imam Aazam Abu Hanifa
فہرستِ کتب 📚 مع لِنکس ↶
شان و عظمت | سیرت و سوانح
حضرت نعمان بن ثابت المعروف:
اماماعظم ابوحنیفہ رضیاللہعنہ
Qist ❶ Book ⁰¹To³⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32136
Qist ❷ Book ³¹To⁵⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32137
مسند امام اعـظم 📚¹⁵
✍ امام اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31984
فقہ اکبر 📚¹² فقه الاکبر
✍حضرت امام اعظم ابوحنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31896
کتاب الآثار 📚⁶ کتاب الاٰثار
✍حضرت اماماعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31917
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام الائمہ سراج الامۃ کاشف الغمہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ
کے حوالےسے تقریباً 60 آنلائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ
https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1
آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت
فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/25485
فہرستِ کتب 📚 مع لِنکس ↶
شان و عظمت | سیرت و سوانح
حضرت نعمان بن ثابت المعروف:
اماماعظم ابوحنیفہ رضیاللہعنہ
Qist ❶ Book ⁰¹To³⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32136
Qist ❷ Book ³¹To⁵⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32137
مسند امام اعـظم 📚¹⁵
✍ امام اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31984
فقہ اکبر 📚¹² فقه الاکبر
✍حضرت امام اعظم ابوحنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31896
کتاب الآثار 📚⁶ کتاب الاٰثار
✍حضرت اماماعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31917
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام الائمہ سراج الامۃ کاشف الغمہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ
کے حوالےسے تقریباً 60 آنلائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ
https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1
آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت
فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/25485
❤2
Forwarded from چینل صدائے حق
*یاد رہے! مجتہد ابوحنیفہ نعمان دو ہیں ایک ہمارے امام اور ایک شیعہ*
یہ پوسٹ اس لیے لکھا تاکہ سنی شیعہ میں امتیاز رہے اور ہم نامی کے مغالطے سے آپ بچے ہیں
*اچھا لگے تو دعا دیں*
کچھ ایسی گندی عبارتیں ہیں جسے غیر مقلدین اور شیعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ عبارتیں شیعہ عالم ابوحنیفہ نعمان کی ہیں
ایک مسئلہ ہے '' لف حریر ''
*سوال''* اگر کوئی شخص اپنے ذکر کو ریشمی رومال یا اس کے مثل کسی اور چیز سے لپیٹ لے کہ جس وجہ سے مرد عورت کی شرمگاہ میں بوقت جماع مَس نہ پایا جائے اور اسی طرح عورت کی شرمگاہ کشادہ ہونے یا مرد کا ذکر بہت باریک ہونے کی صورت میں مَس نہ پایا جائے تو کیا غسل واجب ہے یا نہیں؟
*جواب''* غسل کا لازم ہونا مضبوط دکھائی دیتا ہے اور ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ محارم کے ساتھ ریشم لپیٹ کر جماع کرنا جائز ہے
📚 حوالہ ذخیرۃ المعاد
ذخیرۃ المعاد کی مذکورہ عبارت پر محشی نے لکھا کہ یہ اہلسنت کے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے فرمایا
*سنی امام ابوحنیفہ نعمان اور شیعہ ابوحنیفہ نعمان کا تعارف*
ہمارے امام یعنی امام اعظم رضی اللہ عنہ کا نام
نعمان بن ثابت بن زوطی ہیں جو انتہائی معروف ہیں آپ 80 ہجری میں پیدا ہوئے اور 150 ھجری میں وصال فرمایا
*شیعہ ابوحنیفہ نعمان*
کے بارے میں شیعہ کی مشہور کتاب مجالس المومنین جلد اول ص 538 اور الکنی الالقاب اول ص 57 میں ہے کہ
تاریخ ابن خلکان اور ابن کثیر شامی میں تحریر ہے کہ اس ابوحنیفہ شیعی یہ مشہور معروف آدمی تھا علم فقہ اور دین و بزرگی میں اس مقام پر فائز تھا کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں ہو سکتا در اصل یہ شیعی ابوحنیفہ مالکی المذہب تھا اور پھر مذہب امامیہ کی طرف منتقل ہوگیا اس کی بہت سی تصانیف ہیں مثلاً '' کتاب اختلاف' اصول المذاہب' کتاب اختیار در فقہ '' کتاب الدعوۃ العبیدین' اس کا نام نعمان بن محمد القاضی تھا اہلبیت کے مناقب میں ہزاروں صفحات لکھے اس کی کچھ تصنیفات میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل اور امام شافعی و مالکی وغیرہ کا رد بلیغ ہے
اسکی تصنیف میں اختلاف الفقہاء نامی کتاب ہے جس میں اس نے اہلبیت کے مذہب کی پر زور حمایت کی ہے
شیعہ کی دوسری کتاب اعیان الشیعہ جلد اول ص 44 مطبوعہ مصر میں ہے کہ ابوحنیفہ بن محمد مصری فاطمی عقیدہ والوں کا قاضی تھا ابن خلکان نے کہا یہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر اسے چھوڑ مزہب امامیہ میں آگیا اس کی کتاب'' الاخبار '' اور دوسری کتاب '' الاقتصاد '' فقہ کے موضوع پر ہیں '' وحائم الاسلام '' نامی کتاب اس یعنی (ابوحنیفہ نعمان شیعہ) نے فن حدیث پر لکھی ہے
*تو یاد رکھیں*
1)ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی کوفی ہیں جبکہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان مصری ہے
2) یہ فاطمی مسلک کے لوگوں کا قاضی تھا جبکہ ہمارے ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے عہدہ قضا قبول ہی نہیں کیا
3) یہ شیعہ ابوحنیفہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر امامی ہو گیا جبکہ میرے ابوحنیفہ نعمان رضی اللہ عنہ خود ائمہ اربعہ میں سے ایک مجتہد مطلق ہوئے
4) اس نے مذہب امامیہ کی تائید اور امام اعظم کوفی دیگر ائمہ کی تردید کی
5) یہ فاطمی خلیفہ معز الدین کے ساتھ مصر آیا اور 363ھ میں فوت ہوا جبکہ میرے امام نہ خلیفہ کے ساتھ مصر آئے اور نہ ہی ان کا وصال اس سن میں ہوا بلکہ اس سے پہلے وصال کر گیے
6) یہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان بن محمد مصری ہے جبکہ میرے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی مصری نہیں کوفی ہیں
تو وہ عبارت جسے شیعہ مکار نے امام اعظم ابوحنیفہ جو حنفیوں کے امام ہیں کی طرف منسوب کیا درحقیقت وہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان کی عبارت ہے
جس کے رو سے ثابت ہوا کہ شیعہ اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ اگر ریشمی کپڑا لپیٹ کر ہمبستری کریں تو وہ جائز ہے
بحوالہ '' میزان الکتب محقق اسلام علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ پاکستان
*جیو اور جینے دو*
نوٹ *خبر دار مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا تو عوام کی عدالت میں سخت سزا خدا کی بارگاہ میں عذاب کے مستحق ہوں گے*
📝 *حسن نوری گونڈوی*
+918485880123
خطیب و امام نورانی مسجد بیگم کالونی اجین ایم پی
یہ پوسٹ اس لیے لکھا تاکہ سنی شیعہ میں امتیاز رہے اور ہم نامی کے مغالطے سے آپ بچے ہیں
*اچھا لگے تو دعا دیں*
کچھ ایسی گندی عبارتیں ہیں جسے غیر مقلدین اور شیعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ عبارتیں شیعہ عالم ابوحنیفہ نعمان کی ہیں
ایک مسئلہ ہے '' لف حریر ''
*سوال''* اگر کوئی شخص اپنے ذکر کو ریشمی رومال یا اس کے مثل کسی اور چیز سے لپیٹ لے کہ جس وجہ سے مرد عورت کی شرمگاہ میں بوقت جماع مَس نہ پایا جائے اور اسی طرح عورت کی شرمگاہ کشادہ ہونے یا مرد کا ذکر بہت باریک ہونے کی صورت میں مَس نہ پایا جائے تو کیا غسل واجب ہے یا نہیں؟
*جواب''* غسل کا لازم ہونا مضبوط دکھائی دیتا ہے اور ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ محارم کے ساتھ ریشم لپیٹ کر جماع کرنا جائز ہے
📚 حوالہ ذخیرۃ المعاد
ذخیرۃ المعاد کی مذکورہ عبارت پر محشی نے لکھا کہ یہ اہلسنت کے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے فرمایا
*سنی امام ابوحنیفہ نعمان اور شیعہ ابوحنیفہ نعمان کا تعارف*
ہمارے امام یعنی امام اعظم رضی اللہ عنہ کا نام
نعمان بن ثابت بن زوطی ہیں جو انتہائی معروف ہیں آپ 80 ہجری میں پیدا ہوئے اور 150 ھجری میں وصال فرمایا
*شیعہ ابوحنیفہ نعمان*
کے بارے میں شیعہ کی مشہور کتاب مجالس المومنین جلد اول ص 538 اور الکنی الالقاب اول ص 57 میں ہے کہ
تاریخ ابن خلکان اور ابن کثیر شامی میں تحریر ہے کہ اس ابوحنیفہ شیعی یہ مشہور معروف آدمی تھا علم فقہ اور دین و بزرگی میں اس مقام پر فائز تھا کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں ہو سکتا در اصل یہ شیعی ابوحنیفہ مالکی المذہب تھا اور پھر مذہب امامیہ کی طرف منتقل ہوگیا اس کی بہت سی تصانیف ہیں مثلاً '' کتاب اختلاف' اصول المذاہب' کتاب اختیار در فقہ '' کتاب الدعوۃ العبیدین' اس کا نام نعمان بن محمد القاضی تھا اہلبیت کے مناقب میں ہزاروں صفحات لکھے اس کی کچھ تصنیفات میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل اور امام شافعی و مالکی وغیرہ کا رد بلیغ ہے
اسکی تصنیف میں اختلاف الفقہاء نامی کتاب ہے جس میں اس نے اہلبیت کے مذہب کی پر زور حمایت کی ہے
شیعہ کی دوسری کتاب اعیان الشیعہ جلد اول ص 44 مطبوعہ مصر میں ہے کہ ابوحنیفہ بن محمد مصری فاطمی عقیدہ والوں کا قاضی تھا ابن خلکان نے کہا یہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر اسے چھوڑ مزہب امامیہ میں آگیا اس کی کتاب'' الاخبار '' اور دوسری کتاب '' الاقتصاد '' فقہ کے موضوع پر ہیں '' وحائم الاسلام '' نامی کتاب اس یعنی (ابوحنیفہ نعمان شیعہ) نے فن حدیث پر لکھی ہے
*تو یاد رکھیں*
1)ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی کوفی ہیں جبکہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان مصری ہے
2) یہ فاطمی مسلک کے لوگوں کا قاضی تھا جبکہ ہمارے ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے عہدہ قضا قبول ہی نہیں کیا
3) یہ شیعہ ابوحنیفہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر امامی ہو گیا جبکہ میرے ابوحنیفہ نعمان رضی اللہ عنہ خود ائمہ اربعہ میں سے ایک مجتہد مطلق ہوئے
4) اس نے مذہب امامیہ کی تائید اور امام اعظم کوفی دیگر ائمہ کی تردید کی
5) یہ فاطمی خلیفہ معز الدین کے ساتھ مصر آیا اور 363ھ میں فوت ہوا جبکہ میرے امام نہ خلیفہ کے ساتھ مصر آئے اور نہ ہی ان کا وصال اس سن میں ہوا بلکہ اس سے پہلے وصال کر گیے
6) یہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان بن محمد مصری ہے جبکہ میرے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی مصری نہیں کوفی ہیں
تو وہ عبارت جسے شیعہ مکار نے امام اعظم ابوحنیفہ جو حنفیوں کے امام ہیں کی طرف منسوب کیا درحقیقت وہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان کی عبارت ہے
جس کے رو سے ثابت ہوا کہ شیعہ اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ اگر ریشمی کپڑا لپیٹ کر ہمبستری کریں تو وہ جائز ہے
بحوالہ '' میزان الکتب محقق اسلام علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ پاکستان
*جیو اور جینے دو*
نوٹ *خبر دار مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا تو عوام کی عدالت میں سخت سزا خدا کی بارگاہ میں عذاب کے مستحق ہوں گے*
📝 *حسن نوری گونڈوی*
+918485880123
خطیب و امام نورانی مسجد بیگم کالونی اجین ایم پی
❤2
Forwarded from چینل صدائے حق
پوری دنیا میں سب سے زیادہ مشہور مذہب سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا ہے
اسی طرح پوری دنیا سب سے زیادہ مشہور قرات
سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ کا ہے
اور روایت
سیدنا امام حفص رضی اللہ عنہ کی
اور طرق
سیدنا امام شاطبی رضی اللہ عنہ کی
اور اسی طرح ساری دنیا میں سب سے زیادہ ماتریدی ہیں یعنی پَیرو
سیدنا امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہ
اور ان حضرات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے ملاحظہ فرمائیں
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے قرات سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ سے سیکھی
اور امام حفص رضی اللہ عنہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے ساتھ تجارت کیا کرتے تھے اور سیدنا امام ماتریدی حنفی المذہب ہیں
تو جان لیں کہ ہم مذہبا حنفی ہیں
مسلکا ماتریدی
