله الصَّيْمَري الحنفي المتوفى: 436 ھ) ۔
(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304837271752319/
جب حسن بن عمارہ نے میرے ابو جی کو غسل دیا تو بول اٹھے ۔ اللہ کی رحمت ہو آپ پر ، 30 سال ہوئے آپ روزے رکھتے ہیں اور 40 سال ہوئے کہ رات کو آپ نے اپنی دائیں طرف میں تکیہ نہیں رکھا ۔ بعد میں آنے والوں کو آپ نے مشکل میں ڈال دیا ۔
اس قدر عبادت و ورع و تقوی سے زندگی بسر کرنا تو بہت بلند ماننے سے بھی لوگ گریزاں ہوں گے ۔
(12) مليح اپنے والد سے راوی ہیں کہ : حدثني أبو حنيفة رضي الله عنه قال : “ما في القرآن سورة إلا قد أوترت بها ۔
مجھے ابو حنیفہ نے بتایا کہ قرآن مجید کی کوئی سورت ایسی نہیں جو میں نے وتر میں نہ پڑھی ہو ۔ (أخبار أبي حنيفة وأصحابه صفحہ 54 المؤلف : الحسين بن علي بن محمد بن جعفر، أبو عبد الله الصَّيْمَري الحنفي المتوفى: 436 ھ) ۔
(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304837271752319/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_امام_اعظم_ابو_حنیفہ ❶
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۰۷ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۰۵۱ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـہٗ🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت: ۰۷ھ❤️ عمر ⁸⁰ سال
یو وصال: 2 شعبان المعظم ۰۵۱ھ
امام اعظم کا مختصر تعارف 📜
تعدادِ اساتذہ ⁴,⁰⁰⁰ | شاگِرد ¹⁰,⁰⁰⁰
❤1