اور قرات امام عاصم بروایت حفص بطریق امام شاطبی کرتے ہیں
📝 حسن نوری گونڈوی
8485880123
اسی طرح پوری دنیا سب سے زیادہ مشہور قرات
سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ کا ہے
اور روایت
سیدنا امام حفص رضی اللہ عنہ کی
اور طرق
سیدنا امام شاطبی رضی اللہ عنہ کی
اور اسی طرح ساری دنیا میں سب سے زیادہ ماتریدی ہیں یعنی پَیرو
سیدنا امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہ
اور ان حضرات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے ملاحظہ فرمائیں
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے قرات سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ سے سیکھی
اور امام حفص رضی اللہ عنہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے ساتھ تجارت کیا کرتے تھے اور سیدنا امام ماتریدی حنفی المذہب ہیں
تو جان لیں کہ ہم مذہبا حنفی ہیں
مسلکا ماتریدی
اور قرات امام عاصم بروایت حفص بطریق امام شاطبی کرتے ہیں
📝 حسن نوری گونڈوی
8485880123
❤3
#فیضان_حضرت_امام_اعظم ❹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ چہارم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304765965092783/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : 96 ہجری کو 16 سال کی عمر میں والد گرامی (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ) کے ساتھ حج کیا ، اس دوران میں نے ایک شیخ کو دیکھا جن کے ارد گرد لو گ جمع تھے ، میں نے والدِ محترم سے عرض کی : یہ ہستی کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے عرض کی : ان کے پاس کون سی چیز ہے ؟ فرمایا : ان کے پاس نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہوئی احادیثِ مبارکہ ہیں ۔ یہ سُن کر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور صحابی رسول سے براہِ راست ایک حدیث پاک سننے کا شرف حاصل کیا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ ، صفحہ 18)
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری و باطنی حسن وجمال سے نوازا تھا ۔ آپ کا قَد دَرمیانہ اور چہرہ نہایت حسین تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ عمدہ لباس اور جوتے استعمال فرماتے ، کثرت سے خوشبو استعمال فرماتے اور یہی خوشبو آپ کی تشریف آوری کا پتہ دیتی ۔ آپ کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے کلمات پھول کی پتیوں سے زیادہ نرم ہوتے اورلفظوں کی مٹھاس کانوں میں رَس گھول دیتی ، آپ کو کبھی غیبت کرتے نہیں سنا گیا ۔
ایک مرتبہ حضرت ابن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے حَضْرت سُفْیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ علیہ سے آپ کے اِس وصف کا تذکرہ یوں کیا : امامِ اعظم ابُوحنیفہ رضی اللہ عنہ غیبت سے اتنے دُور رہتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دُشْمن کی غیبت کرتے ہوئے بھی نہیں سُنا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ ننبر 42،چشتی)
آپ رضی اللہ عنہ رضائے الٰہی کو ہر شئی پر ترجیح دیتے ۔ (تہذیب الاسماء، 2/503، 506)(اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص42)
آپ رضی اللہ عنہ علما و مشائخ کی اعانت پر زرِّ کثیر خرچ فرماتے ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ 42)
آپ رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر شاگرد امام ابوىوسف رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : امام اعظم رضی اللہ عنہ 20 سال تک میری اور میرے اہل و عیال کى کفالت فرماتے رہے ۔ (الخیرات الحسان ، صفحہ 57،چشتی)
آپ کسى کو کچھ عطا فرماتے اور وہ اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتا تو اس سے فرماتے : اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرو کیونکہ یہ رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا ہے ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ زہد و تقویٰ کے جامع ، والدہ کے فرمانبردار ، امانت و دیانت میں یکتا ، پڑوسیوں سےحسنِ سلوک میں بے مثال تھے ، بے نظیر سخاوت اورمسلمانوں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی جیسے کئی اوصاف نے آپ کی ذات کو نمایاں کر دیا تھا ۔ (اخبار الامام اعظم ابی حنیفہ صفحہ 41 تا 49 ، 63)(تبییض الصحیفۃ صفحہ 131)
آپ رضی اللہ عنہ کے حسنِ اخلاق سے متعلق حَضْرت بُکَیْر بن مَعْرُوْف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نےاُمَّتِ مصطفےٰ میں امام ابُو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ حُسْنِ اَخْلاق والا کسی کو نہیں دیکھا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 56،چشت)
حضرت شفیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چُھپ گیا اور دوسرا راستہ اختیار کیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے پُکارا ، وہ آیا تو پوچھا کہ تم نے راستہ کیوں بدل دیا ؟ اور کیوں چھپ گئے ؟ اس نے عرض کی : میں آپ کا مقروض ہوں ، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں ، آپ سے شرماتا ہوں ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے ، جاؤ ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
عبادت و ریاضت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ دن بھر علمِ دین کی اِشاعت ، ساری رات عبادت و رِیاضت میں بَسر فرماتے ۔ آپ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے ، تیس سال تک ایک رَکعَت میں قراٰنِ پاک خَتْم کرتے رہے ، چالیس سال تک عِشا کے وُضُو سے فجر کی نَماز ادا کی ، ہر دن اور رات میں قراٰن پاک ختم فرماتے ، رمضان المبارک میں 62 قراٰن ختم فرماتے اور جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قراٰنِ پاک خَتْم کیے ۔(الخیرات الحسان صفحہ 50)
آپ نے 1500 درہم خرچ کرکے ایک قیمتی لباس سلوا رکھا تھا جسے آپ روزانہ رات کے وقت زیبِ تن فرماتے اور اس کی حکمت یہ ارشاد فرماتے : اللہ تعایٰ کےلیے زِینت اختیار کرنا ، لوگوں کےلیے زِینت اختیار کرنے سے بہتر ہے ۔ (تفسیرروح البیان ،3/154)
رات میں ادا کی جانے والی اِن نمازوں میں خوب اشک باری فرماتے ، اس گریہ و زاری کا اثر آپ رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارکہ پر واضح نظر آتا ۔ (اخبارا بی حنیفۃ و اصحابہ صفحہ 47)(الخیرات الحسان صفحہ 54)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ چہارم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304765965092783/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : 96 ہجری کو 16 سال کی عمر میں والد گرامی (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ) کے ساتھ حج کیا ، اس دوران میں نے ایک شیخ کو دیکھا جن کے ارد گرد لو گ جمع تھے ، میں نے والدِ محترم سے عرض کی : یہ ہستی کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے عرض کی : ان کے پاس کون سی چیز ہے ؟ فرمایا : ان کے پاس نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہوئی احادیثِ مبارکہ ہیں ۔ یہ سُن کر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور صحابی رسول سے براہِ راست ایک حدیث پاک سننے کا شرف حاصل کیا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ ، صفحہ 18)
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری و باطنی حسن وجمال سے نوازا تھا ۔ آپ کا قَد دَرمیانہ اور چہرہ نہایت حسین تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ عمدہ لباس اور جوتے استعمال فرماتے ، کثرت سے خوشبو استعمال فرماتے اور یہی خوشبو آپ کی تشریف آوری کا پتہ دیتی ۔ آپ کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے کلمات پھول کی پتیوں سے زیادہ نرم ہوتے اورلفظوں کی مٹھاس کانوں میں رَس گھول دیتی ، آپ کو کبھی غیبت کرتے نہیں سنا گیا ۔
ایک مرتبہ حضرت ابن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے حَضْرت سُفْیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ علیہ سے آپ کے اِس وصف کا تذکرہ یوں کیا : امامِ اعظم ابُوحنیفہ رضی اللہ عنہ غیبت سے اتنے دُور رہتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دُشْمن کی غیبت کرتے ہوئے بھی نہیں سُنا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ ننبر 42،چشتی)
آپ رضی اللہ عنہ رضائے الٰہی کو ہر شئی پر ترجیح دیتے ۔ (تہذیب الاسماء، 2/503، 506)(اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص42)
آپ رضی اللہ عنہ علما و مشائخ کی اعانت پر زرِّ کثیر خرچ فرماتے ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ 42)
آپ رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر شاگرد امام ابوىوسف رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : امام اعظم رضی اللہ عنہ 20 سال تک میری اور میرے اہل و عیال کى کفالت فرماتے رہے ۔ (الخیرات الحسان ، صفحہ 57،چشتی)
آپ کسى کو کچھ عطا فرماتے اور وہ اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتا تو اس سے فرماتے : اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرو کیونکہ یہ رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا ہے ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ زہد و تقویٰ کے جامع ، والدہ کے فرمانبردار ، امانت و دیانت میں یکتا ، پڑوسیوں سےحسنِ سلوک میں بے مثال تھے ، بے نظیر سخاوت اورمسلمانوں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی جیسے کئی اوصاف نے آپ کی ذات کو نمایاں کر دیا تھا ۔ (اخبار الامام اعظم ابی حنیفہ صفحہ 41 تا 49 ، 63)(تبییض الصحیفۃ صفحہ 131)
آپ رضی اللہ عنہ کے حسنِ اخلاق سے متعلق حَضْرت بُکَیْر بن مَعْرُوْف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نےاُمَّتِ مصطفےٰ میں امام ابُو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ حُسْنِ اَخْلاق والا کسی کو نہیں دیکھا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 56،چشت)
حضرت شفیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چُھپ گیا اور دوسرا راستہ اختیار کیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے پُکارا ، وہ آیا تو پوچھا کہ تم نے راستہ کیوں بدل دیا ؟ اور کیوں چھپ گئے ؟ اس نے عرض کی : میں آپ کا مقروض ہوں ، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں ، آپ سے شرماتا ہوں ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے ، جاؤ ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
عبادت و ریاضت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ دن بھر علمِ دین کی اِشاعت ، ساری رات عبادت و رِیاضت میں بَسر فرماتے ۔ آپ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے ، تیس سال تک ایک رَکعَت میں قراٰنِ پاک خَتْم کرتے رہے ، چالیس سال تک عِشا کے وُضُو سے فجر کی نَماز ادا کی ، ہر دن اور رات میں قراٰن پاک ختم فرماتے ، رمضان المبارک میں 62 قراٰن ختم فرماتے اور جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قراٰنِ پاک خَتْم کیے ۔(الخیرات الحسان صفحہ 50)
آپ نے 1500 درہم خرچ کرکے ایک قیمتی لباس سلوا رکھا تھا جسے آپ روزانہ رات کے وقت زیبِ تن فرماتے اور اس کی حکمت یہ ارشاد فرماتے : اللہ تعایٰ کےلیے زِینت اختیار کرنا ، لوگوں کےلیے زِینت اختیار کرنے سے بہتر ہے ۔ (تفسیرروح البیان ،3/154)
رات میں ادا کی جانے والی اِن نمازوں میں خوب اشک باری فرماتے ، اس گریہ و زاری کا اثر آپ رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارکہ پر واضح نظر آتا ۔ (اخبارا بی حنیفۃ و اصحابہ صفحہ 47)(الخیرات الحسان صفحہ 54)
❤1
آپ نے حُصُولِ رزقِ حلَال کےلیے تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا اور لوگوں سے بھلائی اور شَرعی اُصُولوں کی پاسداری کا عملی مظاہرہ کر کے قیامت تک کے تاجروں کےلیے ایک روشن مثال قائم فرمائی ۔ (تاریخ بغداد، 13/356)
علمِ فقہ کی تدوین ، ابوابِِ فقہ کی ترتیب اور دنیا بھر میں فقہ حنفی کی پذیرائی آپ کی امتیازی خصوصیات میں شامل ہے ۔ (الخیرات الحسان صحہ 43)
وصال ومدفن 150 ہجری کو عہدۂ قضا قبول نہ کرنے کی پاداش میں آپ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ آپ کے جنازے میں تقریباً پچاس ہزار افراد نے شرکت کی ۔
لاکھوں شافعیوں کے امام حضرت سیّدنا امام شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے بغداد میں قیام کے دوران ایک معمول کا ذکر یوں فرمایا : میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے برکت حاصِل کرتا ہوں ، جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رَکعَت پڑھ کر ان کی قَبْرِمبارک کے پاس آتا ہوں اور اُس کے پاس اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے ۔ آج بھی بغداد شریف میں آپ کا مزارِ فائضُالاَنْوار مَرجَعِ خَلائِق ہے ۔(مناقب الامام الاعظم 2/216)(سیراعلام النبلاء، 6/537)(اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ صدحہ نمبر 94،چشتی)(الخیرات الحسان صفحہ 94)
اسلامی معاشرہ میں تصوف روز اول سے مو جود ہے اور ان شا ء اللہ رہتی دنیا تک پوری آب و تاب کے ساتھ مطلع حیات پر جگمگا تا رہے گا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ تصوف اسلام کی خالص ترین اور پاکیزہ ترین تعبیر ہے سچا تصوف انسان کو حقیقت کا راستہ دکھا تاہے اللہ ورسول کے راستے کا علم عطا کرتا ہے،صوفیا کا تعلق اسلام کے دور اول سے ہی ہے، اسی سلسلے میں سید الطا ئفہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان ہے کہ:’’ ہمارے طریقے کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے اور ہر وہ طریق جو کتاب و سنت کے خلاف ہو باطل اور مردود ہے۔ ‘‘ آپ کا یہ بھی فرمان ہے’’جس شخص نے حد یث نہیں سنی اور فقہا کے پاس نہیں بیٹھا اور با ادب حضرا ت سے ادب نہیں سیکھا وہ اپنے پیروں کاروں کو بگاڑ دیگا۔ ‘‘ جب تک انسان علم سے آشنا نہیں ہو گا تواللہ و رسول کے احکام کی پیر وی کیسے کرے گا اور اسلامی زندگی کے آداب کو کیسے جا نے گا اسی لئے رب تبا رک وتعالیٰ کا فر مان عالیشان ہے۔ فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ ا لذِّ کْرِاِ نْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوُنَ(القرآن،سورہ نحل ۱۶، آیت۴۳) تر جمہ: تو اے لو گو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں ۔ (کنزالا یمان) علم ہی کی بنیاد پرانسان اللہ و رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اسکی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اور دین اسلا م میں اچھے برے کی تمیز کر سکتا ہے، حلال و حرام میں امتیاز برت سکتا ہے۔ اسی لئے قر آن کریم بھی بتا رہا ہیقُلْ ھَلْ یَسْتَوِی ا لَّذِ یْنَ یَعْلَمُوْ نَ وَ الَّذِ یْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (القرآن،سورہ زمر۳۹،آیت۹)تر جمہ: تم فر ما ؤ کیا برابر ہیں جاننے والے(یعنی علم والے) اور انجان(یعنی ان پڑھ)۔ (کنزالایمان) جا ننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے اللہ جسے چا ہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وَا للّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَا للّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (القرآن،سورہ بقر۲، آیت۱۰۵)تر جمہ: اور اللہ اپنی ر حمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (کنزالایمان)اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے ہر زمانہ ہر دور میں اللہ اپنے نیک بندوں کو علم وفضل کی د ولت سے نواز کر لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے انھیں نیک بندوں میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں (ابوحنیفہ : رحمتہ اللہ علیہ:۶۹۹۔ ۷۶۷ء۔ ۸۰۔ ۱۵۰ھ) آپ سنی حنفی فقہ اسلامی کے بانی تھے آپ ایک تابعی، عالم دین تھے، مجتہد اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کر نے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔
امام اعظم کے مناقب وبشارت:امام ا عظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے فضا ئل ومناقب میں بڑے بڑے بزر گوں نے کتا بیں لکھیں ہیں مشہور مفسر قرآن( جنکی تفسیر تمام مکاتب فکر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) تفسیر جلالین شریف کے مصنف علامہ جلال الد ین سیوطی (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ)(تبیض الصحیفۃ فی منا قب الا مام ابی حنیفہ،چشتی) میں بہت خوب صورت باتیں لکھی ہیں جوپڑ ھنے سے تعلق رکھتی ہیں اہل علم ضرور پڑھیں ،آپ کانام نعمان بن ثابت زوتا اور کنیت ابو حنیفہ تھی۔ آپ امام اعظم کے لقب سے یاد کئے جا تے ہیں آپ تمام ائمہ کے مقابلے میں سب سے بڑے مقام و مر تبے پر فائز ہیں ۔ اسلامی فقہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کا پایا بہت بلند ہے، آپ نہایت ذہین، ا نتہائی قوی حافظہ (memory) کے ما لک تھے آپ کا زہدو تقویٰ، فہم وفراست اور حکمت ودانائی بہت مشہور تھی، امام اعظم ابو حنیفہ دن میں علم دین پھیلا تے اور رات میں اللہ کی عبادت کرتے انکی حیات مبارکہ کے لا تعداد گوشے ہیں ، ایک طرف آپ علم کے سمندر ہیں تو دوسری طرف زہدو تقویٰ وطہارت کے پہاڑ
علمِ فقہ کی تدوین ، ابوابِِ فقہ کی ترتیب اور دنیا بھر میں فقہ حنفی کی پذیرائی آپ کی امتیازی خصوصیات میں شامل ہے ۔ (الخیرات الحسان صحہ 43)
وصال ومدفن 150 ہجری کو عہدۂ قضا قبول نہ کرنے کی پاداش میں آپ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ آپ کے جنازے میں تقریباً پچاس ہزار افراد نے شرکت کی ۔
لاکھوں شافعیوں کے امام حضرت سیّدنا امام شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے بغداد میں قیام کے دوران ایک معمول کا ذکر یوں فرمایا : میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے برکت حاصِل کرتا ہوں ، جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رَکعَت پڑھ کر ان کی قَبْرِمبارک کے پاس آتا ہوں اور اُس کے پاس اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے ۔ آج بھی بغداد شریف میں آپ کا مزارِ فائضُالاَنْوار مَرجَعِ خَلائِق ہے ۔(مناقب الامام الاعظم 2/216)(سیراعلام النبلاء، 6/537)(اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ صدحہ نمبر 94،چشتی)(الخیرات الحسان صفحہ 94)
اسلامی معاشرہ میں تصوف روز اول سے مو جود ہے اور ان شا ء اللہ رہتی دنیا تک پوری آب و تاب کے ساتھ مطلع حیات پر جگمگا تا رہے گا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ تصوف اسلام کی خالص ترین اور پاکیزہ ترین تعبیر ہے سچا تصوف انسان کو حقیقت کا راستہ دکھا تاہے اللہ ورسول کے راستے کا علم عطا کرتا ہے،صوفیا کا تعلق اسلام کے دور اول سے ہی ہے، اسی سلسلے میں سید الطا ئفہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان ہے کہ:’’ ہمارے طریقے کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے اور ہر وہ طریق جو کتاب و سنت کے خلاف ہو باطل اور مردود ہے۔ ‘‘ آپ کا یہ بھی فرمان ہے’’جس شخص نے حد یث نہیں سنی اور فقہا کے پاس نہیں بیٹھا اور با ادب حضرا ت سے ادب نہیں سیکھا وہ اپنے پیروں کاروں کو بگاڑ دیگا۔ ‘‘ جب تک انسان علم سے آشنا نہیں ہو گا تواللہ و رسول کے احکام کی پیر وی کیسے کرے گا اور اسلامی زندگی کے آداب کو کیسے جا نے گا اسی لئے رب تبا رک وتعالیٰ کا فر مان عالیشان ہے۔ فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ ا لذِّ کْرِاِ نْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوُنَ(القرآن،سورہ نحل ۱۶، آیت۴۳) تر جمہ: تو اے لو گو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں ۔ (کنزالا یمان) علم ہی کی بنیاد پرانسان اللہ و رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اسکی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اور دین اسلا م میں اچھے برے کی تمیز کر سکتا ہے، حلال و حرام میں امتیاز برت سکتا ہے۔ اسی لئے قر آن کریم بھی بتا رہا ہیقُلْ ھَلْ یَسْتَوِی ا لَّذِ یْنَ یَعْلَمُوْ نَ وَ الَّذِ یْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (القرآن،سورہ زمر۳۹،آیت۹)تر جمہ: تم فر ما ؤ کیا برابر ہیں جاننے والے(یعنی علم والے) اور انجان(یعنی ان پڑھ)۔ (کنزالایمان) جا ننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے اللہ جسے چا ہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وَا للّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَا للّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (القرآن،سورہ بقر۲، آیت۱۰۵)تر جمہ: اور اللہ اپنی ر حمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (کنزالایمان)اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے ہر زمانہ ہر دور میں اللہ اپنے نیک بندوں کو علم وفضل کی د ولت سے نواز کر لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے انھیں نیک بندوں میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں (ابوحنیفہ : رحمتہ اللہ علیہ:۶۹۹۔ ۷۶۷ء۔ ۸۰۔ ۱۵۰ھ) آپ سنی حنفی فقہ اسلامی کے بانی تھے آپ ایک تابعی، عالم دین تھے، مجتہد اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کر نے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔
امام اعظم کے مناقب وبشارت:امام ا عظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے فضا ئل ومناقب میں بڑے بڑے بزر گوں نے کتا بیں لکھیں ہیں مشہور مفسر قرآن( جنکی تفسیر تمام مکاتب فکر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) تفسیر جلالین شریف کے مصنف علامہ جلال الد ین سیوطی (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ)(تبیض الصحیفۃ فی منا قب الا مام ابی حنیفہ،چشتی) میں بہت خوب صورت باتیں لکھی ہیں جوپڑ ھنے سے تعلق رکھتی ہیں اہل علم ضرور پڑھیں ،آپ کانام نعمان بن ثابت زوتا اور کنیت ابو حنیفہ تھی۔ آپ امام اعظم کے لقب سے یاد کئے جا تے ہیں آپ تمام ائمہ کے مقابلے میں سب سے بڑے مقام و مر تبے پر فائز ہیں ۔ اسلامی فقہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کا پایا بہت بلند ہے، آپ نہایت ذہین، ا نتہائی قوی حافظہ (memory) کے ما لک تھے آپ کا زہدو تقویٰ، فہم وفراست اور حکمت ودانائی بہت مشہور تھی، امام اعظم ابو حنیفہ دن میں علم دین پھیلا تے اور رات میں اللہ کی عبادت کرتے انکی حیات مبارکہ کے لا تعداد گوشے ہیں ، ایک طرف آپ علم کے سمندر ہیں تو دوسری طرف زہدو تقویٰ وطہارت کے پہاڑ
❤1
ہیں آپ اکثر خوش لباس رہتے، گفتگو نہایت شیریں فر ماتے او ر فصاحت تو آپ کی گھٹی میں تھی بے شما ر فضائل و منا قب ہیں چھوٹے سے مقالہ میں لکھنا ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ چار امام (۱) امام اعظم ابو حنیفہ(۲) امام مالک(۳) امام شافعی(۴) امام احمد بن حنبل۔ دین اسلام کے سنگ میل ہیں ، اسلام کے ستون ہیں اور اہلسنت و جماعت کے علماء میں سے ہیں ، ان کے فضائل ومناقب بہت مشہور ہیں کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں ، ہر مذ ہب کے علماء نے اپنے اپنے امام کا تذکرہ کیا ہے، ان کی تعریفوں میں مبالغہ کیا ہے اور اپنی عقیدت کے مطابق ان کے منا قب بیان کئے ہیں ،بہت سی کتا بوں میں امام اعظم کے مناقب مو جود ہیں ۔ حضرت امام اعظم کا گزر بسر ان کی اپنی کمائی اور رزق حلال سے تھی علماء مشائخ پر بہت خر چ فرماتے تھے علم سیکھنے سکھا نے کا بہت زیا دہ ذوق تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کے اسا تذہ کی تعداد چار ہزار سے زیادہ تھی،علم الادب، علم ا لا نساب اور علم الکلام کی تحصیل کے بعد فقہ سے فیضیاب ہوئے۔ آپ علم فقہ کے عالم ہیں۔ آپ کے شیوخ اسا تذہ کی تعداد چا ر ہزار بتائی جا تی ہے، جن سے وقتاً فوقتاً اکتساب علم کرتے رہے۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہما کی شا گر دی کا شرف اور فخر بھی آپ کو حاصل ہے، امام اعظم ابو حنیفہ نے تقریباً چار ہزار مشائخ سے علم حاصل کیا، خود امام اعظم کا قول ہے کہ’’ میں نے کوفہ و بصرہ کا کوئی ایسا محدث نہیں چھوڑا جس سے میں نے علمی استفا دہ نہ کیا ہو‘‘۔ مشہورمجذوب ( خدا کی محبت میں غرق رہنے والا) صوفی بزرگ حضرت بہلول دانا رضی اللہ عنہ بھی آپ کے استاد تھے امام اعظم ابو حنیفہ آپ کے پاس تعلیم حاصل کر نے جاتے رات را ت بھر ان کی خد مت میں رہکر تصوف کے راز جانتے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ تصوف کے کس قدر اعلیٰ مقام پر فائز ہیں شاگر دوں کی تعداد لا کھوں میں ہے،آپ نے تحصیل علم کے بعد جب درس و تدریس کے سلسلے کا آغاز کیا تو آپ کے حلقہ درس میں ازدھام ہو تا اور حاضرین میں اکثریت اس دور کے جید علما کرام کی ہوتی علامہ کرو ری نے آپ کے خاص شاگر دوں کی تعداد ایک ہزار فقہا، محد ثین، صوفیا ومشائخ شمار کیا ہے یہ ان لا کھوں انسانوں کے علاوہ تھے جو ان کے درس میں شامل ہوتے تھے آپ کے شاگر دوں میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المر تبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے تھے وہ آپ کے مشیر خاص تھے، ان میں چند کے نام یہ ہیں امام حماد بن ابی حنیفہ، امام زفر بن بذیل، امام عبداللہ بن مبارک، امام وکیع بن براح، امام داؤدبن یفر، امام ابو یوسف، اسکے علاوہ قر آن مجید کے بعد اہلسنت و الجما عت کی صحیح ترین کتاب صحیح بخا ری کے مولف حضرت امام محمد اسما عیل بخاری و بڑے بڑے محد ثین کرام آپ کے شاگر دوں کے شاگرد تھے، یہ آپ کے علم کا حال تھا۔آ پ تحفے تحائف اور عطیات قبول نہیں فر ماتے، جب اپنے گھر والوں کے لیے کوئی چیز خرید تے تو بزرگ علما کے لیے بھی خرید تے، علما کو بہت نواز تے، علما کے نواز نے کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے شافیعہ کے مقتدا شیخ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’قلا ئد العیقان فی منا قب النعمان‘‘ میں لکھتے ہیں ، مروی ہے کہ آپ نے اپنے بیٹے حماد کو ایک استاد کے پاس بھیجا، استاد نے انھیں پڑ ھایا’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ‘‘امام اعظم نے انھیں پانچ سو درہم بھجوائے، استاد نے کہا کہ یہ تو بہت زیادہ ہیں ( ابھی میں نے پڑھا یا ہی کیا ہے؟) امام اعظم ناراض ہو گئے اور اپنے بیٹے کو روک لیا اور فر مایا: تمہارے نزدیک قر آ ن پاک کی کچھ قدرو منز لت نہیں ہے( ایسے شخص سے اپنے بیٹے کو نہیں پڑھا سکتا)۔تصوف پر آپ کا عمل:آپ کا تصوف پر عمل کس قدر تھا اس واقعہ سے اندازہ لگائیں جامع الا صول میں ہے اور بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ جب آپ نے حج کیا تو بیت اللہ شریف کے دربانوں کو نذرانہ پیش کیا اور انتہائی ادب سے بیت اللہ شریف کے اندر نماز پڑھنے کی اجا زت مانگی آپ کو اجازت مل گئی، چنانچہ آپ نے ایک پا ؤں پر کھڑے ہو کر آدھا قرآن پاک پڑ ھا اور باقی آدھا قرآن پاک دوسرے پا ؤں پر کھڑے ہو کر پڑھا، اور دعا کی’’اے میرے رب! میں نے تجھے پہچا نا جیسے کہ تیری معر فت کا حق ہے، لیکن تیری عبادت کا جو حق ہے وہ میں نہیں ادا کر سکا‘‘ یہ معر فت خدا کا کمال تھا کہ آپ نے اپنی عبا دت کو نا قص جا نا، بیت اللہ شریف کے ایک کونے سے آ واز آئی،’’ تم نے خوب معرفت حاصل کی اور اخلاص کے ساتھ عبادت کی، ہم نے تمھیں اور قیامت تک تمھا رے مذہب والوں کو بخش دیا‘‘(عقو دالجمان(حید رآبا د دکن) ص ۱۲۰ مصنف محمد یو سف صالحی،فقہ وتصوف، شاہ عبدالحق دہلوی رحمتہ اللہ ص۲۱۳،۲۱۲،چشتی)
❤1
عبادت میں کمال:آپ تصوف کے پیکر تھے آج کل کے نام نہاد صو فیا عبادات میں پابند نہیں اور طرح طرح کی تا ویلیں پیش کر تے ہیں کہ صو فیا کی عبادت فلاں فلاں جگہ ہوتی ہے سب عیاری ومکاری ہے،صو فیا ئے کرا م تو اللہ والے ہوتے ہیں شریعت مطہرہ کی پابندی میں اپنی عا فیت کی راہ کھوجتے ہیں ۔ آپ کے سوانح نگاروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ نے عشاء کے وضو سے چالیس سال تک فجر کی نماز ادا کی، اور تیس سال تک (ایام ممنوعہ کے علاوہ) روزہ دار رہے، اکثر راتوں میں ایک رکعت میں قرآن پاک ختم کیا کر تے تھے، یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس جگہ آپ کی وفات ہوئی وہاں آپ نے سات ہزار مر تبہ قرآن پاک ختم کیا تھا، رمضان المبا رک کے ہر دن اور رات میں ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے، عید کے دن دو مر تبہ ختم قر آن فر ماتے، ہر سال حج کیا کرتے، اس طرح آپ نے ۵۵ حج کئے۔
مو من کی پہچان صبرو حلم: امام اعظم انتہائی درجے کے صابر اور حلیم تھے، لوگوں کی ایذا رسانی پر صبر وحلم کا مظاہرہ فرماتے۔ یزید بن ہا رون کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ سے زیادہ صبر کر نے والا کوئی نہ دیکھا، جب آپ کو اطلاع ملتی کی فلاں شخص نے آپ کی برائی بیان کی ہے تو آپ اسے نر می سے پیغام بھیجتے کہ بھائی اللہ تعالیٰ تمھاری مغفرت فر مائے، میں نے تجھے اللہ کے سپرد کیا، وہ جانتا ہے کہ تم نے غلط بات کی۔ آج کے صو فیا کے لئے آپ کا کر دار مشعل راہ ہے آج تو زرہ زرہ سی بات پر اپنے مخا لفوں کے لیے بدعا کر نے کا رجحان عام ہو گیا ہے جو کی انتہائی فکر اور شرم کی بات ہے۔امانت ودیانت میں آ پ کا مقام: آپ بہت اما نت دار تھے امانت کو ہر بات میں تر جیح دیتے تھے اگر اللہ کی را ہ میں ان پر تلواریں لہر ائی جائیں تو انھیں بر داشت کر لیتے، کہتے ہیں ان کے زمانے میں ایک بکری چوری ہو گئی، امام اعظم نے پو چھا کہ بکری کی عمر عام طور پر کتنی ہو تی ہے؟ بتایا گیا چار سال تک بکری کا گوشت نہیں کھایا( مبادا اس میں چوری کا گوشت نہ کھا جا ؤں۔
اما م اعظم کی صفات: معانی ابن عمران موصلی سے منقول ہے کہ امام ابو حنیفہ میں دس صفات تھیں ، جس شخص میں ان میں سے ایک صفت بھی ہو گی وہ اپنے قبیلے کا سردار اور اپنی قوم کا سردار ہو گا،۱) پر ہیز گاری، ۲) سچائی، ۳ ) فقاہت، ۴ )لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا، ۵) سچی مروت، ۶ )کچھ سنا اس کیطرف متوجہ ہو نا، ۷ ) طویل خا موشی، ۸ ) پریشان لو گوں کی مدد کر نا چاہے وہ دوست ہو یا دشمن، ۹ )صحیح بات کہنا، ۱۰) سخاوت۔ ابراھیم بن سعیدی جو ہری سے مر وی ہے کہ میں ایک دن امیر المو منین ہا رون رشید کے پاس تھا ان کے پاس امام ابو یوسف تشریف لائے، امیرا لمومنین نے کہا، یو سف! مجھے امام ابو حنیفہ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں ، اما م ابو یوسف نے فر مایا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فر ماتا ہے:مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِ لَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌَ۔ (القرآن،سورہ ق ۵۰، آیت۱۸)تر جمہ: کو ئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک محافظ تیار ہوتاہے،۔ اور یہ ہربات کر نے والے کے پاس ہو تا ہے، امام اعظم ابو حنیفہ کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ* وہ اللہ تعالیٰ کے حرام کئے ہوئے کا موں سے شدت کے ساتھ منع کر نے والے تھے* اللہ تعالیٰ کے دین کی جو بات ان کے علم میں نہ ہوتی اسے کہنے سے سخت پر ہیز کرتے تھے* وہ اس بات کو محبوب رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور نا فر مانی نہ کی جائے* وہ دنیا کے معاملے میں دنیا سے دور دور الگ تھلگ رہتے تھے* دنیا کی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے تھے چاہے وہ قیمتی ہو یا معمولی* ان کی خا موشی طویل ہوتی تھی ہر وقت غور و فکر میں مصروف رہتے تھے* ان کا علم بہت وسیع تھافالتو لغو گفتگو با لکل نہیں کرتے تھے ان سے کوئی علمی مسئلہ پو چھا جاتا تو اگر انھیں اس مسئلے کا علم ہوتا تو اس پر گفتگو فر ماتے اور جو کچھ سنا ہو بیان کردیتے ورنہ خاموش رہتے* وہ اپنی جان اور دین کی حفاطت کرتے تھے* علم اور مال کثرت سے خرچہ کرتے تھے* اپنی ذات اور اپنی دولت کی بنیاد پر سب لو گوں سے بے نیاز رہتے تھے* لا لچ کی طرف میلان نہیں رکھتے تھے* غیبت سے یکسر دور تھے اور کسی کا ذکر سوائے بھلائی کے نہیں کرتے تھے۔ ہارون رشید نے کہا کہ صالحین(اولیائے کرام) کے اخلاق ہیں پھر منشی کو کہا یہ صفات تحریر کرکے میرے بیٹے کو پہنچا دو کہ وہ ان کا مطالعہ کرے،پھر اپنے بیٹے کو کہا ان اوصاف کو یاد کر لو، میں تم سے سنوں گا۔
امام اعظم کے بیان کردہ مسائل پانچ لاکھ: بیان کیا گیا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے بیان کردہ مسائل کی تعداد پانچ لاکھ ہے ان کے شا گردوں کی تصانیف سے اس کی تا ئید ہوتی ہے، سب سے پہلے آ پ نے کتا ب الفرائض کی بنیادرکھی،احکام استنباط کیا، اجتہاد کے فوائد اور فقہ کے اصول وضع کئے، یہ سب ان سے منقول اور مروی ہے پھر ان کے شاگردوں نے ان اصول کی تحریر اور شرح کا کام اس حد تک پہنچا دیا کہ اس پر اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔
مو من کی پہچان صبرو حلم: امام اعظم انتہائی درجے کے صابر اور حلیم تھے، لوگوں کی ایذا رسانی پر صبر وحلم کا مظاہرہ فرماتے۔ یزید بن ہا رون کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ سے زیادہ صبر کر نے والا کوئی نہ دیکھا، جب آپ کو اطلاع ملتی کی فلاں شخص نے آپ کی برائی بیان کی ہے تو آپ اسے نر می سے پیغام بھیجتے کہ بھائی اللہ تعالیٰ تمھاری مغفرت فر مائے، میں نے تجھے اللہ کے سپرد کیا، وہ جانتا ہے کہ تم نے غلط بات کی۔ آج کے صو فیا کے لئے آپ کا کر دار مشعل راہ ہے آج تو زرہ زرہ سی بات پر اپنے مخا لفوں کے لیے بدعا کر نے کا رجحان عام ہو گیا ہے جو کی انتہائی فکر اور شرم کی بات ہے۔امانت ودیانت میں آ پ کا مقام: آپ بہت اما نت دار تھے امانت کو ہر بات میں تر جیح دیتے تھے اگر اللہ کی را ہ میں ان پر تلواریں لہر ائی جائیں تو انھیں بر داشت کر لیتے، کہتے ہیں ان کے زمانے میں ایک بکری چوری ہو گئی، امام اعظم نے پو چھا کہ بکری کی عمر عام طور پر کتنی ہو تی ہے؟ بتایا گیا چار سال تک بکری کا گوشت نہیں کھایا( مبادا اس میں چوری کا گوشت نہ کھا جا ؤں۔
اما م اعظم کی صفات: معانی ابن عمران موصلی سے منقول ہے کہ امام ابو حنیفہ میں دس صفات تھیں ، جس شخص میں ان میں سے ایک صفت بھی ہو گی وہ اپنے قبیلے کا سردار اور اپنی قوم کا سردار ہو گا،۱) پر ہیز گاری، ۲) سچائی، ۳ ) فقاہت، ۴ )لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا، ۵) سچی مروت، ۶ )کچھ سنا اس کیطرف متوجہ ہو نا، ۷ ) طویل خا موشی، ۸ ) پریشان لو گوں کی مدد کر نا چاہے وہ دوست ہو یا دشمن، ۹ )صحیح بات کہنا، ۱۰) سخاوت۔ ابراھیم بن سعیدی جو ہری سے مر وی ہے کہ میں ایک دن امیر المو منین ہا رون رشید کے پاس تھا ان کے پاس امام ابو یوسف تشریف لائے، امیرا لمومنین نے کہا، یو سف! مجھے امام ابو حنیفہ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں ، اما م ابو یوسف نے فر مایا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فر ماتا ہے:مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِ لَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌَ۔ (القرآن،سورہ ق ۵۰، آیت۱۸)تر جمہ: کو ئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک محافظ تیار ہوتاہے،۔ اور یہ ہربات کر نے والے کے پاس ہو تا ہے، امام اعظم ابو حنیفہ کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ* وہ اللہ تعالیٰ کے حرام کئے ہوئے کا موں سے شدت کے ساتھ منع کر نے والے تھے* اللہ تعالیٰ کے دین کی جو بات ان کے علم میں نہ ہوتی اسے کہنے سے سخت پر ہیز کرتے تھے* وہ اس بات کو محبوب رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور نا فر مانی نہ کی جائے* وہ دنیا کے معاملے میں دنیا سے دور دور الگ تھلگ رہتے تھے* دنیا کی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے تھے چاہے وہ قیمتی ہو یا معمولی* ان کی خا موشی طویل ہوتی تھی ہر وقت غور و فکر میں مصروف رہتے تھے* ان کا علم بہت وسیع تھافالتو لغو گفتگو با لکل نہیں کرتے تھے ان سے کوئی علمی مسئلہ پو چھا جاتا تو اگر انھیں اس مسئلے کا علم ہوتا تو اس پر گفتگو فر ماتے اور جو کچھ سنا ہو بیان کردیتے ورنہ خاموش رہتے* وہ اپنی جان اور دین کی حفاطت کرتے تھے* علم اور مال کثرت سے خرچہ کرتے تھے* اپنی ذات اور اپنی دولت کی بنیاد پر سب لو گوں سے بے نیاز رہتے تھے* لا لچ کی طرف میلان نہیں رکھتے تھے* غیبت سے یکسر دور تھے اور کسی کا ذکر سوائے بھلائی کے نہیں کرتے تھے۔ ہارون رشید نے کہا کہ صالحین(اولیائے کرام) کے اخلاق ہیں پھر منشی کو کہا یہ صفات تحریر کرکے میرے بیٹے کو پہنچا دو کہ وہ ان کا مطالعہ کرے،پھر اپنے بیٹے کو کہا ان اوصاف کو یاد کر لو، میں تم سے سنوں گا۔
امام اعظم کے بیان کردہ مسائل پانچ لاکھ: بیان کیا گیا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے بیان کردہ مسائل کی تعداد پانچ لاکھ ہے ان کے شا گردوں کی تصانیف سے اس کی تا ئید ہوتی ہے، سب سے پہلے آ پ نے کتا ب الفرائض کی بنیادرکھی،احکام استنباط کیا، اجتہاد کے فوائد اور فقہ کے اصول وضع کئے، یہ سب ان سے منقول اور مروی ہے پھر ان کے شاگردوں نے ان اصول کی تحریر اور شرح کا کام اس حد تک پہنچا دیا کہ اس پر اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔
❤1
امام اعظم کی وفات:حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ ابن ہبیرہ نے امام اعظم کو کوفہ کا قا ضی بنا نا چاہا تو آپ نے انکا ر کر دیا اور فر مایا: اللہ کی قسم اگر مجھے قتل بھی کردے تو میں یہ منصب قبول نہیں کروں گا، آپ کو کہا گیا کہ وہ محل تعمیر کر نا چاہتا ہے،آپ اینٹوں کی گنتی قبول کر لیں ، امام اعظم نے فر مایا: کہ اگر وہ مجھے کہے کہ میں اسکے لئے مسجد کے دروازے ہی گن دوں تو میں نہیں گنوں گا، (دیکھئے ذیل الجواہر المضیہ، ج۲،ص۵۰۵، ) امام علامہ محمد بن یو سف صا لحی رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام اعظم کو کو فہ سے بغداد بلایا ہی اسی لیے تھا کہ انھیں شہید کر دے، امام اعظم ابو حنیفہ لوگوں می بہت معزز تھے اور ان کی بات سنی جاتی تھی، ان کے پاس مال تجارت کی بھی فراوانی تھی، ابو جعفر کو سید ابراھیم کی طرف ان کے میلان سے خوف محسوس ہوا، چنانچہ اس نے بلا وجہ انھیں قتل کر نے کی جر اٗت تو نہ کر سکا، البتہ انھیں قاضی بننے کی پیش کش کی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ امام اعظم ابو حنیفہ یہ منصب قبول نہیں کریں گے،آپ نے انکار کیا تو آپ کو قید کردیا اور اس نے بہانے سے انھیں زہر دیکر شہید کر دیا،( عقو دالجمان ص۳۵۹،فقہ و تصوف ص۲۸۲،) اللہ تعا لیٰ ہم اور تمام مسلمانوں کو حق پر چلنے اور سچ پر قائم رہنے کی تو فیق عطا فر مائے آ مین ۔
(مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304765965092783/
(مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304765965092783/
❤1
#فیضان_حضرت_امام_اعظم ❺
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ پنجم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جرح کی حقیقت غیر مقلدین کی جہالت کا جواب : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بعض سوانح نگاروں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف عقائد و فروعات سے متعلق بعض ایسی باتیں نقل کی ہیں جن سے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بالکل بری ہیں ، بہت سے منصف اہلِ قلم نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے دفاع کیا ہے اور اس کے جوابات لکھے ہیں ، امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف خلق قرآن ، قدر و ارجاء وغیرہ کے الزامات لگائے گئے ہیں ، شیخ طاہر پٹنی صاحب ”مجمع البحار“ اس کے متعلق فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف ایسے اقوال منسوب کیے گئے ہیں جن سے ان کی شان بالاتر ہے ،وہ اقوال خلق قرآن ، قدر ، ارجا ، وغیرہ ہیں ، ہم کو ضرورت نہیں کہ ان اقوال کے منسوب کرنے والوں کا نام لیں ، یہ ظاہر ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دامن ان سے پاک تھا ، الله تعالیٰ کا ان کو ایسی شریعت دینا جو سارے آفاق میں پھیل گئی اور جس نے روئے زمین کو ڈھک لیا اور ان کے مذہب وفقہ کو قبول عام دینا ان کی پاک دامنی کی دلیل ہے ، اگر اس میں الله تعالیٰ کا سر خفی نہ ہوتا نصف یا اس سے قریب اسلام ان کی تقلید کے جھنڈے کے نیچے نہ ہوتا ۔ (مجمع البحار)
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جس طرح کا بھی جرح کیا گیا ہے اس کی حقیقت معاصرانہ چپقلش ، غلط فہمی اور جہالت ، یا تعصب و حسد ہے ، ورنہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ان الزامات سے آئینہ کی طرف صاف و شفاف ہے ۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جن جن حضرات نے کلام کیا ہے یا تو وہ محض تعصب اور عناد وحسد کی پیداوار ہے ، جس کی ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں ہے اور بعض حضرات نے اگرچہ دیانةً کلام کیا ہے ، مگر اس رائے کے قائم کرنے میں جس اجتہاد سے انہوں نے کام لیا ہے وہ سرسرا باطل ہے ، کیوں کہ تاریخ ان تمام غلط فہمیوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ رہی ہے ، اس لیے ان حوالجات سے مغالطہ آفرینی میں مبتلا ہونا یا دوسروں کو دھوکہ دینا انصاف و دیانت کا جنازہ نکالنا اور محض تعصب اور حسد وغیبت جیسے گناہ میں آلودہ ہونا ہے ۔
خطیب بغدادی نے عبد بن داؤد کے حوالے سے نقل کیا ہے : ”الناس فی أبی حنیفة رجلان : جاھل بہ ، و حاسد لہ ۔ “امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں یا تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال سے ناواقف ہیں یا ان سے حسد کرتے ہیں ۔ (تاریخ بغداد:13/346،چشتی)
خطیب بغدادی کی جرح کی حقیقت : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جن لوگوں نے جرح کی ہے اور امام صاحب رضی اللہ عنہ کی طرف مطاعن و معایب کو منسوب کیا ہے اس میں سرِ فہرست خطیب بغدادی ہیں ، بعد میں زیادہ تر حضرات نے خطیب کی عبارتوں سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن خطیب کے جرح کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں بعض حضرات کی رائے تو یہ ہے کہ خطیب بغدادی نے مدح و ذم کی تمام روایات کو ذکر کر کے اپنے مؤرخانہ فریضہ کو انجام دیا ہے ، اس میں انہوں نے روایت کی صحت وغیرہ پر زور نہیں دیا ہے ، خود خطیب بغدادی ان کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے تھی ، بعض جرح کو نقل کر کے خطیب نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دفاع بھی کیا ہے ، مثلاً جنت و جہنم کے غیر موجود ہونے کی جرح نقل کرکے خطیب کہتے ہیں : قول بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ خودراوی ابو مطیع اس کا قائل تھا ، ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نہ تھے ، جب کہ بہت سے حضرات کی رائے یہ ہے کہ اگرچہ یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے نہیں ، لیکن خطیب کو ان اقوال کے نقل کرنے سے احتراز کرنا چاہیے تھا ، انہو ں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ان باتوں کو لکھ کر گویا اپنی کتاب کی استنادی حیثیت کو کم کر دیا ہے ۔
حافظ محمد بن یوسف الصالحی الشافعی ۔ (المتوفی942ھ) فرماتے ہیں : حافظ ابوبکر خطیب بغدادی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو مخل تعظیم باتیں نقل کی ہیں ان سے دھوکہ نہ کھانا ، خطیب بغدادی نے اگرچہ پہلے مدح کرنے والوں کی باتیں نقل کی ہیں ، مگر اس کے بعد دوسرے لوگوں کی باتیں بھی نقل کی ہیں ، سو اس وجہ سے انہوں نے اپنی کتاب کو بڑا دغ دار کر دیا ہے او ر بڑوں اور چھوٹوں کےلیے ایسا کرنے سے وہ ہدف ملامت بن گئے ہیں اور انہوں نے ایسی گندگی اچھالی ہے ، جو سمندر سے بھی نہ دھل سکے ۔ (عقودالجمان)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ پنجم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جرح کی حقیقت غیر مقلدین کی جہالت کا جواب : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بعض سوانح نگاروں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف عقائد و فروعات سے متعلق بعض ایسی باتیں نقل کی ہیں جن سے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بالکل بری ہیں ، بہت سے منصف اہلِ قلم نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے دفاع کیا ہے اور اس کے جوابات لکھے ہیں ، امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف خلق قرآن ، قدر و ارجاء وغیرہ کے الزامات لگائے گئے ہیں ، شیخ طاہر پٹنی صاحب ”مجمع البحار“ اس کے متعلق فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف ایسے اقوال منسوب کیے گئے ہیں جن سے ان کی شان بالاتر ہے ،وہ اقوال خلق قرآن ، قدر ، ارجا ، وغیرہ ہیں ، ہم کو ضرورت نہیں کہ ان اقوال کے منسوب کرنے والوں کا نام لیں ، یہ ظاہر ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دامن ان سے پاک تھا ، الله تعالیٰ کا ان کو ایسی شریعت دینا جو سارے آفاق میں پھیل گئی اور جس نے روئے زمین کو ڈھک لیا اور ان کے مذہب وفقہ کو قبول عام دینا ان کی پاک دامنی کی دلیل ہے ، اگر اس میں الله تعالیٰ کا سر خفی نہ ہوتا نصف یا اس سے قریب اسلام ان کی تقلید کے جھنڈے کے نیچے نہ ہوتا ۔ (مجمع البحار)
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جس طرح کا بھی جرح کیا گیا ہے اس کی حقیقت معاصرانہ چپقلش ، غلط فہمی اور جہالت ، یا تعصب و حسد ہے ، ورنہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ان الزامات سے آئینہ کی طرف صاف و شفاف ہے ۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جن جن حضرات نے کلام کیا ہے یا تو وہ محض تعصب اور عناد وحسد کی پیداوار ہے ، جس کی ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں ہے اور بعض حضرات نے اگرچہ دیانةً کلام کیا ہے ، مگر اس رائے کے قائم کرنے میں جس اجتہاد سے انہوں نے کام لیا ہے وہ سرسرا باطل ہے ، کیوں کہ تاریخ ان تمام غلط فہمیوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ رہی ہے ، اس لیے ان حوالجات سے مغالطہ آفرینی میں مبتلا ہونا یا دوسروں کو دھوکہ دینا انصاف و دیانت کا جنازہ نکالنا اور محض تعصب اور حسد وغیبت جیسے گناہ میں آلودہ ہونا ہے ۔
خطیب بغدادی نے عبد بن داؤد کے حوالے سے نقل کیا ہے : ”الناس فی أبی حنیفة رجلان : جاھل بہ ، و حاسد لہ ۔ “امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں یا تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال سے ناواقف ہیں یا ان سے حسد کرتے ہیں ۔ (تاریخ بغداد:13/346،چشتی)
خطیب بغدادی کی جرح کی حقیقت : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر جن لوگوں نے جرح کی ہے اور امام صاحب رضی اللہ عنہ کی طرف مطاعن و معایب کو منسوب کیا ہے اس میں سرِ فہرست خطیب بغدادی ہیں ، بعد میں زیادہ تر حضرات نے خطیب کی عبارتوں سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن خطیب کے جرح کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں بعض حضرات کی رائے تو یہ ہے کہ خطیب بغدادی نے مدح و ذم کی تمام روایات کو ذکر کر کے اپنے مؤرخانہ فریضہ کو انجام دیا ہے ، اس میں انہوں نے روایت کی صحت وغیرہ پر زور نہیں دیا ہے ، خود خطیب بغدادی ان کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے تھی ، بعض جرح کو نقل کر کے خطیب نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا دفاع بھی کیا ہے ، مثلاً جنت و جہنم کے غیر موجود ہونے کی جرح نقل کرکے خطیب کہتے ہیں : قول بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ خودراوی ابو مطیع اس کا قائل تھا ، ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نہ تھے ، جب کہ بہت سے حضرات کی رائے یہ ہے کہ اگرچہ یہ خطیب بغدادی کی اپنی رائے نہیں ، لیکن خطیب کو ان اقوال کے نقل کرنے سے احتراز کرنا چاہیے تھا ، انہو ں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ان باتوں کو لکھ کر گویا اپنی کتاب کی استنادی حیثیت کو کم کر دیا ہے ۔
حافظ محمد بن یوسف الصالحی الشافعی ۔ (المتوفی942ھ) فرماتے ہیں : حافظ ابوبکر خطیب بغدادی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو مخل تعظیم باتیں نقل کی ہیں ان سے دھوکہ نہ کھانا ، خطیب بغدادی نے اگرچہ پہلے مدح کرنے والوں کی باتیں نقل کی ہیں ، مگر اس کے بعد دوسرے لوگوں کی باتیں بھی نقل کی ہیں ، سو اس وجہ سے انہوں نے اپنی کتاب کو بڑا دغ دار کر دیا ہے او ر بڑوں اور چھوٹوں کےلیے ایسا کرنے سے وہ ہدف ملامت بن گئے ہیں اور انہوں نے ایسی گندگی اچھالی ہے ، جو سمندر سے بھی نہ دھل سکے ۔ (عقودالجمان)
❤1
قاضی القضاة شمس الدین ابن خلکان الشافعی (م861ھ) خطیب بغدادی کی اس غلط طرز گفتگو پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خطیب نے اپنی تاریخ میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بہت سے مناقب ذکر کیے ، اس کے بعد کچھ ایسی ناگفتہ بہ باتیں بھی لکھی ہیں جن کا ذکر نہ کرنا اور ان سے اعراض کرنا بہت ہی مناسب تھا ؛ کیوں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے متعلق نہ تو دیانت میں شبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ورع وحفظ میں ، آپ پر کوئی نکتہ چینی بجز قلت عربیت کے اور نہیں کی گئی ہے ۔ (تاریخ ابن خلکان 2/165،چشتی)
خطیب بغدادی اور چند دیگر حضرات کے علاوہ زیادہ تر مصنفین اور مؤرخین ائمہ جرح و تعدیل اور ائمہ حدیث نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کو انصاف کے ساتھ ذکر کیا ہے اور کسی قسم کی جرح کو ذکر نہیں کیا ، بلکہ صرف مناقب پر اکتفا کیا ہے ، نمونے کے طور پر چند اسماء الرجال کی کتابوں اور چند ائمہ حدیث کے اقوال کو یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے ، امام ذہبی نے تذکرہ الحفاظ میں ، حافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں ، حافظ صفی الدین خزرجی نے خلاصة تذہیب تہذیب الکمال میں ، علامہ نووی نے تہذیب الاسماء واللغات میں ، امام یافعی علیہم الرحمہ نے مرآة الجنان میں امام صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات اور مناقب کو ذکر کیا ہے ، لیکن کسی نے کوئی جرح نہیں کی ہے ، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک امام صاحب رضی اللہ عنہ پر جرح کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اب چند معتمد ترین اور ائمہ علم و فضل علیہم الرحمہ کے اقوال یہاں ذکر کیے جاتے ہیں ، تاکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی بے داغ اور تقویٰ و طہارت سے لبریز زندگی اور آپ کے فضل وکمال کی مختلف نوعیتیں ہمارے سامنے آسکیں ۔
(فضیل بن عیاض م187ھ) فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ مشہور صوفیاء میں ہیں ، ان کی زندگی زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی ، وہ فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ مرد فقیہ تھے ، فقہ میں معروف ، پارسائی میں مشہور ، بڑے دولت مند ، ہر صادر و وارد کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنے والے ، شب وروز صبر کے ساتھ تعلیم میں مصروف ، رات اچھی گزارنے والے ، خاموشی پسند ، کم سخن تھے ، جب کوئی مسئلہ حلال و حرام کا پیش آتا تو کلام کرتے اور ہدایت کا حق ادا کر دیتے ، سلطانی مال سے بھاگنے والے تھے ۔ ( امام ابوحنیفہ او ران کے ناقدین صفحہ 44،چشتی)
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م161ھ ابوبکر بن عیاش کا قول ہے کہ سفیان کے بھائی عمرو بن سعید کا انتقال ہوا تو سفیان کے پاس ہم لوگ تعزیت کےلیے گئے مجلس لوگوں سے بھری ہوئی تھی ، عبدالله بن ادریس بھی وہاں تھے ، اسی عرصہ میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اپنے رفقاء کے ساتھ وہاں پہنچے ، سفیان نے ان کو دیکھا تو اپنی جگہ خالی کر دی اور کھڑے ہو کر معانقہ کیا ، اپنی جگہ ان کو بٹھایا ، خود سامنے بیٹھے ، یہ دیکھ کہ مجھ کو بہت غصہ آیا ، میں نے سفیان سے کہا ابوعبد الله ! آج آپ نے ایسا کام کیا جو مجھ کو برا معلوم ہوا ، نیز ہمارے دوسرے ساتھیوں کو بھی ، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا آپ کے پاس ابوحنیفہ آئے ، آپ ان کےلیے کھڑے ہوئے ، اپنی جگہ بٹھایا ، ان کے ادب میں مبالغہ کیا ، یہ ہم لوگوں کو ناپسند ہوا ، سفیان ثوری نے کہا تم کو یہ کیوں ناپسند ہوا ؟ وہ علم میں ذی مرتبہ شخص ہیں ، اگر میں ان کے علم کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے سن و سال کےلیے اٹھتا اور اگر ان کے سن و سال کےلیے نہ اٹھتا تو ان کی فقہ کے واسطہ اٹھتا اور اگر ان کے فقہ کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے تقویٰ کے واسطے اٹھتا ۔ (اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ صفحہ 73)
علامہ محمد بن اثیر الشافعی متوفی 606ھ : علامہ محمد بن اثیر الشافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر الله تعالیٰ کا کوئی خاص لطف اور بھید اس میں مضمر نہ ہوتا تو امت محمدیہ کا تقریباً نصف حصہ کبھی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی پیروی نہ کرتا اور اس جلیل القدر کے مسلک پر عامل ہو کر اور ان کی تقلید کرکے کبھی قربِ خدا وندوی حاصل کرنے پر آمادہ نہ ہوتا ۔ (حامل الاصول بحوالہ مقام ابی حنیفہ صفحہ 73،چشتی)
علامہ ابن ہارون متوفی 206ھ : علامہ بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ کو شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، اپنے وقت کے عابد وزاہد حضرات میں شمار ہوتے تھے، علم حدیث میں بڑی شان کے مالک تھے ، ان سے پوچھا گیا آدمی فتوی دینے کا کب مجاز ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایاجب ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مثل اور ان کی طرح فقیہ ہو جائے ۔ ان سے سوال کیا گیا اے ابو خالد ! آپ ایسی بات کہتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! اس سے بھی زیادہ کہتا ہوں ، کیوں کہ میں نے ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑا فقیہ اور متورع نہیں دیکھا ، میں نے ان کو دھوپ میں ایک شخص کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں نے سوال کیا آپ دیوار کے سائے میں کیوں نہیں چلے جاتے ؟ وہ کہنے لگے کہ مالک مکان پر میرا قرضہ ہے
خطیب بغدادی اور چند دیگر حضرات کے علاوہ زیادہ تر مصنفین اور مؤرخین ائمہ جرح و تعدیل اور ائمہ حدیث نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کو انصاف کے ساتھ ذکر کیا ہے اور کسی قسم کی جرح کو ذکر نہیں کیا ، بلکہ صرف مناقب پر اکتفا کیا ہے ، نمونے کے طور پر چند اسماء الرجال کی کتابوں اور چند ائمہ حدیث کے اقوال کو یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے ، امام ذہبی نے تذکرہ الحفاظ میں ، حافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں ، حافظ صفی الدین خزرجی نے خلاصة تذہیب تہذیب الکمال میں ، علامہ نووی نے تہذیب الاسماء واللغات میں ، امام یافعی علیہم الرحمہ نے مرآة الجنان میں امام صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات اور مناقب کو ذکر کیا ہے ، لیکن کسی نے کوئی جرح نہیں کی ہے ، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک امام صاحب رضی اللہ عنہ پر جرح کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اب چند معتمد ترین اور ائمہ علم و فضل علیہم الرحمہ کے اقوال یہاں ذکر کیے جاتے ہیں ، تاکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی بے داغ اور تقویٰ و طہارت سے لبریز زندگی اور آپ کے فضل وکمال کی مختلف نوعیتیں ہمارے سامنے آسکیں ۔
(فضیل بن عیاض م187ھ) فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ مشہور صوفیاء میں ہیں ، ان کی زندگی زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی ، وہ فرماتے ہیں : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ مرد فقیہ تھے ، فقہ میں معروف ، پارسائی میں مشہور ، بڑے دولت مند ، ہر صادر و وارد کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنے والے ، شب وروز صبر کے ساتھ تعلیم میں مصروف ، رات اچھی گزارنے والے ، خاموشی پسند ، کم سخن تھے ، جب کوئی مسئلہ حلال و حرام کا پیش آتا تو کلام کرتے اور ہدایت کا حق ادا کر دیتے ، سلطانی مال سے بھاگنے والے تھے ۔ ( امام ابوحنیفہ او ران کے ناقدین صفحہ 44،چشتی)
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م161ھ ابوبکر بن عیاش کا قول ہے کہ سفیان کے بھائی عمرو بن سعید کا انتقال ہوا تو سفیان کے پاس ہم لوگ تعزیت کےلیے گئے مجلس لوگوں سے بھری ہوئی تھی ، عبدالله بن ادریس بھی وہاں تھے ، اسی عرصہ میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اپنے رفقاء کے ساتھ وہاں پہنچے ، سفیان نے ان کو دیکھا تو اپنی جگہ خالی کر دی اور کھڑے ہو کر معانقہ کیا ، اپنی جگہ ان کو بٹھایا ، خود سامنے بیٹھے ، یہ دیکھ کہ مجھ کو بہت غصہ آیا ، میں نے سفیان سے کہا ابوعبد الله ! آج آپ نے ایسا کام کیا جو مجھ کو برا معلوم ہوا ، نیز ہمارے دوسرے ساتھیوں کو بھی ، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا آپ کے پاس ابوحنیفہ آئے ، آپ ان کےلیے کھڑے ہوئے ، اپنی جگہ بٹھایا ، ان کے ادب میں مبالغہ کیا ، یہ ہم لوگوں کو ناپسند ہوا ، سفیان ثوری نے کہا تم کو یہ کیوں ناپسند ہوا ؟ وہ علم میں ذی مرتبہ شخص ہیں ، اگر میں ان کے علم کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے سن و سال کےلیے اٹھتا اور اگر ان کے سن و سال کےلیے نہ اٹھتا تو ان کی فقہ کے واسطہ اٹھتا اور اگر ان کے فقہ کےلیے نہ اٹھتا تو ان کے تقویٰ کے واسطے اٹھتا ۔ (اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ صفحہ 73)
علامہ محمد بن اثیر الشافعی متوفی 606ھ : علامہ محمد بن اثیر الشافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر الله تعالیٰ کا کوئی خاص لطف اور بھید اس میں مضمر نہ ہوتا تو امت محمدیہ کا تقریباً نصف حصہ کبھی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی پیروی نہ کرتا اور اس جلیل القدر کے مسلک پر عامل ہو کر اور ان کی تقلید کرکے کبھی قربِ خدا وندوی حاصل کرنے پر آمادہ نہ ہوتا ۔ (حامل الاصول بحوالہ مقام ابی حنیفہ صفحہ 73،چشتی)
علامہ ابن ہارون متوفی 206ھ : علامہ بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ کو شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، اپنے وقت کے عابد وزاہد حضرات میں شمار ہوتے تھے، علم حدیث میں بڑی شان کے مالک تھے ، ان سے پوچھا گیا آدمی فتوی دینے کا کب مجاز ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایاجب ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مثل اور ان کی طرح فقیہ ہو جائے ۔ ان سے سوال کیا گیا اے ابو خالد ! آپ ایسی بات کہتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! اس سے بھی زیادہ کہتا ہوں ، کیوں کہ میں نے ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑا فقیہ اور متورع نہیں دیکھا ، میں نے ان کو دھوپ میں ایک شخص کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں نے سوال کیا آپ دیوار کے سائے میں کیوں نہیں چلے جاتے ؟ وہ کہنے لگے کہ مالک مکان پر میرا قرضہ ہے
❤1
، میں نہیں پسند کرتا کہ مدیون کے مکان اور دیوار کے سائے کے نیچے بیٹھ کر اس سے منتفع ہوں ، اس سے زیادہ تقویٰ اور ورع کیا ہو گا ؟ ۔ ( مناقب موفق1/141)
ان کا ہی بیان ہے میں نے ایک ہزار اساتذہ سے علم لکھا اور حاصل کیا ہے ، لیکن خدا کی قسم ! میں نے ان سب میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر صاحب ورع اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا او رکوئی نہیں دیکھا ۔ (مناقب موفق1/195،چشتی)
وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ متوفی 198ھ : علم حدیث کے بڑے اماموں میں ان کا شمار ہوتا ہے، امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور امام شافعی کے استاذ ہیں ، ان کی مجلس میں کسی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی غلطی بیان کی ، اس پر وکیع نے کہا امام صاحب رضی اللہ عنہ کس طرح غلطی کر سکتے ہیں ؟ حالانکہ امام ابویوسف اور زفر جیسے صاحب قیاس اور یحییٰ بن ابی زائدہ اور حفص بن غیاث اور حبان و مندل جیسے حفاظ حدیث اور قاسم بن معن جیسا لغت و ادب کا جاننے والا اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسا زاہد و پارسا ان کے ساتھ ہیں ، جن کے ایسے ہم نشین ہوں وہ غلطی نہیں کر سکتا ، اگر کبھی غلطی کر جائے تو اس کے جلیس ان کو رد کر دیں گے ۔ (امام ابوحنیفہ اور ان کے ناقدین صفحہ 48،چشتی)
علامہ الخوارزمی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 665ھ پوری روایت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں : پھر امام وکیع نے فرمایا جو شخص امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہتا ہے وہ تو جانوروں کی مانندیا اس سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہے ۔ (جامع المسانید 1/23) ۔
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
ان کا ہی بیان ہے میں نے ایک ہزار اساتذہ سے علم لکھا اور حاصل کیا ہے ، لیکن خدا کی قسم ! میں نے ان سب میں ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر صاحب ورع اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا او رکوئی نہیں دیکھا ۔ (مناقب موفق1/195،چشتی)
وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ متوفی 198ھ : علم حدیث کے بڑے اماموں میں ان کا شمار ہوتا ہے، امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور امام شافعی کے استاذ ہیں ، ان کی مجلس میں کسی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی غلطی بیان کی ، اس پر وکیع نے کہا امام صاحب رضی اللہ عنہ کس طرح غلطی کر سکتے ہیں ؟ حالانکہ امام ابویوسف اور زفر جیسے صاحب قیاس اور یحییٰ بن ابی زائدہ اور حفص بن غیاث اور حبان و مندل جیسے حفاظ حدیث اور قاسم بن معن جیسا لغت و ادب کا جاننے والا اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسا زاہد و پارسا ان کے ساتھ ہیں ، جن کے ایسے ہم نشین ہوں وہ غلطی نہیں کر سکتا ، اگر کبھی غلطی کر جائے تو اس کے جلیس ان کو رد کر دیں گے ۔ (امام ابوحنیفہ اور ان کے ناقدین صفحہ 48،چشتی)
علامہ الخوارزمی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 665ھ پوری روایت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں : پھر امام وکیع نے فرمایا جو شخص امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہتا ہے وہ تو جانوروں کی مانندیا اس سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہے ۔ (جامع المسانید 1/23) ۔
(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)
(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304817625087617/
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
#فیضان_حضرت_امام_اعظم ❻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ ششم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304837271752319/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنا پر غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب : غیر مقلدین امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنے کا واقعہ بیان کرکے احناف پہ اعتراض کرتے ہیں کہ احناف نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غُلو کیا ہے لیکن غیر مقلدین یہاں بھی ہمیشہ کی طرح دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ واقعہ بیان کرنے والے صرف احناف نہیں بلکہ اسکو بیان کرنے میں شافعی ، حنبلی اور مالکی علماء بھی شامل ہیں ۔ ان اکابرین میں سے 8 علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے ۔
امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب الاسماء صفحہ 704 پہ،علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حیات الحیوان جلد 1 صفحہ 122 پہ،حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ450 پہ،علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تبیض الصحیفہ صفحہ 15 پہ،قاضی حسین بن محمد دیار مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 366 پہ ،(چشتی) عبد الوہاب شعرانی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب المیزان جلد 1 صفحہ 61 پہ،ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے الخیرات الحسان صفحہ 36 پہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ واقعہ بیان کیا ہےکہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ۔
اس کے علاوہ یہ واقعہ صرف امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہی نہیں بلکہ کئی اکابرین سے بھی وقوع ہوا جو کہ مختلف کتابوں میں موجود ہے ۔
حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے کہ چالیس تابعین سے کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور اسکی سند صحیح ہے ۔ (غنیۃ الطالبین، صفحہ 496 بتحقیق مبشر لاہوری غیر مقلد)
غیر مقلدین سے گذارش ہے کہ لگائیں ان اکابرین علماء پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کرنے کا اور لگائیں ان چالیس اکابرین پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے پہ ۔
کیا حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان چالیس اکابرین کا عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے کا واقعہ بیان کر کے غُلو کیا ؟ غیر مقلد عالم نے حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہ فتوی کیوں نہیں لگایا ؟ کیا یہ سب حنبلی ، مالکی اور شافعی علماء اور اکابرین علیہم الرّحمہ بھی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کر رہے ہیں ؟ غیر مقلدو! آؤ، ہمت کرو اور ان اکابرین علیہم الرّحمہ پہ وہی فتوی لگاٶ جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مقلدین احناف پہ لگاتے ہو ؟
ختم قرآن مجید میں حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے معمولات
جليل القدر محدث وإمام و حافظ و اسلامى مؤرخ شمس الدّين الذَّهَبِيّ ( 673 ھـ – 748 ھ
الوفاة 3 ذو القعدة 748 ھ ) فقہ شافعی کے پیرو ہیں ۔۔ ابن تیمیہ بھی ان کے پسندیدہ شیوخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ایک کتاب ہے ۔
مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن ۔
یعنی امام ابو حنیفہ اور آپ کے دو ممتاز شاگردوں ابو یوسف اور محمد بن حسن کے فضائل ۔
حضرت ذھبی نے اس میں سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے تلاوت کے معمولات لکھے ہیں ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الْقَاضِي فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ : ثَنَا الطَّحَاوِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : ” رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حِزْبَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
ابن ابی العوام القاضی نے فضائل ابی حنیفہ میں لکھا ہے ۔ ہمیں ( ہمارے شیخ امام ) طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ ابو حنیفہ کا اپنا ارشاد بتایا کہ کئی بار میں نے صبح کی دو سنتوں میں قرآن مجید کے دو حزب (منزلیں) پڑھے ہیں ۔
یہ کتاب فضائل ابي حنيفة نیٹ پر دستیاب ہے لیکن فقیر خالد محمود نے امام ذھبی کی تائید کو شامل کرنے کے لیئے ان کی کتاب ” مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن” سے خوشہ چینی کی ہے ۔
تقلید و فقہ کی اس عداوت کو کیا کہیں کہ ویسے تو ذھبی بہت بڑے عالم ہیں ان کی کتب زبردست ہیں ۔ ان کی وہ تنقیدیں جو اپنے من کو پسند ہیں وہ قطعی حجت ہیں لیکن ان کی ابو حنیفہ اور ان کے دونوں شاگردوں کے مناقب والی یہ کتاب درست نہیں ۔ سیر اعلام النبلاء باقی ساری قابل استناد ہے لیکن امام ابو حنیفہ کی تعریف والے جملے قابل اعتماد نہیں ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ ششم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304837271752319/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنا پر غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب : غیر مقلدین امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنے کا واقعہ بیان کرکے احناف پہ اعتراض کرتے ہیں کہ احناف نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غُلو کیا ہے لیکن غیر مقلدین یہاں بھی ہمیشہ کی طرح دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ واقعہ بیان کرنے والے صرف احناف نہیں بلکہ اسکو بیان کرنے میں شافعی ، حنبلی اور مالکی علماء بھی شامل ہیں ۔ ان اکابرین میں سے 8 علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے ۔
امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب الاسماء صفحہ 704 پہ،علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حیات الحیوان جلد 1 صفحہ 122 پہ،حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ450 پہ،علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تبیض الصحیفہ صفحہ 15 پہ،قاضی حسین بن محمد دیار مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 366 پہ ،(چشتی) عبد الوہاب شعرانی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب المیزان جلد 1 صفحہ 61 پہ،ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے الخیرات الحسان صفحہ 36 پہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ واقعہ بیان کیا ہےکہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ۔
اس کے علاوہ یہ واقعہ صرف امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہی نہیں بلکہ کئی اکابرین سے بھی وقوع ہوا جو کہ مختلف کتابوں میں موجود ہے ۔
حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے کہ چالیس تابعین سے کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور اسکی سند صحیح ہے ۔ (غنیۃ الطالبین، صفحہ 496 بتحقیق مبشر لاہوری غیر مقلد)
غیر مقلدین سے گذارش ہے کہ لگائیں ان اکابرین علماء پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کرنے کا اور لگائیں ان چالیس اکابرین پہ فتوی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے پہ ۔
کیا حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ان چالیس اکابرین کا عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے کا واقعہ بیان کر کے غُلو کیا ؟ غیر مقلد عالم نے حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہ فتوی کیوں نہیں لگایا ؟ کیا یہ سب حنبلی ، مالکی اور شافعی علماء اور اکابرین علیہم الرّحمہ بھی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غُلو کر رہے ہیں ؟ غیر مقلدو! آؤ، ہمت کرو اور ان اکابرین علیہم الرّحمہ پہ وہی فتوی لگاٶ جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مقلدین احناف پہ لگاتے ہو ؟
ختم قرآن مجید میں حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے معمولات
جليل القدر محدث وإمام و حافظ و اسلامى مؤرخ شمس الدّين الذَّهَبِيّ ( 673 ھـ – 748 ھ
الوفاة 3 ذو القعدة 748 ھ ) فقہ شافعی کے پیرو ہیں ۔۔ ابن تیمیہ بھی ان کے پسندیدہ شیوخ میں سے ہیں ۔ آپ کی ایک کتاب ہے ۔
مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن ۔
یعنی امام ابو حنیفہ اور آپ کے دو ممتاز شاگردوں ابو یوسف اور محمد بن حسن کے فضائل ۔
حضرت ذھبی نے اس میں سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے تلاوت کے معمولات لکھے ہیں ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الْقَاضِي فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ : ثَنَا الطَّحَاوِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : ” رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حِزْبَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
ابن ابی العوام القاضی نے فضائل ابی حنیفہ میں لکھا ہے ۔ ہمیں ( ہمارے شیخ امام ) طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ ابو حنیفہ کا اپنا ارشاد بتایا کہ کئی بار میں نے صبح کی دو سنتوں میں قرآن مجید کے دو حزب (منزلیں) پڑھے ہیں ۔
یہ کتاب فضائل ابي حنيفة نیٹ پر دستیاب ہے لیکن فقیر خالد محمود نے امام ذھبی کی تائید کو شامل کرنے کے لیئے ان کی کتاب ” مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه أبي يوسف ومحمد بن الحسن” سے خوشہ چینی کی ہے ۔
تقلید و فقہ کی اس عداوت کو کیا کہیں کہ ویسے تو ذھبی بہت بڑے عالم ہیں ان کی کتب زبردست ہیں ۔ ان کی وہ تنقیدیں جو اپنے من کو پسند ہیں وہ قطعی حجت ہیں لیکن ان کی ابو حنیفہ اور ان کے دونوں شاگردوں کے مناقب والی یہ کتاب درست نہیں ۔ سیر اعلام النبلاء باقی ساری قابل استناد ہے لیکن امام ابو حنیفہ کی تعریف والے جملے قابل اعتماد نہیں ۔
❤1
ابن حجر حافظ حدیث اور شارح بخاری ہیں ۔ فتح الباری ، الإصابة اور تہذیب التھذیب قابل استناد ہیں لیکن تہذیب کے وہ حصے قابل اعتماد نہیں جو ابو حنیفہ کی تعریف میں ہیں ۔ ملاحظہ ہو کلید التحقیق از حافظ زبیر علی زئی اور لقب لکھا ہوا ہے محدث العصر ۔ اس تحریر کو نیٹ پر پڑھیں تو آپ یقینا حیران ہوں گے کہ خطیب بغدادی کی کتاب میں تشنیع زیادہ ہے اور کچھ بھلے جملے بھی امام اعظم کے متعلق نکل ہی گئے ہیں سو ان ” محدث صاحب ” نے لکھا ہے کہ کچھ باتیں {طنز و تشنیع والی} ٹھیک بھی ہیں اور کچھ {تعریف والی} غلط)
امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا فجر کی سنتوں میں دو حزب تلاوت والا ارشاد ” عمدة القاري ” میں امام عینی نے بھی لکھا ہے .
چند اوصاف جناب بغدادی کی اسی تاریخ بغداد سے اگرچہ اور متعدد کتب میں بھی ہیں ۔
(1) خارجة بن مصعب کا قول ہے : ختم القرآن في الكعبة أربعة من الأئمة عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير وأبو حنيفة .
یعنی کعبہ مقدسہ میں 4 ائمہ نے قرآن مجید ختم کیا ہے ۔
عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير و أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ 13 صـ 356 )
كتاب الآثار از امام محمد
(2) مشہور محدث و امام سفيان بن عيينة کا قول ۔: رحم الله أبا حنيفة كان من المصلين ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
اللہ کی رحمت ہو ابو حنیفہ پر آپ نمازیوں میں سے تھے ۔
(3) محمد بن فضيل نے أبو مطيع سے بیان کیا ہے ۔ كنت بمكة فما دخلت الطواف في ساعة من ساعات الليل إلا رأيت أبا حنيفة وسفيان في الطواف ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
میں مکہ مکرمہ میں تھا رات کے جس لمحے بھی طواف کے لیئے گیا ابو حنیفہ اور سفیان کو طواف میں ہی پایا ۔
(4) يحيى بن أيوب الزاهد کا قول ہے : كان أبو حنيفة لا ينام الليل ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
ابو حنیفہ رات کو سوتے نہیں تھے ۔
(5) أسد بن عمر کا قول ہے : صلى أبو حنيفة الفجر بوضوء صلاة العشاء أربعين سنة، فكان عامة الليل يقرأ جميع القرآن في ركعة واحدة وكان يُسمع بكاؤه بالليل حتى يرحمه جيرانه ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ363 )
ابو حنیفہ نے 40 برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ۔ اکثر راتوں میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرماتے ۔ رات کو آپ کے رونے کی آواز آپ کے پڑوسیوں کے کانوں میں بھی پہنچتی تو وہ اس درد بھرے رونے کی وجہ سے آپ پر بڑا ترس کرتے ۔
(6) قال مسعر بن كِدَام : دخلت المسجد فرأيت رجلاً يصلي فاستحليت قراءته فقرأ سبعاً، فقلت: يركع، ثم قرأ الثلث ثم قرأ النصف فلم يزل يقرأ القرآن حتى ختمه كله في ركعة، فنظرت فإذا هو أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356)(كتاب الآثار از امام محمد)(سير أعلام النبلاء للذهبي جـ4 صـ602)
حضرت مسعر بن کدام کہتے ہیں کہ میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا اور ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان کی قرأت مجھے بڑی شیریں لگی اور دل کو لُبھائی جب وہ ساتواں حصہ پڑھ چُکے میں نے کہا رکوع کریں گے پھر وہ قرآن کریم کے ثلث پر آگئے پھر نصف پر آ گئے اسی طرح قرآن کریم پڑھتے رہے یہاں تک کہ سارا قرآن کریم ایک رکعت میں پورا کر دیا میں نے جو آگے بڑھ کر دیکھا وہ امام ابوحنیفہ تھے ۔
(7) و قال يحيى بن نصر : ربما ختم أبو حنيفة القرآن في رمضان ستين مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356) ۔ مناقب الإمام أبي حنيفة و صاحبيه از ذھبی ۔ یحیٰ بن نصر بھی یہی کہتے ہیں کہ بہت مرتبہ حضرت ابو حنیفہ نے 60 بار ختم قرآن کریم کیے ہیں ۔
(8) و روى ابن إسحاق السمرقندي عن القاضي أبي يوسف، قال: كان أبو حنيفة يختم القرآن كل ليلة في ركعة ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 صفحہ 602،چشتی)
ابن اسحاق سمرقندی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے شاگرد قاضی ابو یوسف کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ہمارے استاد امام ابوحنیفہ ہر رکعت میں قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے ۔
(9) وعن يحيى بن عبد الحميد الحماني عن أبيه: أنه صحب أبا حنيفة ستة أشهر، قال : فما رأيته صلى الغداة إلا بوضوء عشاء الآخرة، وكان يختم كل ليلة عند السحر ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 ص602،چشتی)(مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، الذهبي، ص21)
یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی اپنے والد عبدالحمید الحمانی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ ماہ امام ابوحنیفہ کے ساتھ رہے ہیں، کہتے ہیں ان 6 ماہ کے اندر میں نے نہیں دیکھا آپ کو مگر صرف اس حال میں کہ آپ نے عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور آپ ہر رات سحری تک ایک ختم قرآن کریم کیا کرتے تھے ۔
(10) و حُفظ عليه أنه ختم القرآن في الموضع الذي توفي فيه سبعة آلاف مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي،چشتی)(کتاب الاثار از امام محمد)(مرقاة المفاتيح)(الخيرات الحسان)(تهذيب الكمال)(وفيات الأعيان)
آپ کے متعلق یہ بات محفوظ ہے کہ آپ نے اپنے مقام وفات میں 7 ہزار ختم قرآن مجید کیئے ہیں ۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا فجر کی سنتوں میں دو حزب تلاوت والا ارشاد ” عمدة القاري ” میں امام عینی نے بھی لکھا ہے .
چند اوصاف جناب بغدادی کی اسی تاریخ بغداد سے اگرچہ اور متعدد کتب میں بھی ہیں ۔
(1) خارجة بن مصعب کا قول ہے : ختم القرآن في الكعبة أربعة من الأئمة عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير وأبو حنيفة .
یعنی کعبہ مقدسہ میں 4 ائمہ نے قرآن مجید ختم کیا ہے ۔
عثمان بن عفان وتميم الداري وسعيد بن جبير و أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ 13 صـ 356 )
كتاب الآثار از امام محمد
(2) مشہور محدث و امام سفيان بن عيينة کا قول ۔: رحم الله أبا حنيفة كان من المصلين ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
اللہ کی رحمت ہو ابو حنیفہ پر آپ نمازیوں میں سے تھے ۔
(3) محمد بن فضيل نے أبو مطيع سے بیان کیا ہے ۔ كنت بمكة فما دخلت الطواف في ساعة من ساعات الليل إلا رأيت أبا حنيفة وسفيان في الطواف ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
میں مکہ مکرمہ میں تھا رات کے جس لمحے بھی طواف کے لیئے گیا ابو حنیفہ اور سفیان کو طواف میں ہی پایا ۔
(4) يحيى بن أيوب الزاهد کا قول ہے : كان أبو حنيفة لا ينام الليل ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ353)
ابو حنیفہ رات کو سوتے نہیں تھے ۔
(5) أسد بن عمر کا قول ہے : صلى أبو حنيفة الفجر بوضوء صلاة العشاء أربعين سنة، فكان عامة الليل يقرأ جميع القرآن في ركعة واحدة وكان يُسمع بكاؤه بالليل حتى يرحمه جيرانه ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ363 )
ابو حنیفہ نے 40 برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ۔ اکثر راتوں میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرماتے ۔ رات کو آپ کے رونے کی آواز آپ کے پڑوسیوں کے کانوں میں بھی پہنچتی تو وہ اس درد بھرے رونے کی وجہ سے آپ پر بڑا ترس کرتے ۔
(6) قال مسعر بن كِدَام : دخلت المسجد فرأيت رجلاً يصلي فاستحليت قراءته فقرأ سبعاً، فقلت: يركع، ثم قرأ الثلث ثم قرأ النصف فلم يزل يقرأ القرآن حتى ختمه كله في ركعة، فنظرت فإذا هو أبو حنيفة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356)(كتاب الآثار از امام محمد)(سير أعلام النبلاء للذهبي جـ4 صـ602)
حضرت مسعر بن کدام کہتے ہیں کہ میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا اور ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان کی قرأت مجھے بڑی شیریں لگی اور دل کو لُبھائی جب وہ ساتواں حصہ پڑھ چُکے میں نے کہا رکوع کریں گے پھر وہ قرآن کریم کے ثلث پر آگئے پھر نصف پر آ گئے اسی طرح قرآن کریم پڑھتے رہے یہاں تک کہ سارا قرآن کریم ایک رکعت میں پورا کر دیا میں نے جو آگے بڑھ کر دیکھا وہ امام ابوحنیفہ تھے ۔
(7) و قال يحيى بن نصر : ربما ختم أبو حنيفة القرآن في رمضان ستين مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي جـ13 صـ356) ۔ مناقب الإمام أبي حنيفة و صاحبيه از ذھبی ۔ یحیٰ بن نصر بھی یہی کہتے ہیں کہ بہت مرتبہ حضرت ابو حنیفہ نے 60 بار ختم قرآن کریم کیے ہیں ۔
(8) و روى ابن إسحاق السمرقندي عن القاضي أبي يوسف، قال: كان أبو حنيفة يختم القرآن كل ليلة في ركعة ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 صفحہ 602،چشتی)
ابن اسحاق سمرقندی نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے شاگرد قاضی ابو یوسف کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ہمارے استاد امام ابوحنیفہ ہر رکعت میں قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے ۔
(9) وعن يحيى بن عبد الحميد الحماني عن أبيه: أنه صحب أبا حنيفة ستة أشهر، قال : فما رأيته صلى الغداة إلا بوضوء عشاء الآخرة، وكان يختم كل ليلة عند السحر ۔ (سير أعلام النبلاء ج4 ص602،چشتی)(مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، الذهبي، ص21)
یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی اپنے والد عبدالحمید الحمانی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ ماہ امام ابوحنیفہ کے ساتھ رہے ہیں، کہتے ہیں ان 6 ماہ کے اندر میں نے نہیں دیکھا آپ کو مگر صرف اس حال میں کہ آپ نے عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور آپ ہر رات سحری تک ایک ختم قرآن کریم کیا کرتے تھے ۔
(10) و حُفظ عليه أنه ختم القرآن في الموضع الذي توفي فيه سبعة آلاف مرة ۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي،چشتی)(کتاب الاثار از امام محمد)(مرقاة المفاتيح)(الخيرات الحسان)(تهذيب الكمال)(وفيات الأعيان)
آپ کے متعلق یہ بات محفوظ ہے کہ آپ نے اپنے مقام وفات میں 7 ہزار ختم قرآن مجید کیئے ہیں ۔
👍1